میرسید یحٰیی اور میر سید مختا رمیرابو سعید کے بیٹے تھے بغ بغ نامہ میں دونوں کے تاریخ وفات درج ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں جڑوان تھے دونوں کشمیرجاتے آتے رہے جب وہاں کے حالات قطعی طور پر نامساعد ہوگئے تو1115 ھ میں مستقل طور پر بلتستان منتقل ہوئے اور کشمیر میں موجود اپنی جائداد اور املاک خانقاہ نوربحشیہ شمسیہ واقع زڈی بل کے نام وقف کردیا (تاریخ بہارستان شاہی ص 36-35)شگر کے راجہ اعظم خان کی دعوت پر دونوں شگر چلے گئے اور وہا ں ایک عرصہ تک مقیم رہے۔ پھرشگر کے با دشاہ راجہ اعظم خا ں نے ان دونوں کی عوام میں مقبولیت اور ہر دلعزیزی سے جل بھن کر ان پر حملہ کردیا لیکن ان کے جانثار مریدوں نے شاہی لشکر کو شکست فاشت دی تب بادشاہ نے دونوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اورسید یحی کو خریدنے میں کامیاب ہو کر سید مختار کو شہید کرنے کی سازش کی اس سازش کی میر مختا رکو بھنک پڑ گئی چنانچہ آپ راتوں رات کریس واپس آئے اور میر یحٰی شگر ہی میں مقیم رہے ۔آپ نے شگر بھر میں سا ت خانقا ہیں اور چو دہ مسجد یں تعمیر کر و ائیں۔ (بلتستان پر ایک نظر ص48 )
شگر کے علاقے میں میر یحٰیی نے راجہ اعظم خا ں کے دو ر میں شگر خا ص ،سر پہ کھو ر (چھو ر کا )،سو گو لد و (چھو رکا ہ)، حشو پی ،الچوڑی ،گلا ب پو ر ،اور وزیر پو ر میں ایک ہی طرز کی خا نقا ہیں تعمیر کرا ئی تھیں جو اب تک قا ئم ہیں ان کے علا وہ انہو ں نے سلد ی تا تستے چو دہ مسا جد تعمیرکرائی تھیں جن میں سے بیشتر اچھی حالت میں مو جو د ہیں۔ (بلتستان پر ایک نظر ص48)
میر یحٰی نے اپنی زندگی شگر کے علا قے میں اسلام کو استحکام پہنچاتے ہو ئے گزاردی ۔شگر ہی میں آپ کا وصال ہو ا ۔آپ کی درگاہ شگر خاص کی خانقاہ کے پاس موجود ہے ۔ درگاہ کی تعمیر کے لئے خا ص قسم کا مسالہ استعمال ہوا ہے ۔جس کی وجہ سے یہ اپنی قسم کی منفر دفن تعمیر کا شاہکار ہے راقم اس کی زیارت سے مشرف ہواہے۔ 1982ء میں درگاہ کی حالت اچھی تھی مگر اس کا تعو یز زمین میں دھنس رہا تھا ۔اب ان کی قابل فخر اخلاف نے اسے شاندار طریقے سے دوبارہ تعمیرکیا ہے –
۔میر مختار شگر سے کریس تشریف لانے کے بعد وہاں ہی رہے ۔آپ نے بائیس خانقاہیں اور بے شمار مساجد تعمیر کروائیں جن میں کریس ،کورو ،بلغار ،تھلے ،ڈغونی ،خپلوبالا ، سرمو ، مچلو ، سکسا ،پھڑاوا ،نر ،سرمیک ،سینو وغیرہ شامل ہیں۔ (بلتستان پر ایک نظر ص48)
میر مختار کے اٹھارہ بیٹے اور پوتے تھے ان میں سے تین بیٹے سید عبدﷲ ،سیدباقر اور سید جمال الدین معصوم شگر میں شہید کئے گئے جن کا مزاراب تک آستانہ معصومین کے نام سے موجود ہیں باقی بیٹوں کو انہوں نے مختلف علاقوں میں مذہبی خدمات کی غرض سے بھیج دیا تھا جن میں سے بعض یہ ہیں۔
