آپ کا نام سعید کنیت ابو عثمان اور والد کا نام سلام تھا شما لی افریقہ سے تعلق رکھنے کی بنا ء پر ابو عثمان مغربی کہلا تے تھے آپ حضرت شیخ ابو علی کا تب کے شاگرد اور ابو القام گر گا نی کے استاد تھے جو انی میں راہ فقر و سلوک اختیا ر کی اور ریاضت و مجاہدہ کر نے لگے اللہ تعالیٰ نے کشف و شہود سے نوازا اور بارگاہ خداوندی میں قبو لیت بخشا آپ 243 ہجری میں پیدا ہو ئے اور 373 ھ میں 130 سال کی عمر مین جان بحق ہو ئے آپ کا مزار مبارک نیشا پور (ایران ) میں ہے۔
کلمتہ الثنا ء
حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ :سیف السادات سیادت حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی اہل تمکن کے سردار اور علم خط کے بہترین ماہر تھے ریاضت وثبات توکل میں مشہور تھے آفات نفس کے عالم تھے آپ کی علامات ،روایات اور براہین واضح ہیں ۔(کشف المحجوب ،ص 317 )
الاقل لساری اللیل لا تخش ضلتہ ۔سعید بن مسلم ضوء کل بلاد ۔
رات کے مسافر سے کہو کہ کسی تاریکی کا خوف نہ کرے کیو نکہ سعید بن سلام ہر ملک کی روشنی ہے۔
لناسید عال علی کل سید!۔جواد حنیَ فی وجہ کل جواد
عبد الرحمن سلمیٰ ۔’’لم یری مثلہ فی علوالحال وصف الوقت ‘‘آپ جیسا حال زمانے میں نہیں دیکھا گیا (طرائق الحقائق جلد دوم ،ص 538 )
فر یدالدین عطار ۔ آپ حقائق وقائق کا سرچشمہ ۔اور کرامت و ریاضت کا منبع و مخشن تھے مدتوں حرم شریف کے مجاور رہے اور بے شمار بزرگوں سے فیض حاصل کیا اور ایک سو تیس سال کی عمر میں نیشا پور وفات پا ئی (تذکرہ الاولیا ،ص 347)
میر سید محمد نوربخشی : مرشد عربی ابو شیخ عثمان مغربی (کشف الحقائق ،ص 15 )۔ایضا دگر شیخ ابو عثمان مگربی کہ بودا اویکشف و عیا ن نبی (صحیفہ اولیا ،ص 34 )
ولم یر مثلہ فی الاحوال العالیتہ و فنون الوقت وصحتہ الحکم باضر استہ و قو الھیتہ ‘‘آپ کی مانند کو ئی بھی احوال عالیہ فنون وقت ،فراست میں درست فیصلہ کر نے والا زبردست روحانی قوت کا حامل نہیں دیکھا گیا (سلسلتہ الاولیا ء ،ص 23 )
شاہ نعمت اللہ کر مانی ۔
باز شیخ بزرگ ابو عثمان ۔
کہ نظیرش نبود در عرفان
) طرائق اول ،ص458 )
جان محمد قدسی ۔ نسبت اوربمعدن عرفان مرشد راہ شیخ ابو عثمان (تحفتہ الاحباب ،ص 394 )
عبدا لرحمن جا می ۔ آپ برسوں مکہ معظمہ کے مجاور رہے آپ وہاں پر سید الوقت اور یکتائے مشائخ تھے (نفخات الانس ،ص 87 )
معصوم علی شیرازی۔ ’’نندہ انوار شریعت ،دانندہ اطوار طریقت ،وارندہ اسرار حقیقت وارث علم ابو عثمان مغربی‘‘انوار شریعت سے واقف ،اطوار طریقت سے آگاہ اسرار حقیقت کے جان نثار ، علم نبی و ولی کے وارث حضرت ابو عثمان مغربی (طرائق الحقائق جلد دوم ،ص 538 )
