صوفیہ نوربخشیہ ویب اپ ڈیٹ کے مرا حل میں ہیں۔انشاءاللہ جلد جدید فیچر اور اضافی خصوصیات کے ساتھ آن لائن ہورہا ہے۔

سلسلہ صوفیہ نوربخشیہ

دوسرے سلسہ ہائے تصوف کی مانند سلسلہ نوربخشیہ بھی تصوف کا ایک سلسلہ ہے جو مختلف ناموں سے موسوم رہا ہے۔ سلسلۃالذہب ، معروفیہ ، جنیدیہ ، سہروردیہ ، کبرویہ ، ہمدانیہ اور نور بخشیہ اس سلسلے کے مختلف زمانوں میں مختلف نام ہیں۔ تاہم میر سید محمد نوربخش ؒکے بعد سے نوربخشیہ کہلاتا ہے۔ اس سلسلے کے شیوخ بڑے بڑے ولی اللہ ہو گزرے ہیں ۔شریعت طریقت معرفت اور حقیقت کے علوم سے آراستہ ہیں ۔ روحانی کمالات کے مالک اور غیبی اسرار و رموز سے واقف تھے۔ اس سلسلے کے شیوخ کی خدمات بہت وسیع ہیں ۔ اس کی اپنی تاریخ ہے۔ ہم یہاں سلسلہ طریقت درج کر رہے ہیں۔
1۔ حضرت خاتم النبین محمد مصطفی ؐ 2۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
3۔ حضرت امام حسن ؑ 4۔ حضرت امام حسین ؑ
5۔ حضرت امام زین العابدین ؑ 6۔ حضرت امام محمد باقر ؑ
7۔ حضرت امام جعفر صادق ؑ 8۔ حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ
9۔ حضرت امام علی رضاؑ 10۔ حضرت معروف کرخیؒ
11۔ حضرت شیخ سری سقطی ؒ 12۔ حضرت جنید بغدادی ؒ
13۔ حضرت شیخ ابوذر رودباریؒ 14۔ حضرت شیخ ابو علی کاتبؒ
15۔ حضرت شیخ ابو عثمان مغربی ؒ 16۔ حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانیؒ
17۔ حضرت شیخ ابو بکر نساجؒ 18۔حضرت شیخ احمد غزالی
19۔ حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ 20۔ حضرت شیخ عمار بن یاسر بدیسیؒ
21۔ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰؒ 22۔ حضرت شیخ رضی الدین علی ابن لالاؒ
23۔ حضرت شیخ جمال الدین احمدجورجانیؒ 24۔حضرت شیخ عبدالرحمٰن اسفرائنی
25۔ حضرت علائوالدولہ سمنانیؒ 26۔ حضرت شیخ محمود مزدقانی ؒ
27۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ 28۔ حضرت خواجہ اسحاق ختلانیؒ
29۔ حضرت سید محمد نوبخش ؒ 30۔ حضرت شاہ قاسم فیض بخش
31۔ حضرت شمس الدین عراقی بت شکنؒ 32۔ حضرت شیخ دانیال
33۔حضرت میر ابو سعید السُعدا 34۔حضرت میر مختار اخیار
35۔ حضرت میر شمس الدین رشیدؒ 36۔ حضرت میر حسن رہنما کشمیری ؒ
37۔ حضرت میر دانیال دانا کشمیریؒ 38۔ حضرت نجم الدین ثاقب
39۔ حضرت محمد نورانیؒ 40۔ حضرت میر محمد شاہ مخدوم الفقرائؒ
41۔ حضرت میر شاہ جلالؒ 42۔ حضرت خان علوم ؒ
43۔ حضرت میر محمد اکبر ؒ 44۔ حضرت میر محمد شاہ ؒ
45۔ حضرت الحاج سید عون علیؒ
(دعوات صوفیہ اردو عربی تصنیف سید العارفین حضرت میر سید محمد نور بخش موسوی قہستانی علیہ الرحمہ
ترجمہ ابو العرفان محمد بشیر فاضل عربی خطیب و امام جامع مسجد صوفیہ نوربخشیہ اسلام آباد)
سلسلہ نور بخشیہ کی تاریخ پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ
سلسلہ نور بخشیہ میںاخذ بیعت کا سلسلہ موروثی کی بجائے استحقاق کے حوالے کر دیا جاتے تھے۔ یہی سلسلہ جاری رہا تا آنکہ چونتیسواں) (34بزرگ میر مختار اپنے وقت کا قطب تھا ۔ وہ ذکر اور عشق خداوندی میں مشغول رہتے تھے جن کی نشاندہی تاریخ جموں میں دی ہے۔ میر مختار اخیار ہی نے بلتستان میں بائیس خانقاہیں تعمیر کرائیں اکثر خانقاہوں میں اعتکاف خانے قائم تھے ۔ خانقاہ نور بخشیہ خپلو1125ھ میں مکمل ہوئی جس میں12 اعتکاف خانے اب بھی قائم ہیں۔
درج بالاحقائق شاہد ہیں کہ میر مختار اخیار بڑے ولی اللہ تھے ان کی سکونت کے لئے موضع کریس منتخب کیا گیا چونکہ یہ علاقہ نوربخشی بلتستان میں سنٹر میں واقع ہے۔ یہاں سے میر مختار کے فرمان سکردو، کھرمنگ، کارگل ، خپلو اور اس کے گردونواح میں نافذ ہوتے تھے۔کریس ان علاقوں کے سنگھم پر واقع ہے۔
سلسلہ نور بخشیہ ایک صوفیانہ سلسلہ فقرو سلوک ہے۔ یہ مختلف زبانوں میں مختلف ناموں سے موسوم رہا ہے جس کا ایک خاکہ نیچے دیا جا رہا ہے جو کہ مجموعہ آثار غزالی سے استفادہ کیا ہے۔
۱۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے معروفِ کرخی ؒتک سلسلہ ذہب
۲۔ حضرت معروفِ کرخیؒ (متوفی234ھ) تا حضرت شیخ جنید بغدادیؒ (296ھ) سلسلہ معروفیہ
۳۔ حضرت شیخ جنید بغدادیؒ (296ھ) تا حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ(563ھ) سلسلہ جنیدیہ
۴۔ حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ (563ھ) تا حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ(شہادت 618ھ) سلسلہ سہروردیہ
۵۔ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰؒ (شہادت 618ھ) تا امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ(متوفی786ھ) سلسلہ کبرویہ
۶۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ (متوفی786ھ) تا حضرت سید محمد نور بخشؒ(متوفی869ھ) سلسلہ ہمدانیہ
۷۔ حضرت سید محمد نور بخشؒ(متوفی869ھ) تا ایں دم تحریر سلسلہ نوربخشیہ
سلسلہ ذہب (آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے معروفِ کرخی ؒتک)
رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک روحانی اسرار و رموز یداً بیداً منتقل ہوتا رہا اسرار تصوّف کی منتقلی کا یہ دور سلسلہ ذہب کہلاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے امام علی رضا علیہ السلام تک آئمہ اہل بیت ہر قسم کی شک و شبہ اور غل و غش سے پاک و منّزہ ہیں۔ جس طرح زر خاص ہر قسم کے میل کچیل اور کھوٹ و ملاوٹ سے پاک و صاف ہو تا ہے اسی طرح یہ آئمہ بھی ان سے پاک و منّزہ ہیں۔
