اسم گرامی
آپ کا نام نامی معروف اور کنیت ابوالمحفوظ ہے۔ بعض نے کنیت ابوالحسن بھی لکھی ہے۔ اس طرح آپ کا پورا نام ابوالمحفوظ ابوالحسن معروف ہے۔ ان کے والد کا نام فیروز یا فیروزان تھا۔ چنانچہ آپ کا پورا نام ابوالمحفوظ معروف ابن فیروزان ہیں۔ بعض نے ان کے والد کا نام علی بتایا ہے۔
حضرت شیخ معروف الکرخی کا نام نامی ایک توفیقی نام ہے جسے آپ کے والدین نے پکارا لیکن آپ اسم بامسمّٰی معروف ہی ٹھہرے یہ بروزن منقول ہے۔ معروف’’ مشہور‘‘ کے معنی میں ’عرفان‘ مصدر سے ’عارف ‘اس کااسم فاعل آتا ہے۔ العریف والعارف جاننے والا۔ عالم ، اپنے ساتھیوں کا تعارف کرانے والا۔ اپنے دوست کا تعارف کرانے والا۔ قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا۔ نقیب اور مشہور چیز کے لئے بولا جاتا ہے۔ جیساکہ ھٰذَا اَمْرٌلا مَعْرُوْفٌ ‘‘۔ یعنی یہ مشہور بات ہے یا مشہور واقعہ ہے۔ اس کی مؤنث عارفہ جمع عوارف آتی ہے۔ اور نیک امور کے لئے بھی معروف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اَمرِ معروف نیکی کا حکم دینے کو کہتے ہیں۔ اس طرح معروف کے کئی دیگر معانی ومطالب پائے جاتے ہیں۔ مثلاً مشہور، خیر، نیکی، رزق، احسان، اچھی بو والی زمین۔ تو حضرت شیخ معروف کرخی ؒاپنے نام کے معانی کے مطابق حیاتِ مقدس رکھتے تھے۔ آپ کی سیرت معروف ہی معروف تھی۔ بلکہ اب بھی معروف ہے۔ معرفتِ خداوندی اور تعارفِ الٰہیات کرانے میں آپ کو کمال درجہ حاصل تھا۔ ایسے کمالات والوں کو عارفین یا عرفاء کہتے ہیں۔ انہی سے معرفت بھی حاصل ہوتی ہے۔ المعارف علوم کو کہتے ہیں۔ عرفاء کے معنی چوٹی کے ہیں چنانچہ حضرت شیخ معروف کرخی معارفِ اسلامی کے چوٹی کے عارف تھے۔ آپ نے اپنے والدین کے رکھے ہوئے اس نام کی صرف لاج رکھی بلکہ معروف روشن چہرے والے کو کہتے ہیں آپ کے کردار نے ثابت کردیا کہ آپ ہرجگہ دنیا آخرت اور دوست دشمن سب میں روشن چہرہ اوربلند ناک والے تھے۔ وَھُوَ مِنَ الْمَعَارِف آپ مشہورلوگوں میں سے ہیں۔ اسی طرح یہ غنچہ کھلا اور کھل کر مہک انگیز گلاب کی صورت اختیار کی اورآپ آسمانِ تصوف پر ماہِ تمام بن کر طلوع ہوئے۔
تاریخ پیدائش
تاریخ بغداد کے حوالے سے عبداللہ الجبوری نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ معروف کی ولادت تقریباً ۱۲۰ھ میں ہوئی ہے۔ وہ ایک شخص ادریس بن عبدالکریم نامی کی روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ادریس حضرت معروف کا کوئی رشتہ دار تھا۔ ان سے قریبی تعلق رکھتا تھا۔ ادریس کا کہنا ہے کہ معروف نے حضر ت امام صادق ؑ سے روایات حدیث کی سماعت کی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ۔ امام جعفر صادق ؑکا انتقال ۱۴۸ ھ کو ہوا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب وہ امام صادق ؑکو سن رہا تھا تو اس وقت حضرت معروف اپنی عمر کے ۲۸ سال سے گزر رہے تھے یا اس سے کچھ سال کم پھر وہ ریاضت و مجاہدہ کی طرف توجہ مبذول کرنے لگے (المقدمہ المناقب) (آپ کی وفات۲۰۰ ہجری کو معتبر سمجھنے کی صورت میں بھی)۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت شیخ معروف نے اپنی عمر کی کم از اسی بہاریں دیکھی ہیں۔
کرخ سے نسبت
حضرت معروف کو’’ کرخ‘‘ سے نسبت ہے۔ اس لئے آپ کو کرخی کہا جاتا ہے مگر اختلاف اس بات میں ہے کہ آپ کون سے کرخ سے منسوب ہیں۔ کیونکہ کرخ عراق کے بہت سے مواضع کا نام تھا۔ کرخ آرامی زبان میں فصیل کو کہتے ہیں۔ معجم البدان میں ہے کہ کرخ، نبطی زبان کا لفظ ہے اور جمع کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یاقوت نے اس قسم کے نو مواضعات کا حال لکھا ہے۔ جن میں سے کرخ بغداد۔ کرخ جدّان اور کرخ باجدا بھی شامل ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ وہ کرخ جدّان سے ہیں۔ جو عراق کی شمال مشرقی سرحد کے آخر میں ایک چھوٹا سا مقام ہے۔ سمعانی نے کہا ہے کہ وہ کرخ باجدا سے ہیں۔ جو بقول یاقوت کرخ سامرا ہی کا نام ہے۔ اور وہ سامرا سے اقدم اور اس سے متصل تھا۔ اور اندازاً اس زمانہ سے چھٹی صدی تک وہاں حضرت معروف کرخی کا گھر موجود تھا۔ جس کی زیارت کے لئے لوگ جاتے تھے۔ مگر خطیبِ بغدادی نے کہا ہے کہ وہ کرخ (باجدا) بغداد سے تھے۔ ابن خلقان نے لکھا ہے کہ یہی صحیح ہے کہ معروف کرخی، کرخ بغداد سے ہیں (5)۔لیکن عبداللہ الجبوری کی تحقیق کے مطابق وہ کرخ جدان سے منسوب ہیں ۔یہ کرخ عراق اور ایران کی حد فاصل پر ہے(6)۔حاج شیروانی کے مطابق یہ ایسا محلہ ہے جو بغداد شہر کے درمیان میں واقع تھا اور محلے اس کے ساتھ متّصل تھے لیکن اس وقت یہ الگ تھلگ دریائے دجلہ کے مغربی جانب واقع ہے۔ شیخ عباس قمی حضرت شیخ معروف کے حالات بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کرخ کئی جگہوں کا نام ہے جن میں سے ایک کرخ بغداد میں ہے جو ایک محلہ کا نام ہے(7)۔
خطیب بغدادی تو صرف اتنا لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کرخی کے والد ملک عراق کے علاقہ واسط کے ایک گائوں کے رہنے والے تھے اور صابی مذہب کے پیر و تھے۔ امام قشیری نے لکھا ہے۔ آپ کے والدین نصرانی تھے ۔ بچپن میں جب والدین نے ان کو پڑھنے کے لیے بھیجا تو معلم نے آپ کوتثلیث کی تعلیم دیتے ہوئے ان سے کہلونا چاہا کہ ثالث ثلاثہ۔ یعنی تین اقانیم میں سے تیسرا اقوم ہے۔ تو معروف کہتے ’نہیں‘ تھے (بلکہ) وہ کہتے تھے ’وہ تو ایک ہے‘۔ ایک دن معلم نے ان کو اتنا مارا (کہ وہ نڈھال ہوگئے) جس پر وہ گھر سے بھاگ گئے (مقالات محمد شفیع ج۔۱) آٹھویں صدی کے معروف عارف کامل حضرت ضیاء الدین نحشبی یہ لکھتے ہیں کہ شیخ معروف نے تین یا چار سال کی عمر میں اپنے استاد کے سامنے کلمہ حق کا اعلان فرمایا کہ خدا تو ایک ہوتا ہے تین نہیں (سلک السلوک ص ۱۸۰)بعض آپ کو ایرانی نژاد کہتے ہیں اس کی اصل وجہ ان کے والد کا نام فیروزان ہونا ہے۔ جبوری کہتا ہے آپ اصلاً بغدادی ہیں کتابی ، صابی تھے ایک روایت سے نصرانی تھے ۔ قریہ واسطہ کے اہل نہربان سے تعلق رکھتے تھے( مقدمہ مناقب المعروف)۔
قبولِ اسلام
علامہ ابن جوزی کے مطابق حضرت معروف کرخی کے ایک بھائی تھے جس کا نام عیسیٰ تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دونوں بھائی چھوٹے تھے۔ عیسائی مذہب پر تھے۔ اور استاد بچوں کو تین خداؤں کے بارے میں تعلیم دیتا تھا۔ تو میرا بھائی معروف اس کی اصلاح کرتے ہوئے کہتا تھا۔ اَحَدٌ، اَحَدٌ۔ تو اس بات پر استاد ان کی خوب پٹائی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن حسبِ معمول اصلاح کی تو ان کی سخت زدوکوب کیا گیا اور اُن کے منہ پر تھپڑ مارے گئے۔ تو وہاں سے بھاگ نکلے اس کے بعد آپ کی والدہ اس وقت روتی ہوئی پکارتی تھی اگر اللہ تعالیٰ معروف کو واپس لٹائے تو وہ جس دین پر قائم ہوگا ہم اس کی پیروی کرلیتے(8)۔ چنانچہ جب آپ گھر سے بھاگ کر کرخ پہنچ گئے تو خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہاں حضرت امام علی رضا علیہ السّلام سے ملاقات ہوگئی اور ان کے دستِ اقدس سے مکمل دائرہ اسلام میں داخل ہوا۔ اور آپ سے چند کلمات سیکھے یعنی اسلام کی بنیادی تعلیمات حاصل کیں۔ پھر اُن سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔
والدین
حضرت معروف کرخی کے والدین بغداد کے عیسائی تھے۔ کتاب سلسلۂ ذہب کے مؤلف بزرگ نے ان کی ابتدائی زندگی کے حالات میں ایک نہایت لطیف واقعہ مندرج فرمایا ہے کہ آپ کے ماں باپ بغداد کے عیسائی تھے۔ انہوں نے آپ کو ایک پادری کے سپرد کیا تاکہ آپ کو علم اور رہبانیت کی تعلیم دے۔ آپ ابھی بچے تھے۔ استاد آپ سے کہتا ہے ۔ کہو ثالث، ثلاثہ (یعنی خدا تین میں سے ایک ہے)۔ معروف حکم عدولی کرتا اور کہتا بل ھُوَ اِلٰہٌ وَاحِدٌہے۔ تو اس پر ان کے استاد نے خوب زدوکوب کیا۔ تو آپ وہاں سے چلے گئے جس پر آپ کے ماں باپ یہ کہتے رہ گئے کہ کاش معروف واپس آجاتا۔ چاہے وہ جس کسی دین پر چلے ہم اس کی موافقت اختیار کریں گے۔ اور معروف بغداد سے نکل کر خ پہنچ گئے (9)۔
والدین کا قبولِ اسلام
حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے شرف ِملاقات حاصل کرنے کے بعد آپ انتہائی خوشی ومسرّت کے عالم میں اپنے ماں باپ کے پاس واپس آئے اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو پوچھا گیا ! کون ہو؟ تو آپ نے فرمایا ’معروف ہوں‘۔ پوچھا گیا ۔’کس دین پر ہو‘؟ تو جواب دیا ’اسلام پر‘۔ تو آپ کے لئے دروازہ کھولا گیا۔ اور اپنے ماں باپ سے ملے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر آپ نے اپنا سارا واقعہ بیان کیا تو ماں باپ بھی کہنے لگے کہ چلو ہم بھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے پاس چلتے ہیں ۔اور اُن کے ہاتھ پر مسلمان ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آئے اور ان کے ہاتھ پر دونوں مسلمان ہوگئے۔ تو حضرت معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے یہ سعادت عطاکردی تھی کہ وہ خود دینِ اسلام سے فیض یاب ہوگئے بلکہ اپنے والدین کو بھی اسلام کی ہدایت سے بہرہ مند کردیا۔ اور ان کے اسلام لانے کے سلسلے میں آپ ایک ذریعہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔ چند سال بعد بھائی (معروف) واپس آگئے تو ان سے والدہ نے پوچھا کہ کون سے دین پر راضی ہو؟ کہا میں اللہ کے دینِ اسلام پر! پھر والدہ نے کلمہ پڑھا
اشھد اَن لا الہ الا اللّٰہ وحدہٗ لا شریک لہٗ واَشھد انّ محمد عبدہٗ ورسولہٗ میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
پھر اس طرح میری والدہ نے بھی اسلام قبول کیا(10)۔مناقب کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے والدہ نے معروف ہی سے کلمہ اسلام پڑھا اور ان کے والد نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ جامی لکھتے ہیں ان کے والد کا نام بعض فیروز بعض فیروزان اور بعض معروف بن علی الکرخی لکھتے ہیں (11)۔
ممکن ہے کہ معروف کرخی کے والدکے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد آپ نے ان کا نام علی رکھا ہو اورقبولِ اسلام کے بعد آپ کے والد کو علی کے نام سے پکارا جاتا ہو۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ اور آپ کے والد حضرت امام علی رضا ؑ کے دربان اور خادم رہے۔ اُن کی وفات کے بعد بھی سلسلہ خدمت منقطع نہیں کیا ان کے اہلبیت کے بھی دربان رہے ۔(12)
حضرت سید علی ہجویری لکھتے ہیں کہ ابتداء میں حضرت معروف غیر مسلم تھے۔ علی ابن موسیٰ الرضا کے ہاتھ پر ایمان لائے اور ان کی نظر میں بڑی قدر ومنزلت پائی۔ (13)
تعلیم وتربیت
مؤلفین کی اکثریت نے لکھا ہے کہ حضرت معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ کے استادوں میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی پاکیزہ شخصیت شامل ہے اور آپ کے ہی فیضانِ علوم وعرفان سے فیضیاب تھے۔ انہی کی نظرِکرم کی بدولت آپ کمالاتِ ظاہری وباطنی سے بہرہ وَر ہوگئے۔ علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت معروف کرخیؒ امام علی رضا ؑہی سے علومِ شرعی سیکھنے کے بعد طریقت، حقیقت اور معرفت کے علوم سے بھی بہرہ مند ہوگئے۔ اور آپ اس حد تک کمال کو پہنچے کہ آپ کے بعد آپ ہی روحانی اور معنوی خلیفہ بن گئے اور مریدین کو ہدایت وتبلیغ اور سالکین کی تعلیم وتربیت میں ایک خاص مہارت رکھتے تھے ۔ (14)
آپ نے امام رضا ؑکے علاوہ امام ابو نعیمؒ، حبیب عجمی ؒاور داؤد طائی ؒسے بھی تربیت پائی تھی۔ ان کی تعلیم وتربیت نے آپ کو اخلاق وکردار کی بلندیوں پر پہنچادیا تھا(15)۔ مولوی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے زمانہ کے دستور کے مطابق علمِ حدیث حاصل کیا ابو نعیم اصفہانی خود لکھتے ہیں معروف کرخی کو بہت سے علوم حفظ تھے مگر حفظ علوم نے روایات احادیث بیان کرنے سے روکا ہوا تھا۔(16)
بغداد کے مشہور عرفاء ِ کرام کے ناموں کی فہرست میں حضرت معروف کرخی، حضرت سرّی سقطی ؒاور حضرت جنید بغدادی ؒکے نام نامی آتے ہیں۔ یہ تینوں ہستیاں علمی رشتوں کے ساتھ ساتھ باطنی رشتوں اور تعلیم وتربیت کے سلسلوں میں کڑی بہ کڑی منسلک ہیں۔ بالترتیب حضرت جنید، سرّی سقطی کے اور سری سقطی معروف کے شاگرد ومرید اور خلیفہ ہیں لیکن علوم فنون کے حصول کے وسیلے سے اُن کے اساتذہ کی فہرست میں ناموں کے اضافے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس لئے صوفیائِ کرام کا معروف ومشہور روحانی سلسلہ عالیہ سلسلہ ذہب صوفیہ نوربخشیہ کے اندر بالترتیب ان کے نام پائے جاتے ہیں ان کی تعلیمات ، احوال اور روحانی تسلسل وروابط نیز ذکر وفکر کے انداز سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اُن کے درمیان کس حد تک کی قربت اور تعلق ہے۔ ان کا طریقۂ تصوف اوران کے نظریات بالکل یکساں ہیں گویا کہ اُن کے تمام فیوض وبرکات کا سہرا حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے سر ہے۔
صوفیائِ کرام جن تعلیمات میں ممتاز نظر آتے ہیں یہ ان علوم مأخذ حضرت علی ؑ کی ذات اقدس ہے۔ یہی ان کی آفاقیت اور معنوی مقامات تک رسائی کا سبب ہے۔ حضرت معروف کرخی بلا واسطہ ان علومِ امامت کے حامی وحامل ہیں جن کو حضرت امام علی رضا ؑنے اپنے آبا واجداد علیہم السلام سے منتقل کیا اور حضرت معروف کرخی ہی وہ جلیل القدر صوفی ہیں جنہوں نے اس ورثے کو دیگر مریدین اور خلفاء کی طرف منتقل فرمایا۔ ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر کے تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معروف کے مختلف ذرائع سے اساتذہ کی فہرست ملتی ہیں۔ موصوف لکھتے ہیں۔
ہمیں مختلف ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ معروف داؤد الطائی (متوفی ۱۴۵ھ) کے ہم جلیس تھے۔ اور داؤد طائی نے حبیب العجمی (متوفی ۱۲۰ھ) سے اکتساب کیا تھا انہوں نے حضرت حسن بصری (متوفی ۱۱۰ھ) سے اور حسن بصری نے حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ ( متوفی ۴۰ھ) سے اخذِفیض کیا تھا۔ لیکن روایت تصوف کا یہ سلسلہ کچھ زیادہ معتبر نہیں ہے۔ اس لئے مؤرخین ابھی تک یہ ثابت نہیں کرسکے کہ معروف کبھی داؤد الطائی کے رفیق رہے تھے۔ حبیب عجمی اور داؤد طائی سے ان کے تعلق کی تردید کے بعد ان کے اساتذہ کی فہرست میں ابو یعقوب مرقد السَّجَی (متوفی ۱۳۱ھ) کو شامل کرتے ہیں، موصوف جو اپنے وقت کے ایک مشہور زاہد مرتاض شخصیت تھے اور ساتھ ہی محدث بھی تھے اس سلسلے میں انہوں نے حضرت انس بن مالک، سعید بن جبیر اور دوسرے تابعین سے ملاقات کی ہے جنہیں رسول ﷺ کے صحابہ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا تھا (17)۔
ڈاکٹر موصوف نے مؤرخین کی قلابازیوں کو تفصیل سے لکھنے کے بعد اسی کتاب میں تمام سلاسلِ تصوف کو کمزور اور بے وقعت ٹھہرایا ہے۔ حضرت معروف علیہ الرحمہ کے بارے میں اتنی لمبی بحث میں ان کے صحیح سلسلہ کا تعین کرنے سے باز رہے اور ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر نے ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ نہیں کیا ۔ جہاں تاریخی شواہد کو جان بوجھ کر چھپانے کی کوشش کی گئی یا اُن کی نظروں سے علمی مواد کا قابلِ قدر حصہ چھوٹ گیا۔ یاد رہے رجالِ حدیث کی کتب بینی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ کا شمار رجالِ حدیث اور تصوف کے اجلہ اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان سے بہت سے حافظانِ حدیث نے روایات نقل کی ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک مخصوص طبقہ ان کو رجالِ حدیث میں شمار نہیں کرتا۔
مصر کے لکھنے والوں میں ڈاکٹر عبدالقادر حسن کے علاوہ پروفیسر ابو زہرہ مصری جنہوں نے حضرت امام احمد بن حنبل کی سوانحِ حیات پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے لیکن امام احمد بن حنبل کے اساتذہ کی فہرست میں حضرت شیخ معروف کرخی کا ذکر تک نہیں کیا ہے ان باتوں کی مزید وضاحت شیخ عباس قمی کے اظہارِ خیال سے ہوتی ہے۔ جسے آپ طرقِ احادیث کی بحث میں پڑھیں گے۔ علاوہ ازیں حضرت شیخ معروف کا خلیفۂ امام علی رضا ؑہونے کو بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ کمالِ بے اعتنائی سے تجاہلِ عارفانہ کا انداز اپناتے ہوئے دِکھائی دیتے ہیں۔ (خیال رہے کہ اولیائِ کرام صوفیائِ عظّام کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ احادیث بیان کرتے وقت عام طور پر بلا اسناد بلا ذکر مرویین کے بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ از خود علومِ نبوّت کے حقیقی وارِث ومحافظ ہیں۔ وہ کشتِ علوم میں بلا واسطہ معارفِ اسلام سے استنباط کرتے ہیں اور زمانۂ نبوت کے علوم وعرفان کے اسرارو رُموز اور حدیث کو اَلم نشرح کرنے میں کسی غیر کے محتاج نہیں ہوتے یہ لوگ حقیقی علمائِ ربّانی ہیں جن کو علم وفضل کے درجات من جانب اللہ تفویض ہوتے ہیں وہ ظاہری علمی وضع قطع کے پابند نہیں ہوتے تاہم شرعی اُمور کی وہ اس حد تک پابندی کرتے ہیں کہ چھوٹا سا اَدب بھی چھوٹنے نہ پائے) ۔ کرخی سلسلہ ہائے تصوف کی کڑیاں حضرت داؤد طائی کے ساتھ تعلق کے سلسلے میں رہنمائے کاملاں حضرت سید علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ یوںقمطراز ہیں کہ حضرت معروف ، سرّی سقطی کے استاد اور داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے (18)۔
اس بات کی تصدیق حضرت غوث المتاخرین سید محمد نوربخش رحمۃ اللہ علیہ بھی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کے آزاد کردہ غلام اور آپ کے دربان تھے ۔ آپ نے اپنے مالک (آقا) اور داؤد طائی کی صحبت حاصل کی اور انہوں نے آپ کے سلسلۂ ذہب کے پیش رو پیر ومرشد ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے اور اس سلسلے کو آپ کے شجرۂ طریقت کے عنوان کے ذیل میں شامل کیا گیا ہے(19)۔ حضرت معروف کے داؤد طائی کی رفاقت اختیار کرنے کی تائید حضرت شیخ عطار نے بھی کی ہے۔ دیکھئے تذکرۃ الاولیائ(20) سیدنا داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ تصوف کے سلسلے سے منسلک ہونے کا ایک ثبوت طریقہ اکبریہ یعنی سلسلہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی سے بھی ملتا ہے جس میں حضرت شیخ معروف کرخی کا سلسلۂ طریقت اس طرح ہے۔ سید المرسلین حبیب ربّ العالمین محمد رسول ﷺ ا ن کا مرید الامام مظہر العجائب علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کا مرید سیدنا الحسن البصری رضی اللہ عنہٗ، ان کا مرید سیدنا ابو محمد الحبیب العجمی رضی اللہ عنہٗ، ان کا مرید سیدنا معروف الکرخی رضی اللہ عنہٗ ان کا مرید سیدنا سری سقطی رضی اللہ عنہ، ان کا مرید سیدناسید الطائفہ ابوالقاسم جنیدالبغدادی رضی اللہ عنہ، ان کا مرید سیدنا سید ابوبکر محمد بن خلف الشبلی رضی اللہ عنہ، ان کا مرید سیدناعبدالعزیز ابن الحارث التمیمی رضی اللہ عنہ ، ان کا مرید سیدنا عبدالواحد رضی اللہ عنہ۔ یہ سلسلہ اوپر سے نیچے حضرت شیخ محی الدین محمد بن علی اندلسی دمشقی المشہور شیخِ اکبر تک جا پہنچتا ہے جو سلسلۂ اکبریہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے(21)۔
سلسلہ ہائے تصوف کی کڑیاں
علاوہ ازیں سلسلۂ سہروردیہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ حضرت شیخ داؤد طائی علیہ الرحمہ حضرت شیخ معروف کرخی کے روحانی استاد اور مرشد تھے۔ لیکن اس سلسلے میں آپ پانچویں مرشدِ حقیقت ہیں۔ اس سلسلے کی کڑیاں کچھ یوں ہے کہ حضرت شیخ معروف مرید تھے حضرت شیخ خواجہ داؤد طائی کے ، وہ مرید تھے حضرت خواجہ حبیب عجمی کے، وہ مرید تھے حضرت شیخ حسن بصری کے، وہ مرید تھے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب کے، وہ مرید تھے امام الفقراء خواجۂ کونین سید الثقلین امام القبلتین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے (22)۔
شیخ عباس قمی منتہی الامال میں لکھتے ہیں کہ مشہور یہ ہے کہ طریقت کے سلسلہ کا رأس ورئیس شیخ معروف ہے۔ کہتے ہیں ان کا طریقہ سری سقطی سے جنیدتک پہنچتا ہے (23)۔
صوفیائِ کرام کے سلسلوں میں بھی مختلف نسبتوں سے بعض ایک ہی نسبت سے حضرت جنید بغدادی تک پہنچتے ہیں اور اکثر ایسے سلسلے ہیں جن کی ابتداء حضرت جنید بغدادی سے ہوتی ہے وہ سارے کے سارے سلسلہ ہمدانیہ نوربخشیہ کی شاخیں ہیں۔ اس طرح بعض دیگر سلسلے نجم الدین کبریٰ تک پہنچ کر سلسلہ ذہبیہ سے جاملتے ہیں۔ بعض حضرت ابو نجیب سہروردی تک پہنچ کر سلسلہ ذہب سے جا ملتے ہیں۔ اس طرح نقشبندی سلسلہ تین واسطوں سے حضرت جنید بغدادی تک پھر سلسلۂ ذہب میں ضم ہوتا ہے۔ کل پانچ طرق پائے جاتے ہیں۔ حضرت سید علی ہجویری کا سلسلہ بھی آخر ابوالقاسم گورگانی تک ایک نسبت سے جا پہنچتا ہے دوسری حضرت جنید بغدادی تک پہنچ کر اسی سلسلۂ ذہبیہ میں مدغم ہوجاتا ہے۔ قادری سلسلہ بھی دو نسبتوں سے جاری ہوکر حضرت جنید تک جا پہنچتا ہے۔دوسری نسبت سے جاری شدہ سلسلہ حضرت امام حسن ابن علی تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کا ہے۔ چشتی سلسلہ حضرت حسن بصری تک جا پہنچتا ہے۔ باقی رفاعی سلسلہ بشر حافی کے واسطے سری سقطی سے پھر سلسلۂ ذہبیہ سے جا ملتا ہے۔ سلسلہ اویسی حضرت اویس قرنی کے دو واسطوں سے حضرت علی تک ۔ محاسبی سلسلہ حضرت شیخ معروف تک ۔ شازلی سلسلہ حضرت امام حسین ؑ تک۔ کمیلیہ حضرت علی تک۔ سلسلہ روزبھانی بایزید بسطامی کے واسطے سے حضرت جنید تک ۔ سلسلہ واسطی نجم الدین کبریٰ تک۔ کبروی سلسلہ تین طرق سے چلتا ہے ایک حضرت شاہِ ہمدان تک ،دوسرا حضرت جنید تک، تیسرا حسن بصری سے حضرت علی ابن ابی طالب تک جا پہنچتا ہے۔ سلسلہ سہروردیہ بھی دو طریقوں سے چلتا ہے ایک حضرت شہاب الدین عمر سہروردی کا ہے جو شیخ احمد غزالی تک پہنچ کر ذہبیہ سے جا ملتا ہے۔ دوسرا حضرت جنید تک پہنچ کر سلسلہ ذہبیہ میں شامل ہوتا ہے۔ ان سلسلوں میں سے اکثر حضرت جنید تک پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں اس لئے آپ کو سید الطائفہ کہا جاتا ہے۔ اور ان تمام سلسلہ ہائے تصوف کی انتہا حضرت علی علیہ السلام ہیں اس لئے آپ کو آدم الاولیاء کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ سلسلہ ہائے تصوف میں ایک ایسا سلسلہ بھی ہے جو حضرت ابو بکرؓ صدیق کے واسطے سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّمتک پہنچتا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت علی ؑکا نام نہیں ملتا۔ وہ واحد سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سلسلہ ہے۔ اور جو سلسلۂ تصوف ایران میں رائج رہا وہ حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی کا ہے۔ جس کا وجود ہندوستان میں بھی پایا جاتا ہے جو حضرت شیخ احمد غزالی تک جا پہنچتا ہے۔ اس کے بعد پھر سلسلہ ذہبیہ صوفیہ نوربخشیہ میں انضمام ہوتا ہے۔ کتاب سلسلۂ ذہب میں حضرت محمد نوربخشؒ لکھتے ہیں کہ صوفیہ سلسلوں میں ایک معروف سلسلہ اویسی ہے (جس کا ذکر ہوچکا) حضرت اویس قرنی سے منسوب ہے۔ حضرت شیخ بلخی کے مرید شیخ ابراہیم ادھم سے اور ان کی دو نسبتیں ہیں ایک شیخ زید بن موسیٰ راعی سے اور وہ شیخ اویس قرنی کے مرید تھے۔ اور آپ حضرت علی علیہ السلام کے مرید تھے (24)۔
حضرت شیخ عطار لکھتے ہیں کہ ابتداء میں شیخ ابوالقاسم گرگانی بھی اویسی تھے۔ بعض کہتے ہیں اویسی سلسلہ کے ماننے والوں کو پیر طریقت کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ ان کی بدولت ہر مرید اویسی بلاواسطہ فیوض آپ سے ہی حاصل کرتے ہیں یا آپ کے مریدوں کو خود فیض یاب کرتے ہیں (25)۔
تاھل وتزویج معروفؒ
ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اس عنوان کے تحت اوائل کتاب ہی میں کچھ بیان رقم ہوجاتا لیکن حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز کے روحانی کمالات بہت زیادہ اور تفصیل طلب تھے۔ جو دراصل قارئین کے حقیقی افادے کے لئے ضروری ہیں۔ انہیں پہلے ہی بالترتیب درج کرلیا گیاہے۔ اور پھر آپ عالمِ روحانی کے شہنشاہ تھے۔ دنیا سے بہت کم رغبت رکھتے تھے۔ جس کی بنیاد پر دنیاوی، جسمانی اور نجی معاملات اور مصروفیات کا تذکرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ چنانچہ اس جہانِ فانی میں رہتے ہوئے آپ نے اُخروی زندگی کو جتنی اہمیت دے رکھی تھی اس کے متعلق روایات پائی جاتی ہیں۔ ان آثار واحادیث اور واقعات کو درج کردینا آپ کی سوانح کا لازمہ سمجھوں گا۔ اس بارے میں ڈاکٹر عبداللہ الجبوری نے مناقب معروف واخبارہٗ کے مقدمہ میںاچھی تحقیق فراہم کی ہے۔ اسی کا ترجمہ نذر قارئین کیا جاتا ہے۔ حضرت شیخ معروفؒ نے شادی نہیں کی تھی۔ جس پر آپ نادم پائے گئے۔
کہتے ہیںکہ وفات کے بعد کسی نے خواب دیکھا آپ اس بات پر ندامت کا اظہار کررہے تھے کہ انہوں نے دنیامیں شادی نہیں کی۔ آپ فرماتے تھے کہ میں شادی کرچکا ہوتا تو مجھے زیادہ پسند کیا جاتا۔ یہاں حضرت انسان کی عیالداری اور تاہل کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ جس کو ایک کامل انسان کے کمال نے بھی حسرت سے دیکھا۔ انہیں بھی جنت کے باغات میں ہمدمِ تفریح کا احساس ہوا۔ پیارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت پر قربان جاؤں کہ اس کی کتنی فضیلت پائی جاتی ہے اور حضرت معروف قدس سرہ العزیز باغِ فانی میں جولان کرتے ہوئے نغمہ سرا ہیں۔
دنیا بھی کوئی چیز ہے دل لگی کرے
دنیا میرے دین کے ارمان سے رہ گئی

کسی بھی نام سے جنت میں رچاؤں گا
وہ شادی جو میری داستان سے رہ گئی
(انور الکوروی)
کسی عرفانی شاعر نے خوب فرمایا کہ :
گر وصل نمی شود میسر
درد تو مرا بس است اے یار
اگرچہ ملاقات تو میسر نہیں ہے اے یار بس تیرا غم ہی میرے لیے کافی ہے ۔
آپ سابقہ بیانات میں ایسی ایک جگہ روایت پڑھ چکے ہیں جیسے حضرت شیخ معروف الکرخی قدس سرہ کا کوئی بیٹا تھا اور حسن بن معروف الکرخی نے بیان کیا ہے۔ بیانات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کی کنیت ابوالحسن اور ابومحفوظ ہیں یا کہیں حسن بن معروف بیان کیا گیا ہے۔ یہ دراصل محض غلطی سے نسبت کی گئی ہے اور یہ بھی زعم گزرتا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ کی کنیت عوام الناس میں ابو محفوظ مشہور ہوئی ہے تو ان کا بیٹا محفوظ بھی ہے۔ مگر کنیت یہ بھی اتفاقی اور روحانی محل پر مبنی معانی رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یوں ہے کہ اولیاء اللہ چونکہ گناہوں، خطاؤںاور معاصی سے محفوظ ہوتے ہیں ممکن ہے آپ نے نفسانی خواہشات اور مالوفات سے بالکل رغبت نہ ہونے اور معاصی سے محفوظ ہونے کی بناء پر کنیت اپنی چاہت سے ابو محفوظ رکھی ہو۔ یہی شانِ قلندری پر کھلی شہادت ہے۔ حضرت شیخ معروف کرخی کے ابتدائی حالات میں ہم لکھ چکے ہیں کہ بعض نے آپ کی کنیت ابو الحسن بھی لکھی ہے۔ شک گزرتا ہے کہ آپ کی اولاد بھی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ حسن نامی آپ کا کوئی فرزند نہیں تھا۔ البتہ آپ کے بھائی کے بیٹے کا نام حسن تھا جسے عام طور پر لکھنے والے حسن بن اخی معروف لکھتے ہیں۔ راوی کو اخی معروف لکھنے میں سہو ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے حسن بن معروف لکھا گیا ہے۔ انہوں نے دنیاوی غم فکر پر اُخروی فکر کو ترجیح دی اور ابدی حیات کی کامیابیوں کے زینے چڑھتے رہے۔ آپ بارگاہِ ربّ کریم کے وہ گدائے کرم تھے جنہیں پروردگار نے دماغِ سکندری عطا کیا۔ دوامی زندگی کی صبح کے انتظار میں موت کو اختتامِ زندگی نہیں سمجھا۔ اس لئے ان کی ازدواجی زندگی کے جذبات ہی شاید خوابیدہ رہے اور جوانی کی موجیں بھی طفل شیر خوار کی طرح زندگی کے گہوارے میں محو خواب رہیں۔ اگر فرضِ محال کسی نے اس بیان شدہ روایت کو ان کے کسی بیٹے سے منسوب کیا ہے تو بھی یہ کسی عقیدتمند کا کارنامہ ہوگا جس نے عدم تاہل وتزویج کی قباحت کی پردہ پوشی کی نیت سے سرانجام دیا۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

علم وفضل
حضرت معروف کرخی قدس سرّہٗ العزیز کا شمار اگرچہ اولیاء میں ہوتا ہے۔ وہ زیادہ تر اسی حیثیت سے روشناس ہیں۔ لیکن وہ علمِ لدنّی اور معرفتِ روحانی کے علاوہ علمِ ظاہری میں بھی کم مرتبہ نہ تھے۔ چنانچہ علامہ خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن معین اور حضرت احمد بن حنبل جیسے حافظانِ حدیث ان کے پاس آکر مسائل اور احادیث نقل کرتے تھے۔ لیکن حق یہ ہے کہ جس کا آئینہ قلب جمالِ حقیقت کی ضیاء باریوں سے عکس پذیر ہورہا ہو اس کے لئے علومِ رسمیہ اور ظاہریہ کی اہمیت ثانوی ہوکر رہ جاتی ہے۔ اگرچہ اس میں ظاہری اعتبار سے کچھ کمی پائی بھی جائے تو کمالاتِ معنوی وروحانی کے مقابلے میں وہ چنداں قابلِ اعتبار نہیں ہے۔
چنانچہ ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کے صاجزادے نے اپنے پدرِبزرگوار سے پوچھا کہ کیا حضرت معروفؒ عالم بھی تھے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا اے بیٹے!
