حضر ت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ12رجب 714ھ بمطابق 12اکتوبر 1314ء کو ایر ان کے مردم خیز شہرہمدان میں پید ا ہوئے۔ ما دئہ تا ریخ رحمتہ اللہ ہے۔(سید علی ہمد انی از سیدہ اشر ف ظفر ص14(نو ٹ )اس کتا ب کا حو الہ آئند ہ سطور میں سیدہ اشر ف کے تحت ہو گا)آپؒ کے والد گر امی اور والد ہ ما جد ہ دونو ں طر ف سے حسینی سید تھے۔ آپؒ کے والد گر امی کا نام شہا ب الد ین اور والد ہ ما جد ہ کا نا م سیدہ فاطمہ تھا جو سید علا و الد ولہ سمنا نی ؒ (وقت کے مشہو ر عارف اور صا حب تصانیف کثیر ہ بزرگ )کی بہن تھیں چنا نچہ آپ ؒ کی تر بیت شیخ علاوالدولہ سمنانیؒ کے ہا تھو ں ہو ئی بچپن میں آپؒ نے قرآن حکیم حفظ کیا اور شیخ سمنانی ؒ سے علو م ظا ہر ی و با طنی کا در س لیتے رہے پھر شیخ نے فقر و سلو ک کی تر بیت کے لئے انپے ہو نہا ر بھا نجے کو شیخ اخی علی دو ستی سمنانی کے سپرد کیا ۔(سیدہ اشر ف ص20)
شا ہ ہمدا ن ؒ علی دوستی اور شیخ محمو د مزدقانی کی خد مت میں طو یل عر صہ تک رہے یہ آٹھ سال کے طو یل عر صہ پر محیط ہے یہ عر صہ انہوں نے سخت ریا ضا ت اورمجا ہد ے بجا لا نے میں گزار دیا پھر شیخ محمو د مز دقانی ؒ کی ہد ایت کے تحت آپؒ سیا حت عالم کے لئے نکل پڑے اور دم داپسیں تک سیر و سیاحت، تبلیغ و ارشاد اور اورجہا ں گر دی و صحر ا نو ردی میں بسر کئے اس دوران آپؒ نے ایک ہزار چار سو اولیا سے ملاقات کی۔ (مقد مہ مشا ر ف الاذواق ص16) اور ان سے فیو ض و بر کا ت حا صل کئے جن میں سے 34 مشائخ ایسے تھے جنہو ں نے آپؒ کو اجا زت ارشا د سے نو ازا۔(مقد مہ مشا رب الاذواق ص17)
جہاں گر دی و صحر انو رد ی کے دوران بارہا آپؒ غو ل بیا با نی سے دوچار ہو ئے غیرمسلم طا غو تی قو تو ں کے ساتھ آپؒ کو نبرد آزما ئی کر نا پڑی کشمیر میں ہند و جو گیو ں کے ساتھ اور بلتستا ن میں بد ھ مت لاما ئو ں کے سا تھ مقا بلے کر نا پڑے اور ساتھ ہی علما ئے سوء کے ہاتھوں متعد د با ر طعن و تشینع حتی کی زہر خو رانی کی تکا لیف سہنا پڑیں پھر بھی آپؒ نے سیر و سیا حت میںعظیم الشا ن کا میا بی حا صل کی اسی دوران تقر یبا ۳۷ ہزار کشمیر ی ہند ؤں کو مسلما ن بنا یا -با رہ با ر حج بیت اللہ سے مشر ف ہو ئے ایسے علا قو ں میں دین اسلا م متعا ر ف کرایا جہاں اس سے پہلے اسلا م اور مسلما ن کبھی نہیں پہنچا تھا اس دوران آپؒ نے مز د قا ن، ختلا ن، بلخ، بد خشا ن، یز د، شا م ،عراق، حجاز، ما وراء النہر،سری لنکا، ہند و ستا ن، کشمیر، چین اور بلتستا ن کا سفر کیا اور لا کھو ں بند گا ن خد ا کو فیض پہنچا یا ۔
