شمارہ نمبر ۵۶ :ماہ مارچ ۲۰۰۰ء :شاہ قاسم فیض بخش ؒ :تحریر غلام حسن نوربخش
فیض بخش ؒکی سجادہ نشینی :۔میر سید محمد نوربخش نے ۸۶۹ھ میں وفات پا ئی اس وقت آپ کے دو بیٹے شاہ قاسم فیض بخش اور سید جعفر نوربخش زندہ تھے جبکہ تیسرا بیٹا میر سعد الحق نوربخش کی زندگی کی میں وفات پا چکے تھے میر سید محمد نے اپنے بعض نامور مریدوں کو خط ارشاد دے کر مختلف علاقوںمیں روانہ کردیا تھا اور بہت سے نامور مریدین آپ کے ساتھ مقیم تھے غالبا وفات کے وقت انہوںنے کسی کو اپنا خلیفہ یا جا نشین نامزد مقرر نہیں کیا تھا ۔میر سید محمد نوربخش کی رحلت کے بعد خلفا اور دیگر یاران طریقت نے شاہ قاسم فیض بخش کے پاس آکر استدعا کی کہ وہ اپنے والد بزرگوار کی جانشین بن جا ئیں اور سالکان راہ اور طالبان حق کی تعلیم وتربیت فرمائیں لیکن آپ نے یہ کہہ کر انکا ر کیا کہ ہمدان سے شیخ محمد الوندی پیر ہمدان کو بلائیں کیو نکہ میرے والد کے ہاں سب سے زیادہ محبوب اور راہ طریقت میں ہم سب سے زیادہ آگے وہی ہے انہیں خلیفہ بنائیں اگر وہ انکار کریں گے تو دوسرے نمبر پر خلیل اللہ بغلا نی ہیں انہیں خلیفہ بنائیں ۔پیر ہمدان صولغان پہنچ جا تے ہیں تو تمام ارادت مندوں کی موجود گی میں شاہ قاسم فیض بخش انہیں پسندیدہ پیشوا نامزد کر تے ہیں لیکن وہ یہ کہہ کر انکا ر کر تے ہیں کہ میری نظر میںجومقام اور مر تبہ آپ کا ہے وہ ہم سب سے بلند و ارفع ہے آپ کی موجو د گی میں ہماری کیا بساط ہے لہذا ہماری پیشوائی اور سردوری آپ کو زیب دیتا ہے یہ کہہ کر انہوں نے خود شاہ قاسم کر ہا تھ پر بیعت کی اور وہاں موجود تمام عقید تمندوں نے بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اس طرح شاہ قاسم فیض بخش میر سید محمد نوربخش کے بعد متفقہ طور پر خلیفہ اور جانشین ہوگئے اور تمام سالکین درویشوں ،مریدین ،اور مخلصین کی ہدایت فرما نے لگے(تحفتہ الاحباب ص۹۴)
فیض بخش خراسان میں:۔سید قاسم فیض بخش کے زمانے میں ایران وافغا نستان پر کئی بادشاہوں کی حکومت تھی رے(موجوہ تہران)ہمدان ،گیلان وغیرہ پر مشتمل علاقہ عراق عجم یا صرف عراق کہلاتا تھا اس ملک پر سلطان یعقوب مرزا مغل کی حکومت تھی جبکہ ،خراسان ،ہرات ،اور کابل وغیرہ کامشتمل علاقہ خراسان کہلا تاتھا دارلحکومت ہرات تھا اس ملک کا بادشاہ سلطان حسین یقران تھا سلطان حسین مرزا سلسلہ نوربخشیہ سے بہت زیادہ متاثر تھا ان کے زمانے میں خراسان میں سید محمد نوربخش کے اردات مند وں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ان کی زبانی جب شاہ قاسم فیض بخش کے مقام و مرتبے اور قابلیت کے بارے میں سنا تو وہ ان سے ملنے کا اشتیاق ہوا چنانچہ تحفہ و ہدایا کے ساتھ انہیںمتعدد خطوط لکھے اور ہرات آنے کی درخواست کی(تحفتہ الاحباب ص ۱۰۹)
