آپ رحمۃ اﷲ علیہ کا نام نامی عبدالرحمن ، لقب نورالدین اور نسبتی نام اسفرائنی تھا۔ آپ سلسلۂ ذہب کے کثیر التصانیف اقطاب میں سے ہیں آپ ایران کے صوبہ خراسان کے مشہور شہر ’’اسفرائن ‘‘کے رہنے والے تھے۔
ولادت اور تعلیم و تربیت
حضرت شیخ عبدالرحمن اسفرائنی رحمۃ اﷲ روز دو شنبہ (پیر)4 شوال639 ھ (مطابق8 اپریل 1242ء) شیخ ابوبکر کتانی رحمۃ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں جو اسفرائن کے محلہ کسر ق میں واقع ہے ، پیداہوئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت حضرت شیخ احمد جورجانی رحمۃ اﷲ علیہ کے نامور مرید شیخ پور حسن سے حاصل کی جو ابوبکر کتانی سے منسوب خانقاہ میں رہا کرتے تھے ۔ ان کے علاوہ شیخ ابو سعید ابوالخیر کے خاندان کے ایک عالم شیخ عبداللہ نسائی رحمۃ اﷲ علیہ سے بھی اکتساب فیض و علوم کیا۔
حصول علم کے بعد آپ کے اپنے نوشتے کے مطابق آپ ناجنس لوگوں میں گھر گئے تھے۔ برے لوگوں کی صحبت نے آپ کو روحانی سکون و مسرت سے محروم کردیا تھا۔ اگرچہ آپ عالم فاضل شخص تھے اس لئے توبہ و انابت بھی کرتے لیکن اس پر قائم بھی نہ رہ پاتے تھے۔ اس طرح اضطراب اور روحانی کشمکش کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
آخر کار شیخ احمد جورجانی رحمۃ اﷲ علیہ کے مرید پورحسن رحمۃ اﷲ علیہ کی راہنمائی میں انہیں سکون و مسرت نصیب ہوئی اورپھر شیخ احمد ذاکر جورجانی رحمۃ اﷲ علیہ کی خدمت میں بغداد حاضر ہوئے اوران کے مرید بن کرروحانی منزلیں طے کیں ۔ شیخ کی وفات کے بعد آپ ان کے جانشین اور خلیفہ بنے۔
کلمۃالثناء
بہت سے بزرگوں نے آپ کی دل کھول کر تعریف کی ہے ذیل میں چند نقل کئے جاتے ہیں۔
علائوالدولہ سمنائی رحمۃ اﷲ علیہ رقمطراز ہیں۔
سلطان المشائخ و المحققین وارث الانبیاء والمرسلین سراللہ فی الا رضین نور الملت و الحق و الدین عبدالرحمن اسفرائنی(۱)
عبدالرحمن جامی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں۔
طالبان حق کی رہنمائی، مریدوں کی تربیت اور واقعات کے کشف میں آپ عظیم الشان تھے (۲)
حافظ حسین ابن الکربلائی لکھتے ہیں۔
آپ کے فضائل و کمالات کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ شیخ علائوالدولہ سمنانی جیسا عالم فاضل آپ کا مرید و شاگرد بنا حالانکہ اس زمانے میں فاضل مرشد ین کی کمی نہ تھی۔(۳)
سید محمد نوربخش رحمۃ اﷲ علیہ رقمطراز ہیں۔
’’ اپنے زمانے میں اولیائے مرشدین سے نسبت کے لحاظ سے آپ ستاروں کے درمیان آفتاب کی مانند ہیں ۔ آپ سے بکثرت اولیاء ، اہل سلوک و ارشا د کے سلسلے نکلے ہیں۔پس بغداد والوں کے درمیان ولایت و ارشاد میں مشہور ہوگئے ۔ آپ اس گروہِ صوفیاء کے امام ہیں ۔ ‘‘(۴)
زین العابدین شیروانی صاحب لکھتے ہیں۔
نورالدین جامع علوم ظاھری و باطنی بودہ و بزبان ترکی و فارسی اشعارآبدار نظم نمودہ (۵)نور الدین عبدالرحمن ظاہری و باطنی علوم میں جامع تھے آپ ترکی اور فارسی میں اچھے اشعار کہتے تھے۔
ڈاکٹر احسان اللہ استخری ؒرقمطراز ہیں۔
شیخ نورالدین کہ بود از اسف
از پئی احمد علم زد در جہان
عبدالرحمن نام آن نام آ ور است
