انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے ۔ مرکباتِ سفلیہ جیسے نباتات و حیوانات اور مرکباتِ علویہ جیسے فرشتے اور جن دونوں ہی خلقت کے اعتبار سے ناقص ہیں کیونکہ ان میں عوالم ِ علویہ و سفلیہ کے عناصر کا امتزاج موجود نہیں ہے۔ انسان کا درجہ اس لیے برتر ہے کہ اس کی خلقت میں ہر دو عوالم کے عناصر شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان روئے زمین پر تجلیاتِ الٰہی کے تمام مراحل کا نمائندہ ہے اور اس حدیثِ شریف کے مطابق کہ ’’ اﷲ تعالیٰ جل شانہ‘ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر خلق فرمایا‘‘ ، انسان احسن التقویم کاشاہکار ہے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کا بھی دیگر صوفیاء کی طرح یہ عقیدہ ہے کہ انسان کے اﷲ تعالیٰ کی صورت پر پیدا کیے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وجودِ انسانی صفاتِ الٰہیہ کا حامل ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خاتم التراکیب کا منصب عطا کیا گیا ہے اور اسے وہ امانتِ علم عطا ہوئی ہے جس کے بل بوتے پر وہ معرفتِ ذاتِ الٰہی کا اہل قرار پاتا ہے۔ وجودِ انسانی وہ برزخ ہے جس کے ذریعے قوائے علوی و نورانی اور قوائے سفلی اور ظلمانی کی تفریق ہو تی ہے۔ ساتھ ہی وجودِ انسانی ان دو قسم کی قوتوں میں اتحاد کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ وہ علوی قوتوں سے کثیف تر اور سفلی قوتوں سے لطیف تر ہے۔ اس اعتبار سے وجود ِ انسانی کونچ یا وتر کی طرح ہے جو عضلات کو ہڈیوں سے ملانے کے کام آتاہے ا ور اس کے بغیر جسمِ انسانی کی ترکیب ممکن نہیں ہوتی۔

بوقت ِ تخلیق انسانی جسم کے اندر امانتِ الٰہی کا بار اٹھانے کی قابلیت ودیعت کی گئی ہے لیکن صوفیانہ ریاضت و مجاہدہ سے ہی اس کا بالفعل اظہار ممکن ہے۔ ظاہری اعتبار سے تو انسان دیگر حیوانات کی طرح محض ایک جانور ہے اگرچہ وہ اس اعتبار سے بھی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ ظاہری جسم چار عناصر سے مرکب ہے۔ نفسِ ارضی، قلبِ آبی، سرّ ِ ہوائی اورروحِ آتشی۔ ترکیب کے اعتبار سے انسانی جسم حیوانوں سے مماثل ہے اور انہی کی طرح اس پر خواہشات اور قوائے شہوانی کا غلبہ ہے۔ نورِ روحانی کی عدم موجودگی میں وجودِ انسانی کے یہ چار عناصر اپنے فطری تقاضوں کے حامل ہوتے ہیں۔ پس نفس پستی اور سستی کی طرف راغب ہوتا ہے۔ قلب کا میلان خواہشات اور تفکّرات کی طرف ہوتا ہے۔ سِرّ جذبہ اور خود پسندی کا رجحان رکھتا ہے اور روح تکبر اور غضب کی حامل ہوتی ہے۔ جب جسمِ انسانی نورِ روحانی کا حامل بن جاتا ہے تو ان میلانات کی اصلاح ہو جاتی ہے اور زہد و تقویٰ کا باعث بننے والی خصوصیات کا ظہور ہوتا ہے ۔ چنانچہ نفس پستی کی بجائے تزکیہ اور سستی کی بجائے ثابت قدمی کا حامل بن جاتا ہے۔ قلب فکرِ آخرت کا حامل بن جاتا ہے اور اخروی نعمتوں کے خیال سے شادمان رہتا ہے۔ سِرّ محبتِ الٰہی کا حامل بن جاتا ہے اور عبادت ِ الٰہی میں مصروف رہتا ہے اور روح میں تکبر کی بجائے ترحّم اور غضب کی جگہ جوش و ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ قلبِ ماہیت دراصل جسمِ روحانی کے ارتقاء کی صورت میں رونما ہوتی ہے جو عالمِ روحانی میں عالمِ جسمانی کے مادی جسم کا قائم مقام ہے۔ یہ جسم ِ روحانی علوی عناصر سے تشکیل پاتا ہے اور سات لطائف پر مشتمل ہے جو عالمِ جسمانی میں اپنا وجود رکھتے ہیں اور مادی جسم کے فنا پذیر ہونے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ یہ لطائف درجہ بدرجہ تکمیل حاصل کرتے ہیں اور یہ ارتقاء وجودِ انسانی کی عظیم ترین روحانی منزل کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔

جسمِ روحانی کی ماہیّت

مذکورہ بالا ارتقاء کا پہلا نتیجہ لطیفۂ قالبیہ ہے جو دس علوی عناصر اور سفلی عناصر کے ملاپ کے نتیجے میں تشکیل پانے والے مادی جسم پر عرش اور کرسی کی تجلیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ اس لطیفہ کے مادی وجود پر حاوی ہونے کے باعث انسان دیگر حیوانا ت سے ممیز ہو جاتا ہے۔ یہ وہ وحشی انسان یا انسانِ آفاقی ہے جو تہذیب و تمدن سے بے خبر جنگلوں اور ویرانوں میں رہتا ہے اور دیگر حیوانات سے محض اپنی قوت ِ گویائی کے باعث ممتاز ٹھہرتا ہے۔ یہ لطیفہ اس رحَم کا بھی نام ہے جس میں بدنِ مکتسب کا جنین پرورش پاتا ہے اور جو فانی مادی جسم کے فنا پذیر ہونے کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔

اس سلسلے کا دوسرا نتیجہ لطیفۂ نفسیہ ہے جو کرسی اور لوح کی غالب تجلیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لطیفہ کے نتیجے میں وجود ِ انسانی ایسے شعور ووجدان کا حامل بن جاتا ہے کہ وہ انسانِ کافر کے مرتبے میں آجاتا ہے ، جو انسانی معاشرے کے معاشرتی اور سیاسی قوانین کی پاسداری کرنے کے باوجود کفر و شرک پر قائم رہتا ہے اور اس کا شعور و وجدان ظلمت کا اسیر رہتا ہے۔

تیسرا مرحلہ لطیفۂ قلبیہ کا ہے جو لوحِ عقل کی غالب اور مدادِ محمدیؐ کی مغلوب تجلیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لطیفہ کا حامل جسمِ اکتسابی کی ظلمت سے پاک ہو جاتا ہے جو اس کی ظلمتِ فطرت سے ہی رخصت ہو جاتی ہے۔ ظلمتِ کفر کی جگہ وہ نورِ ایمان سے بھر جاتا ہے اور ایسا مسلمان بن جاتا ہے جو ایک عام مہذب کافر سے جداگانہ شناخت کاحامل ہوتا ہے۔

بقیہ چار مراحل تکمیلِ روحانی سے وابستہ ہیں اور روحانی ارتقاء کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ چوتھی منزل لطیفۂ سرّیّہ کی ہے جو لوحِ عقل اور مدادِ محمدی ؐ کی غالب اور دواتِ محمدیؐ کی مغلوب تجلیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لطیفہ کا حامل وہ مؤمن ہے جو نورِ ایمان سے مالامال ہو اور جس کے جسمِ اکتسابی کو تلوّن سے نجات مل چکی ہو۔

پانچواں مرحلہ لطیفۂ روحیہّ کا ہے جو لوحِ عقل ، مدادِ محمدیؐ اور دواتِ محمدیؐ کے غالب اور قلمِ خفی کی مغلوب تجلیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ لطیفہ ایک عام مؤمن کو درجۂ ولایت کا حامل بنا دیتاہے۔

چھٹا مرحلہ لطیفۂ خفیّہ کا ہے جو قلمِ خفی اور دیگر عناصر ِ علوی کے غالب نقطۂ واحدیّہ کی مغلوب تجلیات کے نتیجے میں وجود پذیر ہوتا ہے۔ یہ لطیفہ نبی ؐ کو ولی سے ممتاز بناتا ہے۔

آخری نتیجہ لطیفۂ حقیقیّہ ہے جو نقطۂ واحدیّہ کی غالب اور نقطۂ احدیّہ کی مغلوب تجلیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لطیفہ کا حامل حقیقتِ محمدیہؐ سے آگاہ ہوتا ہے جو خاتمِ نبوّت ہے اور کمالِ انسانی کا نقطۂ آخر ہے۔

وجودِ انسانی کے عالمِ روحانی میں مندرجہ بالا سات مراحل کی درجہ بندی عالمِ محسوسات میں سات انبیاء کرام علیہم السلام کی موافقت سے ہے۔ وجود کے اندر یہ پیغمبر ان مراحل کی درجہ بدرجہ علامت بنتے ہیں۔ جس طرح تاریخِ انسانی میں ان سات پیغمبروں کا ظہور انسانی معاشرے کے ارتقاء کے مختلف مدارج پر ہوا اسی طرح عالمِ روحانی میں بھی یہ سات پیغمبر ارتقاء و تکمیلِ روحانی کے مختلف مدارج کی علامت بنتے ہیں۔

چنانچہ پہلا مرحلہ یعنی لطیفۂ قالبیہ انسان کے وجودِ مادی کا نمائندہ ہے جو تخلیق کا ماحصل ہے۔ یہ مادی جسم انسان کے اکتسابی روحانی جسم کا گویا سانچہ ہے۔ مراحلِ ارتقاء میں اولیّت کی بنا پر اس لطیفہ کو وجودِ انسانی کا آدم ؑ کہا جاتا ہے۔

دوسرا مرحلہ لطیفۂ نفسیہ کا ہے۔ یہاں نفس سے مرا د وہ نفسِ امّارہ نہیں جو شہوت اور ہوائے نفسانی کا خوگر ہے اور بدی کا طرف مائل کرتا ہے بلکہ یہ ایسا نفس ہے جو جسمانی دنیا میں مصائب و شدائد کا شکار رہتا ہے اور ساتھ ہی جسم کا زمامِ اختیار بھی سنبھالتا ہے اور اس کے مقابل آکر اس کی فطری بے ترتیبی کو بھی روکتا ہے اسی طرح جیسے حضرت ِ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کا سامنا کیا تھا۔ اس لیے اس لطیفہ کو وجودِ انسانی کا نوح ؑ تصور کیا جاتا ہے۔

تیسرا درجہ لطیفۂ قلبیہ کا ہے۔ یہ وہ صدف ہے جس میں درّ ِ لطائفِ عینیہ یعنی کامل وجود ِ انسانی کا موتی پرورش پاتا ہے۔ اس طرح یہ ایسا آبائی لطیفہ بھی ہے جس کے صلب میں دیگر لطائف کی نسلیں پرورش پاتی ہیں۔ اس کی مثال حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی ہے جن کے صلب سے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پیدا ہوئے اس لیے اس لطیفہ کو وجودِ انسانی کا ابراہیم ؑ سمجھا گیا ہے۔

چوتھے مرحلے میں لطیفۂ سرّیّہ ہے جو خدا تعالیٰ سے مناجات یعنی براہِ راست رابطے کی علامت ہونے کی وجہ سے وجودِ انسانی کا موسیٰ ؑ کہلایا گیا ہے ۔

پانچویں درجے پر لطیفۂ روحیّہ ہے ۔ چونکہ روحِ انسانی مملکتِ جسمِ انسانی کے اندر خدا کا خلیفہ ہے چنانچہ اسی طرح کے خرقۂ خلافت کے حامل ہونے کی بنا پر اس لطیفہ کو وجودِ انسانی کا داؤد ؑ کہا گیا ہے۔

