آپ کانام علی،لقب رضی الدین ،عرف لالا،والد کا نام سعید اورنسبتی نام جوینی ہے،آپ شیخ مجد الدین بغدادی اور نجم الدین کبری کے مرید اور خلیفہ مجا ز تھے تصوف و عرفان پر آپ کی بہترین خیا لا ت و افکار پیش کئے گئے ہیں آپ ایک بہت اچھے شاعر اور نثر نگا ر تھے۔حضرت شیخ علی لالاغزنوی افغانستان کے رہنے وا لے تھے اور لالا کا لفظ بھی افغانی ہے جس کے معنی برادر بزرگ ،غلام اور روشن جبین لیا جا تا ہے ۔غلبا آپ کو لا لا عزت و احترام کے طور پر کہا جا تا ہے ایک تو آپ ایک مشہور شاعر حکیم سنا ئی ابن عم تھے آپ بڑے وسیع المشرب شیخ طریقت تھے سینکڑوں اہل فضل و کمال سے ملاقات کی اور ان سے روحانی فیض و کمالات حاصل کئے انہیں سے خرقہ فضیلت بھی حاصل کیا۔آپ ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ بمطابق ۲۲ اگست ۱۲۴۳ء بروز بدھ واصل الی الحق ہو ئے اور غزنی کے نواح میں مدفون ہو ئے جہاں دشت لالا میںآپ کا مزار اب بھی مرجع خلائق ہے۔
کلمتہ الثناء
عبد الرحمن جامی :۔خواجہ اہل حال لا لا ئے عترت وآل شیخ علی لالا
در بندگی تو آنکہ یکتا است۔لالائے علی علی لالااست۔آپ نے ایک سو چوبیس شیوخ و کا مل و مکمل سے خرقہ حاصل کیا
سید علی ہمدانی ؒ:۔شیخ الکامل السائر رضی الدین علی لالا
سید محمد نوربخش :۔’’وھو علی بن سعید الجوینی کان او حد الاولیا فی زمانہ بکثرۃ المجاہدہ و ترک الدینا و زینتھا شاغر کثیرۃ اراجلا وصحب مئتہ و ثلث عشر شیخاحتی وصل الی صحبتہ الی الجناب نجم الدین کبری حتی سار سید المرشدین‘‘آپ علی بن الجوینی ہیں آپ دنیا اور اسکے زنیتوں کے ترک کرنے اور بکثرت مجاہدہ کرنے کی بنا پر اپنے زمانے کے اولیا میں سے تھے آپ نے بکثرت پیدل سفر کئے اور ایک سو تیرہ مشائخ کی صحبت میں رہے یہاں تک کہ ابوالجناب شیخ نجم الدین کبریٰ تک پہنچے اور ان کی تربیت سے سید والمرشدین بن گئے۔
جان محمد قدسی :۔ نسبت او بسالک والا ۔شیخ عالم علی بن لالا۔
شیخ علاوالدولہ سمنانی :۔شیخ علی لالا کے والد خود ایک صوفی تھے اور شیخ ابو یوسف ہمدانی کے مرید تھے فقر و سلوک کی ابتدائی تربیت اپنے والد محترم سے سیکھیں ۔
ڈاکٹر احسان اللہ استخبری:۔
شیخ غزانی شہ رضی الدین مست ۔باعلی ہم نام ومی نوش الست
قطب عالم گشت و عالم را مدار ۔شد قرار عاشقان بے قرار
زین العابدین شیروانی :۔عالم و کامل وعارف کامل بودہ فضائل بودہ صوری رابا کمالات معنوی جمع نمودہ۔’’آپ ایک باعمل اور عارف کا مل تھے اور فجائل صوری و معنوی کمالات معنوی میں یکجا تھے ۔
آغاز سلوک :۔
