وعبرت اور سبق آموزی کے سلسلے کی کڑی سمجھتے ہیں اور حسب تحقیق ان کو یکجا کرکے پیش کیا ہے۔ مولانا رحمت اللہ سبحانی لدھیانوی نے اقوالِ معروف کرخیؒ کے عنوان سے آپ کے تمام اقوالِ زرّین جمع کردیئے ہیں، ان میں سے چند ملاحظہ ہوں:۔
1- بغیر عمل جنت کی آرزو گناہ ہے۔ بغیر ادائے سنت اُمیدِشفاعت رکھنا محض غرور اور دھوکا اور بغیر فرمانبرداری کے امیدوارِ رحمت ہونا محض جہالت اور حماقت ہے۔
2- دولت کے بھوکے کو کبھی حقیقی راحت نہیں مل سکتی۔
3- ایسی گفتگو کرنا جس سے کسی کا فائدہ نہ ہو علامتِ ضلالت وگمراہی ہے۔
4- جس طرح تو برائی سننے کو ناپسند کرتا ہے اسی طرح اپنے آپ کو مدح سرائی سے بھی بچا۔
5- حق تعالیٰ جب کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو حسنِ عمل کا دروازہ اس پر کھول دیتا ہے۔
6- آنکھ سب کی طرف سے بند کر لے خصوصاً بری نگاہ سے کبھی نہ دیکھ۔
7- محبت ایک چیز ہے۔ جو سیکھنے یا کسی کے بتانے کی نہیں ہے۔
8- حبِّ دنیا ترک کردو۔ کیونکہ اگر دنیا کی ذرا سی چیز بھی تمہارے دل میں ہوگی تو سجدہ کرنے میں بھی تم اس کو فراموش نہ کرسکو گے۔
9- جو کچھ رنج ومصیبت تم کو پیش آئے اس کی کشود کار اس کے پوشیدہ رکھنے ہی میں ہے۔ (181)
10- دنیا کا لفظ دنایت سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں، خواری، ذلت، کمینگی، اس سے اندازہ لگاؤ کہ دنیا کیا چیز ہے؟۔
11- وہ بنیاد جو کبھی ویران نہ ہو عدل ہے۔ وہ تلخی جس کا آخر شیرینی ہو وہ صبر ہے۔ وہ شیرینی جس کا آخر تلخ ہو وہ شہرت ہے۔ بیماری جو علاج پذیر نہ ہو ابلہی ہے۔ وہ بلا جس سے لوگوں کو بھاگنا چاہئے عیش ہے۔
12- شرکِ ظاہر بتوں کی پرستش اور شرکِ باطن مخلوق پر بھروسہ رکھنا ہے۔
13- تواضع یہ ہے کہ جس سے بھی تو ملے اپنے سے بہتر جانے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ عالم ہو یا جاہل، مومن ہو یا کافر۔
14- عقلمند وہ ہے جس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو اوّل روز وہی کرے جو وہ تیسرے روز کرے گا (یعنی صبر واستقامت اختیار کرے) ۔
15- آپ سے پوچھا گیاکہ مصائب دنیا کی کیا دَوا ہے؟ فرمایا کہ خَلق سے دور اور خُلق سے نزدیک رہنا۔
16- طالبِ حق عورت کا مرشد اس کا شوہر ہے۔ اگرچہ اس کا شوہر طالبِ حق ہی نہ ہو۔
17- درویشی یہ ہے کہ کسی چیز پر طمع نہ کرے۔ جب بے طلب کوئی لائے تو منع نہ کرے اور جب لے تو جمع نہ کرے۔
18- جو کوئی ہم کو اللہ تعالیٰ کے نام پر دھوکہ دے گا ہم اس کا دھوکہ کھالیں گے۔
19- اگر صاحبِ بدعت کو دیکھو کہ ہوا پر چلتا ہے تو بھی اس کو قبول نہ کرو۔
20- کسی بزرگ سے کسی گناہ کا سرزد ہوجانا اسے مباح نہیں کردیتا۔
21- امیروں کی صحبت کے نقصانات احاطۂ تحریر سے باہر ہیں۔ بچو! بچو۔
22- علم نر ہے اور عمل مادہ۔ دین ودنیا کے کام ان کے ملنے سے ہیں۔
23- جو شخص عملِ نیک حصولِ ثواب کے خیال سے کرتا ہے تو وہ تاجر ہے۔ جو دوزخ کے خوف سے کرتا ہے تو وہ غلام ہے۔ جس طرح غلام مار پیٹ کے خوف سے کام کرتا ہے۔ اور جو شخص صرف خدا کے واسطے کرتا ہے وہ احرار سے ہے۔
24- گناہ کرنے والے سے میل جول رکھنا گناہ پر راضی ہونا ہے۔ اور گناہ سے راضی ہونا گناہ کرنے کے برابر ہے۔
25- اعتماد سالم (سلامت) نہ ہو تو عبادت بھی بیکار ہے۔
26- اے جھوٹے! تو نعمت کی حالت میں خدا کو محبوب سمجھتا ہے لیکن جب بلا آتی ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ بلا اور فقر میں ثابت قدم رہنا خدا تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت ہے۔(182)
27- جوان مردوں کی تین علامتیں ہیں اوّل: وفا بلا خلاف، دوم: مدح بلا جود، سوم: عطا بلا سوال
28- خدا کی دوستی کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایسے کام میں مشغول رکھے جس میں اس کی سعادت ہے بے مقصد باتوں سے اس کو دور رکھے۔
29- اولیاء اللہ کی تین علامتیں ہیں۔۱) ان کا فکر خدا سے ہوتا ہے۔۲) ان کو قرار خدا سے ملتا ہے۔۳) ان کی مشغولیت خدا میں ہوتی ہے۔ (183)
30- وفا کی حقیقت یہ ہے کہ باطن خوابِ غفلت چھوڑ کر ہوش میں آجائے۔ اور فکر فضول سوچ سے فارغ ہوجائے۔
31- زبان کو (لوگوں کی) مدح سے اسی طرح روکو جس طرح ذم سے۔
32- محبت سکھانے سے پیدا نہیں ہوتی یہ اللہ کی دین ہے اور اس کے فضل سے ملتی ہے۔