( صفحہ نمبر۴سوانح عمری مولانا محمد کثیر، (اردو) سعدی فاروقی ، ناظم اعلیٰ مدارس بلتستان ۱۹۸۵ئ)
چنانچہ اسے سلسلہ ذہب یعنی خاص سونے کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ارشاد و خلافت کی ذمہ داری حضرت معروف کرخی ؒ کو منتقل ہوئی تو سلسلہ ذہب کی بجائے سلسلہ معرفیہ سے موسوم ہا۔
سلسلہ معروفیہ (حضرت معروفِ کرخیؒ تا حضرت شیخ جنید بغدادیؒ)
علومِ طریقت حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بذریعہ حضرت علی علیہ السلام حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک پہنچا عرفان و سلوک کا یہ دور سلسلہ ذہب کہلایا۔ پھر بیعت کا سلسلہ امام علی رضا علیہ السلام نابالغ فرزند ارجمند حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے بجائے ان کی نامور مرید حضرت معروف کرخی ؒمیں منتقل ہوا۔حضرت معروف کرخیؒحضرت امام علی رضا علیہ السلام کے خاص خدمت گزار مرید تھے ۔ عبادات گزاری، تقوی ٰ اور خدمت گزاری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔اسی لئے انہیں حضرت امام علی رضا علیہ السلام ے روحا نی علوم سے مزّین کرنے کے بعد اپنا خلیفہ بنا لیا۔
ایک وضاحت
حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے بیعت کا شیخ معرو ف کرخی ؒمیں منتقل ہوا چونکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت کے وقت حضرت امام تقی علیہ السلام کے عمر صرف 9 سال تھا جو کہ سلسلہ بیعت میں نابالغ تصور ہوتے ہیں چنانچہ سید محمدنوربخشؒفقہ الاحوط میں راقمطرازہیں کہ بلوغ السن الی عشرین سنتہ عنداخذالبیعتہ من مرشدہ ( صفحہ نمبر۴سوانح عمری مولانا محمد کثیر، (اردو) سعدی فاروقی ، ناظم اعلیٰ مدارس بلتستان ۱۹۸۵ئ)
مرشدسے بیعت کے وقت مرید کی عمر20 سال کا ہونا ضروری ہے۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت 203ھ میں ہوئی جبکہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت 194ھ میں ہوئی ۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی شہادت 220ھ میں ہوئی جبکہ ان کے لخت ِ جگر حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت 214ھ میں ہوئی گویا حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام اپنے باپ کی شہادت کے وقت علی الترتیب9 اور 6 کے ہو رہے تھے۔
حضرت امام محمد علی تقی علیہ السلام ،حضرت امام علی نقی علیہ السلام ،امام حسن عسکری علیہ السلام ان تینوں آئمہ کرام سلسلہ متصلہ سے منقطع ہونے کے باوجود انہیں امامت کے رتبے پر فائز رکھا اوران کی عزت ودرجات میں کوئی کمی ہونے نہ دی سید محمد نوربخش لکھتے ہیں۔
ھئولا ء التلائتہ انقطعو من السلسلتہ المتصلئۃ بصغار اعمارھم عند وفات بانھم ولکن اختاروھم اللہ افراناً لصلاح الذین جعل مقبولاً فی الخلائق۔ (95ص۔ مشجرہ الاولیا‘ ( عربی) سید محمد نوربخش از شیخ ابو الباقر علی بن حسین سن نہ دارد)
یہ تین آئمہ ان کے والد گرامی کی وفات کے وقت عمر میں چھوٹے تھے اور وہ سلسلہ متصلہ سے الگ ہوگئے ۔مگر اللہ تعالیٰ نے بندوں کی اسلاح کی خاطر امامت کے رتبے پر سرفراز رکھا اورلوگوں میں مقبول بنایا۔
درج بالا تنیوں آئمہ اور حضرت امام حسن علیہ السلام آئمہ معصومین میں شامل ہیں جبکہ سلسلہ بیعت میں نہیں آئے شرح گلشن راز ،داودیہ ،صحیفتہ الاولیاء ،خلاصتہ المناقب، کشف الحقائق،مشجراولیاء میں ان کے نام نہیں ۔اب معروفیہ کی مناسب سے یہاں حضرت شیخ معروف کرخی ؒ کی مختصر سوانح حیات نذر قارئین کیا جاتا ہے۔
حضر ت معروف کرخیؒ
حضر ت معروف کرخی کے ولد کانام فیروز تھا ۔وہ عیسائی تھا اور معروف ان کا اکلوتا بیٹا ۔بچپن میں والدین نے حضرت کو ایک پادری کے پاس برائے تعلیم لے گیا آپ پادری سے تعلیم سیکھنے لگے۔ ایک دن پادری نے آپ کو تثلیث کی تعلیم دینا چاہی آپ نے انکار کردیا پادری نے کہا کہ پڑھو کہ خدا تین ہیں ۔آپ نے فرمایا نہیں بلکہ خدا ایک ہے۔ یہ سن کر بے حد برا فروختہ ہوا اور آپ کو مارمار کر ادھ موا کر دیا ۔ آپ پادری کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بھاگ گئے اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ہاں جاکر رہنے اور تعلیم و تربیت پانے لگے ۔بچے کی گمشدگی سے فیروز اوران کی بیوی بے حد پریشان تھے ۔انہیں جب پادری نے بچے کے رویے اور اپنی تادیبی کاروائیوں سے متعلق بتانا تو وہ اور بھی پریشان ہوئے ۔ چنانچہ انہوں نے یہ عہد کرلیا کہ بچہ جس دین کو لے کر واپس آئے گا وہ بھی وہی دین قبول کریں گے ۔ادھر امام عالی مقام کو ان کے اس عزم کی خبر ہوئی معروف کو گھر بیج دیا۔چنانچہ وہ اپنے والدین کو امام کے پاس لے آئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ حضرت معروف نے امام علیہ السلام سے تعلیم و تربیت اور روحانی ٹرنینگ حاصل کی ۔ اور درجہ ولایت اور قطب پر فائز ہوئے ۔آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔ آپ سے ہزاروں بندگان خلق نے فیض حاصل کیا۔آپ عظیم بزرگ تھے۔ آپ کے وفات کے بعد بھی لوگ آپ کے مزار سے فیض حاصل کرتے رہے۔ اب بھی بغداد کے نواح میں آپ کا مزار مشہور معروف ہے اور اہل بغداد قبرمعر وف تریاق معروف کا مزار تریاق ہے۔ کہہ کر مزار مبارک کی زیارت کرتے اور اس کے وسیلے سے دعائیں مانگتے ہیں اور اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوکر واپس جاتے ہیں۔
چند کرامات
ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر ـــ’’قوت القلوب‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ حضر ت معروف کرخی کے متعلق یہ عام روایت تھی کہ جب بھی ان کی خدمت میں کھانے کی چیز بطور نذرانہ لائی جاتی ۔ آپ قبول کرتے اور کھالیتے ۔ ایک دفعہ کسی نے ان سے پوچھا ! آپ کے بھائی بشیر ین الحارث تو ہمیشہ ایسا کھانا رد کردیتے ہیں ۔آپ کیوں ہمیشہ قبول کرلیتے ہیں ؟ حضرت معروف نے جواب دیا۔ میرا بھائی زہد ورع کے اثر سے اپنے ہاتھ کھینچ رکھتا ہے۔ لیکن میں اپنے علم باطن کی بدولت انہیں پھیلائے رکھتا ہوں ۔اپنے مالک کے اس گھر میں میری حیثیت ایک مہمان کی ہے۔ جب وہ مجھے کھلاتا ہے۔ میں کھا لیتاہوں ۔ جب وہ مجھے نہیں کھلاتا تو میں بھی صابر و قانع رہتاہوں میں نہ کسی چیز پر اعتراض کرسکتاہوں نہ خود اپنی مرضی سے کوئی چیز پسند کرسکتاہوں۔ (ص51 سوانح جنید بغدادی ، (اردو) ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر ، ترجمہ محمد کاظم ، سنگ میل پبلیکیشنر لاہور ۱۹۸۸ئ)
فاضل مصنف مزید لکھتے ہیں ۔
حضرت معروف کے ایک دوست نے امام سے دریافت کیا کہ کس چیز نے آ پ کو خدا کی عبادت میں یوں محو ہونے اور مشاغل دنیا سے کنارہ کش ہو جانے پر آمادہ کیا ہے؟۔ معروف خاموش رہے۔ دوست نے پھر سوال کیا! کیا موت کے خیال نے ؟معروف نے جواب دیا ’’نہیںموت کے چیز ہے‘‘ ۔دوست نے پوچھا تو قبر کے خیال نے ؟ جواب دیا ’’ نہیں قبرکیا چیز ہے۔ ‘‘ دوست نے کہا تو پھر جہنم کے خوف اور جنت کی خواہش نے؟ ۔معروف بولے ان میں سے کوئی بھی چیز ہو وہ بہر صورت خداکے قبضہ اختیارمیں ہے۔ جب تک اس سے محبت کرنے لگو تو وہ تمہیں ان تمام چیز وں کا خیال بھلا دیتا ہے۔ جب تم خود اس سے متعارف اور شناسا ہو جائو تو وہ تمہیں ان چیز وں کی فکر سے بچا لیتا ہے۔ (ص52 سوانح جنید بغدادی ، (اردو) ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر ، ترجمہ محمد کاظم ، سنگ میل پبلیکیشنر لاہور ۱۹۸۸ئ)
قوت القلوب کے حوالے سے فاضل مصنف ایک دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں ۔علی بن الموافق سے روایت ہے۔ کہتے ہیں ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ بہشت میں داخل ہو اہوں۔ وہاں ایک شخص نظر آیا جو میز پر بیٹھا تھا اور اس کے پاس دو فرشتے،ایک دائیںجانب اور دوسرا بائیں جانب موجود تھا ۔جو اسے انواع و اقسام کی خوراک دیتے ،اور وہ کھاتا جاتا تھا ۔پھرمیں نے ایک دوسرے شخص کو دیکھا کہ جنت کے دروازے پہ کھڑا تھا اور لوگوں کے چہروں کو غور سے دیکھتا تھا ۔بعضوں کو انہوں نے اندر جانے کی اجازت دے دی اور بعض لوگوں کو واپس موڑدیا ۔میں بہشت کو چھوڑ کر رب العزت کے دربار میں پہنچا ۔وہاں میں نے عرش کے شہ نشین کی زیارت کی اور دیکھا کہ ایک شخص خدا کی طرف پلک جھپکا ئے بغیر مسلسل دیکھتے چلا جاتا ہے۔ میں نے رضوان سے پوچھا ’’یہ شخص کون ہے‘‘۔ اس نے جواب دیا یہ معروف کرخی ہیں جنہوں نے خدا کی عبادت نہ جہنم کے خوف سے ،اور نہ جنت کی خواہش سے ،بلکہ صرف اس کی محبت کے سبب کی ہے۔ اس لئے خدا نے انہیں اجازت دے رکھی ہے۔ کہ وہ روز قیامت تک اسی طرح انہیں دیکھتے چلے جائیں ۔پھر میں نے پوچھا اور باقی آدمی جو میں نے دیکھے ہیں وہ کون ہیں ؟ کہنے لگا ان میں اسے ایک بشیر بن الحارث ہے اور دوسرا حمدابن حنبل (ص52سوانح جنید بغدادی ، (اردو) ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر ، ترجمہ محمد کاظم ، سنگ میل پبلیکیشنر لاہور ۱۹۸۸ئ)
سلسلہ جنیدیہ حضرت شیخ جنید بغدادیؒ تا حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ
حضرت معروف کرخی اور سری سقطی کے دور اور دوسری صدی ہجری میں سلسلتہ الذہب کا دوسرا نام معروفیہ رہا۔ جب حضرت سری سقطی ؒکی تربیت اور خصوصی توجہ سے آپ کے مرید صادق ابو القاسم جنید بغدادیؒ کندی بن کر نکلے تو معروفیہ جنیدیہ کے نام سے موسوم ہوا۔ ذیل میں ہم حضرت جنید بغدادیؒ کا مختصر تعارف کررہے ہیں۔
شیخ جنید بغدادی قدس اللہ اسرارہ
آپ کا نام جنید ہے اور والد گرامی کا نام محمد ۔آپ بغداد عراق میں ۲۰۷ھ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے ابائو اجداد شیشہ گری اور بوتل سازی اور ریشمی کپڑے کا کاروبار کیا کرتے تھے ۔
تعلیم وتربیت
ابتدائی اور فقہی تعلیم ابو ثور کلبی اور ابراہیم بن خالد سے حاصل کی۔ (ص81ننفحات الانس ، (فارسی ) مولانا عبدالرحمن بن احمد جان باہتمام مہدی توحیدی پوری ، محمددی تہران ۱۳۳۶ ش)
سلسلہ تصوف کے درخشندہ ہستی جناب سری سقطیؒ آپ کے ماموں تھے۔ آپ نے اپنے ماموں کے ساتھ سات سال کی عمر میں حج ادا کیا ۔
حضرت سری سقطی ؒ حارث محاسی اور محمد بن علی قصاب بغدادیؒ آپ ؒکے روحانی استاد تھے ۔آپؒ بیشتر اوقات ان کے ساتھ بسر کرتے تھے ۔حضرت جنید بغدادیؒ اپنے وقت کے مشہور معروف بزرگ تھے۔ چونکہ تصوف کے تمام سلسلے آپ ؒپر پہنچ جاتے ہیں ۔آپؒ کے بکثر ت شاگرد ہوئے ہیں ان شاگردں سے آگے چل کر بہت سے سلسلے نکلے ہیں ۔ اس طرح تصوف کے یہ سلسلے مختلف علاقوں میں اب بھی مقبول ومتداول ہیں چونکہ یہ تمام سلسلے آپؒ تک پہنچے ہیں اس لئے آپؒ کو سید الطائفہ کہا جاتا ہے۔
چند کرامات