کَانَ مَعَہٗ رَأسُ الْعِلْم خَشْیَۃُ اللّٰہ۔ ان کے پاس علم کی جڑ تھی یعنی خدا کا خوف ۔
حضرت معروف کرخی قدس سرّہٗ العزیز کا شمار اگرچہ علماء ومحدثین میں کم ہے۔ لیکن درحقیقت وہ علم کا ناپیدا کنار سمندر اور روحانیت ومعرفت کے ایسے کامیاب شناور تھے کہ ان کی اس صفت کے کمال کی وجہ سے ان کا شمار کبّار اولیائِ کرام میں ہوتا ہے۔ ان کی نظر حقیقت آشنا تھی۔ جس میں مجاز کے حجابات حائلِ راہ نہیں ہوسکتے تھے۔ ان کا علم قیاس وتخمین کی حد بندیوں سے بہت بلند اور ایمان ویقین کی طمانیت بخشیوں سے صد آفتاب درکنار تھا۔ چنانچہ وہ حضرت امام علی بن موسیٰ رضا کے غلام اور دربان تھے (26)۔
حضرت سید علی ہجویری لکھتے ہیں کہ ابو محفوظ معروف بن فیروز الکرخی قدمائے مشائخ کبار میں شمار ہوتے ہیں۔ حلیمی طبع اور خلوص طاعت کے لئے مشہور ہیں (27)۔
حضرت شاہ سید محمد نوربخشؒ لکھتے ہیں۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے علومِ شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے سیکھے۔ اور آپ کے بڑے خلفاء میں سے تھے۔ جو مریدین کو ارشاد کرتے اور آپ سالکین کی تربیت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے (28)۔
حضرت معروف کرخی قدس سرّہٗ العزیز فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں کوفہ میں کہیں جارہا تھا۔ تو ابن سماک کو دیکھا وہ لوگوں کو وعظ کہہ رہے تھے۔ تو میں بھی وہاں ٹھہرگیا۔ آپ نے دورانِ وعظ کہا۔ جو شخص پوری طرح اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی پوری طرح اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ اور جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اللہ تعالیٰ بھی اپنی رحمت سے اس پر متوجہ ہوتے ہیں۔ اور لوگوں کا رجحان اس کی طرف کردیتے ہیں اور جو کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی کبھی کبھی یہ رحمت کرتے ہیں۔ تو ان کا کلام میرے دل میں بیٹھ گیا۔ اور میں نے اللہ تعالیٰ کی طر ف توجہ کی اور سوائے اپنے آقا امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت کے دیگر تمام چیزوں کو چھوڑدیا۔ اور میں نے اپنے آقا سے ابن سماک کا یہ وعظ بیا ن کیا۔ تو آپ نے فرمایا اگر تم نصیحت حاصل کرنا چاہو تو یہی نصیحت کافی ہے۔ اور حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرّہٗ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا کہ
وَمَنْ یُّؤتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْراً کَثِیْراً کہ ’ اللہ تعالیٰ جس کو حکمت عطا فرمائی تو یقینا اس نے خیر کثیر کو پالیا‘ جس کے اعمال اچھے ہوتے ہیں اس کے دل میں حکمت نازل ہوتی ہے۔
اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی زبان کو (لوگوں کی) مدح سے اس طرح بچائے رکھو جس طرح مذمت سے بچائے رکھتے ہو۔ اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اس پر عمل کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ اور اس پر جھگڑے کا دروازہ بند کردیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے متعلق برائی کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اس پر عمل کا دروازہ بند کردیتے ہیں اور جھگڑے کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر عارفین کے دِلوں سے دُنیا کی محبت نہ نکال دی جاتی تو وہ اطاعت بجالانے کی طاقت نہ رکھتے۔ اور اگر دُنیا کی محبت کا ایک ذرّہ بھی ان کے دِلوں میں ہوتا تو اُن کا ایک سجدہ بھی صحیح نہ ہوتا۔
حضرت معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ تمام علومِ متداولہ میں مہارت تامّہ رکھتے تھے۔ قرآن وحدیث، فقہ واصول اور شریعت وطریقت نیز حقیقت ومعرفت میں یدِطُولیٰ رکھتے تھے۔ اور تمام علومِ ظاہری وباطنی میں بلند مرتبہ کے حامل تھے۔ آپ ایک ولی کامل مرشد حق شناس ہونے کے علاوہ ظاہری اخلاق وکردار میں اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔ آپ کی حیثیت ومرتبہ کا سبھی کو اعتراف تھا۔ اور حتیٰ کہ یہود، نصاریٰ بھی آپ کی علمی اور روحانی وجاہت کے مداح تھے۔ اپنے زمانہ میں فضل وکمال میں بے مثال درجے پر پہنچے ہوئے تھے ان کے مقام کو کبار اولیاء بخوبی جانتے تھے۔ اور وقت کے بڑے بڑے مرشدین ان کا ذکرِ خیر کرتے پائے گئے ہیں۔ چونکہ آپ آسمانِ فقروسلوک پر درخشندہ خورشید کی مانند طلوع ہوئے اور فرزندانِ فقر وتصوف کے دِلوں پر مسلسل چمکتے دمکتے رہے۔ اور مرجعِ خلائق بن گئے۔ یوں روحانی سلطنت کے والی متوالی کی حیثیت اختیار کرگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ تمام مذاہب واَدیان میں برابر شہرت ومنزلت رکھتے تھے اور آپ مستجاب الدعوات تھے (29)۔
حضرت امام غزالی فرماتے ہیں کہ حضرت جنید ان کے ماموں سرّی سقطی اور شیخ معروف کرخی کی سنت کے بتائے ہوئے انسانی سلوک کے قوانین کی اہمیت کو ضرور تسلیم کرتے تھے لیکن ان سے زیادہ ان کی توجہ کا مرکز مقامِ الوہیت کا ایک مؤثر لازوال اور غالب شعور تھا (30)۔
صوفیاء کرام کے ہاں اس امام سے مراد وہ صاحب امامت حقیقی ہے جن کی حقیقی معنوں میں عالم ربانی اور عارف صمدانی سے تعبیر کی جاسکتی ہے اور دراصل اسلام کی روحانی دنیا کا وہ امام اور عارف زمانہ ہے جو خلافت نبویہ کا باطنی محافظ اور وارث ہے۔ چنانچہ حضر ت میر سید محمد نوربخش اس حقیقت سے یوں پردہ کشائی کرتے ہیں کہ :
اما خلیفتہ الباطنیہ فھی کل علماء الربانین وکل راسخین فی العلم وکل مرشد السالکین الی اللہ فانیافی اللہ باقیاباللہ سیاراً فی الملکوت طیارا فی ا لجبروت مجتھد اً فی الشریعۃ مجاہداً فی الطریقۃالی الحقیقۃ بعلم الیقین عین الیقین وحق الیقین وھم وارثو علم النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم و خلفائہO
کما قال النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم العلماء ورثہ الانبیاء و قال علیہ الصلوۃ والسلام اللھم ارحم خلفائی فقیل من خلقائک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فقال الذین یاتون من بعدی یراؤن احادیثی و سنتیO
و قال علیہ الصلوۃ والسلام علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل (مشجرالاولیاء ج۔۱ ص ۶۱)
اور باطنی خلیفہ وہ ہر ایک ربانی عالم ہے۔ ہر ایک راسخ فی العلم اور ہر ایک مرشد جو مسالکین کو اللہ کی راہ دکھائے اللہ میں فانی اور اللہ سے باقی ہو۔ ملکوت میں سیر کرنے والا ہو جبروت میںاڑنے والا ہو۔ شریعت میں مجتھد ہو، طریقت میں مجاہدہ کرنے والا ہو ، علم الیقن عین الیقین اور حق الیقین سے حقیقت تک پہنچ چکا ہو اور یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علم کے وارث ہیں اور ان کے حلفاء ہیں۔ جیساکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے علماء نبیوں کے وارث ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میرے خلفاء پر رحم کر تو پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں تو فرمایا کہ وہ جو میرے بعد آئیں گے اور میری احادیث اور سنت کو بیان کریں گے اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔
حضرت علی ؑ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد:
یوم تدعوا کل اناس باماھمکی تفسیر میں فرمایا ہے کہ جس نے دنیا میں اپنے امام کو نہیں پہچانا وہ آخرت میں بھی اس کو نہ پہچانے گا (مشجر الاولیا ص۲۶۰)۔
مسندِ ارشاد
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ حضرت معروف کرخی قدس سرّہٗ العزیز حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے تمام علومِ ظاہری وباطنی حاصل کرکے فقر وتصوف کی کمال بلندیوں کو چھوگئے تھے اور دُنیا کی ہر چیز کو چھوڑ کر امام موصوف کی خدمت میں مصروف ہوگئے اور ان سے فیوض وارشاد لینے میں سرگرم رہے ۔ آپ کے مناقب وفضائل بہت زیادہ ہیں جن کا تذکرہ بعد میں کریں گے۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام بھی آپ کے باطنی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے شفقت وکرم سے پیش آتے رہے۔ آپ امام کے ہاں بہت عزیز اور محبوب تھے۔ اس بات کو حضرت سید علی ہجویریؒنے بھی بخلوصِ دل قبول فرمایا ہے۔ آپ امام علی رضا علیہ السلام کے رازدانِ معرفت اور اَسرارِ روحانیت کے امین تھے۔ امام ؑ کی خصوصی توجہ سے آپ بلند اَرفع واعلیٰ روحانی مقام پر فائز ہوگئے تھے (31)۔
حضرت میر سید محمد نوربخش لکھتے ہیں۔
واخذ منہٗ علم الطریقۃ والحقیقۃ والمعرفۃ بعد الفراغ من العلوم الشریعۃ کان من خلفائہٖ العظام لارشاد المسترشدین ولہ فی الادب وتربیۃ السالکین شان۔
حضرت معروف کرخی ؒ نے حضرت امام علی رضا ؑ سے علمِ شریعت کے حصول کے بعد علمِ طریقت، حقیقت اور معرفت بھی حاصل کیا۔ آپ ان کے بڑے خلفاء میں سے ایک ہیں جن کو مریدین کے ارشاد اور سالکین کی تربیت وتعلیم اور آداب کے سلسلے میں ممتاز مقام حاصل تھا۔(32)
اس لئے سلسلہ عالیہ صوفیہ نوربخشیہ (جوکہ سلسلۂ ذہب سے پہچانا جاتا ہے) میں آپ سلسلۂ ارشاد وبیعت کے دسویں پیر اور مرشدِ حقیقی ہیں، اس طرح آپ اپنے زمانہ کے قطب تھے۔ اور مرشد معنی نگاہ عارفِ واصل ومتواصل، کامل، مکمل انسان تھے۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بعد آپ مسندِ ارشاد پر فروکش ہوئے اور منصب کے لحاظ سے امامِ بیعت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ خود حضرت معروف کرخی فرماتے ہیں ۔
کہ صوفی ایں جا مہمان است تقاضائے مہمان بر میزبان جفا است مہمان کہ باادب بود منتظر بود نہ متقاضی (33)۔
صوفی دُنیا میں خدا کے مہمان ہوتے ہیں اور مہمان کا میزبان سے تقاضا کرنا ناانصافی ہے۔ مہمان ہمیشہ با اَدب ہوا کرتا ہے۔ انتظارِ رحمت کرے گا نہ کہ جلد بازی۔
چنانچہ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ تربیتِ سالکین کے سلسلے میں آداب وسلوک کا سختی سے اہتمام فرمایا کرتے اور لوگوں کے رُشد وہدایت کے لئے مناسب رویہ اختیار فرماتے تھے۔ جو نہایت حکمت ومعارف پر مبنی ہوا کرتا تھا۔ ایسے اولیائِ کرام کا وجود ساکنینِ سطحِ اَرضی کے حق میں نہایت سازگار اور نہایت نیک فال ہوا کرتا ہے۔
حضرت شاہ سید محمد نوربخشؒ نے اس حقیقت کا بدیں الفاظ اظہار فرمایا ہے۔
لَوْلَا الْاَبْرَار لَھَلَکَ الْفُجَّار۔ اگر زمین میں اولیائِ کرام موجود نہ ہوتے تو گنہگاروں کی تباہی یقینی ہوجاتی۔
چنانچہ یہی لوگ دراصل حقیقی معنوں میں انبیائِ کرام علیہم السّلام کے وارث ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی امّت میں ان اولیائِ کرام کی تعداد تین لاکھ سے بڑھ کر ہے۔ دُنیا اُن کے فیوض وبرکات سے ایک لمحہ کے لئے خالی نہیں رہ سکتی(34)۔
ان اولیائِ کرام سے ہی عوام الناس تمسکِ حق وتقلیدِ مذہب کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ چنانچہ قطب الاولیاء حضرت ابوالحسن الامام علی الرضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں۔
لوخلت الارض طرقۃ عین من حجۃ الساخت باھلھا۔ ’اگر زمین ایک ساعت برابر کسی حجت سے خالی ہوتی تو زمین والے ہلاک ہوجاتے۔‘
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
لو بقیت الارض بغیر امام لساخت باھلھا۔ ’اگر زمین بغیر امام کے رہ جائے تو زمین والوں کو یہ ہلاک کردیتی۔‘
اسی طرح حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’ اگر زمین سے امام رفع کیا جائے تو زمین اپنے لوگوں کو ہلاک کردے گی جس کو سمندر بہاکر لے جائے گا۔‘
ان تمام احادیث کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ دُنیا ہر وقت ایک انسانِ کامل کی خلافت سے خالی نہ ہوگی جس سے انسانیت کو رہنمائی ملتی ہو (35)۔
اور اسی ضمن میں یہ حدیث بھی مروی ہے کہ:
ومن مات ولم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ (36)۔
تاہم ان احادیث کے اطلاق میں لوگوں کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ صوفیائِ کرام کے نزدیک اس کا اطلاق تمام اولیائِ عظام پر ہونا ثابت ہے۔ جس کی حدیث لَوْلَا الْاَبْرَار لَھَلَکَ الْفُجَّار سے ہی تصدیق ہوتی ہے۔
نسبت کے دو طریق
حضرت میر سید محمد نوربخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرّہٗ علمِ طریقت اور اخذِخرقہ میں صحبت کی نسبت کے دو طریقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک تو اپنے مولا امام علی رضا علیہ السلام سے اور وہ اپنے آباء واجداد سے (بالترتیب) محمد ﷺ تک متصل سلسلہ سے بغیر کسی فصل کے حاصل کرتے ہیں۔(اور یہ طریق سلسلۂ ذہب المعروف صوفیہ نوربخشیہ کا ہے) اور دوسرا طریقہ حضرت داؤدطائی قدس سرّہٗ سے ہے اور وہ شیخ حبیب عجمیؒ سے اور وہ حضرت خواجہ حسن بصری سے اور وہ حضرت سید الاولیاء علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ سے مستفیض ہوتے ہیں اور وہ آنحضرت سید الانبیاء محمد مجتبیٰ ﷺ سے فیض حاصل کرتے ہیں (37)۔
حضرت شیخ عطار رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مدت تک حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر ریاضت وعبادت کی (38)۔
حضرت میر محمد نوربخش رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی اس روحانی اور سلسلۂ خلفاء کی نسبت کا یوں اظہار فرمایا ہے۔
نسبتِ او بہ شیخِ معروف
کہ بہ اوصاف صدق موصوف
نسبت او بہ مقتدائی امام
شاہ علی رضا امامِ ہمام
(34)
دراصل نسبت کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں توفیقی عمل دخل ہے اس لئے یہاں مزید کچھ لکھنا مناسبِ حال معلوم نہیں ہوتا۔ سلسلۂ خلف وخرقہ اور بیعت وارشادِ عرفانی حضرت امام علی رضا ؑ کے بعد آپ سے ہی چل نکلا جو کہ آپ کو اپنے مرشد ومولیٰ نے حسبِ منشائِ ربّی عطا کیا اسی پر تاریخی، علمی اور عرفانی شواہد بھی موجود ہیں۔ معروف شیعی مؤرخ ومحدث شیخ عباس قمی ؒ لکھتے ہیں ۔ کہ حضرت شیخ معروف بن فیروز کرخی نے،جو طریقت والوں میں سے ایک ہے، بغداد میں وفات پائی کہاگیا ہے کہ اس کے ماں باپ نصرانی تھے۔ اور وہ امام رضا علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ مشہور ہے کہ طریقت کے سلسلے کا رأس ورئیس (حضرت شیخ) معروف ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کا طریقہ سرّی سقطی تک پہنچتا ہے۔ اس کا جنید تک اس کا شبلی تک اور اسی طرح کہتے ہیں کہ معروف امام علی رضا ؑ بن موسیٰ کا دربان تھا۔ لیکن مخفی نہ رہے ۔ کہ امام صادق علیہ السلام اور ان کے بعد کے آئمہ رجال میں سب کتبِ رجال اس کے ذکر سے خالی ہیں۔ اور اگر یہ ایسا ہوتا تو شیعہ علماء کتبِ رجال میں اسے نقل کرتے حالانکہ انہوں نے رطب یابس اصحاب آئمہ، ان کے خواص، ان کے خدام وموالی ممدوح ہوں یا مذموم کسی کو نہیں چھوڑا اور کم از کم عیون اخیارِ رضا ؑ میں ان کا ذکر ہوتا (احسن المقال)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ظالم دنیا نے ایسے عظیم اسلامی سپوت کے ساتھ کیا کیا۔ اسلامی دنیا کا ایک علاقہ حضرت شیخ معروف علیہ الرحمۃ کو رجالِ حدیث کی صفوں سے خارج سمجھتا ہے۔ لیکن دسویں ہجری کے مشہور شیعہ مورخ قاضی نور اللہ شوستری نے حضرت معروف کرخی کا تفصیلی تعارف لکھا ہے۔ انہوں نے آپ کو اولیا صوفیہ گردانتے ہوئے صوفیہ بغداد کا استاد ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اپنی مشہور کتاب میں حضرت شیخ معروف الکرخی کے متعلق ملنے والے معلومات فراہم کئے ہیں جنہیں وہ بغیر کسی کتابی حوالے کے لکھتے ہیں کہ شیخ معروف حضرت سری اور جنید کے استاد ہیں۔ وہ طبقہ اولیٰ کی انتہا ہیں جبکہ سری اور جنید طبقہ ثانیہ میں شمار ہوتے ہیں(مجالس المومنین)۔
دوسری جانب عبدالقادر حسن مقدمہ ابن خلدون کے حوالے سے حضرت معروف کے صرف دو سلسلوں کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت معروف مرید ، حضرت دائود طائی کے وہ مرید حبیب عجمی کے وہ مرید حسن بصری کے وہ مرید حضرت علی ابن ابی طالب کے اس سلسلے کو کمزور اور مشتبہ قرار دینے کے بعد دوسرے سلسلہ جو حضرت علی رضاؑ سے اوپر حضرت علیؑ تک جا پہنچتا ہے ، کے بارے میں تحریر کرتا ہے کہ بظاہر دیکھا جائے تو یہ دوسرا سلسلہ پہلے کی نسبت زیادہ قابل تسلیم نظر آتا ہے لیکن تاریخی اعتبار سے ان میں سے کوئی بھی قابل قبول نہیں۔ کوئی قرائین شہادت ان استادوں اور شاگردوں کی صحبت کے بارے میں نہیں ملتی اور نہ علمی و ادبی قسم کی مشابہت ہی اس کے ثبوت میں مہیا کی جاتی ہے۔ صوفیہ کے یہ سلسلے درحقیقت بہت بعد کے زمانے میں ان کی سند کا یقین دلانے کے لیے مرتب کیے گئے تھے ایک مورخ کے لیے یہ سلسلے بہر صورت کوئی خاص اہمیت کی چیز نہیں( جنید بغداد ۵۴) اور ساتھ ہی مذکورہ کتاب کے حاشیہ میں بحوالہ ابن خلدون (ج۔۲ ص۱۲۴) لکھتا ہے یہاں تک کہ انہوں نے خرقہ پوش کی سند بھی یہ نکالی ہے کہ حضرت علی ؑ نے یہ خرقہ حسن بصری کو پہنچایا تھا اور ان کو ہدایت کی تھی کہ اپنے بعد یہی طریقہ جاری رکھنا۔ چلتے چلتے یہ رسم حضرت جنید تک پہنچی لیکن اس معاملہ کی صحیح حقیقت کسی کو معلوم نہیں (جنید بغداد ۷۷)۔
مندرجہ بالا سطور سے یقین ہوتا ہے کہ مورخین ہوں یا متتابعین صوفیہ کرام کی ذوات گرامی سے انصاف نہیں کیا بعض کو ان کے سلسلوں سے بعض کو ان کی ذات اقدس سے تغیر تھا جس کے بارے حقائق فراہم کرنے سے اس لیے کترائے ہوں گے کہ اولیاء کرام صوفیاء عظام کے متعلق ان کے ذاتی جذبات مناسب نہیں تھے ۔ ورنہ حضرت معروف کرخی جیسے بزرگ کے متعلق جانبین کے قلمکاروں نے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ کوئی ان کے سلسلے کو وقعت ٹھہراتے ہیں اور کوئی ان کو صف رجال سے نکال باہر کرتے ہیں ۔ ان کے امام علی رضا ؑ کے شاگرد ہونے کی صراحت نہیں کرتے۔ ان کے متعلق تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کرتے ہیں حالانکہ شیخ معروف اتحاد بین المسلمین کے سنگم پہ کھڑے ہیں ، ولی کامل ہیں حب اہلبیت کو قرآن و سنت سے اور علم و عرفان اور شریعت و طریقت کو امام رضا ؑ کے درفیض سے پانے کی گواہی دیتے ہیں۔ جبکہ لوگ انہیں ذاتی اوزان میں رکھتے ہیں جو دراصل ظالم دنیا کی ناانصافی کی واضح دلیل ہے۔ محل نزاع اور اغماض کی کوئی وجہ نہیں لیکن شیعی علماء حضرت شیخ معروف کو سنی سمجھتے ہیں اور ان کو حضرت امام علی رضاؑ سے کڑی ملانے پر تامل ہے بلکہ ان کو رجال حدیث سے خارج گردانتے ہیں اور دوسری جانب ابوزہرہ مصری جیسے لوگوں کو حضرت معروف کا نام و نشان نہیں ملتا ہے۔ امام احمد بن حنبل کے اساتذہ میں نام شامل نہیں کرتے جبکہ روایت حدیث میں حضرت معروف امام احمد بن حنبل کے استاد ہیں اور رجال حدیث میں وہ اعلیٰ و ارفع مقام رکھتے ہیں۔ آپ اس مضمون کو آئندہ صفحات میں پڑھیں گے۔ حضرت علی ہجویری نے وضاحت سے لکھا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے کئی مشائخ سے مصاحبت اور ذوالنونی مصری ، بشر حافی ، سری لسقطی اور معروف کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ ان کے علاوہ حضرت امام احمد غزالی ؒ حضرت معروف کی بہت تعریف کرتے ہیں۔
بغدا د کے مشہور عالم ابن الجوزی نے حضرت معروف کی مقدس سوانح عمری پر مبنی ’مناقب معروف‘ تالیف کے اور کئی دیگر کتابوں میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور تاریخ بغداد ذکر معروف کے بغیر نامکمل لگتی ہے ، ادھر ابو زہرہ مصری کو شیخ معروف کے وجود کا اتہ پتہ نہیں ہوتا ایسے لوگوں پر اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
میں نے تو کیا پردئہ اسرار کو بھی چاک
دیرینہ ہے تیرا مرض کور نگاہی
اساتذہ وشیوخ
حضرت شیخ معروف ؒ کے اساتذہ اور شیوخ کا تذکرہ سابقہ بیانوں میں وضاحت کے ساتھ ہو چکا ہے۔ تاہم جن اساتذہ کرام اور مشائخِ عظام کے علوم وفیوض سے آپ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ان بزرگواروں کے شخصی وقار اور علمی مرتبوں سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت شیخ معروفؒ کی پاکیزہ حیات کی تشکیل میں کون کون سے اہلِ علم ومعرفت کا ہاتھ ہے۔ اور وہ اس مقام کے اخلاق وکردار سے کیونکر متصف ہوئے اور کمالات کے آسمان کا درخشندہ خورشید بن گئے۔ تصوف وسلوک کے شیخ المشائخ بنانے میں کن کن کا فیضانِ نظر شامل ہے۔ ہم بتاچکے ہیں کہ آپ کے مشائخ ومرشدین کی لمبی فہرست موجود ہے لیکن جن مشاہیر اولیائِ عظّام سے بلاواسطہ علم واَدب حاصل کئے اور شریعت وطریقت کے اصول وقوانین سیکھے ان کے اسمائِ گرامی میں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا ؑ، حضرت شیخ حبیب عجمیؒ، حضرت شیخ داؤد طائیؒ، حضرت ابو نعیم اصفہانی ؒاور حضرت شیخ ابن السماکؒ قابلِ ذکر ہیں۔ چنانچہ حضرت شیخ معروف کے اساتذہ ومشائخ کا مختصراً سوانحی خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے تاکہ قارئین کو آپ کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے عناصر کا بھی علم ہوجائے اور یہ معلوم ہوسکے کہ آپ کے اساتذہ کرام کی علمی وعرفانی حیثیت کیا تھی۔ مکتبِ تصوف میں ان کا مقام کیا تھا اور ان کی کون کون سی علمی واسلامی خدمات ہیں جن سے اہلِ اسلام کو فائدہ پہنچا (14)۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام
حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام علومِ نبوت کے حقیقی وارث اور آٹھویں جانشین، اہلِ تصوف کے امامِ، شریعت کے رہنما، طریقت کے مرشد معنی نگاہ ہیں۔ علومِ ظاہری وباطنی میں کامل دستگاہ حاصل تھی۔ امامت کے ساتویں کڑی سلسلۂ تصوف کے سونے کی زنجیر سے منسلک نویں ولی اللہ، عصمت وعفت کے گیارہویں برج تھے۔ آپ کے والد ماجد حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تھے۔ تمام علوم کی کنجیاں آپ کے پاس موجود تھیں۔ علامہ ابن حجر مکی تحریر فرماتے ہیں کہ آپ تمام لوگوں میں جلیل القدر اور عظیم المرتبت تھے (42)۔
علامہ عبدالرحمان جامی لکھتے ہیں کہ آپ کی باتیں پر از حکمت اور آپ کا عمل درست اور آپ کا کردار محفوظ عن الخطا تھا ۔ آپ علم وحکمت سے بھر پور تھے۔ روئے زمین پر آپ کی مثال ونظیر نہ تھی(43)۔
عبداللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ ابراہیم بن عباس کا کہنا ہے کہ میں نے ان سے زیادہ کوئی بڑا عالم نہیں دیکھا۔ مامون (الرشید) اکثر سوالات میں ان کا امتحان لیا کرتا تھا۔ اور آپ اس کو جواب شافی دیا کرتے تھے۔ آپ بہت کم سوتے تھے۔ اور روزے کثرت سے رکھا کرتے تھے۔ ہر مہینے کے تین دن (ایام بیض) کے روزے آپ نے کبھی فوت نہیں کئے۔ آپ اکثر اندھیری راتوں میں خیرات دیا کرتے تھے۔ اور گرمی کے دنوں میں چٹائی پر اور جاڑے میں کمبل پر بیٹھا کرتے تھے (44)۔
صواعق محرقہ میں لکھا ہے کہ آپ سادات سے ازروئے ذکر روشن تر ہیں اور قدر میں سب سے برتر۔ اسی وجہ سے مامون نے اپنے دل میں ان کو جگہ دی تھی اور اپنی بیٹی کے ساتھ ان کا نکاح کرنا تھا۔ اپنی مملکت میں شریک بنایا تھا۔ اور امر خلافت ان کی طرف سپرد کر کے ۲۰۱ ہجری میں ایک جماعت کی گواہی سے آپ کی ولی عہدی کا عہدنامہ اپنے ہاتھ سے لکھ کردیا تھا۔ لیکن آپ اس سے پہلے انتقال فرماگئے جس پر مامون کو بہت افسوس ہوا۔ آپ نے اپنی موت سے پہلے آگاہ کیا تھا کہ آپ کو زہردار انگور یا انار کھلایا جائے گا۔ مامون کا ارادہ تھا کہ مرنے کے بعد رشید کے پہلو میں خود دفن ہو لیکن یہ اس خواہش کو پورا نہ کرسکا۔ اور مامون کی جگہ پر جناب امام علی رضا ؑ دفن ہوئے۔ یہ سب خبریں امام رضا ؑ نے اپنی موت سے پہلے بیان فرمائی تھیں (45)۔
حاکم نے روایت نقل کی ہے کہ معروف کرخی ؒ جو کہ سرّی سقطی ؒ کے استاد ہیں۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے غلاموں میں سے تھے۔ کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے تھے(46)۔
صوفیائے کرام کے اکثر بزرگوں نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ معروف آپ کے خلیفہ مجاز اور سلسلۂ تصوف کا خط ارشاد، خرقہ اور بیعت حاصل کرنے کا شرف حاصل تھا (47)۔
علامہ ابن حجر تاریخ نیشاپور سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت امام علی رضا علیہ السلام نیشاپور میں تشریف لے گئے۔ زائرین کے اژدھام سے چلنا دشوار ہوگیا تھا۔ آپ ایک خچر پر سوار تھے۔ اور آپ پر چھتہ لگا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے لوگ آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ابوذرعہ رازی اور مسلم بن اسلم طوسی اس زمانہ کے مشہور حافظانِ حدیث نے آگے بڑھ کر باگ تھام رکھی تھی۔ طالب علموں اور محدثین کی بڑی جماعت ان دونوں کے ہمراہ تھی۔ جو بے شمار حد تک پہنچی ہوئی تھی۔ دونوں بزرگوں نے نہایت عجز وانکساری سے عرض کیا کہ حضور! لوگوں کو اپنے جمال باکمال سے مشرف فرمائیں اور اپنے آباء عظام کی کوئی حدیث سنائیں۔ آپ نے خچر کو کھڑا کردیا اور سر سے چھتری کو اتار دیا۔ آپ کی طلعت (دیدار) مبارک کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھ کو ٹھنڈک حاصل ہوئی۔ آپ کے دونوں گیسو کندھوں پر لٹکے ہوئے تھے۔ لوگ (فرطِ مسرّت میں) روتے چلّاتے اور مٹی میں لوٹتے۔ اور خچر کے پاؤں کو چومتے تھے۔ علماء نے پکار کر کہا اے لوگو! خاموش ہوجاؤ۔ جس پر سب لوگ خاموش ہوگئے۔ دو حافظانِ حدیث کی التماس پر آپ نے فرمایا میں نے اپنے باپ محمد کاظم سے بیان کیا ہے اورانہوں نے اپنے والد ماجد امام جعفر صادق ؑسے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے اپنے پدر محمد باقر ؑسے بیان کیا ہے اور انہوں نے اپنے والد بزرگوار امام زین العابدین سے بیان کیا ہے اور انہوں نے اپنے والدِ مہربان ومکرم حضرت امام حسین ؑسے بیان کیا ہے اور وہ اپنے باپ آدم الاولیاء حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک حضرت ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل نے آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے۔ اور جو میرے اس قلعے میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے بے خوف ہوا۔ یہ فرماکر حضرت امام علی رضا ؑ نے پردہ چھوڑدیا اور تشریف لے گئے۔ اور جو لوگ قلم دوات لے کر اس حدیث کو نقل کررہے تھے۔ ان کو شمار کیا گیا تو ان کی تعداد بیس ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ اور دوسری ایک روایت میں ہے کہ امام علی رضا علیہ السلام نے اس حدیث کو بھی بیان فرمایا تھا کہ ایمان قلب کی معرفت حاصل ہونے اور زبان کے ساتھ اقرار کرنے اور ارکان کے ساتھ عمل کرنے کا نام ہے۔ شاید یہ دونوں واقعات الگ الگ واقع ہوئے ہوں اور روایات مختلف بیان کیا ہو۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو انہیں اسناد کے ساتھ پڑھ کر دیوانہ پر پھونکا جائے تو اس کی دیوانگی ٹھیک ہوجائے اور وہ تندرست ہوجائے گا۔ لکھتے ہیں کہ آپ کی وفات ۲۰۳ھ میں صفر کے آخری ایّام میں ہوئی ہے۔ اس وقت آپ کی عمر پچپن برس کو پہنچی ہوئی تھی۔ آپ شہر طوس کے ایک گاؤں میں دفن ہوئے ہیں۔ اور آپ کی تصنیفات میں سے مشہور کتاب مسندِ اہلبیت ہے جس میں آپ نے اہل بیت کے مرویات کو جمع فرمایا ہے (48)۔
