بلتستان اور ترکستان کے درمیان مستعمل راستے بند ہوجا نے کے بعد بھی کشمیر کی جانب سے علما ٔو فضلا ٔ کی بلتستان آمد کا سلسلہ شروع جاری رہا۔ کتنے ہی بزرگ اس دورمیں آئے اور اپنے کار نا مے سر انجا م دے گئے ہو ں گے ؟مگر ہما رے پا س سو ائے ان چند بز ر گو ں کے کسی کے کو ائف موجود نہیں ۔وہ ہیں میر عا رفؒ اور میرابوسعید ؒ،جو میر شمس الد ین عراقیؒ کے اخلاف میں سے تھے اور کشمیرمیں سلسلۂ نوربخشیہ کے سر کر دہ عا لم اور پیشو ائے طر یقت تھے کشمیر میں نوربخشیوں کے حالات اچھے نہیں تھے وہاں بار بار معمولی باتوں پر شیعہ سنی فساد ہوتا رہتا تھا جس میں ’’دو ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان گھاس کا ہوتا ہے ‘‘ کے مصداق ہمیشہ نوربخشیوں کا نقصان ہوتا تھا بدقسمتی سے میر شمس الدین عراقیؒ کا تعمیر کردہ خانقاہ نوربخشیہ اور ان کا مزارزڈی بل میں اور میر دانیالؒ شہید کا مزار حسن آباد میں تھا کشمیر کے محلوں میں سے زیادہ تر شیعہ انہی محلوں میں مقیم تھے چنانچہ ہر فساد میں یہی محلے شدید متاثر ہوتے تھے چنانچہ میر عارفؒ اورمیر ابو سعیدؒ نے 1100ھ میں کشمیر کو خیر باد کہا اور مستقل طور پر بلتستان چلے آئے-
ان کا شجرۂ نسب اور طریقت یہ ہے واضح رہے کہ میر شمس الدینؒ کے بعد سے مسلک نوربخشیہ میں پیر و مرشد کا منصب موروثی بن کر رہ گیا ہے۔
میر شمس الدین عراقیؒ متوفی932
میر دانیالؒ شہید متوفی957
میر سید علی شمس الدین رشیدؒ متوفی
میر دانیال داناؒ متوفی1048
میر حسن راہنماؒ متوفی
میر ابو سعیدؒ متوفی1095۔۔۔۔میر عارفؒ متوفی1062
محمد یو سف حسین آبا دی لکھتے ہیں
1715-65ء کے دوران کشمیر سے دو بھا ئی میر عارف اور میر ابو سعید خپلو وارد ہو ئے میر عا رف نے تھگس میں اورمیر ابو سعید نے کر یس میں سکو نت اختیا ر کی اور ان مقا مات پر جا مع مسجد یں تعمیر کر ائیں ۔ (بلتستان پر ایک نظر ص48)
میر عا رف کا تعمیر کر دہ جا مع مسجد تھگس اب تک مو جو د ہے جو کہ بہت خو بصو رت اور قدیم جا مع مسجد ہے جہا ں مو ضع تھگس کے نوربخشی جمعہ وجما عت قا ئم کرتے ہیں غالبا میر عارف نے تھگس اور اس کے مضافات میں زندگی گزاری اور وہیں فوت ہوئے جامع مسجد کے پا س ہی میر عا رف کا مقبر ہ ہے ساتھ ہی ان کے داماد میر اسحاق کا مقبرہ ہے ۔بلتستان میں اپنی نو عیت کے یہ دونوں مقبرے ہیں جو اب تک صحیح وسالم حالت میں مو جو د ہیں یہ چینی،کشمیری،بلتی اور ایر انی طر ز تعمیر کا حسین امتز اج اور شہکارہے یہ تھگس اور اس کے مضا فات میں بسنے والو ں کا مر جع ہیں ۔میر اسحاق کے مزار پر کوئی سنگ مزار نہیں البتہ میر عارف کے مزار پر اونچی،لمبی،چوڑی اور موٹی سنگ مرمر کا لوح مزار ہے جو غالبا کشمیر سے بناکر یہاں لایا ہے جس پر درج ذیل تاریخی قطعہ کندہ ہے ؎
پیر طریق اھل یقین میر عارفست
اھل نجات را بیقین پیر عارفست
ھاتف ز غیب گفت کہ بیھودہ سر مزن
تاریخ فوت میر ھمین میر عارفست 1062 (اوراد امیر یہ ص -144 )
غالبا میر ابوسعید نے کیریس میں زندگی گزاری اور وہیں فوت ہوئے آپ کا مزار وہیں ہے اور لوح مزار پر سال وفات 1095ھ درج ہے –