بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

مقتدائِ شریعت اور پیشوائے حقیقت ومعرفت حضرت شیخ معروف کرخی قدس اللہ سرّہٗ العزیز بڑے صاحبِ کمال بزرگ تھے۔ وقت کے اہلِ معرفت کے امام اور ہادی تھے۔ تصوف وعرفان میں درخشاں مقام رکھتے تھے۔ علوم وفضل میں یگانۂ روزگار تھے۔ فقہ وتفسیر کے اسرار و رموز کا بحرِذخارتھے اور فضل وکمال میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ علومِ ظاہری وباطنی میں دریا آستینی کی بدولت لوگوں کا جمِ غفیر آپ کے گرد ہمیشہ جمع رہتا تھا۔ بایں ہمہ اپنے وقت کے آپ مرجعِ خلائق اور عارفِ کامل تھے۔ یوں لوگوں کی کثیر تعداد آپ کی ارادت میں شامل ہوتی رہتی تھی۔ مریدین کی ایک لمبی قطار آپ کے درِ معرفت ورضوان پر صبح وشام کھڑی رہتی اور جوق درجوق سکون واطمینان کے عالم میں پہنچتی جاتی تھی ۔ لوگ صداقت ورضوان کے اس پیش رو کے آگے دست بستہ کھڑے ہوکر قربتِ ربّی کے وسائل کے طلبگار رہتے تھے۔ آپ لوگوں کو آقائے دوجہاں کے دائرہ امّت میں شامل کرتے رہتے تھے اور حضرت امام علی رضا ؑ کے خلیفہ مجاز تھے۔
لہذا اس مختصر سے کتابچے میں اس عظیم گرامی عظامی شخصیت کے بارے میں معلومات بہم پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ اہلِ عرفان کو حقائق ومعارف کے اُن لالہ زاروں کا علم ہو اور ان ہستیوں کی سیرت وسوانح سے باخبر ہوں جن کی زندگیاں تصوف وعرفان کی جہاں آرائی میں صرف ہوئیں ۔ قطبِ دوراں حضرت شیخ معروف کرخی ؒ کی حیاتِ مقدسہ بھی ہماری رہنمائی اور حیات آزمائی کے لئے شاندار علامت اور مثال ثابت ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی میں اسے عظیم سعادت سمجھتا ہوں کہ اُن کی حیاتِ طیبہ کو اپنی زندگی کیلئے مشعلِ راہ بناتے ہوئے احوال وآثار کو جمع کردوں اور دیگر تمام مسلمانوں کو بھی آسان انداز میں استفادہ کرنے کی سعادت وشرف کا حصّہ دار بناؤں۔
مجھے یہ احساس ہے کہ سوانح وسیر لکھنا ایک ایسا عظیم علم اور اسلام کاورثہ اور فن ہے جو ماہر ومشاق، تجربہ کار علماء وفضلا کا کارنامہ جانا جاتا ہے۔ یہ بہت مشکل اور باریک کام ہے معمولی کوتاہی بھی پوری علمی دنیا کو اصل رُخ سے پھیر سکتی ہے۔ حقائق پر پردہ پڑجانے کا موجب بن سکتی ہے۔ ہدف تنقید کے علاوہ الٹا عذاب وعتاب کا سبب بھی۔ مگر عقل ونگاہ اور علم وفن کی بنیاد محبت ہے جو اس راہ کا اوّلین مرشد ومقتدا ہے تو مجھے حضرت شیخ معروف کرخی ؒ سے دلی، روحانی اور عرفانی تعلق اور وابستگی ہے جس کے ذریعے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں مجھے ضرور کامیاب فرمائیں گے اور سرخرو بھی۔ اللہ تعالیٰ سے میری یہی دُعا ہے کہ مجھے اس نئے تحقیقی مقصد میں کامیاب فرمائے۔
