سلسلہ صوفیہ نوربخشیہ

سلسلہ نور بخشیہ ایک صوفیانہ سلسلہ فقرو سلوک ہے یہ دوسرے سلسہ ہائے تصوف مثلا چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ ،روشنائیہ وغیرہ کی مانند ایک روحانی سلسلہ ہے۔ روحانی مقامات، نظریات کے لحاظ سے سب ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔ اسی طرح نوربخشیہ دوسرے فقہی مذاہب مثلا شافعی ،حنبلی ،حنفی ،اہل حدیث اورجعفری کی طرح ایک فقہی مکتبہ فکر ہے اسی طرح اس کا اپنا الگ اعتقادی نظام ،الگ شناخت اور حیثیت ہے ۔

اصول و فروغ میں نوربخشی ان بزرگوں کی تعلیمات پرعمل کرتے ہیں۔ سلسلۂ طریقت میں مذکورحضرت میرسید محمد نوربخش رحمتہ اللہ علیہ، حضرت میرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت علائوالدولہ سمنانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت عبدالرحمن اسفرائنی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت نجم الدین کبریٰ رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت ابونجیب سہروردی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت احمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ اورحضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ۔

حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے معروفیہ ،حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے جنیدیہ ، حضرت ابونجیب عبدالقاہر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے سہروردیہ ، حضرت نجم الدین کبری رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے کبرویہ ، حضرت میر سید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے ہمدانیہ اورحضرت شاہ سید محمد نوربخش قہستانی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے نوربخشیہ بھی کہلاتا رہا ہے ، تاہم موجودہ زمانے میں صرف اور صرف نوربخشیہ کہلاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں نوربخشیہ سے مراد وہ مسلم مسلک ہے جو ظاہر شریعت کے ساتھ ساتھ باطن طریقت پر بھی عامل ہے اور اصول و فروع دونوں میں حضرت شاہ سید محمد نوربخش قہستانی علیہ الرحمہ کی پیروکار ہے ۔

سلسلہ ذہب

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے معروفِ کرخی ؒ

رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک روحانی اسرار و رموز یداً بیداً منتقل ہوتا رہا اسرار تصوّف کی منتقلی کا یہ دور سلسلہ ذہب کہلاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے

مزید پڑھیں۔۔۔

سلسلہ معروفیہ

حضرت معروفِ کرخیؒ تا حضرت شیخ جنید بغدادیؒ

علومِ طریقت حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بذریعہ حضرت علی علیہ السلام حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک پہنچا عرفان و سلوک کا یہ دور سلسلہ ذہب کہلایا۔ پھر بیعت کا سلسلہ امام علی رضا علیہ السلام نابالغ فرزند ارجمند

مزید پڑھیں۔۔۔

سلسلہ جنیدیہ

حضرت شیخ جنید بغدادیؒ تا حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ

حضرت معروف کرخی اور سری سقطی کے دور اور دوسری صدی ہجری میں سلسلتہ الذاہب کا دوسرا نام معروفیہ رہا۔ جب سری سقطی کی تربیت اور خصوصی توجہ سے آپ کے مرید صادق ابو القاسم جنید بغدادی کندی بن کر نکلے تو معروفیہ کے نام سے موسوم ہوا۔

مزید پڑھیں۔۔۔

سلسلہ سہروردیہ

حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی تا حضرت شیخ نجم الدین کبریٰؒ

شیخ جنید بغدادی سے شیخ احمد غزالی تک دین اسلام کا یہ روحانی سلسلہ جنید یہ کے افتخاری نام سے موسوم رہا ۔پھر شیخ ابوالنجیب،ضیاء الدین ،عبدالقاھر سہروردی اور شاگر دشیخ شہاب الدین سہروردی کے دوراور پانچویں صدی سے سہروریہ کہلانے

مزید پڑھیں۔۔۔

سلسلہ کبرویہ

حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ تا حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ

حضرت شیخ ضیا الدین سہروردی اور شیخ عمار یاسر بدیسی کے زمانے میں یہ سلسلہ سہروردیہ کے نام نامی سے موسوم رہا۔ پھر شیخ عمار یاسر بدیسی کے مرید خاص شاگرد اور روحانی فرزند شیخ ابوالجناب نجم الدین کبریٰ کے زمانے چھٹی صدی ہجری

