حضرت شیخ معروف کرخی جس مسجد میں اپنے پروردگار کی درگاہ میں عبادات انجام دیتے تھے۔ وہ مسجد معروف الکرخی کے نام سے معروف تھی۔ چنانچہ اس وقت سے اسی مسجد میں آپ کا آستانہ موجود ہے۔ یہ مسجد بغداد کی پرانی اور قدیم مسجدوں میں تھی۔ یہ اب تک باب الدیر کے قبرستان میں قائم تھی۔ اور اس پر ’’مسجد الجنائز‘‘ کا نام لکھا تھا یا ’’مسجد باب الدیر‘‘۔ اوّل الذکر زیادہ صحیح اور قریب المعنی لگتا ہے۔ چونکہ یہ قبرستان میںموجود ہے۔ جس میں اموات پر نماز پڑھی جاتی تھی۔
خطیب بغدادی نے ابی بکر بن احمد بن اسحاق البذار المتوفی ۳۰۵ھ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسجد دیر میں حضرت معروف کا جنازہ پڑھا گیا۔ یہ ذوی الحجہ کی بیسویں رات کا واقعہ ہے۔ جو کہ سن تین سو پانچ ہجری میں ہونا ثابت ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ یہ باب دیر پہلے تعمیر شدہ تھی اور حضرت شیخ معروف الکرخی کی وفات کے بعد مزید توسیع کی گئی۔ اور اس کی تعمیر کا کام کئی بار ہوا ہے۔ اور سب سے آخری مرتبہ اس کی توسیع وتعمیر کا کام ۶۱۲ہجری کو ہونا ثابت ہے۔ یہ تاریخ موجودہ قائم منارہ کے اندر مرقوم ہے۔ اور اسے بنانے کا اصل سبب یہ بتاتے ہیں۔ کہ اس مسجد کے احاطے میں امیر علی بن الخلیفہ الناصر الدین اللہ جو سن ۶۱۱ہجری کو فوت ہوا بھی مدفون تھا۔ اور اس کی آخری تعمیر نو جو جدید طرزِ تعمیر کے ساتھ کی گئی ۱۳۱۲ہجری کو وزیر حسن پاشا والی بغداد نے کی۔ یہ تاریخ اس کے صدر دروازہ کے بالائی حصہ پر مرقوم ہے۔ موجودہ دور میں یہ تاریخی عمارت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ عباسی دورکی شاندار اور مہارت فنِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ اسے آج بغداد کے اہم تاریخی آثار میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ عمارت تاریخ بغداد کے پڑھنے والوں کے لئے سبق دیتی ہے اور تاریخی ورثے کے طور پر معلومات فراہم کرتی ہے۔(240)
شیخ معروف کے روضہ کی نچلی منزل میں ایک تہہ خانہ بھی ہے جس کی گہرائی چار میٹر کے برابر ہے۔ اس سے نیچے ایک کنواں ہے جس کی دیواریں پتھر سے چنی ہوئی ہیں ۔ اس کی گہرائی پانچ سے چھ میٹر تک ہے اور یہ تہہ خانہ ایک اور کھو پر ختم ہوتا ہے جس کی لمبائی زمین کی نامعلوم تہہ تک جاپہنچتی تھی جسے ادارہ محکمہ اوقاف نے 1951ء میں ٹنوں مٹی کا ملبہ ڈال کر بند کردیا۔ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تہہ خانہ آپ کا زاویہ تھا جو مسجد کے اندرونی حصے میں موجود تھا اس میں حضرت شیخ معروف آخری عمر میں بھی چلہ کشی کیا کرتے تھے (مقدمہ مناقب معروف)۔
عبداللہ الجبوری نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسجد معروف سے پہلے یہاں جنازہ گاہ تھی جہاں اموات کی نماز جنازہ پڑھی جاتی رہی اور قبرستان تھا جہاں مردے دفنائے جاتے تھے جس کی خاطر معروف سے پہلے کے کسی فرد شبیر البندارالمتوفی ۳۰۵ھ کے جنازے کا ذکر کیا ہے کہ اس کا جنازہ یہاں پڑھایا گیا۔ میرے اندازے کے مطابق الجبوری کو ۳۰۵ ہجری لکھنے میں سنگین غلطی ہوئی ہے وہ مسجد معروف جدید اور جامع دیر یا مسجد الجنائز کو قدیم بتانا چاہتا ہے جبکہ حضرت معروف کا انتقال ۲۳۴ ہجری میں ہوا ہے اور ۳۰۵ ہجری کا واقعہ کیسے پرانا ہوا؟ ہاں اگر یہ سن ۲۳۴ ہجری سے پہلے ۲۰۵ یا ۱۰۵ ہجری ہے تو اس کا قدیم قبرستان ہونا ثابت ہوتا ہے۔