چھٹا مرحلہ لطیفۂ خفیّہ کا ہے ۔ روح القدس کی مدد سے یہ لطیفہ تمام اممِ لطائف ساتویں اور آخری مرحلے یعنی لطیفۂ حقیقیّہ کا مژدہ سناتاہے۔ اس حقیقت کی بنا پر اسے وجودِ انسانی کے عیسیٰ ؑ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ساتواں درجہ لطیفۂ حقیقیّہ کا ہے یہ اسی طرح لطائف کا آخری درجہ ہے جس طرح حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم خاتم النبیّین ہیں۔ اس لطیفہ تک رسائی کے ساتھ حقیقت کا مکمل کشف حاصل ہوتا ہے۔ مقدمہ تفسیر القرآن میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ حقیقت الحقیقت کا روشن علامات کے ساتھ ظہور جو تیرے وجود کا محمدؐ ہے ان تمام حقائق کی نقاب کشائی کرتا ہے جو عناصرِ علویہ و سفلیہ میں مخفی ہیں اورجو لطائف ِ جسمانی اور اس کے مرکباتِ تخلیق اور نفس ، قلب، سرّ، روح اور خفی کے لطائف میں موجود حکمِ الٰہی کا امتزاج ہیں۔ ‘‘

ہفت اقلیمِ عالمِ روحانی

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ مذکورہ بالا سات لطائف کو ہفت اقلیم اور ان کے مجموعے کو جنت الوجود قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے ہر اقلیم کو ایک حجاب یا پردہ دیگر اقالیم سے الگ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ہر اقلیم کا ایک بادشاہ ہوتا ہے جو اس کے باسیوں پر حاکم ہوتا ہے۔ پہلا پردہ جسم ِانسانی کا ہے جو اقلیمِ جن کے اوپر ہے جس کا حاکم شیطان ہے۔ دوسرا پردہ صدر یا سینہ کا ہے جو اس اقلیم پر ہے جس کا حکمران نفس ہے۔ تیسرا پردہ، جو قلب ہے اور اقلیمِ قلبِ روحانی پر ہے۔ چوتھا پردہ جنت القلب ہے جس کے پیچھے موجود اقلیم پر سرّ کی حکمرانی ہے۔ پانچواں پردہ مہجا ہے جو اقلیمِ روح کو چھپائے ہوئے ہے۔ چھٹا پردہ سویدا ہے اس کے عقب میں وہ اقلیم ہے جہاں خفی کا اظہار ہوتا ہے۔ ساتواں اور آخری پردہ غیب الغیوب ہے جو مقامِ ابد ہے اور جہاں تمام بادشاہوں کا بادشاہ جلوہ گر ہوتا ہے اور یہ سلطنتِ حقیقت ہے جہاں تک سالک کی رسائی اﷲ تعالیٰ کے عطا کردہ باطنی تجربے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ان باطنی اقلیم میں سے ہر ایک میں ایک باطنی مخلوق آباد ہے جسے قوّہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ سات جسمانی اقالیم میں آباد انسانوں کی قائم مقام ہے۔ جس طرح اقالیمِ جسمانی میں نیک اور بد انسان آباد ہیں اسی طرح اقالیمِ روحانی میں بھی خیر وشر کی قوتیں موجود ہیں۔ وہ قوتیں جو مستقلاً متوازن رہتی ہیں اہلِ تقویٰ ہیں ، وہ قوتیں جو مستقلاً غیر متوازن رہتی ہیں وہ اہلِ کفر ہیں اور وہ قوتیں جو توازن اور عدم ِ توازن کے درمیان بھٹکتی رہتی ہیں اہلِ نفاق ہیں۔ ابتداء میں ایمانی قوتیں بھی ہوا و ہوس کی طرف مائل ہوتی ہیں اور جسم اور نفسِ رذیلہ کی کی قوتوں کی طرف کشش محسوس کرتی ہیں۔ تاہم اگرچہ وہ حکم الٰہی کے معنی سے بے خبر ہوتی ہیں ، وہ اپنے متعلقہ لطائف کی (جو عالمِ محدود کے کسی پیغمبر ؐ سے وابستہ ہوتے ہیں )، شدّ و مد کے ساتھ پیروی کرتی ہیں۔

ان سات اقالیم میں آباد مخلوق میں سے بعض قوتیں متعلقہ مخصوص لطیفہ کے فطرتِ حقیقی کے قریب ترین پہنچ جاتی ہیں۔ ان قوتوں سے ایک پیغمبر تشکیل پاتا ہے جو ان قوتوں کو اس مذہب کی طرف بلاتا ہے جو اس مخصوص لطیفہ کی تجسیم سے پیدا ہوتا ہے۔ طبعی دنیا میں یہ وہ صورت حال ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام نے ایک دین قائم کیا اور حضرت نوح علیہ السلام تک آنے والے انبیاء اسی کی تبلیغ کرتے رہے۔ جب یہ دورِ نبوت حضرت نوح علیہ السلام تک پہنچا تو آپ نے اپنے زمانے کے دینی ارتقاء اور لوگوں کے عقل و شعور کے اعتبار سے ایک نئی شریعت نافذ کی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے انبیاء اسی شریعت کے مطابق انسانی معاشرے کو دین کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے۔ آپ کے بعد آنے والے پیغمبر آپ کی شریعت کے مطابق دین کی تبلیغ کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے جن پر توریت نازل ہوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کے دور تک انبیاء نے شریعتِ موسوی کی تبلیغ کی یہاں تک کہ حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور نازل ہوئی۔ چنانچہ اقلیم ِ روحانی کے مثالی لطائف اور ان کے بعد آنے والی خیر اور تقویٰ کی قوتیں جو ان مثالی لطائف کے قوانین پر عمل پیرا رہیں ، عالمِ جسمانی میں ان کی مثال وہ رُسُل ہیں جنہوں نے کتبِ الٰہامی کی بنیاد پر ایک خاص شریعت نافذ کی اور ان کے بعد انبیاء اس شریعت کے مطابق اہلِ عالم کی رہنمائی کرتے رہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد کے پیغمبر سنتِ داؤدی پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے اور آپ نے خاتم النبییّن حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت دی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبی انجیل ِ مقدس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کردہ شریعت پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ آخرکار حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے۔ آپ کی شریعت گزشتہ تمام شریعتو ں کی ناسخ ہے اور یہی حال آپ کی وحی اور الہام (یعنی قرآن مجید ) کا ہے۔ سلسلۂ نبوت اختتام کو پہنچا اور حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی علیہ السلام کی امت کے علماء کو وہ منصب عطا ہوا جو گزشتہ انبیاء کا تھا یعنی شریعت ِ محمدیہ ؐ کی روشنی میں اہلِ عالم کو صراطِ مستقیم کی طرف دعوت۔

