تمام اہلِ سلوک وتصوف اس بات پر متفق ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد حضرت مولائے متقیان امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ تمام اتقیائ، اولیاء کا امام اور سید الفقراء ہیں۔ آپ کو نفسِ رسول کا وصی، علمِ رسول کا وارث اور محافظ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ مذہب صوفیہ کے تمام بزرگان سلف نے مولائے متقیان علی ابن طالب کرم اللہ وجہہٗ کو امام اور پیشوائے طریقت تسلیم کیا ہے اور جن معروف اولیاء کرام اور صلحاء عظام، پیشوایانِ اہلِ تصوف نے شانِ علی ؑ اور اس کے بلند فضل ومقام کی تفصیلات دی ہیںاور ان کی امامتِ حقیقی ومجازی کو تسلیم کیا ہے۔ ان میں سے حضرت معروف کرخی، شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی، امام تصوف حضرت جنید بغدادی، شمس السالکین علاؤالدولہ سمنانی، حضرت داتا گنج بخش، فخرالاولیاء حضرت احمد غزالی، حضرت شیخ نجم الدین رازی، حضرت شیخ سعدی شیرازی، حضرت امام ابو حامد غزالی، حضرت شیخ سعدی شیرازی ، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ، حضرت شیخ عطار، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل، حضرت شاہ نعمت اللہ ولی، حضرت شاہِ ہمدان میر سید علی ہمدانی، غوث المتاخرین شاہ سید محمد نوربخش، حضرت فخرالسالکین جعفر بدخشی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین وغیرہ ہیں۔ ان بزرگوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کے بارے میں طریقت کے پیشوا ہونے، اہل صوفیہ کا رہنما، امام الاولیاء اور منبعِ علومِ نبوت ہونے پر کلام کیا ہے۔ اور روشن دلائل دی ہیں۔
حضرت معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ نے بھی علی علیہ السلام کی فضیلت پر روشن بیانات اور عقیدت کا اظہار فرمایا ہے۔ جو مسلک صوفیہ کے عقائد کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ذیل میں ان مطالب کا اظہار ہورہا ہے۔
علامہ ابن الجوزی نے مناقب معروف واخبارہٗ کے اندر بعنوان الباب الحادی العشرون من فنون اخبارہ میں بیان کیا ہے۔ شیخ معروف کرخی کے بھتیجے یعقوب کا بیان ہے۔ آپ کے احباب حضرت معروف ؒ سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ احباب میں سے بعض نے آپ سے کہا کہ بشر بن حارث بھی آپ کا بھائی بننے کی خواہش رکھتا ہے۔ بشر بن حارث آپ سے اکثر ملتا رہتا ہے۔ لیکن وہ اس بات کو اس لئے پسند نہیں کرتا کہ اس بارے میں صدقہ کا معاملہ پیش نہ آئے کیونکہ وہ مقبروں پر صدقہ دیا کرتا ہے۔ اس لئے آپ اُن کو چاہتے تھے۔ کہیں آپ انہیں غرض مند نہ سمجھیں۔ اگرچہ بشر آپ سے ملتا رہتا ہے اس لئے کہ آپ ان کا قبلہ ہیں۔ آپ کے ساتھ اس کی عقیدت ہے۔ وہ آپ کے مقام کو جانتے ہیں۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت شیخ معروفؒ نے ان دونوں سے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر میں کسی سے اللہ کے لئے محبت رکھتا ہوں تو میں یہ نہیں چاہتا کہ کسی بھی دن یا رات کو اس سے جدا رہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے اپنے تمام اعمال اور نوافل میں شامل رکھوں۔ اگر خدا تعالیٰ میرے حصہ میں جنت مقرر کردے تو میں پسند نہیں کروں گا کہ میں اپنے دوست سے پہلے اس میں داخل ہوں۔ کیونکہ میں اس سے محبت رکھتا ہوں۔ اور فرمایا (آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حدیث ہے)
ومن احبّ للّٰہ وبغض للّٰہ فقد استکمل الایمان۔ (242)
جس نے کسی کے ساتھ خدا کے لئے محبت کی اور خدا کے لئے بغض رکھا تو بے شک اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔
یقینا میںاُس سے تم دونوں کے خطہ کے مطابق مودت رکھتا ہوں۔جس طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو اپنا بھائی بنایا۔ اور ان کو اپنے تمام معاملاتِ دینی ودنیوی میں ہمدوش رکھا۔اور ان کو علم کے کمالات منتقل فرمائے۔ اور ایسی چیزوں سے فیضیاب کردیا جن سے حضرت جبرائیل علیہ السلام فیضیاب ہوچکے تھے۔ جیسے دعا،ذکر، خلوت، اور میں اس کو اللہ کے لئے وصی بناتا ہوں اور خدا کے امر سے عہدہ برا ہوتا ہوں۔ تم جان لو! یقینا وہ علم جس پر عالم عامل بن جاتا ہے اس کی مومنین کے دل میں محبت ڈال دیتا ہے۔ اور جب کوئی دوست اللہ ہی کے لئے دوستی کرتا ہے تو اس پر اپنے محبوب کے لئے دعا واجب ہوجاتی ہے۔ اور اس کے لئے جو کچھ اس کے ہاتھ آتا ہے اسے خرچ کرنا بھی پڑتا ہے۔ اور اپنی سب محبوب چیزوں میں اسے حصہ دار بنانا ہوتا ہے۔ یقینا بندہ جب اپنے دل کی گہرائیوں سے خدا کے لئے محبت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر وباطن سب کی اصلاح فرماتا ہے۔ اور بعض کے لئے شفاعت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حضرت معروف فرماتے ہیں اُن کی نجات کے لئے ان کی یہ حالت کافی سمجھتا ہوں اور اللہ کے اس احسان پر شکر کرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ یقینا ان کو معلوم ہوگیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی احسان ہے۔ اگر وہ اپنے اُخروی اعمال میں نمائش رکھتے ہیں اور کسی بندے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ خوش ہوجائے اور اچھے اوقات کو ضائع کرتے ہیں۔ تو جب کبھی موت واقع ہوگی تو ان کو حسرت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا کہ ہم نے صحت اعمال کا موقع ضائع کردیا۔ بس ان حالات میں اللہ تعالیٰ کرم فرمائے کہ ان کے دل میں محبت خالص ہوجاتی ہے اور دنیا کی محبت نکل جاتی ہے ؎ (243)
آزاد روہوں اور میرا مسلک ہے صلح کل
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
بہرحال اس طویل بیان میں جو کلام حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ نہایت قابل قدر اور قابل توجہ باتیںہیں۔ نیز حقائق افشا مندرجات ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو اپنے کمالات کا خصوصیت سے حصہ دار بنایا جو اس بات کے لائق اور قابل تھے۔
1- دعا، ذکر ، خلوت جیسے طریقت کے اعمال سکھائے یعنی اپنا مرید بنایا۔
2- جس طرح اخی فی اللہ بناتے تھے ویسا ہی اپنا حقیقی وصی بھی بنایا اور دوستی کی ۔
3 – جو چیز اپنے لئے چاہتے تھے علی ؑ کے لئے بھی خواہش کی اور اپنا داماد بنایا۔
4 – تمام دینی ودنیوی معاملات میں شریک رکھا۔ اپنا مددگار قراردیا۔
5 – تمام علومِ نبوت ورسالت سے فیضیاب کیا اور علم وحکمت کا دروازہ بتایا۔
6 – ایسی چیزیں بھی دی گئیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو عطا کیں۔
7 – جو دعا، ذکر، خلوت اور عطائے فیض وغیرہ سے معنون ہیں اور طریقت کا خلیفہ مجاز ٹھہرادیا۔
اب خداکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جن کے لئے بلا واسطہ ایسے فیوض وبرکات اور بذل وعطا کا حصہ دار ٹھہراتے ہیں تو بھلا ان کی عالی شان، علم وعرفان اور فضیلت کی گرانی پر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے۔ اور اس بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انبیاء واولیاء اپنی خلافت ووصایت کے سلسلے میں امرالٰہی کے پابند ہیں۔
گر نہ بینی شپرئہ چشم
چشمۂ آفتاب را چہ گناہ
یاد رہے کہ حضرت علامہ عبدالرحمان بن علی بن الجوزی اپنی کتاب مناقب میں حضرت علی کے نام کے ساتھ علیہ السلام کا التزام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ الجبوری نے بھی اس بات کا خیال رکھا ہے اور صوفیانہ رابطے کو مشروع قرار دیا ہے۔ بیان میں حضرت شیخ معروفؒ کے خیالات کے اظہار کی یوں تکمیل ہوتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں میں بھی بشر بن حارث کو اپنی اخوت میں شامل کرتا ہوں اور ان کو بھی اپنا خلیفہ بناتا ہوں۔ یعنی ان کو روحانی رابطے میں مکمل شامل کرتا ہوں۔ اور ہراُس چیز کا حصہ دار بناتا ہوں جن کو میں پسند کرتا ہوں۔خیال رہے کہ حضرت بشر بن حارث کو اپنا دوست بنانے کے علاوہ اپنا وصی بنانے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے حضرت شیخ معروف کا مطلب تلقینِ ذکر میں مجاز قراردینا ہے نہ کہ خلافت میں۔ آپ کا روحانی خلیفہ اور سالکین کی تربیت وارشاد میں قائم مقام مرشد حضرت شیخ سری سقطی علیہ الرحمہ تھے جس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے۔ سلسلتہ الذہب میں یہی روحانی ترتیب موجود ہے جو کتابو ں میں مرقوم ہے، جن سے اہلِ تصوف اور علماء کرام خوب آگاہ ہیں۔