آپ کے اعجاز وکرامات بے شمار لکھے گئے ہیں اور مواعظ ونصائح روحانی تسکین کے باعث ہیں آپ کے کلام حکمت و موعظت سے معمور اور ایمان افروز ہیں۔ صوفیانہ اسرار ورموز کو بیان کرتے ہوئے ایسا لگتا تھا کہ آپ اپنی زبان سے لعل و یاقوت بکھیر رہے ہوں۔ آپ کے محاسنِ اخلاق، مکارمِ عبادات نہایت بے داغ اور شفاف تھے۔ راتوں کو کم سوتے اور اکثر اوقات شب بیداری میں گزر جاتے۔ اکثر روزے رکھتے اور موٹے کپڑے زیب تن فرماتے تھے۔ کبھی عمدہ لباس بھی استعمال فرماتے تھے۔ آپ کبھی قہقہہ لگا کر ہرگز نہیں ہنستے تھے۔ تبسّم ہی فرمایا کرتے تھے (49)۔
جب حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ دنیا سے جدائی اور اپنے آباء کرام سے وصال کا وقت قریب آگیا ہے۔ تو آپ نے حقیقت اور معرفت کے سالکین سے بیعت لینے کی اجازت اور خرقۂ خلافت اپنے دربان، خادم اور مرید ابو محفوظ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کو عطا فرمایا(50)۔
اور یہ معاملہ ایک توفیقی اور کشفی امر تھا جس سے سلسلۂ امامت کی ترتیب ساقط نہیں ہوسکتی۔
ایک شبہہ کا ازالہ
حضرت امام علی رضا علیہ السلام سلسلہ امامت کی آٹھویں کڑی ہیں ان کے بعد منصب امامت کا نواں ستوں حضرت امام محمد تقی علیہ السلام ہیں لیکن حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بعد سلسلہ ارشاد کا حضرت شیخ معروف کی طرف منتقل ہونے سے عام طور پر ذہن اس طرف جاتا ہے کہ امامت کا تسلسل خلل پذیر ہوگیا۔ ترتیب امامت ٹو ٹ گئی ۔ ہشت امامی ہوگئے اور ایک حقیقت چھپ گئی۔ ایسی کوئی بات نہیں کہ بلاوجہ بے یقینیوں کا شکار ہوجائے اور انتشار و افتراق کے دھانے پہنچ جائے۔ ہاںسوالات اٹھتے ہیں تو حقائق و اصلیت کی گہرائیوں تک جانے کے لیے انسان تحقیق و جستجو کی راہیں تلاش کرتا ہے، مشکلات کا حل ڈھونڈتا ہے اور علم کی شمع سے شمع جلانے کا کارنامہ انجام دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امامت کی آٹھویں کڑی کے بعد نویں کڑی امام حضرت محمد تقی علیہ السلام ہیں جس پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے اور عقل مانتی ہے کہ امامت کا تسلسل بحال ہے۔
1- دنیائے تصوف میںخلافت کئی طرح سے ہونا ثابت ہے۔ اخذ ذکر ، اخذ خرقہ ، اخذ فتوت، اخذ بیعت و ارشاد وغیرہ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل طریقت ان اعتبارات کی روشنی میں مختلف اشخاص کی طرف نسبت رکھتے ہیں جس طرح حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی سلسلہ ذہبیہ میں حضرت محمودمزوقاتی کا روحانی خلیفہ ہے ۔ اخذ ذکر میں شیخ ابولبرکات علی دوستی کا خلیفہ ہے اور اخذ خرقہ میں شیخ ابو میامن محمود ابن عبداللہ مزوقانی کا خلیفہ ہے۔ اخذ فتوت میں شیخ محمد اذکانی کا خلیفہ ہے دوسری طرف صلبی سلسلہ جدا گانہ ہے بایں ہمہ اُن کا سلسلہ تصوف متاثر نہیں ہوتا۔ اسی طرح امامت اضافی کی ترتیب متاثر نہیں ہوتی۔
2- حضرت شیخ معروف کا اپنا حال دیکھیں تو ان کے دو روحانی خلیفے تھے۔ ان میں سے ایک تو حضرت شیخ سری سقطی ؒ ہی ہیں۔ سلسلہ ذہبیہ کے روحانی روابط کے اندر اسی ترتیب کو بحال رکھا جاتا ہے ۔ دوسرا خلیفہ حضرت شیخ بشربن الحارث ہے۔
3- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بھی دو روحانی خلیفے ہیں ایک حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ اور دوسرا حضرت شیخ سفیان ثوری ہیں ۔ شاگردوں میں امام مالک بن انسؓ اور امام ابوحنیفہ ؒ لغمان بن ثابت ابو ایوب سجستانی ؒ ، ابن عینیہ ؒ ، شیبہ ؒ، یحییٰ بن قطان، ابن ابی لیلیٰ، محمد بن بشیر ؒ اور ہیاج بن بسطام ؒ، جیسے مشاہیر اکابرین ہیں۔
4- حضرت امام حسین علیہ السلام کے بھی دو روحانی خلیفے تھے۔ ایک تو آپ کے بیٹے امام زین العابدین علیہ السلام ہیں اور دوسرا آپ کے خادم شیخ ابو محمد جابر قدس سرہ ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام تک سلسلہ معروفیہ پہنچتا ہے جو مشرب ہمدانیہ کہلاتا ہے ۔ دوسرا روحانی سلسلہ شیخ ابوالحسن علی شازلی قدس سررہ کا سلسلہ پہنچتا ہے۔
5- حضرت امام حسن علیہ السلام کے بھی دو باطنی خلیفوں کا ہونا ثابت ہے ایک تو آپ کے بڑے بیٹے حضرت حسن مثنیٰ ہیں جن تک حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کا سلسلہ جا پہنچتا ہے۔ یہ سلسلہ قادریہ سے معروف ہے۔ دوسرا خلیفہ امام حسین ؑ ہیں ۔ امامت کا تاج ان کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کے سر سجتا ہے۔
6- امام الاولیاء ، امیر المومنین ابوالائمہ سرور اصفیاء حضرت علی علیہ السلام کے پانچ روحانی خلفاء تھے۔
(1) حضرت امام حسن علیہ السلام (2) حضرت امام حسین علیہ السلام (3) امام تصوف حضرت شیخ حسن بصری (4) کمیل ابن زیادنخعی رحمتہ اللہ علیھم اجمعین حضرت امام حسن ؑ تک سلسلہ قادریہ حسنیہ حضرت امام حسین علیہ السلام تک سلسلہ معروفیہ کے تمام سلاسل پہنچتے ہیں۔ سلسلہ ذہبیہ اور شاذلیہ بھی آپ تک چلا جاتا ہے۔ حضرت شیخ حسن بصری تک خواجہ حسن سنجری کا سلسلہ پہنچتا ہے جو چشتیہ کے نام سے معروف و مشہور ہے۔
شیخ دائود طائی اور شیخ فضیل بن عیاض کے سلسلے بھی انہی تک پہنچتے ہیں۔ شیخ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تک شیخ شفیق بلخی کا سلسلہ جاتا ہے۔ سلسلہ کبرویہ اورشفیق بلخی کا سلسلہ حضرت شیخ کمیل ابن زیاد نخعی تک جاکر حضرت علی علیہ السلام سے منسلک ہوتا ہے۔
7- حضرت امام رضا علیہ السلام سے روحانی روابط کے شیخ معروف کرخی کی طرف منتقل ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ حضرت امام علی رضا کے انتقال کے وقت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ابھی حد بلوغت کو نہیں پہنچے تھے اور شرعی نقطہ نظر سے ابھی وہ مکمل مکلف بھی نہ تھے۔ حضرت شاہ سید محمد نور بخش لکھتے ہیں کہ یہ تینوں (یعنی امام محمد تقی ، امام علی نقی ، امام حسن العسکری علیھم السلام اپنے باپوں کی وفات کے وقت چھوٹی عمر ہونے کی وجہ سے سلسلہ متصلہ سے منقطع ہوچکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کی اصلاح کے لیے افراد کی حیثیت میں (رکھنا ) پسند کیا اور انہیں بندوں کے دلوں میں مقبول بنایا(مشجرالاولیاء ج ۲)۔
حضرت شاہ سید محمد نوربخش لکھتے ہیں:
جب امام علی رضا علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ ان کی دنیا سے جدائی اور اپنے آبا کرام سے وصال کاوقت قریب آگیا ہے تو آپ نے حقیقت و معرفت کے سالکین سے بیعت لینے کی اجازت اور خرقہ خلافت اپنے دربان ، خادم اور مرید ابوالمحفوظ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کو عطا فرمائی کیونکہ آپ کے بیٹے محمد تقی ان دنوں چھوٹے بچے تھے۔ وہ شریعت اور طریقت کے احکام کے مکلف نہ تھے اس وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی شریعت میں آدمی بالغ ہونے سے مکلف ہوتا ہے۔ اگر بلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو پندرہ سال کی عمر کو بالغ شمار کرتے ہیں اور اسی طرح جہاد اکبر کے وجوب کی شرائط میں ارادہ ( کا ہونا) اور بیس (۲۰) سال کی عمر شرط ہے۔ ( مشجرالاولیاء ج۔۱) یعنی حضرت امام علی رضا ؑ کے وفات کے وقت حضرت امام محمد تقی ؑ ابھی آٹھ سال کے ہوئے تھے حضرت امام علی تقی ؑ کی عمر اپنے والد محترم کے انتقال کے وقت چھ سال تھی اور حضرت امام حسن العسکری کی عمر اپنے والد کے وفات کے وقت بارہ سال تھی اور حضرت امام محمد مہدی ؑ کی عمر اپنے والد کے وفات کے وقت پانچ سال تھی۔
اگر چہ یہ سب علم لدون ، معرفت اور ایقان کا خزانہ تھے۔ خاندان امامت کے چشم و چراغ اور طریقت وحقیقت میں افراد کے مقام پر فائز تھے۔ کمال عظمت کے حامل اور ہر کوئی صدر بدر عالم تھے ۔ تاہم سلسلہ متصلہ سے منقطع ہوئے مگر ترتیب امامت فوت نہیں ہوئی۔
8- عمر کے اس لحاظ کو زیر نظر اس لیے رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے تمام آباء و اجداد کی زندگی میں اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ بلوغت کے فقدان کے باوجود کوئی منصب خلافت پر جلوہ افروز ہوا ہو چنانچہ امام علی رضا ؑ کی عمر اپنے والد کی وفات کے وقت پینتالیس سال تھی۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی عمر اپنے باپ کے وفات کے وقت بیس سال تھی۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی عمر اپنے باپ کی رحلت کے وقت انتالیس سال تھی اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی عمر اپنے والد کے رحمان حق کے وقت تینتیس سال تھی۔ حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیھما السلام کی عمر یں حضرت ابو الائمہ علی علیہ السلام کی وفات کے وقت بالترتیب سینتینس اور چھتیس سال تھی۔ حضرت میر سید محمد نور بخش لکھتے ہیں کہ خلافت ظاہری کے لیے خلیفہ کی عمر چالیس سال اور خلافت باطنیہ کے بیس سال کا ہونا شرط ہے۔ (مشجر اولیاء ج۔۲)
لہذا اس اصول کے مطابق امامت حقیقی اور اضافی کا مکمل امتیاز واضح ہونے کے ساتھ ازالہ شک یقینی ہو جاتا ہے۔
دراصل شکو ک و شبہات پیدا کرنے والوں کی باتوں کو حسن اخلاق اور صبر و جمیل کے ساتھ چھوڑ دینا ہی چاہئے جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :
رب المشرق و المغرب لا الہ الا ھو فاتحذوہ وسیلا واصبر علی مایقولون واھجرھم ہجرا جمیلاً وذرنی والمکذبین علی مایقولون اُولی التعمۃ ومیھلھم قلیلاً (مذمل:۱۱)
وہ مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اسی کو کارساز بنائو اور تم کافروں کی باتوں پر صبر فرمائو انہیں خوبصورت انداز میں چھوڑو اور مجھ پر چھوڑ دو ان جھٹلانے والے مال والوں کو اور انہیں مزید تھوڑی مہلت دے دو۔
حضرت حبیب عجمی ؒ
حضرت حبیب عجمی بھی حضرت معروف کے استاد تھے ان کے بارے میںحضرت شیخ عطار لکھتے ہیں کہ حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ صدق، صاحبِ ہمت، صاحبِ یقین وخلوت نشین تھے۔ آپ بڑے صاحبِ کرامت وصاحبِ ریاضت تھے۔ شروع زمانے میں آپ بڑے مالدار تھے۔ سود پر اہلِ بصرہ کو مال دیا کرتے تھے۔ اپنے معاملات میں بہت سخت گیر اور سخت بدنام تھے (51)۔
مگر آپ نے ایک دفعہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کی انہوں نے آپ کو کچھ نصیحت فرمائی جس پر آپ بے قرار ہوگئے۔ اور حقیقی معنوں میں توبہ کرکے آرہے تھے۔ غیب سے آواز آئی حبیب عجمی توبہ کرکے آرہے ہیں۔ ان کا احترام کرو۔ اس طرح آپ کی زندگی میں عجب انقلاب آیا۔ ستر پوش تک صدقہ کردیا اور خود ننگے رہ گئے۔ اور دریائے فرات کے کنارے ایک عبادت خانہ تیار کیا اور وہیں خدا کی عبادت وریاضت میں زندگی بسر کرنے لگے۔ اور آپ کا یہ معمول بن گیا کہ دن کو حضرت حسن بصری کے پاس جا کر تحصیلِ علم کا شغل رکھتے اور رات عبادتِ الٰہی میں گزارتے۔ آخر کار آپ علومِ شریعت وطریقت کے رہنما وہادی بن گئے۔
ایک دفعہ حضرت امام شافعی ؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ ایک مقام پر بیٹھے تھے۔ اتفاقاً ادھر سے حبیب عجمی نمودار ہوئے۔ تو حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے کہا کہ ہم ان سے ایک سوال کریں گے۔ امام شافعیؒ نے فرمایا کہ ان واصلینِ حق سے نہ چھیڑو ان کا مسلک جداگانہ ہے۔ انہوں نے نہ مانا اور امام احمد بن حنبلؒ نے آپ سے پوچھا پانچ نمازوں میں سے کوئی نماز قضا ہوگئی ہو تو کیا کرنا چاہئے آپ نے فرمایا کہ سب کو پڑھے۔ اس لئے وہ خدا سے کیوں غافل ہوگیا اور بے اَدب بنا؟ حضرت امام شافعیؒ نے حضرت امام احمد بن حنبلؒ سے کہا کہ دیکھا اسی لئے میں نے منع کیا تھا کہ ان لوگوں سے مت چھیڑو۔ ایک بار شب کو آپ کی سوئی گم ہوگئی لوگ چراغ لے کر آئے تاکہ آپ کی گمشدہ سوئی روشنی کے ذریعے تلاش کریں۔ آپ نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا مجھے چراغ وراغ کی ضرورت نہیں کہ میں بغیر چراغ (کی روشنی) کے سوئی ڈھونڈ سکتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ ایک درویش نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو اتنا مقام کیسے مل گیا؟ غیب سے آواز آئی وہ عجمی ضرور ہے مگر (اللہ کا) حبیب ہے (52)۔
آپ بہت مستجاب الدعوات اور صاحب کشف بزرگ تھے۔ آپ جب قرآن پڑھتے تھے تو بے قرار ہوکر روتے تھے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا آپ قرآن کیسے سمجھتے ہیں قرآن عربی میں ہے آپ عجمی ہیں۔ تو فرمایا کہ میری زبان عجمی ہے مگر دل عربی ہے۔
حضرت سید علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت خواجہ حسن بصری اندر آئے مگر ان کے پیچھے نماز میں نہ کھڑے ہوئے کیونکہ وہ عربی زبان کو ادا نہیں کرسکتے تھے ان کی زبان فارسی تھی۔ خواجہ صاحب نے رات کو خواب میں ذات باری تعالیٰ کو دیکھا اور پوچھا کہ بارِخدایا تیری رضا کس چیز میں ہے۔ ارشاد ہوا، اے حسن! تجھے میری رضا کا مقام ملا مگر تو مستفید نہ ہوسکا۔ اگر کل رات حبیب کے پیچھے نماز پڑھ لیتا تو اس کی صحت نیت تجھے عبادت کی حقیقت سے آشناکر دیتی اور میں تجھ سے راضی ہوجاتا۔ آپ سے پوچھا گیا رضا کس چیز میں ہے۔ فرمایا اس دل میں جس دل میں نفاق کا غبار نہ ہو۔ نفاق ملاپ کا دشمن ہے۔ رضا ملاپ پر منحصر ہے۔ محبت کو نفاق سے قطعاً کوئی تعلق نہیں محبت کا مقام رضا ہے۔ رضا دوستوں کی صفت ہے۔ اور نفاق دشمنوں کی (53)۔
حضرت شیخ داؤد طائی
آپ مشائخِ کبّار اور اہلِ تصوف کے بزرگوں میں سے تھے۔ طریقت میں حبیب عجمی کے مرید تھے۔ فضیلؒ اور ابراہیم ادہم ؒکے ہم عصر تھے۔ شریعت وطریقت کے علوم میں یگانۂ روزگار تھے۔ فقہ میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔ آپ نے دنیا سے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ زہد وتقویٰ میں بلند مقام پایا۔ آپ اپنے مریدوں سے کہا کرتے تھے کہ عافیت چاہتے ہو تو دنیا کو خیر باد کہو۔ کرامت کے خواہاں ہو تو عقبیٰ سے دست بردار ہوجاؤ۔ حضرت معروف کرخی فرماتے ہیں کہ میں نے داؤد طائی ؒسے بڑھ کر دنیا سے بیزار کسی کو نہیں پایا۔ دنیا اور اہلِ دنیا ان کی نظر میں ہیچ تھے۔ ان کو فقراء سے شکستہ حالی کے باوجود بڑی ارادت تھی (54)۔
آپ کو تمام علوم میں دسترس حاصل تھی۔ مگر اس کے حصول میں بیس سال کا عرصہ بیت گیا۔ علم فقہ میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ گرمی کے موسم میں تیز دھوپ میں بیٹھ کر تلاوت کررہے تھے آپ کی والدہ نے سائے میں آنے کے لئے کہا تو آپ نے فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ نفس کی خاطر قدم اٹھاؤں۔ آپ نے ہمیشہ گوشہ نشینی کو پسند کیا اسی میں یادِ الٰہی کرنے کو راحت جانا۔ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے کھانا کھاتے وقت کچھ کھانا ایک ترسا کو دیا۔ اس نے کھالیا اور شب کو اپنی بیوی سے صحبت کی تو حضرت شیخ معروف کا حمل ٹھہرا۔
حضرت شیخ معروف فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر دنیا سے متنفر کوئی نہیں دیکھا۔ جب آپ اپنے کپڑے دھوتے تو کہا کرتے تھے کہ اگر اسی طرح مل مل کر اپنا دل دھوتا تو بہت اچھا ہوتا آپ فقراء کو بہت دوست رکھتے تھے۔ کہتے تھے کہ میں قیدخانہ سے آزاد ہوگیا۔ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ شیخ داؤد طائی ہوا میں اڑ رہے ہیں کہتے تھے کہ میں قیدخانہ سے آزاد ہوگیا۔ بیدا رہوا تو آپ کے پاس تعبیر پوچھنے گیا آپ خواب سن کر اپنے انتقال کی خبر سے آگاہ ہوگئے۔ آپ کی وفات کے وقت آسمان سے ندا آئی داؤد اپنے مقصود کو پہنچ گئے۔ اور اللہ ان سے راضی ہوگیا۔ یہ تھے حضرت شیخ معروف کے استاد اور مرشد جن کی محبت تعلق ان کی سرشت میں شامل تھی۔ جن سے آپ کا ایک سلسلہ بھی چلا ہے۔ اہلِ تصوف آپ کو اپنے بڑے اساتذہ میں شمار کرتے ہیں (55)۔
شیخ ابو نعیم اصفہانی
حضرت شیخ ابو نعیم اصفہانیؒکا اصل نام احمد بن عبداللہ بن اسحاق اصفہانی ؒصوفی المذہب بزرگ تھے۔ آپ پائے کے محدث تھے۔ علم وفضل میں یکتا تھے۔ گیارہویں صدی عیسوی کے قابل ذکر صوفیاء میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے ایک کتاب تصنیف کی جو حلیۃ الاولیاء کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ اس حیثیت سے آپ صوفیاء کرام میں درجہ علیاء کے طبقات میں گنے جاتے ہیں۔ اس کتاب میں آپ نے اپنے وقت کے ہزاروں صوفیاء کرام کے حالات زندگی معہ علوم وفنون تفصیل سے لکھے ہیں۔ یہ دس جلدوں میں ہے اور امام ابن جوزی نے چار جلدوں میں اس کا خلاصہ کیا ہے (56)۔
ابن جوزی کی یہ کتاب صفوۃ الصفوۃ کے نام سے مشہور ہے جو کہ چار جلدوں میں ہے۔ دراصل ابو نعیم اصفہانیؒکی کتاب حلیۃ الاولیاء کی تہذیب وتنقیح ہے۔ جن کو ابن جوزی نے مناسب حذف واضافہ اور تلخیص کے ساتھ محدثانہ اور مؤرخانہ طور پر مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں جو حالات وواقعات آئے ہیں۔ وہ مؤثر ، دل گداز ہونے کے علاوہ تاریخی حیثیت سے مستند بھی ہیں، اور مبالغہ آمیز روایات اور حشو وزوائد سے پاک ہیں (57)۔
ابن جوزی نے صفوۃ الصفوۃ کے حوالے سے آپ کو حضرت شیخ معروف کے اساتذہ حدیث میں شمار کیا ہے جن سے آپ نے حضور کی حدیث سماع کی (58)۔
حضرت شیخ ابن السماکؒ
حضرت شیخ ابن سماک بھی آپ کے استادوں میں شمار ہوتے ہیں۔حضرت شیخ عطار ؒ لکھتے ہیں کہ حضرت محمد سماک رحمۃ اللہ علیہ عابد متدین اور زاہد متمکن تھے۔ آپ امامِ وقت اور مقبول خلائق واعظ تھے۔ آپ کے کلام سے حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کو بہت فتوح حاصل ہوئے۔ آپ فرماتے تھے اپنے کو کچھ نہ سمجھنا تواضع ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگلے لوگ دواء کی مثل تھے کہ مریض ان سے شفاء پاتے تھے۔ اِس زمانہ کے لوگ درد ہیں صحت مند کو بیمار کردیتے ہیں۔ اور فرمایا اچھا طریقہ قرآن وحدیث پر عمل کرنا ہے۔ فرمایا طمع بہت بری چیز ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ واعظ وعظ کہنے کو دشوار سمجھتے تھے جیسے اب علم پر عمل کرنا دشوار سمجھتے ہیں۔ ایک وقت وہ تھا واعظ کم تھے اب عالم کم ہیں۔
لکھتے ہیں کہ حضرت احمد عواری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیمار ہوگئے تو میں آپ کا قارورہ (پیشاب کی شیشی) لے کر ایک حکیم کے پاس جارہا تھا مگر وہ آتش پرست تھا۔ راہ میں ایک بزرگ نے مجھ سے پوچھا کہاں جاتے ہو؟ میں نے واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا۔ تعجب ہے کہ خدا کا دوست خدا کے دشمن سے مدد لینے جارہا ہے۔ تم لوٹ جا اور حضرت محمد سماک سے کہو کہ درد کے مقام پر ہاتھ رکھ کر اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرّجیم وبالحق انزلناہ بالحق نزل پڑھ کر دم کریں۔ آپ سے یہ بیان کیا تو آپ نے آیت قرآنی کو پڑھ کر دم کیا تو ٹھیک ہوگئے۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ حضرت خضر ؑعلیہ السلام تھے۔
آپ حالت نزع میں فرماتے تھے کہ الٰہی تو جانتا ہے کہ میں تیرے دوستوں کو دوست رکھتا ہوں اس کے صلے میں مجھے بخش دے۔ آپ کے حیات میں لوگوں نے آپ سے عرض کی کہ آپ نکاح کرلیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں دو شیطانوں سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا، مرنے کے بعد لوگوں نے خواب دیکھا۔ پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تو فرمایا بخش دیا لیکن جو رُتبہ عیالداروں کو رنج وغم برداشت کرنے پر ملتا ہے وہ مقام دوسروں کو نہیں ملتا (59)۔
خلفاء وتلامیذ
حضرت شیخ معروف سے علوم کے کئی چشمے جاری ہوئے جن کو بالترتیب بیان کرتے ہوئے ان سے فیوض پانے والوں کا تذکرہ کریں گے۔
(1)علم شریعت وطریقت (2) علم حدیث وروات (3) علم اخلاق وعمل (4) علم حقیقت ومعرفت (5) علم کسب ومعاش۔
علوم شریعت وطریقت کے سرچشمے سے فیض پانے والوں میں حضرت شیخ سری سقطی سرفہرست ہیں۔ آپ حضرت جنید بغدادی کے مرشد اور ماموں تھے۔ علوم شریعت وطریقت کے فیوض حضرت شیخ معروف کرخی سے ہی حاصل کیے۔ تلقینِ ذکر وارشاد میں آپ کے شاگرد ، مرید اور خلیفہ مجاز ہوئے۔ حضرت سری سقطی کے خلیفوں میں حضرت سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی، خواجہ خیرالتاج ابوالحسن محمد بن اسماعیل، خواجہ ابوالعباس احمد بن محمد مروق اور خواجہ ابوالحسن نوری شامل ہیں۔ حضرت شیخ معروف مدرسہ بغداد کے معلم اوّل تھے۔ مرزا محمد اختر دہلوی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کرخی سات خانوادوں کے پیشوا تھے (60)۔
دہلوی صاحب نے حضرت شیخ معروف کے اُن دونوں سلسلوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جن میں ایک حضرت شیخ داؤد طائی کی نسبت سے حضرت خواجہ حسن بصری کے واسطے سے حضرت علی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ دوسرا سلسلہ جو کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی نسبت سے آئمہ اہلبیت کے واسطوں سے حضرت محمد ﷺ تک پہنچتا ہے۔ تاہم تیسرے سلسلے کا مختصراً ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ان کا ایک سلسلہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسبت سے حضرت ابو بکر صدیق ؓ تک پھر حضرت محمد ﷺتک پہنچتا ہے۔ اس طرح حضرت شیخ معروف کرخی مقتدائے سلسلۂ نقشبندیہ بھی ہیں۔ آپ سوائے خانوادَۂ جنیدیہ وطیفوریہ کے کل خانوادَۂ فقراء کے پیشوا ہیں۔ باقی دو سلاسل سے سلسلہ منقطع پایا گیا (61) اور دو سلسلے ایسے ہیں جن کو سلسلہ قادریہ کہتے ہیں۔ یہ دونوں سلسلے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے منسوب ہیں۔ ایک حضرت جنید تک دوسرا سلسلہ حضرت امام حسن ابن علی ؑ تک جاپہنچتا ہے(دیکھئے مشجرالاولیائ)۔ ادھر ایران میں ایک اور سلسلہ چلا ہے اس سلسلے میں رسم خرقہ پوشی کو ہزار میخی کا نام دیا جاتا ہے۔ ہزار میخی سلسلہ بھی حضرت شیخ معروف تک ہی پہنچتا ہے۔
شیخ مجدد الدین بغدادی جو خوداس سلسلہ کی ایک کڑی ہیں، نے ’’رسالہ درسفر‘‘ میں تفصیل دی ہے اس کی رسالہ کرامت رعنا حسینی شیراز والے نے اہتمام کرکے ایران سے شائع کیا ہے اور دکتر مہدی محقق استاد دانشگاہ تہران اور پروفیسر توشی ہی کو ایزو تسو استاد دانشگاہ مک گیل کنیڈا کی زیر نگرانی شائع شدہ سلسلہ’’ دانش ایرانی‘‘ نمبر ۴ سے سلسلہ ہزار میخی کی اطلاع ملتی ہے۔
محمد تقی دانش پژدہ نے لکھا ہے کہ یہ سلسلہ حضرت شیخ محمد بن شیخ شرف الدین الاسفرائنی کا ہے وہ اپنے سلسلہ کو ایک نظم میں واضح کیا ہے۔
این چنیں گوید فقیر بے نوا ابن شرف
بوالمیامن کنیت ونامش محمد یاد دار
بر شمارم نام پیران طریقت یک بہ یک
نازمن چوں نمائم این بماند یادگار
شیخ من بے شبہ رکن الدین علاء الدولہ است
شیخ او ان نور دین حق بہ بغدادش قرار
شیخ او شیخ احمد و نسبت اوبا جورجان
شیخ او دردل رضی الدین علی لا لا نگار
شیخ او شیخ مجدالدین بغدادی باز
شیخ او خوان شیخ نجم الدین کبریٰ از کبار
اور شیخ نجم الدین نے بھی تین شیخوں کی نسبت سے فیض پایا ہے۔ اسماعیل قصری ، شیخ عمار اور شیخ روزبہان مصری اور یہ تینوں شیوخ حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی کے مرید ہوگزرے ہیں( یہ سلسلہ تینوں واسطوں سے سلسلہ اولیاء کے مرکز و منبع حضرت علی علیہ السلام تک جاملتا ہے) لیکن شیخ اسماعیل ایک ہی سند سے خرقہ حضرت شیخ مانکیل سے حاصل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ کمیل ابن زیاد کے واسطہ سے حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ ان سے اوپر کے سلسلے کو یوں منظوم کیا ہے۔
شیخ او عمار بدیسی و آنگہ شیخ او
بو نجیب سہروردی آن مجد روزگار
شیخ او شیخ احمد غزالی عالی محل
شیخ او بوبکر نساج است اندر دین شمار
شیخ او بے شک ابوالقاسم بود قطب وقت
نسبت او گورگان پس بہ اوکن افتخار
شیخ او دان تو ابو عثمان وانگہ مغربی
شیخ او دان بوعلی کاتب صاحب حقار
شیخ او پس بوعلی رودباری راگزیں
شیخ او دان درطریقت آن جنید نامدار
شیخ و خال او سری آن سرور مردان راہ
شیخ او معروف کرخی صفدر میدان کار
حضرت شیخ معروف ایک اور نسبت رکھتے ہیں وہ حضرت شاہ خراسان سے حضرت امیر المومنین علی ؑ تک ان کی اولاد کے واسطوں سے چلی ہے اور جو سلسلہ روان ہے ان کی نسبت یوں ہے۔
شیخ او داؤد طائی شیخ او بے شک حبیب
نسبت او باعجم گردرعرب بودش قرار
شیخ او تابعین را پیشوا نأمش حسن
بصری او را نسبت مشہور اندر ہر دیار
شیخ او دان تو امیر مومنان نأمش علی
شاہ مردان شیر یزدان صفدر دلدل سوار
شیخ او پیغمبر آخر زمان مقصود حق
از زمان و ازمکان رفعت این نہ خصاد
مفخر اولاد آدم صدر و بدرہر دو کون
نام پاک او محمد رحمت پروردگار
باد برحال ورداں پاک او وزبغداد
پیروان پاک اصحابش درود بے دستخیز
وآنگہی بر پیر دانش تابہ او دستخیز
ہر طفیل بدیں بندہ کہ ہست امیدوار
یارب ز فضل و کرم بردی بہ بخشائے اوباز
یہ عزیزی کوکند او ادعا ازدل نثار
(از محمد تقی دانش ویژہ)
(دستیار دانشکدۂ ادبیات و علوم احسافی)
تصوف ایرانی میں چلنے والا ایک اور سلسلہ شاہ نعمت اللہ دلی کا ہے۔ کتب تصوف میں مذکور ہے۔ یہ سلسلہ بھی حضرت شیخ معروف تک جاملتا ہے۔ پاک و ہند میں چلنے والا یہ سلسلہ بلتستان اور ایران میں بہت معروف ہے۔ مگر ایران میں نعمتہ اللہ رضویہ سے پہچانا جاتا ہے۔
حاجی زین العابدین شیروالی لکھتے ہیں۔
بدآنکہ سلسلہ صوفیہ امّ السلاسل مشہور است و افواہ مردم مذکور است و منجملہ چہار دہ سلسلہ از طریقہ معروفیہ جاری و معمول بہر دیار معروف است۔
معلوم ہونا چاہئے کہ سلسلہ معروفیہ ام السلاسل کے نام سے لوگوں میں مشہور و معروف ہے ۔ حضرت شیخ معروف سے چودہ سلسلے نکل کر ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ مظفر علی شاہ (ایرانی) نے کتاب بحر الاسرار میں لکھا ہے ؎
شیخ معروف از امام ذوفنوں
ہمچو شطی کاید از دریا برون
گشت امام و پیشوائے قافلہ
از دمش جاری شد بس سلسلہ
سلسلہء معروف ربانی مقام
آمدہ ام السلاسل خوش بنام
نشاۃ معروف عارف ہمچو شط
اولیاء و روح شناور ہمچو بسط
جانب اقلیم ہا و شہر ہا
گشت جاری از شط وی نہرہا
(بستان السیاحہ ص ۵۲۸)
شجرئہ سلسلہ معروفیہ کہ مابین العرفائبہ بام السلاسل معروف است شجرئہ سلسلہ معروفیہ تمام عارفوں کے ہاں بام سلاسل کے نام سے معروف ہے ۔ (ریاض السیاحہ ۳۳۲)
حضرت شیخ معروف کا دوسرا شاگرد اور خلیفہ حضرت شیخ بشر بن الحارث تھے۔ جو شریعت وطریقت کے علوم سے فیض پارہے تھے۔ آپ کے نامور فیض پانے والوں میں حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ آپ کے علوم و حدیث روات سے سیراب ہورہے تھے۔ آپ کے خصوصی شاگرد اور مداح تھے۔ امام حنبلؒ کو آپ سے بڑی عقیدت تھی۔ حضرت شیخ معروف کرخی سے روایات حدیث سماع کرنے والوں میں حضرت خلف بن ہشام بزاز، ذکریا بن یحییٰ بن ابی طالب رحمہم اللہ وغیرہ ہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی جماعت نے آپ سے اخذ فیض کیا۔ جن میں محمد بن منصور طوسی، ابو جعفر ابوا سحاق دولانی، جعفر بن محمد، ابو محمد الخلوی الخواص بغدادی، محمد بن ابراہیم شامی، عبداللہ بن محمد بن سفیان، ابو علی المفلوج، ابوبکرمحمدبن اسری القنطری عبدالسلام الحرانی، ابراہیم دوانی، حسن بن عیسیٰ ابن اخی معروف، ابو بکر بن خنیس، اور ابو محفص عمرو بن موسیٰ کے نام شامل ہیں۔
