تصنیفاتِ سمنانی ؒ

تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ ایک کثیر التصانیف بزرگ تھے۔ سفادی نے اپنی ’کتاب الوافی بالوفایت‘ میں لکھا ہے کہ آپ نے تین سو سے زائدکتابیں لکھیں۔ (آپ کی معلوم تصانیف کی تعداد ۱۵۴ ہے جن میں سے ۷۹ تصانیف ہم تک پہنچی ہیں۔) آپ کی تصانیف میں تفسیر، رسائلِ متفرقہ اور مکاتیب شامل ہیں۔ دولت شاہ سمرقندی نے آپ کے ایک رسالے ’مفتاح‘ کے حوالے سے آپ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔

’’ میں نے راہِ تصوف کے بیان میں ہزاروں دفتر سیاہ کیے ہیں اور اپنی آبائی جائداد اور خاندانی ورثے سے ایک لاکھ دینار صوفیہ کے لیے وقف کیے ہیں۔‘‘

سمنانی ؒ کی اکثر تصانیف عربی زبان میں ہیں ، اگرچہ آپ نے اپنی مادری زبان فارسی کو بھی استعمال کیا۔ تکنیکی لحاظ سے اہم ضخیم تصانیف کے لیے آپ نے عربی زبان کو پسند فرمایا ہے جبکہ غیر رسمی تصانیف کے لیے، جو زیادہ تر رسائل پر مشتمل ہیں ہے آپ نے فارسی زبان کو ترجیح دی ہے تاکہ قارئین کی ایک کثیر تعداد ان سے مستفید ہو سکے۔

سمنانی ؒ کا طرزِ نگارش ان کے عہد کی نمائندگی کرتا ہے۔ آپ نے اپنے دور کے رجحان کے مطابق عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں مسجع اور مقفیّٰ نثر کا استعمال کیا ہے۔ آپ کو فارسی زبان میں اظہار کی زیادہ سہولت تھی لیکن مرکب جملوں اور بے ربط ترامیم کی وجہ سے آپ کی فارسی نثر کا ترجمہ مشکل ہے۔ آپ کے عربی رسائل کے مطالعے سے اس زبان پر آپ کے عبور کا اندازہ ہوتا ہے ۔ آپ نے اپنی تحریروں میں جابجا عربی اشعار اور ضرب الامثال کا استعمال کیا ہے۔

سمنانی ؒ کی تصانیف سے متعلق معلومات سوانحی کتابوں اور تذکروں سے فراہم ہوتی ہیں۔ بہت سی تاریخی اور صوفیانہ کتب میں بھی آپ کی تصانیف کا حوالہ ملتا ہے۔ آپ نے خود بھی ایک نہایت قابلِ قدر مختصر رسالہ ’مطاف الاشرف‘ کے نام سے لکھا ہے جس میں آپ کی عربی تصانیف کی ایک جزوی فہرست موجود ہے۔ آپ کے بعض رسائل محفوظ نہیں اور آپ سے منسوب تصانیف کی موجودہ فہرست کو مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آپ کی تصانیف کی کتابیات بہت سے محققین نے مرتب کی ہیں جن میں عبدالرفیع حقیقت اور نظیف صہینوگلو کے نام زیادہ اہم ہیں۔ آپ کی تصانیف کی مندرجہ ذیل فہرست تاحال مرتب پانے والی فہرستوں میں جامع ترین ہے۔ سمنانی ؒ کی تصانیف کو پانچ حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے دو حصوں میں آپ کے بڑے اور چھوٹے رسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ تیسرے حصے میں آپ کی مکاتیب کی فہرست ہے۔ اس کے بعد آپ کی ایسی تصانیف کی فہرست ہے جو معدوم ہو چکی ہیں۔ پانچویں حصے میں آپ کی وہ عربی تصانیف شامل ہیں جو ’مطاف الاشرف‘ میں مندرج ہیں۔ آخر میں آپ کی تفسیر ’ نجم القرآن ‘ کے جملہ دستیاب نسخوں کی فہرست دی گئی ہے ۔ یہی وہ تصنیف ہے جس سے ہم نے افکارِ سمنانی ؒ کے مطالعے میں مدد لی ہے۔ پہلے دو حصوں میں ہم نے شیخ ؒ کی تصانیف کو ان کے معروف ترین ناموں کے علاوہ دیگر غیر معروف ناموں کے ساتھ درج کیا ہے۔ اس کے بعد دستیاب نسخوں کے مقامات کی نشاندہی کے علاوہ حسبِ موقع موضوعِ بحث کا بیان بھی لکھاہے۔ (بخوف ِ طوالت ترجمے میں نسخوں کی تفصیلات سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔) پہلے حصے کے علاوہ جہاں تصانیف کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے، رسائل کے نام زمانۂ تصنیف کے مطابق درج کیے گئے ہیں۔ جن تصانیف کا زمانۂ تصنیف معلوم نہیں انہیں ابجدی ترتیب سے درج کیا گیا ہے۔

مبسوط تصانیف

سمنانی ؒ کی تصانیف میں سے گیارہ ایسی ہیں جو شرح و بسط سے لکھی گئی ہیں اورجو شیخ ؒ کی حیات و تعلیمات کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ ان میں سے آٹھ تصانیف عربی میں ، دو فارسی میں اور ایک ہر دو زبانوں میں ہے۔

۱۔ تفسیر نجم القرآن

یہ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی تفسیرِ قرآن ہے اور آپ کے افکار و تعلیمات کا اہم ترین ماخذ ہے۔ چونکہ میرے مطالعے کی بنیاد زیادہ تر اسی تصنیف پر ہے اس لیے اس کے بارے میں خصوصی بحث آخر میں کی جائے گی۔

۲ ۔ العروہ لاھل الخلوہ و الجلوہ (عربی و فارسی)

دیگر نام:

۱۔ عروۃ الوثقیٰ

۲۔ کتاب العروہ

۳۔ العروہ لاھل الخلوہ و الجلوہ فی ما یجیب الاعتقاد بہٖ

۴۔ العروہ الوثقیٰ لاھل التّقیٰ

۵۔ صفوۃ العروہ

۶۔ مشارع ابواب القدس و مراطع اصحاب الانس

موضوع:

العروہ سمنانی ؒ کی حیات و افکار کے مطالعے کے لیے بیش قیمت کتاب ہے۔ یہ کتاب پہلے عربی میں لکھی گئی ۔ اس کی تصنیف کا آغاز رمضان ۷۲۰ھ میں صوفی آباد خداداد میں ہوا اور ۲۳ محرم ۷۲۱ھ کو مکمل ہوئی۔ اسی سال شیخ ؒ نے اس کتاب کی نظر ثانی اپنی نگرانی میں کروائی اور ۷۲۲ ھ میں ایک تیسرا اور حتمی مسودہ تیار ہوا۔ باور کیا جاتا ہے کہ کتاب کافارسی ترجمہ شیخ ؒ کی وفات کے کچھ عرصے ہی بعد آپ کے کسی شاگرد نے کیا۔ اس کتاب کا ایڈیشن جو عربی و فارسی دونوں متون پر مشتمل ہے نجیب مائل ہروی کی سعی و اہتمام سے چھپ چکا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

استنبول، لندن، تہران، دکن، رامپور، مشہد، پیٹرز برگ

۳۔ تبئین المقامات و تعین الدّرجات(عربی):

دیگر ممکنہ نام:

۱۔ فضل الطّریقت

۲۔ فضل الشّریعت

موضوع:

اس کتاب کے قاہرہ کے نسخے میں راہِ سلوک کے عام سالک کے لیے سو مقامات اور ہر مقام کے تین درجات اور قطب کے لیے ایک آخری درجے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ہر درجے کو تین احوال پر تقسیم کیا گیا ہے جو ابتدائی، وسطی اور آخری ہیں۔ یہ جملہ مقامات و درجات بتدریج طے ہوتے ہیں اور سالک اﷲ تعالیٰ کی توفیق اور مرشد کی رہنمائی کے بغیر ایک حال سے دوسرے حال میں ترقی نہیں کر سکتا۔ اس کتاب کا ذکر ’ مطاف الاشرف ‘ میں موجود ہے جس سے اس کا زمانۂ تصنیف ۲۸ صفر ۷۱۴ ء سے قبل کا معلوم ہوتاہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، استنبول

۴۔ فصول ا لاصول (فارسی):

دیگر ممکنہ نام:

۱۔ اصول الاسلام والدین علیٰ زبدۃ الحقائق والیقین

موضوع:

یہ رسالہ تین حصوں پر منقسم ہے۔ پہلے حصے میں ایمان کے بنیادی ارکان کی ظاہری تعبیر پیش کی گئی ہے۔ سمنانی ؒ کے نزدیک ایمان کے بنیادی شرائط میں تمام پیغمبروں، آسمانی کتابوں، منزل، صراط، میزان، حشر ونشر، وجودِ ملائک و جن، اور جنت میں لقائے خداوندی پر یقین رکھنا شامل ہے۔ اس کے بعد ایک باب اصول دین پر ہے جس میں نماز ،روزہ، زکوٰۃ، حج اور جہاد کا بیان اہم فقہا اور صوفیہ کے ارشادات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ جہاد کا بیان آ پ جہادِ اصغر اور جہادِ اکبر دونوں کی صورت میں کرتے ہیں۔ تیسرا حصہ تصوف کے مبادی پر مشتمل ہے جس میں شرائطِ خلوت، ذکر اور سماع کا تفصیلی بیان ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ سمنانی ؒ نے کتاب کے نظرثانی شدہ نسخے کو ’فصول الاصول ‘ کا نام دیا۔ ’فرحت العاملین‘ کی ایک وصیت اور ’ آداب السفرہ‘ میں اس کتاب کا ذکر ’ مالابدہ ‘ کے نام سے کیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف فصول الاصول کے نسخۂ قاہرہ میں آداب السفرہ کا ذکر موجود ہے۔ یہ کتاب بھی ہروی کے زیر اہتمام ’ مالابدہ منہ فی الدین ‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، استنبول

۵۔ کتاب القدسیۃ (عربی):

یہ کتاب جس کا ایک نسخہ سمنانی ؒ کے مرید علی رومی کے پوتے ضیاء ا لدین ملاطی کا صوفی آباد میں صفر ۷۸۰ھ میں نقل کردہ استنبول میں موجود ہے، دراصل ۲۴ رسائل کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک کے نام میں ایک جگہ کا نام اور ’قدسیّہ‘ کا لفظ ہے، جو یہ ہیں:

قدسیہ بغدادیہ (سات رسائل)، قدسیہ بغدادیہ الھرولیہ، قدسیہ ہرولیہ بغدادیہ، قدسیہ سمنانیہ، قدسیہ سمنانیہ سکاکیہ (دو رسائل)، قدسیہ سکاکیہ (تین رسائل) ، قدسیہ صوفی آبادیہ (تین رسائل)، قدسیہ راحت آبادیہ (تین رسائل)، قدسیہ سبزواریہ، اور قدسیہ اسلام آبادیہ۔

ان میں سے صرف چار رسائل میں نفسِ مضمون کا ذکر ہے جو الفاظ میں ہوا ہے ’ فی البیان الطائف والقوۃ فی الوجود فی شرح موقف من المواقف الآثاریہ‘ ۔ ایک نسخہ قدسیہ سکاکیہ کو ’ مسمّیٰ فی الغیب باالجوامع الکلم والصوامع الحکم‘ کا نام دیا گیا ہے۔

۶۔ بیان الاحسان لاھل العرفان (عربی):

دیگر نام:

بیان الاحسا ن لاھل الایقان

موضوع:

یہ رسالہ ترتیب اور موضوع کے اعتبار سے العروہ سے بہت مماثل ہے اور ۱۹ رمضان ۷۱۳ھ کو صوفی آباد خداداد میں مکمل ہوا ہے۔ شاید یہ العروہ کا ابتدائی مسودہ ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، لندن، استنبول، تہران

۷۔ الفلاح لاھل الصلاح:

دیگر ممکنہ نام:

۱۔ رسالۂ فلاح

۲۔ کتاب الفلاح

موضوع:

اسلامی عقائد اور طرزِ حیات پر مشتمل اس ضخیم کتاب کی سعید نفیسی کے مطابق تین جلدیں ہیں اس کا واحد نسخہ محمد بن الحسین بن الحسن الاصفہانی السمنانی کا ۲۹ شعبان ۷۳۵ھ میں نقل کردہ ہے۔ کتاب نے اسے اپنی خودنوشت کے ساتھ جمع کر دیا۔ اس کتاب کا ذکر ’ مطاف الاشرف ‘ میں موجود ہے چنانچہ اس کا زمانۂ تصنیف ۲۸ صفر ۷۱۴ھ سے قبل کا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ ڈوبلن

۸۔ الوارد الشاھد الطارد بشبھات المارد(عربی):

دیگر نام:

۱۔ الواردالطارد بشبھات المارد

۲۔ الوارد الشاہد الطارد لصبحات ا لمارد

۳۔ مدارج المعارج فی الوارد الطارد بشبھات المارد

۴۔ مدارج المعارج

۵۔ المدارج و المعارف

موضوع:

یہ تصنیف چار ابواب پر مشتمل ہے۔

باب اول میں افکارِ ابن سینا سے بحث کی گئی ہے۔

باب دوم میں روح کے متعلق محققین کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔

باب سوم میں لطائف الانسانیہ کا بیان ہے۔

باب چہارم جملہ طرائق میں سے طریق الحق کے بیا ن پر مشتمل ہے۔

پہلے تین ابواب فلسفیانہ ہیں۔ چوتھے باب میں ان واقعات اور قرائن کا بیان ہے جو سمنانی ؒ کے حضرت نورالدین اسفرائنی ؒ کی بیعت کا باعث بنے۔ اس باب میں شیخ ؒ کی سوانح کے متعلق بعض قیمتی معلومات شامل ہیں۔ یہ رسالہ ۶۹۹ھ کے لگ بھگ مکمل ہوا جب شیخ چالیس بر س کے تھے کیونکہ اس کتاب میں ’قواعد العقائد ‘ کا ذکر موجود ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

تین نسخے استنبول میں موجودہیں۔

۹ ۔ کتاب قواطع السواطع (عربی):

دیگر نام:

۱۔ رسالہ فی قواطع السواطع

۲۔ سواطع القواطع

موضوع:

سمنانی ؒ کے صوفیانہ افکار پر مشتمل اس کتاب کے بارہ ابواب ہیں۔ یہ ۷۰۳ھ کی تصنیف ہے اور اسے تھیکسٹن نے ترتیب دیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہر ہ ، استنبول

۱۰ ۔ کلیاتِ دیوان ِ شاعری فارسی و عربی:

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے فارسی اور عربی دونوں زبانوں میں شاعری کی ہے جس کے نمونے تفسیر نجم القرآن سمیت آپ کی تصانیف میں جابجا ملتے ہیں۔ آپ کا دیوان آپ کے شاگرد منہاج بن محمد السرائی نے مرتب کیا ۔ اس دیوان کی بعض غزلیات عبدالرفیع حقیقت کی ’خمخانۂ وحدت ‘ میں شامل ہوئی ہیں۔ حقیقت ہی نے دیوان کے نسخۂ پیرس کو شائع کیا ہے۔

چھابی نسخے میں عربی اور فارسی کے ۳۶۳۸ اشعار شامل ہیں جبکہ دو تہائی سے زیادہ اشعار فارسی کے ہیں۔ دیوان ۱۸ قصائد ، ۲۵۵ غزلوں، ۵۴۱ رباعیات، ۱۰ مثنویوں، اور ایک ترجیع بند کے علاوہ بعض مختصر نظموں پر مشتمل ہے۔ عربی کے تمام اشعار غزلیات کی شکل میں ہیں۔

سمنانی ؒ کا قلمی نام ’علا‘ بہت سی فارسی نظموں اور ایک عربی نظم میں استعمال ہوا ہے۔ ان نظموں میں آپ کے مخصوص نظریۂ حیات کی موجودگی اور آپ کے عہد کے واقعات ، اشخاص اور اماکن کی طرف اشاروں کی موجودگی میں اس دیوان کی شیخ ؒ کی تصنیف ہونے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

دستیاب قلمی نسخے:

نسخۂ پیرس و نسخۂ بودلین آکسفورڈ برطانیہ

۱۱ ۔ چہل مجلس شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ (فارسی) :

دیگر نام:

۱۔ فوائد

۲۔ رسالہ اقبالیہ

۳۔ رسالہ مجالس

۴۔ مجالس ِ اربعین

مضمون:

