پیدائش اور تعلیم و تربیت :۔میر شمس الدین ۸۳۳ھ کو ایران کے علا قے گیلان میں پیدا ہو ئے آپ ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن آپ کے والد کا فی بوڑھے ہو گئے تھے جس کی وجہ سے سارے گھر والوں کی معاشی بوجھ آپ کو اٹھا نا پڑا بایں ہمہ آپ اپنا زیادہ تر وقت نیک اور صاحب فضل وکمال لوگوں میں گزارتے تھے میر شمس الدین عراقی نے اپنی ابتدا ئی زندگی کے کچھ ایام میر سید محمد نوربخش کی خدمت میں گزارا نوربخش کی وفات کے بعد انہوں نے آپ کے نامور خلفا اور مریدوں سے استفادہ حاصل کیا جن میں شیخ محمود بحر آبادی،حسین کو کئی،شیخ محمود سفلی،برہان الدین بغدادی،شمس الدین لا ہیجی،اور شاہ قاسم فیض بخش شامل ہیں (تحفتہ الاحباب )
عراقی نے اپنی زندگی کے بیشتر حصے ان کی صحبت اور تربیت میں بسر کئے تھے جب کی بدولت آپ کمالات صوری اور کما لات معنوی سے آراستہ تھے علوم ظاہری کے بارے میں کو ئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں لیکن تحفتہ الاحباب میں کشمیر کے شیخ الاسلام شیخ شہاب الدین ہندی سے پتہ چلتا ہے کہ ظاہری علوم پر بھی آپ کو پوری طرح دسترس حاصل تھی تاہم آپ کی کو ئی تصنیف نہیں ہے تحفتہ الاحباب میں آپ کی تمام سرگرمیوں میں اقوال و فرامین کا ذکر موجود ہیں یقینی بات ہے کہ آپ نے کو ئی کتاب تصنیف نہیں کی ہو ۔
کلمتہ الثنا ئ:۔دوسرے اولیا کی طرح میر شمس الدین بہت بڑے فضل و کمال کے مالک تھے ان کی روحانی قدرو منزلت بہت زیادہ تھی ۔
ایں سعادت بزو ربا زو نیست۔تانہ بخشد خدائے بخشندہ
شاہ قاسم فیض بخش نے عراقی کو کشمیر بھیجتے وقت خط ارشاد میں فرمایا:
جناب قدوۃ الاولشائخ العظام،زبدۃ الاولیا ،الکرم ،مرشد السالکین،ہادی المستر شدین،شمس الدین ادام اللہ برکات و کمالات،(تحفتہ الاحباب ص۳۳۴)
سلطان فتح شاہ نے خانقاہ شاہ ہمدان کے تولیت نامے میںلکھا :۔
ارشد مآب،علایت اکتساب،قطب المحققین،قدوۃ المرشدین،زبدہ ارباب الکشف والیقین،المتوکل الملک المعین،المختص بعنایات اللہ الباقی،شمس الدین محمد عراقی(تحفتہ الاحباب ص۳۷۰)
جان محمد قدسی نے لکھا :۔
کیست دریں گنبد فیروزہ فام۔قطب زماں شمس فلک احترام
محرم راز حریم کبریا ۔محی رسم و درویش اولیاء
عارف حق شیخ والا یت پناہ ۔خضر زماں قطب خدارا رھنما است
شیخ محمد کی ولی خدا است ۔برھمہ خلق خدا خدارا رھنما است
باطن او مطلع انوار حق ۔سینہ او مخزن اسرار حق
ملا محمد علی کشمیری :۔مطہر آثار معارف الہی،منبع شر حقائق نامتناہی، مخصوص عنایات حضرت ملک الہاقی،شمس االملت والدین،شیخ محمد العراقی،(تحفتہ الاحباب ص۲۱۱)
سلطان حسن شاہ والی کشمیر کے وزیر اور ندیم خاص حاجی شمس سلطان حسن شاہ کو عراقی کے بارے میں یوں رپورٹ دی ’’ایں مرد عزیز کہ مرد ماں ایلچی گمان می کرد ند از جملہ اولیا ست‘‘یہ عزیز القدر شخص جسے لوگ ایک سفیر سمجھتے ہیں وہ تو اولیا اللہ میں سے ہیں (تحفتہ الاحباب ص۱۵۹)
پروفیسر محب الحسن صاحب اقمطراز ہیں :۔انہوں نے (عراقی )اچھی تعلیم حاصل کی تھی کیو نکہ وہ بہت اچھے خطیب اور عالم بھی تھے ان کے اوصاف کی بنا ہرات کے سلطان حسین مرزا بالقراء کی مردم شناس نظریں ان پر پڑیں(کشمیر عہد سلاطین ص۴۳۹)
