حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی حقیقتِ وجود کی تفہیم کی بنیاد ایک پیچیدہ اور مرحلہ وار نظام کی صورت میں متشکل ہوئی ہے ، جو ذاتِ الٰہی کے کائنات کے ساتھ عمومی طور پر اور انسان کے ساتھ خصوصی طور پر تعلق کی وضاحت کرتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام اسلامی نوفلاطونی تکوینی روایات پر استوار ہے لیکن مخصوص انفرادیت کا حامل ہے۔ اس میں ایک طرف حقیقتِ خداوندی کا ایک سکونی تصور ہے جو ذات ، صفات، افعال اور آثار پر مشتمل ہے اور دوسری طرف ایک حرکی تصور ہے جس میں تجلیاتِ الٰہی تکوینِ کائنات کی مختلف صورتوں میں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ یہ تجلیات دس مختلف لطائف کی شکل میں صورت پذیر ہوتی ہیں اور تخلیقِ انسانی پر منتج ہوتی ہیں۔ انسان پھر باطنی ارتقاء کے سات لطیف مراحل سے گزر کر لطائفِ عینیہ تک رسائی پاتاہے ۔ اول الذکر دس لطائف کی حیثیت تکوینی ہے جب کہ مؤخر الذکر لطائف کی نوعیت قلبی اور باطنی ہے۔

خدا تعالیٰ وحدہ‘ لا شریک کی وحدانیت اور ماورائیت کے مکمل اثبات کی خاطر سمنانی ؒ اپنے بیان کردہ نظامِ تجلیات میں آئینے کی تمثیل کا استعمال فرماتے ہیں۔ اس نظام میں ہر تجلی اس منبعِ نور کا مظہر ٹھہرتی ہے جس سے اس کا صدور ہوا ہو۔ لفظ مظہر ایسے اظہارکا نام ہے جس میں اصل اور آئینے میں منعکس ہونے والی شبیہ میں ایک فوری ربط موجود ہو۔ اس تصور سے عقیدۂ حلول کے امکان کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔

ذات ِ الٰہی اور وجود ِ انسانی کے درمیان اس رابطے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے سمنانی ؒ نے دائرۂ وجود ِ ا نسانی اور دائرۂ ذاتِ خداوندی کے درمیان چار مدارج کی نشاندہی کی ہے جو عالمِ لاہوت، عالم جبروت ، عالمِ ملکوت اور عالم ِ ناسوت ہیں۔ راہِ سلوک کا سفر تکمیلِ ذات کا ایسا عمل ہے جس میں سالک بتدریج ان چاروں عوالم میں صعود پاتاہے۔

خدا اور کائنات

تفسیرنجم القرآن میں سورہ الحدید کی دوسری اور تیسری آیت کی تفسیر یوں آئی ہے:

’’ لَہ‘ مُلْکُ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْض ِ ج یعنی جملہ کائنات پر اﷲ تعالیٰ کی مکمل بادشاہت ہے۔ یُحْی ٖ وَ یٍُمِیْتُ ج یعنی اپنی حکمت سے وہ عناصر کو ان کی ترکیب کے وقت زندگی دیتا ہے اور اپنی عظمت و جلال سے وہ مرکب موجودات کو ترکیب میں لانے کے بعد پھر منتشر فرما کر موت سے ہمکنار کرتا ہے۔ وَ ھُوَعَلٰی کُلّ َ شیئٍ قَدِیْر’‘ ہ یعنی حیات اور موت دونوں پر اﷲ تعالیٰ قادر ہے۔ ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ الْبَاطِنُ ج یعنی اﷲ عالم ِ لاہوت میں اوّ ل ہے، عالمِ ملکوت میں آخر ہے، اسی طرح عالمِ ناسوت میں وہ ظاہر ہے اور عالمِ جبروت میں وہ باطن ہے۔ یہاں ھو سے مراد ذاتِ الٰہی ہے جو ہر شے پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے ارشاد کا آغاز بھی ھو کے لفظ سے فرمایا اور ھو ہی کے لفظ سے یوں اختتام بھی، وَ ھُوَ بِکُلّ ِ شَیْیئٍ عَلِیْم’‘ ہ یعنی وہ حقائقِ لاہوتیہ، رقائقِ جبروتیہ، دقائقِ ملکوتیہ اور شقائقِ ناسوتیہ میں سے ہر شے کا علم رکھتا ہے۔‘‘