میر سید ہمد انیؒ 774ھ/ 1372ء میں پہلی با ر کشمیر پہنچے اور کچھ عر صہ تبلیغ و ارشا د میں مصروف رہ کر وا پس چلے گئے دو سر ی بار781 ھ/ 1379ء میں اورتیسری با ر 1384ئ786/ ھ میں۔آپ پہلی بار کشمیر کے راستے بلتستان پہنچے تھے بلتستان سے آپ ؒ سیاچن گلیشر کے ذریعے تر کستان چلے گئے تھے اور ان علا قوں کی سیا حت کے بعد 785ھ؁1383/؁ء میں پھر بلتستا ن تشر یف لا ئے تھے اور بلتستان میں مختصر قیا م کے بعد تیسر ی با ر کشمیر پہنچے کشمیر میں مختصر قیا م کے بعد حج بیت اللہ کی غر ض سے نکلے اور6 ذلحجہ 786ھ1384/ء کو پکھلی موجودہ نوکوٹ نزد مانسہرہ کے مقام پر جا ن بحق ہو ئے۔ما دہ تا ریخ وفا ت” بسم اللہ الر حمن الر حیم ” ہے۔متعد د لو گو ں نے تا ریخ وفات کہی ۔جن میں سے ایک یہ ہے
حضرت شا ہ ہمد ان کر یم آیئہ رحمت زکلام قدیم
گفت دم آخر و تا ریخ شد بسم اللہ الرحمن الرحیم ( شر ح احو ال و آثا ر ص 69)
آپ کی نعش آپ کی وصیت کے مطا بق پکھلی سے ختلان(موجو دہ کو لاب دوشنبہ تاجکستان ) پہنچا ئی گئی اور وہاں دفن ہو ئی آپ کا مزا ر مبارک وہا ں مو جودہے۔
کلمتہ الثناء
مستان شا ہ کا بلی آتشکدہ وحد ت میں لکھتے ہیں ۔
ای حر یم وصال ربانی عارف حق نما علی ثانی
ا ہ کو نی ،خلا صۂ ایجا د شمع عرفا ن نو ر یز دانی
ای مرا مصطفای وقتی تو من ترا بو ذر و سلما نی
شاہ عر فان و لجۂ وحد ت
نو ر ایمان، یا علی ثا نی ( آتشکد ہ وحدت ص371)
محر م علی چشتی رقمطراز ہیں ۔
در مر تبہ و شان تو بی مثل و نظیر ی
مشہو ر دوعالم تو امیر ی و کبیر ی
فا نی شد ہ در ذات سمیعی و بصیر ی
ازبھرھمین بر ہمہ احو ال خبیری
احوال دل اے شا ہ نگو یم کہ ند انی
با ﷲ ہمہ دانی کہ تو شا ہ ہمد انی (سیدہ اشرف ص147)
محمد ہا شم شیر ازی لکھتے ہیں۔
مظہر انو ار حق سید علی در ہمد ان داشت مو طن آن ولی
صاحب اور ادفتحیہ است او سہ کرت معمورہ رادیدہ است او
صاحب فضل و علوم و معرفت
بود خورشید نظام الدین صفت ـ (مقد مہ مشا رب الاذواق ص24)
میر سید محمد نوربخش رقمطراز ہیں : ۔
دگر شیخ شیخم کہ او سید است علی نام والوندی المولداست
بگشت اوجہاں را سراسر سہ بار بد ید اولیاء چار صد باہزار
نبودست پنجاہ سال اختیار
بجای زمضجع زھی مرد کار ۔( صحیفۃ الاولیاء ص9 )
قاضی جان محمد قدسی:۔
ازعون وعطای کردگاری تائید سپہر کرد یاری
از مطلع غیب تافت نوری کرد اختر دولت ظہوری
سلطان ممالک معانی شاہ ہمدان علی ثانی
آن شہسوار عرصئہ دین سّر دل خاتم النبیں ؐ (تحفۃ الاحباب ص486)
شیخ یعقوب صرفی کشمیری:۔
ھمچو علی دانش ربانیش زان لقب آمد علی ثانیش
چوں بہ علی نسبتش آمد تمام ھم بہ حسب ھم بہ نسب ھم بنام
ظاھر او سر علی ولی
بَل ھُوَسِرٌّ لاَبِیْہِ العَلِی (شر ح احو ال و آثا ر ص40)
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ
سید السادات سالارعجم دست او معمار تقدیر امم
مرشد آن کشور مینو نظیر میر و درویش و سلاطین را مشیر