شادی ،اولاد :۔میر شمس الدین عراقی پچپن سال کی عمر میں ایک سید گھرانے میں سیدہ بچہ آغا سے شادی کی ،ان سے پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا تو لد ہو ئے سب سے بڑی بیٹی بیبی آغا تھی اور سب سے چھوٹا شیخ دانیال شہید تھا کشمیر کے وزیر اعظم سید محمد بہقی نے عراقی کو پیغام بھیجا تھا کہ بی بی آغا کی شادی ان سے کر دے لیکن سید محمد بہقی کی بطو ر وزیر اعظم کار گزاری عراقی کو پسند نہ تھا اس لئے انہوں نے فورا منع کر دیا بلکہ فوری طور پر اس کی شادی غیر مسافر سید درویش عبد السلام کے ساتھ کردی جس سے بہقی بہت برا فروختہ ہو ئے تھے عراقی کی پانچوں بیٹیاں یکے بعد دیگرے پیدا ہو ئیں اس طرح پیچہ آغا اولاد نرینہ کے لئے ترسنے لگیں ایک دم عراقی نے انہیں ہدایت کی کہ وہ ان کی بیٹیاں سید محمد نوربخش کے مزار پر جا ئیں اور نوربخش کے توسل سے اولاد نرینہ کی دعا کریں چنانچہ وہ وہاں گئیں اور بڑے خشوع و خضوع سے دعا کی تین دن تک وہاں اقامت گزیں رہیں آخری دن جبکہ سب سجدے میں حالت دعا میں تھیں آواز آئی ’’بر وید حق تعالیٰ شمار برداری داد ‘‘آپ چلی جا ئیں اللہ تعالیٰ آپ کو ایک بھا ئی دے گا دیکھا تو کو ئی آدمی نہ تھا چنانچہ سب خوش ہو ئے چند دن بعد بچہ آغا حاملہ ہو گئیں اوراس طرح ۹۰۰ء میں نوروز کے دن شیخ دانیال پیدا ہو ئے (تحفتہ الاحباب ص ۳۱۵)
کشمیر میں عراقی کی سر گرمیاں :۔میر شمس الدین عراقی ۸۸۸؁ء میں شاہ قاسم فیض بخش کی ہدایت پر سلطان حسین والی خراسان کو بعض ادویا ت لا نے کی غرض سے کشمیر کا دورہ کیا اور مسلسل آٹھ سال تک آپ کشمیر ہی میں رہے اور اس وقت خراسان گئے جب سلطان کا انتقال ہوگیا تھا واپسی پر آپ شاہ قاسم فیض بخش کے پاس بار سال رہ کر دربارہ کشمیر آئے اور باقی ماندہ زندگی کشمیر میں ہی بسر کی اسی دوران آپ نے کشمیر میں نوربخشیہ خانقاہ زڈی بل تعمیر کی جو کشمیر کی سب سے بڑی خانقاہ تھی اس کے علاوہ متعدد بت توڑے بیسیوں بت خانوں کو گرایا اور وہاں مسجد تعمیر کی ملا محمد علی کشمیری نے میر شمس الدین عراقی کے ہاتھوں ختم ہو نے والے مشہو ر بت خانوں کا ذکر کیا ہے اور اپنی کتاب میں پورا ایک فصل وقف کردیا ہے اس ضمن میںعراقی اکا طریقہ یہ تھا کہ مریدوں کے دستے تبلیغ کے لئے روانہ کرتے تھے اور وہ مختلف علاقوں میں جاتے اور بت خانوں میںجا کر اسلا م کی تبلیغ کر تے اگر اسلام قبول کر نے سے انکار کر تے تو وہ عراقی کو مطلع کرتے عراقی ایک دستہ بت خانہ تباہ کر نے کے لئے روانہ کر تے اور وہ گرانے میں ناکام لوٹتے تو خود نفس و بنفیس جا تے اور اسے خرا ب کر تے اس ضمن انہیں باقاعدہ جہاد کرنا پڑتا وزیر اعظم محمد بہقی کو یہی بات سب سے زیاہ ناگوار گزرتی تھی۔آپ کے ہاتھ پر بیس ہزار لوگ مسلمان ہو ئے تھے سلطان زینالعا بدین کے زمانے میں مر تد ہو نے والوں کو با لجبر دائرہ اسلام میں لا یا ۔غرض آپ نے کشمیر میں اپنی زندگی برے جوش و خراوش سے گزاری ہزاروں لوگوں کو روحانی تربیت دے کر درجہ کمال تک پہنچایا آپ خانقاہ زڈی بل کی تعمیر کے لئے گئے بعد میں وہاں مستقل رہنے لگے وہاں اوراد فتحیہ اور اوراد عصریہ پڑھنے والوںکی رہبری کیا کرتے تھے لوگوں سے ملتے تھے اور درویشوں کو تربیت دیتے تھے چند ماہ کے لئے آپ کشمیر سے ملک بد ر ہو کر بلتستان پہنچے ان چند مہینوں میں آپ نے بلتستان کے علاقوں کا دورہ کیا اور اسلام کو استحکام پہنچایا بلتستان سے کشمیر جا تے وقت یبگو بہرام والی خپلو کی استدعا پر اپنے ایک مرید خاص ملک حیدر کو بلتستان چھوڑ گیا تھا جس کی اولا د اب بھی خپلو خاص اور مختلف علاقوں میں آباد ہیں اور اخوند یعنی لوگوں کو دینی معاملات کی رہنما ئی کر تے ہیں ۔
خلیفہ فیض بخش :۔میر شمس الدین عراقی شاہ قاسم فیض بخش بن سید محمد نوربخش کے خلیفہ اور مرید تھے آپ پہلی بار کشمیر سلطان حسین والی کراسان کے لئے ادویات لینے آئے تھے لیکن اس سفر میںآپ نے شاندار سفارت فرائض کے ساتھ ساتھ روحانی اثر ونفوذ کو بھی بڑھایا اور کشمیر اور بلتستان میں سلسلہ نوربخشیہ کے حلقہ احباب کو پھیلا یا ۔مریدوں کے حلقے قائم کئے خراسان واپسی پر وہاں سے میر شاہ فیض بخش نے دوبارہ کشمیر بھیجا اس دفعہ آپ کو با قاعدہ اپنا خلیفہ مقرر کیا اور خط ارشاد عطا فرمایا جسے ذیل میں تحریرمیںلا یا جا تا ہے ۔