33- عارف کے پاس اگر کوئی نعمت نہ ہو تو بھی اس کے پاس نعمت ہی نعمت ہے۔ (184)
34- جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس پر عمل کا دروازہ کھول دیتے ہیں اور اس پر جھگڑے کا دروازہ بند کردیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرلیتے ہیں تو ا س پر عمل کا دروازہ بند کردیتے ہیں اور اس پر جھگڑے کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ (185)
35- اگر عارفوں کے دلوں سے دنیا کی محبت نہ نکال دی جاتی تو وہ اطاعت بجالانے کی طاقت نہ رکھتے اور اگر دنیا کی محبت کا ایک ذرّہ بھی ان کے دلوں میں ہو تو ان کا ایک سجدہ بھی صحیح نہ ہوتا۔
36- آپ فرماتے ہیں کہ عارف دنیا کی طرف مجبوراً رجوع کرتا ہے اور مفتور (دماغ میں فتور واقع ہونے والا) اختیار کے طور پر۔
37- آپ سے سوال کیا گیا کہ دنیا کی محبت دل سے کس طرح نکل جاتی ہے تو آپ نے فرمایا کہ خالص محبت اور اچھے معاملہ سے۔
38- آپ فرماتے ہیں کہ عالم کا عمل جب اس کے علم کے مطابق ہوتا ہے تو ایمانداروں کے دل اس کیلئے جھک جاتے ہیں اور جن کے دل بیمار ہوتے ہیں وہ اُسے ناپسند کرتے ہیں۔
39- فرماتے ہیں ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے برائی کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اسے نیک اعمال سے محروم کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوتے ہیں۔ اور اس کو دولت مندوں کی صحبت میں لے جاتے ہیں۔
40- آپ نے فرمایا (کسی آدمی سے) کہ اللہ پر بھروسہ رکھے۔ یہاں تک کہ وہی تیرا استاد اور وہی غم میں ساتھی اور شکوہ کرنے کی جگہ ہو۔ اور موت کی یاد ہر وقت تیرے ساتھ رہنی چاہئے جو کبھی جدا نہ ہو۔ اور جان لے کہ تجھ پر جو مصیبت بھی اترے اس کی شفا اسے مخفی رکھنا ہے کیونکہ لوگ نہ تجھے نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں ، نہ تجھے کچھ دے سکتے ہیں نہ کسی چیز کو روک سکتے ہیں۔
41- آپ سے کسی مخلص دوست نے پوچھا اے ابو محفوظ! آپ کو عبادت کرنے پر اور مخلوق سے کنارہ کشی پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ آپ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا کہ ’’موت کی یاد نے‘‘ اس نے پوچھا موت کیا ہے؟ تو فرمایا۔ قبر اور دوزخ کا ذکر۔ اس نے پوچھا قبر کیا ہے؟ تو فرمایا آگ کا خوف اور جنت کی امید۔ اس نے پوچھا یہ دنیا کیا ہے؟ تو فرمایا کہ یہ تمام ملک اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر تیری اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ سب کچھ تجھے بھلادے گا اور اگر تیرے اور اس کے درمیان معرفت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ تجھے ان سب سے کفایت کرے گا۔ (186)
42- آپ فرما تے تھے کہ بندے کا بے مقصد باتیں کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسوائی ہے۔
43- آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے سب سے زیادہ پیارے بندے مسکین لوگ ہیں کہ میری بات سنتے ہیں اور جب اُن کو حکم دیتا ہوں تو اطاعت کرتے ہیں۔اور ان کی کرامت یہ ہے کہ میں ان کو دنیا میں نہیں دیتا تاکہ وہ میری اطاعت سے منہ نہ پھیریں۔
44- کسی آدمی نے کہا کہ میں جس سے بھی نیکی کرتا ہوں وہ مجھے اچھا بدلہ نہیں دیتا تو حضرت شیخ معروف کرخیؒ نے فرمایا۔ تم نے بغیر جانچ پڑتال کے نیکی کی تو وہ شکر گزار کے ہاں واقع نہ ہوئی۔
45- آپ فرماتے ہیں کہ تصوف یہ ہے کہ آدمی حقائق کو قبول کرے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہو اس سے مایوس ہوجائے اور جو فقر سے متصف نہیں وہ تصوف سے بھی متصف نہیں۔ (187)
46- جو آزمائش الٰہی سے لطف نہ اُٹھائے وہ سچا دعویدار نہیں ہے۔
47- بدقسمت آدمی کی نشانی یہ ہے کہ اپنے نفس کی خاطر لغو باتوں میں مشغول رہے۔
48- اصل علم تو حق تعالیٰ کا ڈر ہے۔
49- ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ تو فرمایااس بات سے ڈروکہ اللہ تعالیٰ کہیں تم کو فقر کے سوا اور کسی حال میں نہ دیکھے۔
50- آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بہشتی کی دعا کے وسیلہ سے میری مغفرت فرمادی۔
51- وفا یہ ہے کہ غفلت کی بے ہوشی سے اپنے راز کا خوف اور فضول کاموں سے دل کو فارغ کرے۔
52- جس کے عمل اچھے ہوتے ہیں اس کے دل میں حکمت نازل ہوتی ہے۔
53- عارف کے پاس تمام نعمتیں ہوتے ہوئے اس کے لئے کوئی نعمت نہیں ہے۔