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے نزدیک اﷲ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے۔ اس کی ذات وراء الورا ثم وراء الورا تم وراء الورا ہے اور ہر لحاظ سے واحد، لاثانی اور بے نیاز ہے۔ وہ ہر لحاظ سے مکمل ہے اور کسی قسم کے نقص سے مبرا و منزہ ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور ہر قسم کی تعریف و تسلیم سے بے نیاز ہے اور اہلِ ایمان کے ایمان اور اہلِ کفر کے کفرسے اس کی ذاتِ پاک پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ذات ِ الٰہی عقل و فہم ِ انسانی سے مکمل طور پر ماورا ہے۔ چنانچہ ذات ِ خداوندی کا بیان سمنانی ؒ کے نزدیک ’السبیل الرسم لا علی السبیل الحد ‘ یعنی مثالی اور علامتی طور پر ممکن ہے ، حتمی اور مطلق معنوں میں ممکن نہیں۔

عالم الغیب و الشہادہ میں اﷲ تعالیٰ کی ذات ، صفات ، افعال اور آثار کے علاوہ کسی شے کا حقیقی وجود نہیں ہے۔ سمنانی ؒ کا یہ نظریہ حضرت شیخ جنید بغدادی ؒ کے تعلیم کردہ کلمہ لا موجود الا اﷲ کی تشریح ہے۔ سمنانی ؒ سمجھتے ہیں کہ اس عقیدے کی تشریح بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے جس میں ’اسم‘ سے مراد ’آثار‘ ہے، ’ اﷲ ‘ سے مراد ’ذات ‘ ہے، ’الرحمٰن‘ کا مطلب ’ صفات‘ ہے اور ’الرحیم‘ کے معنیٰ ’ افعال‘ ہیں۔ ذات، صفات، افعال اور آثار میں سے ہر ایک کا ایک جداگانہ عالم ہے۔ چونکہ ان چار حقائق کے علاوہ کسی شے کا وجود حقیقی نہیں اس لیے جملہ عالمِ امکاں کو انہی کے لحاظ سے چار عوالم یعنی عالمِ لاہوت، عالمِ جبروت ، عالمِ ملکوت اور عالمِ ناسوت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ آثار کا تعلق عالمِ ناسوت سے، افعال کا تعلق عالمِ ملکوت سے ، صفات کا تعلق عالمِ جبروت سے اور ذات کا تعلق عالمِ لاہوت سے ہے۔ آثار افعال سے پیدا ہوتے ہیں، افعال صفات سے وجود میں آتے ہیں اور صفات کا مصدر ذات ہے ا ور ذات ہی پر ہر کمال کی بنیاد ہے۔

عالمِ لاہوت سے عالمِ ناسوت کا سفر ایک عمودی نزولی سلسلہ ہے جس میں ہر اگلا عالم اس عالم کا مظہر ہے جس سے اس کا صدور و ظہور ہوا ہے یعنی وہ اپنے مصدر کا نقطۂ ظہور ہے۔ پس ذات ِ الٰہی کا اظہار عالمِ جبروت میں ہوتاہے۔ چنانچہ قرآن ِ پاک کے بیان کے مطابق ’ مفاتیح الغیب‘ (۶:۵۹)، ’مقعد الصدق‘ (۵۴:۵۵) ، اور ’ ام الکتاب‘ (۳:۷) کا تعلق عالمِ جبروت سے ہے اور ذات ِ واجب الوجود کے عظیم الشان مظاہر ہیں۔ اسی طرح چار ملائک اور چار مفردات کا جوہر عالم ملکوت کے اندر عالمِ جبروت کا عکس ہیں۔ اسی طرح وجود ِ انسانی عالمِ لاہوت کے ان مظاہر کا عکس ہے جن کا اظہار لاہوت سے جبروت میں اور جبروت سے ملکوت میں درجہ بدرجہ ہوا ہے۔

اسی طرح عالم لاہوت سے عالمِ ناسوت کی طرف سفر دراصل وحدت سے کثرت کی طرف سفر ہے۔ اظہارِ ذات کے یہ مدارج مندرجہ بالا عمودی نزولی سفر کے برعکس ایک افقی سفر پر مشتمل ہیں۔ اگر عالمِ لاہوت کو ایک سمجھا جائے تو عالمِ جبروت کو دس، عالمِ ملکوت کو سو اور عالم ناسوت کو ہزار گنا سمجھا جائے گا۔ اور یہی کائنات میں کثرتِ مظاہر کی بنیاد ہے اور سمنانی ؒ کے نظریۂ اظہارِ ذات کی بنیاد بھی اسی پر ہے جس پر آگے چل کر گفتگو ہو گی۔ عالمِ جبروت و ملکوت اور ناسوت میں پیدا ہونے والی کثرت سے ذاتِ الٰہی کی وحدانیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ ذاتِ الٰہی ہر شے سے ماورا، ہر قسم کے حلول، شرک اور اتحاد سے پاک و منزہ، اورکسی شریک اور ہمسر کے بغیر واحد و بے ہمتا ہے۔