حضرت شیخ المشائخ کی حیاتِ گرامی پر اگر چہ بہت سے لوگوں نے قلم اُٹھایا ہے اور اکثر محققین نے تفصیلات بہم پہنچائی ہیں۔ وہ سب کے سب عام لوگوں کے استفادے سے باہر ہیں۔ یعنی وہ مختلف کتب تصوف وعرفان اور سیر وتاریخ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور عربی وفارسی زبانوں میں بند ہیں۔ بندہ کی کاوش یہ ہے کہ ان تمام منتشر حالات کو یکجا کرکے نہایت آسان اور جامع انداز میں اردو میں پیش کیاہے۔ کیونکہ بعض حالات تو عربی فارسی زبانوں میں مقید ہیں جن سے اُردو دان طبقہ اب تک نابلد ہے، اس لئے بندہ نے سوانحِ معروف خاص طور پر اُردو شناس قارئین کے استفادے کیلئے ممکن اور مفید عام بنانے کی کوشش کی ہے۔ علاوہ ازیں اس کتاب کی تدوین کے دوران اصولِ تحقیق کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور جملہ مطالب ومضامین کو جامع اور مدلل بنانے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ حضرت شیخ معروف قدس سرّہٗ کی صوفیانہ اور زاہدانہ زندگی کا ہر شعبہ لفظوں کی دنیا میں سماکر ایک نیا جہانِ عالمتاب بن کر ہمارے سامنے آجائے چنانچہ اس سلسلے میں میری تحقیق کا اصل محور ومرجع علامہ عبدالرحمان بن علی بن محمد بن الجوزی کی کتاب ’’مناقب المعروف الکرخی واخبارہٗ ‘‘ ہے۔ جسے ڈاکٹر عبداللہ الجیوری نے ۱۹۸۵ء میں حاشیہ کے ساتھ قاہرہ سے شائع کیا لیکن اس کے بیان وزبان میں جدّت اور مناسب ربط تسلسل قائم کرنے کیلئے دیگر رسائل وکتب سے بھی استفادہ کرکے کتاب کو زیادہ سے زیادہ جامع بنانے کی سعی کی گئی ہے۔ تاکہ حضرت شیخ معروف ؒ جیسے جامع کمالات ہستی کے متعلق یہ کتاب ہر طرح سے معیاری اور مفیدِعام ہوجائے۔ ترجمہ کے ساتھ ساتھ آپ کی تعلیمات کی ترجمانی کرنے کی سعی کی ہے اگرچہ زرخیز مراجعات کی عدمِ دستیابی اس راہ کی بڑی رُکاوٹ تھی باوجود اِس کے ہم نے جو مواد فراہم کئے ہیں وہ اپنی جگہ قارئین کی رہنمائی اور اُن کی معلومات میں اضافے کیلئے کافی شافی ہونے کی امید ہے۔ یہ عاجزانہ تحقیق آنے والی نسل کیلئے اور جدید تحقیق کرنے والوںکے لئے ثمر آور محنت ثابت ہوگی۔ مجھے قوی یقین ہے کہ اہلِ عرفان وتصوف اس کتاب کو پڑھ کر ضرور اپنی دُعاؤں میں مجھے یاد فرمائیں گے۔
مناقبِ معروف کی اہمیت
سوانح وسیرت پر مبنی کتابیں تاریخی شواہد پیش کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔ انبیاء اور اولیاء کی سیرت اسلامی تعلیمات ومصدقات کا ذخیرہ ہوتی ہے۔ علم وعرفان اور تصوف کے موضوع پر اُن کے اقوال میں کشف والہامی روح کارفرما ہوتی ہے۔ مناقب المعروف الکرخی جو حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرّہٗ العزیز البغدادی کی سوانح حیات پر عربی میں ایک جامع اور مبسوط کتاب ہے جو عالم وادیب، واعظِ بغداد نابغۂ روزگارِ ابوالفرج علی ابن عبدالرحمن بن محمد جمال الدین ابن الجوزی متوفی ۵۹۲ھ کی تصنیف ہے۔ آپ ایک عرب مصنف تھے ۔ بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ علم حدیث کے زبردست نقّاد ہیں۔ آپ نے غزالی کی احیاء العلوم کا ایک نسخہ تیار کیا جس میں تمام ضعیف روایات حدیث کو نکال دیا۔ آپ نے علم واَدب کی ہر صنف اور ہر شاخ میں خوب طبع آزمائی کی۔ آپ ایک مشہور مؤرخ ہیں۔ اس دُنیائے تاریک پر اُن کی ایک تصنیف ’’المنتظم والملتفظ‘‘ کے نام سے کافی شہرت رکھتی ہے۔ اس کا ایک نسخہ برٹش میوزیم میں کیٹلاگ نمبر5909 پر موجود ہے۔ اور ان کی علمی ثقایت پر یہی کافی ہے کہ حضرت شیخ سعدی شیرازی اُن کے شاگرد تھے۔ ان کی حیثیت کئی رُوپ میں رنگین نظر آتی ہے۔ یعنی فقیہہ، محدث، لغوی ادیب، مؤرخ وغیرہ۔ اور آپ کو صوفیائے کرام کی روِش وسلوک سے گہرا تعلق تھا۔ وہ اسی انداز کو نکھارنے کے سلسلے میں طبقہ علیا کے رجال تصوف کے حالات قلمبند کرنے میں پیش پیش رہے۔ جیساکہ حضرت شیخ معروف کرخی، بشر حافی، جنید بغدادی، فضل بن عیاض، رابعہ عدویہ، ابراہیم بن ادہم اور اولیائِ کرام کے تذکروں کے دو مجموعے خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ پھر ابن الجوزی ان قدیم علماء میں سے ہے جنہوں نے اوائلِ تصوف کے عرفاء وزھّاد کو پڑھا اور اسلامی ورثہ کا خوب تحفظ واشاعت کا اہتمام کیا۔ نیز اسلام کی ترجمانی کیلئے اُن صلحائِ کرام ، زھّاد وبزرگانِ دینِ متین کی زندگی پر لکھنے کا سہارا لیا اور تصوف واسلام کے اس سنگم کو حسین اور دلفریب انداز میں پیش کیا ۔
حقیقت یہ ہے مناقب المعروف الکرخی کے مبسوط ایک جامع اور سوانح ہونے میں کبھی شبہ نہیں رہا۔ اس لئے حضرت شیخ المشائخ قطبِ دوراں حضرت شیخ معروف الکرخی بغدادی ؒ کی سوانحِ حیات پر اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی تمام حکایات وروایات بزرگ اولیائ، صلحاء وعلمائِ امّت سے نقل کی گئی ہیں۔ ان کا انداز ہی ایسا ہے جس طرح احادیثِ رسولؐ بیان کرنے میں رجال وراویوں کے تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسائل بیان کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہی بات کو کئی راویوں سے مختلف انداز سے پیش کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تکرار واقع ہوا ہے۔ قاری کو قدرے اکتاہٹ کا احساس ہونے لگتا ہے مگر پھر بھی مؤلف کے انداز بیان سے ایک عارفِ کامل کی پاکیزہ حیات کی نئی نئی کونپلیں کھلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جس سے ایک قاری کو علم افروزی ضرور ہوتی ہے۔ کتاب مناقب معروف الکرخی واخبارہ کو ڈاکٹر عبداللہ الجبوری نے ۱۹۸۵ء میں حاشیہ لگانے کے ساتھ بیروت قاہرہ سے شائع کیا تھا اور حضرت شیخ معروف کے واقعات وحالات کو ثابت کرنے کی غرض سے مندرجہ ذیل ماخذ وکتب کو حاشیے میں مندرج کردیا۔ جن میں آپ کے حالات پائے جاتے ہیں۔
1- صفوۃ الصفوۃ 2- مراۃ الجنان
3- طبقات الحنابلہ 4- کشف الظنون
5- ہدیۃ العارفین 6- سیر النبلاء الاعلام
7- تذکرۃ الحفاظ 8- تاریخ بغداد
9- طبقات السلمی 10- الرسالہ القشریۃ
11- ابن الخلقان المؤرخ 12- حلیۃ الاولیاء
13- طبقات ابن الملقن 14- مناقب الابرار
15- حلیۃ الاولیاء (ابو نعیم اصفہانی) 16- معجم البلدان
17- الخطیب بغدادی 18- طبقات الاسنوی