آپ سے علوم اخلاق وعمل پانے والے لاکھوں انسان اس دور میں موجود تھے۔ یہودی، عیسائی، مجوسی اور مسلمان آپ سے برابر فیوض علم واخلاص حاصل کرتے تھے۔ آپ کے حلقۂ درس میں روزانہ سینکڑوں ہزاروں انسان شامل ہوتے تھے۔ اور کسب معاش کے اصول وقوانین سیکھتے تھے۔ ہر کوئی اپنی زندگی کو زبان فیض آفرین کے عین مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضرت شیخ معروف سے علم پانے والوں میں آپ کے والدین اور آپ کے برادرِ حقیقی بھی شامل ہیں۔ اور آپ کے بھانجے حسن بن عیسیٰ بن اخی معروف نے بھی تعلیم پائی۔ محمد صالح کشفی ترمذی لکھتے ہیں کہ حضرت معروف جو سید محی الدین (چشتی) کے پیروں کا پیر ہے اور کئی ہزار کامل ولی اس کے دامن دولت سے بہرہ یاب ہوئے ہیں۔ خود حضرت امام علی رضا کا دربان ہے۔ چنانچہ شاعر اظہار کرتا ہے ؎
بحق شیخ معروف کرخی
کہ دربانِ علی موسیٰ رضا بود
(62)
شیخ سری سقطی
حضرت شیخ سری سقطیؒ خود ایک عظیم المرتبت صوفی ابو محفوظ معروف بن فیروز کرخی کے شاگرد رشید خلیفہ مجاز اور عارفِ صدق وصفا تھے اور حضرت جنید بغدادی کے ماموں اور مرشد واستاد تھے۔ آپ نے ایک دفعہ حضرت حبیب راعیؒ سے بھی شرف ملاقات حاصل کیا (62)۔
حبیب راعیؒ حضرت سلمان فارسیؓ کے مصاحب تھے۔ حبیب کے بکریوں کے ریوڑ تھے اور فرات کے کنارے رہتے تھے۔ گوشہ نشینی ان کا طریق تھا (63)۔
پیشہ کے لحاظ سے حضرت سری سقطی ایک تاجر تھے اور گرم مصالحہ وغیرہ کا کاروبار کرتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دن بازار میں آگ لگ گئی اور دکانیں جلنے لگیں کسی نے دوڑ کر انہیں خبر دی کہ آپ کی دکان بھی جل گئی تو بڑے اطمینان سے بولے۔ اچھا ہوا میں اس کی نگرانی وغیرہ کی جھنجھٹ سے آزاد ہوگیا۔ بعد ازاںمعلوم ہوا کہ آس پاس کی دکانیں جل کر ضائع ہوگئیںلیکن ان کی دکان بچ گئی ۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو اپنا تمام مال ومتاع غرباء میں بانٹ دیا خود ہمہ تن تصوف وریاضت میں مصروف ہوگئے (64)۔
ابوالحسن سری بن مفلس سقطی شروع زمانے میں ایک دکان میں رہتے تھے اور ایک پردہ ڈال لیا تھا۔ اور اسی کی آڑ میں ایک ہزار رکعت روزانہ نفل پڑھا کرتے تھے۔ ایک بار ایک شخص کوہ لگام سے آیا اور پردہ ہٹاکر آپ کو سلام کیا اس کے بعد اس نے کہا کوہ لگام پر ایک بزرگ رہتے ہیں انہوں نے آپ کو سلام کہا ہے تو آپ نے سلام کا جواب دے کر اسے فرمایا کہ خلق سے الگ رہ کر خدا کی عبادت کرنا مُردوں کا کام ہے اور زندہ وہ ہے جو خلق میں رہ کر ہر وقت خالق کو یاد کرے (65)۔
حضرت عطار لکھتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے بڑھ کر کسی کامل کو عبادت گزار نہیں دیکھا آپ نے اٹھانوے برس تک کبھی پہلو لگا کر استراحت نہیں کی۔ ڈاکٹر عبدالقادر تاریخ بغداد کے حوالے سے لکھتے ہیں گویا کہ وہ جانتے نہیں تھے کہ سونا اور آرام کرنا کیا چیز ہوتی ہے۔ ان کی وفات ۲۵۳ھ کے لگ بھگ ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے ان کی پیدائش ۱۵۵ھ میں ہوئی ہوگی جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کی زندگی خلفاء بنو عباس کے پہلے دور میں بسر ہوئی۔ اور انہوں نے سات آٹھ برس عباسی خلفاء کا زمانہ پایا۔ اور عراق کے سنہرے زمانے میں فکر وفلسفہ کے اندر جو عظیم واقعات رونما ہوئے۔ انہیں بچشمِ خود دیکھا۔ حضرت سری سقطیؒ اپنے زھد وورع کے لیے مشہور تھے۔ اس باب میں بہت سی حکایتیں بیان کی جاتی ہیں۔ ابو نعیم کی حلیۃ الاولیاء سے منقول ہے کہ کہتے ہیں جب ان کا نام حضرت امام احمد بن حنبلؒکے سامنے لیا گیا تو انہوں نے کلماتِ خیر سے یاد کیا۔ سلمی نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ سری سقطی وہ پہلا عارف ہے جس نے تصوف کے ذریعے توحید کا درس دیااور پہلے پہل حقیقت ومعرفت کا علم لوگوں کو سکھایا وہ اشارات ونکتہ سنجی میں اہلِ بغداد کے رہنما تھے۔ تصوف میں ممتاز مقام رکھتے۔ قشیریؒ بتاتے ہیں وہ زہد وورع بلندی فکر اور علم توحید میں یکتائے روزگار تھے (66)۔
آپ کو جو کچھ ملا حضرت شیخ معروف کرخی کے طفیل سے حاصل ہوا۔ سقطی کی شہرت ایک طرف تو سربرآوردہ لوگوں، گورنروں، جنرلوں اور اس زمانہ کے اہلِ علم وفضل کے حلقوں میں تھی اور دوسری طرف عوام کے اندر معروف تھے۔ لیکن آپ نے زیادہ تر عام لوگوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ۔ اور چند ایک مخصوص لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتے رہے۔ ان کے شاگردوں میں حضرت جنید کے علاوہ النوری، مسروق محمد بن فضل السقطی، ابراہیم المحزمی اور العباس الشکلی تھے (67)۔
خیال رہے کہ حضرت سری سقطی نے اپنی کوئی تحریر یا تالیف پیچھے نہیں چھوڑی۔ ان کی تعلیمات کا بیشتر حصہ ہمیں حضرت جنید کے واسطے سے پہنچا ہے۔ حضرت جنید کے فرامین وتعلیمات سے حضرت شیخ معروف، حضرت شیخ سری سقطی، حضرت جنید بغدادی اور حضرت القنطری بشر بن الحارث وغیرہ ایک ہی باغ کے پھول معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیمات تصوف وعرفان زہد وورع اور کرامات و احساسات میں ہمہ رنگ اور خوشبودار نظرآتے ہیں۔ ان کی راہِ سلوک کے درجات میں اگرچہ اختلاف ہوسکتا ہے زمانہ یقینا مختلف ہو سکتا ہے لیکن منشاء ونظریات میں کوئی تفاوت نہیں پائی جاتی۔ علم وعمل فلسفہ وعرفان میں ایک ہی درخت کی سر سبز شاخیں لگتے ہیں۔ بایں ہمہ آپ کا سلسلہ تصوف معروفیہ سے جانا جاتا رہا۔
حضرت سری سقطی علومِ شریعت وطریقت میں حضرت شیخ معروف کرخی سے بہت مماثلت رکھتے تھے۔ خیالات ونظریات، قرآنی تفسیر وبیاں، صبر وشکر اور صوفیانہ روش میں دونوں میں یگانگت پائی جاتی تھی۔ ایسے میں زندگی کے تمام جذبات کے علاوہ روحانی اور باطنی علوم کے کامل وارث تھے۔ حدیث کے سماع، خرقہ اور طریقہ عرفان شیخ معروف سے حاصل کیا۔ پرہیزگاری، احوال سنت اور توحید کے علم میں زمانہ والوں میں بے مثل تھے۔ آپ فرماتے ہیں جس نے اللہ سے محبت کی وہ زندہ ہوگیا اور جو دنیا کی طرف مائل ہوگیا وہ بے وقوف ہوا۔ احمق بے کار چیزوں میں آتا جاتا ہے اور عقلمند اپنے عیوب کو تلاش کرتا ہے۔ آپ کے بارے میں اتک عجیب واقعہ بھی نقل کیا ہے۔
جنید بغدادی نے فرمایا کہ میرے ماموں اور میرے مرشد اور استاد سری قدس سرہ بیمار ہوگئے ہمیں ان کی بیماری کی کوئی دوا معلوم نہ ہوئی۔ اور اس کا کوئی سبب بھی معلوم نہ ہوسکا۔ کسی نے کسی ماہر حکیم کا ذکر کیا۔ ہم آپ کے پیشاب کی شیشی لے کر اس کے پاس گئے۔ طبیب نے اس کا معائنہ کیا اور بڑی دیر تک دیکھتا رہا پھر مجھ سے کہا کہ مجھے یہ کسی عاشق کا پیشاب معلوم ہوتا ہے۔ جنید کہتے ہیں یہ سن کر میں بے ہوش ہوگیا۔ اور وہ شیشی مجھ سے گر گئی۔ حضرت شیخ کے پاس آکر اس واقعہ سے آگاہ کیا تو آپ ہنس پڑے۔ پھر فرمایا کہ اللہ اسے برباد کرے۔ اس کی نگاہ کتنی دوررس ہے۔ تو میں نے اپنے مرشد سے پوچھا کہ کیا پیشاب سے بھی محبت معلوم ہوسکتی ہے۔ کہنے لگے ہاں! ہاں۔ اس واقعہ کو حضرت ابو حامد غزالی ؒ نے بھی نقل کیا ہے (68)۔
جنید کہتے ہیں آپ کے مرض الموت میں ہم بیمار پرسی کے لئے گئے تو میں نے پوچھا آپ کیسے ہیں تو وہ یہ کہنے لگے۔
کیف اشکو الی طبیبی ما بی والَّذی بی اصابنی من طبیبی۔ میں اپنے طبیب سے کیسے شکوہ کروں کہ مجھے کیا تکلیف ہے۔ کیونکہ مجھے جو بھی تکلیف پہنچی ہے وہ طبیب سے پہنچی ہے (69)۔
ایسا ہی ایک واقعہ حضرت شیخ معروف کرخی سے بھی منسوب ہے۔ واقعہ جو آگے آئے گا۔ لیکن آپ حیران ہوں گے کہ پیشاب کے اندر سے ہمارے اخلاقی آثار کیسے معلوم ہوسکتے ہیں اور یہ کوئی جسمانی اور طبعی معاملات سے تو ہے نہیں۔ جس سے ہمیں یہ واقعہ افسانہ لگتا ہے۔ آگاہ رہے کہ حضرت سری سقطی خود اظہار فرمارہے ہیں کہ مجھے مرض سے زیادہ اس طبیب نے تکلیف پہنچائی۔ یعنی میرا راز اس نے فاش کردیا۔ جو دراصل عشق خداوندی کی کثیر مقدار کی موجودگی تھی۔ معاملہ کی حقیقت اولیائِ کرام کو معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت سقطی نے بھی تصدیق کی یہ ان کے علمِ معرفت کا کمال ہے۔ دوسری طرف اس بات کی صداقت کی تصدیق موجودہ سائنسی علم نے بھی کی ہے۔ چنانچہ خبر ہے کہ لندن کی یونیورسٹی کالج آف لندن میں میڈیکل کے طلباء نے چھ مہینے کی مسلسل تحقیق کے بعد یہ رپورٹ سامنے لائی ہے کہ عشق میں مبتلا لوگوں میں ٹینوز ٹرون نامی ہارمونز جو کہ ایک کیمیائی مادہ ہے کی کمی واقع ہوتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لندن آئی پی پی کے حوالے سے یونیورسٹی کالج آف لندن کے میڈیکل کے طلباء نے چھ مہینے کے دوران بارہ انسانی جوڑوں پر تحقیق کی اور ثابت کیا کہ عشق میں مبتلا مردوں میں ایک مخصوص کیمیائی مادہ جو کہ ٹینوزٹرون نامی ہارمونز سے جانا جاتا ہے، کی مقدار کم پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دماغ کے مخصوص حصے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جبکہ عورتوں میں اس ہارمونز کی مقدار کا اضافہ پایا گیا (70)۔
بشر بن الحارث الحافی
حضرت بشر بن الحارث الحافی ؒکشف مشاہدے اور ریاضتِ مجاہدے میں صاحبِ کمال تھے۔ فضیل کا فیض مصاحبت پایا تھا۔ اپنے خالو علی بن حشرم کے مرید تھے۔ اصول وفروع کے بڑے جیدعالم تھے۔ان کی توجہ کا قصہ یوں ہے کہ عالمِ مستی میں کہیں جارہے تھے۔ راستے میں کاغذ کا ایک ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا نظر آیا جس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی تھی۔ بشر نے اس کاغذ کے ٹکڑے کو تعظیم کرتے ہوئے اٹھایا اس پر خوشبو لگا کر کسی پاک جگہ پر رکھ دیا۔ اسی رات ہاتف غیبی نے اسے خواب میں کہا کہ خدا کے نام کو خوشبو لگانے والے، خدا نے تیرے نام کو دنیا وعقبی دونوں میں خوشبودار کیا۔ یہ خواب دیکھنے کے بعد بشر نے توبہ کی اور زہد اختیا ر کیا(71)۔
بہر حال ان کے کمالات کے باب میں بڑی فضیلت بیان ہوئی ہیں۔ لیکن اکثر لکھنے والوں نے اُن کا تعلق اور خلافت کے بارے میں خاص بات نہیں لکھی۔ تاہم علامہ ابن جوزی کی وہ روایت جس کو حضرت شیخ معروف کے بھتیجے یعقوب نے بیان کیا ہے۔ اس میں بشر بن الحارث کے بھائی بنانے کے سلسلے میں استدعا کی گئی۔ شیخ معروف نے ان کے بارے میں فرمایا کہ میں نے اسے بھی اپنا خلیفہ بنایا اور خدا کے امر کو پورا کیا۔اس روایت کی تفصیل امام الاولیاء سید الاوصیاء کے باب میں موجود ہے۔ ممکن ہے یہ بیان مؤرخین کی نظر سے نہیں گزرا۔ بہر حال بشر بن الحارث حضرت شیخ معروف سے شریعت وطریقت کے علوم سے ضرور فیض یاب ہوئے ہیں۔ مؤرخین نے حضرت معروف کے شاگردوں میں ان کا نام لکھا ہے۔ او ر علامہ ابن جوزی نے ان سے حضرت شیخ معروف کے بارے میں بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ بشر کہتے تھے کہ مجھ سے ہمیشہ میرے خدا کی باتیں کیجئے۔
کہتے ہیں آپ نے فن حدیث پڑھ کر تمام کتابیں زمین میں دفن کردیں۔ اور کبھی کوئی حدیث نقل نہیں کی۔ اور فرماتے تھے میں حدیث اس لئے بیان نہیں کرتا کہ مجھے نام آوری کی خواہش ہے اگر مجھ میں یہ عجب نہ ہوتا تو بیان کرتا۔
سید میر نوربخش لکھتے ہیں کہ بشر بن الحارث اور جنید بغدادی رحمۃ للہ علیہم نے حضرت سری سقطی سے بیعت، خرقہ، خط ارشاد اور حدیث کا سماع حاصل کیا۔ جبکہ انہوں نے اخذ بیعت ، خرقہ اور خط ارشاد حضرت شیخ معروف سے بھی حاصل کیا تھا (72)۔
احمد بن حنبلؒ
حضرت احمد بن حنبل علم وفضل میں بے مثال تھے۔ اہلِ طریقت کا ہر طبقہ انہیں احترام سے یاد کرتا ہے۔ صوفیائے کرام کے قدیم مشائخ وصلحاء سے ان کی مصاحبت رہی۔ ذوالنون مصری، بشر حافی، سری سقطی جیسے اولیائِ کرام سے خاص تعلق رکھتے تھے۔ حضرت شیخ معروف سے علمِ حدیث کی روایات اور فیوضِ طریقت وعرفان حاصل کرتے رہے۔ ان کی بڑی عزت وتکریم کرتے تھے۔ ایسے ہی حضرت شیخ معروف بھی ان کا بڑا احترام کرتے اور بڑے پرتپاک انداز میں ملتے تھے۔ حضرت امام حنبلؒ حضرت شیخ معروف قدس اللہ سرّہٗ کو سننے کیلئے ہمیشہ بے تاب رہتے تھے۔ علامہ ابن جوزی نے مناقب میں کئی ایسی روایات مندرج کی ہیں جن میں احمد بن حنبل کی حضرت شیخ معروف کے ساتھ بڑی ارادت و عقیدت کا عندیہ ملتا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل حضرت شیخ معروف کے سرچشمۂ فیوض سے سیراب ہوتے رہے۔ روایاتِ حدیث اور علومِ طریقت وحقیقت میں ان سے کمال حاصل کیا (73)۔
حضرت امام احمد بن حنبل کی دبستانِ فقہ ابھی منت پذیر تحقیق تھی تاہم یقین ہے کہ شعورِ تحقیق اور استنباط واستخراج میں عمل کا جذبہ حضرت شیخ معروف کی ہدایات کا نتیجہ ہے۔ یہ ضروری نہیں کیونکہ فقہی تقسیم کے وجود سے تقلید لازم آتی ہے۔ لیکن شیخ معروف خود اہلِ تحقیق ہو گزرے ہیں۔ اگر وہ مقلد ہوتے تو سب سے پہلے اپنے مرشد ومربّی آقائے ذی وقار حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا مقلد ہوتے یا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ہوتے۔لیکن اس بات کا کہیں اشارہ تک نہیں ملتا۔ دوسری طرف ان کا عہد بنو عباس کا تھا۔ ابو زہرہ مصری لکھتے ہیں حضرت امام احمد بن حنبل بنو عباس کے حامی رہے ہیں۔ چنانچہ امام احمد کے والد محمد بن حنبل بن ہلال اسی راہ میں مارے گئے (74)۔
شیخ معروف کو بنو عباس کی جماعت سے نفرت تھی۔ تاہم فقہ میں امام احمد کے استاد حضرت امام شافعی ؒکو شہرت تامہ حاصل تھی۔ ان کا فقہ مدون ہوچکا تھا۔ اس کے باوجود شیخ معروف کو یقینی طورکسی فقہی امام کا مقلد نہیں کہہ سکتے۔ پروفیسر ابو زھرہ مصری لکھتے ہیں حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا خاندان جب بغداد آیا تو خلافتِ عباسیہ کی اشاعت اور حکومت میں سرگرم کارکن بن گیا اور پھر ان سے ان کا تعلق کبھی الگ نہ ہوا (75)۔
ان گذارشات سے امام صاحب کی سیاسی میدان کی وسعتوں کا علم بھی عیاں ہوتا ہے۔ آپ علم وفضل میں کمال دسترس رکھتے تھے۔ اس کے باوجود علامہ ابن الجوزی کے مطابق حضرت امام احمد بن حنبلؒ حضرت شیخ معروف کے پاس مسائل پوچھنے کے لئے آیا کرتے تھے (76)۔ اس طرح آپ کے فیوضِ علم وحکمت سے اخذ مراد کرتے رہے۔
یحییٰ بن معین
ڈاکٹر عبداللہ طبقات المحدثین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن معین، ابو ذکریا المری، الانباری اکابر رجال الحدیث میں شمار ہوتے ہیں۔آپ ثقہ راویوں میں سے تھے۔ ورع میں مشہور تھے۔ ۱۵۸ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے ۲۳۳ھ میں وفات ہوئے۔اور جنت البقیع میں مدفون ہیں (77)۔
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں آپ مشہور صلحائِ امّت میں سے تھے۔ حضرت شیخ معروف کی صحبت حاصل تھی اُن سے فیوضِ روحانی اور طریقت کے رموز پائے تھے (78)۔
کتبِ تصوف میں ابو ذکریا یحییٰ بن معاذ رازی کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں لیکن یحییٰ بن معین کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہ ہوسکیں، یقینا شیخ معروف سے فیض پانے والی شخصیت اپنی حیات کے حسین آثار ضرور چھوڑ گئے ہوں گے۔
محمد بن منصور طوسی ؒ
محمد بن منصور طوسیؒ بغداد کے صوفیاء میں سے ہو گزرے ہیں۔ اور پایہ کے محدث تھے۔ آپ بڑے بڑے محدثین عثمان بن سعید دارمی، ابوالعباس مسروق اور ابو جعفر حداد جیسے علماء و صلحاء کے استاد تھے (79)۔
نورالدین جامی نے نفحات الانس میں، شیخ عطار نے تذکرہ اولیاء میں اورسید علی ہجویری نے کشف المحجوب میں ان کو منصور عمارؒ کے نام سے پکارا ہے اور سوانحی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ آپ درجہ اور مرتبت میں بزرگ مشائخ میں شمار ہوتے تھے مگر اہلِ خراسان میں مقبولیت حاصل تھی۔ ان کا کلام نہایت درجہ حسین اور ان کا طرزِ بیان نہایت درجہ لطیف تھا۔ وعظ فرماتے تھے اور روایات، درایات، احکام، معاملات کے عالمِ متبحر تھے۔ بعض اہلِ تصوف ان کی تعریف میں بے حد مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں (80)۔
ابو سعید خزاز کہتے ہیں کہ میں شروع سے ہی ان سے ارادت رکھتا تھا۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا اے بیٹے! اپنے ارادت کے مقام کو لازم پکڑو تاکہ ہر چیز کی خبر سے تمہیں آگاہی حاصل ہو (81)۔
حضرت منصور طوسی فرماتے ہیں پاک ہے وہ جس نے عارفوں کے دل محلِ ذکر، زاہدوں کے دل موضعِ توکل، متوکلوں کے دل منبعِ رضا، درویشوں کے دل جائے قناعت اور اہلِ دنیا کے دل محلِ طمع بنائے۔ یہ چیز قابلِ غور ہے کہ باری تعالیٰ نے ہر عضو کی اس کے حس اور فعل میں نسبت رکھی ہے۔ ہاتھوں میں پکڑنے کی قوت ہے، پاؤں میں چلنے کی، آنکھوں میں دیکھنے کی، کانوں میں سننے کی، زبان میں بولنے کی، ان سب کے وجود ظہور میں کچھ تفرقہ نہیں، دلوں کا منہاج الگ الگ ہے۔ جدا جدا ارادے، علیحدہ علیحدہ خواہشیں۔ ایک دل عفت کا مقام ہے، دوسرے میں بہ جز گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک قناعت سے لبریز ہے۔ دوسرے میں صرف طمع ولالچ ہے۔ علی ہذا القیاس دل قدرتِ حق کا عجیب مظہر ہے (82)۔
آپ صاحبِ کرامات بزرگ تھے۔ مشائخ میں ان کا مقام بہت اونچا تھا۔ واقفِ طریقت وکاشفِ حقیقت تھے اور بے مثال واعظ تھے۔ اکثر صوفیاء نے آپ کی تعریف وتوصیف میں بیان لکھے ہیں۔ آپ دراصل عراق کے رہنے والے تھے۔ بعض آپ کو بصرہ کے رہنے والے بتاتے ہیں۔
ابو جعفر الکربنی
علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ ابو جعفر الکربنی ؒحضرت شیخ معروف کے تلامیذ میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت جنید بغدادی کے اچھے تعلق داروں میں سے تھے۔ ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر، شعبہ دینیات جامعہ الازھر تاریخِ بغداد کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ حضرت جنید کا عراق کے ان علماء اور صوفیاء سے باقاعدہ تعلق قائم ہوا تھا۔ جو بغداد میں رہتے تھے۔ جن عراقی شیوخ کے ساتھ ان کا تعلق تھا ان میں سے ایک ابو جعفر الکربنی بغدادی تھے۔ کہاجاتا ہے کہ اس زمانہ میں ان کا بغداد کے زاہد مرتاض لوگوں کی اکثریت پر اثر تھا۔ بغداد میں وہ اپنے پیوند لگے ہوئے کپڑوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ کہتے ہیں مرنے سے پہلے انہوں نے وصیت کی جس میں انہوں نے اپنا وہ خرقہ اپنے ایک دوست کو مرحمت فرمایا۔ اس نے دیکھا کہ اس کپڑے میں اتنے پیوند لگے ہوئے تھے کہ صرف اس کی آستین کا وزن چھ سات کلو کے قریب تھا (84)۔
جامی لکھتے ہیں کہ آپ نے بڑے بڑے عرفاء مشائخ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا اور حضرت جنید کے قریبی ساتھی تھے۔ جعفر خلدی لکھتے ہیں جنید بغدادی کربنی کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا جس روز اس کا انتقال ہوا۔ سر آسمان کی طرف کیا ہوا تھا۔ ابو جعفر نے کہا! یہ بڑی دور کی بات ہے کہ اپنا سر زمین کی طرف نیچے ڈالا اور کہا یہ بڑی دور کی بات ہے۔ یہ اس بات کی ترجمانی کررہا تھا کہ اِنَّ الحق اقرب الٰی لعبد من ان یشار الیہ فی وجہہ! یقینا اللہ تعالیٰ بندے کی طرف اس کے چہرے کے اشارے سے بھی قریب ہے (85)۔
بہر حال حضرت شیخ معروف کا یہ شاگرد بڑی عظمت ِ مقام کے مالک تھے۔ ان کی زندگی ان کے دوستوں اور شاگردوں کے لئے یقینا ایک نمونہ ومثال کا کام دیتی ہے۔ ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر لکھتے ہیں۔ وہ اپنے مذہبی مجاہدہ وریاضت، اپنی خواہشات کی تسخیر اور روح کے ایک صحیح عملِ تطہیر کی بدولت ایک صوفی کی حیثیت سے نہایت ہی بلند مرتبہ پر فائز ہوئے۔ غالباً حضرت جنید ابن الکربنی کے فکرونظرسے اتنے متاثر نہ ہوئے جتنا کہ ان کے عملی تصوف، ان کی عادات اور طرزِ زندگی سے (86)۔
شیخ ابو بکر القنطریؒ
علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ بغداد میں حضرت شیخ معروف کے شاگردوں میں ایک شیخ ابوبکر القنطری کا تذکرہ ملتا ہے۔ آپ کا پورا نام شیخ ابو بکر بن محمد بن مسلم عبدالرحمان القنطری ہے۔ ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر لکھتے ہیں کہ قنطری نے حضرت معروف کرخی، اور بشر بن الحارث الحافی کی صحبت پائی تھی۔ اور بغداد میں اپنے تقویٰ اور درویشانہ زندگی کی بدولت مشہور تھے۔ حضرت جنید اکثر قنطری کے ہاں جایا کرتے تھے (87)۔
لکھتے ہیں قنطری خلوت پسند اور کم گو آدمی تھے اور کافی نادار تھے اور سفیان ثوریؒ کا مجموعہ احادیث ایک نہایت ہی قلیل معاوضہ پر نقل کرکے اپنی گزر بسر کا سامان کرتے تھے۔ ۲۶۰ھ میں ان کا انتقال ہوا۔ ان حضرات کے علاوہ حضرت شیخ معروف کرخی کے بہت سے شاگرد ہوں گے جنہوں نے آپ سے احادیث وروایات کی تعلیم حاصل کیں اور علم وعرفان کے بحر ذخار سے موتی سمیٹے۔ ابن الجوزی کے علاوہ بعض سیرت نگاروں اور تصوف پر لکھنے والوں نے بھی اظہار کیا ہے کہ حضرت شیخ معروف کے شاگردوں میں حضرت ابو حفص حداد، ذوالنون مصری، سری سقطی وغیرہ ہیں۔
حضرت شیخ معروف قدس اللہ سرّہٗ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے دینِ اسلام کی بڑی خدمات سرانجام دیں۔ ان کی یہ کوشش اور کئی فتنے فرو کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ چونکہ دوسری صدی ہجری میں فلسفہ ومنطق اور ذہنی انتشار کا دور دورہ تھا۔ یہ سب لامرکزیت کو قلب اور روحانی طاقتوں سے دور کرتے ہوئے اجتہاد واستنباط کا شعور پیدا فرماتے رہے۔ اور علمائِ اسلام کو تحقیق اور اجتہاد کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیابیاںحاصل کیں۔اس سلسلے میں صوفیاء کرام نے بہت قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ دین ِاسلام اُن کی جہدِ مسلسل اور تحاریر وتقاریر اور تبلیغ واشاعت سے خوب پھلا پھولا۔ بغداد کے مدرسہ تصوف نے اس کارِ خیر کی فتوحات میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ اُن میں حضرت معروف کرخی، سری سقطی، جنید بغدادی، ابن الکربنی، المحاسی، ابو حفص حداد، القنطری، یحییٰ بن معاذ رازی، اور یوسف بن حسین رحمہم اللہ اجمعین سر فہرست ہیں (88)۔
مکتب صوفیہ کی ہیئت
اسلامی تاریخ و سیر کی کتب بینی سے معلوم ہوتا ہے کہ حیات رسولﷺ میں جو طبقہ اہل صفہ کی شکل میں موجود تھا اس نے دین حق کو باطل سے خلط ملط ہونے سے بچائے رکھا ۔ آنحصورﷺ کے روحانی فیوض اور معنوی برکات کی موجودگی میں دین و دنیا کی خوب آسودگیاں حاصل کیں۔ شریعت اور طریقت کے علوم کی روشنی میں ریاضت و مجاہدوں کے روح پرور مشاغل کے ذریعے نفس و شیطان کے عوائق سے ہر کوئی بچا رہا ۔ مسلمان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد رہے جب لوگوں میں خواہشات کی دنیا آباد ہونے لگی صوفیاء کرام نے دین کے تحفظ کا اچھا انتظام کیا مگر یہ انتظام کسی مادی قسم کا نہیں تھا فقط تزکیۂ نفس کا عمل تھا۔
علم تصوف ایک وسیع و عمیق سمندر ہے جس کی گہرائی اور گرائی کا اندازہ کوئی کامل انسان ہی کرسکتا ہے۔ اس مسلک صوفیہ کی ترویج و تعمیر میں دوسری صدی ہجری کے مسلمان اہل عرفان پیش پیش نظر آتے ہیں۔
مدرسہ بغداد کے مشاہیر اولیاء کرام نے اسلام کی حقیقی روح کو پھر سے زندہ کیا۔ تصوف دراصل اسلام کی حقیقی روح ہے اور اسلام کا دوسرا خوبصور ت نام ہے جس طرح اسلام کی بنیاد شریعت ہے۔ تصوف اس کے عملی اظہار کا نام ہے۔ تصوف اور صوفیہ کے معانی و اشتقاق کی طرف ہر لکھنے والے نے خوب طبع آزمائی کی ہے لیکن ہم یہاں ان اختلافات اور اعتراضات کے الجھنوں میں نہیں پڑتے ہم یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ صوفیہ ان پاکیزہ نفوس اولیاء ذوی الاحترام کا عملی اور اصلی پوشاک ہے۔ مسلک تصوف کی تعمیر و ترویج اور تعلیمات کو عام کرنے کی طرف توجہ دینے والی ہستیوں کے سوانح و سیر پڑھتے ہیں۔ حضرت شیخ معروف کرخی ؑ اور سری سقطی کا مقدس وجود نمایاں نظر آتا ہے۔ جیساکہ ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر طبقات اسلمی کے حوالے سے لکھتے ہیں۔
بغداد میں سری سقطی پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے تصوف کے ذریعے توحید کا درس عام کیا اور پہلے پہل حقیقت کا علم لوگوں کو سکھایا وہ اشارات (علم و عرفان) میں بھی اہل بغداد کے رہنما تھے۔
قشیری بتا تے ہیں کہ وہ زہد ورع ، بلند فکر اور علم توحید میں یکتائے روزگار تھے۔ (جنید بغداد ۴۲)
اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ:
سری سقطی کہا کرتے تھے کہ مجھے جو کچھ حاصل ہوا سب حضرت شیخ معروف کرخی کی صحبت کا فیض ہے۔ (جنید بغداد ۴۶)
مزید لکھتے ہیں کہ یہ امر قرین قیاس ہے کہ حضرت جنید نے یہ خیالات اور اصطلاحات سری سقطی سے اخذ کی ہیں اور انہوں نے معروف کرخی سے بہر صورت ہمیں معروف کرخی کے اقوال میںحق اور صدق کا کافی ذکر ملتا ہے اور یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ بغداد کے اندر معروف کرخی سری سقطی اور جنید پہلے اشخاص تھے جنہوں نے حقائق کے بارے میں گفتگو کی۔ ( جنید بغدا ۴۷)
حضرت معروف کرخی مدرسہ صوفیہ بغدادکے اولین معلم ہیں۔ آپ وہ ہستی ہیں جو تصوف کو عرب اور عجم کے تقسیم سے منزہ رکھتی ہے ۔ آپ کرخ بغداد سے تعلق رکھتے تھے جیساکہ ہم نے کتاب میں آپ کے ابتدائی حالات میں واضح کیا ہے لیکن کتاب جنید بغداد ۴۶ پر حضرت معروف کرخی کو ایرانی نژاد قرار دیا گیا ہے۔ تاہم حضر ت معروف مدرسہ صوفیہ بغداد کے معلم ہونے میں کوئی شک تردد نہیں ہے۔ آپ نے زندگی کا آغاز بغداد سے اور عملی زندگی کا عروج طوس ایران سے کیا ہے۔ اس طرح آپ راہ تصوف میں عرب اور عجم کے سنگم پر کھڑے نظر آتے ہیں۔

مدرسہ بغداد کا پہلا معلم:
قشیری لکھتے ہیں کہ :
حضرت شیخ معروف مدرسہ صوفیہ بغداد کے صدر معلم تھے اور آپ کا مسلک صوفیہ تھا۔ آپ قدمائے مشائخ میں شمار ہوتے ہیں ان کے علاوہ بغداد کے پیش رو مشائخ کی فہرست میں حضرت سری سقطی، جنید بغدادی، ابوعبدللہ الحارث ابن اسدالحاسیی، امام احمد بن حنبل، ابوجعفر محمدطوسی، ابوجعفر الکرنبی بغداد کی شیخ ابوبکر محمد بن مسلم ، عبدالرحمن القنطری ابو حفص عمر بن سلمی الحداد نیشاپوری، ابوجعفر یحییٰ بن حصاف رازی، طیفور بن عیسیٰ المعروف بایزید بسطامی ابو یعقوب یوسف بن حسین ابن علی الرازی کے نام آتے ہیں لیکن ان سب کا استاد اور شیخ حضرت سری سقطی تھے اور حضرت سقطی کا مرشد اور استاد حضرت شیخ معروف کرخی ؑ ہیں۔ اس طرح معروف کرخی اپنی نظریاتی حصار میں صوفیانہ تعلیمات کا مرکز و منبع اور رئیس المشائخ ہیں اور وہ حضرت امام علی رضا کے فیضان سے اس منزل کو پہنچے۔ ان کے بعد جن اولیاء کرام کا تعلق تصوف اور مسلک صوفیہ سے ہے ان میں سے اکثر بزرگوں نے تقلید پر تحقیق کو ترجیح دی ۔ اسلام کے ساتھ حقیقی رشتہ قائم کرنے کے لیے تصوف کا مسلک اختیار کیا اور دین و دنیا میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ علم و فضل میں بڑا نام پیدا کیا ان کا عالم اسلام میں آج بھی عزت و تعظیم کے ساتھ تذکرہ کیا جاتا ہے۔