’’ واصحاب اوحباب وسائر ارباب الباب احسن اللہ تعالیٰ عواقبھم والحج مقاصد ھم دعوات درویشانہ قبول فرما ئیند ۔بعد اعلام میرو کہ درین وقت جناب قدوۃ المشائخ العظام زبدۃ الاولیا الکرام،مرشد السالکین مھادی المستر شدین شیخ شمس الدین محمد عراقی ادام اللہ برکات کمالاتہ رابجانب کشمیر جھت توبہ تائبان و ارشد طالبان سالکان و تلقین آداب مشائخ طریقت و تعلیم قواعد طریقہ اہل معرفت فرستا دیم روز عید الاضحیٰ۹۰۱؁۔(تحفتہ الاحباب ص ۱۵۵،۲۵۷)
کشمیر پہنچ کر آپ نے بہت سے لوگوں کو تربیت دے کر باکمال بنایا جنہیںآپ ان کے روحانی مراتب کے مطابق خرقہ عطا کر تے تھے اس ضمن میں درج ذیل اصحاب کو آپ نے خرقہ اور دستار عطا کی تھی۔
شیخ دانیال شہید۔مولانا خلیل اللہ ،ملا علی ریشی،مولانا حافظ بصیر،جان محمد قدسی،محمد سلمان ،عثمان گنائی،مولانا عبد الرحمن،مولانا سیف ملک حیدر درویش داود۔
کرامات :۔شمس الدین عراقی کی کشمیر موجود گی میں ملک سیفدار اور ان کے مخالفین کے درمیان جنگ ہو ئی عراقی کے ایک نامو ر مرید حاجی حسن کے لڑکے میاں محمد اور ملک سیفدار دشمنوں کے ہاتھوںگرفتا ر ہو ئے جنہیں سیفدارکے حامیوں نے آزاد کراکر ہیرہ پور لے گئے تھے لیکن سری نگر میںافواہ پھیل گئی کہ ملک سیفدار کو پھانسی چڑھا دی گئی ہے یہ افواہ سن کر حاجی حسن روتے ہو ئے عراقی کے پاس آئے شمس الدین عراقی نے مراقبہ فرمایا اور پھر فرمایا کہ حاجی حسن صبر کرو ہمت رکھو لوگ جھوٹ بول رہے ہیں ملک سفدار اور محمد ہیرہ پور میں سلطان محمد شاہ کے پاس ہے،سلطان نے انہیں خلعت سے نوازا ہے چنانچہ اگلے روز ملک سیفدار فاتحانہ شہر میں داخل ہوا جن کے ساتھ میاں محمد بھی تھا جنہوں نے عراقی کی باتوں کی تصدیق کی ۔
میر شمس الدین عراقی کا خواجہ جوہر نامی ایک مرید تھا جو کبھی تحفے لا تا اور ہدیہ لا یا کرتا تھا ۔ایک دفعہ اس نے ایک قصاب سے ایک موٹے تازے دنبے کا گوشت خریدا اور پکا کر عراقی کی خدمت میںلایا لیکن عراقی نے حکم دیا کہ اس گوشت کو اسی وقت لے جا کر ایک اندھے کنوئیں میںپھینک دے خواجہ یہ سن کر بہت شرمندہ اور سخت غمگین ہوا گھر والوں سے پوچھ گچھ کیا کہ انہوں نے پکا تے وقت شاید بسمہ اللہ نہ پڑھی ہو گھر والوں سے اس کی تشقی ہو گئی پھر وہ قصاب کے پاس گیا تو وہ کچھ پریشان سا ہو گیا خواجہ نے انہیں تسلی دی کہ وہ کچھ بھی نہیں کرے گا قیمت بھی وصول نہیں کرے گا وہ صرف سچ بولے چنانچہ قصاب نے انہیں بتا یا کہ میں نے دنبے کو اپنے گھر میں پا لا تھا کا فی موٹا تازہ ہو گیا تھا لیکن یہ رات کو مر گیا تھا میں نے گوارہ نہ کیا کہ اس کا گلا کاٹے اور تمہارے آدمی کے حوالے کیا اصل واقعہ یہی ہے باقی آگے تمہاری مرضی۔خواجہ اس کی راس گوئی پر خوش ہو گیا اور اسے انعام دے کر واپس آیا اور عراقی پر اور بھی زیادہ یقین بڑھ گیا کہ دیکھے بغیر حلال اور حرام میں فرق کو کیسے پہنچان لیتا ہے۔اسی طرح جب عراقی بلتستان کی وادی خپلو میںتھا اسے سید محمد بہقی وزیر اعظم کشمیر نے کشمیر بدر کر دیا تھا لیکن چند ماہ بعد ان کے اور ملک موسیٰ رینا کے درمیان مقابلہ ہو اجس میں سید محمد بہقی قتل ہو ئے اور ملک موسیٰ رینا وزیر اعظم بن گئے جو عراقی کے مرید تھے آپ کو خپلو میں کشمیر کے حالات معلوم ہو ئے تو آپ خپلو سے روانہ ہو گئے
ایک عقید تمند عورت کا واقعہ :۔ایک عقیدت مند عورت اپنا خواب بیان کر تی ہے کہ وہ گھڑا لئے برلب آب کھڑی ہے اور وہیں سے گھڑے میں پا نی بھر تی ہے اور اسے لے کر گھر چلی جا تی ہے عراقی اس خواب کی تعبیر بتا تے ہو ئے پو چھتے ہیں کہ تمہا را کو ئی لڑکا مفقود الخبر تو نہیں ؟جواب اثبات میں ملنے پر فرماتے ہیں کہ جاو ابشارت ہو کہ وہ لڑکا تمہارے گھر پہنچ گیا ہے یا ابھی ابھی پہنچنے والا ہے یہ سن کر عورت شادان و فرحان گھر چلی جا تی ہے اس سے پہلے لڑکا گھر پہنچ چکا ہو تا ہے ۔ اس قسم کے مکاشفات ومشاہدات اور معائنات کی متعدد مثالیں تحفتہ الاحباب میں بیان ہو ئی ہے۔