مزید پڑھیں۔۔۔

سلسلہ ہمدانیہ

حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ تا حضرت سید محمد نوربخشؒ

شیخ الدین کبریٰ سے شیخ محمودمزدقانی کے زمانہ یعنی چھٹی صدی ہجری تک یہ سلسلہ کبرویہ کے نام سے موسوم رہا بھر شیخ محمود مزدقانی کے مرید اور خلیفہ میر سید علی ہمدانی المعروف بہ شاہ ہمدان کے زمانے میں ہمدانیہ موسوم ہوا ۔

مزید پڑھیں۔۔۔
Avada Admin

سلسلہ نوربخشیہ

حضرت سید محمد نور بخشؒ تا ایں دم تحریر

حضرت امیر سید علی ہمدانیؒ اورحضرت خواجہ اسحاق ختلانیؒ کے زمانے میں دین اسلام کا یہ روحانی نظام ہمدانیہ کے نام سے موسوم رہا پھر خواجہ اسحاق ختلانیؒ کے مرید،خلیفہ اور شاگرد خاص میر سید محمدنوربخش قہستانیؒ سے یہ سلسلہ نوربخشیہ کہلایا جو بھی تک اسی نام سے موسوم ہے۔

مزید پڑھیں۔۔۔

آن لائن لائبریری

شاہ ہمدان تحقیقاتی ادارہ برائے تصوف کا ایک شہکار اور اہم ویب سائٹ کا مقصد شاہ سید محمد نوربخش قہستانیؒ کے نظریات کو ڈیجیٹل لائبریری کے طور پرعام عوام کےلیے علمی حصوں کی خاطر پیش کرنا ہے۔اس ویب سائٹ پر دستیاب تمام کتابیں مفت ہیں لیکن کاروباری مقصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

میر سیّد محمد نوربخشؒ اور مسلک ِنوربخشیہ

غوث المتاخرین سید العارفین میر سید محمد نوربخشؒ نویں صدی ہجری کی وہ انقلاب آفرین شخصیت ہیں جن کے افکار اور تعلیمات کی طرف اہلِ تحقیق نے بہت کم توجہ دی ہے ۔ اگرچہ نوربخشؒ کو اسیری لاہیجی ؒ جیسے صاحبِ علم مرید بھی ملے مگر کسی مرید نے آپ کی حیات اور تعلیمات کو محفوظ رکھنے کی کماحقہ‘ سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ لیکن قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ پانچ صدیاں گزر جانے کے باوجود مملکت ِ خداداد پاکستان کے ایک دُور افتادہ علاقے میں آج بھی آپ کے ہزاروں پیروکار موجود ہیں ،جن کے ہاں آپ کی تعلیمات اتنی مدّت بعد بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہیں ۔ بلاشبہ یہ ہمارے وطن ِعزیز کے ایک خوبصورت خطیّ کے خوبصورت لوگوں کا خوبصورت تاریخی اور علمی ورثہ ہے ۔
ایک طویل مدّت سے کسی ایسی کتاب کی ضرورت شدّت سے محسوس کی جارہی تھی جو نہ صرف میر سید محمد نوربخشؒ کی حیات و تعلیمات کا مکمل تعارف پیش کرے بلکہ میر سید محمد نوربخشؒ کے زمانے سے لے کر دورِحاضر تک ایران ، کشمیر اور دنیا کے دیگر خطوں میں نوربخشیہ کی مذہبی تاریخ کا بھی اجمالاً احاطہ کرے، تاکہ جہاں غیر نوربخشی محققین کو اس مسلک کی تاریخ اور اس کے بانی کے حالات سمجھنے کا موقع ملے وہاں خود نوربخشیوں کو بھی اپنے تاریخی ورثے سے کماحقہ‘ آگاہی حاصل ہو۔
ڈاکٹر غازی محمد نعیم اسلام آباد ۲۴ ؍نومبر ۲۰۰۰

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کے حالات ِ زندگی

غوث المتاخرین و سید العارفین میر سید محمد نوربخشؒ قہستانی نوراﷲ مرقدہ و اعلیٰ اﷲ مقامہ اسلامی تصوف کے عظیم سلسلے’ سلسلۃ الذّھب الصّوفیہ‘ کے اٹھائیسویں قطب ہیں۔ ’سلسلۃ الذھب ‘ جس کے معنی’ سونے کی زنجیر‘ کے ہیں تصوف کا وہ مستند ترین سلسلہ ہے جس کے تمام پیران ِ طریقت اور مرشدان ِحقیقت کے اسمائے گرامی آسمان ِ علم و عرفان پر