شہر بغداد کے تہذیبی انقلابات کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا تیسری صدی ہجری سے لے کر نویں صدی ہجری کے درمیان کئی تحریکوں نے سر اٹھایا ۔ تاریخ شاہد ہے۔ اسلامی کاز نے یہاں کئی ارتقائی مراحل طے کیئے ۔ اجتماعی ، اقتصادی ، سیاسی اور روحانی وغیرہ سے علاقے خوب متاثر ہوئے ۔ یہاں گوناگوں تعلقات کے تہذیبی و ثقافتی اثرات نے بڑی تیزی سے اثر انگیزی دکھائی اور قریہ قریہ اور منزل بہ منزل علمی و فنی رجحانات نے درخشاں کارنامے انجام دیئے۔ الہیات ، فروعات ، ادب و لسانیات تاریخ اور فلسفے کے میدانوں میں نمایاں خدمات انجام پائیں۔
ابومحاسن کی النجوم الزاہرہ کے حوالے سے ڈاکٹر علی حسن لکھتے ہیں کہ مذہب کے دائرے میں ایک جدید تحریک سامنے آئی اور وہ تھی بغداد کا مدرسہ تصوف یہ عراقی مدرسہ اپنی ابتداء ہی سے کچھ ایسی خصوصیات کاحامل تھا جو اسے تمام دوسرے مدارس سے ممیز کرتی تھیں۔
بغداد شہر جو اہل عرفان و تصوف کا مرکز اور گڑھ تھا وہاں بہت سارے مشائخ تصوف کی آخری آرامگاہیں ہیں، ان میں سے حضرت شیخ معروف کرخی ، حضرت شیخ جنید بغدادی، حضرت شیخ شبلی، حضرت بشر حانی، حضرت حسین منصور، حضرت شیخ بہلول دانا، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، حضرت شیخ حارث محاسبی ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ،شیخ نجم الدین کبریٰ، حضرت شیخ سری سقطی، حضرت نجم الدین رازی، حضرت شیخ احمد مروق ، حضرت شیخ دائود طائی، ابوالحسن الحضرم وغیرہ کے علاوہ دیگر علماء ، فضلاء فقہا اور آئمہ عظام کے آستانے موجود ہیں ۔ (ریاض السیاحہ بستان السیاحہ ۱۴۶)
بغداد اگرچہ حوادثات زمانہ سے بار بار دوچار ہوتا رہا کئی طرح کے فتنوں نے جنم لیا ۔ شہر کو نذر آتش تک کیا گیا لیکن سماجی اور روحانی طبقوں نے بغداد میں جنت ارضی بسانے کی مثال قائم کرکے اس شہر کو علم و ہنر فن و ثقافت ، تہذیب و تمدن اور تصوف و عرفان کا گہوارہ بنادیا چنانچہ بغداد کا یہ صوفی مدرسہ ان وقتوں میں نہایت اہم قرار دیا جاتا تھا اور نہ صرف معاصر اسلامی افکار پر اس کے اثرات بہت گہرے تھے بلکہ تمام صوفیہ پر آج کے زمانے تک اس کے اثرات واضح طور پر مرتب ہوتے رہے۔ اس مدرسے نے خدا اور انسان کے بارے میں از سر نو بحث و استبصار کا دروازہ کھولا ۔ ذاتی تجربے کی خوب اہمیت جتائی اور یوں ہر اس روایتی تصور کی چو لہیں ہلا ڈالیں جو اس وقت تک مسلمہ سمجھا جاتا تھا لیکن روایتی تصورات کو متنزلزل کرنے کے ساتھ اس نے اسلامی روایات کو ایک نئی زندگی اور نیا آہنگ بھی عطا کیا اور انہیں عام سطح سے اٹھا کر نئی اخلاقی تخیلاتی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ بغدادی مدرسہ تصوف تھا جس نے اخلاقی معیارات اور مسلمانوں کی دینی روح کے ظاہری اور اندرونی جذبات کو بلند ترین رفعتوں پر فائز کیا تھا (جنید بغداد ۱۷)۔
حضرت شیخ معروف کرخی اپنے روح پر ور عمل عبادات میں مشغول رہے اور امام و مرشد کی خدمات کرتے رہے۔ مگر حیرت یہ ہے کہ ان اوصاف کے باوجود کوئی تالیف یاد گار نہ چھوڑ سکے۔
مدرسہ بغداد کا دوسرا معلم
بغداد کے مدرسہ صوفیہ کا دوسرا معلم حضرت شیخ سری سقطی تھے آپ نے علوم شریعت و طریقت کے فیوض حضرت شیخ معروف کرخی سے ہی پائے تھے۔ اس طرح وہ حضرت معروف کا شاگرد، مرید اور خلیفہ مجاز بھی تھے۔ تصوف کی تعلیمات عام کرنے میں زندگی صرف کی۔ آپ نے اپنے گھر کو مرکز فیوض و علوم بنایا تھا۔ ہم ان بزرگان دین کے اسماء گرامی تحریر کرتے ہیں جنہوں نے حضرت سری سقطی کے در فیوض سے شریعت اور طریقت کا علم حاصل کیا اور معرفت الٰہی کے علمبردار اور مکتب صوفیہ کے مشاہیر مشائخ میں شامل ہوگئے۔ ان میں سب سے پہلے حضرت سری سقطی کا اپنے بھانجے حضرت شیخ جنید بغدادی کا نام نامی قابل ذکر ہے۔ سری تمام بغدادیوں کا شیخ تھے بلکہ آپ جملہ مشائخ صوفیہ کے استاد ہیں۔ طبقہ ثانیہ کے مشائع عظام نے آپ کے علمی و روحانی سرچشمے سے فیوض و برکات کے جام بھرے اور وقت کے مقربین کے درجات پر فائز ہوگئے۔
آپ کے شاگردوں میں حضرت جنید بغدادی کے علاوہ حضرت شیخ النوری، حضرت ابن مسروق الطوسی، حضرت ابراہیم المخزومی اور العباس الشکلی جیسے مشاہیر متصوف کے نام آتے ہیں ۔
ڈاکٹر علی حسن لکھتے ہیں:
حکیم یونان سقراط کی طرح سری سقطی نے بھی اپنی کوئی تحریر پیچھے نہیں چھوڑی ان کے اقوال کا بیشتر حصہ ہمیں جنیدبغدادی کے واسطہ سے پہنچا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات جنید نے اپنے ہی مطالب سری کی زبان سے ادا کیے ہوں ۔ اس امر کے پیش نظر کہ جنید پر سری سقطی کا اثر بہت گہرا تھا۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت جنید کے بغیر ہم سری سقطی کی اہمیت کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتے ہیں ۔ سری اور جنید کے باہمی تعلق کی تصویر اگر ہم کھینچنا چاہیں تو ہم انہیں سقراط اور افلاطون سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ حضرت جنید نے تصوف کا باقاعدہ نظام مرتب کیا اور اسے باقاعدہ تحریر میں لے آئے ۔ سقطی تصوف کے مسائل پر تقریباً افلاطونی مکالمہ کے انداز میں صرف زبانی اظہار خیال کرتے رہے۔ وہ بحث چھیڑتے، سوالات کرتے اور اپنے حلقہ میں مسائل کا فہم و شعور پیدا کرتے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ ایک علمی اور عملی صوفی تھے۔ اس بناء پر ہم سقطی کو تصوف کے بغدادی سکول کا بانی مان سکتے ہیں ۔ یہ سکول شام اور خراسان کے معاصر مدرسہ ہائے تصوف سے کچھ مختلف تھا۔ (جنیدبغداد ۴۵)
دوسری جگہ لکھتے ہیں سری سقطی جنید کو جو تعلیم دیتے تھے وہ عموماً بحث کی شکل میں ہوا کرتی تھی۔ سقطی ان کے ساتھ کسی مسئلہ پر بحث کرتے اور پھر جنید سے اسی طرح سوالات کرتے جس طرح سقراط اپنے شاگردوں سے سوالات کیا کرتا تھا۔ جنید اس بارے میں کہتے ہیں۔ جب بھی سری سقطی چاہتے ہیں کہ میں ان کی تعلیم سے کچھ اخذ کروں تو وہ مجھ پر سوالات کرتے ہیں۔ (بحوالہ رسالہ قشیری)
مدرسہ صوفیہ بغداد کا طرئہ امتیاز اس کے اشارات نیز مدارج تصوف اور مقام صوفی کے موضوعات پر ان کی بحثیں تھیں۔ اس سکول کے ممتاز افراد کو اسی لیے’’ ارباب توحید ‘‘ کا لقب دیا جاتا ہے اور ان کے نمونے ہمیں جنید، النوری اور السقطی میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس اسکول کی ایک اورخاص صفت اس وجہ سے ہے کہ اہل عراق یوں بھی اپنی فصاحت و بلاغت میں مشہور تھے۔ اس بارے میں حضرت جنید کا ایک قول ہے کہ شام میں بہادری اور اولوالعزمی ہے۔ عراق میں فصاحت و بلاغت اور خراسان میں وفا و اخلاص ملتا ہے(رسالہ قشیری) ۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت سری سقطی نے اپنے زمانے کے ممتاز محدثین مثلاً الفضیل، ہیشم، ابن عباس، یزید بن ہارون، سفیان بن عینیہ اور دوسرے لوگوں سے حدیث سنی تھی جس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے وقت کی باقاعدہ مدرسی تربیت کے فوائد حاصل تھے اور یہ کہ ان کا مرتبہ اس وقت کی تعلیمی دنیا میں کوئی انجانی چیز نہیں تھی۔ اس اعتبار سے ان کے تصوف کی بنیاد درسی تعلیم پر تھی اور قرآن حکیم کی عملی اور درسی تعلیم کی مطابقت میں ہی اس نے نشودنما پائی تھی۔دراصل تصوف کے اس موضوع کا سربستہ راز اور فلسفیانہ مزاج ہی صرف ایک ایسی چیز تھی جو اسلام میں نئی تھی۔ اس کے نتائج اخذ کرنے کا طریق نیا تھا۔ (جنید بغداد ۴۶)
جناب خان آصف صاحب لکھتے ہیں کہ علم حدیث اور فقہ حاصل کرنے کے بارے میںخود حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ یہ بھی میرے ماموں کی محبت اور التفات کا نتیجہ ہے کہ میں ان علوم کی طرف متوجہ ہوا ۔ اگر سری سقطی میری رہنمائی نہ فرماتے تو میں حدیث اور فقہ سے ناآشنا رہ جاتا اور مروجہ تصوف کی پر پیچ گلیوں میں ساری زندگی بھٹکتا رہتا ۔ میں ایک دن حضرت سری سقطیؒ کی خدمت میں حاضر تھا اچانک ماموں مجھ سے مخاطب ہوئے اور نہایت جذب کے لہجے میں فرمایا کہ:
جنید میں حق تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں ایسا محدث بنائے جو علم تصوف سے بھی آگاہ ہو مگر ایسا صوفی نہ بنائے جو علم حدیث سے بھی آشنا ہو۔ حضرت سری سقطی کے اس قول کی وضاحت یہ ہے کہ آپ حدیث و فقہ کے علم کو اولیت دیتے تھے۔
جنید فرماتے ہیں۔ میں نے ساری زندگی اپنے محترم ماموں کی اس نصیحت کو پیش نظر رکھا اور سب سے پہلے حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا بعد میں حضرت ابو عبداللہ حارث محاسبیؒ کی صحبت حاصل کی اور یہی میری کامیابی کا راز ہے۔ علم تصوف کو قرآن و سنت کے تابع رہنا چاہئے (اللہ کے سفیر ۱۵)
جنید فرماتے ہیں میں حدیث اور فقہ میں (صاحب) سند کا درجہ حاصل کرنے کے بعد حضرت سری سقطی سے عرض کی کہ اب مجھے کیا حکم ہے؟
حضرت سری سقطی نے فرمایا کہ تم شیخ ابو عبداللہ حارث محاسبیؒ کی خدمت میں حاضری دو اور ہدایت کی ان سے تصوف کی تعلیم حاصل کرو۔ (اللہ کے سفیر ۱۶)
حضرت سری سقطی کے طرز تعلیم کے بارے میں جنید فرماتے ہیں کہ حضرت سری سقطی کے روحانی اسباق بہت سادہ نظر آتے ہیں مگر ان کی گہرائی کو سمجھ کر عمل پیرا ہونا دشوار ہے۔ حصرت جنید بغدادی نے پیرو مرشد کے درس کو بغور سنا اور اس پر سختی کے ساتھ عمل کیا ۔ یہاں تک کہ آپ پر معرفت کے عجیب عجیب اسرار منکشف ہونے لگے۔ (اللہ کے سفیر ۱۸)
مدرسہ بغداد کے مشاہیرو صوفیوں میں حصرت ابو سعید الحزاز، حضرت شیخ ابن عطا رالاعظمی، حضرت شیخ ردیم، ابوحمزہ، محمد ابراہیم بغدادی، ابو عبدللہ عمر بن عثمان المکی، ابوالحسن محمد ابن اسماعیل، ابوبکر نساج ، ابواحمد مصعب، القلانیسی ، ابوالحسن سمنون ، ابوالعباس احمد ابن محمد ابن مسروق ، ابویوسف الخداد الکبیر جیسی اہم شخصیات حضرت شیخ سری سقطی کے تلامذہ میں شمار ہوتی ہیں۔
علاوہ ازیں مدرسہ بغداد کے فضلاء کی فہرست میں الجریری ، شبلی اور حسین ابن منصور حلاج جیسے مشاہیر کے نام ملتے ہیں۔ مگر مدرسہ بغدا د کا وجود تصوف کے ارتقائی مراحل کے وسط میں ہونا ثابت ہے یعنی یہ پہلی صدی ہجری سے لے کر دوسری صدی ہجری تک کے حلقہ صوفیہ میں مروج تصوف سے ہم آہنگ نظر آتا ہے لیکن مدرسہ بغداد کے اندر معروف کرخی سری سقطی اور جنید بغداد کا وجود صدر نشین لگتا ہے۔ حضرت سری سقطی کا طرز تعلیم اور انداز بیان نہایت سادہ مؤثر اور دلکش تھا۔(اللہ کے سفیر ص۲)
مدرسہ بغداد کا تیسرا معلم
اب تک ہم نے جن اسماء گرامی کو مندرجات بالا میں شامل کیا ہے وہ سب کے سب مدرسہ بغداد کے سربرآوردہ شخصیات ہیں اور حضرت جنید کو ان معاصرین زمانہ پر بڑی فوقیت حاصل تھی۔ آپ کو تصوف میں شیخ معروف کرخی اور حضرت سری سقطی کے بعد اونچا مقام حاصل تھا۔ جنید کی عالی شان حیثیت نے اہل تصوف کو ایک نئی تحریک اور نئے انقلاب کا راستہ دکھا دیا۔ وہ اپنے دور کے اعلیٰ پائے کے صوفی تھے۔ حضرت جنید کے شاگردوں اور ان کے ہم عصر بزرگوں نے مدرسہ بغداد کا نام اوج ثریا تک پہنچا دیا بلکہ اسلامی معاشرے میں موجود تمام علمی ذہنی ، معاشرتی ، سیاسی اور اجتماعی جمود کو فروغ تازہ سے باخبر کر دیا اور نمود حیات کا مظہر بنا دیا۔حضرت جنید کا خاندانی نام تو جنید بن محمد تھا کنیت القاسم تھی۔ آپ نے فقہ کی تعلیم حضرت ابوثور سے حاصل کی۔ تصوف کے رموز و نکات حضرت حارث محاسبی سے سیکھے اورخرقہ خلافت مشہور صوفی بزرگ حضرت سری سقطی سے حاصل کیا جو آپ کا حقیقتی ماموں بھی تھے ( اللہ کے سفیر۵)۔
حضرت شیخ عطار لکھتے ہیں کہ :
حضرت جنید بغدادی ؑ واقف طریقت ، ماہر شریعت چشمہء انوار الہٰی منبع فیوض لامتناہی تھے۔ آپ تمام امور کے ماہر تھے۔ اس زمانہ کے لوگوں نے آپ کو شیخ الشیوخ ز اہد کامل عالم عامل اور عارف ماہر مان لیا تھا، سب آپ کے مداح تھے ۔ آپ کو لوگ سید الطائفہ ( صوفیوں کے سردار) لسان القوم ، طائوس العلماء اور سلطان المحققین کے القاب سے یادکرتے تھے۔ ( تذکرۃ الاولیا ۲۴۲)۔
ڈاکٹر علی حسن تاریخ بغدا د کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ابوالقاسم جنید ابن محمد ابن الجنید الخزاز القواریری اگر چہ بغداد ہی میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی لیکن ان کے آبائو اجداد ایران میں صوبہ جبال کے شہر نہادند کے رہنے والے تھے (جنید بغداد ۳۱)۔
آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں علماء اہل قلم کا شدید اختلاف پایا جاتا ہے لیکن حضرت میر سید محمد نوربخش آپ کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ حضرت جنید صوفیائے کرام کی جماعت کے سردار ہیں ۔ القاسم جنید ابن محمد الزجاج ہیں آپ بغداد میں ۲۰۷ ہجری میں پیدا ہوئے ۔ آپ اصل میں ملک ایران کے مقام نہاوند سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے آبائو اجداد شیشہ گری اور بوتل سازی کا کام کرتے تھے۔ آپ ریشمی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت جنیدنے تعلیم و تربیت مکمل کرنے سے پہلے اپنی توجہ تصوف کی طرف مبذول کی اور حارث المحاسبی کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا (جنید بغداد ۳۳)۔
تاریخ بغداد کے حوالے سے ڈاکٹر علی حسن لکھتے ہیں کہ متکلمین نے حضرت جنید کو دیکھا اور ان کی تعریف کی تھی کہا جاتا ہے کہ ابوالقاسم نے جو ایک نمایاں معتزلی تھے نے بیان کیا کہ میں نے بغداد میں ایک شیخ کو دیکھا کہ جنید کے نام سے پکارے جاتے ہیں ۔ میری آنکھوں نے ان کا مثیل آج تک نہیں دیکھا ۔ اہل قلم ان کے یہاں اسلوب اظہار سیکھنے کے لیے آتے ہیں ۔ فلاسفہ ان کے پاس ان کے گہرے خیالات سے استفادہ کرنے آتے ہیں۔ شعراء کو ان کے یہاں تصورات ملتے ہیں۔ علوم دینیہ کے ماہر ان کے درس کے مضامین سے کسب فیض کرتے ہیںاور ان کی گفتگو کی سطح بلحاظ شعور اور ادراک علمیت اور بلاغت ان سب کی سطح سے بلند ہوتی ہے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب ابو محمد بن کلاب نے عبداللہ بن سعید العطان سے تمام دوسرے فرقوں کی تردید میں اپنی کتاب مکمل کر والی تو اس نے دریافت کیا۔ کیا کوئی دوسرا فرقہ ایسا ہے جس کی تردید مجھ سے رہ گئی ہو؟ لوگوں نے جواب دیا ہاں صوفیہ کا فرقہ اس نے پوچھا ان کا رہنما کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ! جنید اور سری ۔ اس پر ابن کلاب جنید کے پاس گیا اور ان کے عقائد کے بارے میں ان سے کچھ سوالات کیے اور جب ان کے خیالات سنے تو ابو محمد کلاب حضرت جنید کے حلقہ درس میں شامل ہوا ( جنید بغداد ۳۸)۔
آپ کے علمی اور شخصی کمالات کے بیان میں حضرت سید محمد نور بخش رقمطراز ہیں کہ:
آپ بڑے ذہین اور ہونہار تھے ۔ اپنے ماموں سری سقطی کے ساتھ سات سال کی عمر میں (پہلا) حج کیا اور آپ نے علم اور فقہ کی تعلیم ابوثور کلبی ، ابراہیم بن خالد یمان سے حاصل کی جب آپ بیس سال کے ہوئے تو آپ عالم کامل تھے ۔ لوگوں کو فتویٰ دیتے اور لوگوں کا مرجع بن گئے (مشجرالاولیاء ج ۲ ص۱۲)۔
حضرت سید علی ہجویری لکھتے ہیں کہ حضرت جنید تمام اہل ظاہر اور اہل باطن دونوں میں مقبول تھے۔ فنون علم ، اصول ، فروغ اور معاملات میں کامل تھے ۔ ابوثور کے مصاحبوں میں شامل تھے عالی کلام اور بلند احوال تھے تمام اہل تصوف آپ کو امام طریقت تسلیم کرتے ہیں اور کسی مدعی یا متصوف کو اس پر اعتراض نہیں (کشف الحجوب ۲۰۷)۔
حضرت شیخ عطار لکھتے ہیں ۔ آپ کا مسلک اکثر صوفیہ نے اختیار کیا۔ (تذکرہ ۲۴۳)
اس سے یقین ہوتاہے آپ کا مسلک صوفیہ تھا اور اسی مسلک میں وقت کا امام اور صاحب روش تھا جو دوسرے تمام فرق میں بھی آپ کو امتیازی مقام حاصل تھا اور سید الطائفہ تھے چنانچہ حضرت میر محمد نوربخش رقم طراز ہیں کہ آپ صلحاء اور طریقہ الی اللہ کے شیوخ کی صحبت میں رہتے مثلاً اپنے ماموں سری سقطی، حارث المحاسبی اور محمد بن علی القصاب بغدادی جیسے بزرگوں کے پاس رہتے اور آپ ظاہری اور باطنی علوم میں جہاں تک پہنچے اس سے ظاہر ہے آپ صوفیاء کے آئمہ کبار میں سے ہوئے صوفیا کے تمام طریقوں کا اکثر سلسلہ آپ ہی تک پہنچتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو سید الطائفہ کا خطاب دیا گیا ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ تصوف کی اکثر جماعتیں اور ان کا سلسلہ حضرت جنید بغدادی تک منتہی ہوتا ہے (مشجرہ الاولیاء ج ۲ ص ۱۲۷) چنانچہ آپ کا سلسلہ تصوف زیادہ طاقتور اور کامل ترین بھی ہے اس لیے آپ کا سلسلہ تصوف ام السلاسل صوفیہ کہلاتا ہے جو عرفانی میدان میں اولیاء کا سنگم اور علم و حکمت میں قرآن و سنت کا مظہر ہے۔
جنید اور طائفہ بغداد
اس میں کوئی شک نہیں کہ بغداد اسلامی علوم وفنون کا مرکز تھا جہاں سے ہر قسم کے علمی، فنی،سیاسی، سماجی، اقتصادی اور روحانی رجال پیدا ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اپنے زمانہ میں کمال شہرت کی منزلوں تک رسائی حاصل کی۔ ان میں سے بعض نے علمِ سیاست واقتصادیات میں، بعض نے فنون سپاہ گری و شہسواری میں،بعض نے خلافت وملوکیت کے زمام سنبھال رکھنے میں، بعض نے تاریخ وعمرانیات میں، بعض نے تصوف وروحانیات میں عظیم کارنامے یادگار چھوڑے ہیں۔ اور ان میں سے بعض رجالِ حدیث کے، بعض فقہ اور اصول کے ، بعض تصوف وروحانیات کے امام گزرے ہیں۔
ہم تصوف اور بغداد کے اُن رجالِ تصوف کو جاننا چاہیں گے جن کی بدولت روحانیات کے میدان میں سفر کرنے والوں کوبڑی رہنمائی ملی۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بغداد کا مدرسۂ تصوف تیسری صدی ہجری میں عروج پر تھا۔ تصوف کے بڑے بڑے اولیائِ کرام بغداد اور اس کے مضافات میں اپنی روحانی اور عرفانی قوت آزمارہے تھے۔ لوگوں کو اپنے روح پرور مواعظ وارشادات سے اپنا گرویدہ بنارہے تھے۔ ان اولیائِ کرام، متصوفین عظام کی سربرآوردہ شخصیتیں حضرت جنید اور ان کے ماموں حضرت سری سقطی اور محاسبی جیسے عابد وزاہد لوگ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان بزرگوں نے تصوف اور روحانیات کا فلسفہ کہاں سے حاصل کیا۔ ان کا مرجع اور منبع کہاں ہے؟ اسے معلوم کرنے کے لئے آئیے تاریخ کے اوراق چھانٹتے ہیں۔
معروف شیعی مؤرخ، ماہر عمرانیات اور محدث شیخ عباس قمی لکھتے ہیں۔ مشہور ہے کہ طریقت کے سلسلہ کا رأس اور رئیس حضرت شیخ معروف کرخی ہے۔ اس کا طریقہ سری سقطی تک پھر ان سے جنید تک ان سے شبلی تک پہنچتا ہے۔اس میں کوئی تردّد کی بات نہیں کہ جنید بغدادی نے سری سقطی سے اور سری سقطی نے حضرت شیخ معروف کرخی سے سب کچھ حاصل کیا۔ جیسا کہ خود سری سقطی فرماتے ہیں کہ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ حضرت شیخ معروف کرخی کے طفیل سے حاصل ہوا (89)۔
جیسا کہ آپ کی تربیت وتعلیم کی ذیل میں پڑھ چکے ہیں کہ مدرسہ بغداد کے صدر نشین اولیائِ کرام نہایت جلال ووقار اور علم وفضل کے حامل لگتے ہیں۔ مسندِ ارشاد کے عرش پر متمکن نظر آتے ہیں وہ حضرت جنید وسری سقطی اور پھر ان کے وہ عظیم استاد ہیں جن کے طفیل سے تصوف وعرفان کی دبستانِ علم وعمل فلسفۂ توحید وخشیتِ الٰہی سے معمور بن گئی۔ ان ذواتِ مقدسات کے ذریعے اسلامی تصوف نے ارتقائی منزلیں طے کی۔ حقیقت یہ ہے قرونِ اولیٰ میں اسلام ایک سیدھا سادہ مذہب تھا۔ جسے لوگ اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتے تھے۔ لوگوں کے دلوں میں خدا خوفی، ایمان، اور ایقان کا جذبہ موجزن تھا۔ دین وہ رسول خدا ﷺ کی زبانِ مطہر سے سن چکے تھے۔ ان کی تعلیمات کو دروس ومحافل کی ایمان افروز فضاؤںمیں دلوں پر نقش کرچکے تھے۔ لیکن پہلی صدی ہجری گزرنے کے بعد لوگوں کی زندگیوں میں نفسانی جذبات نے عروج پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فقیرانہ زندگی کی کثرت عبادات، ذکر وفکر، خدا خوفی اور پارسائی کی روشنیاں ماند پڑچکی تھیں۔ لوگوں کے مزاج میں کافی تبدیلی رونما ہوگئی تھی۔ مسلمانوں کے باہمی نزاع اور اختلافات کے عفریت نے سر اٹھالیا تھا۔ فتوحات کی وسعت، دولت کی چکاچوند ، ریل پیل نے اسلامی اخلاق وعادات میں نفسا نفسی کا طوفان بپا کردیا تھا۔
ان حالات میں مدرسہ بغداد نے بڑی تیزی سے ایسے مجاہدوں کی روحانی فوج تیار کرلی، جن کے ذریعے اطرافِ عالم دورِ رسالت کی ضیاپاستیوں سے پھر سے فیض یاب ہونے لگے۔ اور شیخ معروف کے روحانی ورثے کو انسانی نسل کے پاکیزہ نفوس میں منتقل کرنے لگے۔ بغداد کا مدرسہ تصوف جنید بغدادی کی روحانی قوتوں کی مرہونِ منت تھا۔ اس مدرسہ کی بنیادوں میں حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کی مساعی کو اولیت حاصل ہے۔ اس لئے حضرت جنید فرماتے ہیں۔ میں سات سال کا تھا۔ اپنے ماموں سقطی کے سامنے کھیل رہا تھا ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے آپ سے ’’شکر‘‘ کے بارے میں تبادلۂ خیال کررہے تھے۔ یکایک میرے ماموں نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا ارے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے شکر سے کیا مراد ہیـ؟ میں نے کہا شکر سے یہ مراد ہے کہ انسان اس خدا کی نافرمانی نہ کرے، جو اتنے انعامات سے اس کو نوازتا ہے۔ اس پر میرے ماموں بولے بہت ممکن ہے کہ خدا کی طرف سے تمہیں جو عطیہ ملا ہے۔ وہ تیری زبان ہی ہو۔ جنید کہتے ہیں اب بھی جب میں اپنے ماموں کی اس بات پر غور کرتا ہوں تو میری آنکھیں پرنم ہوجاتی ہیں (90)۔
حضرت سری سقطی اپنے زہد اور ورع میں بہت مشہور تھے۔ السلمی بیان کرتے ہیں کہ بغداد میں سری پہلے شخص تھے۔ جنہوں نے تصوف کے ذریعے توحید کا درس عام کیا۔ اور پہلے پہل حقیقت کا علم لوگوں کو سکھایا۔ وہ اشارات میں بھی اہلِ بغداد کے رہنما تھے۔ قشیری بتاتے ہیں کہ وہ زہد وورع، بلندی فکر اور علمِ توحید میں یکتائے روزگار تھے۔ ان کے شاگردوں میں جنید کے علاوہ النوری، ابن مسروق، الطوسی، محمد بن فضل السقطی، ابراہیم المخزمی اور العباس الشکلی تھے (91)۔
حضرت سری سقطی حضرت جنید کے مرتبہ سے بخوبی آگاہ تھے جس کا ثبوت اس روایت سے ملتا ہے۔ ایک دن حضرت سری سے پوچھا گیا۔ کیا ایک مرید کا مرتبہ اس کے مرشدِ روحانی سے بلند ہو سکتا ہے؟ کہنے لگے، ہاں اور اس کا واضح ثبوت بھی موجود ہے۔ جنید کا مرتبہ مجھ سے بلند ہے (92)۔
اسلامی تصوف کے بغدادی مدرسہ کا بانی سری سقطی ہیں۔ جن کے روح رَسا ذہن میں حضرت شیخ معروف قدس اللہ سرہٗ کے درخشاں روحانی اثرات نقش ہوچکے تھے۔ چونکہ آپ نے یہ فرمایا کہ مجھے جو کچھ حاصل ہوا ہے۔ سب معروف کی صحبت کا فیض ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت معروف نے یہ علم حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے درِفیوض سے دربانی کرتے ہوئے حاصل کیا۔ اس فصلِ پُربہار میں امام علی رضا ہو، معروف ہو ، سر ی سقطی ہو یا جنید بغدادی ہو،سبھی گل ہائے چمن ہیں۔ یہی فضائے تصوف وروحانیت کے آسمان کے درخشاں آفتاب وماہتاب ہیں۔جن کی تعلیمات کا مرکز ومنبع اور مرجع علومِ طریقت مرتضوی و شریعتِ مصطفوی ہیں۔
حضرت سید علی ہجویری لکھتے ہیں کہ اس مکتبۂ تصوف کے لوگ ابوالقاسم جنید بن محمد بغدادی کا اتباع کرتے ہیں۔ جنید اپنے زمانہ میں طاؤس العلماء مشہور تھے۔ اس طائفہ کے سردار تھے۔ اور اماموں کے امام (93)۔
آپ کے شاگردوں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے جس کی وجہ سے آپ کو سید الطائفہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اصل ارادت تو اپنے ماموں سری سقطی سے درست رکھی مگر حارث محاسبی اور محمد قصاب کی بھی صحبت حاصل تھی۔ آپ کے شاگردوں میں ابو سعید خزاز ، ابوالحسن نوری، ابو علی رودباری، ابوبکر شبلی، روہم بن احمد، عمروبن عثمان مکی، زیاد الکبیر ہمدانی، ابوبکر کسائی دینوری، ابو محمد جریری، غیلان سمرقندی، ابوجعفر خفار، ابو جعفر فرغانی، ابو بکر واسطی، ابوبکر دقاق، کبیر بصیر، ابوبکر کتانی بغدادی، ابوبکر بن ابو سعدان بغدادی، ابوبکر عطوفی وجعفر بن محمد خلدی، عبداللہ بن محمد رازی شفرانی کے علاوہ بہت بڑی جمعیت آپ کے مرید اور شاگرد گزرے ہیں (94)۔
ان کے علاوہ حضرت جنید کے ساتھ تعلق قائم کرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔ شیخ ابوبکر محمد القنطری جنہوں نے سری سقطی اور شیخ معروف کرخی کی بھی صحبت پائی تھی۔ ابو حصص عمر بن سلمی حداد نیشاپوری شیخ خراسان تھے۔ یحییٰ بن معاذ، بایزید بسطامی، یوسف بن الحسین وغیرہ نے بھی آپ کی صحبت پائی اور روحانی فیوض حاصل کئے۔
مدرسہ بغداد کے صدر نشین اساتذہ میں شیخ معروف اور سری سقطی نے کوئی تالیف نہیں چھوڑی، تاہم جنید اپنے رسائل اور مکتوبات کی بدولت صاحبِ تالیف ٹھہرے۔ آپ کے مکتوبات اور رَسائل کو لوگوں نے مختلف ناموں سے موسوم کیا۔ یعنی جس جس ’’مکتوب‘‘ یا ’’رسالہ‘‘ میں جس مسئلہ پر گفتگو کی گئی ہے انہیں کتاب کا نام دیا گیا۔ کتاب التوحید، کتاب الفنائ، کتاب المیثاق وغیرہ ورنہ یہ کوئی منظم تالیفات نہیں ہیں۔ یقینا اِن ہستیوں کاروحانی مدارج کے معاملات میں استغراق کی بنا پر ظاہری علوم کی نشر واشاعت کی طرف دھیان نہ گیا۔ جس طرح ابو نعیم اصفہانی خود لکھتے ہیں کہ معرو ف کرخی کو بہت سے علوم حفظ تھے مگر حفظِ علوم نے روایات احادیث بیان کرنے سے روکا ہوا تھا (95)۔
ابن جوزی بھی اس انداز کو اپناتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ عبادات وریاضت میں مصروف رہنے کی وجہ زیادہ روایاتِ حدیث نہ کرسکے (96)۔
لیکن معروف کرخی، سری سقطی اور جنید بغدادی جیسے شیوخ کی ارشاد وفیوض نے عرب وعجم کے تمام صوفیاء کرام کو متاثر کیا۔ عراق، مصر، شام، خراسان، بسطام، ہمدان، نیشاپور، شیراز، سمنان، مزدقان وغیرہ کے علاوہ پاک وہند کے صوفیاء کرام وحدت الوجودی نظریہ کے قائل ہوگئے۔ اور ان کے ریاضت ومجاہدے کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپناتے رہے یوں طائفہ بغداد نے اسلام کی اصلی روح کو دنیا میں عام کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دیا۔
مدرسہ بغداد کے ان سرخیل مشائخ حضرت معروف کرخی، حضرت سری سقطی اور حضرت جنید بغدادی نے جن صوفیانہ عقائد اور اصطلاحات نیز روحانی نظریات کو عام کیا ان سے حضرت ابوحامد محمد غزالی جیسے علماء بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ بغداد کے اندر معروف، سقطی اور جنید پہلے اشخاص تھے جنہوں نے حقائق کے بارے میں گفتگو کی۔
تصوف کے بارے میں حضرت جنید فرماتے ہیں کہ ہم نے اس تصوف کو قیل و قال اور جنگ و کارزار سے حاصل نہیں کیا بلکہ بھوکا رہنے، بے خواب رہنے، اپنی دنیا سے ہاتھ اٹھانے اور نفس کی پسندیدہ چیزوں سے علیحدہ ہوجانے سے حاصل کیا ہے۔ جنید یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا ایک خاص حصہ ہوتاہے ۔ نماز کا خاص حصہ تکبیر تحریمہ ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جنید ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے جب ان کے بھائی ان کے پاس آئے تو ان کے ساتھ روزہ افطار کرتے تھے اور کہتے کہ بھائیوں سے موافقت کرنے کا اجر روزے کے اجر سے کم نہیں ہے (مشجرالاولیاء ج۲ ص۱۲۸)۔