در طریقت عبد مولیٰ حیدر است(۶)
غلام سرور لاہوری رحمۃ اﷲ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔
نور دین احمدی شیخ عظیم
مقتدا و مرشد روی زمین(۷)
آغاز سلوک
مشائخ سلسلۂ ذہب نے اپنے روحانی تجربات کو اکثر آپ بیتی کی صورت میں تحریر کیا ہے جو آج بھی سالکان راہ حق کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ ذیل میں ہم شیخ عبدالرحمن اسفرائنی رحمۃ اﷲ علیہ کی کتاب کاشف الاسرارمیں مندرج ان کی سر گزشت تلخیص کی صورت میں پیش کرتے ہیں:
جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر فضل و عنایت کرنا چاہتا ہے تو اس کے دل میں ارادت حق کی تجلی ڈال دیتا ہے ۔ جس دل میں ارادت جوش مارنے لگے اس میںدرد طلب پیدا ہوتاہے تب وہ تمام مخلوق کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتا ہے اور شہوات حیوانی اور خواہشات نفسانی سے منہ موڑ لیتا ہے۔ یہاں میں اپنی سرگزشت بیان کرنا چاہتا ہوں جو مذکورہ بالا باتوں کی تائید کرتی ہے۔
میری گمراہی و بے راہ روی
اس سے قبل میں بد بختی کی وادی میں سرگردان تھا ۔ اور میرے نفس نے اوامر الہٰی سے منہ موڑ رکھا تھا۔ خواہشات اور ممنوعات کے میدان میں سر پٹ دوڑتا جاتا تھا اور مر غزار غفلت میں مد ہوش رہتا تھا۔ ناگاہ میرے دل پر آشنائی حق کی ایک کرن پڑی اور اس کے ساتھ ہی اس میں محبت الہٰی کا اثر پیدا ہوا۔ پھر کچھ مدت میں نور و ظلمت اور سعادت و شقاوت کی کشمکش سے دوچارر ہا ۔ کبھی تاریکئ نفس امارہ سے میری روح پر اندھیرا چھا جاتا اور کبھی برج سعادت سے آفتاب محبت طلوع ہوتا اور تاریکی نفس کا فور ہو جاتی۔ کبھی دولت و ثروت راہ محبت سے پردہ محنت پر نمودار ہوجاتی اور میرے دل کو شقاوت وظلمت سے زنگ آلود کرتی اور کبھی نور محبت الہٰی اس زنگ کو صاف کردیتی ۔
اس کشمکش کے دوران جب بھی مجھ پر ظلمت و شقاوت اور کدورت و بے وفائی کا حملہ ہوتا میں’’ عزلت و تنہائی‘‘ میں بیٹھ کر خود کو ملامت کرتا اور اپنے سینے پر ندامت کے مکے برساتا۔ افسوس و حسرت سے سرپیٹتا اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ۔ (۸) عبرت انگیز واقعہ اور روشنی کی کرن
اس کشمکش کے دوران میرے دو تین ساتھی بھی ساتھ تھے جو ہمہ وقت لہوولعب اور کھیل کود میں مصروف رہتے ۔ ان کی صحبت مجھ پر بہت حد تک اثر انداز ہوتی تھی ۔ایک دن ایسا ہو ا کہ مکمل طور پر ان کا ہم پیالہ و ہم نوالہ بن گیا او ر میرا کافی وقت ضائع ہوا۔ دوستوں سے الگ ہو کر میں اپنے ڈیرے پر آیا جہاں ایک عبادت گزار، زاہدہ، بزرگ عورت رہا کرتی تھی ۔ رات کو جب میں سو گیا تو کچھ دیر بعد وہ زاہدہ عورت خواب سے بیدار ہوئی اس نے دیکھا کہ گھر میں ایک بزرگ نماز پڑھنے میں مصروف ہے جس کے نور سے سارا گھر بقعۂ نور بناہوا ہے۔ جب بھی دو رکعت نماز سے فارغ ہوتا تو وہ میرے سرہانے آکر کہتا ’’ کیا تم نے توبہ کی ہے؟ یہی تمہارا توبہ ہے ؟ اور کیا توبہ ا س طرح خواب غفلت کے مزے لوٹنے کا نام ہے؟ ‘‘ اس زاہدہ خاتون نے بیان کیا کہ جب بھی وہ بزرگ یہ کلمات دُہراتا تومیں زار و قطار روتا تھا۔
