گرگان یا جرجان ایران کے ایک صوبے اور صوبائی دارلحکومت کانام ہے جہاں دو بزرگ بہت مشہور گزرے ہیں ایک شیخ ابولقا سم گرگانی اور دوسرے میر سید شریف گرگانی ہے اول الذکر شیخ ابوالقاسم گرگانی بہت بڑے کشف و کرامات ولی اللہ تھے جبکہ ثانی الذکر علوم معقولات علم کلام اور فلسفہ کے مشہور استاد تھے اور میر سید محمد نوربخش کے ہمعصر بھی تھے ۔شیخ ابو القاسم گرگانی علوم و فنون کے ماہرشریعت و طریقت کے شناور اور اسرار حقیقت سے بھی آگاہ تھے آپ گرگان میں پیدا ہو ئے تھے آپ کا نام علی بن عبد اللہ گرگانی تھا آپ شیخ ابو بکر نساج ؒ کے استاد اور حضرت شیخ ابو عثمان مغربی کے شاگرد اور خلیفہ تھے آپ کادوسرانامور مرید حضرت علی ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخش ہیں جن کا مزار لا ہو ر میں ہے آپ کی تیسرے نامور مرید شیخ ابو علی فارمدی ہیں جو سلسلہ نقشبندیہ میں شیخ طریقت ہیں ۔
کلمتہ الثنا ء :
داتاگنج بخش ہجویریؒ ۔متاخرین صوفیہ میں قطب زمانہ حضرت ابو القاسم بن علی عبد اللہ متعنا اللہ المسلمین ببقائی ہیں آپ اپنے وقت میں عارف بے نظیر اور اپنے زمانے میں صوفی بے بدل ہیں
شاہ نعمت اللہ کرمانی۔
پیر نساج شیخ ابو القاسم ۔مرشد عصر و ذاکر دائم
میر سید محمدنوربخش ؒ ۔ ’’کان اوحد زمانہ بالمجاہدہ والمشاھدہ و معرفۃ الطریقتہ وارشاد المرشدین و تربیت المساکین ‘‘۔آپ مجاہدہ ۔مشاہدہ طریقت کی معرفت ،مرشدین کی اظہاراور سالکین کی تربیت میں اپنے زمانہ کے یکتا ئے روزگار اولیا میں سے تھے (سلسلتہ اولاولیا ،ص ۲۵) ’’ولہ فی الاحوال السنیتہ المقامات العلیتہ والتجلتہ البھیتہ والمشاہدات شان کبیر بین اھل الاحوال وارباب الولایتہ من کمل الرجال‘‘ رجال کامل میں سے اہل اور ارباب ولایت کے درمیان آپ کے احوال مقامات عالیہ ،تجلیات ظاہرہ اور مشاہدات میں بڑی شان ہیں (سلسلتہ الاولیا ،ص ۲۵)ایضا (صحیفتہ الاولیا ص ۲۵)
دگر شیخ ابو القاسم گرگان ۔کہ قطب است در وقت خود بی گمان
محمد بندہ گیسو دراز ۔ ’’ آں مالک الاحوال ،سید الرجال ،سدید الفعال،حمید الخصال االمتخلق بالااخلاق للہ الکبیر المتعال ،المحو المطعوس ،الفانی فی الادبار الازان ،الباقی الثابت باللہ لم یزل و الازوال‘‘حال تصرف کے مالک ،مردان حق کے سردار ،درست کام کر نے والے ،بہترین خصلت والے ،بزرگ برتر اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے متصف ہو نے والے ازل و ابد میں گھس پس کر فنا ہو نے والے لازوال اللہ تعالیٰ میں بقا پا نے والے (یازدہ رسائل گیسو دارز ،ص ۲۵)
مولانا عبدالرحمن جامی۔
نامہ وی علی است در وقت خود ۔بے نظیر بود در زمان خود بے عدیل
آپ کا نام علی ہے۔آپ اپنے وقت میں کو ئی نظیر نہ رکھتے تھے اور اپنے زمانے میں کو ئی ثانی نہ تھا (نفخات الانس ،ص ۳۰۷)
جان محمد قدسی ۔
نسبت او بہ پیر ربانی ۔شیخ ابو القاسم است جرجانی(تحفتہ الاحباب،ص۳۹۴)
معصوم علی شاہ شیراز ی۔ در جمیل علوم صاحب کمال بودہ پیشوائے اربائے حقائق و معانی قطب سالکان بیدای شیخ ابوالقاسم گرگانی۔شیخ ابو اکلقاسم گرگانی تمام علوم میں صاحب کمال تھے آپارباب حقائق و معانی کے پیشوا تھے اور سالکان میدان سبحانی کے قطب تھے (طرائق الحقائق جلد دوم ،ص ۵۵۰)