سید قاسم محمود ۔ ابو عثمان سعید بن اسلام مغربی مشہور صوفی ولی کامل،شیخ ابوالحسن صالح دنیاوی کے مرید اور شیخ ابو علی کا تب کے شاگرد اور خلیفہ تھے شروع میں بے حد دولت مند تھے ایک کتے کی وفاداری دیکھ کردنیاداری چھوڑ دی ۔
تصوف میں آمد ۔ آپ مغرب کے قیرون سے تعلق رکھتے تھے جوانی میں شکار اور سواری کی جانب مائل تھے چنانچہ ایک دفعہ شکار کے لئے ایک جزیرے میں گئے اور وہاںشکار کے لئے جا ل پھیلادیا۔آپ ایک لکڑی کے پیا لے میں دودھ پیا کر تے تھے جب شکاری کتے نے اس پر بھو نکنا شروع کیا آپ دودھ نہ پی سکے جب تیسری بار ارادہ کیا تو کتے نے اس برتن میں منہ دال دیا اور دودھ خود پی گیا اس کے ساتھ ہی وہ مر گیا بعد میں پتہ چلا کہ اس میں کسی سانپ نے منہ ڈالا تھا آپ کی زندگی کی خاطر کتے نے اپنی جان گنوادی یہ دیکھ کر آپ واپس آئے اور شکار کا شغل چھوڑدیااور راہ طلب میں لگ گئے (طرائق الحقائق جلد دوم ،ص 539 )
ریاضت ۔ آپ نے ابتدائے حال میں بیس سال عزلت نشینی فر مائی اور ایسے جنگلوں میں رہے جہاں انسان کا حس بھی نہ پہنچتا تھاحتی کہ بوجہ مشقت ومجاہدہ آپا کا جسم گھل گیا اور چشمہ ہا ئے مبارک سوء کے نا کے کے برابر رہ گئیں اور شبیہ انسانی بدل گئی بیس سال کے بعد حکم آیا کہ اب انسا نوں کی صحبت اختیا ر کرو۔آپ نے اپنے دل میں کہا کہ ابتدا ئے صحبت اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور اسکے محبوںسے کر نی چاہے ،تاکہ برکت حاصل ہو آپ نے مکہ معظمہ کا قصد کیا مشائخ مکہ کو اپنے کشف سے آپ کی تشریف آواری کا حال معلوم ہو گیا استقبال کے لئے شہر سے باہر آئے آپ کو بالکل مبدل پا یا سوا ئے اس کے کہ رمق جان نظرآتی تھی اور کچھ نہیں ۔سب نے کہا اے ابو عثمان آپ بیس سال اس حالت میں جئے ہیں کہ آدم اور اس کی ذریت اس زندگی سے عاجز ہے ہمیں بتاو کہ آپ کیوں گئے تھے اور وہاں کیا دیکھا اورموت میں کیا حاصل کیا،اور اب کس لئے واپس آئے ،آپ نے جواب دیا کہ میںحالت سکر میں گیا تھا اورآفات سکر دیکھ کر ناامید ہو کر واپس آیامشائخ کرام نے کہا کہ اے ابوعثمان اب کے بعدپ سب معبروں پر حرام ہے کہ صحو اور سکر کی عبادت پر آئیں اس لئے کہ آپ نے اس کا انصاف پورا کر دیا اور آفات سکر کو واضح طور پر دیکھا یا (کشف المحجوب ،ص 354 ،طرائق الحدیدجلد دوم ،ص539 )
آپ نے فرمایا کہ مجاہدات کی ابتدا ء میں میری کیفیت یہ تھی کہ اگر مجھے آسمان سے نیچے پھینک دیا جا تا تب بھی مجھے اس لئے بے انتہا خوشی ہو تی کہ میں ایسی الجھن میں پھنس گیا تھا کہ کھا نا کھا یا جا ئے یا نما زکے لئے وضو کیا جا ئے ااس الجھنکی وجہ سے میرے لئے لذت مفقود ہو چکی تھی جو میرے لئے انتہا ئی اذیت کا باعث بنا تھا پھرحالت ذکر میں مجھ پر ایسی چیزیں منکشف ہوئیں کہ تم انہیں کرامتوں سے تعبیر کرو گیمگر میں انہیں گناہ کبیرا سے بڑا تصو کرتا اور نیند کو بھگانے کے لئے ایسی چٹانوں پر جا بیٹھتا جن کی تہہ خانوں میں بڑا عمیق غاریں ہو تی تھی تا کہ ذار بھی پلک جھپک لوں تو غار میں جاگروں اس کے باوجود اتفا ق سے پتھر پر بھی نیند آجا تی ہے اور بیدار ی کے بعد دیکھتا کہ معلق پتھر پر بیٹھا ہوں (تذکرۃ الاولیاء ،ص 347 )