54- آپ اپنے نفس کو ملامت کرتے اور فرماتے اے مسکین! تو کب تک روئے گا اور نادم ہوگا تو ہر چیز سے آزاد ہوجا تو بچ جائے گا۔
55- عقلمندی اور خوشی اس بات میں ہے کہ مروت چاہنے سے بہتر یہ ہے کہ مروت کا دوسروں سے مظاہرہ کرے۔
56- دنیا والوں کی خدمت غلام کرتے ہیں لیکن آخرت والوں کی خدمت آزاد کرتے ہیں۔
57- دنیا کی محبت ترک کرنے والا اللہ کی محبت کا مزہ پاتا ہے۔
58- اے اللہ! ہمیں ایسا آدمی نہ دکھانا جنہیں دیکھنا تجھے پسند نہ ہو۔ (189)
59- صبر و کامل وہ جو اسراء کو نصیحت کی نظر سے دیکھے حسد کی نظر سے نہ دیکھے اور درویشیوں کو تواضح کی نظر سے دیکھے تکبر کی نظر سے نہ دیکھے اور عورتوں کو شفقت کی نظر سے دیکھے شہوت کی نظر سے نہ دیکھے۔
60- عجیب بات ہے جب کوئی شخص کسی کھانے سے پرہیز اس لیے کرتا ہے کہ موت نہ آئے۔ گناہ سے پرہیز کرنا ہے عذاب نہ آئے۔
61- کلام کا چھوٹ جانا موت سے خطرناک ہے کیونکہ موت لوگوں سے منقطع ہونے کا نام ہے لیکن کلام کا چھوٹ جانا اللہ تعالیٰ سے منقطع ہونے کا مترادف ہے۔
62- انبیاء کے ادنیٰ مراتب شہداء کے اعلیٰ مراتب کے برابر ہیں اور شہداء کے ادنیٰ مراتب صلحاء کے اعلیٰ مراتب کے برابر ہیں اور صلحاء کے ادنیٰ مراتب مومنوں کے مراتب ہوتے ہیں۔
63- ہر آدمی کی قدر و قیمت کا اندازہ اس کی ہمت پر منحصر ہے۔ پس بے چارہ وہ شخص ہے جس کی اپنی کوئی ہمت نہیں ہوتی مگر دنیا جس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
مواعظِ معروفؒ
آپ کے مواعظِ حسنہ کا کچھ حصہ تو فرموداتِ معروفؒ میں پڑھ چکے ہیں۔ تاہم یہاں زہد وبقا، دقائق اور معٰارف کے نکات ضبطِ تحریر میں لاتے ہیں۔ جن میں آپ نے زاہدانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مواعظ ونصائح کا فریضہ انجام دیاہے۔
حلیۃ الاولیاء اور صفوۃ الصفوۃ وغیرہ کے حوالے سے ابن جوزی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت شیخ معروف کے پاس ایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس نے کسی آدمی کا ذکر چھیڑا اور اس کی غیبت شروع کردی تو شیخ معروف نے فرمایا۔ تم اس وقت کی یاد کرو جب تمہاری آنکھوں پر روئی رکھی جائے ۔ یہی کلمات دوبار فرمادیئے۔ اس طرح آپ نے اس آدمی کو موت کی یاد دلائی تاکہ وہ اس برائی سے بچے۔
روایت ہے کہ کسی شخص نے آپ علیہ الرحمہ کے سامنے آپ کے دشمنوں کی بغاوت اور سرکشی کا تذکرہ کیاتو حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تو دو لشکروں کے بیچ سے نکل جا، تو خدا کا فرمانبردار نہیں ہے۔ یہ تیرے لئے کوئی فائدہ کی بات نہیں ہے۔ اس جگہ آپ نے چغل خوری کی مذمت کردی۔ اور خدا تعالیٰ کی تابعداری کا تذکرہ فرماکر اسے خوفِ خدا کا احساس دلایا۔
نقل کیا ہے کہ علی بن الموفق بغداد کے عابدین اور زاہدین میں سے ہو گذرے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کو سنا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزماتا ہے مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تو اس بندے کے پاس لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ وہ ان کے سامنے اس کی شکایت شروع کردیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ یوں ارشاد فرماتا ہے۔ اے میرے بندے! میں نے تجھے اس لئے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ تیری خطاؤں کو دھو ڈالوں تو میری شکایت کیوں کرتاہے۔ یہاں آپ یہ نصیحت کرنا چاہتے ہیں کہ جب بندہ کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اس پر صابر اور راضی رہنا چاہئے۔ یہ بندے کے مفاد میں ہوتا ہے۔ اس پر خدا کی شکایت وشکوہ نہایت نازیبا عمل ہے۔ اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔
آپ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی چیز کو حاصل کرو تو اس پر خوش مت ہو اور کوئی چیز کھو جائے تو اس پر مایوس مت ہو۔ کیونکہ خدا کے ایسے بندے بھی ہوتے ہیں جب اُن پر دنیا کو پیش کی جائے تو وہ کہتے ہیں۔ یہ ایسا گناہ ہے جس کی سزا میں جلدی کی گئی ہے۔ جب اسے پیچھے دھکیلا جائے تو وہ کہتے ہیں۔ صالحین کا شعار مبارک ہو! آپ نے فرمایا کہ اپنی زبان کی حفاظت کر مدح سے جس طرح مذمت سے حفاظت کرتے ہو۔ جیسا کہ فرمودات میں گزرا ہے۔ طبقات الاولیاء میں مرقوم ہے کہ آپ کا فرمان ہے کہ دنیا چار چیزوں کا نام ہے۔ مال، کلام، منام، طعام۔ یعنی دنیا دولت مندی، باتونی مزاج خواب وغفلت اور کھانے پینے کا نام ہے۔ اور یہ چاروں انسان کے لئے سخت نقصان دہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا خست وخسارہ اور قساوت وشدت کا مقام ہے۔ اس کی طرف انسان کو زیادہ دل نہیں لگانا چاہئے۔