مزید پڑھیں۔۔۔

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کے خلفاء و مریدین

میر سید محمد نوربخشؒ کے مریدوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچتی ہے ۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کردستان کے بختیاری اور دوسرے قبائل ان کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے اور انہی کے نام پر سکہ اور خطبہ جاری ہوا تھا ۔

ہرات سے تیسری بار روم بھیجے جانے کی غرض سے تبریز روانہ کیا گیا تو وہ لوگوں سے بلا روک ٹوک ملتے رہے

مزید پڑھیں۔۔۔
حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا علمی و روحانی مقام

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا علمی و روحانی مقام

دنیائے تصوف و عرفان میں یہ ایک نادر مثال ہے کہ مرید کا علمی وروحانی مقام اتنا بلند ہو جائے کہ مرشد خود اس کے ہاتھ پر بیعت کر لے اور اس کے حلقہ ٔ ارادت میں شامل ہو جائے ۔ میر سید محمد نوربخش ؒکے روحانی مرتبے کا اس سے بڑا ثبوت کچھ نہیں ہو سکتا کہ خود آپ کے مرشد اور خلیفہ ٔ میر سید علی ہمدانی ؒ خواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے جو

مزید پڑھیں۔۔۔
حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا شجرۂ طریقت

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا شجرۂ طریقت

کتاب کے تعارفی حصّے میں میر سید محمد نوربخشؒ کے سلسلہ ٔ بیعت یعنی سلسلۃ الذھب الصوفیہ کے متعلق اختصار سے لکھا جا چکا ہے ۔ نوربخش ؒ نے ’ صحیفۃ الاولیاء ‘ میں سلسلۃ الذّھب الصوّفیہ کو یوں نظم فرمایا ہے ۔
بود خواجہ اسحاق شیخم بدان
کہ در دورِ خود بود قطبِ جھان

مزید پڑھیں۔۔۔
تحریکِ نوربخشیہ حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کے بعد

تحریکِ نوربخشیہ حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کے بعد

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک ِ نوربخشیہ اپنے دورکی مقبول ترین صوفی تحریک تھی ۔ یہاں لفظ ’سلسلہ‘کی بجائے ’تحریک ‘ کا استعمال وضاحت طلب ہے ۔
نوربخشؒ کے سلسلۂ طریقت کی ذیل میں بیان ہو چکا ہے کہ بزرگانِ سلسلۂ ذہب صرف ایک روحانی طریق کے پیرو نہ تھے بلکہ اس سلسلے کے

مزید پڑھیں۔۔۔
نوربخشیہ کشمیر اور بلتستان میں

نوربخشیہ کشمیر اور بلتستان میں

کشمیر و بلتستان میں سلسلہ ٔ نوربخشیہ کی تاریخ کے بارے میں کوئی مبسوط تصنیف موجود نہیں ہے ، جس کے باعث یہ طویل عہد تاحال پردۂ اخفا میں ہے ۔صرف ’تحفۃ الاحباب ‘ کے قلمی نسخے سے جو محمد علی کشمیری مرید ِشمس الدین عراقی بت شکن کی تصنیف ہے ، ابتدائی دور کا کچھ حال معلوم ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں۔۔۔
حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف

تصنیف و تالیف بزرگانِ سلسلۂ نوربخشیہ کا ایک خصوصی وصف ہے ۔ اس سلسلے کے تما م بزرگ اپنے اپنے زمانے کے سربرآوردہ عالم اور علوم و فنون کے اہم ستون شمار ہوتے تھے ۔ چنانچہ وہ جہاں عام مسلمانوں کے لئے شرعی مسائل کی گتھیاں قضاء و افتاء کے ذریعے سلجھاتے تھے وہاں تشنگانِ طریقت و حقیقت کو سرچشمۂ معرفت ِالٰہی

مزید پڑھیں۔۔۔
حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا طریقِ سلوک

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا طریقِ سلوک

امریکی محقق پروفیسر شہزاد بشیر کے مطابق میر سید محمد نوربخشؒ کا نظریہ ٔتصوف بنیادی طور پر دو مکاتبِ فکر سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک ماخذ سلسلہ ٔ کبرویہ کے صوفیاء کے افکار ہیں اور دوسرا ابن عربی کی تعلیمات پر مبنی ایرانی صوفیاء کے افکار ۔ ان دونوں مکاتب ِفکر کا ادغام میر سید علی ہمدانی ؒ کی تعلیمات میں ہوتا ہے

مزید پڑھیں۔۔۔
حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا اعتقادی و فقہی دبستان