سلطان حسین ایک مہلک مرض میں مبتلا تھا ہر طرح کے علاج و معالجے سے تندرست نہیں ہو سکا جب بادشاہ نے شاہ قاسم فیض بخش کی طبابت کے بارے میں سنا تو سلطان یعقوب والی عراق کے پاس ایلچی کو یہ کہہ کر بھیجا کہ سیدقاسم فیض بخش کو ہرات بھیج دیںسلطان یعقوب نے فیض بخش سے مشورے کے بعد تجویز مان لی اس طرح آپ عراق آگئے۔سید قاسم شاہ صولغان سے چل کر مشہد پہنچے امام علی بن مو سی ٰ الرضا کے روضہ مبارک کی زیارت کے بعد وہاں چند دن قیام کیا اتنے میں مرزا حسین والی کی طرف سے روانہ کردہ فوجی دستے بھی وہاں پہنچے انہی کے جلو ے میں آپ ہرات روانہ ہو ئے جو سلطان حسین کا پایہ تخت تھا۔(تحفتہ الاحباب ص۱۱۰)
سلطان حسین نے آپ کی بڑی تکریم کی کچھ دن تو ضیافتوں اور تعارفی ملاقات میںبسر ہو ئے پھر آپ نے سلطان کا علاج شروع کیا جس کے نتیجے میں سلطان صحت یا ب ہونا شروع ہو گیا اگرچہ سلطان پہلے آپ کا متقد تھا اس واقعے سے وہ اور بھی معتقد ہوا سلطان اور اس کی اہلیہ آپ کے حلقہ اردات میں شامل ہو گئے اور بیانانک (سمنان )کا علاقہ آپ کو بطور جاگیر عطا ہوا(طرائق الحقائق جلد سوم ص۵۵)
فیض بخش اور مولانا جا می میںاختلاف :۔فیض بخش ہرات میں سلطان حسین کے مہمان تھے اس حیثیت سے وہ ہرات میں کچھ عرصہ رہے اس دوران انہوںنے سلسلہ نوربخشیہ کو متعارف کرادیا ملا عبد الرحمن جامی سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھتے تھے فیض بخش کی مقبولیت اور سلسلہ نوربخشیہ کی اشاعت انہیںناگوار گزرتی تھی چنانچہ نہ صرف انہوںسلطان حسین کو فیض بخش سے بد ظن کیابلکہ مختلف موقعوں پر فیض بخش کے خلاف الزام تراشی کی بھی کو شش کی ایک دفعہ ملا جا می نے بطو ر استہزا کہا کہ معلوم ہو تا ہے کہ میر سید محمد نوربخش انتہا ئی سخی تھے اپنے تمام مریدوں بلکہ تمام عالم کو نور عطا فرماتے اور نوربخش کہلا ئے تاآنکہ اپنی اولاد کو بخشنے کے لئے کچھ نو ر باقی نہیں بچایا اور اس قاسم فیض بخش کو نور سے بالکل بے بہرہ چھوڑدیا(تحفتہ الاحباب ص۲۸۳)فاضل مصنف نے مولانا جامی کی ان باتوں کا سخت جواب دیا اور ان کی اس استہزا کی شدید تردید کی ۔علامہ تفتارانی اور شیخ جا می دونوں آپ کی وجاہت اور مقبولیت کو دیکھ کر جلتے تھے ایک دفعہ انہوں نے ایک سازش تیا رکی کہ جمعہ کو جامع مسجد بلا یا جا ئے اور ان پر علوم رسمیہ سے ہر طرح کے سوالا ت کئے جائیںاور جواب نہ ملنے پر ان کو شرمندہ کر نے کامو قع مل جا ئے گا ۔انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ اگلے جمعہ کو شاہ قاسم کو مسجد میں مدعو کیا جا ئے تاکہ ہم ان سے فیض حاصل کریں ۔بادشاہ ان کی سازش سے بے خبر تھا اس نے ان کی تجویز کو پسند کیا آ نے دعوت قبول کر لی چنانچہ جمعہ کا خطبہ آپ نے دیا آپ نے لا الہ الا اللہ کے موضوع پر تقریر کی دوران تقریر ملا جامی نے کہا کہ مجھے اس پر اعتراض ہے شاہ قاسم نے فورا کہا میںنے عراق میں سنا تھا کہ آپ کو علی کی ولایت پر اعتراض ہے اب اگر کلمہ طیبہ پر بھی اعتراض کریں گے تو آپ کو کا فر ٹھہریں گے لو گ یہ جوا ب سن کر جامی پر ہنسنے لگے(طرائق الحقائق جلد سوم ص۵۵نیز۱۲۹)