اگلی صبح جب اس نے مجھے رات کا یہ واقعہ سنایا تو مجھ پر رقت طاری ہوگئی اور نفس پر ہیبت چھا گئی ۔ اسی وقت میں نے ایمان کی تجدید کی اورتجدید توبہ کرلی۔ لیکن بد قسمتی سے ناجنس لوگوں کے ساتھ میل جول رکھناپڑا جس کے سبب نور تجدید ایمان و توبہ کے پر تو میں کمی واقع ہوئی اور اعتقاد و یقین میں ضعف آگیا تاآنکہ ایک شب میںناجنس لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہو ا تھا کہ اچانک ایک حادثہ پیش آیا اور میرا ایک پائوں ٹوٹ گیا۔ میں نے یہ سوچ کر کہ اگر دوسروں کو پتہ چل جائے تو انہیں ناحق زحمت ہوگی، انتہائی مشقت اور ضبط سے کام لیتے ہوئے کسی کو نہیں بتایا۔اس طرح مجھے اس درد و ضبط کی وجہ سے بے انتہا تکلیف ہوئی جسے میں نے فتوح غیبی جانا اور اللہ تعالیٰ کی عنایت و مہربانی پر محمول کیا۔ اس بار میں نے تجدید توبہ کی اور فریاد کرنے کے بجائے الحمدللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالایا جس کی بدولت مجھے بڑی روحانی ترقی ملی۔
کشمکش کے یہ ایام میری زندگی کے بے رونق ترین دن تھے۔ کبھی میرے دل پر نور ِارادت کا پرتو پڑتا او ر کبھی ظلمت نفس و ہوا میںکھو جاتا ۔ اسی دوران میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ۔ آپ ؐکے ساتھ بہت سے صحابۂ کرام ؓ بھی تھے۔مغرب سے مشرق کی جانب ایک عمارت بنائی جارہی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں ایک بہت بڑا بیلچہ تھا۔ آپؐ اس سے مٹی اٹھا کر اس عمارت کی بنیاد میںڈالتے تھے اور صحابۂ کرام رضوان اﷲ علیہم اپنے پیروں سے اسے روندتے اور مضبوط بناتے جاتے تھے۔ اس حال میں میں نے سوچا کہ اتنے بڑے بیلچے سے کام کرنا قوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ہے۔ زہے قوت محمدی! آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے چالیس نبیوںکی قوت سے نوازا ہے ۔ اتنے میں آپؐ نے وہ بیلچہ حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو عطا فرمایا۔ آپ ؑ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اس سے کام کرنے لگے میں نے سوچا علی علیہ السلام اسد اللہ اور لشکر نبوت کا شجاع ترین شخص ہے۔جس نے در خیبر کو اکھاڑا ، ورنہ اتنے بڑے بیلچے سے کیسے کام کر سکتا ؟ اتنا سوچ پایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ یہ بیلچہ عبدالرحمن کو دے دیں ۔ حضرت علی علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر بیلچہ میرے ہاتھ میں دے دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اتنا بڑا بیلچہ میرے ہاتھ میں بہت ہلکا ہے۔ میں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانند اس سے کام کیا۔(۹)
عظیم کامیابی