مذکور بالا واقعات اس بات کی واضح ثبوت ہے کہ کشف ومشاہدہ میں آپ کتنے بلند مقام پر فائز تھے ؟احوال غیب آپ کی نگاہوں میں کس قدر عیاں تھے؟حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے لو لگا تا ہے وہ دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت ،خلق خدا کی دیکھ بال ،دین اسلام کی خدمت،فقراء و مساکین کی معنوی تربیت میںمشغول رہتا ہے ہر معاملے میں مشیت و رضائے الہی اس کے پیش نظر ہو تا ہے وہ اپنی ہستی کے لحاظ سے فانی اور بحق باقی ہوتا ہے اس کی اپنی ذات اور ذاتیات کچھ نہیں ہو تی اور اس کا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جا تے ہیں ۔
’’یحبھم ویحبو نہ ‘‘وہ اللہ کو اور اللہ ان کو چا ہتا ہے ۔محبت و مودت الہی کا یہ ثمرہ بفخوائے حدیث
’’فاذا حبتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ و بصرہ الذی یبصر ویدہ بھا ور جلتہ التی بھا‘‘
جب میں کسی بندے کو چا ہتا ہوں تو اس کے کان میرے کان ،آنکھ ،ہاتھ ،پاوں بن جا تا ہوں پس وہ میری طاقت و قوت سے سنتا دیکھتا چلتا پھر تا اورکام کرتا ہے
غرض ایسے بندوں کا سننا،دیکھنا، بولنا،چلنا پھرنا،سب اللہ کا ہو جاتا ہے۔
گفتہ ای او قلب ای اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
یا بقول اقبال ::ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
اس مقام پر پہنچ کر اس کے لئے کو ئی راز راز نہیں رہتا کو ئی چیز اس کی نگاہ بصیرت اور قلب و نظر سے پو شیدہ نہیں رہ سکتی حضرت میرشمس الدین عراقی اللہ کا ایسا ہی بندہ تھا۔
وفات :۔میر شمس الدین عراقی نے ۹۹ سال کی عمر پا ئیاپنی ساری زبؤندگی اشاعت اسلام اور روحانی تربیت میں صرف کر دیا ۵۵ سال کی زندگی تک آپ مختلف عرفاء اور اہل کمال کی صحبت میں رہے ۵۵ سال کی عمر میں کشمیر جا تے ہو ئے آپ کیشادی ہو ئی اور باقی ماندہ زندگی اسلام کی استحکام کی خاطر صرف کئے۔اس بار آپ دوبارہ کشمیر آئے پہلی بار کشمیر میں آٹھ سال قیام کے بعد آپ واپس چلے گئے اور سات سال ایران میں گزار نے کے بعد دوسری بار کشمیر آئے اور اپنی باقی ماندہ زندگی کشمیر میں ہی بسر کی اور تین رمضان المبارک ۹۳۲ھ میںآپ کشمیر میں انتقال فرما گئے اور اپنی تعمیر کردہ خانقاہ زڈی بل کے پاس دفن ہو ئے جہاں آپ کا شاندار مقبرہ تعمیر کیا گیا لیکن بعد کے شعیہ سنی فسادات کے دوران اس کی بے حرمتی کی گئی تاہم اب بھی آپ کا مزار زڈی بل کشمیر میں موجود ہیں ۔حضرت میر شمس الدین عراقی کی کو ئی تصنیف موجود نہیں ہے تاہم آپ کی ایک کتاب کے بارے میں بیان کیا جا تا ہے کہ اس کا نام ’’نالہ شمس العراق‘‘ہے(مقالات شفیع جلد دوم ص۲۴)
لیکن ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے تحفت الاحباب ایک ضخیم کتاب ہے جوبڑی تقطیع کی ۵۲۶صفحات پر مشتمل ہے اس کتاب میں شمس الدین عراقی کے تمام کو ئف بڑی شرح و بسط کے ساتھ بیان ہوئے ہیں لیکن عراقی کی کسی تصنیف کا یا تحریری مشاغل کا کو ئی ذکر نہیں ہے ۔تحفتہ الاحباب عراقی کی ایک بہترین سوانح عمری کے ساتھ ساتھ کشمیر کی تاریخ بھی ہے جو نویں اور دسویں صدی ہجری کے جملہ حا لا ت سے بڑی عمدگی سے مزین ہے مگر افسوس یہ ہے کہ اگر یہ کتاب شائع ہو جا تے تو کشمیر کی تاریخ لکھنے والوں کے لئے بہترین قدیم ماخذدستیا ب ہو سکتے ہیں اور عراقی کی متعلق تمام مغالطے درو ہو سکتے ہیں ۔