عالمِ لاہوت اسمِ ذات یعنی اﷲ کا مقام ہے۔ سمنانی ؒ اسم ِ ذات کی عظمت اس حقیقت سے واضح کرتے ہیں کہ اگر لفظ اﷲ کے جو چار حروف ہیں اگر ان کو یکے بعد دیگر ے الگ کر دیا جائے تب بھی وہ اﷲ کا اسمِ پاک ہی رہے گا ( یعنی اﷲ سے ل کو نکال دیا جائے تو للّٰہ رہ جاتا ہے ، الف کو نکال دیا جائے تو لہ‘ رہ جاتا ہے اور اگر دونوں کو نکال دیا جائے تو ھو رہ جاتا ہے اور یہ بھی اسمِ ذات کا نمائندہ ہے۔ ) مثال اس کی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا اسمِ ذات آیت کریمہ اﷲ لا الٰہ الاّ ھو( ۲:۲۵۵) میں استعمال ہوا ہے۔ اگر لفظ کا ’الف ‘ دُور کر دیں تو اسمِ ذات کا استعمال اس آیت کی صورت میں ہوگا۔ للّٰہ ما فی السّمٰوات والارض (۲:۲۸۴) ۔ اب اگر پہلا ’لام ‘ بھی ہٹا دیا جائے تو اس آیتِ کریمہ کی صورت سامنے آئے گی۔ لہ‘ ما فی السمٰوات والارض (۲:۱۱۶) اب اگر دوسرا ’لام‘ بھی الگ کر دیا جائے تو’ ھو‘ یعنی ’وہ‘ رہ جائے گا جو بذاتِ خود اسمِ ذات ہے جیسا کہ اس آیت ِ کریمہ سے واضح ہے۔ ھو الحیّ لا الٰہ الاّ ھو (۴۰:۶۵)

چونکہ ذاتِ خداوندی کی تفہیم ممکن نہیں اس لیے عقلِ انسانی کی معرفت ِ خداوندی تک رسائی صفاتِ الٰہی کے ذریعے ہی ممکن ہے جن کا محل عالمِ جبروت ہے۔ صفاتِ الٰہیہ دو قسموں پر ہیں:

صفاتِ ذاتی اور صفاتِ افعالی۔

صفاتِ ذاتی کی تعداد آٹھ ہے جو حی، سمیع، بصیر ، متکلم، مرید ، قدیر، علیم اور حکیم ہیں۔صفاتِ ذاتی ذاتِ الٰہی کی بعض مخصوص صفات کا نام ہے چنانچہ مذکورہ صفات کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا زندہ ہے، وہ سنتا ہے، دیکھتا ہے، کلام کرتا ہے، صاحبِ ارادہ ہے، قدرت رکھنے والا ہے، علم رکھنے والا ہے اور صاحبِ حکمت ہے۔ ان صفات میں سے کسی کا انکار نقصِ ایمان کا موجب ہے۔

صفاتِ افعالی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ، افعالِ الٰہی سے وابستہ ہیں اور ان کی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ صفاتِ افعالی آثار کا سرچشمہ ہیں۔ پس جہاں یہ کہنا درست ہے کہ اﷲ تعالیٰ خالق ہے ، صانع ہے، رازق ہے، وغیرہ وغیرہ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تخلیق، صنعت اور رزاقی کی خصوصیات رکھتا ہے۔صفاتِ افعالی غیر وجوبی ہیں اور ان صفات کے مخلوق ہونے کا عقیدہ نا مناسب ہے تاہم اس سے ایمان میں خلل نہیں آتا۔

تجلیات کی درجہ بندی

تجلیاتِ الٰہی کا اظہار انہی غیر وجوبی صفاتِ افعالی کی وساطت سے ہوتا ہے۔ یہ اظہار بیک وقت مرئی اور غیر مرئی سطح پر اﷲ تعالیٰ کی ظاہر ی اور باطنی صفات کے واسطے سے ہے۔ اظہارِ ذاتِ خداوندی کا باعث یہ امر ہے کہ حسنِ ازل اپنا اظہار چاہتا ہے اور اس عقیدے کا ماخذ وہ حدیث ِ قدسی ہے جو صوفیہ کے ہاں مقبول ہے۔ کنت کنزاً مخفیّا……الخ ’’ میں ایک مخفی خزانہ تھا ، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے اس کائنات کو خلق کیا ۔‘‘ پس اﷲ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں اور اس میں موجود مخلوق کو اس لیے خلق فرمایا کہ نورانی آسمانی مخلوقات آسمانوںمیں اور ارضی مخلوقات زمین پر اس کی حمد و ثنا کریں۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے روحِ انسانی کو اپنی غیرت کا ساتھی بنا کر خلق کیا تاکہ خود اس کی ذات کے علاوہ بھی کوئی اس کی معرفت حاصل کر سکے۔