علی قویم ۔
گرگانی اندر وقی کود نظیر نداشتہ است۔ھمہ اھل درگاہ روی دل بدوداشتہ
و اندر کشت و قائع مریدان آیتی بودہ است۔
ابو القاسم گرگانی کا اپنے زمانے میں کو ئی نظیر نہ تھا تمام اہل اللہ کی توجہ آپ کی طرف تھے اور مریدوں کے واقعات کے کشف میں آپ کو کمال حاصل تھا (مقدمہ کشف المحجوب ،ص ۶۱)
محمد صادق عنقاء ۔
شیخ گرگانی عزیز اہل حال ۔افتخار قصر درجمع رجال
در طریقت حالتی ممتاز داشت۔سینہ مینا صفت پرواز داشت
درمیان الولیاء پیر است ۔خدمتش در راہ حق مالا یطاق
(مزا میر حق ،ص ۹۰)
مرزاثابت علی ۔
پیر بو بکر آن شہ نورانی است کیتتش بو القاسم گورگانی
(ریاض السیاحہ ،ص ۳۴۷)
روحانی قدر منزلت۔ ایک دن آپ اور شیخ ابو سعید دونوں جگہ بیٹھے ہو ئے تھے وہاں مریدوںکا جم غفیر بھی تھا ایک درویش کے دل میں یہ خیال آیا کہ ان دو حضرات کا مرتبی کیا ہے ۔شیخ ابو سعید نے اس کی توجہ دی اور کہا کہ جو شخص بادشاہوں کو ایک وقت میں ایک جگہ تخت پر بیٹھے دیکھنا چاہے تو دیکھ لے اس نے جب یہ سنا تو گور سے دیکھنا شروع کیا حق تعالیٰ نے اس کی آنکھ سے پر دے کو اٹھا لیا یہاں تک کہ شیخ کی سچائی اس کے دل پر کھل گئی پھر اس نے سوچا کہ دنیا میں کو ئی ایسا بندہ ہے جو ان دونوں بزرگوں سے بڑھ کر ہو شیخ ابو سعید نے اس کیطرف متوجہ ہو کر کہاکہ ایسا بھی ملک ہے جہاں ہم جیسے ستر ہزار جا تے اور ستر ہزار ؤتے ہیں (نفخات الانس ،ص ۳۰۸)
شیخ ابو علی فارمدی نے اپنے پیر ابو القاسم گرگانی سے کہا کہ میں نے خواب میں حضور ﷺ کو کسی امر کے متعلق یہ فر ماتے دیکھا کہ اس طرح سے کہا کہ یہ کیونکر شیخ نے یہ سن کر منہ پھیر لیا اور فرامایا کہ چوں و چرا کی جگہ تمارے دل میںنہ ہو تی توخوا ب میں بھی ہمیں اس طرح جواب نہ دیتے کہیں چوں چراکے ساتھ بھی مریدی درست ہو تی ہے(مکتوبات صدی ،ص ۱۸۵)
کشف وشہود ۔ جو آدمی مقبول درگاہ حق بن جا تا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اپنی ریاضت و مجاہدے کے بل بوتے پر اس کا باطن پا ک و صاف ہو جا تاہے نفسانیت اور بشریت کی تا ریکی و کثافت روشنی و لطافت میں بدل جا تی ہے اس روشن ضمیری کی بدولت اس کے لئے کو ئی راز راز نہیں رہتا لا کھ پردوںمیں پوشیدہ بات اس کے لئے عیاں ہو جا تی ہے ایسے روحانی مقام کے لئے کشف و شہود ،کشف قلوب،مکاشفہ ومشاہدہ وضع ہو چکی ہے حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانی کو کشف و شہود میں بڑا مقام حاصل تھا۔حضرت داتا گنج بخش لکھتے ہیں کہ ایک دن میں شیخ گرگانی کی خد مت میں حاضر تھا اور اپنے لطائف جو مجھ پر منکشف ہو ئے تھے عرض کررہا تھا تا کہ حال ان کی ہدایت کے مطابق درست کروں کیو نکہ آپ ناقد وقت تھے رضی اللہ عنہ حضرت گرگانی رحمتہ اللہ علیہ میرا حال تمام احترام کے ساتھ سنتے رہے۔میرے لڑکپن اور بچن کی نخوت اور جوش وجوانی مجھے اپنے حال کی ترجمانی کر رہا تھا اور دل میں یہ خیال سکہ زن تھا کہ جو لطائف مجھ پر منکشف ہو ئے ہیں شاید اس قدر لطائف ان پر منکشف نہیںہو ئے ۔