کہتے ہیں سری کی حیات میں لوگوں نے جنید کو وعظ کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے قبول نہیں کیا اور فرمایا کہ جب تک میرے شیخ طریقت موجود ہیں میں کلام نہیں کرسکتا۔
ایک رات حضورﷺ کو دیکھا انہوں نے جنید سے فرمایا۔ لوگوں کو اپنا کلام سنائو ۔ خدا نے تمہارے کلام کو خلق کے لیے ذریعہ نجات بنایا ہے۔ بیدار ہوئے تو دل میں خیال آیا۔ اب میرا مقام شیخ طریقت سے بلند ہوگیا ہے کیونکہ حضور ﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ صبح ہوئی تو سری نے ایک مرید بھیجا اور حکم دیا کہ جب جنید نماز سے فارغ ہو تو ان سے کہنا کہ مریدوں کے کہنے پر وعظ شروع نہ کیا۔ مشائخ بغداد کی سفارش بھی رد کردی ۔ میں نے پیغا م دیا مگر راضی نہ ہوئے۔ اب تو حضو ر رﷺ کا حکم ہے بجا لائو ۔ جنید کی آنکھیں کھلیں اور معلوم ہوگیا کہ سری ان کے امور ظاہر و باطن سے واقف ہیں ۔ ان کا درجہ بلند تر ہے کیونکہ وہ جنید کے اسرار سے واقف ہیں اور جنید ان کے حال سے بے خبر۔ جنید سری کے پاس حاضر ہوئے توبہ کی اور دریافت کیا۔ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے مجھے حکم کلام دیا ہے؟ فرمایا خواب میں ہاتف غیب نے بتایا کہ حضور ﷺ جنید کو وعظ کرنے کا حکم فرما گئے ہیں تاکہ بغدا دکے لوگ مستفید ہوں۔ اس بات کی دلیل ہے کہ شیخ طریقت اپنے مریدوں کے ہر حال سے باخبر ہوتا ہے۔ سید علی ہجویری ؑ لکھتے ہیں ۔ حضرت جنید بغدادی کے دل میں جو سری کے مرتبہ کے متعلق جو خیال گزرا تھا ، وہ بالکل کافور ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں مجھے معلوم ہوگیا کہ سری میرے تمام ظاہری اور باطنی حالات سے آگاہ رہتے ہیں اور ان کے مرتبہ مجھ سے بلند تر ہے۔ اس لیے ان کو تو میری باطنی امور کا علم رہتا ہے لیکن مجھے ان کے باطنی مقامات سے آگاہی نہیں ہوتی ۔ جنید کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد میں ان کے گھر گیا اور ان سے دریافت کیا کہ انہیں میرے اس خواب کا کیسے علم ہوگیا جس میں پیغمبر خداﷺ کو میں نے دیکھا تھا ۔ کہنے لگے میں نے خواب میں خدا تعالیٰ کو دیکھا فرماتے تھے کہ میں نے اپنے پیغمبرﷺ کو بھیجا ہے کہ جنید سے وعظ و ارشاد کی بابت کہے حضرت جنید کے اساتذہ بھی بڑے قابل قدر فضائل و اوصاف کے حامل تھے ہر کوئی علم و فضل اور مقامات روحانیت میں ماہر روزگار تھے جن میں بشر بن حارث، سری، ابو ثور، محاسبی، القصاب، الکربنی، قنطری اور ثوری جیسے وقت کے ممتاز اساتذہ کی صحبت و تعلیم نے آپ کو بہت متاثر کیا۔ ان کے علاوہ بہت سے غیر عراقی صوفیاء کرام اور اہل علم و حکمت کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔ ان میں حضرت ابو حفص حداد، حضرت یحییٰ بن معاذرازی، حضرت یوسف بن حسین، حضرت محمد بن علی اور حضرت محمد بن مسروق طوسی اور ابن الحسین ہمدانی وغیرہ کے روحانی فیوض و برکات سے بھی شرفیاب ہوگئے۔ ان کے علاوہ حضرت شیخ یعقوب زیات جیسے کامل صوفی سے بھی اخذ فیض کیا اور ان کی صحبت نیک اثر سے اپنی علمی اور روحانی درجات میں بلند درازی کے گر سیکھے (نفحات الانس)۔
حضرت جنید فرماتے ہیں کہ میں نے دو سو اساتذہ سے اکتساب علم کیا مگر یہ اہل طلب کی کم نصیبی ہے کہ وہ حضرت جنید بغدادی کے چند ہی استادوں کے حالات اور ناموں سے باخبر ہوسکے باقی بزرگوں کے اسماء گرامی اور حالات زندگی پر گہرا پردہ پڑا ہوا ہے ۔ تاہم جن اساتذہ کے نام اور علمی کارنامے تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نابغہ روزگار انسان تھے اور ان کے اسی بے داغ ہاتھوں نے اس لالہ صحرائی کی حنابندی کی تھی ( اللہ کے سفیر ۳۰)۔
حضرت سری سقطی نے بڑے عجیب انداز سے آپ کی روحانی تربیت کی وہ آپ کو مختلف انداز تعلیم اور صوفیانہ روحانی اشاروں نیز قلبی واردات کے ذریعے علم و عرفان اورایمان وایقان کے خزانوں سے باخبر کرتے تھے۔
ان کے علاوہ جن علمی اور روحانی شخصیات نے آپ کو میدان تصوف کے لالہ زاروں سے مطلع کیا سب کے سب اپنی اپنی جگہ قابل رشک واقعات ہیں لیکن عالم تصوف کے اس عظیم امام اور سردار نے مدرسہ بغداد کے معلم ہونے اور پیر شریعت ہونے کے جو روشن کردار انجام دیا اور بہت سے متلاشیان حق کے تاریک سینوں کو انوار فیوض سے سیراب فرماتے ہیں گو اہل ایمان آج بھی ان کی تعلیمات حق شناس سے مستفید ومستفیض ہو رہے ہیں لیکن جن لوگوں نے آپ کے فیوض علم و فضل اور روحانی بحرذخار سے علم معرفت حاصل کیں۔ ایسے باوصف افراد کے متعلق حضرت جنید خود نے اپنے راز دار دوست کے نام کسی مکتوب میں لکھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اللہ کے ذکر سے آباد کر رکھی ہیں اور اپنی عمر عزیز کی مہلتیں پاکیزہ اور بافضیلت اعمال میں بسر کی ہیں ۔ اس طرح وہ مخلوق خدا کے لیے اپنے نیک آثار چھوڑ گئے ہیں اور دنیا کے لیے ان کے انوار کی تابانیوں نے نہایت واضح صورت اختیار کی ہے پس جس کسی نے بھی ان کے نور کی تابانی سے روشنی حاصل کی ۔ اس نے راہ دیکھ لی اور جو بھی ان کے نقش قدم پر چلا اس نے ہدایت پالی اور جس نے بھی ان کی سیرت کا اتباع کیا وہ بامراد ہوا اور کبھی نامرادی کا منہ اس نے نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوںکو ایک دائمی زندگی جینے کے لیے بخشی ہے ا ور جب انہیں موت دیتا ہے سلامتی کی موت دیتا ہے (جنید بغدادی ۲۴۷) آپ کی حیثیت کو زمانے کے جن بزرگوں نے پہچان لیا اور ان کی صحبت پائی ان میں سے ابوالحسن منہاج، ابوالعباس سروق، ابوطالب اخمینی، ابویعقوب برجوزی، ابراہیم الخواص، ابوعبدللہ الخاقان، ابواحمد قلانسی، ابوالعباس بن عطا، ابو ثابت ابراہیم رازی، ابوعثمان حیری نیشاپوری، محمد بن افضل بلخی، صمشادنیوری، ابوعبدللہ مغربی، محمد بن طاہر مقدس، ابوعمرودمشقی، ابوبکر دفاق، عبداللہ بن محمد الخزاز، ابوحامد برنجی، ابوجعفر صید لانی ابوالحسن الوراق، ابوالحسن ہاشمی، ابوبکر طاہر ابہری، محمد بن ابراہیم مصری، ابوعلی محمدمشفقی، عبداللہ بن محمدالمرتعش بغدادی، ابوالحسین بن ہند فارسی، ابو عبداللہ حنیف شیرازی، یوسف بن الحسین رازی، علی بن سہل اصفہانی و شیخ علی جو رجانی کے نام معروف ہیں ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگ آپ کے چشمہء فیوض سے فیض پائے( ریاض السیاحہ۰ ۷۷)۔
صوفیہ کا نظریاتی حصار، توحید
بغدادی مدرسہ تصوف کا اصل موضوع یقیناً توحید تھا اور اس مدرسہ کے افراد اپنے معاصرین میں ارباب توحید کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے اس توحید کی معرفت کی تلاش میں بہت سی خطرناک بلندیوں کو جالیا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے خاص عقائد اور اصول وضع کیے ان کا ایک نظام قائم کیا اور حقیقی طور پر ان کی تعلیم دینے لگے اس رازداری کو قائم رکھنے کی خاطر وہ اپنے خیالات اور تعلیمات کا اظہار ایک ایسی اشاراتی زبان میں کرتے تھے جو اس مقصد کے لیے وضع کی گئی تھی (جنید بغدادی ۸۰)۔
یاد رہے! یہ اصول و فروغ جس انداز سے وضع تھے اہل تصوف کا اپنی ایجاد قطعاً نہیں تھی بلکہ تصوف کے اصول و فروغ حقیقت میں جتنے عرفانی مباحث و مظاہر ہیں قرآن و سنت سے ماوریٰ نہیں ہیں بلکہ حیات رسولﷺ کے چشمہ ء توحید اور صدق عمل کے ضیاء بارآثار سے مستنیر ہیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ تصوف کی بنیاد کتاب و سنت کی تصریحات پر ہے۔ فی ھذا الامر لان عندنا مقید بالکتاب والسنۃ ۔ تصوف کے معاملے میں عقیدہ یہ ہے کہ ہماے ہاں یہ علم مقید بہ کتاب و سنت ہے (تعلیمات غزالی ۲۰) حضرت جندی سے کسی نے پوچھا کہ تمہارا مسلک کیا ہے؟ تو فرمایا میں محدت اور فقہ ہوں میرا مسلک قرآن و سنت سے ماخوذ ہے (اللہ کے سفیر ۸۳) حضرت امام غزالی ؒ کتاب مجربات میں لکھتے ہیں کہ امیر المومنین امام المتقین سیدنا و مولانا حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں جس نے کہا فی اللّٰہ یعنی خدا کے اندر اس نے بیشک خدا کا وصف بیان کیا لیکن اس نے شرک کیا جس نے کہا فیم اللّٰہ یعنی اللہ کس چیز میں ہے ۔ اس نے اس کو محدود کیا اور جس نے کہا علی مَا اللّٰہ یعنی خدا کس چیز پر ہے اس نے بھی خدا کو محدود کیا جس نے خدا کو محدود کیا اس نے خدا کے ساتھ کفر کیا۔ پس توحید میں یہ انتہا کی نظر ہے (اخرجہ ، ابونعیم مجربات غزالی ۲۸)۔ ایسی باریک اور جرأت مندانہ تحقیق میں صوفیاء کرام یدطولیٰ رکھتے ہیں ۔ مدرسہ بغداد کے معروف ہوں یا سری ، محاسبی ہوں یا جنید یا ان کے شاگرد اصفیاء سب کے سب توحید الوہیت میں نہایت مخلص اور موحد تھے۔ سنت خیر الانام کے شیدا اور محافظ و مجاہد تھے (مقدمہ نفحات الانس)۔
حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی لکھتے ہیں ۔ شیخ عبدالواحد سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ کے نزدیک صوفی کون ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ میرے نزدیک صوفی وہ لوگ ہیں جو اپنی عقل کے حساب سے سنت رسول للہ ـ ﷺ کے فہم پر قائم ہیں ۔ اس لیے آپ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ بس سوائے صوفیہ کے اور کون احیاء سنت کرے (عوارف المعارف ۱۹۱)۔
صوفی وہ ہے جس کے دائیں ہاتھ میں قرآن اور بائیں ہاتھ میں سنت نبوی ہو یعنی دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرے (تذکرئہ اولیائ۲۴)۔
جیساکہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں ۔ علم اسرار ہی علم توحید ہے جس کی صراحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں موجود ہے جو اس نے رسول اللہ ﷺ کو حکم کیا کہ قل ربِّ زدنی علماً اے پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما۔ اس زیادتی علم سے مراد توحید کے ساتھ کثرت اور معرفت خداوندی کے ساتھ تعلق ہونا ہے۔ اس میں اس کی تمجید زیادہ کرنے کی رغبت ہے اور اس کی تمجید پر اس کا فضل بے انتہا زیادہ ہے۔ اس سے زیادہ طلب کرنے کا انقطاع ہے جب کسی کو یہ علوم و اسرار حاصل ہوجائیں تو جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے جو بھی اسے پہنچے گا وہ اس کی تائید کرے گا تو بے شک یہ علم توحید کی زیادتی ہے دوسرے علم کی نہیں ( فتوحات مکیہ۲۱۷)۔ اس لیے بہترین مجالس کی وضاحت میں جنید بغدادی فرماتے ہیں:
اشرف المجالس واعلاھا الجلوس مع الفکرۃ فی میدان التوحید۔
یعنی شریف ترین اور بزرگ ترین مجلس وہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کی توحید کے بارے میں فکر کیا جائے جیساکہ حضرت حذیفہ یمانی ؓ فرماتے ہیں کہ:
اجلس ساعۃً حتی اؤمن۔ ایک گھڑی رک جائو تاکہ میں ایمان لاسکوں کیونکہ حقیقی ایمان یہ ہے کہ دل کو غیر اللہ سے صاف کرے اور حق تعالیٰ کو یکتا سمجھے۔ (ریاض السیاحہ ۷۷۰)
صوفیہ یہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی توحید حیطۂ بیان میں نہیں آسکتی۔ حضرت جنید کہتے ہیں کہ توحید کے متعلق سب سے عمدہ قول حضرت ابوبکرؓ کا ہے کہ تعریف ہو خدائے عزوجل کی جس نے اپنے بندوں کو اپنا علم حاصل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ عنایت نہیں فرمایا۔ سوائے ان کے عجزو بے بسی کے جو انہیں اس کا علم حاصل کرنے میں درپیش آتی ہے۔ اس سے یقیناً یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت جنید کے نزدیک توحید ادراک عقلی کے دائرے سے ماورا کوئی چیز نہیں۔ یہی مفہوم غالباً حضرت جنید کے ان اقوال کا ہے۔ توحید ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے روکنے کے نشانات مٹ جاتے ہیں ۔ علامات مدہم پڑجاتی ہیں اور ذات خداوندی جیسی تھی ویسے ہی رہتی ہے۔ اسی بات کو وہ اور زیادہ وضاحت کے ساتھ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ اگر فہم کا ادراک توحید پر جاکے ختم ہوتا ہے تو یہ گویا ایک حالت ثبات و قرار ہے۔ توحید پر وضاحت کرتے ہوئے حضرت جنید علیہ الرحمہ مختلف انداز اختیار کرتے ہیں۔ توحید ایک ایسا مفہوم ہے کہ باوجود یکہ ان میں اتنا مکمل اور ہمہ گیر علم و عمل ہے۔ اس کی پوری تعریف اور وضاحت ہونا ناممکن ہے۔ دراصل تمام صوفیہ اس حقیقت سے اور اپنی کمزوری سے آگاہ کرتے ہیں کہ وہ توحید کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے نہ اسے زبانی گفتگو میں واضح کرسکتے ہیں ۔ ان کے نزدیک عقل کی مدد سے اس کی تہہ تک پہنچنا ممکن ہے (جنید بغداد۱۳۱)۔
ایک شخص نے حضرت جنید سے سوال کیا کہ توحید کیا ہے؟
حضرت جنید نے فرمایا! یقین ہی کا نام توحید ہے۔ اس نے پھر سوال کیا کہ یقین کسے کہتے ہیں؟ حضرت جنید نے فرمایا تیرا یہ سمجھنا کہ خلقت کی تمام حرکات و سکنات خدائے وحدہ لاشریک کے حکم سے ہیں۔ جب تجھے یہ عرفان حاصل ہو جائے تو سمجھ لے کہ توموحد ہوگیا۔ حضرت جنید فرمایا کرتے تھے کہ بیس سال ہوئے کہ علم توحید کی بساط تہہ کرکے رکھ دی گئی ۔ اب تو لوگ صرف اس کے گرد وپیش اور آس پاس کی باتوں پر بحث کرتے ہیں (اللہ کے سفیر ۷۳)۔
مدرسہ بغداد کے فضلاء کمال اولیاء کرام میں صوفیانہ طرز فکر کی بہت وسعت تھی۔ حضرت جنید ان سرخیل لوگوں میں شامل ہیں جو علم توحید پر کمال دسترس رکھتا تھا۔ انہوں نے توحید کے وسیع مضمون کو چند جملوں میں سمویا ہے۔ اہل قلم محققین کے ہاں یہ مشہور جملہ متداول طور پر ذکر ہوتا رہا ہے جس کی مختلف اہل عرفان نے اپنے اپنے نقطہ نظرسے تفسیر کی ہے آپ نے فرمایا توحید قدیم کو محدث سے جدا کرنے کانام ہے۔اس کے معنی یہ ہیں۔
اول: جو ہرقدیم کو جوہر محدث سے الگ کرنا ۔ دوسرے لفظوں میں جو ہر وجود مطلق سے وابستگی رکھنا اور تمام دوسری مخلوق اور اشیاء کو رد کر دینا۔
دوم: جوہر وجود مطلق کی صفات کو تمام دوسری صفات سے الگ کرنا دوسرے لفظوں میں صرف وجود مطلق کی صفات سے وابستگی رکھنا اور تمام دوسری صفات کا ابطال کر دینا۔
سوم: اعمال کو علیحدہ کرنا یعنی اعمال خداوندی کو الگ کرکے باقی جملہ قسم کے اعمال کا رد کرنا۔ وجود مطلق کے صفات اور اعمال بھی دونوں اس کے جوہر میں اس قدر مکمل طور پر مدغم ہیں کہ وہ شخص جسے یہ مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس ’’توحید حقیقی‘‘ کا ادراک کرسکے یہ دیکھتا ہے کہ جوہر صفات اور اعمال سب کے سب ذات خداوندی کے جوہر میں پوری پوری طرح مدغم ہیں وہ اس نتیجے پر اس وجہ سے پہنچتا ہے کہ اس مقام پر وہ خود بھی ذات خداوندی میں مدغم ہوتا ہے (جنید بغداد ۱۳۳)۔
حضرت غیاث نوربخش لکھتے ہیں کہ حقیقی توحید کا ادراک کشف کے سوا سیر نہیں اور مکشوفات کے ساتھ عقل کی نسبت ایسی ہے جیسے معقولات کے ساتھ حواس کی نسبت ہے۔
جب وحدت حقیقی کے نور کے ادراک سے عقل عاجز ہے ۔ محمود شبستری فرماتے ہیں ؎
خرد رانیست تاب نور کہ روئے
برد از بہر خود چشمے دگر جو
اصطلاحی آنکھ سے اسے دیکھا نہیں جاسکتا وہ آنکھ جو حق تعالیٰ کا ادراک کرسکے آنکھ دل کی ہے، جسے بصیرت کے نام سے پکارتے ہیں ۔ جب تک ریاضت و سلوک کے کحل الجواہر یعنی موتیوں کے سرمہ سے یعنی نفس کی پاکی دل کی صفائی اور روح کی روشنائی سے آنکھ روشن نہ ہو وہ دوست کے جمال کا دیدار شہود کے طریق سے نہیں کرسکتی (شرح گلشن راز ۲۸)۔
حضرت محمود شبستری فرماتے ہیں ؎
کلامی کوندارد ذوق توحید
بتاریکی درست ازغیم تقلید
وہ متکلم جس کو ابھی ذوق توحید نہیں ملا، تقلیدی گھٹا تو اب اندھیروں میں گھرا ہوا ہے۔
یہ لوگ عقلی دلائل نقل کرنے والے ہیں یعنی متکلم جسے توحید حقیقی میں عیانی طور پر ذوق حاصل نہ ہو جس نے وحدت حقیقی کا نور ، مکاشفہ والی آنکھ کے ساتھ نہ دیکھا ہو۔ صرف تقلید کی رو سے دلائل نقل کرتا ہو وہ اس کی اصل حقیقت سے مطلع ہونے والا نہیں ہے تو وہ اس تقلید کے بادل کی وجہ سے شکوک و شبہات کے اندھیرے میں پڑا ہوا ہے ( شرح گلشن راز ۴۰)۔
حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو پہچان لے اس کی زبان گنگ ہوجاتی ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تو کسی فقیر کو دیکھے تو اس سے علم کی بات پہلے نہ کر بلکہ پہلے نرمی سے پیش آکیونکہ علم سننے سے وحشت ہوگی اور نرمی سے وہ انس حاصل کرے گا اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ سے غافل ہونا جہنم میں جانے سے زیادہ سخت ہے (مشجرالاولیا ج ۲ ص ۱۳۷)۔
حضرت میر سید علی ہمدانی لکھتے ہیں۔ دنیا کے تمام فہم اور عقول جن سے ہماری مراد فرشتے یا رسول ، انبیا ء ، اولیاء ، حکماء ، علماء ، جن اور انسان ہیں ، ان سب نے جو کچھ سمجھا ، دیکھا ، سنا یا لکھا خدا کی عظمت کے سامنے اور جلال الٰہی کے روبرو اس کا اندازہ ایسا ہے جیساکہ سمندر کے مقابل قطرہ ہو یا اس سے بھی کم ، کمتر اور کمترین جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ :
وما قدروا اللہ حق قدرہ ولا یحیطون بہ علماً۔
خدا کی قدر انہوں نے نہ جانی وہ علم کے زور سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے (ذخیرۃ الملوک ۱۳)۔
اللہ تعالیٰ پر اعتقاد رکھنے کے سلسلے میں صوفیہ یوں اظہار کرتے ہیں۔ اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ اللہ واجب الوجود بذات خود زندہ ہے جاننے والا ہے ، سننے والا ہے ، دیکھنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، صاحب ارادہ ہے اور صاحب کلام ہے اس کا علم عرش و کرسی ساتوں آسمان و زمین اور ان میں وجود اشیاء سے لے کر ہر چیز پر محیط ہے۔ بالائے عرش اس کے علمی وجود کے سوا کوئی بھی چیز نہیں ۔ وہ مکان کے اعتبار سے نہیں بلکہ شان کے لحاظ سے بلند و بالا ہے۔ اس کی کوئی انتہا نہیں وہ نور الانوار ہے اس کا نہ کوئی جسم ہے نہ اس کی کوئی کثافت ہے اور نہ ہی اس کا کوئی رنگ ہے وہ تو ان چیزوں سے پاک ہے۔ وہ پیغمبروں اور ولیوں کا معبود ہے ( اسی طرح سے پیغمبروں اور ولیوں کے نقوش اقدام پر چلنے والے تمام انسانوں کا معبود ہے) اس مقام پر انبیاء علیھم السلام اسے حیً اور علیم ً کے نام سے اولیا کرام حضرت علمیہ کے نام سے حکماء لوگ عقل کل اور نفس کل کے نام سے یاد رکھتے ہیں ۔ ان گروہوں میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی مختلف اصطلاحی عبارتوں سے مراد صرف اللہ ہی ہے۔ وہ اس مقام جبروت میں تمام چیزوں سے بالکل پاک اور ان سے بے نیاز ہے۔ اس کا نور آسمان کو روشنی کا فیض پہنچاتا ہے اس مقام پر انبیاء علیھم السلام اسے رب خالق اور رازق کے نام سے یاد رکھتے ہیں ۔فیضان نور کے ان مظاہر کو اولیاء کرام صفات افعالیہ اور ملائکہ سماویہ کے نام سے اور حکماء لوگ عقول فلکیہ ، نفوس فلکیہ ، قوائے فلکیہ ، ملکات اور روحانیات کواکب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ روحانیات عناصر اربعہ (آگ ، پانی ، ہوا اور مٹی) موالید ثلاثہ (حیوانات ، نباتات اور جمادات) کو فیضان کرتی ہیں ۔ فیضان روحانیات کے اس مقام پر اللہ کے ان مظاہر کو انبیاء علیھم السلام مخلوقات کے نام سے اولیاء کرام صفات آثاریہ اور ارواح منطبعہ کے نام سے اور حکماء لوگ قوائے منطبعہ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان کی اصطلاحی عبارتوں سے اللہ پاک کی ذات و صفات اور آثار مراد ہیں (کتاب الاعتقادیہ ۲۴)۔
ان تمام آثار کے ثبوت میں فلسفی اپنے علم و گیان پر ناز کرتے ہیں جوکہ سراسر خطا اور سزا کے مستحق ہیں جبکہ علم و عرفان حقیقت کے علمبردار قرآن و سنت کو ہی قابل اعتماد اور معتبر سمجھتے ہیں بزبان شاعر ؎
فلسفی کو اپنی عقل نارسا پر ناز ہے
مرد مومن کو خدا و مصطفی پر ناز ہے
آپ کا شجرۂ طریقت
حضرت غوث المتاخرین میر سید محمد نوربخش رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ابو محفوظ حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کا روحانی سلسلہ نو پشتوں سے مقتدائے عالَم پیغمبر اکرم سرورِ دو عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ شجرۂ طریقت کی یہ کڑیاں آپ سے اوپر اس طرح ہیں۔حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ جو کہ شیوخِ طریقت کی صدارت کے قابل ہیں، ان کے شیخ مشرق ومغرب کے امامِ ہدایت حضرت امام علی رضا ؑہیں۔ ان کے شیخ آپ کے والدِ ماجد حضرت امام موسیٰ کاظم ؑہیں۔ ان کے شیخ آپ کے والد ماجد حضرت امام جعفر صادق ؑہیں۔ ان کے شیخ آپ کے والد ماجد حضرت امام محمد باقر ؑہیں۔ ان کے شیخ آپ کے والد ماجد حضرت امام زین العابدین ؑہیں۔ ان کے شیخ آپ کے والد ماجد سید الشہداء حضرت امام حسین ؑہیں۔ ان کے شیخ آپ کے والد ماجد مرشد وراہنمائے طریقت حضرت امام علی مرتضیٰ ؑہیں۔ ان کے شیخ آپ کے مرشد ومقتدیٰ عالَم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
اور یہ سلسلۂ طریقت آپ کے بعد سے حضرت امام محمد نوربخشؒ تک اٹھارہ پشتوں سے آپہنچتا ہے۔
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کا مرید حضرت سری سقطی تھے۔
ان کے مرید حضرت جنید بغدادی تھے،ان کے مرید حضرت شیخ ابو علی کاتب تھے، ان کے مرید حضرت شیخ ابو عثمان مغربی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ ابو بکر نساج تھے، ان کے مرید حضرت شیخ احمد غزالی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ عمار بدیسی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ تھے، ان کے مرید حضرت شیخ علی ابن لالا تھے، ان کے مرید حضرت شیخ احمد ذاکر جرجانی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ عبدالرحمان اسفرائنی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ محمود مزدقانی تھے، ان کے مرید حضرت میر سید علی ہمدانی تھے، ان کے مرید حضرت شیخ خواجہ اسحاق ختلانی تھے، ان کے مرید حضرت میر سید محمد نوربخش تھے۔
حضرت سید محمد نوربخش قدس سرّہٗ العزیز کا یہی سلسلہ سلسلۂ ذہب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ عالمِ تصوف میں بہر صورت یہ سونے کی زنجیر ثابت ہوتا ہے جس کا تسلسل یدٍ بیدٍ بلا انفصال حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچتا ہے (97)۔
جناب معروف کا عہد
حضرت معروف کرخی قدس اللہ سرّہٗ کا زمانہ دوسری صدی ہجری کا زمانہ ہے۔ اسلام کے پہلے ڈیڑھ سو سال میں زہد کا زور تھا۔ اس کے بعد کے زمانہ میں زہد تصوف کی صورت اختیار کرنے لگا۔
رسالہ قشیری میں ہے کہ دوسری صدی کے ختم ہونے سے پہلے صوفی کی اصطلاح عام طور پر استعمال میں آنے لگی۔ اور نفحات الانس میں ابوالقاسم قشیری کی نسبت جو ۱۵۰ھ میں فوت ہوئے لکھا ہے۔
’’اول کسیکہ وی را صوفی خوانند وی بود‘‘۔
یعنی قشیری وہ شخص ہیں جو سب سے پہلے صوفی کہلائے (98)۔
حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرّہٗ جن کا زمانہ زہد اور تصوف کا درمیانی زمانہ ہے۔ چنانچہ تصوف کی پہلی تعریف انہوں نے کی۔ اور فرمایا کہ تصوف نام ہے اخذ حقائق کا۔ یعنی حقائقِ الٰہیہ کا علم۔ حضرت معروف کرخی کا زمانہ ہارون رشید کا زمانہ تھا (99)۔
لیکن ملا زین العابدین شیروانی لکھتے ہیں۔
گویند روزے بارادہ بود آں مقدار ازدحام روئے نمود کہ از کثرت خلق صدقہ بآن حضرت رسید وفات یافت وایں در سنہ ودیست در زمانِ خلافت مامون اتفاق افتاد (100)۔
کہتے ہیں ایک دن آپ کسی کام میں مصروف تھے۔ کہ اچانک لوگوں کے ایک گروہ نے ازدحام کیا اور کثیر لوگوں سے بزرگوار کو صدمہ پہنچا جس کی وجہ سے وفات پاگئے اور یہ سنہ دو سو ہجری کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ مامون کے زمانہ میں پیش آیا۔
بہر حال سابقہ دونوں شذرات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہارون الرشید اور مامون الرشید کی خلافت کا زمانہ نہ پایا۔ چونکہ امام علی رضا علیہ السلام جب اس دنیائے فانی سے بقائے ابدی اور مکانِ سرمدی کو کوچ فرماکر گئے تو اس پُرحسرت دن کی تاریخ ۲۰ صفر ۲۰۳ھ تھی۔ اور ان ایام میں مامون خلیفۂ وقت تھا اور اسی کے عہد میں حضرت معروف کرخی امام موصوف کا روحانی اور باطنی خلیفہ تھے۔
اہل حقیقت و معرفت کے لیے یہ دور انتہائی نازک دور تھا۔ ان لوگوں کو بدعات و خدشات کے مختلف چیلنجوں کا سامنا تھا۔ اگرچہ کوئی کفر و شرک کا خطرہ نہیں تھا مگر مسلمان نظریاتی بے راہ روی کا شکار ہو رہے تھے اور حقائق سے انکار کر رہے تھے ۔ نظریہ خلق قرآن کا مسئلہ درپیش تھا۔ حکمران علماء ظواہر کے حامی و ناصر تھے ۔ معتزلین علماء کا سردار ابوہذیل وغیرہ تھے وہ اس مسئلہ میں پیش پیش تھے۔ ان کی زبان پر بات پختہ ہوچکی تھی کہ قرآن مجید مخلوق ہے حادث ہے حالانکہ ذات ازلی کا کلام ازلی اور قدیم ہوتا ہے اس کے انکار سے شرک لازم آتا ہے۔ اگر چہ مسئلہ خلق قرآن جو کہ بنو عباس کے خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں چل نکلا تھا اور معتزلہ کی تحریک کی بنیادیں استوار ہوگئی تھیں اور ان کی دعوت و تبلیغ کا کام شروع ہوگیا تھا۔ ہارون اس تحریک کا پشت پناہ نہ بن سکے یوں یہ تحریک زیادہ پروان نہ چڑھ سکی بلکہ بعض فعال معتزلین کو قید و بند سے بھی دوچار کر دیاگیا، اور سزائیں دی گئیں لیکن مامون کا عہد اس مسئلہ میںبالکل بدلا ہوا تھا اور معتزلہ کے اثر و رسوخ نے ماموں کو بہت متاثر کیا اس کے دماغ پہ وہ غلبہ پاچکے تھے اور مامون مختلف موقعوں پر مناظرے اور مباحثے کا بندوبست کرتا ہوا اس تحریک کا حصہ دار بن گیا اور سنہ ۲۱۲ہجری کو اس عقیدہ کو سرکاری طور پر جاری کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے اہل عرفان اس عہد میں موجود تھے جنہوں نے اس فتنہ کو فرد کرنے کے لیے علمی اور اصلاحی انداز کو جاری رکھا اور بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے اس بدعت کا اچھی طرح مقابلہ کیا کیونکہ قرآن کا قدیم ہونا بھی خداتعالیٰ کے صفات کا حصہ ہے اور ذات صفت کلام کے ساتھ ہمیشہ قائم ہے لیکن ان کا جو عہد تھا اسلامی عقائد پر ایک عظیم فتنہ سے کم نہ تھا۔ مامون نے مرنے سے پہلے اس عقیدئہ خلق قرآن کو عوام پر ٹھونسے کی کوشش کی اور ایک حکمنامہ جاری کر دیا جس میں قاضی سے کہا گیا تھا کہ جو شخص اس مسلک کو تسلیم نہ کرے کہ قرآن مخلوق اور حادث ہے، اس کی عدالت میں گواہی قبول نہ کی جائے اور بہت سے لوگوں کو اس کے اس مسلک کو تسلیم نہ کرنے کی بنیاد پر سرکاری عہدوں سے برطرف کر دیاگیا۔
اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ جو لوگ اس کا اقرار نہ کریں کہ قرآن مخلوق ہے، ان سب کو قید کیاجائے پھر بھی لوگ اپنے عقیدے سے باز نہ آئیں تو سب کی گردنیں تلوار سے اڑا دی جائیں لیکن ان ایام میں حضرت معروف زندہ تھے انہوں نے اس فتنہ کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اس کا اندازہ آپ کے اس جذباتی کلمات سے کرسکتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے۔
واغوثاہ باللہ القرآن کلام اللہ غیر مخلوق ۔
خدا کی پناہ ہو قرآن کریم اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے۔