اس واقعے کو جب کچھ ہی عرصہ گزر گیا تو حضرت علی علیہ السلام کے توسط سے یداً بیدٍ طریقت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ضعیف کو نصیب ہوئی ۔ اس کے بعد جب بھی کوئی ریاضت یا مجاہدہ بجالاتا میرا نفس فوراََ قابو میں آجاتا ۔ راہ طریقت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں نصیب ہوئی کہ شروع شروع میں میں زہدوتقوی میںکافی آگے بڑھ گیا تھا لیکن ہنوز مقامات مقربین ، مشارب مردمان اور شوق مشتاقین سے بے خبر تھا۔ ان دنوں شیخ احمد جورپانی (جورجانی) رحمۃ اﷲ علیہ کے پاس درویشوں کے کئی گروہ تھے ۔ شیخ نے انہیں خلوت میں بٹھا یا ۔ چونکہ آپ اُمّی اور (بوجہ کم گوئی ) گونگے تھے میرا نفس ان کی ارادت کے تابع نہیں ہو ا کیونکہ میری نظر ان کی ظاہری شکل و صورت پر تھی اور ان کے جسم میں ان کا باطن تلاش کرتا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ان کا پورحسن نامی مرید میرے پا س آیا ۔ اس نے شیخ اور ان کی طریقت کی تشریح و توضیح کی اور ذکر و خلوت کے آداب اور شرائط سے مجھے آگاہ کیا۔ پس اس کی باتیں سن کر مجھے شیخ سے ارادت پیداہوئی اور ان کی محبت دل میں جاگزیں ہوئی۔ (۱۰)
یہ واقعہ اسفرائن کے کسر ق نامی گائوں میں پیش آیا تھا۔ وہیں شیخ ابوبکر کتانی رحمۃ اﷲ علیہ کا خلوت خانہ ہے۔ میں اور پورحسن رحمۃ اﷲ علیہ دونوں وہاں چلے گئے۔ ظہر کی نماز ہم نے وہاں جماعت سے ادا کی اور میری استدعا پر انہوں نے شیخ کے ذکر اور اس کی شرائط سے مجھے آگاہ کیا اور میں نماز عصر تک وہ ذکر حضورِ قلب کے ساتھ کرتا رہا۔ پھر نماز عصر ہم نے باجماعت پڑھی اور دن ڈھلے ہم وہاں سے واپس آئے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے باطن میںبے اندازہ ذوق و شوق پیدا ہوچکا ہے۔ میں خواب غفلت سے بیدار ہو چکا تھا ۔ میرے دل میں شیخ احمدذاکررحمۃ اﷲ علیہ سے ارادت کا جوش موجزن تھا ۔ پس وہاں سے ہم شیخ رحمۃ اﷲ علیہ کے پاس آئے اور ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکرکسب فیض کرتے رہے۔ ان کی ہمت کی برکت اور نظر کی بدولت میں انتہائی سعادت کے مقام پر فائز ہوا۔(۱۱)
فنا و بقا کے مرحلے
جب میں نے خواہشات و مراداتِ نفس و ہوا کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کو اپنا اپنامقصود حقیقی بنالیا تو میرے دل کی دنیا بدل گئی اور مجھ پر تحیر و استغراق کا غلبہ ہو ا اور میں اتنا بھی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ مجھے کیا ہوگیا ہے اور میں کون ہوں ؟ انانیت کلی طور ختم ہو گئی تھی ۔ زینت و رعونت سے بیزار ہوگیا تھا۔ اسی دوران میںنے کاروبار دنیا سے بھی منہ موڑ لیا ۔ اس صورت حال کو ایک دن میرے والد گرامی نے تعجب کی نظر سے دیکھا اور کہا کہ: ’’ میں نے کبھی تمہیں کسی بات پر کاربند نہیں پایا ۔ تم پر ایک رنگ آتا ہے اور دوسرا جاتا ہے۔ ہر وقت تمہاری حالت تبدیل ہوتی رہتی ہے اور کبھی تمہارا لباس پرانا اور درویشانہ ہو جاتا ہے ۔ کسی عقلمند کی سیرت ایسی نہیں ہوا کرتی ایسے حال سے ارباب تربیت شک میں پڑ جاتے ہیں ‘‘ والد گرامی کی ایسی باتوں کو میں مطلق محسوس نہ کرتا تھا کہ انہوں نے کیا کہا؟ بلکہ میں خود کو عالم غیب و شہادت کا سیار دیکھتا تھا۔ سوائے درد طلب کے مجھے کسی چیز کا ہوش نہ تھا۔