حضرت جنید کہا کرتے تھے کہ ایک روز شیخ سری سقطی ؒنے مجھے فرمایا کہ مجلس میں وعظ کیا کرو ۔ میں اپنے نفس کو متہم سمجھتا تھا۔ وعظ کرنے کا لائق نہیں تھا ۔آخر جمعہ کی شب میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا ۔آپ ﷺنے فرمایا لوگوں وعظ کہو ۔خواب سے بیدار ہو ا اور صبح اپنے ماموں سری سقطی ؒ کے مکان پر چلا گیا اور دوازہ کھٹکھٹا یا۔ ماموں نے دوازہ کھولتے ہوئے فرمایا ! جب تک تجھے رسول اللہﷺ نے نہ فرمایا تو نے مجھے راست گونہ جانا ۔ اس کے بعد میں نے مجلس میں وعظ کہتا شروع کردیا اور یہ خبر مشہو رہو گئی کہ جنید ؒنے وعظ شروع کیا ہے۔ ایک روز ایک آتش پرست نوجوان مجوسی لباس میں مجلس میں آیا ۔انہوں نے شیخ جنیدؒ سے استفسار کیا کہ ارشاد نبوی ہے۔
اتقو افراستہ المومن فانہ بنظر بنوراللہ
مومن کی فراست سے ڈر و کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھ لیتا ہے۔
کا کیا معنی ہے؟۔
شیخ جنید ؒفرماتے ہیں کہ میں نے یہ استفسار سننے کے بعد سر جھکائے رکھا ۔ پھر سر اٹھا کر میں نے کہا کہ تو اسلام قبول کرے گا ۔ تیرے اسلام لانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ پس وہ آتش پر ست اسی وقت مسلمان ہوگیا۔
اس واقعہ میں شیخ جنیدؒ کی دوکرامات موجود ہیں ۔ ایک یہ کہ شیخ کو نوجوان کے کفر کی اطلاع ہوئی ۔دوسری یہ کہ وہ ابھی مسلمان ہونے والا ہے۔
(ص81ننفحات الانس ، (فارسی ) مولانا عبدالرحمن بن احمد جان باہتمام مہدی توحیدی پوری ، محمددی تہران ۱۳۳۶ ش)
ایک روز شیخ جنید ؒجامع مسجد میں وعظ کررہے تھے۔ اتفاق سے شیخ ابو علی روباریؒ کا یہاں سے گزرا ہوا ۔انہوں نے شیخ جنید ؒکے ایک عقیدت مند سے گفتگو کی ۔ عقید ت مند نے شیخ ابو علی رودباری ؒسے کہا کہ اے میر ے بھائی جنیدؒ کے وعظ کو غور سے سن لو ۔چنانچہ آپ خاموشی سے جنید کا وعظ سننے لگے ۔مجلس کیا تھی ؟ ہر طرف وجد وذوق ،عشق وجمال الٰہی چھائے ہوئے تھے۔ اہل مجلس ذوق وشوق الٰہی میں مدہوش تھے۔ دفعتاََ شیخ رودباریؒ پر رحانیت کا دروازاہ کھلا اور فوراً روپڑا ۔جنید کی طرف لپکا توبہ و تائب ہونے کے بعد راہ سلوک اختیار کیا۔
خلفاء ومرید ین
شیخ جنیدؒ کے خلفاء میں علی رودباری ؒبہت مشہورومعروف گزرے ہیں ۔
آپؒ کی مریدین کے حلقے عراق،مصر ،شام اور مائورا لنہر کے علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے ۔جنہیں شمار کرنا مشکل ہے۔ جبکہ آپؒ اکثر اوقات بغداد ہی میں رہتے تھے۔ ان دونوں بغداد عالم اسلام کا مرکز تھا ۔سیاسی ،تہذبیی ،کاروباری اور تصوف کامحور تھا ۔اس لئے دوسرے ملکوں کے امراء ،فقراء اور راہ سلوک پر چلنے والے اس جانب چلے آتے تھے۔ (سوانح جنید بغدادی ، (اردو) ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر ، ترجمہ محمد کاظم ، سنگ میل پبلیکیشنر لاہور ۱۹۸۸ئ)
آپؒ کی نسبت سے آپ کے پیروکار جنید یہ کے نام سے موسوم ہیں۔
سلسلہ سہروردیہ ( حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ تا حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ )
شیخ جنید بغدادی ؒسے شیخ احمد غزالیؒ تک دین اسلام کا یہ روحانی سلسلہ جنید یہ کے افتخاری نام سے موسوم رہا ۔پھر شیخ ابوالنجیبؒ،ضیاء الدین ؒ،عبدالقاھر سہروردی ؒاور شاگر دشیخ شہاب الدین سہروردیؒ کے دوراور پانچویں صدی سے سہروریہ کہلانے لگا ۔ذیل میں شیخ ابوالنجیبؒ سہردردی کا مختصر تعارف پیش کررہے ہیں۔
حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی ؒ
آپؒ کا نام عبدالقاہر بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ ہے۔ آپ ؒکے القاب میں ضیاء الدین ،نجیب الدین اور شیخ الاسلام استعمال ہوئے ہیں۔ ابونجیب آپؒ کی کنیت ہے۔ ماہ صفر ۴۰۹ھ کو بغداد عراق میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و تربیت
مدرسہ نظامیہ بغداد سے فقہ کی تعلیم حاصل کی ۔ابو علی بنہان،زائد بن طاہر ،قاضی ابو بکر انصاری ،ابو طالب الحسنی ،ابو منصور مقری ،ا بو لفتح عبدلملک اور مالیتی رحمتہ اللہ علیہ سے حدیث کا سماع کیا۔ روحانی اساتذہ میں امام احمد غزالیؒ کا نام گرامی سرفہرست آتا ہے۔
کشف وکرامات
آپؒ کا قاعدہ تھا کہ کوئی مرید اعتکاف میں بیٹھتا ،آپؒ ہر روز اس کے پاس جاتے اور اس کے حال کی نگرانی کرتے اور اسے کہتے کہ آج کی رات تجھ پر فلاں چیز آئے گی ۔اس طرح کا کشف ہوگا۔ تجھ پر اس طرح کا حال واردہوگا تیرے پاس اس صورت میں آدمی آے گا اور تجھ سے اس طرح کہے گا ۔اس سے بچے رہنا وہ شیطان ہوگا ۔پھر مرید پر وہ تمام چیز یں وار ہو جاتیں جس کی شیخ ؒنے اس کو خبر دی ہوتی۔ (177مشجرہ الاولیا‘ ( عربی) سید محمد نوربخش از شیخ ابو الباقر علی بن حسین سن نہ دارد)
شیخ عمار یاسر بدیسیؒ اور شیخ شہاب الدین عمر سہروردی ؒآپؒ کے نامور مریدوں میں سے ہیں ۔ بعد میں شیخ عمار یاسرؒ آپ ؒکے خلیفہ بنے۔ سہروردی اتنے مشہور کر گئے کہ آپ ؒکی پوری جماعت کو سہروردیہ کے نام سے شہرت حاصل ہوگئی یہ اسم شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ618ھ تک متداول رہا۔
حضرت شیخ ضیا ء الدین سہروردیؒ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ آپ ؒکی کتاب آداب المریدین چھپ چکی ہے جو عرفانی حلقوں میں بہت مقبول ہے۔ اصل کتاب عربی میں ہے اس کے فارسی ، ترکی اور اردو زبانوں میں ترجمے اور شرحیں لکھی گئی ہیں۔ شیخ ضیا ء الدین ؒنے بغداد ہی میں وفات پائی تھی۔ آپ ؒکا مزار پر انوار بغداد میں مرجع خلائق ہے۔
سلسلہ کبرویہ (حضرت شیخ نجم الدین کبریٰؒ تا امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ)
حضرت شیخ ضیا الدین سہروردی ؒ اور شیخ عمار یاسر بدیسیؒ کے زمانے میں یہ سلسلہ سہروردیہ کے نام سے موسوم رہا۔ پھر شیخ عمار یاسر بدیسیؒ کے مرید خاص شاگرد اور روحانی فرزند شیخ ابوالجناب نجم الدین کبریٰ ؒکے زمانے چھٹی صدی ہجری سے یہ سلسلہ کبرویہ کہلانے لگا۔ ذیل میں ہم شیخ نجم الدین کبریٰ ؒکا تعارف پیش کر نے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ شہید