۱-میر ابراہیم گمبہ سکردو
۲-میر محمد خپلو خاص
۳-میر علی رضا سرمک
۴-میر جلال الدین شگرچھورکا
۵-میر شمس الدین پوریگ کرگل
۶-میرعبد اﷲ شگر خاص
۷-سید محمد باقر شگر
بلتستان میں آباد سادات میں سے اکثر انہی کی اولاد ہیں جو بلتستا ن بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔بلتستا ن میں بسنے والے سادات میں سے اکثر میرمختار کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں میر مختار جو نوربخشیوں میں’’ اخیار‘‘ کے لقب سے معروف ہے۔آپ نے فقہ احو ط کی فارسی زبان میں شرح لکھی تھی ۔جو سراج اسلام کے نام سے دوبار شائع ہو چکی ہے۔( نور المو منین ص427)آپ کا انتقال11 صفر پنج شنبہ1131ھ کو1714ء میں بمقام کریس ہوا اس وقت ان کی عمر 67 سال تھی ۔ آپ کا مزاروہیں موجود ہے ۔جو ان کی اولاد کی بے حسی پر نوحہ کناں تھی۔ مزار چوبی فن تعمیر کا ایک شاہکار تھا ۔ لیکن امتداد زمانہ سے اب کا فی بوسیدہ ہو چکا ہے ۔راقم نے مزار مبارک کی کئی بار زیارت کی ہے اب علاقے کے نوربخشی نوجوانوں نے اسے تعمیر نو کے ذریعے بحال کر دیا ہے ۔
جنا ب سید عطا حسین اور شمیم بلتستانی نے لکھا ہے
کہــ ـمیر یحیی اور میر مختار دونو ں چینی تر کستان کے راستے بلتستان پہنچے۔ (بلتستان کی شا عری ص40 )
راقم کے نز دیک یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ محققین کی تحقیق ہے کہ یہ دونوں بھائی کشمیر میں رہتے تھے اور 1115 ھ میں انہوں نے کشمیر میں موجود جائداد خانقاہ میر شمس الدین عراقی کو وقف کرکے مستقل طور پر بلتستان منتقل ہوئے(بہارستان شاہی ص 36-35)۔ان دونوں اور ان کے بعد کے بزرگوں نے بلتستان کے تما م مواضعا ت میں جمعہ اور عیدین کی نماز کے لئے ایک ایک بڑی جامع مسجد بنائی جو بلتستان میں خانقاہ کہلاتی ہے ۔بعض خانقاہوں میں چلہ نشینی کے لئے با قاعد ہ چھو ٹے چھو ٹے حجر ے بنائے ہوئے ہیں ۔جن میں خانقاہ معلی خپلو، خانقاہ معلی شگر خاص ،خانقاہ الچوڑی اور خانقاہ گلاب پور ،کریس اور سکسا شا مل ہیں ان خانقاہو ں کے علاوہ بکثرت مساجد بنائی گئیں ۔ جن کا کو ئی شمارنہیں ہے۔
ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ میر سید علی ہمد انیؒ میر سید محمد نور بخش ؒ اور میر شمس الدین عراقیؒ کی یکے بعد دیگر ے تبلیغ وارشاد سے بلتستان اور مضافات بلتستان میں اسلام اور لو گو ں میں اسلامی تعلیمات اور اقدار کو راسخ و پختہ کر نے میں بڑا اہم کر دا ر ادا کیا ہے۔
ان بزرگوں نے بلتستان بھر میں جمعہ و جماعت قا ئم کرنے کی غرض سے مساجد اور خانقا ہیں تعمیر کروائیں ۔اس طرح مسلمانو ں کو روحانی مراکز کی طرف متو جہ کیا اور یہ کہ یہ سب سلسلہ نور بخشیہ ہی کے پیروکار اور پر چارکیے تھے۔ جن کی کو ششوں کے نتیجے میں سر زمین بلتستان میں اسلام کابول بالا ہو ا۔