جملہ را آن شاہ دریا آستین داد علم و صنعت و تہذیب و دین
آفرید آن مرد ایرن صغیر با ھنر ھای غریب و دلپذیر
یک نگاہ او کشاید صد گرہ
خیز و تیر ش را بدل راہی بدہ (جاوید نامہ ص 185)
ڈاکٹر غلام محمد شاد:۔
یعنی آں سردار دین سر اختر اہل یقین
تابع شرع متین رخشندہ ترازمہتاب
سید عالی نسب شاہنشہ والا حسب
زادۂ شاہ عرب انسان عین بوتراب
ہا دی دین آن علی ثا نی از علم و عمل
ساختہ بر اہل بد عت از ھد ایت فتح یا ب
میر ختلا ن مر شد پیر ان امیر سروران
تا جد ار تخت عر فا ن حاکم ملک رقا ب
(قصیدہ منظومہ مندرج چہل اسرار منطوم ترجمہ کشمیری ص 13۔14)
اولا د و احفا د
میر سید علی ہمد انی ؒ نے اپنی زند گی کا بیشتر حصہ ریاضیت ومجاہد ات بجا لا نے ،سیر سیا حت کر نے ،دین اسلام پھیلا نے اور کتب ورسا ئل لکھنے میں گز ار دیا ۔اس وقت آپ نے شا دی کی جبکہ آپ کی عمر کے چا لیس بر س گزر چکے تھے تا ہم ایک بیٹا اور ایک بیٹی متو لد ہو ئے ۔بیٹا مشہو ر مبلغ اسلام میر سید محمدہمد انیؒ تھے اور بیٹی آ پ کے مشہو ر مر ید اور خلیفہ خو اجہ اسحا ق ختلا نی کے عقد میں آئیں ۔دونو ں کے مزار علی ہمدانیؒکے مزار کے احاطے میں واقع ہیں ۔سید محمد ہمد انیؒ کے تو سط سے آپ کی نسل بڑھی اب بھی پا ک و ہند میں آپ کی اولا د سا دات ہمد انی کے نام سے مو جو د ہے ۔
مر ید ین نے و خلفا ء
میر سید علی ہمد انیؒ سے استفا دہ کر نے والو ں کی تعد اد لا کھو ں تھی جن میں سے بعض مر ید وں نے آپ کی وجہ سے شہر ت دوام حاصل کی ان میں خو اجہ اسحا ق آپ کے خلیفۂ مجازتھے اور مند ر جہ ذیل نا مو ر مر ید تھے۔1۔شیخ قو ام الد ین بد خشی 2 ۔نو ر الد ین جعفر بدخشی 3 ۔میر حسین سمنا نی 4۔ سید جلا ل الد ین عطا ئی 5۔شیخ سلیمان کشمیر ی ،-6سید شر ف الدین جہا نگیر سمنا نی 7۔شیخ شمس الد ین ختلا نی 8۔شیخ محمد طا لقا نی 9۔ شیخ محمد شا می 10۔ سید محمد کا ظم 11۔ سید جما ل الد ین عطا ئی 12۔ میر سید شمس قادری۔13۔سید فیر وز
آثا ر شا ہمد ان
میر سید علی ہمد انی ؒ کا شما ر ان بز رگوں میں ہو تا ہے جو تصا نیف کثیر ہ کے ما لک ہیں جن کی تعلیما ت بے حد وسیع ہیں ۔ آپ کی تصانیف میں کچھ امتد اد زما نہ کے ہاتھوں تلف ہوئی ہیں اور کچھ با قی ہیں تحا ئف الا بر ار میں آپ کے رشحا ت قلم کاشما رایک سو ستر مر قو م ہے ۔(سید ہ اشر ف ظفر ص189) ڈاکٹر سید اشر ف ظفر ،جو زبر دست شاہ ہمد ان شنا س ہیں اور آ پ پرپی ایچ ڈی کر چکی ہیں ,کے مطا بق انہیں شا ہ ہمدان کی تراسی کتا بیں اور رسا لے دستیا ب ہو ئے ہیں جن میں سے 20 عربی میں اور63 فا رسی میں ہیں ۔