فیض بخش کی خراسان سے واپسی :۔شاہ قاسم فیض بخش ایک عرصہ تک خراسان کے دارلحکومت ہرات میں مقیم رہے اور نہ صرف مرزا سلطان حسین کا علاج کر تے رہے بلکہ سلسلہ نوربخشیہ کی ترویج و اشاعت کے لئے بھی کا م کرتے رہے۔ساتھ ہی انہیں کیمیا گری کا شوق بھی تھا اس شوق کی تسکین کیلئے مختلف تجربات بھی کر تے رہے،اگرچہ سلطان حسین اور ان کی بیگم آپ کے عقیدتمند بن گئے تھے تاہم فیض بخش کا مرید ان کا بیٹا مرزا کیجک تھا جب مرزا کیجک کا انتقال ہوا اور نلا جا می سے بھی اختلاف بھی زرو بڑھنے لگے نیز انہیں اپنے آبائی وطن سے جدا ہو ئے بھی عرصہ بیت چکا تھا تب انہوںنے واپس عراق (قہستان)جا نے کا فیصلہ کیا سب سے پہلے آپ نے سلطان حسن کے پاس جا کر اپنا مدعا بیان کیا اور ان سے جا نے کی اجاز ت چاہی چنانچہ شامی فوج کی معیت میں عزت واحترام کے ساتھ اپنے وطن کی طرف مراجعت فرمائی(تحفتہ الاحباب ص۲۸۶اور۲۸۹)
اولاد :۔شاہ قاسم فیض بخش کے تین بیٹے تھے ۔۱۔شاہ شمس الدین ،۲۔بہاوالدین حسن ،۳۔شاہ ابو لمعالی
شاہ شمس الدین :۔آپ کے بڑے بیٹے تھے جن کی تعلیم و تربیت میر شمس الدین عراقی نے کی تھی عراقی کی تعلیم و تربیت کی وجہ سے خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے یہ بہت بڑے عالم دین اور صاحب فضل و کمال بن گئے فیض بخش نے اپنی زندگی میں تو بہ و انابت لینے اور اوراد وظائف دینے کی اجازت دی تھی اس طرح فیض بخش کی زندگی ہی میں وہ شیخ طریقت کے عہدے پر فائز ہو ئے تھے جب ایران میں شاہ اسماعیل صوفی کو عروج حاصل ہوا تو آپ کی مادر علمی اور روحانی قدر ومنزلت کو دیکھتے ہو ئے آپ کو عزت و قار بخشی آپ فیض بخش کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے،،
بہاو الدین حسن :۔آپ شاہ قاسم فیض بخش کے منجھلے بیٹے تھے بہت بڑے عالم اور بہترین انشا پرداز تھے والی ہرات سلطان حسین مرزا کے عہد میں عراق سے دار السلطنت ہرات آئے اور خواجہ فضل الدین محمد کرمانی کی خانقاہ میں اقامت گزین ہو ئے اور جلد ہی اعلیٰ حکام اور عوام کے منظو ر نظر بن گئے جب سلطان حسین مرزا کا انتقال ہوا اور ملک میں بد امنی پھیل گئی تو آپ عراق اور آزربائیجان کی طرف روانہ ہو ئیاور شاہ اسماعیل صفوی کے دربا ر سے منسلک ہو ئے دو تین سال بعد چخل خوروں اور بدخواہوں نے شاہ اسماعیل کے کان بھرنا شروع کئے آخر الامرآپ کوقتل کردیئے گئے(طرئق الحقائق جلد سوم)
آپ نے ہدایت الخیر کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا ایک باب سبع المثانی کے حاشیے پر شائع ہو چکا ہے اور مکمل کتاب کی فوٹو کاپی راقم نے مدرسہ نوربخشیہ کراچی کی لا ئبریری میں دیکھی ہے جس میں۳۰۲صفحات پر مشتمل ہے اور ۱۲۴۶ھ کی لکھی ہو ئی ہے
شاہ رضا بن بہاو الدین بن قاسم فیض بخش :۔شاہ رضا خلف شاہ بہاو الدین فاضل ترین اولاد شاہ قاسم نو ربخش بودہ ایں چند بیت از انتخاب و درین او رات بیاد گار ثبت شد بد نگفتہ۔
ندارم پا ی رفتن گرچہ از بز مش بامیدی ۔کہ باشد گویدم یک لحظہ بنیشن زودبرخیزم
بوز وصلت از آنخاطر غمین درام ۔کہ دشمنی چو فراق تو در کمین درام