کشمیر میںآپ کے شب و روز :۔میر شمس الدین عراقی ۸۸۸؁ ھ میں پہلی بار کشمیر پہنچے انہوںنے ایک سال خانقاہ ملک احمد ایتو میں گزارا پھر ایک سال مزار سلاطین میںبسر کیا ۔خانقاہ زدی بل کیتعمیر۹۱۰؁ھ میں مکمل ہو ئی خانقاہ کی تکمیل کے بعد دس سال تک آپ خود نفس بنفیس جملہ مریدوں کے ساتھ اعتکاف کیلئے بیٹھتے رہے
(۱) جبکہ اس کے بعد آپ اربعین نشینی ترک کر لی تھی تاہم دوسرے مریدوں کو خانقاہ زڈی بل سمیت دوسرے مقامات پر اعتکاف نشینی کے لئے موسم سرما میں مخصوص تھا اربیعن نشینی کے اوقات میں عراقی خود نرم اور پست آواز میں گفتگو کرتے ہر ایک کو بلند آواز سے بات کرنا ممانعت ہو تی یہاں تک کہ خانقاہ میں دو آدمی محض اس ڈیوٹی پر مامور تھے کہ وہ کسی قسم کی آواز کو بلند کر نے سے ممانعت کرتے تا کہ اربعین نشین حضرات کے مراقبے اور اشغال میںکو ئی خلل نہ آنے پا ئے ۔(۲)کبھی کبھی محفل سماع منعقد ہو تی جب کبھی آپ خوشگوار موڈ میں ہو تین تو اس رات کو محفل سماع منعقد ہو تی جس میںملا حیسن عودی نوازی کر تے حافظ محمود کیا نی غزل سرا ہو تے اور خانقاہ میں موجود صوفی وجدمیں آکر رقص کر تے اور خود شمس الدین عراقی بھی ان کے ساتھ مل کر رقص کر تے تھے(۳)اسی طرح دوسرے اہم موقعوں پر نیز غیر نوربخشیوں کے سلسلہ نوربخشیہ کے داخل ہو نے پر رات بھر شب بیداری کا اہتما م کر تے تھے شب خیزی کے مو قعوں پر رات بھر شب بیدار ی کا اہتمام ہو تا نوافل ادا کئے جا تے منطق الطیر اور مولانا مثنوی روم کے اشعار پڑھتے ۔
(۵)لنگر خانے میں روازنہ ۱۲۰ترک چاول۱۲میدہ خرچ ہو تا تھا،ایک دن ایک گا ئے ذبح کیا جا تا تھا دوسرے دن دال پکتی سالن اور یخنی کے لئے ایک دنبہ ذبح کیا جا تا کبھی کبھی حلوے بھی تیا ر کئے جا تے تھے۔
(۶)تربیت حاصل کر کے باکمال بننے والے مریدوں کو خرقہ عطا کیا جا تا (۴)سب سے اعلی ٰطبقے کو سیاہ رنگ کی دستار ملتی تھی جبکہ کسی کو کبود رنگ کا خرقہ کسی کو رنگین مرقعہ دیا جا تا تھا (۷)میر شمس الدین عراقی سے تربیت لے کر با کمال بننے والے شخصیات درج ذیل ہیں
۱۔شیخ دانیال شہید ،۲۔مولانا خلیل اللہ ،۳۔ملا علی ریشی المعروف بہ حضرت بابا،۴۔مولانا حافظ بصیر،۵۔حاجی محمد قاضی محمد قدسی،۶۔محمد سلطان،۷۔مولانا عثمان گنائی،۸۔مولانا عبد الرحمن ،۹۔مولانا سیف،۱۰۔درویش راود،۱۱۔درویش جنید،۱۲۔صوفی ونوی،۱۳۔درویش زیرک تبتی،۱۴۔درویش جنید۔۱۵۔بابا شمس،۱۶۔حاجی بایزید ،۱۷۔حاجی شمس،۱۸۔مولانا قیدار،۱۹۔مولانا حیدر،۲۰۔مولانا اسماعیل۔
میر شمس الدین عراقی نے میر دانیال شہید کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا ۔وفات کے وقت ان کی عمر مبارک ۳۲سال تھی۔آپ رات کے آخری حصے میں خانقاہ کے خلوت خانے میں جا تے اور وہاں اوراد وظائف اور اذکار میںمصروف ہو تے نماز فجر با جماعت ادا کر تے ،اوراد فتحیہ پڑھتے،اوراد میں یااللہ سے یا ستار تک اسمائے حسنیٰ کو آپ خصوصی اہتمام کے ساتھ پرھتے اوراد خوانی سے فراغت پا نے کے بعد خانقاہ سے نکل آتے باغبانی اور زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو تے ،تاآنکہ ظہر کا وقت ہو جا تا ظہر کی نماز خانقاہ میںباجما عت ادا کر نے کے بعد باہر تشریف لے جا تے اور باب الشریعت یا باب الطریقت کے پاس موجود چبوترے پر ملا قاتیوں سے ملتے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو جا تا پھر خانقاہ میں تشریف لے جا تے اور نماز عصر باجماعت ادا کر نے کے بعد اوراد عصری کا ورد کر تے اور نماز عشا ء تک خانقاہ میں قیام کر تے کھا نا کھا تے اور دعائے طعام پڑھتے پھر خلوت خانے میں جا کر تسبیح ووظائف پڑھتے یہ سلسلہ آخری سانس تک جاری رہا ۔ یہ میر شمس الدین عراقی کے آخری روز شب معمولات ہیں اس سے پہلے زنگی کے روز شب اس سے یکسر مختلف تھے اس دوران وہ مختلف علا قوں کا دورہ کر تے اس دوران بت خانوں کو منہدم کرتے اوران کی جگہ مسجدوں اور خانقاہیں تعمیرکرتے،اور دو مریدوں کا وہاں تعینات کر تے اور ان کی الگ الگ ذمہ داری ہو تے تھے ایک مسجدمیں لوگوں کو شرعی مسائل سے آگاہ کر تے جبکہ دوسرا اوردا وظائف اور مسجد کی صفائی اور کا کا م کر تے اس کے علاوہ بھی اس کی ذمہ داری بہت زیادہ ہو تے تھے۔آپ اپنے مریدوں کو بت خانے منہدم کر نے کے لئے بھیجتے اور ناکا می کی صورت میں خود بھی ساتھ جا تے اور اکثر کئی موقعوں پر جنگ لڑنا پڑتا تھا اس وقت آپ مجاہدین کی قیادت کر تے تھے ۔اسی طرح ایسے مندروں کو توڑنے میں آپ کاص طور پر تشریف لے جا تے جن کے ساتھ کو ئی توہم پرستی کی بات وابستہ ہو یا لوگ تاہم پرستی ،پری ،یا کسی بد روح کے شر سے بچنے کے لئے اس پر ہاتھ ڈالنے سے ہچکچاتے تو ان مواقع پر آپ ان مجاہدین کی راہنما ئی کے لئے سب سے آگے تشریف فرما ہو تے ۔اپنے والد مو لانا خلیل اللہ اور میر شمس الدین عراقی کے دوسرے معتبر مریدوں کی زبانی سن کر تصدیق و تصویب کرانے کے بعد درج کیا ہے اس کتاب میں عراقی کو نوربخشی شیخ طریقت قرار دیا ہے۔ملا محمد علی کشمیری نے تحفتہ الاحباب میں میر شمس الدین عراقی کو نہ صرف نوربخشیہ لکھاہے بلکہ ان کے روزانہ معمولا ت ،اربیعن نشینی،محافل سماع،نوربخشی بزرگوں کی صحبت میں رہ کر تربیت پانا وغیرہ تفصیل سے درج ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نوربخشی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اس کے سوا ان کا کو ئی مذہب نہ تھا ۔
میر سید محمد نوربخش کے مسلک کے سوا باقی تمام مذاہب کو درست نہیں سمجھتے تھے فقہ احوط کی عبارت’’ابین شریعتہ محمد یہ کما کانت فی زمانہ من غیر اونقصان کے تحت ان کے خیا لا ت انہی کی زبانی فارسی عبارت میں ملاحظ فرمائیں ’’جملہ مذاہب معروفتہ متنوعہ خواہ سنیہ خواہ مشتعیہ کہ در اقطار عام ظہور و شیوع یافتہ اند بی شائبہ از زیادتی و نقصان و خالی از تبدیلات وتغیرات ناقلان نیستند وھیج مذہبی کہ اساس دلائل وقوائد مسائل آن ھمہ برآری فاسدہ وقیاسات باطلہ و روایات کاذبہ نھادند‘‘جملہ مختلف مذہب خواہ سنی ہو یا خواہ شیعہ جو اطراف عالم میں ظہو ر پا چکے ہیںزیادت یا نقصان سے پا ک اور نقل کر نے والوں کے تغیر و تبدیلات سے خالی نہیں اور ان مذاہب میں سے کسی بھی مذہب کی دلائل کی بنیاد اور مسائل کے قواعد آرائے فاسدہ ،قیاسات باطلہ اور روایات کا ذبہ پر رکھی گئی ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے کہ مسلک نوربخشیہ بذات خود ایک مستقل بالذات مذہب ہے یہ کسی مذہب کی ذیلی شاخ نہیں ہے اسی طرح یہ مسلک کسی سنی یا شیعہ مسلک کی ذیل شاخ نہیں ہے مولوی نجم الغنی صاحب نے مسلک نوربخشیہ کو مذاہب عالمی کتاب میں سنی حنفی قرار دیا ہے اس طرح یہ مسلک شیعہ یا شیعہ فرقے کے ذیلی فرقے کے شاخ نہیں ہے نور اللہ شوستری نے مجالس المومینین میں بہت سے فرقوں کو شیعہ امامیہ قراردیا ہے اپنے دعوے کے ثبوت میں جو دلیل دی ہے وہ نہایت کمزور اور تار رعنکبوت کی مانند ہے مثلا وہ کسی کی زبانی حضرت علی کے فضائل و مناقب میں کو ئی شعر سن کر اسے شیعہ قرار دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اہل علم حضرات کے ہاں نور اللہ شوستری شیعہ تراش مشہور ہیں اور اس کے دعوے کو کو ئی اہمیت نہیں دیتا موجودہ صدی میں صوفیہ امامیہ لکھنے کا رواج کچھ حلقوں میں چل پڑا یہ دعویٰ بھی صحیح نہیں ہے کیو نکہ اس کا سلسلہ معصوم علی شیرازی کی طرائق الحقائق ،زین العابدین شیروانی کی ریاض الساتہ ہیں ان سے قبل اس قسم کے نام اور اصطلاحات سرے سے موجود نہیں تھے۔