19- الکامل وشذرات الذہب 20- طبقات المفسرین
21- طبقا ت الصوفیہ 22- طبقات ابن الصلاح
23- طبقات القرائ 24- حال الاولیاء
25- مناقب احمد بن حنبل 26- تہذیب ابن عساکر
27- تاریخ ابن عساکر 28- طبقات ابن خیاط
29- طبقات السبکی 30- معجم المؤلفین
31- الکواکب الدریۃ 32- صید الخاطر
33- التاریخ الکبیر
قرآن مجید کے علاوہ احادیث کے بارے میں صحاحِ ستّہ کی کتابوں اور رجال حدیث اور لغت کی کتابوں کے حوالے دیئے گئے ہیں اور کتاب کی بعض مشکلات کی وضاحت کرنے کے علاوہ راویوں کی انفرادی تعارف پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ حاشیہ نگار ڈاکٹر الجبوری لکھتے ہیں کہ مناقب معروف الکرخی واخبارہ کے دو نسخے پائے گئے ۔ پہلا نسخہ مکتبۃ الاوقات العامۃ بغداد کا ہے جس کا کیٹلاگ نمبر 4874مجامیع ہے۔ جبکہ دوسرا نسخہ مکتبہ شہید علی استنبول ترکیہ کا ہے جس کا کیٹلاگ نمبر1424ہے۔ ان دونوں نسخوں سے ہم نے جو کامل ومکمل نسخہ نقل کرکے’’مناقب معروف الکرخی واخبارہ‘‘ کو مفصل حاشیہ کے ساتھ شائع کیا ہے موصوف نے مقدمہ میں توضیحی کلمات کے علاوہ تحقیقی بیانات کی روشنی میں کتاب کی واعظِ بغداد یگانۂ روزگار ابوالفرج علی ابن عبدالرحمان بن محمد جمال الدین ابن الجوزی المتوفی ۵۹۷ھ کی تالیف ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
مناقب کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ علامہ ابن الجوزی خود صفوۃ الصفوۃ نامی کتاب میں رقمطراز ہیں کہ ہم نے یہاں حضرت شیخ معروف کے کچھ احوال بیان کئے ہیں سو ہم نے ان کے مناقب اور اخبار کو یکجا کرکے منفرد انداز میں ایک کتاب پیش کی ہے۔ جو ان معلومات پر مزید اضافہ کے خواہشمند ہوں وہ مناقب معروف الکرخی واخبارہ کا مطالعہ کرے تو وہ اسے جامع پائے گا۔ تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مناقب معروف کی اہمیت اس کے ماخذ کتب کے حوالے سے بہت زیادہ ہے اور ادھر مصنف کی اپنی قدرومنزلت اور علمی مقام کے لحاظ سے یہ پہلو اور بھی عیاں ہوکر سامنے آجاتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخیؒ کی علمی دنیا میں کتنی قدروقیمت تھی اور روحانی دنیا میں ان کا کتنا مقام تھا۔ لوگ کس حد تک ان کی عرفانی حیثیت کے قائل تھے۔ بجا طورپر کہا جاسکتا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخیؒ اسلامی، علمی، روحانی اور وجدانی ورثے کا حامل تھے۔ جس کی حفاظتی ذمہ داریوں کو علمائِ کرام نے بڑی محبت اور لگاؤ سے نبھایا ہے۔ یوں یہ ورثہ اب تک نئی نسل کو منتقل ہوتا رہا اور ان واقعات وحالات سے کتابوں کے اَوراق کو زینت ملتی رہی۔ پڑھنے والوں کا ایمان تازہ ہوتا رہا ۔
بایں ہمہ سوانح شیخ معروف کرخی کی تدوین کے سلسلے میں علامہ ابن الجوزی کی المناقب کے علاوہ مندرجہ ذیل ماخذ کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔
1- تذکرہ اولیاء ( شیخ عطارؒ) 2- نفحات الانس (ملا جامیؒ)
