جنید نام ابو القاسم کنیت اور سید الطائفہ لقب تھا آپ کا پیشہ ورا نہ نام قواریری اور نسب نام بغدادی تھا۔آپ 210 ہجری کو بغداد عرو س البلاد میں پیدا ہو ئے آپ کے والد جناب محمد قواریری شیشے کا روبار کرتے تھے۔بعد میں آپ نے بھی اس پیشے کو اختیا رکیا چنانچہ اسی نسبت سے قواریری مشہو ر ہوئے آپ ایک عمدہ علمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔شیخ العصر حضرت سری سقطی آپ کے ماموں تھے اور یہ وقت خلفائے بنی عباس کا سنہری ز مانہ تھا اگر چہ ساراعالم اسلام علوم وفنون کا مر کز بنا ہو اتھا خاص طور پر دارالخلافہ بغدادعلوم وفنون کا گہوارہ تھا گلی گلی اور کو چے کو چے میں علم ومعرفت کے چرچے تھے چنانچہ حضرت جنید بغدادی ہوش سنبھالتے ہی تحصیل علم میں لگ گئے اور تھوڑی ہی مدت میں مروجہ علم وفنون میں بحر مواج بن گئے۔آپ کے بارے میں حضرت سری سقطی نے دعا کی تھی اللہ تعالیٰ تمہیں پہلے حدیث کا عالم بننے کی توفیق دے اور پھر صوفی بناپہلے صوفی بعد ازاں محدث بننے سے بچائے رکھے۔آپ بچپن ہی میں علوم ظاہر میں بہت بڑے عالم بنے اور پھر سر سقطی ،حارث محاسبی وغیرہ سے تصوف کی تعلیم وتربیت حاصل کی اور صوفیاء کے متقد مین میں سب سے بڑے صو فی بن گئے تھے۔(جنید بغدای ازضیاء الحسن فاروقی،ص)
ابتدائے سلوک : ایک دن آپ مدرسہ سے واپس گھر پہنچے تو والد کو روتے دیکھا آپ نے رونے کی وجہ دریافت کی تو بتلا یا گیا کہ آج میں مال زکواۃ تمہارے مامون سری کے پاس لے گیا تھا تو انہوں نے قبول نہیں کیا میں نے اس کی تحصیل میں جو عمر صرف کی اور محنت کی وہ خدا کے کسی دوست کے لائق نہیں ہے۔آپ نے کہا کہ مجھے دے دو میں ان کو دے آئوں گا چنانچہ آپ نے وہ مال لے کر سری کی خد مت میں چلے گئے جب دروازہ کھٹکھٹایا تو پوچھا کون ہے جواب دیا ،جنید دروازہ کھولئے اور یہ فریضہ زکواۃ لے لیجئے اندر سے سری نے کہا میں نہیں لیتا جنید نے کہا کہ قسم باخدااس کا لینا آپ کے فضل و کرم اور میرے والد کے لئے عدل ہے اسے لے لیجئے !سری نے کہا اس کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے درویشی دے کر فضل وکرم تجھ پر کیا میرے والد کو دنیا میں مشغول رکھا اگر آپ چاہیں اسے لے لیجئے یا رد کر دیجیئے میرے والد چاہیں یا نہ چاہیں مگر انہیں مستحق کو دینا پڑے گا ۔حضرت سری کو جنید کی یہ بات پسند آئی اور کہا کہ اسے قبول کرنے سے پہلے ہم تجھے قبول کر تے ہیں چنانچہ دروازہ کھو ل دیا گیا اور مال لے لیا جنید کو اپنے ساتھ حج کے لئے لے گئے اور آپ کو سلوک کی تربیت دینے لگے ۔مکہ معظمہ سے واپس آکر بغداد میں آئینہ سازی کی دکان قائم کر لی دکان میں ایک پردہ ڈال کر روزانہ چار سو رکعت نفل پڑھا کرتے تھے ایک عرصہ بعد اسے چھوڑدیا اور ایک دوسرے مکان کے حجرے میں گوشہ نشین ہو گئے۔
کلمتہ الثناء ۔آپ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے ہاں بے حد ہر دلعزیز تھے عرفاء وشیوخ طریقت آپ کی صلاحیتوں کے معترف تھے تمام مصنفین نے آپ کی بے حد تعریف کی ہے جن میں بعض کو درج کیا جا تا ہے۔