نام کتاب :احوال صوفیہ شمارہ نمبر ( 2) ۔تحریر :شیخ سری سقطی :غلام حسن سہروردی ۔اور:حضرت شاہ محسن ڈاکٹر محمد اسماعیل ذبیح ۔ ماہ اکتو بر 1994 ء
سر زمین بلتستان میں ان بزرگ ہستیوں کی زیارت گا ہیں بکثرت ملتی ہے جو ایران،عراق ،کشمیر اور تر کستان سے آئے تھے اور جنہوں نے بلتستان میں دین اسلام کو استحکام اور ترویج و اشاعت بخشی۔جن کی بدو لت بلتستان کے کو نے کو نے میں آواز حق پہنچائی اور بلتستان کی سو فیصد آبادی مسلمان ہو گئی۔آج بلتستان میں دین اسلام کی حقیقی روح یعنی خلوص ،محبت ،رواداری ،اتحاد ،شرافت ،انکساری ،رحمدلی ،اور امن و آتشی کے جو جذبات موجود ہیں۔وہ انہی بزرگوں کے پیغام اور تعلیمات کا نتیجہ ہیں جنہیں انہوں نے ان تھک محنت اور مسلسل جد و جہد کے بعد عام کیا تھا ۔انہی بزرگ ہستیوںمیں سے ایک اپو چو’’شاہ محسن ‘‘رحمتہ اللہ علیہ ہیں جن کا مزار مبارک خپلو بالا کے مو ضع گو نما ستقجی میں مر جع خلا ئق ہے۔آپ ایران کے طوس (مشہد مقدس )شہر کے رہنے والے تھے تقریبا ۱۰۲۵ ء میںبلتستان تشریف لا ئے میر عارف اور میر ابو سعید کے ہمعصر تھے وادی خپلو میں دین اسلام کو استحکام پہنچانے میں آپ نے بڑا کردار ادا کیا تھا آپ بلتستان کی مختلف وادیوں میں خلق خدا کی بھلا ئی اور ہدا یت کے لئے تبلیغی دورے کیا کر تے رہے پھر آپ نے خپلو بالا مستقل رہا ئش اختیار کی خپلو بالا کے چشمے کے پا س ہی موضع گو نما ستقجی آپ کو پسند آیا اور یہیں بس گئے مستقل سکونت اختیار کر نے کے بعد بھی آپ نے تبلیغ واشاعت دین کے لئے دور دراز علاقوںمکا دورہ کر تے اور خلق خدا کو رشدو ہدایت سے فیض یا ب کر تے رہتے تھے۔موضع گو نما ستقجی اور ہچھی دونوں اس نالے عین دہا نے پر واقع ہیں جو کسی زمانے میں تھنگ سے خپلو کی طرف بہتا تھا ایک دفعہ موسلا دھار بارش ہو نے لگی اور ساتھ ہی نالے میں طغیا نی آگئی او ر تھنگ بروق سے پتھر اور مٹی کے تو دے نیچے بہنے لگے جب مو ضع تھنگ میں مقیم لو گوں نے اوپر سے خطرناک تودوں کو سرکتے دیکھے تو وہ موضع پو ندوس تک اتر آئے اور مذکورہ بالا محلہ جا ت کے لو گوں کو آگاہ کیا اور لوگوں کو مشورہ دیا کہ فورا گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی جا نب منتقل ہو جا ئیں ۔کہتے ہیں کہ اس وقت شاہ محسن بھی گونما ستقجی میں تشریف فرما تھے لوگ فریا د کر تے ہو ئے آپ کے پاس آئے اور صورت حال کو بہتر بنا نے کے لئے دعا کی درخواست کی آپ نے لوگوں کو تسلی دی اور حکم دیا کہ سب اپنے اپنے گھروںمیں آرام سے بیٹھے رہیں اور دعا کر تے رہیں کہ اللہ آنے والی بلا کو ٹال دے میں خود اوپر جاوں گا اور سرکتے ہو تودوں کو روک دوں گا چنانچہ آپ گو نما ستقجی سے اوپر چڑھتے گئے اور کھر بوں ٹن سرکتے تودوںکو رک جا نے کا حکم دیا وہ وہاں رک گئے جو آج بھی خپلو بروق کے ’’تھنگ‘‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں اس واقعے سے آپ کے تصرف میں اور درجہ و مرتبہ کا اندازہو جا تا ہے۔آپ بے حد عبادات گزار اور مرتاض شخص تھے آپ کی زندگی رشد وہدایت اور عبادات و ریاضت میں گزرتی تھی موضع تھگ کے بعض مقامات پر آپ مہینوں عبادات میں مصروف رہا کر تے تھے ایسی شور وغل سے خالی پر سکون جگہ رہ کر آپ عبادات و مناجات میں مصروف رہا کر تے تھے۔آ پ کو اس علا قے سے خصوصی محبت تھی ایک دفعی آپ نے یکسو ئی سے عبادت کر نے تھنگ بروق جا نے کی خواہش کی اور لوگوں کو جمؑ ہو نے کی ہدا یت کی جب لو گ جمع ہو ئے تو آپ نے لوگوں کو دین اسلام پر کا ربند رہنے ،زہد و تقوی اختیار کرنے ،خلق خدا کی بھلا ئی کا خیال رکھنے ایک دوسرے کے حقوق و فرائض ادا کر نے کی تلقین کی پھر آپ نے فرمایا کہ’’لوگو!