شود تابا تو عشق ہر کس معلوم در مجلس ۔برم ساعتی نام تو و در این و آن بینم
(آتشکدہ آزر ص۱۷)
شاہ ابوالمعالی :۔آپ شاہ قاسم فیض بخش کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور فیض بخش کے ہاں بہت عزیز تھے ہرات روانگی کے وقت آپ کے ساتھ تھے جبکہ فیض بخش دیگر بچوں کو صولغان چھوڑ کر گئے تھے ان کا ہرات ہی میں انتقال ہو گیا تھا فیض بخش نے تین دن سوگ منایا چالیس دن تک ہر روز صبح ہرات بھر کے قراء اور حفاظ کے ذریعے قران خوانی کروائی درویشوں اور عقید تمندون کی ایک جماعت وہاں متعین کی گئی تاکہ وہ رات کو اوراد فتحیہ اور قران پڑھا کریں(تحفتہ الاحباب ص۱۱۵،۱۱۷،۱۱۸)
خلفا ومریدین :۔جس طرح آپ نے بہترین تعلیم و تربیت پا ئی تھی مروجہ علوم وفنون میں بحر ذخائر تھے اس طرح تعلیم و تربیت دینے میں آپ کا کو ئی ثانی نہ تھا آپ نے نہ صرف خود اپنی اولاد اور مریدین و متوسلین کی تعلیم و تربیت میں کو ئی دقیقہ فرا گزاشت نہیں کیا بلکہ اپنے نامور مریدین کے ذریعے ان کی مزید تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کر تے تھے ۔ آپ سے استفادہ کر نے والوں کے نام درج ذیل ہے۔
۱۔مولانا شیخ محمد الوندی ہمدانی المعروف بہ پیر ہمدان
۲۔مولانا خلیل اللہ بغلانی
۳۔برھا ن الدین بغدادی
۴۔شمس الدین لا ہیجی
درج ذیل حضرات آپ کے مرید اور شاگرد تھے۔
۱۔میر شمس الدین محمد عراقی
۲۔مولانا حسنی کو کئی (ملخص فقہ احوط درزبان فارسی )
۳۔مولانا حسین واعظی(مصنف تفسیر حسینی)
۴۔امیر سید جعفر نوربخش (پسر سید محمدنوربخش)
۵۔مولانا علی قوسجی
۶۔مرزا کیجک (پسر سلطان مرزا والی خراسان )
۷۔الخ بیگ مرزا (پسر سلطان سعید خان والی ترکستان)
۸۔مولانا عبد اللہ ہاتقی
۹۔مولانا شمس الدین محمد (پسر فیض بخش )
۱۰۔شاہ بہاو الدین حسن(پسر فیض بخش )
۱۱۔مولانا حسین ابر قواہی
۱۲۔شاہ قوا م الدین پسر شاہ شمس الدین بن فیض بخش ۔
۱۔ا ن میں میر شمس الدین عراقی علمی و معنوی لحاظ سے سب پر فائق تھے چنانچہ فیض بخش نے اپنی زندگی میں خط ارشاد دی کر مختلف جگہوں پر روانہ کیا آخر میں اپنا خلیفہ بنا کرکشمیر روانہ کیا کشمیر اور بلتستان کے نوربخشی انہی کے سلسلے سے منسلک ہیں۔
۲۔جس وقت فیض بخش کا وصال ہوااس وقت شاہ قوا م الدین محمد فیض بخش کے پاس موجود تھے۔فیض بخش نے انہیں اپنا جا نشین نامزد کیا تھا ایران سے تعلق رکھنے والے صادق عنقا اس سلسلے سے ہیں جو اس لا س اینجلس(امریکہ) میں مقیم ہیں ۔
۳۔مولانا حسین ابر قواہی آپ کے تیسرے خلیفہ ہیں جن سے چلنے والا سلسلہ تہران میں اب بھی موجود ہیں آقائی مشکور تہران اسی سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں
تصنیف و تالیف :۔حضرت شاہ قاسم فیض بخش بہت بڑے عالم دین ،عالم شریعت،اور عارف حقیقت ہونے کے ساتھ بہت اچھے حاذق طبیب ،ہیبت دان ،رمال ،منجم جڑی بوٹیوں کے اثرات سے اچھی طرح واقف تھے لیکن یہ بھی حققیت ہے کہ اتنے عالم متجر ہو نے کے ساتھ انہوں نے کو ئی تصنیف نہیں کی۔