ایک دفعہ آپ حج کے ارادے سے خراسان آئے تھے اور شیخ ابو یوسف ہمدانی کی خد مت میں پہنچے اسی موقع پر شیخ نجم الدین کبریٰ طلب حدیث کیلئے ہمدان جا رہے تھے اور ہمدان سے ایک فرسنگ کے فاصلے پر شیخ علی لالا غزنوی کے گاوں میں اتر گئے تھے اسی رات شیخ علی لالا غزنوی نے ایک واقعہ دیکھا کہ زمین سے آسمان تک ایک سیڑھی چلی گئی ہے سیڑھی کے اوپر ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے نیچے سے بہت سے لوگ اوپر چرھ رہے ہیں سیڑھی کے آخر میں وہ آدمی ایک ایک کو پکڑ کر آسمان تک پہنچا رہا ہے چنانہ شیخ علی لا لا غزانوی بھی اس سیڑھی پر چڑھ گئے اور اس آدمی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا جس نے آپ کو اپنی طرف کھینچا اور آسمان تک پہنچا دیا شیخ علی لا لا غزنوی نے یہ واقعہ اپنے والد کو سنایا انہوں نے کہا کیا اس شخص کو جانتے ہو آپ نے فرمایا میں اسے جانتا ہوں اور اس کا نام بھی جنتا ہوں والد نے کہا کہ تمہاری کامیابی کے کلید اس کے پاس ہے جاو اور اسے تلاش کرو آپ ان کی تلاش میں نکل گئے جگہ جگہ گھو مے پھرے مگر کو ئی سراغ نہ ملا دواصل شیخ نجم الدین کبریٰ ان دنوں بہت مصروف تھے اور مسافرت میںرہتے تھے ۔ایک بار آپ ترکستان میں احمد یسوی کی خانقاہ میں خلوت میں بیٹھے ہو ئے تھے خوارزم سے ایک آدمی وہاں پہنچا شیخ احمد نے وہاں کے مشائخ کے بارے میں سوال کیا تو مسافر نے کہا کہ ان دنوں ایک نوجوان وہاں آیا ہو اہے بہت سے لوگ ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے ہیں شیخ کے استفسار پر بتایا کہ ان کا نام شیخ نجم الدین کبریٰہے نام سنتے ہی شیخ علی لا لا غزنوی خلوت سے نکل گئے اور چل پڑے اگرچہ شیخ احمد یسوی نے آپ کو روکنے اور سردی کے اختتام تک وہاں رکھنے کی کو شش کی لیکن آپ وہاں نہ رکے اور خوارزم پہنچ گئے شیخ کے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر عبادت و ریاضت میں مشغول ہوگئے۔
خدمت و مددخلق :۔مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کی خدمت اور مدد بجائے خود طاعت الہی ہے۔خدمت خلق بہترین عبادت ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’خیر الناس مں اینفع الناس ‘‘بہترین آدمی وہ ہے جو دوسروںکو نفع پہنچائے اسی طرح رفاہ عامہ قرون اولیٰ سے مسلمانوں کا طرہ امتیا ز رہا ہے صوفیا ئے کرام کو شش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے دوسروں کو نفع پہنچانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔اس سلسلے میں حضرت شیخ علی لالا غزنوی کا عملی نمونہ موجود ہیں آپ خود فرماتے ہیں کہ ایک بارمیں ایک بستی میں موجود تھا کہ ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ میرے بھا ئی ک کسی نے پکڑ لیا ہے شیخ اس کی مدد کے لئے تشریف لے جا نا چاہئے یہ سنتے ہی آپ ساتھ ہو لئے اتنے میں بادل چھا گئے اور رات ہو گئی اور شدید برف باری شروع ہو گئی آپ نے سفر جاری رکھا آپ کو محسوس ہوا کہ راستہ گم ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اورمناجات فرمائی اچانک عصا کی نوک سے نور پیدا ہوا اور یہ نور روشن سے روشن تر ہو تا چلا گیا اور اسی کی روشنی میں راستہ طے کیا یہاں تک کہ صبح ہو گئی تو وہ نور گم ہو گیا اسنور سے بے حد وحساب فائدہ پہنچا چاہئے کہ ہر حال میں مسلمان بھا ئی کی اعانت کرے۔