گنج بخش ؒ۔انہی میں سے شیخ طریقت ،ایام شریعت ابو القاسم ،حضرت جنید بغدادی ہیں آپ مقبول اہل ظواہر و ارباب قلوب تھے تمام علوم و فنون میں کا مل اور اصول و فروع و معاملات وعبادات میں مفتی اعظم اور اصحاب ثفیان ثوری مانے گئے ہیں آپ کے فرامین نہایت عالی ہیں اور آپ کا کا حال بدرجہ غایت کا مل تھا حتی کہ تمام اہل طریقت آپ کی امامت پر متفق ہیں ۔
سری سقطی۔ایک روز حضرت سری سقطی سے پو چھا کہ کو ئی مرید ایسا بھی ہے جس کا درجہ اپنے مرشد سے بھی بلند ہو گیا ہو؟فرمایا ہاں ۔اس کے براہین ظاہر ہے (آپ نے جنید کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس کا درجہ میرے درجے سے بلند ہے۔شفیع قادری اسی واقعے کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے اسے سری سقطی کی سب سے بڑی کرامت قرار دیتا ہے۔
بر تراز جملہ کراماتش ہمیں
ایں سخن فہمد ہرآنکس راکہ دین
آنکہ مانند جنید او را کہ مرید
وارش از الطاف یزداں محید
عمر ولی الدین ۔ سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی کنیت ابو القاسم لقب سید الطائفہ اور طاوس العلماء تھا آپ سلطان طریقت و پیشوائے اہل حقیقت ومقتدائے زمان تھے صوفیہ کے آئمہ اور سادات میں سے تھے ۔آپ کو سیدالطائفہ اور امام مانا گیا ہے طریقت میں آپ کا کلام حجت ہے ۔
فر ید الدین عطار ۔آپ بحر شریعت و طریقت کے شناور ،انوار الہی کے مخزن و منبع اور مکمل علوم پر دسترس رکھتے تھے اس وجہ سے اہل زمانہ نے آپ کو شیخ الشیوخ ،زاہد کا مل ،اور علم و عمل کا سر چشمہ قرا دیا تسلیم کر لیا تھا ۔اور آ پ کو سید الطائفہ ،لسا ن القوم ،طاوس العلما ئاور سلطان المحقیقن کے خطابت سے نوازا ہے۔آپ قطب وقت،منبع اسرار ،مرقع انوار،سلطان طریقت اور بادشاہ حقیقتت تھے انواع علوم و فنون میں کامل دستگاہ اور معا ملات و ریاضت میں مفتی کا مل تھے کلمات لطیف اور اشارات عالی میںسب پر سبقت رکھتے تھے تمام فرقو ں میں مقبول تھے سب کا آپ کی امامت پر اتفاق تھا ،سید الطائفہ آپ کا لقب اور مقتدائے اہل تصوف میں شریعت طریقت ،حقیقت میں انتہا کو پہنچے ہو یء تھے ،عشق وزہد میںبے نظیر تھے،اپنے وقت کے تمام شائخ کے مرجع تھے آپ کی تصانیف بے شمار ہیں۔علم واشارات سب سے پہلے آپ نے پھیلا یا۔ بار بار دشمنوں اور حاسدوں نے آپ پر کفر زندیق کا فتوی لگایا ۔
سید محمد نوربخشؒ لکھتے ہیں :سید الطائفہ استاد اہل طریقت کہف ارباب ،حقیقت قطب الاقطاب فرد الافرادشیخ ابو القاسم جنید بغدادی۔
دگر خود جنید است سلطان فقر
کہ بغداد ا ازو بر جہاں کرد فخر
شفیع قادری ۔
شاہ شاہان پیر دین ما جنید
حق تعا لیٰ را نظر ہا بر جنید
آن جنیدی کش رود قربان دلم
آں جنید کش بود خواہاں دلم
فخر بغداد است از مولود او
از جنید آن طابع مسعود او
کرداز پس دانش علم و ہنر
خاک پائے او ملائک تاج سر