فیض بخش سے متعلق فاش غلط فہمی :۔بلتستان سے باہر کی دنیا میں یض بخش سے منسوب کسی تصنیف و تالیف کا کو ئی پتہ نہی چلتا ان کے تفصیلی حالا ت تحفتہ الاحباب میں مندرج ہیں اسی طرح چند کتب اور رسائل میں ذکر آیا ہے ان میں بھی ان کی کسی تصنیف کا کو ئی ذکر نہیں اس کے باوجود مبینہ طور پر فیض بخش سے منسوب تین کتابیں بلتستان میں نوربخشیوں کے ہا ں رائج ہیں وہ یہ ہیں
۱۔افاضات نوربخش
۲۔مصابیح الاسلام
۳۔رسالہ امامیہ
ذیل میں ہم ان کتابوں کی اصلیت کی تحقیق کرتے ہیں ۔
۱۔افاضات نوربخش :۔سید قاسم شاہ فیض بخش سے منسوب عربی میں ۵۶صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ادبی پریس کراچی سے شائع ہوا ہے اگر اس کتابچہ پر تاریخ اشاعت درج نہیں ہے لیکن یہ ۱۹۵۶اور ۱۹۰۷ کے درمیان اخوند غلام مہدی کریس والے سابق امام جامع مسجد صوفیہ نوربخیہ محمود آباد کراچی والے نے کراچی سے شائع کیا ہے اسی دوران مشہور سنی شخصیت محمد سعدی خپلوینے ضیا برقی پریس راولپنڈی سے فقہ احوط منظوم در فرائض۱۶ صفحات پر مشتمل شائع کروائی ہے نیزاسی دوران منتظمین جامعہ نوربخشیہ نامی فرضی ادارے کی جانب سے تشریح الفرائض کے نام سے دو صفحات پر مشتمل کتابچہ اشرف پریس لا ہور سے شائع کیا ہے ان میں سے اول الذکر عربی میں ہے یہ فقہ ا حوط کے با ب الفرائض کی من مانی نثری تشریح ہیں مصنف نے فقہ احوط کی عبارات پر خط کھینچ کر ان کی تشریح کی یہ سب مولوی خلیل الرحمن بلغاری کی اختراع ہے۔ فقہ احوط منظومہ در فرائض فارسی نظم میں ہے اصل کتاب بلتستان کے مشہور شاعر اخوند سلطان علی بلغاری کی ہے جنہوںنے فقہ احوط کا فارسی منظوم ترجمہ کیا ہے مولوی خلیل الرحمن نے آخوند سلطان کی منظوم باب الفرائض میںبہت سے خود ساختہ اشعار شامل کر لئے ہیں۔اور اسے مولوی سعدی خپلوی کے ذریعے سے شائع کروایا ہے۔تشریح باب الفرائض اردو میں ہے جو اول الذکر تصنیف کا ترجمہ ہے اور جا معہ نوربخشیہ بھی ان کے سازشی ذہن کا تراشیدہ ہے۔مولوی خلیل الرحمن بلغاری کے دو بیٹے ہیں ان میں ایک محمد باقر اور دوسرا محمد اسحاق ہیں اسحاق نامی بیٹے کی منا سبت سے وہ اپنی کنیت ابو اسحاق عجمی استعمال کر تے ہیں اور محمد باقر کی رعایت سے اپنی کنیت شیخ ابو لباقر بھی تحریر میں لا تے ہیں جیسا کہ مشجر الاولیا کے ناشر کی حیثیت سے یہ نام آیا ہے مولوی صاحب عربی اور فارسی کے بلند پا یہ عالم تھے اہل حدیث کے مختلف مدارس میں پڑھا تے رہے۔آخر ایام دار العلوم غواڑی بلتستان میں شیخ الجامعہ کی حیثیت سے گزار کر وہیں فوت ہوئے۔وہ عربی فارسی اور اردو میں شعر گو ئی کی صلاحیت رکھتے تھے شاہ قاسم فیض بخش کی تعریف میں مندرجہ ذیل اشعار ان کے اپنے انداز میں
مظہران مھمات نوربخش ۔فیض بخش و فیض و نوربخش
مسکن درد شقاق واختلاف ۔نوربخش و نوربخش و نوربخش
این ستودہ دوست رحجان را بدان۔خیر بخش وفیض بخش نوربخش
غر ض یہ کتاب مولوی خلیل الرحمن کا ساختہ پر داختہ اور ترجمہ کردہ ہے اس کا فیض بخش سے کو ئی تعلق نہیں ہے۔