پس تاریخِ انسانی یا عالمِ مادی میں ان سات پیغمبروں کی مثال لطائفِ عالمِ روحانی کے سات پیغمبروں کی سی ہے۔ دونوں طرح کے پیغمبر اپنی اپنی قوم کی ایک مخصوص شریعت کے تحت راہِ رہنمائی کرتے ہیں۔ مقدمہ تفسیر القرآن میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ سو جو کچھ تم نے کتاب (قرآن مجید) میں حضرت آدم علیہ السلام کو خطاب کے پیرائے میں سنا اسے عالمِ روحانی کے لطیفۂقالبیہ کے ذریعے بھی سنو اور نفس کو جن اوامر و نواہی کا حکم ہے عالمِ جسمانی کی مثال کے مطابق ان کی پیروی کرو ۔ یقین رکھو کہ اس کتاب کی باطنی جہت عالمِ روحانی میں تمہاری اسی طرح رہنمائی کرتی ہے جس طرح اس کی ظاہری جہت نے عالمِ ظاہری میں آدم علیہ السلام کی رہنمائی کی تھی۔‘‘

حضرت آدم علیہ السلام کی مذکورہ بالا مثال کی طرح قرآن پاک میں حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے بھی جو خطاب کیا گیا ہے ان کو بالترتیب لطائفِ نفسیہ، لطائفِ قلبیہ، لطائفِ سرّیّہ، لطائفِ روحیّہ اور لطائفِ خفیّہ کی مدد سے سننا چاہیے۔ ان انبیاء علیہم السلام کی وساطت سے یہ لطائف عالمِ روحانی کے اعلیٰ مراتب کی طرف انسان کی رہنمائی کرتے ہیں اور آخر کار وہ مرحلہ آجاتا ہے جسے لطیفۂ حقیّہ سے تعبیر کیا جاتا ہے جو دراصل حقیقتِ محمدیہؐ ہے اور دیگر تمام لطائف اور ان سے متعلق قوتوں کا رہنما ہے۔

لطیفۂ قالبیہ سے جس کی تطبیق حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ہے، سے لے کر لطیفۂ حقیّہ تک جس کا تعلق حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے ، لطائفِ عالمِ روحانی میں بتدریج اعلیٰ مراتب کی طرف سفر، جس میں ہر مرحلے پر نئے لطائف کی نقاب کشائی ہوتی ہے دراصل سالک کے روحانی ارتقاء کو ظاہر کرتا ہے۔ ان میں سے ہر مرحلہ سابقہ مرحلے سے برتر اور عظیم تر ہے اور کسی مرحلے کا شعورِ عین اس مرحلے کو طے کرنے اور اگلے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ شیطان کے عالم ِ جسمانی کی نوعیت کو سمجھنا نگاہِ نفس کے بغیر ممکن نہیں اور عالمِ نفس کو سمجھنا نگاہِ قلب کے بغیر ممکن نہیں۔ عالمِ جسمانی کی طرح عالمِ روحانی میں بھی سالک ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں صرف اسی وقت داخل ہو سکتا ہے جب وہ اس کے لیے تیار ہو اور متعلقہ علمِ باطنی کے ادراک کی قابلیت کا حامل ہو چکا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اگر کسی شخص پر جو اہلیت نہ رکھتا ہو، حقائق کا انکشاف ہو تو وہ اسے برداشت نہیں کر پائے گا۔ ہر شخص کی قابلیت اور استعداد کا علم اﷲ تعالیٰ کو ہے اور وہی اس لحاظ سے اس پر حق کا انکشاف کرتا ہے۔

لطائف کا باطنی صعود

لطائفِ سبعیہ وہ مراحل ہیں جن سے گزر کر سالک روحانی تکمیل کی اعلیٰ ترین منزل تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اس نظام کا آغاز اجزائے علویہ کی تجلیات کی صورت میں ہوتا ہے جن کا اظہار اجزا ء و اجرامِ سفلیہ کی وساطت سے ہوتا ہے اور جمادات، نباتات، حیوانات کی شکلوں میں تدریجی ارتقاء پاتا ہوا نوعِ انسانی کی تشکیل پر منتج ہوتا ہے جس کے وجود کے اندر ان لطائف کے جملہ باطنی مدارج موجود ہوتے ہیں۔

حقیقی معنوں میں عالمِ روحانی میں پانچ اہم مدارج ہیں یعنی نفس، قلب، سرّ، روح اور خفی۔ لطیفۂقالبیہ دیگر لطائف کے تدریجی صعود کا نقطۂ آغاز قرار پاتا ہے اور اس سفر کی آخری منزل لطیفۂ حقیّہ ہے اور یہی منزل انسان کی تکمیلِ روحانی کا آخری نقطہ بھی ہے۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی ابتدائی تحریروں میں پانچ لطائف کا بیان ہے جبکہ بعد کی تحریروں میں سات لطائف کا ذکر ملتا ہے چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ سمنانی ؒ کے سبعہ لطائف کا تصوّر صوفیائے متقدمین کے لطائف ِخمسہ کے تصور پر استوار ہے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے نزیک لطیفۂ قالبیہ اور دوسرے لطائف کا فرق محض درجے کے اعتبار سے ہے۔ لطیفۂ قالبیہ وہ بنیاد ہے جس کے اوپر دیگر لطائف کی درجہ بندی ہوتی ہے۔ لطیفۂ قالبییہ وہ اکتسابی جسم ہے جو عالمِ روحانی میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور عالمِ جسمانی کے جسمِ مادی کی مانند ہوتا ہے۔ اور اسی جسمِ اکتسابی کے اندر ہی دیگر لطائف میں درجہ وار صعود کا عمل ہوتاہے۔