حضرت شیخ نجم الدین کبریٰؒ 540ھ بمطابق 1145ء کو خوارزم شہر کے خیوہ نامی بستی میں پیدا ہوئے۔ جو آج کل سنٹرل ایشیا میں روس سے آزاد ہونے والا ملک ترکمانستان میں واقع ہے۔ آپؒ کا نام احمد اور والد گرامی کا نام عمر ہے۔ لیکن آپ نجم الدین کبریٰ ، ابولجناب، شیخ ولی تراش اور شیخ کبیر کے نام سے مشہور ہوئے۔
تعلیم و تربیت
آپ ؒنے ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی کے مدارس سے حاصل کی۔ آپؒ کے والد گرامی بھی بہت بڑے عالم تھے۔ابتدائی تعلیم آپؒ نے انہی سے حاصل کی۔ مزید کتابی علوم درج ذیل اساتذہ سے حاصل کیا ۔
ابولمعالی عبدالمنعم القراوی(نیشا پور میں) ابوالفضل محمد بن سلیمان ہمدانی اور ابو العلاء حسن بن احمد ہمدانی(ہمدان میں ) ابو جعفر ہندہ (تبریز میں)۔
درج ذیل مشائخ و عرفاء سے روحانی تعلیم و تربیت پائی۔
شیخ کبیر روز بہان مصری(مصر قاہرہ میں) ابو طاہر محمد اصفہانی (سکندریہ میں ) شیخ اسماعیل قصری (دیزفل میں )شیخ عمار یاسر بدیسی(بدیس میں)بابا خرج تبریزی (ہمدان میں)شیخ ابراہیم کرد(بغداد عراق میں) (ص12 تا17مقدمہ دورسالہ عرفانی، (فارسی)شیخ نجم الدین کبریٰ ، باہتمام حسین بدر الدین ، نشر صفا ۱۳۶۲ ش)
ان تمام مشائخ کی تربیت سے آپؒ عظیم ولی اللہ بنے۔ آپؒ ظاہری و باطن میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپؒ عارف باللہ، فنا فی اللہ ، صاحب کشف و کرامات کے مالک تھے۔ آپ ؒمتعدد کتابوں کے مصنف تھے جن میں فوتح الجلال و فوائح الجمال، السائرالحائر، الاصول العشرہ اور آداب الصوفیہ شائع ہو گئے ہیں۔
غیب بینی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کی حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ نے تمام مریدوں کو رات آرام و استراحت میں گزرنے کی ہدایت کی اور خود بھی اپنے حجرے میں تشریف لئے گئے۔ شیخ سیف الدین باخذری ایک لوٹا پانی لئے رات بھر حجرے کے دروازے پر کھڑے رات گزاری ۔ صبح جب شیخ باہر نکلے تو سیف الدین کو وہاں کھڑا پایا۔ فرمایا میں نے ہدایت کی تھی کہ آج رات سب آرام سے گزاریں۔ سیف الدین نے عرض کیا ۔ حضور ! میرے دل کو آج اس خدمت سے بہت آرام ملا ہے۔ شیخ نے فرمایا ۔ اے سیف الدین ! ایک خوشخبری سنو! کی تمہاری رکاب میں بادشاہ دوڑیں گے۔
ایک دن بادشاہ وقت شیخ سیف الدینؒ سے ملنے آیا ۔واپس جاتے وقت کہا کہ میں نے اپنا گھوڑا حضور کی نذر کیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اپنے ہاتھ سے جناب کو اس پر سوار کروں۔ آپ ؒنے اسے قبول فرمایا۔ اور خانقاہ سے باہر آگئے۔ بادشاہ نے گھوڑے کا لگام تھام لیا اور آپؒ کو گھوڑے پر سوار کر لیا۔ ابھی آپؒ پوری طرح سوار نہیں ہوئے تھے کہ گھوڑا بدک گیا اور تیز دوڑنے لگا ۔ ساتھ ہی بادشاہ بھی گھوڑے کے ساتھ دوڑ پڑے۔ پچاس قدم کے فاصلے پر جا کر رک گیا ۔شیخ نے بادشاہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اس واقعے میں حکمت یہ تھی کہ ایک شب میں نے نجم الدین کبریٰؒ کی خدمت کی تھی۔ جس سے آپ خوش ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ تمہاری رکاب میں بادشاہ دوڑیں گے ۔آج آپؒ کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی ۔ (431نفحات الانس ، (فارسی ) مولانا عبدالرحمن بن احمد جان باہتمام مہدی توحیدی پوری ، محمددی تہران ۱۳۳۶ ش)
شیخ نجم الدین کبریٰ ؒسے مندرجہ ذیل سلاسل صوفیہ متمسک ہیں جو کم وپیش اپ تک موجود ہیں۔
سلسلہ کبرویہ جندیہ جو شیخ بابا کمال جندیؒ سے منسوب ہے۔
سلسلہ کبرویہ حمویہ جو شیخ سعودالدین حمویؒ سے منسوب ہے۔
سلسلہ کبرویہ خلوتیہ جو شیخ محمد خلوتی ؒ کی طرف منسوب ہے۔
سلسلہ زاہدیہ سیاہ پوش جو شیخ جمال الدین گیلی ؒسے منسوب ہے۔
سلسلہ کبرویہ باخزریہ جو شیخ سیف الدین باخزریؒ سے منسوب ہے۔
سلسلہ کبرویہ نعمتہ لاھیہ جو شیخ نعمت اللہ ولی کرمانیؒ سے منسوب ہے۔
سلسلہ کبرویہ شعاریہ جو شیخ عبداللہ شعاریؒ سے منسوب ہے۔
سلسلہ کبرویہ ہمدانیہ میر سید علی ہمدانی ؒسے منسوب ہے۔
سلسلہ کبرویہ ذھیہ شیخ عبداللہ بزرش آبادیؒ سے منسوب ہے۔
(ص12مقدمہ اقرب الطرق ، (فارسی) سید علی ہمدانی ، باہتمام شریف محسن ، نشر صفا تہران ۱۳۸۲ ش)
مذکورہ بالا سلاسل دنیا کے اسلامی ممالک کے ہر حصے میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں ۔اس طرح کبرویہ کے حلقے بہت وسیع ہیں۔
نجم الدین کبریٰ کی شہادت
جب تاتاری فوج نے خوارزم شہر پر حملہ کیا تو چنگیز خان اور اس کی اولاد جو شیخ نجم الدین کبریٰ ؒکے بلند مرتبے سے واقف تھے۔ آپ کی خدمت میں کہلوا بھیجا کی ہم خوارزم کے سلطان محمدشاہ کو قتل کرناچاہتے ہیں آپ یہاں سے نکل جائیں ۔مبادالہ کہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچ پائے ۔ آپؒ نے جوابا ً کہلوایاکہ زندگی کا بیشتر حصہ خورازمیوںکیساتھ گزاری ہے۔ مصائب اور تکالیف کے وقت لوگوں کو چھوڑنا مروت کے خلاف ہے۔ اور انہیں علیحدہ نہیں کر سکتا یہ کہہ کر آپؒ نے اپنے تمام سربرآوردہ مریدوں کو جمع کیا اورانہیں ہدایت کی کہ فوراً شہر سے نکل جائیں ۔اپنے تمام مریدوں کو شہر سے باہر بھیج دیا ۔ چند مریدوں کو ساتھ لیکر آپؒ نے تاتاریوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ شیخ نے گوڈری پہنی،کمر باندہ لی اور بغل میں پتھر بھر لئے اور نیزہ پکڑ کر تاتاریوں پر حملہ آور ہوگئے ۔آپؒ ان پر پتھر برساتے اور نیزہ سے حملہ کرتے تھے ۔آخر ایک تیز سنسناتا ہوا آیا اور آپ ؒکے سینے میں پیوست ہوگیا ۔ جس کے نتیجے میں آپؒ شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے ۔یہ 10جمادی الاول18 6ھ کی تاریخ تھی (۱۴)