پھر درد طلب اس قدر بڑھ گیا کہ میں اس میں فنا ہوگیا اور اس کے بعد مجھے حیات نو ملی۔ تا آنکہ میرے سر کے بال اس قدر بڑھ گئے تھے کہ ایک دن میرے پیر اس میں پھنس گئے ۔ ان دنوں مجھے خاندان شیخ ابو سعید ابوالخیررحمۃ اﷲ علیہ سے سلوک کی نسبت پیدا ہوگئی تھی جو سر کے بال بڑھاتے تھے۔ اس لئے میں انہیں منڈوا نہیں سکتا تھا۔ ایک دن میں نے جرأت کرکے ایک درویش سے کہا کہ تربتِ شیخ ابوالخیر کا واسطہ !میرے بال صاف کردو ۔ میری استد عا پر اس نے میرے سر کے سارے بال منڈوا دئیے۔ بال صاف ہوتے ہی مجھے فرحت و انبساط نصیب ہوا اور حیرت و استعجاب کا پردہ بھی اٹھ گیا(۱۲)
مخلوق پر شفقت
میں نے زہد کا طریقہ اپنا لیا تھا اور یہ عہد کر لیا تھا کہ دنیا سے کم سے کم اپنا حصہ لوں گا اور یہ بھی سوچا کہ عمل صالح کی بنیاد لقمہ ٔصالحہ پر ہے ۔ جبکہ لوگوں کے مال میں شبہات کی بہتات ہے لہذا ان شبہات سے بچنے کے لئے مجھے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس کی بدولت لقمۂ شبہ سے محفوظ رہوں ۔ چنانچہ سوچ وبچار کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ راستوں میں گرے پڑے خوشوں کو اکٹھا کر کے اپنی روزی اس سے حاصل کروں کیونکہ یہ خوشے فصل اٹھانے والوں کے گٹھوں سے گرتے ہیں اور پامال ہوتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ میں نے ایک ٹوکری اٹھائی اورخوشے جمع کرنے اور ان سے رزق حلال حاصل کرنے میں لگ گیا۔ایک دن میں نے دیکھا کہ بعض خوشوں کے پاس ڈھورڈنگرکھڑے اپنا اپنا حصہ لے رہے ہیں ۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ تو ضعیف ترین مخلوق ہیں اور میرے ساتھ اس رزق میں حصہ دار ہیں لہذاانہیں کسی طورمحروم نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ان خوشوں کے دو حصے کروں ایک حصہ خود لوں اور دوسرا حصہ ڈھورڈنگروں کے لئے چھوڑ دیا کروں۔ چنانچہ میں اس پر عمل پیرا ہواپس کچھ عرصہ اس طرح کام چلتا رہا۔لیکن مجھے اس طرح کافی محنت و مشقت اٹھانا پڑتی تھی ۔ اسی دوران میرے دل میںخیال آیا کہ التعظیم لا مراللہ والشفقۃ علیٰ خلقہ اﷲ ( احکام الہیٰ کی تعظیم اور مخلوقات پر رحم اصل چیز ہے) کے تحت یہ مناسب ہے کہ ان ڈھور ڈنگروں پر رحم کرنا چاہیے اور ان بے دست و پا مخلوقات کے ٹھکانوں پر ان کا حصہ پہنچانا چاہیے تاکہ ان کی روزی میں اور اپنی تکلیف میں اضافہ ہو ۔ یہ سوچتے ہی میں نے ایسا کرنا شروع کیا ۔ اس طرح میری محنت و مشقت دوچند ہوگئی۔
ایک دن میں ایک خوشے کو دانے نکالنے کے لئے مسل رہا تھا تو دیکھاکہ ایک چیونٹی درمیان میں آگئی ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر اسے یہیں چھوڑدوں گا تو آفتاب کی تمازت سے اسے تکلیف ہوگی ۔ لہذا چیونٹیوں کا بل تلاش کرکے اسے اپنے ساتھیوں میں چھوڑنا چاہئے۔ یہ سوچ کر میں نے تلاش شروع کی ۔ اتفاق دیکھئے کہ میں روزانہ چیونٹیوں کے ہزاروں آشیانوں پر سے گزرتا تھا مگر اس دن تلاش بسیار کے باوجود مجھے ان کا کوئی مسکن نہیں ملا۔پس میں تھک ہار کر بیٹھ گیا اور اس چیونٹی کو ہتھیلی پررکھ کر غمناک ومحزون بیٹھ گیا اور اس کی بیچارگی پر خوب رویا۔ پھر سوچا مجھے چاہیے کہ اسی جگہ پتھر اور ڈھیلے اکٹھے کرکے اس کیلئے ایک مکان تیار کروں تاکہ اسے وہاں بٹھا دوں اور وہ سورج کی گرمی اور صحرا کی سردی سے محفوظ رہے چنانچہ میں نے اسی طرح کیاجس کا مجھے بے حد فائدہ پہنچا۔(۱۳)