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ کا اعتقادی و فقہی دبستان

نوربخشیہ اگرچہ دیگر سلاسل ِتصوّف کی طرح ایک سلسلہ ٔ تصوف ہے لیکن اس کی انفرادی اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس سلسلے کے مؤسس غو ث المتاخرین سید العارفین شاہ سیّد محمد نوربخش قہستانی ؒ نے ایک مستقل فقہی دبستان کی بنیاد ڈالی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اہل ِ اسلام کے درمیان موجود اصولی اور

مزید پڑھیں۔۔۔
حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ اور اتحّاد بین المسلمین

حضرت سید محمد نور بخش رحمتہ اللہ علیہ اور اتحّاد بین المسلمین

احوال وآثار میر سید محمد نوربخشؒ کے آخری باب کے طور پر ہم تاریخ ِ اسلام میں نوربخشؒ کی شخصیت کا ایک اور حیثیت سے مختصر جائزہ لیں گے ۔ نوربخشؒ کی یہ حیثیت ایک داعیٔ رفعِ اختلاف و اتحاد بین المسلمین کی ہے ۔ نوربخشؒ کی ان تعلیمات کے مختلف پہلو کتاب کے گزشتہ ابواب میں منتشر طور پر پہلے ہی

مزید پڑھیں۔۔۔

نوائے صوفیہ

شاہ ہمدان ریسرچ انسٹٹیوٹ طرف کا دوسرا اہم ترین پروجیکٹ یہ تمام معزز صوفیہ نوربخشیہ کے بھائیوں خصوصاً نوائے صوفیہ کےقارین کے لئے نوائے صوفیہ شمارہ نمبر01 سے حالیہ شائع شدہ شمارہ تک آن لائن کیاہے۔یہاں آپ کو آن لائن پڑھنے کےساتھ ڈاون لوڈ کرنے کی بھی سہولت موجود ہے۔واضح رہے ہم’’ علم سب کے لئے ‘‘کے اصول پر عمل پیرا ہیں،تمام ڈیجیٹل شمارے مفت فراہم کئے جا رہے ہیں۔

حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ اور سلسلہ معروفیہ

حضر ت معروف کرخی کے ولد کانام فیروز وہ عیسائی تھا اور معروف ان کا اکلوتا بیٹا ۔بچپن میں والدین نے حضرت کو ایک پادری کے پاس برائے تعلیم لے گیا آپ پادری سے تعلیم سیکھنے لگے۔ ایک دن پادری نے آپ کو تثلیث کی تعلیم دینا چاہی آپ نے انکار کردیا پادری نے کہا کہ پڑھو کہ خدا تین ہیں ۔آپ نے فرمایا نہیں بلکہ خدا ایک ہے۔ یہ سن کر بے حد برا فروختہ ہوا اور آپ کو مارمار کر ادھ موا کر دیا ۔ آپ پادری کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بھاگ گئے اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ہاں جاکر رہنے اور تعلیم و تربیت پانے لگے ۔
گلہائے عقیدت

گلہائے عقیدت

جب کسی شخص کے ذاتی اَوصاف وکمالات لوگوں میں معروف ہوجائیں تو اہلِ کمال آخرکار معترف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہٗ العزیز اپنی روحانی عظمت وبزرگی کا لوہا منواچکے تو دنیا کے کئی معروف ومشہور عرفاء صلحاء اور علماء نے آپ کے حق

مزید پڑھیں۔۔۔
اقوالِ حضرت معروف رحمتہ اللہ علیہ

اقوالِ حضرت معروف رحمتہ اللہ علیہ

وعبرت اور سبق آموزی کے سلسلے کی کڑی سمجھتے ہیں اور حسب تحقیق ان کو یکجا کرکے پیش کیا ہے۔ مولانا رحمت اللہ سبحانی لدھیانوی نے اقوالِ معروف کرخیؒ کے عنوان سے آپ کے تمام اقوالِ زرّین جمع کردیئے ہیں، ان میں سے چند ملاحظہ ہوں:۔

مزید پڑھیں۔۔۔
کراماتِ معروف رحمتہ اللہ علیہ

کراماتِ معروف رحمتہ اللہ علیہ

معروف کا پانی پر چلنا:تاریخ بغداد اور سیر النبلاء وغیرہ کے حوالے سے علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں۔ کہ راوی کہتے ہیں کہ میں معروف کرخی قدس سرہ کی مجالس میں اکثر بیٹھا کرتا تھا۔ پھر ایک دن میں نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کا چہرہ متغیر تھا۔