آپ ؒکا مزار مبارک روس سے آزاد شدہ جمہوریہ ترکمانستان کے شہر خیوہ میں موجود ہے۔ اس بستی کا نام خوارزمیہ ہے۔
خلفاء ومریدین
آپ ؒکے مریدین کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیونکہ آپؒ اسلامی ممالگ کے بہت سے ملکوں میں رہے اور ہر جگہ رشدوہدایت کے دریا بہاتے رہے ۔مصر ،شام ،عراق،ایران وسطی ایشیاء کے ملکوں میں آپؒ کے لاکھوں مرید تھے۔ جو آپؒ کے دست حق پر بیعت تھے۔ مندرجہ ذیل مشائح آپؒ کے ممتاز مریدوں اور خلفاء میں شمار ہوتے ہیں حضرت شیخ رضی الدین علی لالاؒ،حضرت شیخ مجدالدین بغدادیؒ ،حضرت شیخ سعدالدین حمویؒ،شیخ نجم الدین رازیؒ ،سیف الدین باخزری ؒ،باباکمال جندی ؒ،فرید الدین عطانیشاپوری ؒ،جمال الدین گیلی ؒ،شیخ محمدخلوتی رضوان اللہ ،علیھم اجمعین۔
سلسلہ ہمدانیہ (حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ تا حضرت سید محمد نوربخشؒ)

شیخ الدین کبریٰ ؒسے شیخ محمودمزدقانیؒ کے زمانہ یعنی چھٹی صدی ہجری تک یہ سلسلہ کبرویہ کے نام سے موسوم رہا بھر شیخ محمود مزدقانیؒ کے مرید اور خلیفہ میر سید علی ہمدانی المعروف بہ شاہ ہمدان کے زمانے میں ہمدانیہ سے موسوم ہوا ۔پھر شاہ ہمدان کے مریداور خلیفہ خواجہ اسحاق ختلانیؒ کے زمانے میں ہمدانیہ سلسلہ نوربحشیہ اور ذھبہ کے الگ الگ ناموں سے موسوم ہوئے ۔ جو با لترتیب سید محمدنوربخشؒ اور سید عبداللہ برزش آبادی ؒسے منسوب ہیں ۔
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ پیر کے روز12رجب المرجب714ھ بمطابق 22اکتوبر 1314ء کو اسلامی جمہوری ایران کے مشہور شہرصوبہ ہمدان میںپیداہوئے۔ آپؒ کے والد گرامی شہاب الدین اسی صوبے کے گورنر تھے جو اپنی ریاضت،تقویٰ اورخدا ترسی کی بناء پر مشہور تھے۔
شجرہ نسب
آپؒ حسینی سادات میں سے تھے۔ (ص 5 حضرت میر سید علی ہمدانی(اردو) ڈاکٹر محمد ریاض میل پبلیکیشنرلاہور ۱۹۷۵ئ)
آپ ؒکا سلسلہ نسب یوں ہے سید علی ہمدانی ابن سید شہاب الدین بن محمد بن علی بن یوسف بن شرف بن محمد بن جعفر بن عبداللہ بن محمد بن حسین بن جعفرالحجتہ بن عبداللہ بن زاہد الحسن بن علی زین العابدین بن حسین الشہید بن علی (ص3 خلاصتہ المناقب قلمی، (فارسی) آقائے سید حمایت علی نائب پیر نوربخشیہ بلتستان)
ٓٓٓ آپؒ کی والدہ ماجدہ کا نام سیدہ فاطمہ تھیں جو حضرت امام حسین کی اولاد میں سے تھیں ۔ (ص9 تذکرہ شاہ ہمدان ‘ (فارسی) از شیخ محمد اسماعیل ساحلی سن نہ دارد)
کوہ الوند
ہمدان ایک قدیم شہر ہے اور ایران کے صوبہ ہمدان کا دارلحکومت بھی ہے۔ہمدان کے شمال میں کواہ الوند نامی پہاڑ ہے یہ پہاڑ اپنے دامن میں چار سو بندگان خدا کو خالصان خدا میں تبدیل کر چکا ہے۔ یہ پہاڑ ابدال اقطاب اور اغواث سے کبھی خالی نہ رہا۔
(ص 1سالار عجم ، (اردو ) پروفیسر عبدالرحمن ہمدانی ، سادات ہمدانیہ ویلفیئر سوسائٹی پنجاب لاہور جنوری ۱۹۹۰ئ)
سید علی ہمدانیؒ کے ماموںسید علائوالدولہ سمنانی(متوفی736ھ)اپنے وقت کے بڑے ولی اللہ تھے۔انہوں نے 130چلہ کاٹے
(ص 5سالار عجم ، (اردو ) پروفیسر عبدالرحمن ہمدانی ، سادات ہمدانیہ ویلفیئر سوسائٹی پنجاب لاہور جنوری ۱۹۹۰ئ)
جب سید علی ہمدانی کوہ الوند پر جاتے تو اپنے ماموں کوذکر الہیٰ میں مصروف پاتے اور اللہ کے نعروں سے کوہ الوندوجد میں آتا۔سید علی ہمدانی بھی اپنے ماموں کے حلقہ ذکر میں شامل ہوتے اور ذکر الہیٰ کی لذتوں سے مسرور ہوتے۔کبھی کبھار دوسرے پہاڑوںپر جاتے اور تن تنہا اللہ کا ورد کرتے اور خود کو بادلوں میں محو پرواز دیکھتے۔
(ص 5سالار عجم ، (اردو ) پروفیسر عبدالرحمن ہمدانی ، سادات ہمدانیہ ویلفیئر سوسائٹی پنجاب لاہور جنوری ۱۹۹۰ئ)
ابوسعید معمر حبشی سے ملاقات
سید علی ہمدانی کے والد گرامی ہمدان کا گورنر تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تر بیت کا بڑے پیمانے پر اہتمام کر رکھا تھا۔ مذہبی روحانی تعلیم کے علاوہ فنون سپہ گری ،نیزہ باازی،تلوار زنی اور تیر اندازی کے لئے بڑے بڑے اتالیق مقرر کئے گئے تھے۔
راہ سلوک کی تربیت
علائو الدولہ سمنانی (متوفی 836ھ) حضرت شاہ ہمدان کے مامو ں تھے۔انہوں نے آپؒ کو سب سے پہلے قرآن شریف حفظ کروایا۔دینی و شرعی تعلیم دی اور راہ سلوک کے طریقوںسے روشناس کرایا۔(رسول کا سفیر)
راہ سلوک میں ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ کئی کئی دن تک کھائے پیئے بغیر ذکر الہیٰ میں مصروف رہتے تھے۔ اور بکثرت درود پڑھتے تھے ایک دن اچانک انہیں یہ محسوس ہوا کہ مسجد کی چھت اڑگئی ہے اور حضور سرور کائناتؐ ایک خوبصورت تخت پر تشرف فرما ہیں آپؒ وہاں تک جانے کی کوشش کررہے ہیں،حضورؐ نے ارشاد فرمایاـ فرزند!اس مقام تک آنے کئے لئے شیخ محمود مذدقانی کی خدمت میں جانا ہو گا۔(رسول کا سفیر)
شیخ محمود مذدقانی ؒ