یہی وجہ ہے کہ آپ اتنے گور وخوص سے سن رہے تھے شیخ علی رحمتہ اللہ نے اپنی فراست ولایت سے میرے ضمیر کی آوازو خیال سمجھ لیااور فرما یا کہ اے جان پدر!میری یہ فروتنی اور نیاز مندی تیرے لئے نہیں بلکہ میں ہر مبتدی سے جو اپنے حالات لطائف مجھے سناتا ہے ایسے ہی سنتا ہوں یہ صرف تمہا رے لئے خاص ہے جب میں نے آپ سے یہ الفاظ سنے تو میں خامو ش ہو گیا آپ نے جب میری خجالت محسوس فرمائی تو مجھ سے فرمایا بیٹا !انسان کو طریقت میںاسے زیادہ نسبت نہیں کہ جب وہ اس طریق کو اختیا ر کرتا ہے تو پھر اس کو چہ کے سوا کسی اورسمت اس جانا منظور نہیں ہو تا اور جب اس منصب سے معزول ہو جا تا ہے تو اسے کو چہ کے مذاکرے سے فروخت ہو تی ہے۔(کشف المحجوب،۳۳۱)
ایک د ن مجھے (یعنی داتا گنج بخش )کو ایک مشکل آپڑی او راس کا حل میرے پا س کو ئی نہ تھا چنانچہ میں نے شیخ ابو القاسم کی زیارت کے لئے طوس جا نے کا قصد کیا وہاںجا کر آپ کی گھر کی مسجد میں گیا دیکھا کہ شیخ صاحب تشریف فرما ہیں اور میرے مشکل کا تذکرہ مسجد کے ستون سے فرما رہے ہیں جس نے عرض کی حضور یہ گفتگو کس سے فرما رہے ہیں جو میرے حسب حال ہے فرما یا بیٹا اس ستون کو اللہ تعالیٰ سے اس گھڑی ناطق بنا یا ہے تا کہ وہ مجھ سے سوال کرے(کشف المحجوب ،ص ۲۴۳،نفخات الانس ،ص۳۳۸)
کرامات :۔ کرامات اولیا ء برحق ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کا دوست بن جا تا ہے اس سے مختلف محیر العقول واقعات کا صدور ہوتا ہے جس سے بزرگ کی روحانی قدر ومنزلت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے حضرت داتا گنج بخش کا بیان ہے کہ ان کی ایک عجوزہ بڑھیا ہیں جن کا نام فاطمہ ہے میں نے آزر کنند سے اس کی زیارت کا قصد کیاجب میںشیخ ابو القاسم کے پاس پہنچے تو مجھ سے پو چھا کیوںآیا ہے میں نے عرض کی شیخ کی زیات کو تا کہ ان کی شفقت سے میں بھی فیضیاب ہو سکوں انہوں نے فرمایا کہ میں خود فلاں روز سے تجے دیکھ رہا ہوں تا کہ مجھ سے غائب نہ ہو جا ئے اور میں تجھے چاہتا ہوں کہ دیکھتا رہوں جب میںاس دن سے حساب لگا یا تو وہ میری تو بہ کا پہلادن تھا ۔فرمایا بیٹا سفر کرنا اور طے مراحل میں پڑنا بچوں کا کام نہیں ہے اس زیارت کے بعد ارادہ کرکہ جسم کے (حد) روبرو ہو نے میں کچھ تعلق نہیں بڑھتا پھر فرمایا کہ فاطمہ جوموجودہو لاو تاکہ یہ درویش کھا ئے ایک طبق تازہ انگوروں کا لا یا گیا حالانکہ وہ موسم انگوروںکا نہ تھا اور کچھ چھوہارے بھی لا ئے گئے حالانکہ فرعانہ میں تازہ چھوہارے ملنا ممکن نہ تھا (کشف المحجوب ،ص ۴۲۴)