کشف وشہود ۔ جب آدمی بکثرت ریاضت کر تا ہے تو اس کا دل و دماغ صاف ہو جا تاہے ۔ بقول نوربخش :
اگر باب ریاضت برآوری غسلی
ہمہ کدورت دل را صفا توانی کرد
ابو علی کاتب نے ابو عثمان مغربی سے کہا کہ ابن البرق بیمار تھے ان کو پا نی دیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر پینے سے انکا ر کر دیا کہ ملک میں فساد ہے جب تک معلوم نہ ہو کہ کیا ہو اہے نہ کھاوں گا نہ پیوں گا ۔تیرہ دن اس طرح گزر گئیاتنے میں یہ خبر آئی کہ قرامطہ نے حرم شریف پر چڑھا ئی کی ہے لوگوں کو مار دالتے ہیں اور شجر اسود کو توڑ ڈالا ہے یہ خبر ملنے کے بعد انہوں نے کھا یا پیا ۔ابو عثمان مغربی نے کہا کہ یہ تو کو ئی کمال نہیں ہے ابوعلی نے کا تب نے سوال کیا اگر یہ کمال نہیں تو یہ بتاو کہ آج مکہ میں کیا واقعہ ہو اہے ابو عثمان نے کہا کہ آج مکہ میں ابر ہے تمام مکہ بادل کے نیچے چھپا ہو اہے بنی طلحہ اور بنی بکرکے درمیان لڑائی ہو رہی ہے بنی طلحہ کا مقدمہ الجیش ایک شخص ہے جو سپاہ گھوڑے پر سوار ہے اس کی پگڑی سرخ ہے اس بات کو لوگوں نے لکھ لیا اس کے دریافت کیا تو ویسا ہی نکلا جو انہوں نے کہا تھا۔غالباّ یہ واقع آپ کی زندگی کے آخری آیا م کا ہے جس میں آپ مستقل طور پر مکہ معظمہ سے نیشا پور منتقل ہو ئے تھے(طرائق الحقا ئق جلد دوم ،ص 537 ،نفخات الانس ،ص 191 )
کشف قلوب : باطنی صفائی سے کثرت قلوب حاصل ہوتا ہے اور کسی کے دل کی بات معلوم کرنا بڑے کما ل کی بات ہے کسی نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خیال کیا کہ اس وقت حضرت شیخ اپنی خواہش کا اظہا رکریں تو میں فورا اس کی تکمیل کروں گا لیکن آپ نے فرما یا کہ میں نہ خدا کے سوا کسی سے اپنی خواہش کا اظہا ر کرتا ہوں اور نہ مجھے کسی کی اعانت درکار ہے۔(تذکرۃ الاولیا ء 348 )
شیخ فریدالدین عطار عبدالرحمن سلمیٰ سے روایات کرتے ہیں کہ ایک دن میں ابو عثمان مغربی کے پاس تھا ایک آدمی کنواں سے پانی نکال رہا تھا کہ چرخ کی آواز آئی آپ نے فرمایا کہ اے عبدالرحمن جا نتے ہو کہ یہ چرخ کیا کہہ رہا ہے میں نے کہا نہیں جانتا ۔فرمایا یہ اللہ اللہ کہتا ہے جو کو ئی سماع سننے کا دعوٰی کرتا ہے پرند اور چرند اور ہوا کی آواز نہ سنے تو کو ئی سماع سنے کا دعوی جھوٹ ہے(طرائق الحقائق جلد دوم ،ص 543 )