ظاہری اور باطنی صفات کا یہ اظہار ، اظہار کی بعض ذیلی صورتوں کو بھی جنم دیتا ہے جودو طرح کی ہیں، عام اور خاص۔ عام اظہار لطفی یا قہری ہوتا ہے۔ قہری اظہار شیطان کے وسیلے سے ہوتا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں مکری اور بطشی۔ اول الذکر کا وسیلۂ اظہار علمائے سوء اورملحد اور زندیق ہیں جبکہ مؤخر الذکرکا اظہارجہلا ء اور کافروں کی شکل میں ہوتا ہے۔ پہلے گروہ کو خدا دین میں خود فریبی کی صورت میں سزا دیتا ہے جبکہ دوسرے گروہ کو ظلم و تعدی کی شکل میں سزا دیتا ہے۔ یہ دونوں گروہی دوزخی ہیں اور خود دوزخ سمیت یہ دونوں گروہ اﷲ تعالیٰ کی صفاتِ قہری کا مظہر ہیں۔

صفاتِ لطفی کا اظہار مَلائک کی صورت میں ہوتا ہے اور اس کی دو قسمیں صلحی اور عتابی ہیں۔ صفاتِ لطفی کا عتابی اظہار بندے کو اخلاقِ رذیلہ سے پاک کرتا ہے اور اسے اخلاقِ حسنہ سے بدل دیتا ہے۔ صلحی اظہار بندے میں محبت اور شوق پیدا کرتا ہے اور قربِ خداوندی کا باعث بنتا ہے۔ یہ دونوں گروہ لطفِ خداوندی کے سزاوار ہیں اور اہلِ جنت میں سے ہیں۔ یہ دونوں گروہ اﷲ تعالیٰ کی شانِ لطفی کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ تفسیر نجم القرآن میں شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ ہر مؤمن مسلمان اﷲ تعالیٰ کی شانِ لطفی کا مظہر ہے اور وہ تا ابَد غریقِ رحمت رہے گا اور ہر گنہگار مشرک اس کی شانِ قہری کا مظہر ہے اور ہمیشہ مبتلائے عذاب رہے گا۔

تجلیات ِ الٰہی کا خاص باطنی اظہار بھی دو طریقے سے ہوتا ہے یعنی جلالی اور جمالی اظہار۔ جلالی اظہار لطائف عینیہ کو عالمِ کون و فساد کی آلائشوں سے پاک کرنے کا موجب ہے جس کے نتیجے میں قلب کے اندر حضورِ حق کا اثبات ہوتا ہے۔ جمالی اظہار کے ذریعے لطائف عینیہ کو حیاتِ ابدی حاصل ہوتا ہے جس کے باعث قلب میں خدا تعالیٰ کی ابدیت کی طرف کشش پیدا ہوتی ہے۔ اظہار کی ان دونوں صورتوں کے نتیجے میں بالآخر لطائفِ عینیہ کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ لطائف ِ عیینہ کا یہ احساس اور تکمیل راہِ سلوک کی مثالی منزل اور نتیجۂ آخر ہے۔ یہ فکرِ سمنانی ؒ کا مرکزی نقطہ ہے۔

تعالمِ روحانی و عالمِ جسمانی

تجلیات ِ الٰہی کی ظاہری اور باطنی ثنویت فکرِ سمنانی ؒ کا خاصہ ہے۔ یہ فکر دو عوالم کی نشاندہی کرتا ہے جن میں سے ایک محدود ہے اور دوسرا لامحدود۔ محدود عالم عالمِ آفاق یا طبعی عالم ہے اور یہ حواس کی زد میں آنے والا جسمانی عالم ہے۔ لامحدود عالم عالمِ انفس ہے یا روحانی عالم ہے اور زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے۔ یہ دونوں عوالم صفاتِ خداوندی کا مظہر ہیں یعنی عالمِ انفس اس کی صفاتِ باطنی کا مظہر ہے اور عالمِ آفاق اس کی صفاتِ ظاہری کا مظہر ہے۔

اگرچہ بظاہر عالمِ آفاق عالمِ انفس سے زیادہ بڑا معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عالمِ آفاق اپنی مرئی اور غیر مرئی جہات یعنی ارواح و آفاق اور مافیہا کے سمیت وجودِ انسانی کا عالمِ اصغر ہے جب کہ خود انسان عالمِ اکبر بھی ہے۔ عالمِ روحانی یعنی وہ دنیا جو جسمِ انسانی کے اندر موجود ہے عالمِ طبعی کا عالمِ اکبر ہے اور عالمِ طبعی جو جسم ِ انسانی سے بظاہر کہیں بڑا معلوم ہوتا ہے دراصل عالمِ اصغر ہے۔ چونکہ ہم روح اور جسم کے تعلق کو حواسِ انسانی کے وسیلے سے دیکھتے ہیں اس لیے ہمیں دل کے مقابلے میں سینہ جو اس کو چھپائے ہوئے ہے زیادہ بڑا معلوم ہوتا ہے حالانکہ مابعدا لطبیعاتی نقطۂ نظر سے دل سینے سے زیادہ بڑا ہے۔ وہ عالمِ روحانی جس کا دل ایک حصہ ہے عالمِ جسمانی اور صدرِ انسانی جیسی اس میں موجود چیزوں کی حدود اور قیود سے ماورا ہے۔