کسی بندے کا بیان ہے جو حضرت شیخ معروف کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا ایک مرتبہ میں مغرب سے لوٹا اور شیخ معروفؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جبکہ گزشتہ کل بھی اُن کے پاس ہو آیا تھا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا کل اپنے گھر کس وقت پہنچا؟ میں نے عرض کی میں نے وہاں پہنچتے ہی افطاری کی کیونکہ یہ مہینہ رمضان کا تھا۔ آپ نے مجھے فرمایا بتاؤ وہ کونسی جگہ ہے جہاں سے تو افطار نہیں کرتا؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ فرمایا تم جب تک یہ جانوگے نہیں افطار ہی نہ کرو بھوک تمہارے حق میں بہتر ہے۔ (یہ اشارہ قبر کی طرف تھا)
شیخ معروف کابھتیجا یعقوب روایت کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف ابن الفیروزان سے سنا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم پر نظر کرنا، والدین کی طرف دیکھنا اور مسجد میں بیٹھنا بھی عبادت ہے۔ اور فرماتے ہیں یقینا دنیا ایک ایسی ہنڈیا ہے جو دھوکہ دیتی ہے اور ایک ایسا پردہ ہے جو ہوا ہے۔ نقل ہے کہ حضرت شیخ معروف فرماتے ہیں کہ بہت سے نیک لوگ ہیں مگر نیک لوگوں میں صادقین کم ہیں۔
حضرت شیخ معروف کے بھائی عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ فرمارہے تھے۔ کہ ایک میل چل کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھا کرو۔ جمعہ کی نماز کے لئے دو میل تک چل کے جایا کرو۔ مریض کی عیادت کے لئے تین میل تک، جنازہ کی مشایعت کے لئے چار میل تک اور ایک حاجی یا عمرہ کرنے والے کی مشایعت کے لئے پانچ میل تک، اللہ کی راہ میں لڑنے والے غازی کی عزت کے لئے چھ میل تک، ایک فرد سے دوسرے فرد کی طرف صدقہ دینے کے لئے سات میل تک، ناراض لوگوں کے درمیان مصالحت کے لئے آٹھ میل تک، دو قرابتداروں کے درمیان صلہ رحمی کے لئے نو میل تک، گھر کے بال بچوں کی ضرورت کے لئے دس میل تک، ایک مسلمان بھائی کی مدد کے لئے گیارہ میل تک اور ایک روحانی بھائی کی زیارت کرنے کے لئے بارہ میل تک چل کر جانے کی زحمت برداشت کرو۔ (190)
آپ فرماتے ہیں کہ نیک لوگوں کے دل تقویٰ کے لئے کشادہ ہوجاتے ہیں اور برے لوگوں کے دل برائی کی وجہ سے تاریک ہو جاتے ہیں اور وہ بری نیتوں کی وجہ سے اندھے ہوجاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص جہاں بھی ہو جمعہ وجماعت کی پابندی کرتا ہے۔ وہ سابقین کے زمرے میں شامل ہوگا اور پل صراط سے برق رفتاری سے گزرے گا اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح ہوگا اسے ایک شہید کا ثواب ملے گا اور اسے جنت لے جانے میں جلدی کی جائے گی۔
حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سری سقطیؒ سے سنا ہے کہ انہوں نے حضرت شیخ معروف سے سنا ہے کہ جس نے خدا سے دشمنی رکھی تو وہ گرگیا۔ جس نے اس سے اختلاف کیا وہ مٹ گیا۔ جس نے اس کے ساتھ مکر کیا وہ ذلیل ہوا۔ جس نے اس پر توکل کیا اس نے انعام پایا۔ جس نے تواضع اختیار کی اللہ نے اس کا درجہ بلند کیا۔
ایک مرتبہ ایک وفد آپ کے پاس آیا اور کافی دیر آپ کے پاس ٹھہرا رہا۔ آپ نے اس سے فرمایا۔اے قوم! بے شک یہ ملک ہمیشہ سے قائم ہے جو کسی کے حوالہ کرنے سے بگاڑ کا شکار نہیں ہوتا۔ تم اللہ تعالیٰ پر توکل کیا کرو یہاں تک کہ وہ تمہارا معلم ساتھی او ر شکایت کرنے کی جگہ بن جائے لیکن موت کی یاد کرو یہ تیری ساتھی ہے۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں شفاء رکھی ہے جو تجھے حاصل ہے یا تیری خطائیں جنہیں وہ چھپا رکھتا ہے۔ یقینا لوگ نہ تجھے نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ نہ وہ دے سکتے ہیں نہ وہ روک سکتے ہیں۔ آپ نظرثانی فرماتے ہیں کہ بندے کا فضول کلام اللہ تعالیٰ کے ہاں رسوائی کا سبب ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ (بحیثیت مؤنث) تم اپنی نظروں کو نیچی رکھو اگر چہ سامنے ایک بکرا ہی کیوں نہ ہو۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ کہ سخاوت وہ ہے جو سختی کے باوجود محتاج پر ایثار کرے۔
بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا۔ اور بغداد آنے کی وجہ بتائی ۔ آپ نے فرمایا! اے میرے بھائی! اگر میں دو لشکروں کے ہی درمیان میں ہوتا تو بھی تم مجھے نہ بچاسکتے۔ کونسی چیز تجھے نفع دے گی اور کونسی چیز نقصان فرعون کی بیوی کیا کہتی ہے۔ اے میرے پروردگار! مجھے اپنے ہاں سے جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے تحفظ عطا فرما۔ (191)
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جس نے مسجد سے ایک سانپ کو نکالا پھر وہ کسی ضرورت میں مبتلا ہوگیا تو اس کی ضرورت پوری کی جائے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی یہ ضرورت پوری فرمائے گا۔ (192)
آپ فرماتے ہیں جس نے اپنے پیشوا کو لعن کی تو اس کی عدالت حرام ہوجاتی ہے۔ اس وعظ حسنہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے ہی پیشوائے دین کو لعن، طعن کرنے کا مرتکب ہوجائے تو اس کی سنگین خرابیوں کے نتیجے میں اور فرد کی اس حد تک کرنے والی دیدہ دلیری سے وہ اتنا ضرور مردود ہوجاتا ہے کہ اس کی عدالت حرام ہوجاتی ہے۔ یعنی وہ عدل وانصاف بحال رکھنے کے قابل نہیں رہتا۔ روحانی دنیا اس کو مردود قرار دیتی ہے۔ حضرت معروف کرخیؒ فرماتے ہیں۔ بے عمل کا بہشت طلب کرنا گناہوں میں سے ایک گناہ ہے۔ رسول خدا ﷺ سے تعلق اور محبت کے بغیر شفاعت کی امید رکھنا ایک قسم کا فریب ہے۔ اطاعت وفرمانبرداری کے بغیر خدا تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہونا حماقت اور جہالت ہے۔ (193)
جامی لکھتے ہیں ۔ کہ کسی نے آپ سے کوئی نصیحت کرنے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ ’’احذر ان لا یراک اللّٰہ الا فی ذی مسکین‘‘ یعنی خدا فقیروں کے واسطے سے مل سکتا ہے اس کے سوا امید ہی نہ رکھو۔ (194)
سید علی ہجویریؒ نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ کہ جوانمردی کے تین نشانات ہیں۔ ۱) وفائے بے خلاف۔ ۲) تعریف بے عطائ۔ ۳) عطائے بے سوال۔
حضرت ہجویریؒ اِن نشانات کی تشریح یوں فرماتے ہیں۔ کہ وفائے بے خلا ف یہ ہے کہ عبودیت میں خلاف ورزی اور کج روی اپنی ذات پر حرام سمجھی جائے۔ تعریف بے عطا یہ ہے کہ جس نے کوئی نیک سلوک نہ بھی کیا ہو اسے بھی نیکی سے یاد کیا جائے۔ عطائے بے سوال سے مراد یہ ہے کہ جب عطا کی توفیق ہو تو تفریق نہ کرے اور کسی کا حال معلوم ہو تو اسے سوال کرنے کی تکلیف اٹھانے نہ دے۔ (195)

کسبِ حلال

تمام صوفیاء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسبِ حلال، تجارت وحرفت اور محنت مزدوری کرنا پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ کسبِ حلال دُنیاوی معاش ہی کا ایک ذریعہ ہی نہیں بلکہ اس سے انسان درگاہِ باری تعالیٰ میں بھی محبوب بن جاتا ہے۔ چنانچہ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ الکاسب حبیب اللّٰہ۔ اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا خدا کا دوست ہوتا ہے۔ اصفیاء عظام نے ہر وقت شریعت مصطفوی اور طریقتِ مرتضوی پر عمل کیا ہے۔ انہوںنے صنعت وحرفت اور کسب وتجارت کو مباح قرار دیا ہے۔ تاکہ انسان نیکی وتقویٰ پر چلنے کے لئے اس سے مدد حاصل کرے۔ لیکن اس کو محض دنیاوی اور مادی سہولتیں فراہم کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ اس سے انسانی فوز وفلاح کے اُمور بھی تشکیل پائیں اور اُخروی نجات کی راہ کا سنگ میل ثابت ہوں اس لئے کسبِ حلال کو ترغیب دیتے ہوئے حضرت شیخ معروف فرماتے ہیں ۔ کہ
ومن اشتریٰ وباع، لو برائس مال بورک لہ فیہ کما یبارک فی الذرع المطر۔ اور جس شخص نے بیع وشریٰ کا معاملہ کیا اگرچہ قلیل مال سے ہی کیوں نہ ہو اس کو اس میں برکت دی جائے گی۔ جس طرح بارش سے کھیتی میں برکت ہوتی ہے۔ (196)
آسمان سے اترنے والی بارش فرمانِ خداوندی کے مطابق از خود برکت دینے والی ہے۔ جب یہ کھیتی پر پڑتی ہے تو اس سے شادابی، سرسبزی، ثمر آوری اور برکت میں دو چند اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کسبِ حلال اور جائز لین دین کے معاملہ سے انسانی معاشی مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ کفر سے قریب کرنے والے فقر وفاقہ سے بچ سکتے ہیں۔ ایسا فقر وفاقہ جو انسان کو ایمان میں کمزور کردے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ہے۔ اس لئے کسبِ حلال استحکامِ ایمان کے لئے ضروری ہے۔