شیخ عبدالرحمن اسفرائنی رحمۃ اﷲ علیہ ایک عرصہ تک مقام تلوین میں رہے ہیںپھر مقام تمکین میں منتقل ہوئے ۔آپ نے اپنی زندگی کے اکثر ایام بغداد میں گزارے لیکن وہاں آپ کے سرگرمیوں اور مشاغل کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں ۔

سلسلۂ کبرویہ نو ر بخشی
سلسلۂ کبرویہ نو ر بخشیہ دو سر ے سلا سل تصو ف مثلا چشتیہ، قا دریہ ،سہر وردیہ ، روشنا ئیہ اور نقشبندیہ وغیر ہ کی مانند ایک رو حا نی صوفیہ سلسلہ ہے ۔روحا نی مقا ما ت ، نظریا ت اور اشغال کے لحاظ سے سب ایک دو سر ے سے ملتے جلتے ہیں ۔اسی طر ح کبرویہ نو ر بخشیہ دوسر ے فقہی مذاہب مثلاً شا فعی ، حنبلی ،مالکی،حنفی ،اہل حد یث اورجعفری کی طر ح ایک فقہی مکتبۂ فکر ہے ۔ اس طرح اس سلسلہ کا اپنا الگ اعتقادی نظام ،الگ شناخت اور جداگانہ حیثیت ہے۔ذیل میں ہم کبرویہ نو ر بخشیہ سلسلے کے بزرگ حضرت شیخ عبدالرحمن اسفرائنی کا سلسلۂ طریقت در ج کر رہے ہیں۔
شیخ نو ر الد ین عبد الر حمن اسفر ائنیؒ717؁ھ
شیخ احمد ذاکر جو زجا نی ؒ669؁ھ
شیخ رضی الد ین علی لالاغزنو یؒ642؁ھ
شیخ ابو الجنا ب نجم الد ین کبر یؒ618؁ھ
شیخ عمار یا سر بد لیسیؒ582؁ھ
شیخ ابو انجیب سہروردیؒ563؁ھ
شیخ ابو ا لفتو ح احمد غزالی 520؁ؒھ
شیخ ابوبکر نسا جؒ487؁ھ
شیخ ابو القا سم گر گا نی ؒ450؁ھ
شیخ ابو عثما ن مغر بی ؒ373؁ھ
شیخ ابو علی کا تبؒ343؁ھ
شیخ ابو علی رودبا ریؒ322؁ھ
شیخ جنید بغدادیؒ297؁ھ
شیخ سر ی سقطیؒ251؁ھ
شیخ معر و ف کر خیؒ200؁ھ
اما م علی الرضا ؑ203؁ھ
اما مو سی کا ظم ؑ183؁ھ
امام جعفر الصادق ؑ 148؁ھ
امام محمد البا قر ؑ 127؁ھ
امام علی زین العا بد ین ؑ94؁ھ
امام حسین شہید کر بلا ؑ60؁ھ
امام علی المر تضی ؑ 40؁ھ
خا تم الا نبیا ٔ محمد المصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۱۴
اصو ل و فر وع میں نو ر بخشی ان بز ر گو ں کی تعلیما ت پر عمل کر تے ہیں۔
تعلیمات
آپ کی تعلیمات آپ کی کتابوں میں موجود ہیںلہذا ان کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ذیل میں چند انتخاب نذر قارئین کیے جاتے ہیں۔
اتباع شریعت
آپ فرماتے ہیں کہ اپنے افعال و اقوال اور حرکات و سکنات کا شریعت سے موازنہ کرتے رہو اگر انہیں شریعت سے موافق نہ دیکھو یا قانون طریقت جو سرّ شریعت ہے ، کے مطابق نہ پائو تو وہ ممنوع ہے۔(۱۵)
خلوت وعزلت
خلوت غیبت نہ کرنے ، بغیر ذکر زبان نہ ہلانے ، لوگوں کو تکلیف نہ پہنچانے ، دن کو روزے رکھنے، شب بیدار رہنے ، خود کو موت کے سپرد کرنے ، قضائے الہی پر راضی رہنے ، بلا ضرورت نہ بولنے ، نماز باجماعت ادا کرنے ، نماز جماعت کے انتظار کرنے ، ہر وقت باوضو رہنے ،شہوت کو ترک کرنے ، صبر و تحمل کرنے ، بھوکے رہنے ، نفس و شیطان سے بر سر پیکار رہنے ، حق تعالیٰ کی ہم نشینی اختیار کرنے ،اللہ تعالیٰ سے دلی لولگانے، اخلاق ذمیمہ کی بیخ کنی کرنے ، خود کو بیچارہ و بے بس تصور کرنے ، اپنے برے افعال پر ندامت کی آنسو بہانے ، فخر و مباہات سے احتراز کرنے ، توکل بر خدا کرنے ، ہر وقت عبادت حق میں مصروف رہنے اور دائمی ذکر میں مصروف رہنے کا نام خلوت ہے۔(۱۶)