شیخ محمود مزدقانی ؒ بہت بڑے ولی اللہ تھے۔شیخ علی سید علی ہمدانی ؒکو ہمدان سے مذدقان لے آئے جو علاقہ رے(تہران) میںواقع ہے۔ اور شیخ محمود مذدقانی ؒ کے حوالے کر دیئے۔شیخ محمود مذدقانی ؒنے سید علی ہمدانیؒ سے فرمایا اگر مخدومی کے لئے آئے ہو تو میں سر آنکھوں پر رکھوں گا میرے لئے تمھاری خدمت ایک سعادت سے کم نہ ہو گی اور اگر خدمت گزاری کے لئے آئے ہو تو خانقاہ کی صفائی کے لئے ایک سیاہ فام غلام موجود ہے،تمھیں اس کے جوتوں کی صفائی کرنی ہوگی تاکہ منزل مراد تک پہنچ سکے۔ (ص5خلاصتہ المناقب قلمی، (فارسی) آقائے سید حمایت علی نائب پیر نوربخشیہ بلتستان)
اسکا مقصد یہ تھاکہ چونکہ سید علی ہمدانی ؒایک گورنر کے چشم وچراغ تھے ان کے لئے خاندان میں غلاموں اور خادموںکی کمی نہ تھی۔ایسے لوگ بہت مغرور ہوا کرتے ہیں سید کے مغرور وتکبر اور سرکشی نفس کو توڑنے کے لئے شیخ نے یہ کام کروایا۔سید اس مرحلے میںکامیاب را اور شیخ محمود ؒنے اپنے مریدوں میں شامل کر لیا۔
(ص5خلاصتہ المناقب قلمی، (فارسی) آقائے سید حمایت علی نائب پیر نوربخشیہ بلتستان)
مزدقان میں خانقاہ شیخ محمود مذدقانی میں ایک کچا کنواں اب بھی ہے۔جہاں اولیاء کرام اپنی کمر اور ہاتھ کو لوہے کی زنجیر سے باندھ کر لٹک جاتے اور صرف خداکی طرف توجہ رکھتے تھے۔شیخ محمود مذدقانی ؒسیدعلی ہمدانی ؒکو چاہ زندان میں ڈال کر تین مہنے کے دورے پر روانہ ہوگئے۔شیخ محمود مذدقانی ؒکے مریدوں نے کنواں سے سیدؒ کی یوں سنا کرتے تھے۔
الا ابھا الما مول فی کل حاجات!! رجوتک فاکشف ضرما بی وفاقتی
الا رجانی انت کاشف کربتی فھب لی ننوبی واقضی حاجتی
اے ہر حاجات میں مرکز اُمید! میں نے تجھ سے لو لگائی ہے پس میری مصیبت اور فاقہ و درویشی کا مداوا کردے اے امیدوں کا مرکز! تو ہی رنج وغم کو دور کرتا ہے۔ میرے گناہ معاف فرما! اور میری حاجت پوری فرما۔ (ص5خلاصتہ المناقب قلمی، (فارسی) آقائے سید حمایت علی نائب پیر نوربخشیہ بلتستان)
چاہ زندان میں ریاضت کے دوران عشق حقیقی سے اس قدر سرشار ہوئے کہ انھیں یہ احساس نہ رہا کہ کنواں سے باہر چاند گزر رہا ہے یا سورج۔جب شیخ محمود مذدقانی ؒسفر سے واپس آئے اور سید ؒ کو کنواں سے نکالا پھر ارشاد فرمایا۔یا سید!ابھی نفس امارہ کو مارنے کا عمل باقی ہے ابھی تک ہمدان کی بادشاہت اس دروشانہ زندگی میں چھپی ہے۔لہذا آج سے خانقا کی جاروپ کشی کیا کرو۔پھر دریشوں اور فقراء کے لئے پانی لانے کا کا م بھی کروائے سید علی ہمدانی ؒ ان دونوں آزمائشوں سے بھی سرخرو ہوئے۔ (ص8 سالار عجم ، (اردو ) پروفیسر عبدالرحمن ہمدانی ، سادات ہمدانیہ ویلفیئر سوسائٹی پنجاب لاہور جنوری ۱۹۹۰ئ)
پھر شیخ محمود مذدقانی ؒ نے آپ کو ایک خلوت خانہ میں بٹھا دیا ایک خادم چپکے سے کھانا پانی رکھ کر چلا جاتا۔مسلسل چھ سال ریاضت و تربیت پانے کے بعد ایک روز شیخ محمود مذدقانی ؒ خلوت خانہ میں داخل ہوئے اور فرمایا کہ مبارک ہو آج کے بعد میرا کام ختم ہے کل ہمدان جاکر شیخ علیؒ سے ضرور ملنا اور ان سے تربیت لینا۔
شیخ علیؒکی دوبارہ تربیت
شیخ علیؒ اپنے مریدوں کی نفسانی خوہشات کو کچلنے کے لئے اکثر جسمانی تربیت دیا کرتے تھے۔اس سلسے میں وہ اپنے مریدوں کو مختلف جسمانی مشقت کا کام سونپا کرتے تھے۔جب سید علی ہمدانی ؒ دوبارہ شیخ علیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تین مہنے تک مسلسل کام میں مصروف رہے شیخ علیؒ نے ایک چٹان سے پتھروں کو ہٹانے کا حکم دے دیا۔ پھر اسی پتھر کو اسی دوسرے جگہ منتقل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ایک روز سید علی ہمدانیؒ نے سوچا کہ شیخؒ خواہ مخواہ یہ فضول کام کوں کرواتے ہیں؟۔انھوں نے اس کے متعلق اپنے پیر سے استفار کیا۔ اس بات پر شیخ علی آگ بگولہ ہو گئے۔انھوں نے جوتے اتار کر اس زور سے سیدؒ پشت پر مارا کہ پشت پر گہرازخم آیا۔ جس کا نشان وصال تک موجود تھا۔(رسول کا سفیر)
پیر نے فرمایا ارے!اس محنت کا بہت فائدہ ہے۔ اس سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ مرید اپنے نفس کو کہاں تک مار چکا ہے۔سید علی ہمدانی ؒمعافی مانگ لی۔ مسلسل ایک سال جسمانی مشقت کا کام کرنے کے بعد ایک روز شیخ علیؒ نے ارشاد فرمایا کہ میرا کام ختم ہو ا ہے کل مزدقان جا کر شیخ محمود مذدقانی ؒ کی خدمت میں دوبارہ حاضری دینا۔
شیخ محمود مذدقانی ؒ کی خدمت میں دوبارہ حاضری
سید علی ہمدانی واپس مزدقان (رے)میں شیخ محمود مزدقانی کے خدمت میں آئے ۔شیخ نے فرمایا! تمہاری خانقاہی تربیت ختم ہو گئی ۔اب روئے زمین تمھاری خانقاہ ہے۔ دنیا کہ سیر وسیاحت کرو ۔تربیت کے بارے میں جناب پروفیسر محمد طیب(سری نگر) کشمیر تحریر فرماتے ہیں۔آپ ؒ کی والادت کا زمانہ سلسلہ کبرویہ کے مشہورسر حلقہ شیخ رکن الدین عبدالرحمن سفرائنی ،شیخ احمد ذاکرجورجانی اور علائوالدولہ سمنانی کی تربیت سے وہ نور(امیر کبیر) روشن ہوا۔
(ص22 اقبالیات ‘ (فارسی) شمارہ سوم ‘عبدالرفیع حقیقت اقبال اکادی لاہور ۱۹۸۸ئ)
میر سید علی ہمدانی ؒ اپنے مرشد سے تربیت لینے کے بعددنیا کی سیاحت کے لئے نکلے۔سیاحت کے دوران انہوں نے مختلف اسلامی ممالک کے علاوہ غیر مسلم علاقوں میں بھی دورے کئے۔دوران سفر انہوں نے بہت سی تکلیفیں جھلیں۔یخ بستہ ہوائوں،لق دق صحرائوں،تپتے ریگستانوں،برفانی پہاڑوں،خوفناک جنگلوں سے واسطہ پڑا مگر آپ ؒکے قدم مبارک نے لغزش نہ کھائی۔آپ ؒتین بار دنیا کی سیاحت کے لئے نکلے۔کشمیر سے تین بار، بلتستان سے دو بار گزے ہیں۔
عقید تمندان شاہ ہمدان
شاہ ہمدان سے لاکھوں افراد نے فیض وبرکات حاصل کیں۔صرف کشمیر میں 37ہزار مسلمان آپ ؒکے ہاتھوں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ربع مسکون کی سیاحت اور حج بیت اللہ کے موقعوں پر استفادہ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تھی۔مندرجہ ذیل حکمران وقت آپ ؒکے مریدوں میں شامل ہونے کا اعزاز رکھتے تھے۔