ساتواں اور آخری لطیفہ لطیفۂ حقیّہ ہے جس کے متعلق سمنانی ؒ ’ صدائف الطائف ‘ میں فرماتے ہیں۔

’’ لطیفۂ حقیّہ نام ہے اس قابلیت کا جو عناصرِ اربعہ کے امتزاج سے حاصل ہوتا ہے اور ان احکام کا جو اجسام کے اندر اشیاء میں موجود حقائق کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ اس کا ادراک نور ِ عقل اور الہام کے توافق سے اس وقت ہوتا ہے جب وہ صفاتِ احدیّت کے غلبے سے مشرف ہوں اور عارضی موجودات اور ان کے متعلقات سے صفاتِ الٰہیہ کی تجلیات کے قبول پر آمادہ ہوجائیں۔ متعلقات سے مراد وہ اولیں چیزیں ہیں جن کا قلمِ قدسی حقی نے نورِ الہام سے ادراک عقل کے حرف ’ع‘ سے، حرفِ ’ن‘ کے دواتِ روحانی سے ا ور مدادِ نور سے کیا اور اس طرف قرآن اور سنت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے: نٓ ہ وَالْقَلَم ِ وَ مَا یَسْطُرُوْن ہ (۶۸:۱)‘‘

ساتواں لطیفہ یعنی لطیفہ حقیّہ سالک کے روحانی ارتقاء کی آخری منزل ہے۔ یہ تجلیات کا ایسا مجموعہ ہے جو ذاتِ الٰہی سے قریب ترین ہے۔ اس لطیفہ میں سماوی و ارضی خصوصیات کا ایسا امتزاج ہے جو اسے دیگر تمام لطائف سے ممتاز بناتی ہیں۔ راہِ سلوک کی منزل ِ آخر ہونے کے لحاظ سے اس کا مقام غیب الغیوب ہے۔ دیگر لطائف سے برتر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ان تمام کی خصوصیات کا حامل بھی ہوتاہے۔ پس لطیفۂ حقیّہ کا غیر مرئی عالم جو غیب الغیوب ہے، روح، سر ، خفی، قلب، نفس اور جسم کے غیر مرئی لطائف کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

لطیفہ حقیّہ کی عالمِ روحانی کی منزلِ آخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ عالمِ خلق اور عالمِ الوہیت کی سرحد پر واقع ہے اور اس لطیفہ اور ذاتِ باری کے درمیان کوئی واسطہ حائل نہیں۔ جہاں دیگر لطائف ذات ِ الٰہی سے دور افتادہ ہونے کے باعث درمیانی واسطوں کے محتاج ہیں ، لطیفہ حقیّہ محض ذاتِ الٰہی سے واسطہ رکھتا ہے۔ اسی طرح جہاں دیگر لطائف کو ثانوی اسباب سے بچاؤ کے لیے ذاتِ الٰہی کی پناہ درکار ہوتی ہے وہاں لطیفہ حقّیہ محض خدا سے خدا کی پناہ کا طلب گار ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اے مالک میں تجھ سے تیری پناہ مانگتاہوں۔

لطیفۂ حقیّہ اور ذاتِ حق کے درمیان جو سرحد حائل ہے اسے افق المبین کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ خود افق المبین الحق ہے جسے عبور کرنا کسی انسان یا مخلوق کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح سے دیگر تمام لطائف کو بھی ایک ایک مخصوص سرحد آپس میں جدا کرتی ہے۔ چنانچہ جمادات اور نباتات کے درمیان، نباتات اور حیوانات کے درمیان اور نباتات اور نوعِ انسانی کے درمیان ایک ایک سرحد حائل ہے۔

اسی طرح وجود ِ انسانی میں بھی لطائف کے درمیان اسی طرح سرحدیں یا آفاق موجود ہیں جس طرح ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کی شریعت کے درمیان ایک سرحد ہوتی ہے۔ پس ہر پیغمبر یا لطیفہ کے لیے دو افق موجود ہیں جن میں سے ایک اسے پچھلے مرحلے سے اور دوسرا اگلے مرحلے سے جدا کرتا ہے۔ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ ؐ سے متعلق لطیفۂ حقیہّ کے اوپر جو سرحد موجود ہے وہ افق المبین ہے جو اس لطیفہ کو ذاتِ حق سے جدا کرتا ہے۔ اس لطیفہ کی پچھلی سرحد یا افق کو افق الاعلیٰ کہتے ہیں جو عالمِ خلق کی طرف ہے اور دیگر تمام لطائف کی آخری سرحد ہے۔

سمنانی ؒ ان سرحدوں یا آفاق کو قرآنی علامتوں کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ افق الاعلیٰ وہ سرحد ہے جو لطیفۂ حقیّہ کو لطیفۂ خفیّہ سے جدا کرتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اس وقت کھڑے تھے جب حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر آئے۔ وہ سرحد جو لطیفۂ خفیّہ کو لطیفۂ روحیّہ سے جدا کرتی ہے اس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے اور وہ سرحدجو لطیفۂ روحیّہ کو لطیفۂ سرّیہ سے جدا کرتی ہے اس کا نام جنت الماویٰ ہے۔ یہ وہ جنت ہے جو وجود ِ انسانی کے اندر ہے اور وہ انسان اس جنت میں ہمیشہ رہتا ہے جو اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کرے اور اس میں اعمالِ صالحہ کا بیج بوئے ۔ لیکن اگر کوئی شخص اس کو تاراج کرے اور اس میں افعالِ قبیحہ کا بیج بوئے تو یہی جنت جہنم میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہ جہنم بھی وجودِ انسانی ہی کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کا ایک سدرۃ المنتہیٰ ہے اور یہ روحانی عروج کی وہ سرحد ہے جہاں تک صاحبِ علمِ مخلوق عقل کی رسائی ہوتی ہے۔ یہ سرحد جو عالمِ ملکوت اور عالمِ جبروت کا درمیانی افق بھی ہے ، اﷲ تعالیٰ کے علم ، اﷲ تعالیٰ کے واسطے اور سہارے اور اﷲ تعالیٰ کے عطا کردہ جذبے کے بغیر پار نہیں کی جا سکتی۔