عالمِ جسمانی اور عالم ِروحانی کے اس باہمی ربط کے بارے میں سمنانی ؒ کا نظریہ نہایت غیر معمولی ہے اور اس مقبولِ عام صوفیانہ نظریے کے عین خلاف ہے جس کی رو سے انسانِ کامل کو کائنات کا عالمِ اصغر گردانا گیا ہے۔ صوفیہ کے عام نظریہ کو سمنانی ؒ کے معاصر عزیز الدین نسفی نے اپنی تصانیف خصوصاً ’زبدۃ الحقائق ‘ میں وضاحت سے بیان کیا ہے۔ نسفی جو سلسلۂ کبرویہ کے شیخ صدرالدین حمویہ کے شاگرد ہیں عالمِ اصغر اور عالمِ اکبر کے درمیان مکمل تطبیق پر زور دیتے ہیں اور اس سلسلے میں یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ سات آسمانوں کی اندرونی اعضاء کے ساتھ ، سا ت سیاروں کی سات بیرونی اعضاء کے ساتھ ، چار عناصر کی چار رطوبت ہائے مائیہ (خون ، بلغم ، سودا ، صفرا) کے ساتھ اور بارہ بروج کی بارہ حواس (پانچ باطنی، پانچ ظاہری اور دو جذبی) کے ساتھ تطبیق کرتے ہیں۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒکے نظریے میں بھی عالمِ انفس اور عالمِ آفاق کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ عالمِ آفاق کی ہر شے کے مقابل عالمِ انفس میں بھی ایک شے موجود ہے۔ اس تطبیق میں دونوں عوالم کے اندر غیب اور شہادت کا متوازی وجود شامل ہے۔ شیخ ؒ اپنی تصنیف ’الوارد الشاہد ‘ میں فرماتے ہیں۔

’’ جان لو کہ جس طرح عالم جسمانی میں غیب اور شہادت دونوں موجود ہیں اسی طرح عالمِ روحانی میں بھی غیب اور شہادت دونوں کا وجود ہے۔ عالمِ روحانی کا غیب عالمِ جسمانی کے غیب سے لطیف تر اور عظیم تر ہے۔ جنت اور دوزخ عالمِ روحانی کے عالمِ غیب میں موجود ہیں اور عالمِ جسمانی میں موجود ان کے غیب سے عظیم تر ہیں۔ عالم روحانی کا عالمِ شہادت عالمِ جسمانی کی شہادت سے کثیف اور قلیل ہے۔‘‘

سمنانی ؒ کی تحریروں سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ عالم جسمانی اور روحانی کا فرق صرف یہ نہیں کہ ایک نظر آتا ہے اور دوسرا نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس ان دونوں عوالم کے اپنے اندر غیب وشہادت یعنی نظر نہ آنے والی اور نظر آنے والی جہات موجود ہیں۔ چونکہ عالمِ روحانی عالمِ جسمانی کا عالمِ اکبر ہے اس لیے روحانی عالم میں موجود اشیاء بلحاظ ِ معیار عالمِ جسمانی سے برتر ہیں۔ علاوہ بریں چونکہ عالمِ روحانی میں مابعدالطبیعاتی پہلو زیادہ اہم ہے اس لیے عالم ِ روحانی کا غیب عالمِ جسمانی کی مافوق الحواس اشیاء کی نسبت لطیف تر ہے۔ دوسری طرف عالمِ روحانی کی شہادت یعنی نظر آنے والی چیزیں عالمِ جسمانی کی شہادت کی نسبت کمتر اور قلیل تر ہے کیونکہ عالمِ روحانی میں کارگر ہونے والے حواسِ روحانی کی زد سے بمشکل کوئی چیز ماورا ہوتی ہے۔