1۔ سلطان قطب الدین کشمیر 2۔ فیروز شاہ تعلق ہندوستان
3۔ علی الدین پکھلی(ہزارہ) 4۔ بہرام شاہ بدخشان
5۔ سلطان محمد شاہ بلغ 6۔ غوطہ چوسنگے سکردو
7۔ راجہ مقیم خان خپلو 8۔ غوری تھم شگر
9۔ غیاث الدین ہرات 10۔ خضر شاہ کنار
سلسلہ نوربخشیہ (حضرت سید محمد نور بخشؒ تا ایں دم تحریر )
حضرت امیر سید علی ہمدانی ؒاورحضرت خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کے زمانے میں دین اسلام کا یہ روحانی نظام ہمدانیہ کے نام سے موسوم رہا پھر خواجہ اسحاق ختلانی ؒکے مرید،خلیفہ اور شاگرد خاص میر سید محمدنوربخش ؒسے یہ سلسلہ نوربخشیہ کہلایا جو بھی تک اسی نام سے موسوم ہے۔ بعض دانشوروں کا یہ کہنا کہ سید محمدنوربخشؒ ہی سلسلہ نوربخشیہ کا بانی ہے۔ راقم کے نزدیک درست نہیں چونکہ آنحضرت سے سید محمدنوربخشؒ تک بڑے بڑے ولی اللہ ہو گزرے ہیں۔ ان اولیاء کی نسبت سے پیروکاروں کے نام میں تبدیلی آتی رہی لیکن ان کے وظائف ،اعمال،ریاضت،مجاہدے اور عبادات ایک تھے۔ ذیل میں ہم میر سید نوربخش ؒاور سلسلہ نوربخشیہ کا تعارت کررہے ہیں ۔
حضرت میر سید محمدنوربخشؒ
میر سید محمد نور بخش ؒ15 شعبان 795 ھ مطابق 26 جون 1393 ء کو ایران کے مشہور علاقے قائن میں پیدا ہوئے ۔سات سال کی عمر میں انہوں نے قرآن مجید کو حفظ کیا۔ سترہ سال کی عمر میں روحانی علوم کے اکتساب میں مصروف ہوگئے ۔ آپ ؒکے شیوخ میں میر سید علی کے نامورخلیفہ وداماد خواجہ اسحاق ختلانی کا نامی گرامی سرفہرست ہے۔ جن کی تربیت سے آپؒ درجہ قطب پر فائز ہوئے ۔ آپ ؒاپنی تصنیف رسالہ واردات میں فرماتے ہیں ۔
پیریم ومرید خواجہ اسحاق! آل شیخ شہید وقطب آفاق
کوبود مرید پیر فانی! شاہ ہمدانی علی ثانی (ص6 واردات قلمی ، (فارسی) سید محمد نوربخش قلمی برات لائبریری برق چھن بلتستان)
ان سطور سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ سیدمحمد نور بخشؒ میر سید علی ہمدانیؒ کے خلیفہ خواجہ اسحاق ختلانی ؒکے مرید بھی تھے اور پیر بھی ۔سید محمد نوربخش ؒریاضت کے میدان میں اپنے پیر سے سبقت لے گئے اور پیر سے زیادہ بلند درجہ ولایت پر فائز ہوئے حضرت خواجہ نے اپنے مریدوں کو کتالن میں خانقاہ ہمدانیہ کوہ تیری میں جمع کیا اور اعلان کیا کہ کل تک سید محمد میر ے مرید تھے لیکن آج سے وہ میر ے پیر ہیں آپؒ نے انہیں نوربخش کا لقب دیتے ہوئے مریدوں کو حکم دیا کہ وہ میر نوربخش ؒکے ہاتھ پر بیعت کریں معصوم علی شاہ تحریرفرماتے ہیں ۔ تمام سلسلہ ہمدانیہ باوی بیعت نموند(۹۱۷) یوں خواجہ اسحاقؒ نے تمام ہمدانیوں کو میر نوربخش ؒکے ہاتھ پر بیعت کرنے کا حکم دے دیا اور خود بھی بیعت کرلی ۔میرنوربخش ؒکے ایک نامور مرید شیخ محمد اسیری لایچی ؒ(متوفی 912 ھ ) اپنے پیر کو نوربخش ؒکے لقب ملنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
آمدہ ازعیب نامش نوربخش
بودچوں خورشید ذاتش نوربخش (ص20 اسرار الشہود ، (فارسی) شیخ محمد اسیری لایجی (متوفی ۹۱۲ھ) بتصحیح دکتر بران زنجانی باہتمام اشارات امیر کبیر تہران ۱۳۴۵ ش)
حضرت خواجہ اسحاق ختلانیؒ نے آپؒ کو نوربخش کا لقب عطا فرمایا اور آپؒ میر نور بخش کے نا م سے مشہور ہوگئے ۔آپ ؒکے ارادتمندنوربخشی نوربخشیہ کہلانے لگے جو اب بھی متداول ہے۔ میر نوربخش ؒتک اس روحانی سلسلے کا نام ہمدانیہ رہا ۔ یہ عظیم صوفی مسلک کو نوربخشیہ کے نا م سے شہرت ملی جبکہ میر سید علی ہمدانی ؒسے میر نور بخشؒ تک اس روحانی سلسلے کانام ہمدانیہ رہا۔ یہ عظیم ولی اللہ خلق خدا کو رشدوہدایت پہنچانے میں مصروف رہے انہوں نے مرزا شاہ رخ کے باربارقید کرنے ،سختیاں کرنے کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں خود گئے اور اپنے نامور مریدوں کو روانہ کیا تاکہ لوگوں میں اسلام راسخ ہوجائے ۔ذیل میں ہم میر سید محمد نور بخش ؒکے ان نامور مریدوں کی فہرست دے رہے ہیں جو مختلف علاقوں میں اشاعت واستحکام دین کا فریضہ سرانجام دینے پر مامور تھے ۔
1۔دوریش سلمان مکاری سری نگر کشمیر
2۔شیخ شمس الدین الاہجی اسیری شیراز ایران
3۔شاہ قاسم فیض بخش ابن سید محمد نوربخش خراسان ایران
4۔مولانہ برہان الدین بغدادی بغداد عراق
5۔حاجی محمد سمرقندی مصر مصر
6۔محمد الدین مغربی شام شام
7۔مولانہ حسن کروستان عراق
8۔شیخ محمد الوندی ہمدان ایران
9۔مولانہ حسن کو کئی مادرا لنھر بخارا، ترکستان
10۔مولانہ علمادالدین حیدر آباد دکن بھارت
11۔مولانہ محمود بحری نحرآباد ایران
12۔خلیل اللہ بغلانی بغلان ایران
13۔شیخ محمد غیبی سولغان ایران
(ص33حوال و آثار و اشعار میر سید علی ہمدانی ، دکتر محمد ریاض باہتمام مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان اسلام آباد۱۹۸۵ئ)
ان اعداد وشمار سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ آٹھویں صدی ہجری تک نوربخشی مذہب نے کئی غیر مسلم علاقوں میں اسلام کی اشاعت میں مصروف تھے۔ میر سید محمد نور بخشؒ بہت بڑے ولیٰ اللہ ہونے کیساتھ ساتھ بہترین نثر نگاراور اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے ۔انہوں نے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ان میں سے22کتب و رسائل ہماری دسترس میں ہیں جو ہماری لائبریری کی متاع گراں ہیں۔ آپ ؒنے ۷۴ سال کی عمر میں تہران کے نزدیک رے میں وصال فرمایا۔ آپ ؒکا مزار مبارک وہاں اب بھی مرجع خلائق ہے۔