لطیفۂ حقیّہ کی فضیلت

لطیفۂ حقیّہ جملہ لطائف سے آگے کا مرحلہ ہی نہیں بلکہ سب سے برتر اور ذاتِ حق کے قریب ترین بھی ہے۔ اس کا یہ بھی امتیاز ہے کہ یہ عالمِ لاہوت کے عین نیچے عالمِ جبروت میں سدرۃ المنتہیٰ سے پرے واقع ہے جس کو عبور کرنا اﷲ تعالیٰ کی وساطت اور خاص سفارش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ چونکہ یہ راہِ سلوک کی یہ آخری منزل ہے لطیفۂ حقّیہ اولین لطیفہ بھی ہے جو دیگر لطائف کے ظہور سے قبل ذات ِ حق کے قریب موجود تھا۔ چنانچہ یہ لطیفہ نقشِ اولین ہے اور اس کی مثال حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی سی ہے جنہیں صوفیائے متقدمین نے اولِ خلق قرار دیا ہے۔

سمنانی ؒ فرماتے ہیں کہ لطیفۂ حقیّہ قربِ ذاتِ الٰہی میں موجود تھا پھر اس نے افق المبین سے افق الاعلیٰ کی طرف نزول کیا اس طرح یہ دونوں افق ایک دوسرے کے قریب آ گئے جسے قرآن مجید نے قَابَِ قَوْسَیْن ِ اَوْ اَدْنَیٰ سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے اس لطیفۂ حقیّہ کو جملہ مخلوقات میں ودیعت فرمایا لیکن پردوں اور حجابات میں مستور ہونے کے باعث یہ ظاہر نہ ہو سکا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے جملہ مخلوقات کی اس حد تک پرورش فرمائی کہ خلقتِ خداوندی اس احسن التقویم کی منزل کو پہنچی جو قلب ِ روحانی کا دوسرا نام ہے۔ پس اس قلب کے لطیفۂ قلبیہ کے اندر اﷲ تعالیٰ نے لطیفۂ حقیّہ کے بیج کی پرورش فرمائی یہاں تک کہ یہ حضورِ حق میں پہنچ گیا۔ تب اﷲ تعالیٰ نے اس لطیفۂ حقیّہ کو حکم فرمایا کہ عوالم ِ زیریں کی طرف راجع ہو تاکہ خلق ِ خدا کے لیے بشیر و نذیر بن جائے۔ یہی سبب ہے کہ لطیفۂ حقیّہ خاتم اللطائف اور مقصدِ تخلیقِ کائنات ہے۔

لطیفۂ محمدیہّ ؐ کی یہ فضیلت اس امر کی متقاضی ہے کہ لطیفۂ ابراہیمیہؑ کو بھی انبیائے متاخرین کا سر سلسلہ سمجھنے کی بجائے سردار سمجھا جائے۔ لطیفۂ قلبیہ لطیفۂ حقیّہ محمدیؐ کا مقام بننے والا اولین ظرف ہی نہیں بلکہ بہترین ظرف بھی ہے۔ اس بیان سے حضرت شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ کے اس دعویٰ کی معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ لطیفۂ ابراہیمیہؑ وہ صدف ہے جس کے اندر لطیفۂ حقیّہ محمدیہّ ؐ کی پرورش ہوئی۔ کیونکہ صدف نہ صرف واحد ظرف ہے جس کے اندر ایک ذرۂ ریگ متمکن ہوتا ہے بلکہ یہ وہ واحد ظرف بھی ہے جس کے اندر یہ ذرّۂ ریگ صحیح معنوں میں نشوونما پا کر گوہرِ آبدار بن جاتا ہے۔ مقدمہ تفسیر القرآن میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ اور وہ سب کچھ جو خدا نے اپنے محبوب سے فرمایا ہے اور وہ آیات جن کا مخاطب حضورؐ ہیں ان کو ظہورِ جسمانی کو تفویض ہونے والے اسی لطیفۂ حقیّہ کے ذریعے سنو۔ یہ وہ تجلی ہے جس کا ظہورتمام لطائف میں جملہ حقائق کی باہمی آمیزش سے ایک بہترین خلقت میں لانے کے بعد مقامِ ذاتِ خداوندی کی بجائے نہایتِ حضرت ِ نقطۂ واحدیہ سے ہوتا ہے۔ یہ جملہ مرکبات کا آخری درجہ اور خاتم الموالید ہے جس سے وہ جسم ِ اکتسابی پیدا ہوتا ہے جو مخلوق فانی جسم کے رحم میں جنین کی طرح ہے اورجو قلبِ حقیقی کے رحم میں جنین کی طرح ہے جس سے کافر الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ لطیفۂ عینیہ کے گوہر کا صدف ہے جو عالمِ انسانیت کے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ …‘‘