اگرچہ روحانی اور جسمانی عوالم کے عالمِ غیب اور عالمِ شہادت میں لطافت اور کثافت کے اعتبار سے بڑا فرق ہے لیکن ان دونوں دنیاؤں میں موجود اشیاء کی باہمی تطبیق ممکن ہے۔ عالمِ جسمانی کا عالمِ شہادت زمینوں اور آسمانوں اور جملہ اجرامِ فلکی اور ان میں موجود حیوانات ، نباتات وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اس عالم کی تطبیق عالمِ روحانی کے عالمِ شہادت یعنی جسمِ انسانی کے اجزا جیسے قوائے جسمانی، رطوبت ہائے مائیہ، وریدوں، اعصاب اور اعضاء کے ساتھ ممکن ہے۔ اسی طرح جیسے عالمِ جسمانی کا عالمِ غیب جنوں اور فرشتوں پر مشتمل ہے اسی طرح عالمِ روحانی کا عالم غیب نفس، قلب ،سرّ، روح اور خفی پر مشتمل ہے۔ عالمِ جسمانی اور عالمِ روحانی کے غیب اور شہادت کے درمیان مکمل مطابقت پائی جاتی ہے سوائے اس کے کہ عالمِ روحانی کے غیب میں قلب یا دل شامل ہے جو تکمیلِ انسانی کا ذریعہ ہے اور اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی چیز عالمِ جسمانی میں موجود نہیں ہے۔

عالمِ روحانی و جسمانی اور ان عوالم میں موجود جملہ اشیاء کو اﷲ تعالیٰ نے خلق اور فیض کے عمل سے پیدا کیا ہے ۔ اول چیز جو خلق ہوئی اس کی حقیقت مختلف پیرایوں میں بیان ہونے کے باوجود ایک ہے۔ ’الوارد الشاہد‘ میں شیخ ؒ فرماتے ہیں۔

’’ حضور ؐ فرماتے ہیںکہ پہلی چیز جو اﷲ تعالیٰ نے خلق فرمائی ، قلم تھی۔ اور فرمایا ’’پہلی چیز جو اﷲ تعالیٰ نے پیدا فرمائی روح تھی۔ ‘‘ پھر فرمایا ’’ پہلی چیز جو اﷲ تعالیٰ نے تخلیق فرمائی عقل تھی۔‘‘ ان ارشادات میں علامتی طور پر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اﷲ نے قلم کے ذریعے سکھایا جو کہ مرتبۂ وجود میں اولیں تخلیق ہے۔ اور اﷲ نے روحِ محمدیؐ کے ذریعے سکھایا جو مرتبۂ حیات میں پہلی تخلیق ہے ۔ اور اﷲ نے نور کے ذریعے سکھایا جو مرتبۂ سیر میں اولیں مخلوق ہے ۔ اور اﷲ نے عقل کے ذریعے سکھایا جو مرتبہ ٔ معادن المفردات المعنویہ میں خلقِ اول ہے۔‘‘

یہ بظاہر اس نوفلاطونی تصوّر کے مطابق کہ واحد سے واحد کا ظہور ممکن ہے، کثرتِ ظہور کی تاویل کی کوشش ہے۔ سمنانی ؒ کے نزدیک خلقِ اوّ ل کے باب میں مندرجہ بالا ہر ایک بیان حقیقتِ واحدہ کا بیان ہے۔ ظاہری فرق کا شائبہ اس وجہ سے ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے استعارہ کا استعمال فرمایا ہے جبکہ ہر استعارہ خلقِ اول کی حقیقت کا ایک مختلف پہلو ہے۔ ان میں سے دو پہلو یعنی نور و روح ِ محمدیؐ حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے حقیقی معنوں میں ابوالبشر کے درجہ پر ہونے سے متعلق ہیں۔ دوسرے دو پہلو یعنی قلم اور عقل اس کے بعد درجہ بدرجہ ظہور سے وابستہ ہیں۔ قلم وجود کے مرتبے میں خلقِ اوّل ہے ۔ یہ فعلی سطح پر ہونے والی پہلی تخلیق ہے۔ جبکہ لوحِ عقل امکانی سطح پر اﷲ تعالیٰ کی پہلی تخلیق ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس قلمِ فعلی سے لوحِ عقلی پر عالمِ کون و مکاں کی ہر شے اور اس کے وقتِ مقدر کا خاکہ کھینچا۔ اس خاکے کی سیاہی سے عالمِ شہادت اور اس کی سفیدی سے عالمِ غیب کا ظہور ہوا۔ اس طرح سمنانی ؒ کے نزدیک تخلیق تحریر کا سا عمل ہے۔ قلم لوح پر لکھتا ہے اور یوں عالمِ امکاں کی جسمانی اور روحانی تقسیم ہو جاتی ہے یعنی تحریر شدہ الفاظ عالمِ جسمانی اور لوح کا خالی حصہ عالمِ روحانی کی شکل میں صورت پذیر ہوتا ہے۔ اس طرح سمنانی ؒ تخلیق اور ظہور کے ظاہری تضاد کا حل ایسے نظریے سے پیش کرتے ہیں جسے کسی مناسب اصطلاح کی عدم موجودگی میں قرآنی نوفلاطونی کونیات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

مدراجِ تخلیق میں عالمِ غیب و شہادت کا ظہور براہِ راست خلقِ اوّل سے نہیں ہوتا، بلکہ اس میں دس مدارج ہیں جنہیں سمنانی ؒلطائف قرار دیتے ہیں اور جو خلقِ اول اور عالمِ غیب و شہادت کی جہات کے درمیان واسطے ہیں۔