یہ شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے ان ارشادات کا مجموعہ ہے جسے آ پ کے شاگرد اقبال بن سابق سیستانی نے جمع کیا ۔ یہ کتاب شیخ ؒ کی زندگی کا سوانحی ماخذ ہونے کی وجہ سے زیادہ اہم ہے۔ سیستانی نے دو مجموعے چہل مجلس (یامجالس ) اور فوائد کے نام سے مرتب کیے جنہیں بعد میں یک جا کر دیا گیا۔

چہل مجلس کے تین چھابی نسخے موجود ہیں۔

پہلا نسخہ عبدالرفیع حقیقت کا مرتب کردہ ہے ، یہ ۵۹ مجالس پر مشتمل ہے اور کمتر معیار کا حامل ہے۔ اس نسخے کی کمزور ی پر نجیب مائل ہروی نے اپنے ’العروہ‘ کے مقدمے میں بحث کی ہے۔ دوسرا نسخہ ہروی کا ہے جو صحیح ترین نسخہ ہے۔ ایک تیسرا نسخہ جسے تھیکسٹن نے مرتب کیا برٹش لائبریری اور دارلکتب کے نسخوں پر مبنی ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

تہران، نسخۂ کیمبرج برطانیہ، کلکتہ، قاہرہ، نسخۂ برٹش میوزیم لندن ، نسخۂ آکسفورڈ برطانیہ، پشاور، لاہور وغیرہ

ب۔ مختصر کتب و رسائل:

۱۲ ۔ رسالۂ سرّی نامہ(فارسی):

دیگر ممکنہ نام:

سر جواز السماع

موضوع:

یہ رسالہ ذکر اور سماع کے اثر و جواز کے بارے میں ہے۔ سمنانی ؒ کے نزدیک سماع مبتدی کے لیے خطرناک ہے ۔ اپنے نظریے کے حق میں آپ نے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت امام شافعی ؒکا مسلک پیش کیا ہے۔ راہِ تصوف میں قدم رکھنے کے بعد لکھا جانے والا آپ کا یہ پہلا رسالہ ہے اور غالباً یہ آپ کی اولین تصنیف ہے جس کا زمانۂ تصنیف ۶۸۷ھ ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، ترکی

۱۳۔ رسالہ در تحقیق انانیّت(فارسی):

دیگر نام:

مجمل الصّنائع الانائیہ فی بیان اللّطیفہ الانایّہ۔

موضوع:

لطیفۂ انایّہ کے بارے میں شیخ ؒ کے بیان پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اہم ہے۔ زمانہ ٔ تصنیف رجب ۶۹۹ھ ہے اور اسے لینڈولٹ نے شائع کیا ہے۔

۱۴ ۔ قواعد العقائد (عربی):

دیگر نام:

فوائد العقائد

موضوع:

یہ رسالہ تاج الدین محمد بن ابوالقاسم محمد القشیری کے لیے رجب ۶۹۹ ھ میں لکھا گیا۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ قاہرہ

۱۵ ۔ موارد الشّوارد (عربی):

دیگر نام:

مقالاتِ موارد الشوارد

موضوع:

سو وارد میں ترتیب دیے گئے صوفیانہ اور مذہبی بیانات پر مشتمل ہے ۔ یہ رسالہ ۴ رجب ۷۰۱ھ کو مکمل ہوا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

استنبول، قاہرہ

۱۶ ۔ فرحت العاملین و فرجت الکاملین(فارسی):

موضوع:

یہ کتاب ہروی نے دارلکتب کے نسخے کی بنیاد پر شائع کی ہے۔ ایک دوسرا ایڈیشن تھیکسٹن نے تیار کیا ہے۔

یہ رسالہ سمنانی ؒ کے مرید عزیز الدین دہستانی کی فرمائش پر شعبان ۷۰۳ھ میں لکھا گیا۔ رسالے کی ابتدا میں دہستانی کی صوفیانہ زندگی کا خاکہ ہے پھر ذات ِ احدیت کی نوعیت پر بحث ہے۔ اس کے بعد سالکِ راہ ِ خدا کے روحانی سفر اور بعض شطحیات کی تشریح ہے اور شطحیات کی بعض ناجائز اور جائز صورتوں کا بیان ہے۔ اس رسالے میں سمنانی ؒ نے راہِ سلوک کے مدارجِ مکاشفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اپنے شاگرد وجیہ الدین ابوالمحاسن عبداﷲ کی فرمائش کے مطابق اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ ’ حقائق الدّقائق‘ کے نام سے لکھیں گے۔

اس کے بعد اسمِ اعظم یعنی ’اﷲ‘ پر بحث کرتے ہوئے احادیث اور صوفیائے متقدمین کے اقوال کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ حقیقت کے وہ تمام مکاشفات جو قرآن اور سنت کے مطابق نہ ہوں محض فریب اور دھوکا ہیں۔ اس رسالے کا زیادہ تر مواد العروہ کے ابتدائی حصے سے مماثل ہے اور قرینِ قیاس ہے کہ یہ بھی العروہ کا ناتمام مسوّدہ ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، ترکی ، لندن

۱۷ ۔ ہدیّۃ المسترشدین و وصیّت المرشدین(فارسی):

دیگر نام:

رسالہ در باب ذکر

موضوع:

مختصر وصیت جس کا زمانہ ٔ تصنیف ۷۰۵ھ ہے۔ اسے تھیکسٹن نے شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، لندن ، استنبول

۱۸۔ ختام المسک(فارسی):

موضوع:

اس رسالے میں طہارت الکبریٰ اور اس کے حصول کے طریقوں کا بیان ہے۔ یہ رسالہ شیخ عبدالرحمن اسفرائنی ؒ کی رہائش گاہ پر ۹ ذوالقعدہ ۷۱۲ھ کو مکمل ہوا۔ اسے تھیکسٹن نے قاہرہ اور لندن کے نسخوں کی بنیاد پر شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، ترکی، لندن

۱۹ ۔ رسالہ فی الذکر اسامی مشائخی (عربی):

موضوع:

باور کیا جاتا ہے کہ یہ رسالہ ایک ضخیم تر تصنیف ’ کتاب الفلاح لاھل االصلاح ‘ سے نقل کیا گیاہے۔ شیخ ؒ کے شجرۂ طریقت کے علاوہ آپ کی حیات کے بارے میں بھی اس کتاب میں نہایت قیمتی معلومات موجود ہیں۔ اس رسالے میں ان صوفیا کی ایک فہرست بھی موجود ہے جن سے سمنانی ؒ کی ملاقات ہوئی ، نیز بعض صوفیائے متقدمین کے احوال بھی ہیں۔ اس رسالے میں حضرت شیح عبدالرحمن اسفرائنی کا سن پیدائش ۶۳۹ھ درج ہے اور یہ بھی لکھاہے کہ رسالے کی تصنیف کے وقت آپ کی عمر ۷۳ برس تھی ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رسالہ غالباً ۷۱۲ ھ میں لکھا گیا۔

دستیاب نسخہ:

نسخۂ قاہرہ

۲۰۔ رسالہ فتح المبین لاھل الیقین(فارسی):

دیگر نام:

۱۔ کتابہا و رسالہ ہای مفتاح

۲۔ مفتاح

موضوع:

یہ رسالہ جو اخی عز الدین کی فرمائش پر لکھا گیا سمنانی ؒ کے راہِ تصوف میں قدم رکھنے اور ان تجربات کا ذکر ہے جن کے نتیجے میں آپ سلسلۂ کبرویہ میں حضرت شیخ اسفرائنی ؒ سے بیعت ہوئے ۔ اس رسالے میں خلوت کے مدارج اور غیبات کا بھی ذکر ہے۔ رسالے میں کائنات کی ساخت اورعالمِ روحانی میں منتج ہونے والے مراحلِ تجلیات کا بھی بیان ہے۔

اس رسالے میں ۱۱ شوال ۷۱۲ ھ کو پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی ذکر ہے۔ اس رسالے کا تذکرہ ’ بیان الاحسان‘ میں ہوا ہے اس لیے اس کا زمانہ تصنیف شوال ۷۱۲ھ اور رمضان ۷۱۳ھ کے درمیان ہونا چاہیے۔ اس رسالے کو نجیب مائل ہروی نے شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، ترکی، تہران

۲۱۔ مناظر المحاضر لناظر الحاضر (عربی):

دیگر نام:

مناظر المحاضرللمناظر الحاضر

موضوع:

مریجان مول نے اس کتاب کو فرانسیسی ترجمے کے ساتھ شائع کر دیا ہے۔ یہ رسالہ زیادہ تر نہج البلاغہ کے اقوال پر مشتمل ہے۔ اس کا انداز حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی دیگر تصانیف سے مشابہ ہے ۔ اس رسالے میں آپ نے اہلِ بیت اطہار سے مؤدت کے اظہار کے ساتھ حضرت عائشہؓ اور خلفائے ثلاثہؓ پر سب و شتم کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ تہران

۲۲۔ شرح حدیث ارواح المؤمنین:

دیگر نام:

منہاج الجمح

موضوع:

اس کا ایک نامکمل اور کمزور ادارت کا حامل نسخہ ہروی نے شائع کیا ہے۔ ایک دوسرا ایڈیشن تھیکسٹن نے تیار کیا ہے۔ اس رسالے میں درج ذیل حدیث سے ، جو مادی جسم کے فنا کے بعد مؤمنین کی ارواح کے انجام سے متعلق ہے، بحث کی گئی ہے۔

ان ارواح المؤمنین طیر خضر تعلق فی شجر الجنۃ

یہ رسالہ آپ کے شاگرد عبدالمواہب محسن کی درخواست پر لکھا گیا جس نے اس حدیث کو رضی الدین حسن بن محمد الصّغانی لاہوری کی کتاب ’ مشارق الانوار النبویّہ من صحاح الاخبار المصطفویہ ‘ سے حاصل کیا تھا۔ اس حدیث کی دیگر کئی شکلیں اور اس پر بحث اس رسالے میں شامل ہے۔ یہ رسالہ صوفی آباد خداداد میں ۳ ذوالقعدہ ۷۱۳ھ کو مکمل ہوا۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، لندن، استنبول

۲۳ ۔ مطاف الاشرف (عربی):

یہ شیخ ؒ کی اپنی عربی تصانیف کی کتابیات ہے۔ شیخ ؒ لکھتے ہیں کہ انہیں ایک دن خیال آیا کہ اپنی ان عربی کتابوں کی فہرست بنائیں جو سالکین کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ چنانچہ ان کتابوں کے نام بعض ہدایات اور متعلقہ مریدوں کے ناموں کے ساتھ دیے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ کس مقصد کے لیے کون سی کتاب کا مطالعہ کیا جائے۔ یہ ۲۸ صفر ۷۱۴ ھ کو صوفی آباد خداداد میں مکمل ہوئی۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ استنبول

۲۴ ۔ رسالہ فی تفسیر آیات قرآنیہ فی موضوع الصبر والاحسان (عربی و فارسی):

دیگر نام:

رسالہ فی الایمان والصبر والتقویٰ والاحسان

مضمون:

یہ رسالہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں صبر اور احسان کی صوفیانہ تشریح پر مشتمل ہے۔ یہ رسالہ عربی زبان میں شروع کیا گیا لیکن سمنانی کے مرید ابوالمواہب محسن کی اس درخواست پر کہ اسے فارسی میں تحریر کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین مستفید ہو سکیں، آپ نے اسے فارسی میں مکمل کیا۔ شیخ ؒ نے یہ رسالہ صوفی آباد خداداد میں خلوت گزینی کے دورا ن تحریر کیا اور ۱۴ شوال ۷۱۴ ھ کو مکمل ہوا ۔ تھیکسٹن نے اسے مرتب کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

مصر، لندن

۲۵ ۔ رسالہ فی حشر الموجودات (عربی):

موضوع:

موضوع ِ بحث یہ ہے کہ موجودات کی دو قسمیں ہیں ، واجب اور ممکن۔ یہ رسالہ غالباً شیخ ؒ کے اپنے قلم سے لکھا گیا ہے اور جمادی ا لثانی ۷۲۰ھ میں برج ِ احرار صوفی آباد خداداد میں مکمل ہوا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

استنبول

۲۶۔ رسالہ صدائف الّطائف لمن فی بحر الدنیا بکعبۃالقلب طائف (فارسی):

دیگر نام:

حدائق الطائف

موضوع:

یہ گراں قدر رسالہ سمنانی ؒ کے مرید ابوالمواہب محسن الاحمدی کی فرمائش پرلکھا گیا ہے اور ۲۰ جمادی الثانی ۷۲۲ ھ کو مکمل ہوا ہے ۔ اس رسالے میں جو غالباً خود نوشت ہے، فارسی جاننے والوں کے لیے سبعہ لطائف ، لطیفۂ انایّہ، بدنِ مکتسب اور بدنِ محلول کے حقائق سمجھائے گئے ہیں۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ قاہرہ

۲۷۔ عِقد درّ الاسرار عَقدعرائس الاخبار:

مضمون:

وجود اور معادیاتی علامتوں سے بحث ہے اور حضرت جنید بغدادی ؒ کی شرائطِ خلوت گزینی کی بھی وضاحت ہے۔ یہ رسالہ ۶ جمادی الثانی ۷۲۸ ھ میں مکمل ہوا اور اس کا نسخہ غالباً خود نوشت سے نقل کیا گیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۲۸ ۔ مثال النّور و قدسیہ ہرولیّہ(عربی):

مضمون:

اس مختصر رسالے میں سبعہ لطائف اور الوان کے مابین تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ ۲۴ جمادی الثانی ۷۲۹ھ کو مکمل ہوا۔

دستیاب قلمی نسخے:

استنبول

۲۹ ۔ جوہر الاسرار(عربی):

دیگر نام:

۱۔ جواہر الاسرار

۲۔ جوہر الاسرار المربع فی بحرقلوب الابرار

موضوع:

کونیات پر مشتمل رسالہ جس میںمفردات العلویہ و سفلیہ کا بیان ہے۔ اس کا ذکر الوارد الشاہد میں آیا ہے چنانچہ ۶۹۹ھ سے قبل لکھا گیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

استنبول، سراجیوو

۳۰ ۔ رسالہ سرّ بال البال لذوی الحال(فارسی):

دیگر نام:

۱۔ رسالہ سرّ البال لذوی الحال الحال

۲۔ سرّ بال البال

۳۔ رسالہ سرّ بال البال فی اطوار سلوک اہل الحال

مضمون:

یہ رسالہ عمر الجاجرمی کے لیے لکھا گیا ۔ اس میں ایسے روحانی تجربے کا ذکر ہے جو سمنانی ؒ کو جمادی الثانی ۷۰۱ھ میں اعتکاف نشینی کے دوران ہوا۔ اس میں اصطلاحاتِ تصوف نفس، قلب، سر اور مختلف مراحل کی تجلیات کا ذکر ہے۔ تھیکسٹن اور ہروی نے اسے شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

مصر، استنبول، تہران، لندن

۳۱۔ شدائق الحقائق و حدائق الحقائق:

دیگر نام:

۱۔ شقائق الحدائق فی شرح حدائق الحقائق فی اشتقاق الجلال

۲۔ حقائق الحقائق و شقائق الحدائق

۳۔ شقائق الدقائق و حدائق الحقائق

مضمون:

مختصر مگر اہم رسالہ ہے جس میں اصطلاحات کے معنی بیان کیے گئے ہیں اور ہر بیان کو ایک حدیقہ یا باغ کا نام دیا گیاہے۔ فرحت العاملین و فرجت الکاملین میں اس رسالے کا نام حقائق الدقائق آیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

استنبول، سراجیوو

۳۲ ۔ رسالہ الاختیار لذوق الاعتبار(عربی):

مضمون:

حروف ِ تہجی خصوصاً حرف الف کی باطنی اہمیت کا بیان ہے ۔ اس رسالے میں قواطع السواطع کا ذکر ہے اور خود اس رسالے کا ذکر مطاف الاشرف میں آیا ہے ، چنانچہ اس کا زمانہ تصنیف ۷۰۳ھ اور ۲۸ صفر ۷۱۴ھ کے درمیان ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ قاہرہ

۳۳ ۔ بدائع الصّنائع (عربی):

مضمون:

صوفیانہ پند و نصائح کا مجموعہ جس میں قرآن پاک کے بکثرت حوالے درج ہیں۔ نجم القرآن اور مطاف الاشرف میں بارہا اس کا ذکر آیا ہے چنانہ زمانۂ تصنیف ۲۸ صفر ۷۱۴ھ سے قبل کا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ قاہرہ

۳۴ ۔ نقطہ (فارسی):

دیگر نام:

نقطہ دوائر الوجود لاھل الکشف و الشھود

مضمون:

حدیث انا نقطہ تحت البا کا بیان ہے۔ زمانۂ تصنیف غالباً ۲۸ صفر ۷۱۴ھ سے قبل کا ہے۔

۵ ۳۔ بلاعنوان (فارسی):