مجاورت حرم شریف ۔ خانہ کعبہ عالم اسلام کا مرکز خدا پرستوں کا قبلہ اور امن وسکون کا گہوارہ ہے جہاں جانا عبادت ہے ہر صاحب استطاعت پر حج کرنا فرض ہے جسے خانہ کعبہ کی جاوری کرنے کی سعادت ملی ہو اس کی عظمت کا کیا کہنا اور پھر جسے خانہ کعبہ اور حدود حرم کی تعظیم واحترام کا سعادت حاصل ہوا یسے شخص کی خوش نصیبی کا کیا ٹھکا نا ۔آپکے بار ے میں مشہور ہے کہ آپ برسوں مکہ معظمہ میں مجاور رہے شیخ عبداللہ انصاری کا بیان ہے۔کہ 30 سال مکہ میں رہے حرم کی تعظیم کی وجہ سے کبھی بھی حرم کی حدود میں پیشاب نہیں کر تے تھے پھر وہاں فساد پھیل گیا جس کی وجہ سے آپ نیشاپور چلے گئے (نفخات الانس ،ص 88 )
اقوال زرین اور تعلیمات ۔ ’’من اثرالصحبتہ الاغنیا ء علی مجالستہ الفقراء ابتلاء اللہ بموت القلب‘‘جو فقراء کی صحبت کے مقابلے میں اغنیا کی صحبت کواختیا ر کرے اللہ تعالیٰ اسے مرگ قلب میں مبتلا فرمائے گا(کشف المحجوب ،ص317 )
ولی ۔ ’’الولی قدیکون مشھوراولایکون مفتوتا ‘‘ولی مخلوق میں مشہور تو ہوتا ہے مگر ان کی محبت میں مبتلا نہیں ہوتا ۔
معرفت ۔ ’’لایجئیٰ ھذالامر الابر احتہ الدام ‘‘معر فت حاصل نہیں ہوتا مگر جوئے خون یعنی جان سے ہاتھ دھو ئے بغیر ۔(طرائق الحقائق جلد دوم ،ص549 )
اعتکاف ۔ ’’الاعتکاف حفظ الجوارع تحت الامر‘‘اعتکاف حکم خداوندی اور اعضاء و جوارح کا تحفظ ہے۔
بزرگوں کا احترام ۔ ’’اکا برین اور اولیا کے عظام کے ادب سے انسان درجات عالیہ کوحاصل کر سکتا ہے اور اس کو دنیا وآخرت کی بھلا ئی نصیب ہو تی ہے(عوارف المعارف،ص558 )۔
خداتک رسائی ۔ خداتک رسائی کے دو راستے ہیں ۔اول نبوت دوم اتباع نبوت۔اب چونکہ نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے لہذا طالبا ن حق کے لئے اتباع نبوت ضروری ہے کیو نکہ اتباع نبوت کے بغیر واصل بحق ہونا ممکن نہیں ہے(تذکرۃ الاولیا ،ص349 )
راہ سلوک کی ضروری چیزیں ۔ آپ فرما تے ہیں کہ اس طریقے (راہ سلوک )کی ضروری چیزوں میں افضل محاسبہ ۔مراقبہ،اور علم ذریعے عمل کا ضبط ہے۔جب صحیح تو بہ کی جا ئے تو خدا کی طرف صحیح طریقے سے رجوع ہو سکتا ہے(عوار ف المعارف،ص478 )
تصوف ۔ آخر فقر اول تصوف ہے اور تصوف حال کا چھپا نا ہے،اپنے مال و جاہ کو بھا ئیوں پر صر ف کر نا۔(اقوال بزرگان دین ،ص 113 )
معرفت حق ۔ جس شخص کو معرفت حق اور ذکر الہی سے انس ہو تا ہے موت اس انس کو کبھی دور نہیں کر سکتی بلکہ پہلے سے سو گنا انس وراحت دیتی ہے(اقوال بزرگان ،ص144 )
شوق ۔ ’’الشوق ثمرۃ المحبتہ ‘‘شوق محبت کا نتیجہ اور ثمرہ ہے(عوارف المعارف ،ص674 )
درست علم وآگہی ۔ کو ئی شخص کسی چیز کو نہیں جان سکتا جب تک اس کی ضد کا علم نہ ہو نور ظلمت ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لئے مخلصوںکا خلوص کا مل نہیں ہو تا جب تک وہ ریا کو نہ سمجھ لے(اقوا ل بزرگان،ص155)
عارف حق ۔ عارف کو انوار معرفت اور علم کی روشنی میں ملتی ہے جس سے وہ غیب کے عجائبات ملاحظہ کرتا ہے(ایضّا ص155 )۔