یقینا اس فتنہ کے سامنے آپ ڈٹ گئے۔ مامون کے جبر استبداد کی پرواہ کیے بغیر حق وصداقت کا خوب اظہار فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا آپ معتزلہ کے سخت مخالف تھے اور اپنے عقیدے پر خوب ڈٹے رہے۔ تاہم اس نظریہ خلق قرآن پر جداگانہ بحث کی گئی ہے جسے آپ معروف کا عقیدہ کے عنوان کے ذیل میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ لیکن مامون کے سزائے موت کے حکمنامے جاری کرنے کے باوجود حق کے لیے ان کا اس طرح سینہ سپر ہونا خزانہء غیرت کی مضبوطی پر بین ثبوت ہے۔ اہل عرفان کی یہی خصوصیت ہے کہ وہ حق پر کسی قسم کی آنچ آنے نہیں دیتے۔ جہاں ایسا کوئی موقع پیش آئے تو وہ تن من دھن کی بازی لگا کر حق کی محافظت کرتے ہیں وہ کسی کے جبر و استبداد یا لومتہ لائم کی پرواہ نہیں کرتے۔
دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہیں بحر وجود میں گر داب
اہل حقیقت کا یہ شیوہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے عرفانی حقائق کی پاسبانی کرتے رہے ہیں اور ہر دور میں ہر معرکہ میں فتح و ظفر سے ہمکنار ہوئے۔ حضرت اقبال فرماتے ہیں ؎
مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف
معاصرین معروف
حضرت شیخ معروف اپنے زمانہ کے مشاہیر مشائخ میں شمار ہوتے تھے ۔ ان کا سلسلہ تمام سلسلہ ہائے تصوف میں کامل ترین اور معتبر ترین مانا جاتا ہے۔ آپ کے اساتذہ اور تلامیذ تاریخ اسلام کے روشن ستارے ہیں ۔ آپ کی زندگی کا ایک حسین ترین پہلو آپ کے مقتدر معاصرین اولیاء کرام کی موجودگی بھی ہے۔ اگرچہ ان تمام اولیاء کرام کی تعداد کی صحیح فہرست شاید دے نہ سکوں مگر جن مشاہیر اولیاء عظام کا تعلق طبقہ اولیٰ سے ہے۔ سیرت نگاروں کی نظر میں عالیشان مقام و عظمت کے حامل ہیں ان بزرگ سلف صالحین میں درج ذیل مقتدر نامی گرامی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ الشیخ ابوسلمان دارانی الشیخ فضل ابن عیاض، الشیخ ابراہیم ادھم، الشیخ دائود بن احمد دارانی، الشیخ ابراہیم بن سعد العلوی الشیخ بایذید بسطامی الشیخ ابراہیم شنیہ مردی الشیخ ابراہیم الصیاد الشیخ فتح بن علی موصل الشیخ فتح بن شخرف المردزی الشیخ بشر بن حارث ا بن عبدالرحمن الشیخ شفیق بلخی حارث بن ارس المحاسبی ابوتراب نخشیی حضرت ( سری سقطی) ابوجفر السمان، حضرت الشیخ احمد بن خضرو یحییٰ بن معاذرازی الشیخ ابو حفص حداد الشیخ جمندان قصبار، الشیخ عالم بن عنوان الشیخ احمد بن الحاالطواری الشیخ عبدللہ الحتیق انطائی اور احمد بن عاصم اور اسماعیل بن علی بن اسماعیل الخطیب ؒ مولانا عبدالرحمان جامی نے نفحات الانس میں ان تمام صلحاء امت کی سوانح حیات پر اچھا تبصرہ کیا ہے عہد اور سن بھی لکھا ہے تاریخ وفات بھی جس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت شیخ معروف کا زمانہ اولیاء کرام اور صلحاء اعظام کے عروج بہار کا تھا۔
آپ تک پہنچنے والی کُل روایات کا ذکر
حضرت شاہ سید محمد نوربخشؒ نے مشجرالاولیاء جلد دوم میں اور حضرت علامہ عبدالرحمان بن علی بن الجوزی نے مناقبِ کرخی میں حضرت شیخ معروف کے سماعِ حدیث اور اَسناد کا صراحت سے بیان فرمایاہے۔ اور کثیر احادیث کی روایت کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ شاہ سید محمد نوربخشؒ لکھتے ہیں ۔
کہ حضرت شیخ معروف کرخی قدس اللہ سرّہٗ استماعِ حدیث از مخدوم ومولائے خود حضرت امام علی رضا علیہ السلام وشیخ بکر بن جیشؒ وشیخ ربیع بن صباح رحمۃ اللہ علیہم مے کردندواز و روایتِ حدیث شیخ سری سقطی وخلف بن ہشام بزاز وذکریا بن یحییٰ مروزی ویحییٰ بن ابی طالب علیہم الرحمۃ مے کردند۔ (101)
اور حضرت شیخ معروف کرخی قدس اللہ اسرارہٗ حدیث کا سماع اپنے مخدوم اور مولا حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور شیخ بکر بن جیش اور شیخ ربیع بن صباح رحمۃ اللہ علیہم سے کرتے ہیں۔ اور شیخ معروف سے حدیث کی روایت شیخ سری سقطی اور خلف بن ہشام بن نزاز اور زکریا بن یحییٰ مروزی اور یحییٰ بن ابی طالب رحمہم اللہ کرتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن علی الجوزی لکھتے ہیں کہ:
لقد لقیٰ معروف الکرخی جماعۃ من العلماء والمحدثین وذکر ابو عبدالرحمان بن السلمی انہ، صحب داؤد الطائی وقد سمع معروف الحدیث الکثیر غیر انہ اشتغل بالتعبد عن الروایۃ فلم یضبط من مسانیدہ الا قلیل۔ (102)
یقینا حضرت معروف کرخی نے علماء نور محدثین کی جماعت سے ملاقات کی ہے۔ اور ابوعبدالرحمن السلمی نے تذکرہ کیا ہے کہ آپ حضرت داؤد طائی کے ساتھ رہے ہیں اور اُن سے احادیث روایت کی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت معروف عبادات میں مصروف رہے اور اُن کے اَسانید سے بہت زیادہ روایات ضبط نہیں کرسکے۔
السلمی وہ دوسرا متصوف مؤلف ہیں جو ابوالقاسم قشیری کے بعدآتے ہیں۔ ابو سلیمان بن نصیر الکوفی جو کہ محدث ہیںوہ عابد وزاہد فرد ہے جنہوں نے تابعین کی بڑی جماعت سے احادیث سنی ہے۔ اور ان سے شیخ معروف کرخی نے علم سلوک وحدیث اخذ کیا ہے۔ اور شیخ معروف کرخی آپ کے علمی وارث اور ان کے اَسرار کے محافظ ہیں اور اُن کا انتقال ۱۴ ہجری میں ہواہے۔ (103)
سلسلۂ اولیاء صوفیہ نوربخشیہ جوکہ اولیائِ کرام کے اعتماداور اُن کے اَسناد کی بدولت سونے کی زنجیر قرار پایا ہے، سلسلۂ ذہب کے نام سے ہی مشہور ومعروف رہا ہے۔ چنانچہ میر سید محمد نوربخشؒ لکھتے ہیں کہ:
یہ سونے کی زنجیر ہے جو قیامت تک نہ ٹوٹنے والی ہے اور یہ لوگ معنوی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے معنوی خلفاء ہیں۔
جیسا کہ حضرت امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ و علی آبائہٖ السلام نے اپنی مسند میں روایت بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ موسیٰ کاظم بن جعفر نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ جعفر بن محمد نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ محمد بن علی نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ علی بن حسین نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ حسین بن علی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا۔ اے اللہ یہ میرے خلفاء ہیں اُن پر رحم فرما اور تین دفعہ دُعا فرمائی تو آپ سے پوچھا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم آپ کے خلفاء کون ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ جو میرے بعد آئیں گے اور میری سنت اور میری احادیث کو بیان کریں گے۔ صوفیاء محدثین نے اس مسند کو اور اس جیسی سندوں کو سونے کی زنجیر کہا ہے۔ اور اسی طرح وہ لوگ بھی جو ہاتھوں ہاتھ متصل سند سے بغیر کسی انقطاع کے ہوں۔ ایسی سندوں سے صدق اور ایمان سے تمسک کرتے ہیں۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ غالب رہے گی جو اُن کو ذلیل کرنا چاہے وہ ان کا کچھ بگاڑ نہ سکے گا۔ (104)
حضرت عبدالرحمن بن علی ابن الجوزی نے مناقب معروف الکرخی میں صرف سات احادیث صراحت سے نقل کی ہیں۔ جو مختلف اسانید سے آپ تک پہنچی اور آپ نے انہیں آگے روایت کیا۔ حضرت شیخ معروف سے احادیث کی کم روایات ملنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی توجہ باطنی علوم اور ریاضت ، مجاہدہ کی طرف مبذول رکھی۔ ظاہری علوم کو شاید کم اہمیت دی۔ اس کے باوجود بڑے بڑے حافظانِ حدیث کی جماعت آپ سے احادیث نقل کرتی رہی۔ ابن جوزی نے جن احادیث کو آپ سے نقل کرکے کتاب مناقب میں درج کیا ہے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ پائے کے حافظِ حدیث تھے۔ یہاں ہم ابن الجوزی کی نقل کردہ احادیث متن کے ساتھ ساتھ ان کا اردو ترجمہ پیش کرتے ہیں اورترجمے میں بالترتیب راویوں کے نام کو چھوڑ کرصرف حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ سے روایت کا ترجمہ کرتے ہیں۔
الحدیث الاوّل
اخبرنا ابو محمد یحییٰ بن علی بن الطراح، قال: اخبرنا ابوالقاسم، یوسف بن محمد المھروانی، قال: اخبرنا ابوالحسن محمد بن احمد بن رزوویہ، قال: اخبرنا عثمان بن احمد الدقاق، قال: حدّثنا یحییٰ بن ابی طالب، قال: حدّثنا معروف الکرخی ابو محفوظ، عن بکر ابن خنیس، عن ضرار بن عمرو عن یزین الرّقاشی، عن انس بن مالک، قال عثمان: وحدّثنی محمد بن ابراھیم الشّامی، عن تمیم الدّاری، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ، یقول اللہ تبارک وتعالیٰ لملک الموت، انطلق الی ولبی فائتنی بہ، فانی قد ضربتہ بالسّراء والضّراء فوجدتہٗ حیث احبّ، قال: فینطلق الیہ ملک الموت ومعہٗ خمسمائۃ من الملائکۃ یحملون معھم اکفانا وحنرطًا فی الجن، معھم ضبابیر الریحان۔ اصل الریحان واحد۔ فی رأسھا عشرون لونًا، لکل لون ریح سویٰ ریح صاحبہ والحریر الابیض فیہ المسک، فیاتیہ ملک الموت فیجلس عند رأسہ وبسط ذلک الحریر والمسک تحت ذقنہٗ، ویفتح لہٗ باب الیٰ الجنۃ، فان نفسہٗ لتعلل مناک مرۃ بازواجھا، ومرۃ بکسوتھا، ومرۃ بشمارھا قال: ویقول ملک الموت: اخرجی ایتھا الروح الطیبۃ الیٰ سدر مخضود، وطلح منضود، وظل ممدود، وماء مسکوب ولملک الموت اشدّ بہٖ لطفًا من الوالدۃ بولدھا فیعرف ان تلک الرّوح حبیبۃ الیٰ ربّہ عزوجل۔ فھو یلتمس بلطفہٖ تجببًا الیٰ ربّہٖ عزوجل، ورضی الربّ تعالیٰ عنہٗ، فتسل روحہٗ کما تسل الشعرۃ من العجین یقول اللہ تعالیٰ: {الّذین تتوفّاھم الملائکۃ طیبین} وقال: فامّا ان کان من المقربین، فروح وریحان وجنّۃ نعیم۔
قال: روح من جھد الموت، وریحان، یتلقّیٰ بہٖ، وجنۃ نعیم، (ای: ورحمۃ ونعیم) مقبلۃ۔ فاذا قبض ملک الموت روحہٗ، قالب الرّوح للجسد: جزاک اللہ عنی خیراً، فقد کنت سریعاً بی الیٰ طاعۃ اللہ تعالیٰ، بطیئاً بی عن معصیتہٖ عزوجل، فقد نجوت وانجیت۔ قال: ویقول الجسد للرّوح مثل ذلک۔ قال: وتبکیٰ علیہ بقاع الارض التی کان یطیع اللہ تعالیٰ علیھا۔ وکل باب من السّماء کان ینزل منہٗ رزقہٗ، وصعد منہٗ عملہٗ اَربعین لیلۃ۔ قال: فاذا وضع فی قبرہٖ، جاء تہ صلاتہ، فکانت عن یمینہٖ، وجاء ہٗ الصیام (فکان) عن یسارہ۔ وجاء تہ الزکاۃ، فکانت عند رأسہٖ وجاء ہ مشیہ الیٰ الصّلاۃ، فکان عند رجلیہٖ، وجاء ہ الصّبرفقام ناحیۃ قبرہ، فعث اللہ عنقًا من العذاب، فیاتیۃ عن یمینہ، فتقول الصّلاۃ: الیک عنہٗ۔ فو اللہ مازال عمرہ دائبًا، انّما استراح الاٰن حین وضع فی قبرہٖ۔ فیاتیہ عن یسارہ، فیقول الصیام مثل ذلک، ویاتیہ من عند رأسہٰ، (فیقول القرآن والذّکر مثل ذلک)، ویاتیہ من قبل رجلیہٖ، فیقول مشیہ الیٰ الصّلاۃ مثل ذلک۔ فلا یاتیہ العذاب من ناحیہ الّا وجد ولی اللہ قد اتخذ جئتہ عند ذلک۔
قال: فیقول الصبر لسائر الاعمال، امّا انّہ لم یمنعنی ان اباشرہ انا بنفسی یعنی: الا انتم، فامّا اذا اجتراتم فانّا ذخرلہٗ عند المیزان والصّراط۔ قال: ویبعث اللہ ملکین، ابصار ھما کالبرق الخاطف، واصواتھما کالرعد القاصف، وانیابھما کالصیاصی، وانفاسھما کاللھب، یطان فی اشعرھما، بین منکبیی کلّ واحدٍ منھما مسیرۃ کذا وکذا، قد نزعت منھما الرافۃ والرحمۃ، یقال لھما: منکر ونکیر۔ مع کلّ واحدٍ منھما مطرقۃ من حدید، لو اجتمع علیھا ربیعۃ ومضرلم یقلوھا فیاتیانہٖ فیقولان لہٗ: من کنت تعبد؟ ومادینک؟ ومن نبیّک؟ قالوا: یارسول اللہ، فمن یطیق الکلام عند ذلک، وانت تصف من المسلکین ما تصف؟ قال: (یثبت اللہ الّذین آمنو بالقول الثابت فی الحیاۃ الدنیا وفی الاخرۃ، ویضل اللہ الظالمین، ویفعل اللہ مایشائ)۔ فان کان مومنًا، قال: کنت اَعبدُاللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ، ودینی الاسلام الّذی دانت بہ الانبیائ۔ ونبی محمد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم، فیقولان لہٗ: صدقت، فیدفعان القبر من بین یدیہ اَربعین ذراعاً، ومن خلفہ اَربعین ذراعاً، وعن یمینہٖ اَربعین ذراعاً، وعن یسارہ اربعین ذراعاً مثل ذلک۔قال: فیقولان لہٗ: ولی اللہ، انظر تحتک، فینظر تحتہ، فاذا باب مفتوح الیٰ النّار۔ فیقولانِ لہٗ: ولی اللہ، نجوت، آخر ما علیک۔
فوالّذی نفس محمد بیدہٖ، انّہٗ لیصل الیٰ قلبہ عند ذلک فرحۃ لا ترتد ابداً، فیقولانِ لہٗ: ولی اللہ، انظر فوقک، فینظر فوقہٗ، فاذا باب مفتوح الیٰ الجنّۃ، فیقولانِ لہٗ: ولی اللہ، ھذا منزلک۔
قال (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم): فوالّذی نفسی بیدہٖ، انّہٗ لیصل الیٰ قلبہ عند ذلک فرحۃ لاترتد ابداً، قال یزید الرقاشی: قالت عائشۃ، فیفتح لہٗ تسعۃ وتسعون باباً الیٰ الجنۃ، فیاتیہ من ریحھا وبردھا حتیٰ یبعثہ اللہ الیھا۔ قال: ویقول اللہ عزوجل لملک الموت: انطلق الیٰ عدوی فائتنی بہ، فانّی قد بسطت لہٗ فی رزقی وسر بلتہ نعمتی، فاثتنی بہ، فلا نتقمن منہٗ۔ قال: فیاتیہ ملک الموت فی اکرہ صورۃ راھا احد من النّاس، ومعہٗ سفود من نار، کثیر الشوک، ومعہٗ خمسمائۃ من الملائکۃ یحملون معہٗ سیاطًا من نار، لینھا لین السیاط وھی نار تاجج۔ فیاتیہ ملک الموت فیضربہ بذلک السفود ضربۃ تنبعث کل شوکۃ من ذلک السفود فی کل عرق منہ۔ فتنزع روحہ من اظفار قدمیہ، یلقیھا۔ یعنی فی عقبیہ، ویسکر عدو اللہ عند ذلک یرفہ عنہ ملک الموت، وتضرب وجہہٗ ودبرہٖ بتلک السیاط (وینترہ ملک الموت نترۃ، فینزع روحہٗ من عقبیہ فی رکبتیہ، ویسکر عدو اللہ سکرۃ یرفہ عنہٗ ملک الموت، وتضرب الملائکۃ وجہہ ودبرہٖ بتلک السیاط) ثم کذلک الیٰ صدرہٖ۔ ثم کذلک الیٰ حلقۃ، قال: ویقول ملک الموت: اخرجی ایتھا الرّوح اللعینۃ الملعونۃ الیٰ سموم وحمیم، وظل من یحموم، لابارد ولا کریم۔
قال: فیقبض ملک الموت روحہٗ، قالت الرّوح للجسد: جزاک اللہ عنی شرّاً، فقد کنت سریعاً الیٰ معصیۃ اللہ، بطیئًا عن طاعۃ اللہ، فقد ھلکت واھلکت۔ قال: ویقول الجسد للروح مثل ذلک، قال: وتلعنہ بقاع الارض التی کان یعصی اللہ علیھا، وکل باب ومن السّماء کان ینزل منہ رزقہ، ویصعد من عملہ اَربعین لیلۃً۔ فاذا وضع فی قبرہٖ ضیق علیہ قبرہ حتیٰ تختلف اضلاعہ، فتدخل الیمنیٰ فی الیسریٰ، ولیسریٰ فی الیمنیٰ۔ قال: ویبعث اللہ تعالیٰ الیہٖ افاعی وھما کاعناق الابل، فیاخذون باذنیہ وابھامی قدمیہ فیقر ضانہ حتیٰ یلتقین فی وسطہٖ، قال: ویبعث اللہ تعالیٰ ملکین علیٰ تلک الصفۃ، ابصارھما کالبرق الخاطف، واصواتھما کالرعد القاصف، وانیابھما کالصیاصی، انفاسھما کاللھب، یطان فی اشعارھما، بین منکبی کلّ واحدٍ منھما مسیرۃ کذا وکذا، قد نزع منھما الرافۃ والرحمۃ، یقال لھما: منکر ونکیر، مع کلّ واحدٍ منھما مطرقۃ من حدید، لو اجتمع علیھا ربیعۃ ومضر لم یقلوھا فیاتینانہ فیضربانہ ضربۃ یتطایر شرار فی قبرہٖ، ثم یعود کما کان۔ فیقولانِ لہٗ: عدواللہ۔ من کنت تعبد؟ وما دینک؟ ومن نبیّک؟ فیقول: لا اَدری۔ فیقولانِ لہٗ: عدواللہ، لا دریت لاتلیت فیضربانہ ضربًا یتطایر شرار فی قبرہٖ۔ ثم یعود کما کان، فیقولانِ لہٗ: عدو اللہ انظر فوقک، فینظر فوقہ، فاذا باب مفتوح الیٰ الجنۃ، فیقولانِ لہٗ: عدو اللہ، لو کنت اطعت اللہ تعالیٰ لکان ھذا منزلک۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم: فوالّذی نفس محمد بیدہٖ، انّہٗ لیصل الیٰ قلبہٖ عند ذلک حسرۃ لاترتد ابداً، فیقولانِ لہٗ: عدواللہ: انظر تحتک، فینظر تحتہٗ، فاذا باب مفتوح الیٰ النّار، فیقولانِ لہٗ: عدواللہ، ھذا منزلک۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم: فوالّذی نفس محمد بیدہٖ، انّہٗ لیصل الیٰ قلبہٖ عند ذلک حسرۃ لاترتد ابداً، قال یزید الرقاشی: قالت عائشۃ (رضی اللہ عنھا): ویفتح لہٗ تسعۃ وتسعون باباً الیٰ النّار، فیاتیہ من سمومھا وحرھا حتیٰ یبعثہٗ اللہ الیھا۔(105)
پہلی حدیث شریف کا ترجمہ
حضرت شیخ معروف کرخی اپنے اسانید سے اور وہ حضرت انس بن مالک سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ مجھ سے محمد بن ابراہیم الشافی اور تمیم داری نے حدیث بیان کی ہے۔ وہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ملک الموت سے فرماتے ہیں کہ میرے ولی کو میری طرف آزاد چھوڑدو۔ اسے میں نے خوف اور تنگی میں مبتلا کیا ہے۔ اور میں نے ایسا ہی پایا ہے۔ جیسا کہ میں چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ ملک الموت نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف چھوڑدیا ہے اس حال میں کہ اس کے ساتھ پانچ سو فرشتوں کی فوج ہے جو ان کے لئے جنت کے کفن اور کافور کا بندوبست کررہے ہیں۔ ان کے پاس ریحان کی ٹہنیاں موجود ہیں جن کا ایک ہی تنا ہے۔ اس سر پر بیس پھول جن کا رنگ مختلف ہر ایک کی خوشبو اس اصل خوشبو سے مختلف ہے۔ اور ایک سفید ریشمی کپڑا بھی ہے اس میں مشک ہے اسے ملک الموت لے آتے ہیں۔ اس ولی خدا کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس ریشمی کپڑے کو پھیلاتے ہیں۔ اور مشک کو اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھتے ہیں اور جنت کی طرف ایک دروازہ کھولتے ہیں۔ چنانچہ اس ولی کا نفس دنیا میں کبھی اپنی بیوی کے ساتھ کبھی اپنے کپڑوں کبھی اولاد واثمار کے ساتھ مشغول تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فرماتے ہیں۔ملک الموت کہتے ہیں۔ اے پاکیزہ روح بغیر کانٹوں کے بیری کی طرف، ہمیشہ کے سائے کی طرف کیلے کے گچھوں کی طرف، بہتے پانی کی طرف نکلو! اور ملک الموت اس کے ساتھ اتنے پیار ومحبت سے پیش آتا ہے جس طرح ایک ماں اپنی اولاد کے ساتھ۔ اور اسے معلوم ہے کہ یہ روح اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عزیز ہے۔ اور وہ نہایت مہربانی سے اس سے التماس کررہا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ربّانی محبت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس روح سے خوش ہیںتو وہ اس کو اس طرح جسم سے نکالتا ہے جس طرح مکھن سے بال نکالا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کہ فرشتے ان کو موت کی پاکیزہ نیند سلادیتے ہیں اور فرماتے ہیں۔ یاتو وہ مقربین سے ہیں، ان کے لئے راحت اور خوشیاں نیز انعام کی جنت ہے۔ کہتے ہیں موت کے سلسلے میں راحت اور خوشیوں کی حالت میں ملاقات کرتے ہیں اور ان کی تواضع جنت کے انعامات سے کرتے ہیں۔ پسندیدہ رحمت او ر انعام سے نوازتے ہیں۔ جب ملک الموت روح قبض کرلیتا ہے تو روح جسم سے مخاطب ہوکر کہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھے بہترین بدلہ عطا کرے۔ تو میرے ذریعے نیکیوں میں سبقت لیتا رہا اور میرے ذریعے تو گناہوں سے بچتا رہا۔ یقینا تو کامیاب ہوگیا اور مجھے بھی کامیاب بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فرماتے ہیں کہ ایسے کلمات جسم نے بھی روح کے لیے کہتے ہیں کہ اس پر زمین رونے لگی جو کہ اس پر وہ نیکی کرتا رہا۔ اللہ کی تابعداری کرتا رہا۔ تو آسمان کے ہر دروازے سے اسے رزق پہنچایا جارہا تھا اور اس کے اعمال چالیس راتیں مسلسل اوپر آسمان کی طرف پرواز کرتے رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فرماتے ہیں جب اس کی نعش قبر میں رکھی جاتی ہے۔ تو اس کے پاس اس کی نماز آتی ہے، وہ اس ولی کے دائیں جانب بیٹھتی ہے۔ اس کا روزہ آتا ہے اوراس کی بائیں جانب بیٹھتا ہے۔ اس کی زکوٰۃآتی ہے وہ اس کے سرہانے کی جانب بیٹھتی ہے۔ اس کی نماز کی طرف جانے کا عمل آتا ہے وہ اس کے پاؤں کی جانب کھڑا ہوتا ہے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ عذاب کے انواع بھیج دیتے ہیں۔ وہ اس کے دائیں جانب سے آتے ہیں تو اس کی نماز کہتی ہے اس سے تمہارا کیا کام؟ خدا کی قسم یہ زندگی بھر نمازوں کی پابندی کرتا رہا ہے۔اور ابھی جب اسے قبر میں رکھا گیا تب سکون سے بیٹھا ہے۔ پھر وہ بائیں جانب سے آتے ہیں۔ اس کا روزہ اسی انداز میں بیان کرتا ہے۔ اور پھر وہ اس کے سرہانے کی طرف سے آنے لگتے ہیں تو اس کا قرآن، ذکر ایسا ہی بیان کرتا ہے اور جب وہ پاؤں کی جانب سے آنے لگتے ہیں۔ اس کی نماز کی طرف جانے کا عمل اس طرح کہتا ہے تو اس کی طرف کوئی عذاب نہیں آتا۔ اس طرح یہ خدا کے ولی جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیںکہ اس کا صبر سارے اعمال کو کہتا ہے یقینا اس نے مجھے ہمیشہ ساتھ رکھا ہے۔ اگر تم اس کا بدلہ دیتے ہو تو میں بھی اس کا میزان اور صراط پر مددگار رہوں گا۔ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے دو فرشتے نازل فرماتے ہیں ان کی آنکھیں تیز بجلی کی طرح چمک رہی ہوتی ہیں۔ ان کی آواز گرجتی ہوئی کڑک کی طرح ہے۔ ان کی دھاڑیں درانتی کی طرح ہیں۔ اُن کا جسم بھڑکتے شعلوں کی طرح ہے۔ ان کے بال ان کے کندھوں کے درمیان لٹکے ہوئے ہیں۔ اُن کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ اتنی اتنی مسافت کا ہے۔ ان میں کوئی شفقت ورحمت کی بو بھی نہیں، ان دونوں فرشتوں کو نکیر ومنکر کہا جاتا ہے۔ ہر ایک کے پاس لوہے کا گُرز ہوگا۔ اگر اس کے اٹھانے پر قبیلہ ربیع اور مضر کے لوگ جمع ہوجائیں تو بھی ہل نہ پائے گا۔ وہ دونوں اس کے پاس آئیں گے اور اس قبر والے سے پوچھیں گے۔ تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تمہارا دین کونسا ہے؟ تمہارے نبی کون ہیں؟ صحابہ پوچھتے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم تو کوئی جرأت کرسکے گا ان کے سامنے؟ جن فرشتوںکی صفات آپ نے بیان فرمائی ہیں۔ کہ وہ بات کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان داروں سے دنیاوی اور اُخروی زندگی میں سچی بات نکال دیتا ہے۔ اور ظالم لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے اور ان کے ساتھ اللہ جو چاہتا ہے کرلیتا ہے۔ اگر وہ مومن ہے وہ کہے گا ۔ میں خدا تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ میرا دین وہ اسلام ہے جس پر سارے انبیاء چلے ہیں اور میرے نبی محمد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ہیں۔ تو وہ دونوں فرشتے کہیں گے تم نے ٹھیک کہا۔اور وہ دونوں اس کے قبر کو اتنا کھلا کردیں گے کہ سامنے سے چالیس گز، اس کے پیچھے سے چالیس گز، اس کے دائیں جانب سے چالیس گز، اس کے بائیں جانب سے چالیس گز، پھر وہ دو فرشتے اس سے کہیں گے۔ اے اللہ کے ولی تم اپنے نیچے کی جانب دیکھو تو وہ دیکھتا ہے تو گویا دوزخ کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے۔ تو وہ دونوں فرشتے کہیں گے! اے اللہ کے ولی تجھے اس سے نجات دی گئی ہے تم اس کے سزاوار نہیں ہو!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فرماتے ہیں کہ میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں محمدﷺ کی جان ہے۔ اس ولی اللہ کے دل میں ایسی خوشی کی لہر دوڑے گی اس سے پہلے اسے ایسی خوشی نہیں ملی ہوگی۔ اور فرشتے اس سے کہیں گے! تم اپنے اوپر کی جانب دیکھو تو وہ دیکھے گا گویا کہ جنت کا ایک دروازہ اس کی طرف کھلا پڑا ہے۔ وہ فرشتے اس سے کہیں گے! اے اللہ کے ولی یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فرماتے ہیں۔ میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اس سے پہلے اسے ایسی خوشی حاصل نہ ہوئی ہوگی۔(اس پر مزید) رقاشی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتا ہے کہ اس ولی اللہ کے لئے ننانوے دروازے جنت کی طرف کھولے جائیں گے۔ پھر ان سے اسے خوشبو اور ٹھنڈک حاصل ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کی طرف روانہ کردیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرمائیں گے! تم میرے دشمن کو میری طرف آزاد کردو اسے لے آؤ۔ اسے کچھ مت کہو۔ کہتے ہیں کہ فرشتے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں لے آتے ہیں۔ اس کی ایسی بری شکل ہوگی کہ ایسی کبھی کسی نے نہ دیکھی ہو۔ ان کے پاس لوہے کا ایک گُرز ہوگا جس پر بہت سارے کانٹے ہوں گے۔ اور ان کے ہمراہ پانچ سو فرشتوں کی فوج آگ کے ہتھیاروں سے لیس ہوگی۔ بندے کی حالت یہ ہوگی۔ تیز بخار چڑھا ہوا ہوگا ۔ گویا آگ بھڑک رہی ہو اور فرشتے اسے آتشین ہتھیاروں سے مارتے ہوئے لے کر آئیں گے اور اس کے جسم سے پسینہ جاری ہے۔ اس کی جان اس کے پاؤں کے ناخنوں سے نکالی جاتی ہے۔ وہ اس کی ایڑیوں کی طرف سے چلتے ہیں اور یہ خدا کا دشمن اس سے بیہوش ہوتا ہے۔ ملک الموت اس کے منہ اور پیٹھ پر آتشین ہتھیار سے ماررہا ہے۔ ملک الموت اسے گھسیٹتا ہے اور اس کی روح اس کی ایڑیوں سے گھٹنوں کی جانب سلب کرتا ہے۔ یہ خدا کا دشمن عزرائیل کے خوف سے بیہوش ہوتا ہے۔ فرشتے اس کے چہرے اور پیٹھ پر ماررہے ہیں۔ پھر ایسا ہی اس کے سینے پر بھی مارتے ہیں اور پھر اس طرح اس کا گلہ دباتے ہیں۔ اور ملک الموت کہتا ہے اے ملعون روح! زہریلے کھولتے ہوئے پانی کی طرف جلتے دھوئیں کی چھاؤں میں! نہ وہ ٹھنڈی ہوگی اور نہ آرام کہتے ہیں۔اس کی روح قبض کی گئی تو روح جسم سے مخاطب ہوکر کہتی ہے۔ اللہ تجھے بہت برا بدلہ عطا کرے۔ تو یقینا خدا کی نافرمانی میں جلد باز تھا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے بھاگنے والا تھا۔ تو خود ہلاک ہوگیا اور مجھے بھی ہلاک کیا۔ اور ایسا ہی جسم روح سے مخاطب ہوکر کہتا ہے۔ کہتے ہیں تو زمین کے قطعات بھی اس پر لعنت بھیجتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی۔ اور آسمان کے ہر دروازے سے اسے خداکا رزق مل رہا تھا۔ اور اس کے اعمال آسمان کی طرف چڑھ رہے تھے یہ سلسلہ چالیس رات جاری رہا۔ جب اسے قبر میں رکھا گیا اس کی قبر اس پر تنگ ہوگئی۔ یہاں تک کہ اس کے دونوں اطراف آپس میں مل گئے۔ اور دائیں بائیں کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس گئیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف بہت سے ایسے سانپ بھیجتا ہے جن کی حالت اونٹ کی گردن کی طرح ہے۔ وہ اس کے کانوں اور پاؤں کے انگوٹھوں سے پکڑتے ہیں اور اسے نوچتے ہیں اور درمیان سے مروڑتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر دو ایسے فرشتوں کو بھیجتا ہے۔ ان کی آنکھیں چمکتی ہوئی بجلی کی طرح ہیں ان کی آواز گرجتی ہوئی کڑک کی طرح۔ ان کی دھاڑیں تیز درانتی کی طرح ہیں۔ان کا جسم بڑھکتے ہوئے شعلوں کی طرح ہے۔ ان کے بال ان کے کندھوں پر اس طرح پھیلے ہوتے ہیں ان کے درمیاں اتنی اتنی مسافت ہے۔ ان دونوں سے رحم وشفقت اٹھالی گئی ہے۔ ان دونوں کو نکیر ومنکر کہا جاتا ہے۔ اور ہر ایک کے پاس لوہے کا ایک گُرز ہوگا۔ اگر قبیلہ مضر اور ربیع کے سب لوگ جمع ہوجائیں تو اٹھا نہ سکیں گے۔ اور وہ دونوں اس سے مارتے ہوئے آتے ہیں۔ اس کی چنگاریاں اس کے قبر میں گررہی ہیں۔ پھر وہ اسے یہ کہتے ہوئے لوٹتے ہیں۔ اے خدا کا دشمن! تو کس کی بندگی کرتا تھا؟ تیرا دین کونسا تھا؟ تیرے نبی کون تھا؟ وہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔ اسے فرشتے کہیں گے اے خدا کا دشمن! تو نہیں جانتا؟ اور تونے کسی سے نہیں سنا؟ اور اسے ایسا مارتے ہیں کہ چنگاریاں اس کی قبر سے باہر نکلتی ہیں۔ پھر وہ پوچھتے ہیں کہ تو کس کی بندگی کرتا تھا؟ تیرا دین کونسا ہے؟ تیرا نبی کون تھا؟ پھر وہ وہی جواب دیتا ہے میں نہیں جانتا! وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اے خدا کا دشمن! تو یہ نہیں جانتا؟ تونے کسی سے سنا بھی نہیں؟ اور پھر اس کو ایسا مارتے ہیں کہ چنگاریاں اس کی قبر سے باہر نکلتی ہیں۔ پھر یہ سوال دہراتے ہیں ۔ اے خدا کے دشمن! تو اپنے اوپر کی طرف دیکھتا ہے تو گویا جنت کا دروازہ کھلا ہے۔ فرشتے اس سے کہتے ہیں ۔ اے خدا کے دشمن ! اگر تو خدا کی اطاعت کرلیتا تو تیرا یہی ٹھکانہ ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فرماتے ہیں کہ میں قسم کھاتا ہوں اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اس کے دل میں ایسی حسرت پیدا ہوتی ہے ایسی کبھی اس کے دل میں پیدا نہ ہوئی تھی۔ راوی اس پر بیان کرتا ہے۔
