آپ کا نام عبدالقاہر ، لقب ضیاء الدین اور کنیت ابونجیب تھی۔ وطن کی نسبت سے سہروردی کہلاتے تھے۔ آپ ایران کے شہر سہرورد میں صفر ۹۶۰ھ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی علوم و فنون سہرورد میں حاصل کرنے کے بعد بغداد گئے اور جامعہ نظامیہ میں داخلہ لیا۔ وہاں آپ نے امام اسعد المہینی سے علم فقہ، ابو علی محمد بن سعید بنسہانی، ابو محمد عبدالخلق بن ظاہر، امام قشیری اور امام بیہقی سے علم حدیث حاصل کیا۔ ان کے علاوہ اصفہان کے مشہور عالم بوعلی الحداد سے بھی فیض حاصل کیا۔ علاوہ ازیں زاہر بن ظاہر، قاضی ابوبکر انصاری، ابوالمنصور القری، ابو طالب حسین زینی، ابوالفتح عبدالمالک ہروی، ابو محمد روز بہان البقلی، ابوطاہر احمد بن سلفہ اصفہانی اور شیخ احمد غزالی ؒ بھی آپ کے اساتذہ میں شامل تھے۔ مؤخر الذکر سے آپ نے تصوف کے اسرار و رموز حاصل کیے۔ امام کی وفات کے بعد آپ ان کے خلیفہ بنے اور سالکین کی تربیت اور رشد و ہدایت میں مصروف ہو گئے۔
مدرسہ نظامیہ ان دنوں دنیا کا سب سے اعلیٰ تعلیمی ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ آپ اس ادارے سے فراغت کے بعد یہیں درس و وعظ سے وابستہ ہو گئے جو اس زمانے میں علمی دنیا کا سب سے بڑا منصب سمجھا جاتا تھا ۔ آپ ایک بہت بڑے محدث ہونے کے علاوہ ولی ٔ کامل بھی تھے اس لیے آپ نے تصوف کے اصول اور اسرار و رموز کو حدیث کی روشنی میں ثابت کیا۔ آپ کے تلامذہ میں ابو سعید عبدالکریم بن محمد السمعانی محدثِ خراساں، اور ابوالقاسم علی بن حسن بن شاکر مصنف تاریخ ِ دمشق جیسے لوگ شامل تھے۔ ان کے علاوہ شیخ شہاب الدین سہروردی جو آپ کے بھتیجے، شاگرد اور خلیفہ تھے اور شیخ عمار یاسر بدلیسی ؒ آپ کے روحانی خلفاء تھے۔ اول الذکر سلسلۂ سہروردیہ کے سر ِ سلسلہ بنے اور ثانیٔ الذکر سے آگے چل کر سلسلۂ کبرویہ چلا۔شیخ کبیر روز بہان مصری بھی آپ کے شاگرد اور مرید تھے۔
سلسلۃ الذہب کے بزرگ مریدین کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور جس طرح آنحضور صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسجد ِ نبوی میں صفہ قائم کیا تھا یہ بزرگ بھی زاویے اور خانقاہیں قائم کرتے۔ چنانچہ شیخ ابونجیب سہروردی ؒ نے بھی اسی سنت ِ نبوی ؐ کے تحت مغربی بغداد میں دریائے دجلہ کے کنارے ایک بڑی خانقاہ تعمیر کروائی تھی جہاں آپ کے حلقۂ درس میں تشنگان علم ِ طریقت دور دور سے آکر شامل ہوتے تھے۔ انہی مریدین کی تربیت کے لیے آپ نے اپنی کتاب ’آداب المریدین‘ تصنیف فرمائی جو سیکڑوں سال سے اہل ِ تصوف کا دستور العمل سمجھی جاتی ہے۔
اسلامی ممالک کے امراء اور حکام آپ کی بے حد تعظیم کرتے تھے۔ ۵۵۷ھ میں بیت المقدس کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے ۔ دمشق پہنچے تو ملک عادل نور الدین محمد زنگی نے بے حد احترام کیا اور کچھ دن آپ کو دمشق میں ٹھہرایا۔ صلیبی جنگوں کے باعث آپ بیت المقدس کی زیارت نہ کر سکے اور کچھ مدت دمشق میں علم حدیث کا درس دے کر بغداد واپس آئے۔ (مقدمہ عوارف المعارف ص ۱۰)
آپ کی روزمرہ کی زندگی سادہ تھی۔ لباس میں کسی خاص طرز کے پابند نہ تھے جو لباس ملتا پہن لیتے، دس دینار کا عمامہ بھی اور ایک وامق کا عمامہ بھی۔ (عوارف المعارف ص ۳۶۳)
شیخ منیٰ کی مسجد خیف میں چکر لگا کر لوگوں کے چہرے غور سے دیکھا کرتے اور فرماتے تھے اﷲ کے بعض بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی شخص کو ایک نظر بھر کر بھی دیکھیں تو وہ سعادت سے مالامال ہو جاتا ہے میں بھی کسی ایسی نظر ِ کیمیا اثر کی تلاش میں ہوں۔ (عوارف المعارف ص ۲۶۲)