مو لانا محمد حنیف ندوی : ابو القا سم جنید بن محمد المتو فی 298 ہجری سرخیل صو فیاں اور چمنستان تصوف کے گل سر سبد عارق ان کا مو لود منشا ء ہے ان کے والد شیشے کا کاروبار کرتے تھے۔اس مناسبت سے قواریری بھی کہلا تے ہیں انہوں نے تصوف میں ایک خاص مدرسہ فکر کی بنیا دڈالی ہے افسوس ہے کہ ان کے بعد آنے والے حجرات نے ان کے انداز کو آگے بڑھا نے کی کو شش نہیں کی ان کا شمار ان لو گوں میں ہو تا ہے جنہوں نے تصوف کو خاص نظریا ت سے روشناس کرایااور است ایک متعین پیرایہ بخشا۔
ضیاء تسنیم بلگرامی : جنید بغدادی پورے تیس سال تک عشاء کے بعد ایک پا وں پر کھڑے ہو کر رات بھر اللہ کی عبادت کر تے رہتے تھے ۔اور عشاء ہی کے وضوسے صبح کی نماز ادا کرتے تھے،ان کی زبان اور نگاہ میں عجیب تاثیر تھی وہ ایک ہی نگاہ میں لوگوں کی کا یا پلٹ دیتے تھے لیکن جب سے خلیفہ کی کنیز راکھ ہو ئی تھی احتیاط کرنے لگے تھے پھر بھی یہ عالم تھا کہ آنحضرت کی ہدایت پر ایک بار وعظ کے لئے کھڑے ہو ئے تو حاضرین کی کل تعداد چالیس تھی ابھی انہوں نے وعظ شروع ہی کیا تھا۔کہ سترہ آدمی چیخ مار کر جان بحق ہو گئے اور بیس آدمی بے ہو شی کے عالم میں گھروںکو پہنچا نے گئے۔
علی قویمی :
جنید دار ای علم ظاہر و باطن و شیخ المشائخ و
مرجع اہل شریعت وامام الائمہ اندر طریقت بود
جنید ظاہری علوم و باطنی کا حامل مشائخ کا شیخ اور اہل شریعت کا مرجع تھا اور طریقت میں آپ امام الائمہ تھے۔
معصوم علی شیرازی : آپ صو فیوں کے امام اور سرار ہیں ۔
عطا اسکنڈری : ’’امامناء فی ھذا العلمہ و مرجعنا المقتدی بہ الجید ‘‘علم تصوف میں ہمارا امام مرجع جنید ہیں جس کی ہم پیروی (تقلید) کرتے ہیں ۔
ریاضت :کسی بھی چیز کے حصو ل کے لئے سعی و کوشش کرنا ضروری ہے جس قدر مقصد بلند و ارفع ہو ہو اسی قدر سعی و کوشش زیادہ کرنا پڑتی ہے روحانیت میں حصہ لینے والوں کو ریاضت و مجاہدہ کے بغیر کو ئی مقام حاصل نہیں ہو سکتا ۔ہمارے بزرگوں نے سخت قسم کی ریاضت کی ہے تاآنکہ وہ اپنے بلند پا یہ مقاصد حاصل کر نے میں کا میاب ہو ئے حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ جب ضعیف ہو ئے تو جوانی کے اوراد سے ایک ورد بھی ترک نہ کیا لوگوںنے عرض کیا کہ حضور آپُٓ ضعیف ہو گئے ہیں لہذا بعض عبادات نافلہ ترک فرما دیجیئے۔آپ نے فرمایا جو چیزیں اللہ کے فضل فضل سے میں نے حاصل کئیں مجال ہے کہ اب انتہا میں چھوڑ دوں ۔حریری کا بیان ہے کہ میں جنید کے پا س کیا وہ غمگین بیٹھا ہو ا تھا میں نے وجہ پو چھی تو فرمایا کہ مجھ سے ایک ورد نہ ہو سکا میں نے کہا کہ اس کو دوسرے وقت پورے کر لیجئے ،جواب دیا یہ کیسے ہو سکتے ہیں کہ اوقات گنے چنے گئے ہو تے ہیں ۔
حضرت جنید بغدادی کے ہاتھ میں اس وقت بھی تسبیح دیکھی جب وہ منتہا ئے کما ل پر پہنچ چکے تھے تو ان سے اس بارے میں سوا ل کیا گیا فرمایا جس کے ذریعے ہم اللہ پہنچے ہیں اس کو ہم کیسے چھور دیں ،حریری کہتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادی نزع کے وقت ان کے پاس تھا آپ کلام اللہ پڑھتے تھے اور اسی حالت میں ختم کر لیا میں نے عرض کیا کہ اس حالت میں اپنے آپ پر رحم کریں ؟آپ نے فرمایا میرے شروع کئے ہوئے کو پورا کر نے کامستحق مجھ سے زیادہ اور کون تھا کہ اس وقت میرے نامہ اعمال تہ ہو تے ہیں ۔