مذاق سخن
زہد وعبادت اور ریاضت وطاعات سے اتنی فراغت کہاں کہ آپ شعر وسخن میں دلچسپی لے سکیں لیکن جہاں دُعا واستغفار ، مناجات رجاء کے عالم میں ہوتے تھے تو عالمِ استغراق میں شعر خوانی کیا کرتے تھے۔
سیرالنبلاء وغیرہ کے حوالے سے منقول ہے کہ حضرت محمد بغدادی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے پڑوس میں رہتا تھا کہ ایک رات سحری کے وقت میں نے سنا کہ آپ آہ وبکاء کررہے تھے اور یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
ای شیٔ ترید منی الذنوب
شغفت بی فلیس عنی تغیب
ما یضر الذنوب لو اعقتنی
رحمۃ لی فقد علانی المشیب
یہ گناہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں جنہیں مجھ سے بے انتہا محبت ہے اور مجھ سے ٹلتے ہی نہیں۔ یہ گناہ مجھے کیا نقصان پہنچائیں گے۔ یہ میری گردن خلاصی کردیتے تو یہ میرے لئے رحمت ثابت ہوتے۔ یقینا ان (کی وجہ) سے میرا بڑھاپا ظاہر ہوگیا۔
احمد بن نصر بغداد کے بڑے علماء واعظین میں ہوا کرتے تھے سامراہ ہی میں رہتے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میں نے حضرت شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ:
موت التقیٰ حیات لا نفاد لھا
قدمات قوم وھم فی الناس احیاء
پرہیزگاروں کی موت ان کے لئے ایسی زندگی ہے جو ختم نہیں ہوتی۔ بعض لوگ مرگئے ہیں لیکن وہ لوگوں میں زندہ ہیں۔
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں ۔ راوی کا کہنا ہے کہ میں ایک دن شیخ معروف کرخیؒ کے گھر گیا تو انہوں نے مجھے جَو کی روٹی، پکے ہوئے سالن کے ساتھ پیش کی اور فرمایا۔ یقینا تمام چیزوں کا استقلال (ہمیشہ رہنے والی) جاننا منع ہے۔ پھر آپ یہ شعر گنگنانے لگے۔
ومتیٰ تفعل الکثیر من الخیر
واذا کنت تارکا لا قلہ
تم بہت ساری نیکیاں کب کر پاؤگے جب کہ تم اس کے تھوڑے کو بھی چھوڑنا چاہتے ہو۔ (197)

کفایت شعاری

کفایت شعاری صوفیاء کرام کی بزرگ ترین اخلاقی صفات میں سے ایک ہے اور اُن کی یہ صفت ان کے جملہ شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ یہ لوگ اپنی خوراک، پوشاک اور رہائش میں قناعت وکفایت شعاری سے کام لیتے ہیں۔ صوفیاء کرام اور اولیائِ عظام لباس، کھانے پینے اور اپنے رہنے سہنے کے سلسلے میں تکلف اور تفخر کو اہمیت نہیں دیتے ۔ وہ کھاتے ہیں تو زندہ رہنے کے لئے، وہ پہنتے تو صرف گرمی سردی سے بچاؤ کے لئے، وہ کسی مکان میں رہتے تو بھی صرف دھوپ کی تپش سے بچنے اور بارش کی کوفت سے دفاع کیلئے تاکہ عبادت وریاضت میں خلل سے بچاؤ ہوسکے۔ صوفیائے سلف کھانے میں زیادہ مشغولیت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ لباس معمولی پہنتے تھے۔ کھانے کے برتنوں میں بعض صوفیاء نے ایک کٹورہ رکھا اور بعض نے صرف کشکول کو اپنی خورد ونوش کے لئے استعمال کرنے کا رواج ڈالا۔ بعض بزرگوں نے تو کسی قمیص کی آستین کو ضرورت سے زیادہ لمبا سمجھا تو فالتو حصہ کاٹ ڈالا۔ سادہ لباس میں ٹاٹ اور بوریئے پر قانع رہے۔ کھانا ملا تو کھا یا نہیں تو روزے سے رہے۔ سردی ہو یا گرمی ان کے جسم پر ایک ہی کپڑاوہ پہنتے تھے تو بھی اولائے فرض کی صورت میں برہنہ ہونے سے بچنے کے لئے ۔ وہ بھدا لباس، کھردرے کپڑوں اور صوف کے شالوں کو پسند کرتے تھے۔ اور عام طور پر دو کپڑوں پر اکتفا کرتے ، لباس کی ایسی صورت اختیار کرتے کہ جس طرح ایک حاجی حالتِ احرام میں ہوتا ہے۔ بعض صوفیاء نے تو گریبان دار لباس سے اجتناب کرلیا تھا۔
اس طرح حضرت معروف کرخیؒ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دفعہ ایک بندہ خدا کپڑے کی ایک تھان لے کر گزررہا تھا۔ حضرت شیخ معروف ؒ کی نظر پڑی۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس سے میں اپنے لئے ایک قمیص سلواؤں گا۔ آپ نے ان کو نصیحت فرمائی کہ قمیص چھوٹی سلوانا اس کے تین فائدے ہیں۔ ایک تو یہ سنتِ کریمہ ہے دوسرا آلودہ ہونے سے بچتا ہے۔ تیسرا کچھ کپڑا بچ جائے گا جو کسی اور ضرورت میں کام آسکتا ہے۔ (198)