دینی حمیت و غیرت :۔ اولیائے کرام ہمیشہ اطاعت و عبادات خداوندی میں مصروف رہتے ہیں دنیا کے معاملات میں اپنا قیمی وقت بسر نہیں کر تے ۔مشہور کتاب شاہنامہ فردوسی کا مصنف حکیم………. فردوسی آپ کا ہمعصر نامور شاعر تھا جس نے سلطان محمود غزنوی کے حکم پر شاہ نامہ لکھا جس میں ایران کے قدیم بادشاہوں کے علمی ادبی،اور سیاسی کا رناموں کو اجا گرکیا گیا اور اس طرح دنیا میں مجوس اور مجوسی بادشاہوں کی مدح و ثیاء بیان کی او رانہیں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کیا آپ کو فردوسی کا یہ عمل پسند نہ تھا فردوسی کی موت کے بعد آپ نے اس کی غیر اسلامی سرگرمیوں کی وجہ سے اس سے نفرت کی اس ضمن میں یہ واقعہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔آپ فردوسی کا نما زجنازہ یہ کہہ کر نہ پڑھا کہ اس نے اپنی زندگی مجوسی کی مدح میں گزار دی اسی رات خوا ب میں دیکھا کہ حور وغلمان کے جھر مٹ میں بہشت میں پھر رہے ہیں ان سے سوا ل کیا تو کہا کہ صرف اس بیت کی وجہ سے ہے جس میں توحید کا بیان تھا ۔
جہاں را بلندی و پستی توئی ۔ندانم چہ ہر چہ ہستی توئی
شیخ خواب سے بیدار ہو ئے اور فردوسی کی مزار کی زیارت کے لئے روانہ ہو ئے اور اس سے معذرت خواہی کی (ریاض السیاحہ ،ص ۱۰۸ آتشکدہ آذر ،ص ۹۷)
آپ اویسی تھے : خواجہ محمد پارسا لکھتے ہیں کہ بعض اولیا ایسے ہین جنہیں ظاہرا پیر کی ضرورت نہیںہو تی چونکہ انہیں براہ راست رسول کی روحانیت تربیت کرتی ہے جیسے اویس قرنی کی تربیت فرما ئی ایسے بزرگ اویسی کہلا تے ہیں ۔بہت سے مشائخ طریقت کو شروع شروع میں اس مقام کی طرف توجہ رہے ہے چنانچہ شیخ بزرگوار ابو القا سم گرگانی طوسی اور نجم الدین کبریٰ کے سلسلے کے مشائخ جن کا سلسلہ آپ سے ملتا ہے ابتدا ء میں ہمیشہ اویس اویس کہا کر تے تھے۔(رسالہ قدسیہ ،ص ۱۳۱)
تعلیمات:
درویش کی ضرورت : میں نے یعنی علی بن عثمان ّ(جلا لی ) نے حضرت شیخ ابو القاسم گرگا نی رحمتہ اللہ علیہ سے مقام طوس میں سوا ل کیا کہ درویش کو کم ازکم کیا چیز لا زم ہے جس سے اس کے ناموں کے ساتھ نام فقر موزوں ہو سکے فرمایا تین چیزیں کم ازکم ضروی ہیاول یہ کہ وہ اپنی کمبل پر پیوند خود لگائے تو یہ سمجھے کہ پیوند کس طرح موزوں رہے گا اور اسے کس طرح کمبل پر چسپاں کرے ۔دوسری یہ ہے کہ (دل کی آواز اور عوام کی بات )سن سکے اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کی اہلیت رکھے ۔تیسری یہ کہ فقیر کا کوئی قدم زمین پر بے کا ر نہ پڑے (کشف المحجوب ،ص ۱۴۱ طرائق الحقائق جلد دوم،ص۵۵۲)
صفات خداوندی کا مظہر : اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسمائے حسنی سالک طریقت کے اوصاف بن جا تے ہیں اگر چہ سلوک کی منزل میںہواور واصل بحق نہ ہوا ہو (عوارف المعارف ،ص ۳۸۹)شیخ ابو علی فارمدی کہتے ہیں کہ شیخ ابو القاسم گرگانی نے فرمایا’’ان الاسماء التسعتہ و تسعین تصیر اوصاف العبد السالک وھوبعید فی السلوک غیر واصل ‘‘اسمائے حسنی کے ننانوئے نوموں میں سے عبد سالک متصف ہو تو بھی ابھی وہ سلوک میں دور اور غیر واصل ہے(استقامت الشریعت بطریق الحقیقہ ۔ص ۱۹)وفات؛ آپنے ۲۳صفرالمظفرہجریکوگرگان میںوفات پائی،جومشہدمقدس کے مضافات میںسے ہیںجہاں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے

 

 

نام کتاب :احوال صو فیہ :شمارہ نمبر (۱۷ ) شیخ ابو القاسم گرگانی رحمتہ اللہ علیہ:تحریرغلام حسن نوربخش :ما ہ مارچ:۱۹۹۷ء