لطیفۂ حقیّہ کو حضورِ خداوندی سے جسمِ روحانی کے مخلوق عالم میں اہلِ سلو ک اور ان کے لطائف کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا جاتا ہے۔ اس لطیفۂ حقیّہ کا ظہور مقامِ احدیت سے ہوتا ہے اور مقامِ احدیت اور نقطۂ احدیّہ من حیث المجموع جملہ لطائف کا بلند ترین ماخذ ہیں۔ چنانچہ درجہ بدرجہ جملہ لطائف سے ارتقاء پانے کے بعد سالک بالآخر لطیفۂ حقیّہ تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ جملہ عناصر علوی و سفلی کو اپنے اندر سمونے کے بعد وجودِ انسانی اس قابل ہو جاتا ہے کہ الواحِ الوہیت کے رخ پر سے نقابِ غبار کوہٹائے۔ یہ غبار دور ہونے کے بعد ان الواح پر متشکل اشکال واضح ہوجاتے ہیں اور ان کے معانی واشگاف ہو جاتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں اس طرف اشارہ موجود ہے۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَان ہ (۵۵:۳۔۴) اسی طور پر حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر قرآن ِ مجید کے وہ اسرار و رموز جو لوحِ محفوظ میں موجود تھے ، منکشف ہوئے ، جس کی بنا پر آپؐ معانیٔ قرآن کا ادراک کلّی رکھتے تھے۔

چونکہ قرآنِ مجید کے حقیقی معانی کا ادراک لطیفۂ حقیۂ محمدیہؐ کو ہوتا ہے اس لیے سالک کو چاہیے کہ وہ تمام آیاتِ قرآنی جو حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلّم کے مبارک حوالے سے ہیں ، ان کو لطیفۂ حقیّہ کی وساطت سے سمجھے۔ لطیفۂ حقیّہ میں کمال کے بعد سالک لطیفۂ انایّہ تک رسائی پاتا ہے جو لطیفۂ حقیّہ کے صدف میں ایک گوہرِ نایاب کی طرح پرورش پاتا ہے بلکہ ایسے جیسے خود لطیفۂ حقیّہ لطیفۂ قلبیہ کے صدف میں پرورش پاتا ہے۔

لطیفۂ انایّہ

لطیفۂ انایّہ راہ ِ سلوک و تصوف کے تمام سفر کی آخری منزل اور نقطۂ کمال ہے۔ عالمِ ناسوت کے ہر شقیقے میں عالم ملکوت کا ایک دقیقہ موجود ہوتا ہے جو حکمِ الٰہی کا لطیفہ ہے اور بعض اوقات اسے ’’حیات‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح عالم ملکوت کے ہر دقیقے کے اندر عالمِ جبروت سے صفاتِ الٰہی کا ایک رقیقہ موجود ہوتا ہے جو ’’ حیات الحیات‘‘ ہے۔ ان نادر لطائف میں سے ہر ایک عالمِ لاہوت کی صفاتِ ذاتی کے حقائق اور صداقتوں کا حامل ہوتا ہے ، جسے ’’ حیات الحیات کا باطن ‘ ‘ کہا گیا ہے۔ جس طرح کوئی فرد نفسِ عقلی کی تجلیات احکامِ الٰہی کے لطائف کی وساطت سے اپنے اندر جذب کرتا ہے اور جو جملہ خلائق میں موجود ہوتا ہے ، اسی طرح سالک عالمِ لاہوت کے حقائق اپنے وجود کے اندر جذب کرتا ہے۔ لطیفۂ انایّہ عالمِ لاہوت کے انہی عناصر کے انجذاب کا نتیجہ ہے جو بذاتِ خود عالمِ جبروت کے رقائق کی حیات ہیں۔

جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے لطیفۂ انایہّ کی پرورش لطیفۂ حقیّہ کے صدف کے اندر ہوتی ہے۔ یہ عمل جسمِ اکتسابی کے اندر وقوع پذیر ہو تا ہے جو لطیفۂ انایّہ کے لیے ایک خول یا ظرف کی حیثیت رکھتا ہے۔ لطیفۂ انایّہ کا جسم ِ اکتسابی کے ساتھ یہ تعلق ایسا ہے جیسا جسمِ اکتسابی کا مخلوق جسمِ فانی کے ساتھ ہے کیونکہ مادی جسم عالمِ محسوسات کے بطن میں جسمِ اکتسابی کے جنین کے لیے رَحَم کا کام کرتا ہے۔ جس طرح جسم ِ مادی ایک خول یا ظرف کی طرح ہے جس سے جسمِ اکتسابی موت کے وقت آزاد ہو جاتا ہے اسی طرح ایک روحانی یا باطنی موت کے نتیجے میں جسمِ اکتسابی سے لطیفۂ انایّہ اس وقت آزاد ہو جاتا ہے جب وہ تکمیل کے جملہ مراحل سے گزر کر لطیف اور منوّر ہو جاتا ہے۔ جسمِ اکتسابی کے اس خول سے نکلنے کے بعد لطیفۂ انایّہ بذاتِ خود ایک آئینہ بن جاتا ہے جس میں ذاتِ الٰہی کے انعکاس کی قابلیت ہوتی ہے۔

سمنانی ؒ اس حقیقت پر بہت زور دیتے ہیں کہ لطیفۂ انایّہ ہی وہ حقیقت ہے جس میں اسمائے الٰہی کے علم و عرفان کی مقدّس امانت کو اٹھانے کی قابلیت اور وجہ اﷲکے بالمقابل ہونے کی قابلیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نہ عالمِ علوی کی کسی برترشے میں اور نہ عالمِ سفلی کی کسی کہترشے میں اس مقدس امانت کا حامل بننے کی صلاحیت ہے۔ تمام عناصر فانی ہیں اور تمام مرکب موجودات بے ثبات ہیں۔ صرف وہ حقیقت جس کے اندر عالمِ علوی اور عالمِ سفلی کے عناصر کا امتزاج ہو اس قابل ہوسکتی ہے اور یہ شے یا حقیقت انسانِ ناطق ہے۔ لطیفۂ انایّہ ابدی طور پر وجود ِ انسانی کے اندر ہوتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی صفاتِ لطفی و قہری اور حسن اور عظمت کا آئینہ ہے۔ یہ لطیفہ جملہ موجودات میں ہوتا ہے لیکن صرف مکمل صورت میں صرف ایسی ترکیب کے اندر ہوتا ہے جو مرئی و غیر مرئی دونوں جہات کے عناصر علویہ و صفلیہ کا امتزاج رکھے۔ یہ وجودِ مرکب ولی ٔ کامل ہوتا ہے جو لطیفۂ حقیّہ کے مرتبے پر پہنچا ہو اورجس نے اپنے لطیف اور منوّر جسمِ اکتسابی کا ادراک حاصل کر لیا ہو۔