اور یہی آپ کی زندگی کا شعار تھا جو الافاء یتر شمع مافیہ (ڈھکا ہوا برتن وہی ظاہر کرے گا جو وہ اندر رکھتا ہے) کا مصداق ہے۔ اس لئے بعض صوفیاء کرام نے فرمایا ہے کہ سچے فقیر کو ہر لباس جو پہنے وہ زیب دیتا ہے۔ اور اس میں ملاحت اور مہابت کا رنگ از خود بھر جاتا ہے۔ اس لئے بزرگوں کے لباس سے ہمیشہ برکت حاصل کی گئی ہے۔ ایک دفعہ بعض صحابہ کرام کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کسی کے گھر تشریف لے گئے ۔ گھرمیں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ جب بعض کو جگہ نہ ملی تو مکان سے باہر بیٹھ گئے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیکھا تو اپنا ایک کپڑا لپیٹ کر باہر اچھال دیا اور فرمایا کہ اس پر بیٹھو۔ حضرت جریر بن عبداللہ نے اِس پرانے کپڑے کو لے کر آنکھوں سے لگایا اور بوسہ دیا جو آپ کے لئے حصول برکت تھا اسے کیسے وہ بچھا سکتے تھے۔ اس لئے صوفیاء کرام کپڑا اتنا ہی استعمال کرتے تھے جس سے اپنا ستر ڈھانپ سکے۔ روٹی جس سے اپنی پیٹھ سیدھی رکھ سکے۔ گھر تو ان بندگانِ خدا کا پرندوں کے گھونسلے کی طرح ہوا کرتا تھا۔ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمسے پوچھا گیا ۔ کیا قیامت کے روز نمک کے کھانے پر بھی حساب ہوگا۔ آپ نے فرمایا ہاں ہوگا۔ صوفیاء کرام حسابِ آخرت سے بچنے کے لئے دنیا کی کوتاہی وقلت کو پسند فرماتے تھے اور حق تعالیٰ کے عتاب وعذاب سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس لئے صوفیاء کرام کے قمیص کو چھوٹا رکھنے کا مقصد حسابِ آخرت سے چھوٹ حاصل کرنا ہے۔ (199)

لطائف و ظرافت
حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ ایک زاہد خشک نہیں تھے کہ آپ کے جذبات اور ذوق مسرت سے منکر ہوتے،آپ کی طبیعت ظرافت وانبساط کی طرف بھی قائل تھی۔ روایات میں آپ کے ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے آپ کی انسان دوستی، ہمدردی، محبت اور عزت نفس کے ساتھ ساتھ جھلملاتی اور گل کھلاتی ظرافتِ طبع کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اکثر اوقات علمی، فکری، روحانی، بلاغت، حکمت وتدبر اور شرافت بھی آپ کی باتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ آپ کسی مجرم کو براہِ راست ہدف تنقید نہیں بناتے تھے بلکہ شفقت ورحمت اور ہمدردی کا پیکر بن کر اُس کی دلجوئی کرتے تھے۔ اور کسی برائی کو روکنے اور مصلحانہ سلوک کے لئے حکیمانہ انداز اپناتے تھے تاکہ کسی گنہگار کو شرمندہ ہوکر خفت اٹھانی نہ پڑے کیونکہ جتنا مصلحت وحکمت کام کرتی ہے جذبات اور گرم جوشی سے نہیں ہوتا۔ اس لئے صوفیاء کرام اصلاح کے معاملے میں لوگوں کی عزت نفس کا خصوصی خیال فرماتے تھے۔حضرت معروف کرخی قدس سرہ کا بھی زندگی کے اصلاحی معاملات میں لوگوں کے ساتھ رویہ بہت ہی ہمدردانہ ہوتا تھااور مقصد بغیر کسی دشواری کے حاصل کرلیتے تھے۔
ابو بکر المقری روح بن عبدالمومن بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت شیخ معروفؒ دریائے دجلہ پر وضو کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔ اپنا صافہ اور قرآن کنارے پر رکھ دیئے۔ ایک راہگیر عورت انہیں لے کر چلتی بنی۔ آپ نے ان کا پیچھا کیا اور عورت سے فرمایا۔ اے میری بہن! تم کہاں بھاگتی ہو؟ تم بے شک کپڑا لے چلو مگر میرا قرآن واپس کردو۔ جب اس نے مڑکر آپ کو دیکھا تو اسے گویا سانپ سونگھ گیا۔ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ بہر حال آپ نے کپڑا اس عورت کو بخش دیا اور قرآن شریف واپس لے لیا۔
ایک اور روایت محمد بن منصور طوسی نے بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ علیہ الرحمتہ ایک دن مسجد میںبیٹھے تھے اور ساتھ ہی مسجد میں کہیں اپنی چادر اور مصحف رکھا ہوا تھا۔ ایک آدمی آیا اور ان دونوں چیزوں کو اُچک کر لے گیا۔ آپ اُس کے پیچھے پڑگئے۔ تلاش کے بعد چور مل گیا۔ آپ نے فرمایا۔ اے میرے بھائی! اللہ تجھے معاف کرے۔ چادر لے جاؤ مگر مصحف واپس کردو۔ آپ نے چادر اُسے بخش دی اور قرآن واپس لے لیا۔ (200)
صالح اسری بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت شیخ معروف علیہ الرحمتہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضرت! میں نے ایک گھر بنایا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ دیکھنے چلیں۔ اس میں قدم رنجہ فرمائیں اور میرے لئے برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ اس بندے کے ساتھ تشریف لے گئے اور گھر میں قدم میمون رکھ دیئے اور فرمایا اے میرے بھائی! تم نے مکان تو اچھا بنایا ہے، لیکن میں اس کے اندر دعا نہیں کروں گا۔(201)