مزید پڑھیں۔۔۔
مناجاتِ معروفِ کرخی رحمتہ اللہ علیہ

مناجاتِ معروفِ کرخی رحمتہ اللہ علیہ

دعا و مناجات کے طریقے اور انداز قرآن وسنت سے دستیاب چیز ہیں۔ لیکن جہاں حضرت معروف کرخیؒ کے عادات وخصائل اور کلماتِ پُرتاثیر میں جو معنی ومطالب پائے جاتے ہیں ان کا اپنا ایک مقام ہے۔ وہ قابل عمل اور قابل اعتبار اثرات کے حامل ہیں۔

مزید پڑھیں۔۔۔
وظائفِ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

وظائفِ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت میر سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں کہ جو آدمی بستر سے اٹھتے وقت یہ تسبیح پڑھے تو اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کو جو کہ بندوں کی حاجات پوری کرنے پر مامور فرشتہ ہے۔آواز دیتے ہیں کہ اے جبرائیل! میرے فلاں بندے کی حاجات پوری کرو۔

مزید پڑھیں۔۔۔
حُبِّ امام الاولیاء علی علیہ السلام

حُبِّ امام الاولیاء علی علیہ السلام

تمام اہلِ سلوک وتصوف اس بات پر متفق ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد حضرت مولائے متقیان امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ تمام اتقیائ، اولیاء کا امام اور سید الفقراء ہیں۔ آپ کو نفسِ رسول کا وصی، علمِ رسول کا وارث اور

مزید پڑھیں۔۔۔
جامع الشیخ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

جامع الشیخ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت شیخ معروف کرخی جس مسجد میں اپنے پروردگار کی درگاہ میں عبادات انجام دیتے تھے۔ وہ مسجد معروف الکرخی کے نام سے معروف تھی۔ چنانچہ اس وقت سے اسی مسجد میں آپ کا آستانہ موجود ہے۔ یہ مسجد بغداد کی پرانی اور قدیم مسجدوں میں تھی۔

مزید پڑھیں۔۔۔
ملاقات برجال الغیب

ملاقات برجال الغیب

حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ کو بعض رجال الغیب سے ملاقات کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ اہل اللہ تو دراصل رجال الغیب کے طالب ہوتے ہیں۔ چونکہ ان رجال اور اولیاء کاملین میں روحانی اور عرفانی رشتہ قائم ہوتا ہے۔ بعض اولیاء کرام

مزید پڑھیں۔۔۔
حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کے خواب

حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کے خواب

اس عنوان کے ذیل میں ہم حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز کے ان خوابوں کو مخصوص اور مناسب عنوانات کے ساتھ درج کرتے ہیں کیونکہ رویائے صادقہ دراصل انبیاء کے خصوصیات میں سے ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ صالح خواب کو

مزید پڑھیں۔۔۔
علالت اور انتقال حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

علالت اور انتقال حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

جیسا کہ کتاب کے شروع میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت شیخ معروف حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے دربان تھے۔ آپ مرتے دم تک امام علیہ السلام کی دربانی کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ اچانک ایک بڑا ہجوم امام سے ملنے آیا۔

مزید پڑھیں۔۔۔
ابتدائی حالات حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

ابتدائی حالات حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

آپ کا نام نامی معروف اور کنیت ابوالمحفوظ ہے۔ بعض نے کنیت ابوالحسن بھی لکھی ہے۔ اس طرح آپ کا پورا نام ابوالمحفوظ ابوالحسن معروف ہے۔ ان کے والد کا نام فیروز یا فیروزان تھا۔ چنانچہ آپ کا پورا نام ابوالمحفوظ معروف ابن فیروزان ہیں

مزید پڑھیں۔۔۔
احوال و مقاماتِ حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

احوال و مقاماتِ حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ

مقتدائِ شریعت اور پیشوائے حقیقت ومعرفت حضرت شیخ معروف کرخی قدس اللہ سرّہٗ العزیز بڑے صاحبِ کمال بزرگ تھے۔ وقت کے اہلِ معرفت کے امام اور ہادی تھے۔ تصوف وعرفان میں درخشاں مقام رکھتے تھے۔ علوم وفضل میں یگانۂ روزگار تھے۔

مزید پڑھیں۔۔۔

ہمارے مشترکہ تکمیل شدہ اور زیر تکمیل منصوبے

مزیدپڑھیں۔۔۔
مزیدپڑھیں۔۔۔
مزیدپڑھیں۔۔۔
مزیدپڑھیں۔۔۔
مزیدپڑھیں۔۔۔
مزیدپڑھیں۔۔۔