3- مشجر الاولیاء (سید محمد نوربخشؒ) 4- خزینۃ الاصفیاء (مفتی غلام سرور)
5- طرائق الحقائق 6- خمخانۂ وحدت
7- ریاض السیاحہ 8- بستان السیاحہ(حاجی شیروانی)
9- مجالس المومنین (شوستری) 10- کشف المحجوب (سید علی ہجویریؒ)
11- بوستانِ سعدی (شیرازی) 12- تحفۃ الاحباب (محمد علی کشمیری)
13- اردو انسائکلو پیڈیا 14- مقالاتِ محمد شفیع ج۔۱
15- ماہنامہ نوائے صوفیہ ش:۳ 16- ماہنامہ نوائے صوفیہ ش: ۱۰
17- ماہنامہ نوائے صوفیہ ش: ۵۳ 18- ماہنامہ نوائے صوفیہ ش: ۱۱
19- ماہنامہ نوائے صوفیہ ش: ۵۴ 20- حاشیہ ڈاکٹر عبداللہ الجبوری
21- دعواتِ صوفیہ نوربخشیہ(اردو) 22- شہکار انسائیکلوپیڈیا
23- دائرہ المعارف الاسلامی 24- کتاب جنید بغدادی
25- سلاسلِ اولیائ 26- مختصر دعواتِ صوفیہ فارسی
27- رسالہ نوریہ 28- صحیفۂ اولیاء
29- تاریخ دعوات وعزیمت 30- ترجمہ فصوص الحکم (عبدالحمیدصدیقی)
31- تذکرہ اولیاء ہند وپاک 32- تحفۂ کشمیر
33- مجلس صوفیہ (دارانی) 34- سید محمد نوربخش اور مسلکِ نوربخشیہ
35- ارجع المطالب 36- کوکبِ درّی
37- عوارف المعارف 38- کتاب امام احمد بن حنبل
39- روزنامہ دن راولپنڈی 40- الخیرات الحسنات
41- سوانح ابن عربی 42- قصیدہ نعمانیہ
43- صواعق محرقہ 44- شواہد النبوت
45- حصن حصین 46- مخزنِ اخلاق
47- کیمیائے سعادت 48- رسالہ قشریہ
49- کتاب الاعتقادیہ 50- مناقب معروف
51- دعائے رقاب امیریہ 52- احسن المقال
53- مکاشفۃ القلوب 54- چودہ ستارے
55- مکاشفتہ القلوب 56- قوت القلوب
57- الغزالی شبلی نعمانی 58- بزرگان ایران
59- تعلیمات غزالی 60- قرآن و تصوف
61- سیرت بایزید 62- اللہ کے سفیر
63- شرح گلشن راز 64- ذخیرۃ الملوک
65- فتوحات مکہ 66- دیوان حضرت علی ؑ
67- سلک السلوک نخشبی
طرزِ تحقیق وترجمہ
راقم نے سوانحِ معروف کرخیؒ کی تیاری میں علامہ ابن الجوزی کی ’’مناقب المعروف واخبارہٗ‘‘ کو سامنے رکھا ہے اور اس کا عربی سے اُردو زبان میں ترجمہ کرنے کی سعی کی ہے۔ اس طرح یہ کتاب اس کا مکمل ترجمہ ہونے کے علاوہ قدرے جامع بھی ہوگئی ہے۔ لیکن مناقب معروف کے مختلف ابواب میں موجود بعض بیانات میں زیادہ تکرار وطوالت واقع ہورہی تھی جسے میں نے کم از کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کا ممکن ہے ترجمہ بھی دستیاب ہوگا ۔ اس علمی دور میں گمان گزرتا ہے کہ مجھ سے بھی زیادہ فصیح وبلیغ ترجمہ کسی خوش بخت نے کیا ہو! مگر میں نے جو طرزِ تحقیق اپنایا ہے وہ اس طرح ہے کہ حکایات وروایات اور واقعات کے اندراج کا انداز احادیث کے اندراج کے نہج پر تھا۔ تمام روایات کے مروی عنہم کے نام اسماء رجال حدیث کے طرز پر مندرج تھے۔ میں نے اس محدثانہ انداز کو چھوڑدیا ہے۔ جو کتاب کو ضخیم بنانے کے سوا قارئین کے جدید تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ ان راویوں کے تمام ناموں کو حذف کرکے صرف مروی عنہٗ کا نام رکھا گیا ہے۔ اور بعض دفعہ’ منقول‘ ہے،’ مروی‘ ہے، وغیرہ سے اظہار بیان کیا گیا ہے اور بعض بیانات کو محولہ کتاب کے ذکر کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے۔ لیکن جن احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے راوی شیخ معروف ہی ہیں ان احادیث کو بصورتِ متون بحال رکھا گیا ہے اور اسی حالت میں شامل کتاب کرتے ہوئے بمعہ اسناد نقل کی ہیں۔ لیکن احادیث کا ترجمہ صرف حضرت شیخ معروف کے نام سے آغاز کیا گیا ہے تاہم چند مظہرات ایسے بھی ہیں جن کے اندر شیخ معروف کرخی کے کردار کے مختلف موضوعات شامل تھے۔ جنہیں ہر عنوان کے ذیل میں درج کردیا ہے۔ جن کا مناسب محل پر درج کرنا ضروری تھا۔نیز کتاب کو جامع اور دلکش بنانے کی خاطر اس کے ترجمہ پر اکتفا نہیں کیا ہے۔ بلکہ جدید دور کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے کے لیے دوسرے محققین کی تالیفات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ آپ کے اساتذہ وتلامیذ کے مختصر مختصر تعارف اور روحانی روابط واسناد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تمام حوالوں کو کتاب کے مقدمہ میں درج کردیا ہے۔ ابواب اور عنوانات کو نئی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ حسبِ ضرورت مختلف ابواب میں بعض جگہ ترتیب میں ترمیم کی ہے اور کوشش کی ہے کہ کہیں سے کتاب کا ترجمہ چھوٹ نہ پائے اور کتاب اصل کے مطابق ہی رہے۔کتاب کی تدوین کے دوران محولہ کتب کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ الجبوری کے حاشیہ سے مددلی گئی ہے۔ اور بعض جگہ خاص کر دعوات اور وظائف کی عبارات کو عربی میں ہی تحریر کیا ہے تاکہ قارئین ان سے صحیح استفادہ کرسکیں۔ کرامات کے باب میں تفصیلات ہر عنوان کے ذیل میں قلمبند کردی ہیں۔ عربی عبارات کے ترجمہ کے دوران سلیس اور مطلب کے قریب لغوی معانی کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ قدیم عربی انداز ِ بیان کے سمجھنے میں مشکل پیش نہ آئے اور واقعاتی تناظر کے تاریخی حقائق مخفی نہ رہیں۔ تاہم آپ کے خوابوں کو الگ الگ عنوانات کے ذیل میں پیش کردیا ہے۔ مناقب المعروف الکرخی (متن عربی) کا جو نسخہ مجھ تک پہنچا ہے اس کی فوٹو کاپی بعض دوستوں کے کتابی ذخیروں میں پائی جاتی ہے۔ اس نسخہ کی کاپی جو مکمل صورت میں موجود ہے اس کے آغاز سے لے کر اختتامی کلمات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ تاہم مجھے ذاتی طور پر چند صفحات کی عدم موجودگی پر پریشانی لاحق تھی۔ مگر اس بارے میں جناب مولانا غلام حسن حسنو صاحب نے ان کلمات سے تبصرہ فرمایا کہ عرب سکالروں کا طریقہ یہ ہے کہ کتاب کا صفحہ جب جفت عدد پر ختم ہوتا ہے تو وہ اگلے صفحہ کا آغاز بھی جفت عدد سے کرتے ہیں۔اور طاق صفحہ خالی چھوڑدیتے ہیں۔ اس طرح کتاب میں صفحات معدوم ہونے کا میرا یہ شک دور ہوگیا۔ ؎
احبّ الصّالحین ولست منھم
لعلّ اللّٰہ یرزقنی صلاحاً

محبّ الصّلحاء خاکپائے اولیاء
احقر شکور علی انور کوروی
فاضل عربی، فاضل درس نظامی، ایم اے ، ایم ایڈ