مصابیح الاسلام :۔یہ کتب عربی میں ہے اور خطبتہ الکتاب اور مختلف فروعی مسائل پر مشتمل ہے اس کے نسخے کو کو ئی سراغ نہیں ملتا تاہم اس کے دو چھا بی نسخے دستیاب ہو سکے
۱۔پہلی بار یہ ۱۳۱۵ھ /۱۸۹۷ء میںسید عباس ولد سید جلال (پدر سید شریف الدین)خپلوغورسے نے شائع کیا ہے یہ چھوٹی تقطیع کی ۳۹ صفحات پر مشتمل اغلاط سے بھر پور ہیں ۔
۲۔دوسری بار ۱۳۴۶/ ۱۹۲۸ء میں سید قاسم شاہ کھر کوی نے کتاب نوربخشیہ کے ساتھ نگینہ پریس جالندھر سے شائع کی ہے یہ بھی اغلاط سے بھر ی پڑی ہیں۔
ان دونوں چھا بی نسخوں کی اشاعت اکتیس سال کا وقفی ہے دونوں میں کا فی فرق پا یا جا تا ہے سید قاسم شاہ کے نسخے میںشاہ قاسم فیض بخش کے نام بطور مئولف دو جگہ آیا ہے جبکہ دوسرے نسخے میں صرف ایک جگہ دونوں میں تفاوت کی مثال ملا حظہ کیجئے۔نسخہ سید قاسم شاہ۔’’انا قاسم بن محمد ابن عبد اللہ ابین بمالا یعین فی دیننا و کتابنا الفقہ الاحوط (ص،۱۳۲)منکہ قاسم بن محمد بن عبد اللہ ہوں میں وہ مسائل بیان کروںکا جو ہمارے دین اور ہماری کتاب فقہ الاحوط میں معین واضح نہیں ہیں ۔
نسخہ سید عباس ۔فیقول الضعیف قاسم بن محمد عفی اللہ عنھما کتبت ھذا لکتاب امتئا لابامر بی………( سید محمد نوربخش ص۸)پس ضعیف قاسم بن مھمد عفی اللہ عنھما کہتا ہے کہ میں نے یہ کتاب اپنے اباجان …… سید محمد نوربخش کی حکم کی تعمیل میں لکھی ہے۔اہل علم سے مخفی نہیں کہ یہ بین فرق کتاب کے جعلی ہو نے کا ثبوت ہے۔سید قاسم شاہ کے نسخے میں للفرقہ ناجیہ،امامیہ،صوفیہ معروف بہ نوربخشیہ لکھا ہو اہے جبکہ سید عباس کے نسخے میں یہ پوری عبارت سرے سے موجود نہیں ہے۔
وفات :۔
آپ کی وفات کب ہو ئی ؟اس بارے میں تاریخ خاموش ہیں ۰طرائق الحقائق میںجلد سوم ص۱۲۸)میں معصوم علی شیرازی نے سن وفات سن ۹۲۷ھ بتاد ی ہے قا ضی نور اللہ شوستری نے مجالس المومنین ص۳۰۶میں۹۸۱ھ لکھی ہے تحفتہ الاحباب میں آپ کے تفصیلی حالات زندگی مندرج ہے حتی کہ مرض الموت اور وفات کی کیفیت تک درج ہے لیکن ماہ و سال کہیں درج نہیں اس طرح ہمیں معلوم نہیں ہو تا کہ آپ کب فوت ہو ئے کتنے سال کی عمر پا ئی۔تحفتہ الاحباب کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ قاسم نے درشت نامی بستی میں وفات پا ئی تھی نو جویں صدی ہجری کے دوران قہستان اور رے کا حصہ تھا ۔وفات کے بعد آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں اس بات پر جھگڑا ہوا کہ فیض بخش کے جسد خاکی کو صولغان لے جا یا جا ئے تا کہ وہاں سید محمد نوربخش کے جوار میں سپرد خاک کیا جا ئے۔چنانچہ درشت میں مدفون ہو ئے یہ جگہ آجکل دارالحکومت ایران کے نواح میں واقع ہیں اور آپ کا مزار پر انوار بڑی پر شکوہ عمارت کی صورت میں موجود ہیں مزار کی عمارت آج کل محکمہ ٹیلیگراف آفس کے احاطے میں واقع ہیں اس عام طور پر سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے عام آدمی کی آمد و رفت کے لئے عام طور پر بند رہتی ہے۔