خلوت و اعتکاف
فرائض کی ادائیگی اور حصول علم فریضہ کے بعد باقی اعمال صالحہ میں سے خلوت پر کسی بھی عمل صالح کو ترجیح و فوقیت نہ دینا چاہئے کیونکہ اعمال صالحہ کا مجموعہ خلوت و اعتکاف ہے۔(۱۷)
دلجمعی و حضور قلب
جو شخص خلاصہ ٔ دین حق سے بہرہ مند ہونا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ دلجمعی کی طرف خوب توجہ دے جو چیز دل کو اپنی طرف مشغول رکھتی ہو اسے دور کرے۔(۱۸)
درویش کون؟
درویش وہ نہیں جس کے پاس کھانے،پینے اور پہننے کے لئے کچھ نہ ہو ایسے شخص کو گدائے گرسنہ و برہنہ یعنی بھوکا ننگا درویش کہتے ہیں بلکہ درویش وہ ہے جس کا باطن غیر حق سے خالی ہو۔(۱۹)
حقیقی و مجازی دل
دل حقیقی وہ دل ہے جس میںبجز ذکر حق کچھ نہ ہو اور دل مجازی وہ دل ہے جس میں باقی سب کچھ ہو ،ذکر حق نہ ہو۔(۲۰)
شاعری
پہلے بتایاجا چکا ہے کہ آپ رحمۃ اﷲ علیہ عربی،فارسی اور ترکی میں شعر کہا کرتے تھے گو آپ کا دیوان ہماری نظر سے نہیں گزرا تاہم مختلف کتابوں اور آپ کی اپنی کتابوں میں آپ کے اشعار موجود ہیں جن میں سے بعض یہاں دئیے جاتے ہیں- ؎
شرح بی رحم فتادہ نگارم چکنم
برد اندیشہ ٔ او خواب و قرارم چک
سرزنش میکندم خلق کہ زاری تا کی
من د ل سوخۃ چون عاشق زارم چکنم(۲۱)
یعنی جس بے رحم معشوق سے واسطہ پڑااوراس کے ہاتھوںگرفتار ہوا ہوں اس کی تشریح کیسے کروںاس کے خیال نے میرے خواب وقرار چھین لیا ہے میں کیاکروںلوگ میری سرزنش کرتے اورمجھے طعنے دیتے ہیں کہ کب تک محبوب کے فراق میں روتے رہوگے میں تو دل جلا عاشق ہوں نہ روؤںتو اور کیا کروں؟
آشفتہ برآن رخان زیبات منم
آ غشتہ بخون دل ز سودات منم
با این ہمہ اعتماد بر لطف تو زانک
خاک سگ ہندوان لالات منم(۲۲)

اے محبوب!میںتیرے اس حسین وجمیل چہرے کا عاشق و فریفتہ ہوںتیرے فکرو غم کے میں خون میں ڈوبا رہتا ہوںاس کے باوجود میں تمہارے لطف واحسان پر بھروسہ رکھتا ہوں کیونکہ میں تیرے غلاموں کے کتوں کی پائمال مٹی ہوں۔

تصنیف و تالیف
سلسلۂ ذہب کے دوسرے مشائخ رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین کی مانند آپ بھی تحریر و تقریر کی اہمیت و افادیت سے بخوبی آگاہ تھے چنانچہ قیام بغداد کے دوران جہاں آپ نے اپنی تقریروں کے ذریعے خلق خدا کو رشد و ہدایت سے سرفراز فرمایا وہاں تحریر کے ذریعے پڑھے لکھے لوگوں کو رشد و ہدایت کا سامان بہم پہنچایا ۔ چنانچہ آپ نے بکثرت کتب اور رسالے تصنیف کئے اورمتعدد مختلف خطوط لکھے۔
کاشف الا سرار کے محقق جناب ہرمن لنڈ لٹ کے مطابق آپ کے ڈیڑھ سو (۱۵۰) نوشتے دستیاب ہیں جن میں سے بعض ضخیم ہیں اور بعض چند سطروں پر مشتمل تحریر یں ہیں۔
کینیڈا کی مکگل یونیورسٹی اور ایران کی تہران یونیورسٹی کے پروفیسر ہرمن لنڈ لٹ اورمہدی محقق نے آپ اور آپ کے شاگردحضرت شیخ علائوالدولہ سمنانی رحمۃ اﷲ علیہ کے درمیان ہونے والی ذاتی خط و کتابت کو الگ کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ اسی طرح آپ کی کتاب کاشف الاسرار اور دوسرے ۶ رسالے بھی فرانسیسی میں تفصیلی مقدمہ، ترجم اور مکمل تفصیلی انڈکس کے ساتھ شائع ہو چکے ہیں زیر نظر کتا ب اسی تحقیقی متن کا اردو زبان میں ترجمہ ہے ۔