گزشتہ سے پیوستہ احوال وآثار شیخ جنید بغدادی ۔شمارہ نمبر ۵ ۔ تحریر :غلام حسن نوربخشی :ماہ جنوری ۱۹۹۵ء
زندگی کے آخری دنو ں میں بیما ر ہو ئے ابو لہ جعفر خالدی کہتے ہیں کہ جنید کی خد مت میںحاضر ہوا دیکھا کہ آپ کو سخت بخار ہے میں نے عرض کی کہ حضور اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کو شفا دیں !کل میں نے عرض کی تھی تو مجھے جوب ملا کہ جنید جسم ہماری ملک ہے چاہیں تو تندرست رکھیں اور چاہیں تو بیمار تم کون ہو تے ہو کہ ہمارے ملک میں تصرف اور دخل اندازی کر تے ہو خاموش رہو۔ابی محمد بن احمد الحریری کا بیان ہے کہ میں جنید کے مرض الموت کے وقت ان کے پا س موجود تھا وہ قرآن حکیم پڑھ رہے تھے ایک قرآن ختم کیا میں نے کہا کہ اے ابولقاسم ایسی حالت میں بھی آپ تلاوت کر رہے رہیں فرمایامجھ سے کو ن اولیٰ ہے درآنحالیکہ میرے صحیفے کو لپیٹا جارہا ہے ۔شیخ فرید الدین عطار لکھتے ہیں کہ جب وفات قریب ہو ئی آپ نے دستر خوان کو ہٹانے کا اور آفتابہ لا نے کا حکم دے دیا جب یہ آگیا تو فرمایا کہ مجھے وضو کراو وضو کرای گیا توآپ سجدے میں گر ھئے اور رونے لگے نزدیک بیٹھے لوگوں نے کہا اے ہمارے سرداراتنی عبادت اور ریاضت آپ پہلے بھیج چکے ہیں اب اس وقت گر یہ کر نے کی کیا ضرورت ہے ؟فرمایااس وقت جنید جتنا محتاج ہے اتنا کبھی نہیں تھا اس وقت تلاوت شروع کردی۔ایک مرید نے عرض کیا۔ کیا آپ قرآن پڑھ رہے ہیں ؟فرمایا ہاں کیو نکہ مجھ سے زیادہ اولیٰ کو ن ہے ؟کیونکہ میری عمر کے دفتر کے اورق سمٹنے والے ہیں اپنی ستر سالہ زندگی اطاعت او رعبادات پر نظر ڈالتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ہو ا میں ایک بال کو لٹکا دیا ہو اور ہوا ؤکر اسے ادھر ادھر ہلارہی ہے معلوم نہیں کہ یہ ہوا قاطع ہے یا واصل میری ایک طرف پل صراط ہے اور دوسری طرف ملک الموت اور عادل قاضی ہے اور میرے سامنے دو راستے ہیں پھر آپ نے قرآن حکیم ختم کیا اور سورت بقرہ کی ستر آیتیں پڑھیں آگے پڑھنا دشوار ہو گیا لہذا لوگوں نے کہاکہو اللہ آپ نے جوب دیا اس کو میں نے کبھی فرامو ش نہیں کیااس کے بعد آپ نے تسبیح پڑھتے ہو ئے انگلیوں پر شمار کرناشروع کیا ابھی چار انگشت کا شمار ہوا تھا کہ انگشت سے مسحبہ نیچے چھوڑدی اور کہا بسم اللہ الرحمن الرحیم آنکھ بند کی اور جان دیدی آپ نے بروزپیر بوقت آخرسا عت ۲۷رجب ۲۹۷ء کو بغداد میں وفات پا ئی۔(طرائق الحقائق جلد دوم ص۴۱۹)
غسل دینے والوں چاہا کہ آپ کی آنکھیں کھول کر پا نی سے دھوئیں مگر غیبی آواز آئی کہ ہمارے دوست کی آنکھ سے ہاتھ ہتاو جو آنکھ ہمارے نام پر بند ہو گئی ہو اسے ہماری لقا کے سوا کون کھول سکتاہے؟انگلیاں تسبیح شمار کر تے ہو ئے بند ہو گئیں تھیں انہیں کھولنے کی کو شش کی مگر پھر آواز آئی کہ جو انگلی ہمارے نام کے ساتھ بند ہو گئی ہو اسے ہمارے حکم کے بغیر کوئیکھول نہیں سکتا ہے ؟(طرائق الحقائق جلد دومص ۴۱۹)