سفر ہندوستان اور فیض رتن ہندی :۔
آپ نے ہندوستان کا رخ کیا اور ابو الرضا رتن سے ملے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف امان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان تک پہنچایا حضرت علاوالدولہ سمنانی نے بھی اسے درست قرار دیا چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ شیخ رضی الدین علی لالا غزنوی نے ابو الرضا رتن بن نصر اللہ کی محبت پائی تو انہوں نے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امانت کنگھی عطا کی جو حضرت شیخ علاالدولہ سمنانی کے پاس تھی اور جس کو انہوں نے کپڑے میں لپیٹ کر رکھا تھا جس کے اوپر کا غذ رکھ کر اس پر یہ لکھ دیا تھا ـ’’ھذا لمشط رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وصلی الی ھذا الضعیف صاحب رسول اللہ وھذا الخرقۃ وصلت من ابی الرضا رتن الی ھذا الضعیف ‘‘یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کنگھیوں میں سے ایک کمگھی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اس ضعیف کو پہنچی ہے اور یہ خرقہ ابو لرضا رتن سے اس ضعیف کو پہنچا ہے۔اسی طرح سے شیخ علاالدولہ سمنانی نے اپنے قلم سے لکھا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضی الدین علی لالا غزنوی کے لئے امانت تھی۔شیخ علی لالا غزنوی سے صرف ایک کتاب ثابت ہے جو بھارت کے کسی شہر میں محفوظ ہے لیکن شیخ عبد الرحمن اسفرائنی کے ارشاد ہے کہ رسالہ درویش سلوک و خلوت نشینی میں جگہ جگہ آپ کے اقوال مندرج ہیں ۔
اساتذہ و شاگرد :۔حضرت شیخ علی لالا غزنوی ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے آپ نے بہترین تعلیم و تربیت پا ئی تھی۔آپ شیخ نجم الدین کبریٰ اور ان کے نامور مرید خواجہ مجد الدین سے استفادہ حاصل کر تے رہے اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا حضرت شیخ علاو الدولہ سمنانی کا بیان ہے کہ شیخ رضی الدین علی لالانے طریق انزوا وخلوت شیخ مجدد الدین سے لیا تھا اور خرقہ ہزار میخی انہی کے ہا تھوں پہنا تھا ۔شیخ مجدد الدین کی شہادت کے بعد آپ شیخ نجم الدین کبریٰ سے استفادہ کر تے رہے یہاں تک کہ قطبیت کے درجے کو پہنچ گئے جب نجم الدین کبریٰ شہید ہو ئے تو آپ ان کے خلیفہ اور جانشین ہو گئے ۔ان کے علاوہ بے شمار بزرگوں سے فیضیاب ہو ئے اور ان سے خرقہ خلافت تبر کات اور اسناد حاصل کئے۔آپ کے بے شمار شاگرد اور مرید تھے تاہم ان میں سے حضرت شیخ ذاکر جرجانی بہت مشہور ہو ئے جنہوںنے آپ سے خرقہ خلافت پا یا ۔اور آپ کے بعدہی آپ کے خلیفہ اور جانشین بنے آپ کے بارے میں حضرت شیخ علاوالدولہ کا ارشاد ہے کہ شیخ احمد ذاکر عجیب آدمی تھے ان کا مرتبہ بڑا اونچا تھا میں نے غیب میں ان کاروحانی مقام ابو الحسن خرقانی کے برابر پایا۔