ظہور اور مرکب جسمِ انسانی

دس لطائف کا ظہور عالمِ لاہوت میں خلقِ اوّل سے ہوتا ہے، لیکن و ہ حضورِ احدیت میں رہنے کی بجائے ایک نزولی سفر کرتے ہوئے عالمِ جبروت میں پہنچ جاتے ہیں یہاں وہ صفاتِ جبروتیہ کی صورت میں پہچانے جاتے ہیں۔ اس عالم سے لطائف رقائق کی شکل میں مقاماتِ ملکوتی کی طرف سفر کرتے ہیں جو عالمِ ملکوت میں ہیں یہاں وہ صفات فعلیہ الٰہیہ کی شکل میں شناخت ہوتے ہیں۔ اس مقام سے وہ دقائق کی صورت میں مقاماتِ انسانی کی طرف نزول کرتے ہیںجو عالمِ ناسوت یا عالمِ جسمانی میں ہیں۔ یہاں پہنچ کر دقائق میں موجود آثار کو ظہور کی صورت عطا ہوتی ہے۔

دس لطائف ِ علویہ کی عالمِ لاہوت میں حضورِ احدیت سے عالمِ ناسوت کی طرف سفر ظہور و تجلی کی علامت ہے۔ اس نزولی سفر میں یہ لطائف عالمِ جبروت اور عالمِ ملکوت سے گزرتے ہیں۔ اسی عمل سے ان لطائف میں تفرّق پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یہ لطائف صفات الٰہیہ سے رقائق اور افعال ِ الٰہیہ سے دقائق کی شکل اختیار کرتے ہیں ا ور اسی طرح آخرِ کاروہ افعال سے آثار کی صورت میں آجاتے ہیں۔ چار عوالم کے اندر وحدت سے کثرت کی طرف اس سفر کے نتیجے میں ایک دس بن جاتا ہے ، دس سو اور سو ہزار کی صورت اختیار کرتا ہے۔

جوہرِ علوی یا سماوی سے افلاک کا ظہور ہوتا ہے جن کی تعداد نو ہے اور ترتیبِ نزولی میں ان کے نام یہ ہیں۔ فلکِ اوّل کرسی ہے جسے غیر صوفی فلکِ اطلس یا فلک الافلاک بھی کہتے ہیں۔ دوسرا آسمان فلکِ مجمع الکواکب ہے جسے فلکِ نجومِ ثابت بھی کہا جاتاہے۔ اس کے بعدفلکِ زحل ، فلکِ مشتری، فلکِ مریخ، فلک ِ شمس، فلکِ زہرہ اورفلکِ عطارد ہیں۔ آخری فلک فلکِ قمر ہے جس کے بعدعالمِ ارضی و سفلی شروع ہوتا ہے۔ یہ افلاک روح اور عقل کے حامل ہیں جو ان افلاک کی مرتب حرکت سے مل کر عوالم سفلیہ کے ظہور کا موجب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان افلاک کو فاعل سمجھا جاتا ہے اور آبائے علویٰ کہلاتے ہیں۔

نو افلاک کے بعد چار ارضی عناصر کے دائرے ہیں ۔ پہلا دائرہ ایثر کا ہے جس کا مظہر آتش ہے، دوسرا باد کا ہے جس کی علامت ہوا ہے، تیسرا کرّۂ آبی ہے اور چوتھا کرّۂ خاکی۔ یہ چاروں کرّے افلاکِ سماوی یا آبائے علویٰ کی حرکت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اس لیے انہیں امّہاتِ سفلیٰ کہا جاتا ہے۔ امہاتِ سفلیٰ قابلیت کی حامل ہوتی ہیں جبکہ آبائے علویٰ فاعلیت رکھتے ہیں۔ اس قابلیت اور فاعلیت کے ملاپ کے نتیجے میں موالید کا ظہور ہوتا ہے جو سفلی سطح پر موجود ہر شے میں موجود ہیں۔

فاعل آبائے علوی اور قابل امہاتِ سفلی کے ملاپ کے نتیجے میں ارضی سطح پر ظہور پذیر ہونے والی پہلی چیز معادن ہے۔ یہ بے جان مادہ اجرامِ سماوی میں ظہور کے صعود کا نتیجہ ہے جو زمین پر سکونت پذیر ہوتا ہے۔ عالمِ ارضی میں نزول کے بعد یہ بے جان مادہ اپنے منبع سے اتحاد حاصل نہیں کر سکتا لیکن صعود یا ارتفاع کے ذریعے وہ اپنے اصل کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ تاہم اپنی فطری کمزوری اور خصوصیاتِ علوی و سماوی کے فقدان کے باعث وہ ایسا نہیں کر سکتا۔