ضروری چیزیں۔ سب سے افضل چیزجس کو چاہے کہ لوگ پکڑیں خواہشات کی نگرانی،حساب گیری ،او رسب کاموں پر پورا علم لا کر ان کا سر انجام دینا ہے(ایضاّ ص 155 )
گنہگار ۔ ’’العاصی خیر من المدعی لان العاصی ابد یطلب توبتہ المدعی یخبط ابدا فی خیال دعواہ‘‘گنہگار مغرور بے گناہ سے بہتر ہے کیو نکہ گنہگار ہمیشہ تو بہ و ندامت کرتا رہتا ہے جبکہ مغرور بے گناہ اپنی بے گناہی کے دعوے میں مست رہتا ہے(مزیر حق مص61 )
ذاکر کے لئے لازمی ۔ذاکر کے لئے لازمی ہے کہ وہ لا الہ الا اللہ کو اپنے علم میں شامل کر لے اور نیک و بد خیال کو اس کلمہ شریف کی طاقت سے دل سے نکال دالے(اقوال بزرگان ،ص 114 )۔
وفات۔شیخ فرالدین عطار لکھتے ہیں کہ جب وقت نزع قریب آیا تو میں بیما ر تھا طیب کو بلا یا گیا آپ نے فرمایا میرے صاحب میرے ساتھ یوسف اور براداران یوسف کا سا ہے کہ وہ چاہتے کچھ تھے ہوا کچھ اور ایساہی میرے ساتھ بھی ہو گا ۔آپ نے وصیت کی کہ میری نماز جنازہ ابو بکر فورک پڑھا ئے۔اور سماع کی خواہش کی (تذکرۃ الاولیاء طرائق ،ص548 )
ابو القاسم قشیری لکھتے ہیں کہ ابو بکر فورک نے کہا کہ میں وقت نزع ابو عثمان مغربی کے پاس تھا اور قوال قوالی (سماع)کر رہا تھا جب آپ کی حالت متغیر ہو گئی ہم نے اسے خامو ہو نے کا اشارہ کیا اور وہ خاموش ہو گیا ابوعثمان نے آنکھیں کھولیں اور کہا کہ سماع کیوں نہیں کرتا میںنے حاضرین سے کہا کہ بلائواس کو ۔(طرائق الحقائق جلد دوم ،ص549 )
پیشن گوئی۔ شیخ الاسلام لکھتے ہین کہ مجھے ابو الحسین کو اشانی نے کہا کہ ابو عثمان نے ایک دن کہا کہ جس دن میں دنیا سے چلا جائوں گا فرشتے مجھ پر خاک دالیں گے ابو الحسین کہتے ہیں کہ جس دن آپ انتقال کر گئے۔میں نیشاپور میں تھا۔
کس کس رانمی دیدہ از بیساری گرد
کثرت گرد و غبار کی وجہ سے کسی کو کچھ نظر نہیں آتا تھا ۔
آپ کا انتقال 373 ھ میں ہوا اور آپ کا مقبرہ نیشاپور (ایران)میںہے طرائق دوم ۔ص،549 ۔صفحات87 )وفات کے وقت آپ کی عمر 130 سال تھی (تذکرۃ ،ص347 )حضرت شیخ ابو عثمان مغبی نے مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں پنی قبر خود تیار کر لی تھی اس آرزو پر کہ مرنے کے بعد وہاں دفنا یا جا ئے گا شیخ ابوالقاسم نصرآبادی نے کہا کہ جس قبر کو آپ نے تیار کرایا ہے اس میںمجھے دفن کیا جا ئے گا مگر آپ کو نیشاپور میں دفنایا جا ئے گا یہ بات آپ کو ناگوار گزری کچھ دنوں بعد آپ کو ایک ضروی کام سے بغداد جا نا پڑا بغداد سے ہو تے ہو ئے ہرات گئے اور کچھ دنوںمیں نیشاپور چلے گئے وہاں آپ کا انتقال ہوا اور وہیں دفن ہو گئے جنت البقیع میں تیار کردہ قبر میں ابو القاسم نصرآبادی کو دفنایا گیا (خزینتہ الاصفیاء ،ص138 )

شما رہ نمبر ۱۲ ۔ما ہ اکتو بر ۱۹۹۵ء :حضرت شیخ ابو عثمان مغربی ؒ :۔تحریر :غلام حسن نوربخش