رقاشی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ اس کے لئے جہنم کے ننانوے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ ان سے اس کی زہریلی بدبو آئے گی۔ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ اپنے دشمن کو اپنی طرف اٹھائے گا۔
الحدیث الثانی
انبانا ابو بکر بن ابی طاہر البزاز، قال: انبانا ھناد بن ابراھیم النسفی، قال: اخبرنا ابو سعدجامع بن محمد بن علی الجوھری، قال: حدثنا ابراہیم بن عبداللہ بن محمد الاصفہانی، قال:حدثنا الحسین بن الحسن الحرانی، قال حدثنا میمون بن محمد بن عبدالسلام الحرانی، قال: حدثنا معروف بن الفیروزان الکرخی، قال: حدثنا بکر بن خنیس عن ضرار عن انس بن مالک، قال: جاء رجل الیٰ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم فقال: (علمنی علما یدخلنی الجنۃ، قال: لاتغضب)۔
اخبرنا المحمدان، ابن ناصر، وابن عبدالباقی، قالا: اخبرنا حمد بن احمد، قال: حدثنا محمد بن السری اللہ، قال: حدثنا مخلد بن جعفر، قال: حدثنا محمد بن السری القنطری، قال: حدثنا محمد بن میمون الخفاف، قال: حدثنا ابو علی المفلوج، عن معروف الکرخی، عن بکر بن خنیس، عن ضرار بن عمرو، عن انس بن مالک: ان رجلا اتی النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ، فقال: یارسول اللہ، دلنی علی عمل یدخلنی الجنۃ، قال: (لاتغضب) قال: فان لم اطق ذلک یارسول اللہ؟ قال: (فستستغفراللہ کل یوم بعد صلاۃ العصر سبعین مرۃ ، یغفر اللہ لک ذنوب سبعین عام)۔ قال: فان لم یات علیٰ ذنوب سبعین عاما؟ قال: (یغفر لامک۔ قال: فان ماتت امی ولم تات علیھا ذنوب سبعین عام۔ قال: یغفر لا قاربک)۔ (106)
دوسری حدیث شریف کا ترجمہ
حضرت شیخ معروف کرخی ضرار سے روایت کرتے ہیں۔ وہ حضرت انس بن مالکؓ سے حدیث بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے پاس آیا اور عرض کی! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم مجھے ایسی چیز سکھادیجئے کہ میں جنت میں پہنچ جاؤں۔ آپﷺ نے فرمایا غصہ پی لیا کر۔
حضرت شیخ معروف کرخی اپنے کئی واسطوں کے بعد حضرت انس بن مالکؓ سے روایت بیان کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم آپ مجھے جنت کی رہنمائی فرمائیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا ۔غصہ پی لیا کر۔ اگر اسے ضبط نہ کرسکوں یارسول اللہ ؟ تو کیا کروں۔ تو ہر روز عصر کی نماز کے بعد ستّر مرتبہ استغفار پڑھ لیا کر۔ اللہ تمہارے ستّر سال کے گناہ معاف فرمائے گا۔ اگر ستّر سال کے گناہ ہی نہ ہوتو؟ اللہ تمہاری ماں کے گناہ معاف فرمائے گا۔ اس نے عرض کی کہ اگر ماں پہلے ہی فوت ہوچکی ہو تو اس کے بھی ستّر سال کے گناہ نہیں بنتا ۔ فرمایا گیا کہ تمہارے رشتہ داروں کے گناہ معاف کردے گا۔

الحدیث الثالث
اخبرنا المحمدان بن ناصر، وابن عبدالباقی، قالا: اخبرنا حمد ابن احمد بن احمد، قال: اخبرنا احمد بن عبداللہ الحافظ، قال:حدثنا ابی، قال: حدثنا ابوالحسین بن ابان، قال: حدثنا عبید اللہ بن محمد بن سفیان، قال: حدثنا معروف ابو محفوظ، قال: حدثنا عبداللہ بن موسیٰ، قال: حدثنا عبدالاعلی بن اعین، عن یحییٰ بن ابی کثیر، عن عروۃ، عن عائشۃ، قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم :(الشرک اخفی فی امّتی من دبیب النمل علی الصفا فی اللیلۃ الظلمائ، وادناہ ان تحب علی شیء من الجور او تبغض علی شیء من العدل، وھل الذین الا الحب فی اللہ، والبغض فی اللہ۔ قال اللہ تعالیٰ: {قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ}۔ (107)
تیسری حدیث شریف کا ترجمہ
حضرت شیخ معروف کرخی اپنے اسانید سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا۔ کہ میری امت سے شرک چیونٹی کے اندھیری رات میں صفا کی پہاڑی پر چلنے سے زیادہ پوشیدہ ہے۔ لیکن اس سے ادنیٰ بات کسی پر ظلم کرنے کو پسند کرنا اور عدل کے تقاضا کو چھوڑدینا ہے۔ دین تو خدا ہی کے لئے محبت کرنا ہے۔ اور خدا ہی کے لئے بغض رکھنا ہے۔ چنانچہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے۔ فرمادیجئے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو خدا تم سے محبت کرے گا۔
الحدیث الرابع
اخبرنا ابو منصور عبدالرحمن بن محمد القزاز، قال:اخبرنا احمد بن علی بن ثابت، قال: اخبرنا ابو سعد احمد بن محمد المالینی، قال: اخبرنا ابوالفتح محمد بن احمد بن فارس، قال: ذکر عمر بن محمد بن الفضل، قال: حدثنا محمد بن عیسیٰ الدھقان، قال: کنت امشی مع ابن الحسین النوری احمد بن محمد المعروف بابن البغوی الصوفی، فقلت لہ: ماالذی تحفظ عن السری السقطی؟۔ فقال: حدثنا السری عن معروف الکرخی عن ابن السماک، عن الثوری، عن الاعمش، عن انس بن مالک، ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ، قال: (من قضی الیٰ اخیہ المسلم حاجۃ، کان لہٗ من الاجر کمن خدم اللہ عمرہ)۔ قال محمد بن عیسیٰ: فذھبت الیٰ السری فسألتہ عنہٗ، فقال: سمعت معروفا یقول: خرجت الیٰ الکوفۃ، فرأیت رجلاً من الزّھاد، ویقال لہٗ: ابن السماک۔ فتذاکرنا العلم، فقال: حدثنا النوری عن الاعمش مثلہ۔
اخبرنا ابو منصور القزاز، قال: اخبرنا احمد بن علی بن ثابت، قال: اخبرنا احمد بن جعفر القطیعی، قال: حدثنا علی بن محمد بن الحسن بن المرتزق الطرطوسی، قال: سمعت ابا الحسین احمد بن محمد المالکی، یقول: حدثنا ابوالحسین احمد بن محمد بن محمد النوری، قال: حدثنا السری بن المفلس ابوالحسن، قال: حدثنا معروف الکرخی، قال: حدثنا محمد بن السماک عن الثوری عن الاعمش عن انس بن مالک، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم (من قضی لاخیہ المسلم حاجۃ، کان لہٗ من الاجر کمن حج واعتمر)۔ (108)
چوتھی حدیث شریف کا ترجمہ
حضرت شیخ معروف کرخی اپنے اسانید کے بعد حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کرتے ہیں۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کی اسے ساری عمر خدا کی خدمت انجام دینے کا اجر ملتا ہے۔
(اس حدیث شریف کی دوسری روایت یوں نقل ہوئی ہے)۔
حضرت سری سقطی روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت معروف کرخی سے سنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ کوفہ کا سفر اختیار کیا ۔ میں نے زاہدوں میں سے ایک آدمی کو دیکھا۔اُن سے ابن سماک کہہ رہا تھا۔ اس نے ایک علمی مذاکرے میں ہم سے ایسا ہی بیان کیا ہے۔ اس حدیث کو ثوری نے اعمش سے بیان کیا ہے۔
(اس حدیث شریف کا ایک اور طریق سے یوں بیان ہوا ہے)۔
حضرت شیخ معروف کرخی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے اسانید سے سنا ہے وہ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے۔ جس شخص نے ایک مسلمان بھائی کی کوئی ضرورت پوری کردی اس کو اتنا ثواب ملے گا۔ جس طرح کسی نے حج اور عمرہ کرکے ثواب کمایا ہو۔
الحدیث الخامس
اخبرنا ابو منصور عبدالرحمن بن محمد، قال: اخبرنا احمد بن علی بن ثابت، قال: اخبرنا محمد بن احمد بن رزق، قال: اخبرنا ابوبکر محمد ابن الحسن النقاش، قال: حدثنا القاسم بن داؤد البغدادی، قال: حدثنا احمد بن اسحاق السکری، قال: حدثنا محمد بن ابراھیم الشامی، قال: حدثنا معروف الکرخی عن بکر بن خنیس، عن ضرار بن عمرو، عن یزید الرقاشی، عن انس، انّ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم قرا :(فروح وریحان)۔ (109)
پانچویں حدیث شریف کا ترجمہ
حضرت شیخ معروف روایت بیان کرتے ہیں وہ بکر بن خنیس سے وہ ضرار بن عمرو سے وہ یزید الرقاشی سے وہ حضرت انس بن مالکؓ سے یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے روح وریحان (راحت اور خوشبو) کی تلاوت کی۔ یعنی روح کی را پر زَبر کے ساتھ قرأت کی۔ اور یہ قرآنی آیت سورۃ الواقعہ میں مذکور ہے۔(یہ حدیث ایک تفسیری موضوع پر تھی جسے نقل کیا گیا)۔
الحدیث السّادس
اخبرنا محمد بن ابی منصور، قال: انبانا الحسن بن احمد النسائ، قال: حدثنا ابوالفتح محمد بن احمد الحافظ، قال: قرأت علی عبدالوھاب بن محمد بن الحسن بن ھانیٔ البزاز، قیل لہٗ: حدثکم احمد ابن الحسن المقریٔ، قال: حدثنا ابو عبداللہ، محمد بن یحییٰ الکسائی، قال: حدثنی خلف بن ھشام المقری، قال: حدثنی معروف الکرخی، قال: حدثنا بکر بن خنیس، قال: حدثناسفیان الثوری عن عمر بن دینار عن ابن عباس، عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ، قال: (من قال عند منامہ، اللھم لاتومنا مکرک، ولاتنسنا ذکرک، ولاتھتک عنا سترک ولاتجعلنا من الغافلین، اللھم ابعثنا فی احبّ السّاعات الیک حتی تذکرک فتذکرنا ونسألک فتعطینا، وندعوک فتجیب لنا، ونستغفرک فتغفرلنا، الا بعث اللہ الیہ ملکافی احبّ السّاعات الیہ فیوقظہ۔ فانّ قام والا صعد الملک، ثم بعث الیھن ملکا اخر، فانّ قام والا صعد ذلک الملک، فقام مع صاحبہ الاول، فان قام بعد ذلک ودعا استجیب لہٗ، ان لم یقم، کتب اللہ لہٗ ثواب اولٰئِک الملائکۃ)۔ (110)
چھٹی حدیث شریف کا ترجمہ
حضرت شیخ معروف کرخی بکر بن خنیس سے وہ سفیان ثوری سے وہ عمرو بن دینار سے وہ حضرت عبداللہ بن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم سے روایت بیان کرتے ہیں۔ کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے بستر پر دراز ہونے سے پہلے یہ دعا پڑھی۔
’’ پروردگار مجھے اپنے مکر سے محفوظ رکھ۔ اپنے ذکر کرنے سے فراموش نہ فرما۔ مجھ سے اپنا پردہ نہ اٹھا ۔ اور ہمیں غافلوں میں شامل نہ فرما۔ پروردگار ہمیں بہترین ساعات میں بیدار رکھ تاکہ ہم تیرا ذکر کر سکیں اور تو ہمیں یاد رکھ۔ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں تو ہمیں عطا فرما۔ ہم تجھے پکارتے ہیں تو ہماری پکارقبول فرما۔ ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں تو ہمیں بخش دے۔‘‘
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ موکل فرماتا ہے وہ اسے اچھی ساعات میں بیدار کرتا ہے۔ اگر وہ اٹھ گیا تو فبھا ورنہ اللہ تعالیٰ ایک اور فرشتہ کو اس کے بیدار کرنے پر مامور فرماتا ہے (بعض روایات میں ہے۔ پہلا فرشتہ آسمان کی طرف جاکر اس بندے کے حق میںعبادات بجالا تا ہے اور دعا کرتا ہے)۔ اگر وہ اٹھ گیا تو فبھا ورنہ وہ بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ اور پہلے فرشتہ کے ساتھ اس بندے کے حق میں قیام بجالاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بندہ نیند سے بیدار ہوگیا اور جو بھی دعا مانگ لے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔ اگر وہ بیدار ہونے سے رہ گیا تو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے حق میں ان فرشتوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
الحدیث السابع
اخبرنا المحمدان، ابن ناصر، وابن عبدالباقی، قالا: انبانا حمد بن احمد، قال: اخبرنا احمد بن عبداللہ الحافظ، قال: اخبرنا احمد بن نصر بن منصور المقریٔ، قال: حدثنا احمد بن الحسن بن علی المقریٔ، دبیس، قال: اخبرنا نصر بن داؤد الخلنجی قال: حدثنا خلف المقریٔ، قال: کنت اسمع معروف الکرخی یدعوا بھذا الدّعاء کثیراً، فیقول: (اللھم ان قلوبنا وجوارحنا بیدک لم تملکنا منھا شیئًا، فاذا فعلت ذلک بھما، فکن انت ولیھما)۔
فقلت: یا ابا محفوظ، اسمعک تدعوا بھذا الدعاء کثیراً، ھل سمعت فیہ حدیثًا؟ قال: نعم۔
حدثنی بکر بن خنیس عن سفیان الثوری عن ابی الزبیر، عن جابر انّ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کان یدعوا بھذا الدعاء اخبر ان ابو منصور عبدالرحمن بن محمد، اخبرنا احمد بن علی بن ثابت، قال: اخبرنا الازھری، قال: حدثنا سلیمان بن محمد بن احمد الشاھد، قال: حدثنا ابو علی احمد بن الحسن المقریٔ، قال: حدثنی نصر بن داؤد، قال: حدثنا خلف بن ھشام،قال: کنت اجالس معروفا کثیراً، وکنت اسمعہٗ یقول: (اللھم ان قلوبنا ونواصینا بیدک، لم تملکنا منھا شیئًا، فاذا فعلت ذلک بھا، فکف انت ولیھا واھد ھا الیٰ سواء السبیل)۔
فقلت: یا ابا محفوظ، اسمعک تدعوا بھذا الدعاء کثیراً۔ ھل سمعت فیہ حدیثاً؟ قال: نعم۔ حدثنا بکر بن خنیس، قال: حدثنا سفیان الثوری، عن ابی الزبیر عن جابر، ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کان یدعوا بھذا الدعائ۔
ھذا الحدیث الذی ذکرہ ابو عبدالرحمن السلمی، وزعم ان معروفا لم یر وغیرہ۔
وقد ذکرنا قبلہ ستۃ احادیث:
ابو محفوظ معروف۔ قلنا: بخیر۔ قال: لایزال اھل تلک المدینۃ بخیر مابقی فیھم۔ اخبرنا المحمدان، ابن ناصر، وابن عبدالباقی، قالا: اخبرنا حمد بن احمد، اخبرنا ابو نعیم احمد بن عبداللہ۔
ومنھم: عبدالوھاب انوراق:
اخبرنا ابو منصور القزاز، قال: اخبرنا ابوبکر احمد بن علی بن ثابت، قال: اخبرنی الازھری، قال: حدثنا عثمان بن عمرو الامام، قال: حدثنا محمد بن مخلد، قال: قریٔ علی الحسن بن عبدالوھاب، وانا اسمع، قال: سمعت ابی یقول: (قالوا ان معروفاً الکرخی یمشی علی المائ، لو قیل لی انہ یمشی فی الھواء لصدقت)۔
اخبرنا القزاز، قال: اخبرنا احمد بن علی، قال: اخبرنا الازھری، قال: حدثنا عثمان بن عمرو، قال: حدثنا ابن مخلد، قال: حدثنا عبدالصمد بن حمید، قال: سمعت عبدالوھاب الوراق۔ (111)
ساتویں حدیث شریف کا ترجمہ
المقری سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں۔ کہ میں نے حضرت شیخ معروف کرخی کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے کہ وہ یوں دعا مانگتے تھے۔
اللھم ان قلوبنا وجوارحنا بیدیک لم تملکنا منھا شیئًا فاذا فعلت ذالک ھما فکن انت ولیھما۔ (112)
اے میرے اللہ! یقینا ہمارا دل اور ہمارے اعضاء تیرے ہاتھوں میں ہیں۔ تو ہمیں ان میں سے کسی کا مالک نہیں بنایا ہے اور تو ان سے جو کرنا چاہے کرسکتا ہے پس تو نے ان کی کارسازی فرما۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا اے ابو محفوظ! میں آپ سے یہ دعا کرتے ہوئے اکثر سنا ہے کیا اس دعا کے بارے میں کوئی حدیث بھی ہے؟ تو آپ نے فرمایا ! ہاں۔ مجھ سے بکر بن خنیس نے وہ سفیان ثوری سے وہ جابر رضی اللہ عنہٗ سے روایت کی ہیں۔ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم انہی دعائیہ کلمات سے اپنے اللہ کو پکارتے تھے۔
(اس حدیث کی دوسری روایت یوں نقل کرتے ہیں)۔
خلف بن ہشام راویت کرتے ہیں کہ میں اکثر حضرت شیخ معروف کرخی کی مجالس میں بیٹھا کرتا تھا۔ میں نے انہیں ان کلمات میں دعا کرتے ہوئے سنا ہے۔
اللھم ان قلوبنا ونواحینا بیدیک لم تملکنا منھا شیئًا فاذا فعلت ذالک لھا، فکف انت ولیھا۔واھدھا الیٰ سواء سبیل۔ (113)
اے میرے اللہ یقینا ہمارے دلوں اور پیشانیوںکا وجود تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔ تونے ہمیں ان سے کسی کا مالک نہیں بنایا ہے۔ پس تو ان سے جو کرنا چاہے تو اس کو اپنے اختیار میں رکھ۔ تو اس کا کارساز ہے اسے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے۔
راوی کہتے ہیں کہ اے ابامحفوظ! میں اکثر دفعہ آپ سے یہی دُعا مانگتے ہوئے سنا ہے۔ کیا اس بارے میں آپ نے کوئی حدیث سنی ہے؟۔ آپ نے فرمایا ہاں! مجھے بکر بن خنیس نے انہیں سفیان ثوری نے انہیں ابی زبیر نے جابرؓ سے روایت کی ہے کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ہمیشہ ایسی ہی دعا فرمایا کرتے تھے۔
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ یہ وہ حدیث ہے جس کا عبدالرحمن السلمی نے ذکر کیا ہے۔ اس نے یہ خیال کیا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی نے صرف اس حدیث کے سوا کوئی دوسری حدیث کی روایت ہی نہیں فرمائی۔
لیکن ہم نے اس سے پہلے جو احادیث بیان کی ہیں۔ ابو محفوظ ! ہم کہتے ہیں وہ بہت اچھے ہیں۔ جب تک اس شہر میں شیخ معروف موجود ہیں سب معاملات اچھے ہیں۔
٭٭٭
احادیثِ اسرائیلیات
اخبرنا المحمدان، ابن ناصر، وابن عبدالباقی، قالا: اخبرنا حمد بن احمد، قال: اخبرنا ابونعیم الحافظ، قال: اخبرنا عبداللہ بن محمد، قال: حدثنا احمد بن الحسین الحذائ، واخبرنا یحییٰ بن علی المدیر۔ قال: اخبرنا یوسف بن محمد المھروانی، قال: اخبرنا ابوالحسن ابن ارزقویہ، قال: حدثنا عثمان بن احمد الدقاق، قال: حدثنا جعفر بن محمد بن العباس۔
واخبرنا محمد بن ابی منصور، قال: اخبرنا عبدالقادر بن محمد، قال: اخبرنا ابراھیم بن عمر البرمکی، قال: اخبرنا عبیداللہ بن عبدالرحمن الزھری، قال: حدثنی ابوالحسن احمد بن محمد بن یزید الزعفرانی، قال: حدثنا ابوالعباس بن واصل، قال: حدثنا احمد بن ابراھیم الدورقی، قال: سمعت معروفاً الکرخی یقول: (قال اللہ تبارک وتعالیٰ): (احب عبادی الیٰ المساکین الّذین سموا قولی، واطاعوا امری۔ فمن کرامتھم علی ان لا اعطیھم دنیا فیلتفتوا عن طاعتی)۔
وقال المھروانی: فیشتغلوبھا عن طاعتی۔
اخبرنا ابو منصور القزاز، قال: اخبرنا احمد بن علی بن ثابت، قال: اخبرنا ابو عبداللہ محمد بن عبد الواحد، قال: اخبرنا عبدالعزیز بن احمد الخرقی، قال: حدثنا محمد بن ابراھیم بن محمد بن خالد بن یزید۔
اخبرنا ابو منصور، قال: اخبرنا احمد بن علی، قال: اخبرنی الحسن بن ابی طالب، قال: حدثنا یوسف القواس، قال: اخبرنا ابراھیم بن محمد بن سھل النیسابوری، واخبرنا القزاز، قال: اخبرنا احمد ابن علی، قال: حدثنا ابن رزق، قال: حدثنا عثمان بن احمد الدقاق، قال: اخبرنا یحییٰ بن ابی طالب، قال: حدثنا معروف ابو محفوظ الکرخی، قال: حدثنا الربیع بن صبیح، عن الحسن، عن عائشۃ، قالت: (لو ادرکت)، وقال ابن رزق: (لو رأیت، لیلۃ القدر، ما سالت اللہ تعالیٰ، الا العفو العافیۃ)۔
اخبرنا ابو بکر ابن حبیب الصوفی، قال: (اخبرنا علی بن ابی صادق)، قال: اخبرنا ابن باکویہ، قال: حدثنا ابو الفضل العطار، قال: اخبرنا جعفر الخلدی، قال: اخبرنا الجنید، قال: اخبرنا سری السقطی، قال: اخبرنا معروف الکرخی، قال: سمعت جعفر الصادق، یقول: کان سلیمان علیہ السلام قاعداً علی سریر ملکہ، وبین یدیہ عصفوران یلعبان، فضحک۔ فقیل لہٗ، یا نبی اللہ، لماذا ضحکت؟ قال: من العصفورین۔ قال: الذکر للانثیٰ: انی لم اجامعک لحظ نفسی، بل اجامعک لیکون بینا ولد یسبح اللہ عزوجل، ویذکرہ۔ ثم حلف وقال: والّذی رفع السّموات وبسط الارض، انی لا ارید ان یکون ولداً لا یسبحہ ولی ملک فرعون، وان ولدت ولداً یسبحہ کان احب الیٰ من ملک سلیمان الّذی ھو قاعد ھھنا۔
اخبرنا ابن ناصر، قال: اخبرنا رزق اللہ، قال: انبانا الحسین بن بشران، قال: حدثنا عثمان بن احمد الدقاق، قال: حدثنا اسحاق بن ابراھیم الختلی، قال: حدثنی الحسن بن عیسیٰ، ابن اخی معروف الکرخی، قال: سمعت عمّی معروف بن الفیروزان، یقول: سمعت بکر بن خنیس، یقول: کیف تتقی وأنت لاتدری ما تتقی۔
اخبرنا المحمدان، ابن ناصر، وابن عبدالباقی، قالا: اخبرنا حمد بن احمد قال: اخبرنا ابو نعیم احمد بن عبداللہ، قال: حدثنا عبداللہ بن محمد بن جعفر، قال: حدثنا احمد بن الحسین بن ناصر، قال: حدثنا احمد بن ابراھیم الدورقی، قال: حدثنی معروف ابو محفوظ، قال: سمعت بکر۔ یعنی ابن خنیس، یقول: کیف یکون تقیاً من لایدری ما یتقی، ثمّ قال معروف: اذا کنت لاتحسن تتقی اکلت الربا، واذا کنت لاتحسن تتقی، لقیت امراۃ لم تغض بصرک، واذا کنت لاتحسن تتقی، وضعت سیفک علی عاتقک۔
ثم قال: ومجلسی ھذا، لعلہ کان ینبغی ان تتقیہ، ومجیئکم معی الیٰ المسجد الیٰ ھھنا، کان ینبغی لنا ان نتقیہ، الیس جاء فی الحدیث۔
(فتن للمتبوع، وذلۃ للتابع)۔
اخبرنا ابو السعادات، احمد بن احمد بن المتوکلی، قال: اخبرنا ابو بکر احمد بن علی بن ثابت، قال: اخبرنا ابوالحسن محمد بن احمد بن رزق، وابوالحسین علی بن محمد بن بشران، قالا: اخبرنا اسماعیل بن محمد الصفار، قال: حدثنا ابو یحییٰ زکریا بن یحییٰ بن اسد المروزی، قال: حدثنا معروف الکرخی، قال: قال بکر بن خنیس: ان فی جھنم لوادیا تتعوذ جھنم من ذلک الوادی کل یوم سبع مرات۔ وان فی الوادی لجبا یتعوذ الوادی وجھنم من ذلک الجب کل یوم سبع مرات، یبدا بفسقۃ حملۃ القرآن، فیقولوا: ای رب بدیٔ بنا قبل عبدۃ الاوثان؟۔ قیل لھم: لیس من یعلم کمن لایعلم۔
اخبرنا اسماعیل بن احمد، قال: اخبرنا محمد بن ھبۃ اللہ الطبری، اخبرنا علی بن محمد بن بشران، قال: حدثنا الحسین بن صفوان، قال: حدثنا ابو بکر بن عبید، قال: حدثنا ابو حفص عمر بن موسیٰ، قال: اخبرنی معروف الکرخی، قال: جاء نی شاب، فقال: یا ابا محفوظ، رأیت ابی فی النوم، فقال لی: یا بنی، مایمنعک ان تھدی لی، کما یھدی الا حیاء الی امواتھم؟ قلت: یا ابتی، ما اھدی الیک؟ قال: تقول: یاعلیم، یا قدیر، اغفرلی ولوالدی، انک علی کل شی ئٍ قدیر۔ قال: فجعلت اقولھا، فرأیت ابی بعد ذلک فی النوم، فقال: یابنی وصلت الینا ھدیتک۔ (114)
مناقب معروف الکرخی میں علامہ ابن جوزی نے چند ایسی روایات درج کردی ہیں جو اسرائیلیوں سے منسوب ہیں۔ یعنی بنی اسرائیل کے صلحاء اکابر اور کتبِ معتبرہ سے ماخوذ روایات جن سے ہمارے اسلاف نے مسائل و واقعات کی تشریح اور استنباط کے سلسلے میں استفادہ کیا ہے۔اور انہیں احادیث میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن مندرجہ ذیل تمام روایاتِ حدیث صرف حضرت شیخ معروف کرخی سے بیان کئے گئے ہیں۔ ہم اہمیت وافادیت کے پیش نظر ترجمہ ومتن کو شاملِ کتاب کررہے ہیں۔ لیکن راویوں کی اس طویل فہرست کو اُردو ترجمہ میں اس لئے نہیں دیا جاریا ہے جو متن کی عبارات میں درج ہوئی ہے۔
پہلی روایت یہ ہے کہ احمد بن ابراہیم الدورقی حدیث بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے شیخ معروف کو سنا ہے آپ فرماتے ہیں ۔ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے ہاں میرے بندوں میں سے عزیز ترین بندے وہ ہیں جو مساکین ہیں۔ انہوں نے میری باتوں کو سنا میرے امر کی اطاعت گزاری کی۔ بس ان کی کرامات میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو میںنے دنیا نہیں دی تاکہ کہیں وہ میرے امر کی اطاعت گزاری سے نہ رہ جائیں۔ مگر شیروانی روایت کرتے ہیں۔ تاکہ وہ میری اطاعت کو چھوڑ کر دنیا میں مشغول نہ ہوجائیں۔
یحییٰ بن ابی طالب روایت کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف الکرخی نے حدیث بیان کی ہے۔ آپ نے ربیع بن صبیح سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کیا ہے کہ آپ فرماتی ہیں۔ اگر میں نے پایا۔ ابن رزق کی روایت ہے۔ اگر میں شب قدر کو دیکھ لیتا تو خدا تعالیٰ سے عفو وعافیت کے سوا کچھ بھی نہ مانگتا۔
حضرت سری سقطی روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت شیخ معروف کرخی نے کہا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے شاہی تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے دو چڑیاں کھیل رہی تھیں۔ جس پر حضرت سلیمان ہنس پڑے۔ کسی نے پوچھا اے خدا کے پیغمبر! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ فرمایا۔ دو چڑیوں میں سے ایک چڑا چڑیا سے کہہ رہا ہے میں تجھ سے اپنی ذاتی غرض سے میل جول نہیں کرتا۔ بلکہ تجھ سے ملاپ اس لئے کرتا ہوںکہ ہمارے درمیان ایسی اولاد ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی تسبیح اور اس کا ذکر کرے۔ پھر اس نے قسم کھائی اور کہا اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو بلند کیا اور زمین کو ہموار ۔ یقینا میں نہیں چاہتا کہ ایسی اولاد ہو، جو خدا کی تسبیح بیان نہ کرے اور مجھے فرعون کی مملکت حاصل ہو۔ اگر اولاد ہوئی تو ایسی ہو جو خدا تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی رہے تو مجھے وہ بات زیادہ پسندیدہ ہوتی، اس سلیمانی مملکت سے جس پر وہ بادشاہت کررہے ہیں۔ حضرت شیخ معروف کا بھتیجا حسن بن عیسیٰ روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا شیخ معروف کرخی سے سنا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ میں نے ابن خنیس سے سنا ہے وہ کہتے ہیں۔ تم کیسے تقویٰ اختیار کرتے ہو جبکہ تم نہیں جانتے کیسے تقویٰ اختیار کرنا ہے۔
احمد بن ابراہیم دروقی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت شیخ معروف سے حدیث سنی ہے۔ شیخ نے برک بن خنیس سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ کیسے متقی ہوسکتا ہے؟ جو یہ نہیں جانتا کہ تقویٰ کیسے اختیار کیا جاتا ہے؟ پھر شیخ معروف کہتے ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ تم نے اچھی طرح تقویٰ اختیار نہیں کیا ۔ رِبا کا مال کھایا۔ اور کسی عورت کو دیکھا لیکن اس سے تم نے اپنی نظروں کو نیچا نہیں کیا۔ (اسے خوب دیکھتے رہے) گویا کہ تم نے اپنی تلوار کو اپنے آزاد کنندہ پر چلادی۔ پھر آپ نے فرمایا اب میری مجلس سے اٹھو۔ اس کو چاہئے کہ وہ صحیح طرح تقویٰ اختیار کرے۔ اگر تم کو میرے ساتھ اس مسجد میں آنا ہوا تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے بچائیں۔ کیا حدیث میں نہیں آیا ہے کہ متبوع کی آزمائش تابع کے لئے ذلت کا باعث ہے۔
شیخ مروزی روایت کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کرخی بکر بن خنیس سے روایت بیان کرتے ہیں ۔ یقینا جہنم میں ایک وادی ایسی ہے جس سے جہنم ہر روز ستر مرتبہ خدا کی پناہ چاہتا ہے۔ اور وادی میں ایک ایسا گھڑا ہے اور جہنم اس گھڑے سے ہر روز ستر مرتبہ خدا کی پنا ہ چاہتا ہے۔ جو فاسق حاملینِ قرآن کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ کہیں گے ۔ اے ہمارے پروردگار کیا تو نے ہمیں بت پرستوں سے پہلے اس میں ڈال دیا؟ تو ان سے کہا جائے گا۔ جاننے والا انجان کی طرح کیسے ہوسکتا ہے۔ ابو حفص عمر بن موسیٰ روایت بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں مجھے شیخ معروف نے خبر دی ہے۔ آپ فرماتے ہیں ۔ میرے پاس ایک نوجوان آیا۔ اور کہا اے ابو محفوظ! میں نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے۔ اے بیٹے کس چیز نے تجھے میرے تحفوں سے روک دیا کیا زندہ لوگ مرنے والوں کے لئے تحفے نہیں بھیجتے ہیں؟ میں نے پوچھا! میں آپ کو کیا تحفہ بھیج سکتا ہوںابّاجان؟ انہوں نے کہا کہ تم یہ کہا کرو!
یا علیم یا قدیر اغفرلی ولوالدیّ انّک علیٰ کلّ شیئٍ قدیر (برحمتک یا اَرحم الرّاحمین)
اے جاننے والے ، اے قدرت والے پروردگار تو مجھے اور میرے والدین کی بخشش فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو میں نے یہ دعا شروع کردی۔ تو بعد میں ایک دفعہ میں نے اپنے مرحوم والد کو خواب میں دیکھا۔ وہ بتارہے ہیں۔ بیٹا تم نے مجھے اپنا تحفہ پہنچادیا۔(115)
٭٭٭