اور رضی الدین علی لالا سلطان بایزید کے برابر تھے۔ایک دوسرا نامور مرید شیخ عبد اللہ تھا جنکے بارے میں روایت ہے کہ شیخ عبد الرحمن شمس الدین گنجہ کے حوالے سے لکھتے ہیں جب شیخ رضی الدین علی لالا غزنوی نساء پہنچے اور روح آباد نامی خانقاہ میں اترے وہاں کے عوام اور خواص جوق درجوق ملاقات کے لئے آئے شیخ قبلہ ایک صفہ رخ پر بیٹھے ہو ئے تھے اور اس مجلس میں ایک بہت سے بزرگ تھے آپ ایک مرید عبد اللہ تجوید وضو کے لئے باہر چلے گئے شیخ نے حاضرین سے کہا کہ یہ عبد اللہ کیسے ہیں سب نے کہا ایک عزیز درویش ہی نہیں ہیں تم لوگ ان کو معمولی سمجھتے ہو جبکہ یہ عبد اللہ انصاری کے قائم مقام ہیں ۔
شاعری :۔آپ ایک علمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ کی والد اور مشہو ر شاعر حکیم سنائی چچا زاد بھائی تھے حکیم سنائی بہت بڑے ادیب بھی تھے علامہ اقبال نے سفر ہندوستان کے دوران سنائی کی عظمت کا یوں اعتراف کیا اور کہا کہ ۔
سنائی کے ادب میں میںنے غواصی نہ کی ورنہ ۔
ابھی اس بحر میں ورثہ بہت ہیں لولوے لالا
حضرت شیخ علی لالا غزنوی بھی ذوق شوق کے حامل بہت اچھے شاعر تھے ذیل میں آپ کی شاعری کے نمو نے درج کئے جا تے ہیں۔
اشکال طریقت نشوز حل بسواں ۔نہ نیز بہ در باختن نعمت ومال
تا جان نکنی خون نخوری پنجاہ سال ۔از قال ترا رہ نما یند بہ حال
ہم جان ہزار گرفتار است ۔ہم دل بہزار جان خریدار تو است
اندر طلبت نہ خواب باید نہ قرار ۔ہر کس کہ در آرزوی دیدار تو است
عشق ارچہ بسی خون جگرھا دہدت۔میخور چو صدف کہ ہم گہرہا دہدت
وفات حسرت آیات :۔ آپ شیخ نجم الدین کبریٰ کی تلاش کے دوران سو مشائخ عظام سے فیض حاصل کیا اور زمدگی میں ۱۸۴خرقہ خلافت پا ئے وفات کے وقت بھی آپ کے پاس ۱۱۷خرقہ خلافت پا ئے ۳ ربیع الاول ۶۴۲/ ۱۲۴۳ء کو وفات پا ئی ۔مفتی غلام سرور نے تاریخ وفات یوں کہی ہے۔
آن رضی الدین علی لالا ولی۔وصف او بیرون است از گفت و شنید
گفت تاریخ و صالش او خرد ۔سید اکرم علی بن سعید
مرزا شیخ علی لالا :۔حضرت شیخ علی لالا نے اسفرائن(غزنی)میں وفات پائی چنانچہ آپ کا جسد خاکی محمود غزنوی کے پہلو میں دفن کیا گیا غزنی کی تباہی اور مرزا سلطان محمود کی بے حرمتی کے بعد یہ جگہ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گئی موجودہ زمانہ میں یہ تباہ و برباد ویران علاقہ ہے یہ علاقہ دشت کہلاتا ہے اور غزنی شہر کے باہر شمال کی جانب واقع ہے۔اس کے علاوہ آپ کا ایک اور مبینہ مزار اصفہان نصف جہان کے نواح میں واقع ہے۔جس کی زیارت کے لئے لوگ دور دور سے آتے ہیں یہ مزار گنبد علی لا لا کہلا تا ہے اور پورے خطے میںمشہور ہے۔

::::::::::شمارہ نمبر:::::::::: ۱۱۱:::::::::: ماہ جون:::::::::: ۲۰۱۲::::::::::حضرت شیخ علی لالا غزنوی::::::::::تحریر :::::::::::غلام حسن نوربخش::::::::::