(سید ہ اشر ف ظفر ص189)ڈاکٹر محمد ریا ض جنہو ں نے سید علی ہمد انیؒ کی کتا ب الفتو ۃ اور احو ال وآثا ر لکھ کر تہر ان یو نیو رسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ،کا دعوی ہے کہ انہوں نے سید علی ہمد انیؒ کے ستر کتب ورسا ئل کا مطا لعہ کیا ہے۔(احو ال و آثا ر ص93)میر سید علی ہمد انی ؒ کی بعض کتابو ں کے تر جمے دوسری زبا نو ں میں ہو ئے ہیں ان میں کشمیر ی اردو ،پشتو ،جر من ،فر انسسیی ،عربی اور فا رسی شا مل ہیںبعض کتا بوں کے خلا صے اور شرحیں شا ئع ہو چکی ہیں ۔بعض کتا بیں متعد د با رشا ئع ہو ئی ہیں لیکن بعض کتا بیں ابھی تک شا ئع نہیں ہو ئی ہیں ۔راقم السطو ر نے شا ہ ہمد ان کی تصا نیف حا صل کر نے کے سلسلے میں بہت محنت کی ہے ۔اب تک مند رجہ ذیل کتب و رسا ئل حاصل کر نے میں کامیا ب ہو ا ہے ۔
1۔ذخیز ۃ الملو ک ،2۔ مو دۃ القر بی ،3۔کتا ب ذکر یہ ،4کتا ب الا ورادیہ5۔مشارب الا ذواق ،6۔مکتو با ت امیریہ،7۔کتاب الفتو ۃ ،8۔مصبا ح العرفان 9آداب سفر ہ۔10۔چہل مقا م صو فیا ں،11۔دہ قاعدہ۔ 12۔عقبات13۔اورادفتحیہ،14۔درویشیہ ،15۔السبعین فی فضا ئل امیر المو منین 16۔چہل اسرار ۔17 منہاج العارفین ،18۔مرادات حا فظ،19۔کنز الیقین۔20۔مر ات التا ئبین ۔21۔؛تلقینیہ ۔22۔ہمد انیہ۔23۔ داودیہ 24۔ رسالہ ذکریہ عربی۔25۔ مناجات 26۔الطا لقا نیہ27 ۔منامیہ 28 ۔مشیت29 ۔اسرار النقطہ یہ سب شا ئع شد ہ ہیں بعض کئی با ر چھپ چکی ہیں بعض کے ترا جم ہو ئے ۔بعض کی شر حیں لکھی گئیں –
مند رجہ ذیل آثا ر ابھی تک شا ئع نہیں ہو ئے ہیں بعض کے اصل مخطو طا ت اوربعض کی فو ٹو کا پیا ں راقم کے پا س مو جو د ہیں۔
1۔عقلیہ2۔خواطر یہ ،3۔ مشکل حل و حل مشکل ،4۔سیر الطا لبین ۔5۔چہل حد یث ـنمبر ۱۔6۔چہل حد یث ـنمبر2۔7۔چہل حد یث ـنمبر3-8۔رسا لہ ذکر یہ (صغری ) 9۔رسا لہ رسا لتہ التو بہ (عربی ) 10۔نو ریہ11۔مکا رم اخلا ق ،12۔اعتقادیہ 13،اصلا حات صوفیہ14۔رسا لہ در طب ،15۔واردات امیر یہ ،16۔فر است نا مہ ،17۔رسا لہ معر فت النفس –
مند ر جہ ذیل کتب و رسا ئل بھی میر سید علی ہمد انیؒ کی ہیں ۔محققین نے اس با ت کی تصدیق کی ہے لیکن راقم السطو ر نے ا بھی انہیں نہیں دیکھا ۔البتہ یہ دنیا کے بڑے بڑے کتا ب خا نو ں میں مو جو د ہیں ۔
1۔بہر امشا ہیہ ،2۔مو چلکہ ،3۔حقیقت ایما ن ،5۔حق الیقین 6۔حل فصو ص الحکم ، 7۔نسبت خر قہ ،8۔آداب المر ید ین 9۔وجو دیہ10۔اسنا داوراد فتحیہ۔ 11۔ طائفہ مر دم 12۔حقیقت نو ر ۔13۔اختیا رات منطق الطیر 14۔اسنا د حلیہ حضرت رسولؐ،15۔ اقرب الطر یق اذلم یو جد الر فیق16۔فی سواداللیل 17۔رسا لہ سو الات کلا می،18۔معاش السا لکین19۔ شر ح اسما ء ٍالحسنی۔20۔ و ضتہ الفردوس22۔منا زل السالکین 23۔فی علما ء الدین،24۔فی فضل الفقر،25۔الا نسان الکا مل،26 ۔النا سخ والمنسوخ 27۔تفسیر حروف معجم28۔فی خو اص اہل الباطن29۔خطبتہ الا میر یہ