ارضی ظہور کا دوسرا مرحلہ نباتات کا ہے جو نجومِ ثابت و دوّار یعنی ستاروں اور سیاروں کے اس ماتحتی ظہور سے پیدا ہوتی ہے جو سطحِ ارض پر سکونت پذیر ہو ا ہے۔

تیسرا مرحلہ حیوانات کا ہے جو ستاروں اور سیاروں اور فلک ِ اطلس کے ظہور و تجلی کے زمین سے مضبوط ملاپ کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ رسالہ ’ فتح المبین‘ میں شیخ سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ عالمِ حیوانات کی مکمل ترین صورت انسان ہے جو خاتمِ موالیداور حاملِ امانت ِ علمِ اسماء و صفات و ذاتِ الٰہیہ ہے اوراﷲ تعالیٰ جل شانہ‘ کی خلافت کا حق دار ہے۔‘‘

جملہ موجودات صاحبِ قوت ہیں اور وہ دوسری اشیاء پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تاہم یہ قویٰ ان کی اپنی قدرت سے نہیں ہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی تفویض کردہ ہیں۔ یہ قویٰ ان اشیاء سے جن کے اندر وہ موجود ہوتے ہیں، الگ قائم نہیں رہ سکتے اور یہ کہنا غلط ہے کہ وہ جداگانہ اور آزادانہ وجود رکھتے ہیں یا دیگر خصوصیات جیسے جنس یا احساس و ادراک وغیرہ کی حامل ہوتے ہیں۔ تمام موجوداتِ سماوی و ارضی مخلوقات ِ الٰہی ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ زمین اور آسمان سے رزق پہنچاتے ہیں۔ یہ تمام موجودات فانی ہیں جیسا کہ قرآن ِ مجید کی آیت کل من علیھا فان ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام (۵۵:۲۶) میں اس طرف اشارہ ہے۔

فنا مرکبات کی تخریب کا نام ہے اور صفاتِ الٰہیہ کا مظہر ہے جبکہ ہلاک ہونا عناصر سے متعلق ہے اور یہ معدومیت مظہرِ ذات ہے۔ اس بیان سے سمنانی ؒ کی مراد شاید یہ ہے کہ جب دقائقِ سماوی و ارضی مٹ جائیں گے تو ذاتِ الٰہی کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے گا۔ دوسرے لفظوں میں ان کا وجود امکانی ہے۔

ظہوراتِ سماوی و ارضی بعض صفاتِ خداوندی کا مظہر ہیں اور خدا و ندتعالیٰ کی خلاقی کے بعض پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ عناصرِ سماوی مرآت ِ موجدیہ ہیں، معادن یا مادۂ سفلی مرآتِ مبدعیہ ہیں، نباتات مرآت ِ خالقیہ ہیں اور حیوانات مرآتِ مصوّریّہ ہیں۔

ہر وجودِ سفلی کا عالمِ علوی میں ایک حاکم یا قائم مقام موجود ہوتا ہے۔ عقل معادن کا حاکم ہے، ملائک نباتات کے حاکم یا قائم مقام ہیں اور جنات حیوانات کے حاکم ہیں۔ نو افلاک ِ سماوی، چار دوائرِ ارضی یعنی عناصر ِ اربعہ اور دیگر ظہوراتِ ارضی اﷲ تعالیٰ کی صفاتِ ظاہری و باطنی کی مرآت یا آئینے ہیں اور ا ن میں سے ہر ایک اپنی پوری قدرت کے مطابق اﷲ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے۔

تاہم ان آئینوں میں سے کوئی آئینہ مکمل اور اس امر کے قابل نہیں کہ اس امانت کو سنبھال سکے جو ذاتِ الٰہی کے علم پر مشتمل ہے۔ کیونکہ عالمِ علوی کے آئینوں میں سفلی عناصر کا فقدان ہے اور عالمِ سفلی کے آئینوں میں علوی عناصر موجود نہیں ۔ صرف وجود ِ انسانی ہی وہ آئینہ ہے جس کے اندر عناصر ِ علوی و سفلی دونوں کا امتزاج ہے۔ ’قواطع السواطع‘ میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’صبحِ ازل ظلمتِ تخلیق اور نورِحکمِ الٰہی کے درمیان اﷲ تعالیٰ نے وجودِ انسانی کے گارے کوعالمِ علوی اور عالمِ سفلی سے لے کر اپنے لطف اور قہر کے دو ہاتھوں سے گوندھا اور اس میں لطائف ِ تخلیق اور حکمِ الٰہی کو شامل کر کے چالیس درجے اور چار عوالم یعنی عالمِ لاہوت، عالمِ جبروت ، عالمِ ملکوت اور عالمِ ناسوت بنائے۔ ‘‘ ٭