آپ کی کئی کرامات مشہور ہیں۔ شیخ شہاب الدین سہروردی بہاؤالدین سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں شیخ ابو نجیب سہروردی کے پاس تھا۔ آپ نے مجھے خلوت خانے کے دروازے پر تعین فرمایا۔ رات کو ایک سفید ریش بزرگ آئے۔ صاف ستھرا، پاکیزہ اور خوشبودار لباس پہنا ہوا تھا۔ میں نے ان کو سلام کیا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اے شہاب الدین اندر جاؤ اور شیخ الاسلام ابو نجیب کو میرا سلام عرض کرو اور کہو کہ مہتر خضر آپ سے ملنے آیا ہے۔ شیخ شہاب الدین کہتے ہیں کہ میں اندر گیا اور شیخ کو سلام عرض کیا مگر شیخ نے کوئی توجہ نہیں دی، یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور حضرت خضر علیہ السلام واپس چلے گئے اور مجھے ہدایت کی کہ ہمارا سلام باعزاز و اکرام شیخ ابونجیب کو پہنچا دیں اور یہ بھی کہیں کہ مہتر خضرؑ آپ سے ملنے کی تمنا لے کر آیا تھا، چلا گیا ہے۔ ان کے جانے کے بعد میں نے شیخ کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام ماجرا بیان کیا اور کہا کہ آپ نے کوئی توجہ نہیں دی۔ آپ نے جواب دیا: ای پسر این نشاید کہ کسی درملاقات ومشاہدہ خواند مالک الملک باشد وروی گرداند و توجہ بہ بندہ کندو بآن مملوک درسخن آید این نشاید۔ مردم ھر چند مقدار کہ درصحبت مخلوق است ھمان قدر ازخالق دوراست۔ ’’ اے بیٹے ! یہ مناسب نہیں کہ کوئی مشاہدۂ حق میں مشغول ہو وہ حق تعالیٰ سے منہ موڑ کر بندے کی طرف متوجہ ہو جائے اور مالک کے بجائے مملوک سے گفتگو کرے۔ آدمی جس قدر صحبت مخلوق میں مشغول رہتا ہے اسی قدر وہ حق تعالیٰ سے دُور رہتا ہے۔ (خلاصۃ العارفین ص ۱۳۲۔۱۳۳)
اگر کلیمؑ شود ھمزبان سخن نکنیم
وگر خلیلؑ بود میھمان بگردانیم
(غالب)
امام یافعی اپنی تاریخ مرأت الجنان میں ایک مرید کی زبانی نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دن شیخ ابونجیب کے ساتھ بازار گیا ۔ ایک قصاب کی دکان پر ایک بکری کا گوشت کاٹا جا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بکری کہتی ہے کہ میں مردار ہوں حلال نہیں ہوں۔ قصائی یہ سن کر بے ہوش ہو گیا اور ہوش میں آنے کے بعد تصدیق کی اور توبہ کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ (عوارف المعارف ص ۴۱۱)
احترامِ آدمیت شیخ کا مسلک تھا۔ آپ کے بھتیجے اور مرید شہاب الدین سہروردی ؒ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ میں اپنے شیخ ابونجیب سہروردی ؒ کے ساتھ شام کے سفر میں تھا۔ کچھ دنیاداروں نے فرنگی قیدیوں کو جو صلیبی جنگ میں قید ہوئے تھے بیڑیوں میں جکڑ کر اور ان کے سروں پر کھانا رکھوا کر ہمارے پاس بھیجا۔ جب دسترخوان بچھایا گیا تو قیدی برتنوں کے خالی ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ اس وقت شیخ محترم نے خادم کو حکم دیا کہ قیدیوں کو لایا جائے تاکہ وہ درویشوں کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھیں۔ چنانچہ جب انہیں لاکر ایک صف میں دستر خوان پر بٹھا دیا گیا تو ہمارے شیخ اپنے سجادہ سے اٹھ کر ان کے ایک فرد کی طرح ان کے درمیان بیٹھ گئے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ اس وقت ہمیں ان کے چہرے پر باطنی خلوص، تواضع، عاجزی اور انکساری کی جھلک نظر آئی۔ (عوارف المعارف ص ۲۶۶)
آپ کئی کتابوں کے مصنف تھے جو امتدادِ زمانہ سے تلف ہو گئیں۔ مگر آداب المریدین آج تک باقی ہے اور اہل ِ تصوف میں معروف و مقبول ہے۔ بقول محمد عبدالباسط یہ کتاب اس زمانے کے صوفیائے کرام کے اعتقادات اور معاشرت اور سلوک اور اس کے آداب کا مرقع ہے۔ کتاب کا متن عربی میں ہے۔ متن اور فارسی ترجمہ نجیب مائل ہروی نے شائع کیا ہے۔ ہندوستان کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ محمد گیسو دراز نے بھی اس کا فارسی ترجمہ کیا اور عربی اور فارسی میں اس کی الگ الگ شرحیں لکھیں۔ محمد عبدالباسط نے اس کتاب کو اردو زبان میں منتقل کیا جو پہلے ہندوستان سے شائع ہوا جبکہ ۱۳۹۳ھ میں لاہور سے اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔
آپ کے اقوال میں سے بعض یہ ہیں:
ساعت ِ نیک: شیخ ہدایت فرماتے تھے کہ وہ خوشگوار اوقات میں روحانیت کے بارے میں ساتھیوں سے گفتگو کریں اس صورت میں فائدہ دو چند ہو جاتا ہے۔ (عوارف المعارف ص ۱۸۱)
صحبت ِ خلق کی مضرت: آدمی جتنا خلق میں مصروف رہتا ہے اسی قدر وہ حق تعالیٰ سے دُور رہتا ہے۔ (خلاصۃ العارفین ص۱۳۳ )
شیخ نے ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد ۷۳ بر س کی عمر میں ۱۷ جمادی الثانی ۵۶۳ھ ؍۱۱۶۸ء کو وفات پائی اور بغداد میں مدفون ہوئے ۔ (نفحات الانس ص۴۱۷)

حوالہ
نوائے صوفیہ شمارہ نمبر ۱۱۸ دسمبر ۲۰۱۳
تحریر
غلام حسن نوربخش