مضمون:

حیات بعد الموت پر آپ کا ایک خطبہ ہے جو آپ نے ۶۹ برس کی عمر میں دیا چنانچہ زمانہ تصنیف ۷۲۸ھ کے لگ بھگ معلوم ہوتاہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۳۶ ۔ آداب السفرہ (فارسی):

دیگر نام:

۱۔ آداب السفرہ السفرہ

۲۔ آداب السفرہ

مضمون:

اس رسالے میں دسترخوان کے آداب ، نیز پکانے ، دسترخوان بچھانے اور ہاتھ دھونے وغیرہ کا بیان ہے۔ فصول الاصول میں اس کا ذکر ہے اور اسے ہروی نے شائع کیا ہے۔ اس کا عربی ترجمہ ہو چکا ہے۔

۳۷ ۔ رسالہ فی العقل و العلم:

مضمون:

اس رسالے میں احادیث کے بکثرت حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ دینی علم عقلی علم سے افضل ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

استنبول

۳۸۔ ذکر الخفی المستجب للاجر الوافی(فارسی):

دیگر نام:

۱۔ رسالہ بیان ذکر الخفی المستجب للاجرالوافی

۲۔ بیان الذکر الخفی المستجب الاجر الوافی

۳۔ رسالہ فی السلوک

مضمون:

یہ رسالہ جملہ سالکین کے لیے ایک وصیت پر مشتمل ہے جس میں ذکر کے موضوع پر پند و نصیحت ہے اور اس بحث کی دلیل کے طور پر قرآن اور حدیث کے دس حوالے لائے گئے ہیں۔ اس رسالے میں جائیداد ، خاندان اور تغذیہ کے بارے میں ہدایات درج ہیں۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۳۹۔ رسالہ درّ الدّر (عربی):

مضمون:

اس رسالے میں عالم الکبیر اور عالم الصغیر کا بیان ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۴۰ ۔ ھدیّۃ المھتدی و ھدایت المبتدی(عربی):

دیگر نام:

ھدیّۃ المنتھی و ھدایت المبتدی

مضمون:

سمنانی ؒ کی سوانح عمری کے مطالعے میں یہ رسالہ اہم ہے۔ یہ رسالہ آپ کے کسی مرید کی فرمائش پر لکھا گیا ہے جس میں مختلف دینی مسالک کے درمیان فرق کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس رسالے میں مختلف مذاہب، فرقوں، اور دینی مکاتب فکر کی کمزوریوں کو بیان کرنے کے بعد مذہب صوفیہ کو بہترین مذہب قرار دیا گیا ہے۔ ترقیمہ میں لکھا گیا ہے کہ یہ ایک نسبتاً بڑی کتاب تحیۃ المبتدی و ھدایت المنتھی کا خلاصہ ہے۔ اس پر نہ تو تاریخ درج ہے اور نہ کاتب کا نام ، لیکن طرزِ کتابت مندرجِ ذیل تصنیف سے مماثل ہے جس پر کہ زمانۂ کتابت محرم ۷۹۲ ھ درج ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۴۱۔ حلّ العقال(فارسی):

دیگر نام:

حل العقال فی تہذیب النفوس

مضمون:

اصطلاحاتِ تصوف کا بیان ہے۔ یہ غالباً اسی نام سے لکھی جانے والی عربی کتاب کا سمنانی ؒ کا اپنا کیا ہوا ترجمہ ہے۔ نسبتاً طویل ترکتاب حل العقال فی تہذیب النفوس کچھ مدت بعد لکھی گئی ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ پیرس

۴۲ ۔ حشیّیہ مرموزات (عربی):

مضمون:

خیال ہے کہ یہ رسالہ صدر الدین ابوالمعالی المظفر الدوائی البغنوی کی کتاب المرموزات العشرین پر جزوی تبصرہ ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ تہران

۴۳۔ ارشاد المؤمنین (فارسی):

مضمون:

یہ غالباً ایک اجازت ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ حیدرآباد

۴۴ ۔ ارشاد نامہ(فارسی):

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ تہران

۴۵۔ رسالہ فی جمع و التفرقہ:

مضمون:

جمع اور تفرقہ کے مضمون پر صوفیائے متقدمین کے اقوال شامل ہیں۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ سراجیوؤ

۴۶ ۔ لمعات (فارسی):

مضمون:

نظم اور نثر میں پانچ صوفیانہ کتابچوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک کو لمعہ کہا گیا ہے۔ غالباً ان کی اصل ترکی ہے جو ترکی شاعر حقی آفندی کی تالیف ہے اور ’المجموعہ العرفانیہ‘ نامی کتاب میں شامل ہیں۔ اسے ہروی نے دوبارہ شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ تہران

۴۷۔ رسالہ مصباح اہل السنّہ(عربی):

دیگر نام:

منھاج البالغین

مضمون:

حضرت احمد غزالی ؒ کی کتاب منھاج العابدین الی الجنہ میں مندرج اقوال کا انتخاب ہے۔

۴۸ ۔ رسالہ نوریہ(فارسی):

دیگر نام:

۱۔ رسالۃ الانوار

۲۔ نور النور و سرور المطلع الاسرار المستور

دستیاب قلمی نسخے:

استنبول، اسلام آباد، تہران، نسخۂ عارف نوشاہی

مضمون:

اس اہم رسالے میں سلوک و ریاضت کی راہ میں دکھائی دینے والے انوار کا ذکر ہے۔ یہ رسالہ آپ کے مرید محمد خورد کی فرمائش پر لکھا گیا۔ مختلف محققین اسے شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ ، سید علی ہمدانی ؒ اور شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ سے منسوب کرتے ہیں۔ نسخۂ تہران اور نسخۂ اسلام آباد کو بنیاد بنا کر ایک نامکمل نسخہ ہروی نے شائع کیا ہے۔

۴۹۔ قدسیہ (عربی):

مضمون:

عالمِ امکان میں موجود اشیاء کا بیان ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۵۰ ۔ قدسیہ (عربی):

مضمون:

قلم و دواتِ علوی کے بارے میں ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۵۱۔ قدسیہ (عربی):

مضمون:

حواسِ ظاہری و باطنی سے متعلق ان حقائق پر مشتمل ہے جن کا انکشاف سمنانی ؒ پر صوفی آباد خداداد کے برج احرار میں عبادت کے دوران ہوا تھا۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۵۲۔ رجال الغیب:

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ ترکی

۵۳۔ سلوۃ العاشقین و سکتۃ المشتاقین:

دیگر نام:

۱۔ سلوۃ العاشقین

۲۔ سلوۃ العاشقین و سکینۃ المشتاقین

۳۔ سلوۃ العاشقین و سکۃ المشتاقین

۴۔ سکوت العاشقین

مضمون:

اس رسالے میں ذکر کی شرائط اور طریقوں کا بیان ہے اور شیخ علی لالاؒ، شیخ احمد جورپانی ؒ، شیخ مجددالدین البغدادی ؒ، اور شیخ ابوسعید بن ابی الخیر ؒ جیسے صوفیائے متقدمین کے اقوال درج کیے گئے ہیں۔ ہروی نے اس رسالے کا ایک ایڈیشن شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

حیدرآباد، تہران ترکی

۵۴۔ شر ح آداب البحث (عربی):

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ ترکی

۵۵۔ شرح فصوص الحکم:

دیگر نام:

۱۔ حواشی بر فتوحات

۲۔ مفتوحات الفتوحات

مضمون:

ابن عربی کی ’ فصوص الحکم‘ پر سمنانی ؒ کا تبصرہ ایک نہایت بیش قیمت کتاب ہے۔ بدقسمتی سے ایک نامکمل نسخے کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے جس پر کاشانی اور داؤدی قیصری کے کسی شاگرد نے مقدمہ لکھا ہے۔

۵۶۔ رسالہ شطرنجیہ(فارسی):

دیگر نام:

رسالہ در اسرار شطرنج

مضمون:

شطرنج کی بساط کی علامت استعمال کر کے بعض رموز ِ تصوف کا بیان کیا گیا ہے۔نجیب مائل ہروی نے شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

استنبول، کیمبرج، نسخۂ مؤلف، قاہرہ

۵۷۔ شروط ِ خلوت:

دیگر نام:

۱ ۔ رسالہ فی آداب الخلوہ

۲۔ رسالۃ التصوف فی آداب الخلوہ

۳۔ کتاب آداب الخلوہ

دستیاب قلمی نسخے:

تہران ، پیرس

۵۸۔ رسالہ فی طبقات الصوفیہ(فارسی):

مضمون:

صوفیا کے پانچ طبقات کا ذکر ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۵۹۔ تذکرۃ الاولیاء اﷲ تعالیٰ (عربی):

مضمون:

صوفیائے متقدمین کے ارشادات کا مجموعہ ہے جو شیخ ؒ کا جمع کردہ لگتا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ سراجیوؤ

۶۰۔ تذکرۃ ا لمشائخ(فارسی):

مضمون:

سلسلۂ کبرویہ کے ساتھ شیخ ؒ کی وابستگی کے مطالعے کے لیے اہم ہے۔ انزوا و خلوت، صبحات اور خصوصی خرقوں سمیت تصوف کے بہت سے سلسلۂ ہائے خرقہ و خلافت کا ذکر ہے۔ محمد تقی دانشپزوہ نے ادارت کی ہے اور نجیب مائل ہروی نے اس پر نظر ثانی کی ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ پیرس

۶۱۔ تنبیہ المریدین:

دستیاب قلمی نسخے:

نسخۂ ہائے تاشقند(دو نسخے)

۶۲۔ وارد (عربی):

مضمون:

اس بات سے بحث ہے کہ صوفی ہونا فقیر ہونے سے بہتر ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۶۳۔ وارد(عربی):

مضمون :

اس رسالے میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ ہر شے کے د و رُخ ہوتے ہیں۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۶۴ ۔ رسالۂ واردۂ قدسیہ (فارسی):

مضمون:

مختصر فلسفیانہ رسالہ ہے جس میں عالمِ امکان مظاہر کا بیان ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ قاہرہ

۶۵ ۔ وصایۂ اولیاء (فارسی):

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ ترکی

۶۶۔ وصایہ (عربی):

مضمون:

اس کتاب کے چار ابواب ہیں جن میں سے ہر ایک میں دس وصیتیں ہیں۔ ابواب کی فہرست یوں ہے:

۱۔ متعلق بہ خدمت

۲۔ متعلق بہ عزلت

۳۔ متعلق بہ صحبت

۴۔ متعلق بہ رضا و بقا

دوسرے باب کی دسویں وصیت میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ سالک کس طرح اپنے جاگنے کے اوقات کو گزارے اور کتنی دیر سوئے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ استنبول

۶۷ ۔ زین المعتقَد لزین المعتقدِ(فارسی):

دستیاب قلمی نسخے:

قونیہ، لندن

۶۸ ۔ من المعارف (عربی):

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ قاہرہ

۶۹ ۔ بلاعنوان (عربی):

مضمون:

یہ بلا عنوان رسالہ لفظ ’لطیفہ‘ سے شروع ہوتا ہے ۔ محمد جیران نے اسے نقل کیا ہے اور اواخر محرم ۷۹۲ھ کی تاریخ درج ہے۔ اس رسالے میں اہم صوفیانہ مضامین بیان کیے گئے ہیں جن میں ذاتِ حق کا بیان اور اس کائنات ِ مادی کے اﷲ تعالیٰ کی ذات، صفات اور افعال کے آئینے کے طور پر پیدا ہونے اور اﷲ تعالیٰ کے الزمان الآفاقی اور الزمان الانفسی کے پیدا کرنے کا بیان ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

استنبول

۷۰۔ بلاعنوان(عربی):

ممکنہ نام:

رسالۃ التوحید و معرفت العلم الدنی

دستیاب قلمی نسخہ:

استنبول، ایک مجموعہ ٔ رسائل میں شامل ہے جس پر صفر ۸۳۴ھ کی تاریخ درج ہے۔

۷۱ ۔ بلا عنوان(عربی):

مضمون:

’کشف‘ کی اصطلاح کی تشریح ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ استنبول

۷۲ ۔ بلا عنوان (عربی):

مضمون:

حرف ’الف‘ کی افضلیت کا بیان ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۷۳۔ بلاعنوان:

مضمون:

اس منتشر رسالے میں قلب اور روح کے سفر ِ باطنی کا ذکر ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حوالے سے تصوّرِ محبت پر زور دیا گیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۷۴ ۔ بلا عنوان (عربی):

مضمون:

حیاتِ سمنانی ؒ کے بعض واقعات کے بارے میں معلومات ہیں۔ سوانحی مواد کے علاوہ ان صوفیاء کی ایک فہرست بھی ہے جن سے سمنانی ؒ ملے یا جو آپ کے ممنونِ احسان ہوئے۔ تھیکسٹن نے شائع کیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخے:

قاہرہ، استنبول

۷۵ ۔ بلا عنوان (عربی):

دیگر ممکنہ نام:

۱۔ کشف سر التجلی

۲۔ التجلیات

مضمون:

ذکر کے دوران پیش آنے والی تجلیات کا ذکر ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۷۶ ۔ بلا عنوان (عربی):

مضمون:

جسمِ مادی پر ایک مختصر خطبہ ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۷۷۔ بلا عنوان (فارسی):

مضمون:

سلسلۂ کبرویہ کے صوفیائے متقدمین شیخ عمار بدلیسیؒ، شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ اور مجددالدین البغدادی ؒ کے حوالے سے ذکر خفی کے فضائل کا بیان کیا گیا ہے۔

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ استنبول

۷۸ ۔ بلا عنوان (فارسی):

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخہ تہران ، یہ رسالہ تقریباً پچاس صفحات کا ہے اور مظفر صدر نے اس کا آغاز و انجام مطالعۂ سمنانی ؒ پر مشتمل اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔

۷۹۔ بلا عنوان:

دستیاب قلمی نسخہ:

نسخۂ تہران

ج۔ مکاتیب:

۱۔ مکاتیب بہ شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ:

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کا حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ کے ساتھ سلسلہ مراسلت ان دونوں کی ابتدائی ملاقات سے لے کر ۷۱۷ھ میں مؤخر الذکر کی وفات تک جاری رہا۔ ان مکاتیب کی اکثریت کو ہر دو بزرگوں کے تعارفی مطالعے کے ساتھ ایچ لینڈولٹ نے شائع کیا ہے۔ یہ خطوط دو مجموعوں کی شکل میں جن کے نام ’مجموعۂ رسائل النور فی شمائل اہل السّرور ‘ اور ’ کتاب المکتوبات‘ ہیں۔ دو مزید خطوط جو اس سلسلۂ مراسلت کا حصہ ہیں اور برٹش میوزیم لندن میں الگ سے محفوظ ہیں، لینڈولٹ نے شائع کیے ہیں۔ یہ سلسلۂ مراسلت سمنانی ؒ کے سفرِ بغداد اورصفر ۶۸۹ھ میں سلسلہ ٔ کبرویہ میں شیخ ؒ اسفرائنی کے ہاتھ پر آپ کی بیعت کے بعد لیکن ’ مشارع ابواب القدس‘ اور ’ عروہ‘ کی تصنیف سے پہلے کا ہے۔

سمنانی ؒ اور اسفرائنی ؒ کے درمیان ہونے والی کچھ اور مراسلت درج ذیل قلمی نسخوں کی صورت میں محفوظ ہے:

نسخۂ برسہ، انقرہ، استنبول(دونسخے)، قاہرہ

۲۔ مکاتیب بنام عبدالرزّاق کاشانی:

ابن عربی کے افکار کے مشہور حامی کے ساتھ سمنانی ؒ کا مکالمہ آپ کے مجموعۂ کتب کا ایک اہم ذیلی حصہ ہے جس سے عقیدۂ وحدت الوجود کے بارے میں آپ کے نقطۂ نظر کا علم حاصل ہوتا ہے۔ کاشانی ؒ کے ساتھ ہونے والی مراسلت کے سلسلے کے دو خطوط اور دو خطوط کے جوابات کتابخانہ مجلس شوریٰ تہران میں محفوظ ہیں۔ یہ خطوط لینڈولٹ کے تنقیدی مطالعے کے ساتھ جرمن زبان میں شائع ہوئے ہیں۔ اس سلسلۂ مراسلت کے باقی حصے کتابخانۂ ملیٔ ملک تہران اور انڈیا آفس لائبریری لندن اور اشرف جہانگیری سمنانی ؒ کی کتاب ’لطائف ِ اشرفی‘ میں موجود ہیں۔ ان ماخذ میں سے ایک سلسلہ ٔ مراسلت کو ہروی نے شائع کیا ہے۔

۳ ۔ بنام حسن البلغاری:

ایک سلسلۂ مراسلت سمنانی ؒ اور حسن البلغاری کے درمیان ہے۔ اس کی تاریخ معلوم نہیں مگر یقینی طور پر ۶۹۸ھ میں بلغاری کی وفات سے قبل کا ہے۔

۴۔ جواب مکتوب بنام شیخ عبداﷲ:

شیخ عبداﷲ آپ کے مرید ہیں۔ اس کا نسخہ کتابخانۂ مجلس شوریٰ تہران میں ہے اور ہروی نے اسے شائع کیا ہے۔

۵ ۔ بنام تاج الدین کرکاری:

دینی اور درباری شخصیت تاج الدین کرکاری کے نام اس خط کے بعض حصے ’ روضات الجنان‘ میں نقل ہوئے ہیں۔

۶ ۔ بنام علی رامتینی:

اس مراسلت کا خلاصہ ’رشحات عین الحیات‘ میں موجود ہے۔

د۔ سمنانی ؒ سے منسوب کتب جو اب محفوظ نہیں:

۱۔ الفلاح فی مختصر شر ح السّنہ:

دیگرممکنہ نام:

مختار شرح السنّۂ بغوی

۲ ۔ رسالہ فی الفتوہ

۳۔ لب القوت لطّالب والوصول الی الحی ّالذّی لایموت

دیگر ممکنہ نام:

لب القوت

۴۔ مفاتیح الجِنان و مصابیح الجَنان:

دیگر ممکنہ نام:

مصابیح الجنان

۵ ۔ المقالات فی التّصوف

۶۔ موضح مقاصد المخلصین ومفضاخ عقائد المدعین

۷۔ مھجۃ التوحید

۸۔ المکاشفات المنقذمن الآفات

۹۔ واقعات الرّافعہ

… وہ کتب جن کا ذکر صرف سمنانی ؒ کی ’ مطاف الاشرف‘ میں موجود ہے۔

۱۰ ۔ دقیقہ فی حقیقت السلطنت

۱۱۔ فضیح اعتقاد الملحدین و توضیح رشاد المؤحّدین

۱۲۔ غرائب الرغائب للحاضر والغائب

۱۳۔ ابتھاج ذوی المعراج بالسراج الوضّاح

۱۴۔ رسالہ الانتباہ لللّٰہ عن اﷲ

۱۵۔ لب لب ذوی الالباب

۱۶۔ مجامع المنافی

۱۷۔ مناھج المؤمنین و مباھج المحبّین

۱۸۔ منتقد مطلع النقاط و ملتقط مجمع اللقات

۱۹۔ مستشھدات

دیگر ممکنہ نام:

مشاھدات

۲۰ ۔ نصوص جرد الاصطلاحات وفصوص حدود المقامات

۲۱۔ ریاض الافکار القدسیہ المرضیہ عن الافکار الانسانیہ

۲۲۔ تحذیر ذوی التّسخّر عن الاشتغالبیع الاسر دون الامر والقناعۃ بالیسیرعن الکثیر

۲۳۔ تخلیص النّفسعن سجن الحدس

۲۴۔ رسالہ الوقوف بین یدی الرّب الرّؤف العطوف

۲۵۔ الظّنون الّتی تعتی من فنون الجنون

سمنانی ؒ کی تفسیر ِقرآن

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی تفسیر نجم القرآن آپ کے افکار کے مطالعے کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ یہ تصنیف ’عروہ‘ کی مانند منظم اور مبسوط نہیں ہے اس تفسیر میں شیخ ؒ کے نظریۂ حیات و کائنات کے بارے میں واضح اور جامع بیانات صوفیانہ تعلیمات کی مثالوں کے ساتھ موجود ہیں۔ عروہ کے برعکس اس تفسیر پر بار بار نظر ثانی نہیں کی گئی ہے۔ یہ تفسیرجب شیخ ؒ کی تخلیقی فعالیت کے دور کی یادگار ہے جب آپ نے اپنے اکثر مبسوط رسائل تصنیف کیے اور اس میں بہت سے نظریات اور دلائل اپنی ابتدائی اور اصلی ہیئت میں موجود ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس تفسیر کا کچھ حصہ براہِ راست کشف و الہام کے زیر اثر لکھا گیا ہے۔

اس تفسیر کے ۲۷ نسخے مختلف لائبریریوں میں محفوظ ہیں۔ راقم کو دستیاب ہونے والے اولین نسخے جو نسخہ نمبر ۵۴ حکیمولو علی پاشا اور نسخہ نمبر ۱۶۵ شہت علی پاشا، سلیمانیہ کتفانیسی استنبول اور نسخہ نمبر ۱۳۲۵۹ الیپو، حافظ الاسد لائبریری دمشق کے ہیں اور ۷۵۸ھ/۱۳۵۷ء، ۷۷۹ھ/۱۳۷۷ء، ۷۸۰ھ/۱۳۷۸ء میں ضبط ِ تحریر میں لائے گئے ہیں اور مصنف کی وفات کی ایک نسل کے بعد کے ہیں۔تینوں نسخے بہترین حالت میں موجود ہیں۔ سمنانی ؒ کا خود نوشت نسخہ دستیاب نہیں ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا نسخہ نمبر ۵۴ حکیمولو اسی اصل نسخے سے نقل کیا گیا ہے۔ نسخہ نمبر ۱۶۵ صحت علی نسخہ نمبر ۵۴ حکیمولوسے براہ ِ راست نقل کیا گیا ہے اور جیسا کہ اس کے حواشی میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اس نسخے کا بعد میں اصل سے تقابل کیا گیا ہے۔

اس تصنیف کے مستند ہونے میں کسی قسم کی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ سمنانی ؒ نے خود ’ مطلع النقاط و مجمع الّقاط‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابتدائی دور کے تذکروں میں بھی شیخ ؒ کے مفسرِ قرآن ہونے کا بیان ملتا ہے۔ اس تفسیر کے مندرجات واضح طور پر اشارہ کرتے ہیں کہ یہ سمنانی ؒ ہی کی تصنیف ہے کیونکہ اس میں آپ کی دیگر تصانیف اور آپ کے بعض سوانحی واقعات کا بھی بیان ملتا ہے۔ طرزِ تحریر اور مواد دونوں یقینا شیخ ہی کے ہیں۔

تفسیر نجم القرآن کے زمانہ ٔ تصنیف کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور نہ اس کے نام کے بارے میں قطعیت کے ساتھ فیصلہ کیاجا سکتا ہے۔ اس تفسیر میں شیخ ؒ کا بیان ہے کہ انہوں نے یہ کام جادۂ تصوف پر قدم رکھنے کے بیس سال بعد شروع کیا تھا ، لیکن یہ بھی اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ شیخ ؒ کون سے سال کو اپنی ابتدائے سلوک کا زمانہ سمجھتے ہیں۔ تین ممکنہ سالوں میں پہلا ان کے اولین باطنی تجربے کا سال یعنی ۶۸۳ھ/۱۲۸۴ء ہے، دوسرا سال حضرت ِ اسفرائنی ؒ سے ان کی پہلی ملاقات کا یعنی رمضان ۶۸۶ھ/اکتوبر ۱۲۸۷ء اور تیسرا آپ کے سلسلۂ کبرویہ میں خرقۂ تصوف پانے کا یعنی صفر ۶۸۹ھ/فروری ۱۲۹۰ء کا سال ہے۔ اس لیے باور کیا جا سکتا ہے کہ سمنانی ؒ نے اپنی تفسیر کا آغازی ۷۰۳ھ/۱۳۰۴ء اور ۷۰۹ھ/۱۳۱۰ء کے درمیان کیا ۔ زمانۂ تصنیف کی قطعیت سے قطعِ نظر یہ امر واضح ہے کہ آپ نے اس تفسیر کا آغاز سلسلۂ کبرویہ سے وابستگی اور حضرت اسفرائنی ؒ سے ملاقات کے بعد ہی کیا۔