غالباً آپ نے کشفاً کوئی ایسی بات دیکھی جو نارَوا تھی، لہذا دُعا سے رُک گئے اور ساتھ ہی بتا بھی دیا کہ دعا نہ ہوگی۔ یہ آپ کی قلبی صدق کی ایک عمدہ مثال ہے۔
منقول ہے کہ آپ ایک دفعہ چند لوگوں کے ساتھ کہیں جارہے تھے۔ راہ میں ایک جماعت ناچ گانے اور شراب نوشی میں مشغول پایا۔ آپ کے ہمراہیوں نے کہا ان کے لئے بد دُعا کیجئے تاکہ یہ لوگ تباہ ہوجائیں اور ان کی برائی کا اثر دوسروں تک نہ پہنچے۔ آپ نے ہاتھ اُٹھا کر فرمایا، اے اللہ جیسے تونے دنیاان کو عیش میں رکھا ہے اسی طرح اچھا عیش ان کو آخرت میں عطا کر۔ آپ کے ساتھیوں کو اس دعا سے تعجب ہوا۔ جب اس جماعت کی نظر آپ پر پڑی تو شراب ورباب پھینک دیا اور وہ لوگ تائب ہونے کیلئے آپ کے سامنے آگئے۔ بیعت سے مشرف ہوکر اعمالِ قبیحہ سے توبہ کی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا۔ جو شخص گڑ سے مرے اسے زہر دینا بے کار ہے۔
نگاہِ ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت معروف ؒراستے پر چل رہے تھے، کہیں لکڑی کے تختہ کے اوپر سے گزررہے تھے۔ کسی نے پوچھا اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟ آپ نے جواب دیا کہ میں اس پر چل رہا ہوں ،اس لئے کہ کہیں اس کا مالک اس پر نہ نکلے۔ (202)
ابونعیم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کے کسی خط میں پڑھا تھا کہ کسی نے شیخ معروفؒ سے کہا کہ تم نے میری نیکی کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ آپ نے اس سے فرمایا! اگر تیری نیکی مجھ سے حساب نہ لینے والے کی طرف سے ہے تو میں ضرور شکریہ اداکروں گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم خود ہی اس کا احسان جتلارہا ہے تو یہ نیکی ضائع ہوگئی۔ (203)
اس روایت سے حضرت معروف کرخیؒ کی بے مہری مترشح ہوتی ہے۔ دراصل اس روایت سے مقصد آپ کی بلاغت رائے اور حکمت عملی یہ نکلتی ہے کہ جب کوئی فرد نیکی کا تذکرہ کرتا ہے تو گویا اس نے احسان جتلایا۔ جب نیکی کا احسان جتلادیا تو وہ ضائع ہوگئی۔ جو احسان ضائع ہوکر ختم ہوجاتا ہے اس کی حیثیت بھی کچھ نہیں رہتی۔ اس لئے اس پر شکر گزاری بھی عبث ہے۔ حکمت یہ بتائی جارہی ہے کہ نیکی اگر اپنے احتساب کی بدولت ضائع نہیں ہوگئی ہے تو میں شکریہ ادا کروں گا۔ یہ ظرافت کا ایک حصہ تھا۔ حضرت شیخ معروف ؒ کے حیرت انگیز واقعات ولطائف نقل کئے ہوئے ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک صاحب کرامت ولی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہا درجے کے فیاض، ہمدرد، سیر چشم، روشن طبع، نکتہ سنج، مستجاب الدعوات اور بڑی ظریف شخصیت کے مالک تھے۔ یہ واقعات آپ کے کمال وعظمت کا مظہر ہر شعبہ زندگی کیلئے نمونہ اور روح پرور ہیں۔ جو لطافت وکرامت سے بھر پور ہونے کی وجہ سے ہر عنوان تلے ٹھیک جڑ جاتے ہیں۔
علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں ۔کہ ابن شیرویہ بیان کرتے ہیں۔ کہ ایک آدمی حضرت شیخ معروفؒ کے پاس آیا۔ اس نے کہا۔ ابو محفوظ! مجھے قدرت ایک بچہ دے رہی ہے۔ اسے آپ سے برکت حاصل کرنے کی خاطر دکھانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا! عفاک اللّٰہ۔ اللہ تجھے معاف فرمائے ۔ بیٹھ جاؤ اور سو مرتبہ ماشاء اللہ پڑھو۔ تو اس آدمی نے سو مرتبہ ماشاء اللہ پڑھا۔ آپ نے فرمایا ایک سو اور پڑھو ۔ اس نے پڑھ لیا۔ یہاں تک کہ اُس سے پانچ سو مرتبہ پڑھوالیا گیا۔ جب اس نے پانچ سو مرتبہ پڑھ لیا۔ اتنے میں ام جعفر کا خادم آیا اس کے ہاتھ میں ایک رُقعہ تھا اور چیختے ہوئے کہا۔ یا ابو محفوظ! ہماری بیگم آپ کو سلام کہتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ یہ پوٹلی لے لیں۔ مساکین میں تقسیم کرنے کی خاطر بھیجی ہے۔ انہوں نے فرمایا اس آدمی کو دے دو۔ اس نے کہا حضرت اس میں پانچ سو درھم ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ تم نے پانچ سو مرتبہ ماشاء اللہ پڑھا ہے۔ پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا۔ اگر تم مزید پڑھتے تو ہم اس میں بھی اضافہ کرتے۔ (204)