مذکورہ کتب و رسائل کے علاوہ آپ رحمۃ اﷲ علیہ کی کچھ اور بھی تصنیفات ہیں جن میں سے شرح حدیث سلسلۃ الذہب ،شرح رسالۂ سماع اور شرح ابیات بستی وغیرہ شامل ہیں ، جناب بدر الدین حسین المعروف بہ مشتاق علی حیدر خانی نے ایران سے شائع کیا ہے۔ یہ کتابیں راقم کے پاس موجود ہیں ان شاء اﷲ ہم اگلی دفعہ انہیں بھی شائع کریں گے۔
وفات
کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ ہر جاندار نے موت کامزا چکھنا ہے، کے تحت آپ بھی مالک حقیقی سے جاملے۔ مؤرخین کے درمیان آپ رحمۃ اﷲ علیہ کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے۔ شیخ علائوالدولہ سمنانی رحمۃ اﷲ علیہ نے شب چہار شنبہ ۳ جمادی الاول ۷۱۷؁ھ، (۲۳) میر سید محمد نوربخش رحمۃ اﷲ علیہ(۲۴) نے ۲۲ ۷؁ھ اور مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اﷲ علیہ نے روز یک شنبہ ۱۶ جمادی الاول ۶۹۵؁ھ لکھا ہے مفتی صاحب نے تاریخ وفات و ولادت یوں نقل کی ہے۔
نور دین احمدی شیخ عظیم
مقتدا و مرشد روی زمین
’ نور دین نورانی ‘‘ آمدش مولدش
رحلت او ’’ عبدر حمان نور دین‘‘(۲۵)
اس حساب سے آپ کا سن ولادت ۶۳۷؁ ھ اور سن وفات ۶۹۵؁ ھ بنتا ہے ۔ حالانکہ آپ کا سال وفات ۷۱۷؁ ھ ہے اور وفات کے بارے میں نہ صرف دن اور تاریخ بلکہ سال میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔
ہمارے خیال میں شیخ علائوالدولہ سمنانی رحمۃ اﷲ علیہ نے جو تاریخ وفات دی ہے وہی درست ہے کیونکہ آپ نہ صرف شیخ عبدالرحمن اسفرائنی رحمۃ اﷲ علیہ کے شاگرد ، مرید اور خلیفہ ہیں بلکہ وفات کے وقت آپ بغداد ہی میںموجود تھے اس لئے آپ کی تحریر یعنی شب چہارشنبہ (بدھ) ۳ جمادی الاول ۷۱۷ھ مطابق ۲۳ جون ۱۳۱۹ ء کو آپ کا وصال ہونادرست ہے ۔
وفات کے بعد آپ بغداد میں مدفون ہوئے جہاں آپ کی خانقاہ موجود تھی ۔ آپ کا مزار اب بھی بغداد میں مرجع خلائق ہے۔

حوالہ جات

۱۔مقدمہ خمخانہ وحدت ص ۶۷
۲۔ نفحات الانس ص ۴۳۸
۳۔روضات الجنان ص ۲۹۷ بحوالہ مقدمہ خمخانہ وحدت ص ۷۰۔
۴۔سلسلۃ الاولیا ء ص۳۰۔
۵ ۔ریاض السیا حہ ص ۱۴۸۔
۶۔مقدمہ خمخانہ وحدت ص ۲۴
۷۔خزیتہ الا صفیاء ص ۲۵۵
۸۔کاشف الاسرار ص۱۴۔
۹۔کاشف الاسرار ص۱۸۔
۱۰۔کاشف الاسرار ص۲۰۔
۱۱۔کاشف الاسرار ص۲۱۔
۱۲۔کاشف الاسرار ص۲۱۔
۱۳۔کاشف الاسرار ص۳۰۔
۱۴۔رسالہ داؤدیہ ص ۵ و رسالۂ سلسلۃ الاولیاء از میر سید علی ہمدانی ۔ صحیفۃ الاولیاء ص ۴۵ و رسالۂ کشف الحقائق از میر سید محمد نوربخش ۔ یہی سلسلہ یا زنجیرۂ طریقت شرح گلشن راز اورتحفۃ الاحباب کے علاوہ دوسری نوربخشی کتابوں میں بھی مندرج ہے۔
۱۵۔کاشف الاسرار ص۳۷۔
۱۶۔کاشف الاسرار ص۶۱۔
۱۷۔کاشف الاسرار ص۶۰ ۔
۱۸۔فی کیفیت التسلیک ص۱۲۳
۱۹۔فی کیفیت التسلیکَ ص۱۲۲۔
۲۰۔فی کیفیت التسلیک ص۴۲۔
۲۱۔ریاض السیاحہ ص۱۶۸ ۔
۲۲۔کاشف الا سرارص۱۳۷۔
۲۳۔مصنفات سمنانیؒ ص ۳۱۶۔
۲۴۔سلسلۃ الاولیاء ص ۱۷۔
۲۵۔سفینۃ الاولیاء ص ۱۷۔

حوالہ:مقدمہ کاشف الاسرار اُردو ترجمہ از غلام حسن حسنو ایم اے