یہ تفسیر مختلف ناموں سے موسوم ہے جن میں مذکورہ بالا نام ’ مطلع النقاط و مجمع اللقّاط ‘ کے علاوہ ’ نجم القرآن‘ ، ’ التاویلات النجمیہ‘ ، ’ تفسیر بطن القرآن‘ ، جیسے نام شامل ہیں۔ ’نجم القرآن‘ اور ’ تفسیر نجم القرآن‘ کے نام تو اسی تفسیر کے اندر موجود ہیں۔ ’ مطلع النقاط و مجمع اللقّاط ‘ کا نام بھی شیخ ؒ نے خود استعمال فرمایا ہے لیکن یہ اس تفسیر کے مقدمے کا نام ہے اور اصل تفسیر سے جداگانہ لکھا گیا ہے۔ اس تفسیر کا آغاز سورۃ نمبر ۵۲ یعنی سورۃ الطور سے کیا گیا ہے اور بظاہر یہ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی آغاز کردہ تصنیف کا تسلسل ہے ۔ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ سورۃ نمبر ۵۱ یعنی سورۃ الذّاریات کی سترھویں اور اٹھارہویں آیات کی تفسیر مکمل کرنے سے قبل ہی وفات پا گئے تھے۔ اس لیے اس تفسیر کا نام ’التّاویلات النّجمیہ‘ دراصل حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی آغاز کردہ تفسیر کا ہے۔ ’نجم القرآن‘ کا نام بھی دراصل شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ ہی کے اسم ِ گرامی سے ماخوذ ہے۔ اس نام میں ’قسط‘ کے مفہوم کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جزوی تفسیر ہے۔ اسی طرح ’نجم‘ کے معنی ستارہ بھی ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس تفسیر میں قرآن مجید کی اہم خصوصیات اور اہم آیات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ’ نجم القرآن‘ کے نام پر ان تمام مفروضوں کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ سورۃ ۵۱ آیت ۱۹ تک یہ تفسیر محض حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ نے لکھی یا آپ اور شیخ دایہؒنے مل کر لکھی۔ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی تفسیر کے مختلف نام ’ عین الحیات‘ ، ’ العوارف‘ اور ’بحر الحقیقۃ‘ ہیں۔ انہی ناموں سے موسوم ایک تفسیر شیخ نجم الدین دایہؒ سے بھی منسوب ہے۔ دوسری جگہ یہ بھی مرقوم ہے کہ یہ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی تفسیر کا نام ’ بحر الحقیقۃ ‘ ہے جسے آپ کے تلمیذ یا مرید دایہ نے مکمل کیا ۔

یہ ممکن ہے کہ شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی نامکمل تفسیر کو حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ اور شیخ دایہ ؒ دونوں نے اپنے اپنے طور سے پایۂ تکمیل کو پہنچایا۔ اس حقیقت کی روشنی میں کہ بعض نسخوں میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ سورۃ ۵۱ آیت ۱۹ تک یہ تفسیر شیخ دایہ نے لکھی ، یہ بھی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ شیخ ؒ دایہ نے حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی تفسیر پر نظر ثانی کی جس کے بعد اس نسخے کو نقل کرنے والوں نے اسے شیخ دایہ ؒ کی تصنیف قرار دیا۔

اگرچہ اس تفسیر کا آغاز اس سورت کے بعد ہوتا ہے جس پر حضرت کبریٰ ؒ کی تفسیر ختم ہوتی ہے ، سمنانی ؒ کی تفسیر ایک آزادانہ تحریر ہے جو طرز اور مواد میں حضرت کبریٰ ؒ کی تفسیر سے الگ ہے۔ آپ نے اپنے کام کا آغاز عین اس مقام سے نہیں کیا جہاں شیخ کبریٰ ؒ کی تفسیر ادھوری رہ گئی تھی بلکہ اگلی سورت یعنی سورۃ الطّور سے اس تفسیر کی ابتدا کی ہے۔ تفسیرکے متن سے پہلے ایک طویل مقدمہ اور سورۃ فاتحہ کی تفسیر ہے۔ سمنانی ؒ کے مقدمے میں اس کام کے مطمحِ نظر اور طریقِ کار کی مکمل وضاحت کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک طویل تفسیر لکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس مقدمے میں کام کی جس نوعیت کا عندیہ ملتا ہے اصل تفسیر مواد اور طرزِ تحریر میں اس سے مختلف ہے۔ اسی طرح مقدمے میں جس عظیم الشان منصوبے کا اشارہ ملتا ہے اصل تفسیر اس لحاظ سے خاصی مختصر ہے۔ اس تفاوت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’ مطلع النقاط و مجمع اللقّاط ‘ اس مقدمے کا ہی نام ہے جبکہ اصل تفسیر بعد میں لکھی گئی۔

سمنانی ؒ نے آیت بہ آیت تفسیرکی ہے ۔ آپ نے کسی آیت کو نظر انداز نہیں کیا البتہ بعض کی تفسیر سرسری انداز میں ہوئی ہے۔ ایسے موقعوں پر آپ یا تو محض سادہ نثر میں وضاحت کرتے ہیں یا قواعد سمجھاتے ہیں یا فارسی شعر میں کسی چھوٹے نکتے کی وضاحت کرتے ہیں۔ جبکہ بعض قرآنی آیات کی آپ طویل اور سیر حاصل تفسیر کرتے ہیں اور فلسفیانہ ، صوفیانہ ، فقہی اور دینی موضوعات زیر ِ بحث لاتے ہیں۔ یہ بات واضح نہیں کہ شیخ ؒ کے ذہن میں کوئی طے شدہ نظریہ یا فکر تھا جسے انہوں نے اپنی تفسیر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہو۔ بہر طور آیت ِ قرآنی کی جو پیچیدہ شرحیں انہوں نے کی ہیں وہ بعینہٖ ان کے باطنی تجربات کی عکاسی کرتی ہیں۔ پس صوفیانہ تفسیر کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔

تفسیر نجم القرآن دو شکلوں میں ملتی ہے، ایک آزادانہ طور پر اور دوسری شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی تفسیر کے ساتھ ملحق۔ اولین نسُخے پہلی شکل پر ہیں جن میں مقدمہ ، سورۃ الفاتحہ اور سورہ نمبر ۵۲ تا ۱۱۴ کی تفسیر شامل ہے۔ یہ حقیقت کہ اس تفسیر کو کبروی تفسیر کے تکملے کے طور پر نہیں لکھا گیا تھا اس خیال کی مؤید ہے کہ سمنانی ؒ کی تفسیر ایک آزاد تحریر ہے۔ وہ اولین نسخہ جس میں یہ تفسیر شیخ کبریٰ ؒ کی تفسیر کے ساتھ یکجا ہے ۹۰۷ھ/۲۔۱۵۰۱ء کا ہے۔ اس شکل میں بعض نسخوں میں مقدمہ اور سورۃ الفاتحہ کی تفسیر موجود نہیں ہیں۔ شیخ کبریٰ /شیخ دایہؒ اور شیخ سمنانی ؒ کے تفاسیر کے مقام ِ اتصال پر عموماً درج ذیل بیان ملتا ہے۔

’’ مصنف علیہ الرحمہ اس مقام پر خالقِ حقیقی سے جاملے ۔ اﷲ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ اس تفسیر کو شیخ ؒ کے شاگرد علاؤالدولہ ؒ نے مکمل کیا ۔ اﷲ تعالیٰ ان دونوں پر رحم فرمائے۔ ‘‘

تفسیر نجم القرآن کے درجِ ذیل نسخے تاحال موجود ہیں:

ذخیرۂ بخارا سینٹ پیٹرزبرگ (روس)، نسخۂ حکیمولو علی پاشا ، استنبول، نسخۂ حافظ الاسد لائبریری دمشق، نسخۂ شہت علی پاشا استنبول، نسخۂ منیسا (ترکی)، نسخۂ خیر اﷲ آفندی استنبول، نسخۂ ترخان استنبول، نسخہ مرات مولا استنبول، نسخہ حمیدیہ استنبول، نسخۂ غازی ہسرو بیگوا سراجیو، نسخۂ کتابخانۂ ملی تہران(ایران) ، نسخہ حلت آفندی استنبول، نسخۂ بایزید دولت استنبول، نسخۂ دارلکتب قاہرہ (مصر)، نسخۂ حسن خیری استنبول، نسخۂ دمت ابراہیم پاشا استنبول، نسخۂ محمود آفندی استنبول، نسخۂ کلیچ علی پاشا استنبول، نسخۂ شہت علی پاشا استنبول، نسخۂ باسل، نسخۂ برلن(جرمنی)، نسخۂ دارالمثنوی استنبول، نسخۂ اسد آفندی استنبول، نسخۂ ذخیرۂ قاسم غنی، نسخۂ ظہریہ حافظ الاسد لائبریری دمشق، نسخۂ بایزید دولت استنبول۔٭

(نوٹ: ان نسخہ جات کی مکمل تفصیل کے لیے اصل کتاب سے رجوع کیا جائے یا مترجم سے رابطہ کیا جائے۔)

{تمت بالخیر}