سن لو شاید یہ آپ کے ساتھ آخری ملاقات ہو شاید میں دوبارہ نہ آسکوں کبھیکبھی مجھے فاتحہ وغیرہ کی سو غات بھیج دیا کرو ۔یہ اہتما م اس جگہ کیا کرو جہاں میں قیام پذیر ہوں تمہیں یہاں ایسی نشانیاںمل جا ئیں گی تم ایک نور کو دیکھا کرو گے یہ کہا اور لوگوں سے آخری بار ملے اور نالے میں اوپر چڑھتے گئے کیو نکہ ایسی باتیں کر نا اورو ہاں جا کرعبادات بجا لا نا ،مہینوں غائب رہ کر واپس آنا آپ کا معمول تھا‘‘ لوگوں نے اس دفعہ بھی اسے آپ کا معمول تصورکر لیا ۔کا فی عر صہ گزرگیا آپ کا کہیں پتہ نہ ملا لو گآپ کی تلاش میں تھنگ بروق میں پھیل گئے خوب تلاش کی مگر آپ کا کو ئی سراغ نہ ملا چنانچہ آپ کی آخری وصیت کے مطابق جہاںآپ رہا ئش پذیر رہتے تھے وہاں کچھ نشانیاںملیں تو وہیں آپ کا مزار بنایا جو آج تک موجود ہیں لوگ دور دور سے زیارت کے لئے آتے ہیں۔اور دعائیں مانگتے ہیں اور با مراد واپس چلے جا تے ہیں ۔آپ کی وفات کو سینکڑوں سال بیت چکے ہیں کچھ بزرگوں کے مطابق انہون نے سحر کے وقت ایک نورانی شخص کو مزار کے احاطے میں مصروف عبادت دیکھا اور جب آگے بڑھ تو فورا غائب ہو گیا متعدد نیک لوگوں نے ایسا دیکھنے کا دعوی کیا ہے جمعرات اور پیر کی رات اہل خپلو برسوں سے ایک نور کا مشا ہدہ کرتے ہیں کبھی یوں ہو تا ہے کہ تھنگ بروق کے ’’حسنی برانگسہ ‘‘پرایک نور نمودار ہو تا ہے جو آہستہ آہستہ نیچے اتر آتا ہے اور شاہ محسن کے مزار پر پہنچ کر غائب ہو جا تا ہے کبھی یوں ہو تا ہے کہ ایک نور مزار شاہ محسن سے نمو دار ہو تا ہے اور آہستہ آہستہ اوپر چڑھتا ہے اور’’ حسنی برانگسا ‘‘پر غائب ہو جا تا ہے کبھی دونوں جگی ایک ایک نور نمودار ہو تا ہے مزار شاہ محسن کا نور اوپر اور اور حسنی برانگسا کا نور نیچے آتا ہے اور کسی جگی مل کر غائب ہو جا تے ہیں کی چونکہ یہ ’’نور ‘‘رات کی تا ریکی میں نور بن کر آتے جا تے ہیں کبھی ایک راستہ اختیا ر کرتا ہے اور کبھی دوسرا راستہ اسی طرح کبھی کبھی درمیاں میں غائب ہو جا تاہے۔یہ نور عام طور پر گیس لائٹ یا ۱۰۰ واٹ بلب کے برابر طاقت کا ہوتا ہے ۔یہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ،راقم نے اس نور کے بارے میں دو اشخاص سے پو چھا جنہیں تھوڑی بہت ’کشف قبور ‘‘کے بارے میں جانکاری ہے تو انہوں نے کہا کہ کہ حسنی برانگسا پر ایک بزرگ مدفون ہے یہ دونوں بزرگ کبھی کبھی ملتے جا تے ہیں تو نور بن کر جا تے ہیں (واللہ اعلم با الصواب )
حضرت شاہ محسن بہت بڑے ولی اللہ تھے اور سلسلہ نوربخشیہ کا ایک درخشندہ ستارہ تھے زہد و تقویٰ میں اپنا کو ئی ثانی نہیں تھا آپ زندگی بھر مجرد رہے اس طرح فرزند وزن کے فکر سے ازاد رہے آپ نے پوری زندگی بھر تبلیغ دین میں صرف کی جس کے صلے میں آپ کو مقبولیت حاصل ہو ئی آج بھی آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ہزاروں لوگ زیارت کے لئے آتے ہیں ہر سال ایک دن آپ کا عرس منایا جا تا ہے علاقے کے لوگ اپنے دکھ سکھ کے موقع پر یہاں حاضری دیتے ہیں اور نذرونیاز تقسیم کر تے ہیں۔حضرت شاہ محسن کی قربانی اور ذاتی تو جہ کا حاصل موجودہ گونمہ ستقجی ،اور ہچھی ہے جو آج بھی نالے کے دھانے پر ہو نے کے باوجود کسی قسم کی خطرات سے محفوظ ہے پرانے زمانے میں بارشیں زیادہ ہو نے پر تھنگ سے سیلابی پا نی آتا اور تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑتا تھا مگر شاہ محسن کی دعاوں کی برکت سے دونوں مواضعات کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا جس سے ان مواضعات کے باشندے اب تک مستفید ہوتے رہے ہیں

::::::::::شمارہ نمبر::::::::::۱۱۸ ::::::::::ماہ دسمبر:::::::::: ۲۰۱۳::::::::::میر شمس الدین عراقی ؒ:::::::::::تحریر ::::::::::غلام حسن نوربخش ::::::::::