آپ پر ستر ہزار افراد نے نماز جنازہ پڑھی آپ کو بغدادمشہور قبرستان شو نیزیہ میں دفن کیا گیا جہاں آپ کا مزارمرجع خلائق ہے
انجام بخیر ۔حضرت جنید بغداد ی کو وصال کے خواب میں دیکھ کر بعض لوگوں نے ان سے پو چھا کہ اللہ تعا لیٰ نے آپ کے ساتھ کیا کیا ؟فرمایا کہ مجھے ایک بات پر سرزنش فرما ئی جو میرے منہ سے نکل گئی تھی وہ یہ کہ ایک سال پا نی نہیں برسا میں نے کہا الہی لوگوں کو پا نی بڑی ضرورت ہے تو فرما یا کیا میں نہیں جا نتا کہ لوگ پا نی کے محتاج ہے تو مجھ کو سکھا تا ہے حالانکہ میں میں علیم و خبیر ہوں میں نے تجھ کو بخش دیا ۔
اقوا ل زیریں۔آپ کی لعلیمات اگر چہ اپنی کتابوں اور رسالوں میں درج ہے جو اردو سمیت تمام عالمی زبانوںمیں چھپ چکی ہے۔انکے علاوہ آُ کے ارشادات تصوف کی اہم ترین کتا بوں میں محفوظ ہیں اس کے علاوہ آپ کے ارشادات میں سے بعض درج کئے جا تے ہیں ۔
’’التصوف ذکر بالاجتماعی وو جد با الاستماع و عمل با الالقاع‘‘تصوف دل جمعی سے ذکر حق کر نے الہام سے بہرہ ور ہونے اور اتباع نبوی میں عمل کر نے کا نام ہے۔
۱۔صوفی۔’’الصوفی من لبس الصوف علی الصفا و عاش الناس علی الوفا وجعل الدنیا خلف لقضا وسلک طریق المصطفی‘‘صوفی وہ ہے جو لباس و پا کیزگی پہنے ،باوقار زنگی بسر کرے ،دنیا کو پس پشت ڈالے اور طریق مصطفی پر گامزن رہے۔
۲۔وقت کا احساس ۔جو وقت گزر جا تا ہے وہ ہر گز واپس نہیں آیا ،اس لئے کو ئی چیز وقت سے زیادہ عزیز اور بیش قیمت نہیں رہے ہیں ۔
۳۔محبت خدا ۔محبت حق کی نشانی ہے کہ اس کی بندگی میںآرام حاصل نہ ہو بندگی کو بوجھ نہ سمجھے اور نہ تھکن محسوس ہو۔
۴خدا پر بھروسہ۔جس نے اپنے علم پر بھروسہ کیا اس کے قدم ڈگمگائے اور جس نے مال پر بھروسہ کیا وہ گھاٹے میں رہا اور جس نے خدا پر بھروسہ کیا اس نے عزت وبزرگی پا ئی۔
۵۔اطاعت اقتدار ۔آپ سے پو چھا گیا کہ کیا کسی کی اقتداء کرنی چاہے فرمایا ہان اگر تقوی اور کسب حلال کی تلاش میں قوت واضافہ ہو تو اقتدی کرنی چاہئے ورنہ نہیں ۔
۶۔صحبت وہم نشینی۔جنید سے پوچھا کہ عارف کیسے گنہگار ہو جا تا ہے فرمایا ’’وکانہ امر اللہ مقدورا‘‘کے تحت کسی ایسے شخص کی صحبت میں مت بیٹھا کرو جو یہ چاہتا ہے کہ ہمیشہ تجھے معصوم دیکھے ۔
۷۔وجود بار ی تعالیٰ ۔ آپ سے پو چھا گیا کہ وجود صانع پر تمہاری کیا دلیل ہے ؟فرمایا ’’لقد اغنی الصباح‘‘دن کی روشنی نے جب مجھے چراغ کا محتاج نہ رہنے دیا ۔
۸۔ولی۔جنید بغدادی کے نزدیک ولی کسی بھی شیسے اللہ کے سواخوف نہیں کھاتا کیو نکہ اسے خوف ان چیزوں سے ہو تا ہے جن سے انسانی توقعات وابستہ ہوں یا پھر ان محبوب پسندیدہ اشیا ء کے متعلقو خدشہ ہو تا ہے جن کے ضائع کا ڈر ہوولی ہر حال میں اللہ سے راضی رہتا ہے اسے کو ئی غم نہیں ہوتا۔
۹۔صفائے قلب کا نتیجہ ۔شیخ جنید بغدادی فر ماتے ہیں کہ جو کوئی اسم جما لی یا قدوس جب عطرائیل یا حدود بحق یا قدوس ہر نماز فجر کے بعد سو بار پڑھے اس کا دل سیاہی سے صاف ہو گا ۔

 

شمارہ نمبر ۳ ماہ نو مبر ۱۹۹۴ء احوال وآثار شیخ جنید بغدادی : تحریر :غلام حسن نوربخشی :