جب لطیفۂ انایّہ مکمل صورت میں وجہ اﷲ کے بالمقابل مقام پاتا ہے تو وہ ایک غیر متحرک اور انفعالی حقیقت ہوتی ہے۔ اس مرحلہ پر یہ خود اﷲ کی ذات ہوتی ہے جو اس آئینہ میں اپنا جلوہ دیکھ کر خود اپنی تعریف و تقدیس کرتی ہے۔ ساتھ ہی اس آئینہ میں موجود جلوۂ الٰہی اﷲ تعالیٰ کی تعریف و تقدیس کرتا ہے اور ذاتِ الٰہی کی شہادت دیتا ہے۔ یہاں شاہد محمود ہوتا ہے اور مشہود حامد اور وہی شاہد ہوتا ہے اور وہی مشہود اور وہی ذاکر ہوتا ہے اور وہی مذکور۔

لطیفۂ انایّہ کا آئینہ طویل مدت تک وجہ اﷲ کا انفعالی طور پر جلوہ دکھانے کی قابلیت سے محروم رہتا ہے۔ پھر یہ جلوۂ حسنِ الٰہی کے انعکاس کے ذوق سے متحرّک ہو جاتا ہے۔ یوں یہ فعّال ہو کر خود ایک شاہدہ بن جاتا ہے اور یوں ذاتِ خداوندی اس کے لیے مشہود بن جاتی ہے۔ اس مرحلے پر اﷲ تعالیٰ لطیفۂ انایّہ کے اوپر اپنی تجلّی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں۔

’’(ترجمہ:) بے شک میں اﷲ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ میں اول ہوں اور آخر ہوں ، میں ظاہر ہوں اور باطن ہوں اور ہر شے پر محیط ہوں۔ ہر ذی روح کی حیات مجھ سے ہے اور ہر ایک کا میں ہی رازق ہوں اور میرے چہرے کے علاوہ ہر شے فانی ہے۔ ‘‘ پھر جس کسی نے لطیفۂ انایّہ تک رسائی پائی اور اس کا مشاہدہ کیا اس نے اس راز کا بھی مشاہدہ کیا اور جس نے اس راز کا مشاہدہ کیا اس نے اس کودیکھا اور جس نے اسے دیکھا اس نے اﷲ جل شانہ‘ کی پاک ذات کا ادراک کیا ۔‘‘

یہ حقیقت واضح نہیں کہ مذکورہ بالا اعلان اﷲ تعالیٰ کی ذات خود فرماتی ہے یا یہ اعلان لطیفۂ انایّہ میں ہوتاہے۔ دراصل اس مرحلے پر ذات ِ الٰہی کو جو لطیفۂ انایّہ کے آئینے میں اپنے مشاہدۂ جمال میں محو ہوتی ہے اس آئینے سے جدا پہچاننا ناممکن ہوتا ہے جس میں یہ مشاہدہ وقوع پذیرہو رہا ہوتاہے ۔ یہ دو تیز انوار ہیں جو ایک دوسرے کے نور کاانعکاس کر رہے ہوتے ہیں۔ آئینہ یعنی لطیفۂ انایّہ حسن ِ ذات کا مشاہدہ اور انعکاس کرتا ہے اور ذات ِ الٰہی اپنے حسنِ ذاتی کے مکمل عکس کا جو اس حسن سے ہو بہو مشابہت رکھتا ہے مشاہدہ کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اﷲ تعالیٰ اس آئینے میں اپنے اس عکس کا مشاہدہ فرماتے ہیں جس کا مشاہدہ آئینہ یا لطیفۂ انایّہ اﷲ تعالیٰ کی ذات میں کرتا ہے۔

اس لمحہ میں جب لطیفۂ انایّہ ایک غیر متحرک آئینے سے فعّال شاہد کی حیثیت اختیار کرتا ہے اس لطیفہ کا مالک حریمِ ذات میں داخلے کا مجاز بن جاتا ہے اور جملہ اشیاء کی حقیقت اس پر عیاں ہو جاتی ہے۔

حریمِ ذات میں داخلے کے اس لمحے میں عالمِ ناسوت کے ہزار گنا حقائق عالم ملکوت کے سو گنا حقائق میں اور یہ عالمِ جبروت کے د س گنا حقائق میں اور یہ عالمِ لاہوت کے حقائق ِ واحدہ میں مشاہدہ ہوتے ہیں۔ اور یہ تمام مشاہدہ ایک اکائی کے طور پر ہوتا ہے جو ذاتِ واحد کی تجلی کا اثر ہے اور جو اسی ذات کے ہر مشہود کا مشاہدہ اور ہر معلوم کا تجربہ ہے۔

حریمِ ذات میں بار پانے اور ذاتِ الٰہی کا شاہدِ فعّال بننے کے بعد لطیفۂ حقیّہ لسانِ صدق سے ذاتِ الٰہی کی تعریف و تقدیس شروع کرتا ہے اور اس مرحلہ پر حمد کی اصل صورت یوں ہوتی ہے۔

(ترجمہ 🙂 ’’تعریف اﷲ کے لیے جو واحد ہے، بے مثل ہے، یکتا ہے، ہمیشہ رہنے والا ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس جیسا ہے۔ تعریف اس کے لیے ، جس کی شان بہت بڑی ہے۔‘‘

تاہم اگر جسم یا نفسِ سفلی کی کوئی لطیف قوت اس لطیفہ میں باقی رہ جائے تو وہ سبحان ما اعظم شانی یا انا الحق کہتا ہے۔ اور جب اس غلبۂ حال سے باہر آ جائے تو وہ پکار اٹھتا ہے۔

(ترجمہ:) ’’مجھے قتل کر دو اے محرمو! کیوں کہ میری موت ہی میری زندگی ہے۔‘‘ ٭