حیات و عہدِ سمنانی

ابوالمکارم رکن الدّین علاء الدولہ سمنانی ؒ بن محمد بن احمد البیابانکی السمنانی ذوالحجہ ۶۵۹ ھ بمطابق نومبر ۱۲۶۱ء میں قریۂ بیابانک کے ایک با ثروت ایرانی خاندان میں متولّد ہوئے۔ یہ گاؤں سمنان سے تقریباً پندرہ کلومیٹر شمال مغرب میں شہر رے (تہران) کی جانب واقع ہے۔ ملا جامی ؒ کے بیان کے مطابق آپ کے آباؤ اجداد ملوکِ سمنان میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے والد ا ور چچا بھی ملک کے لقب سے جانے جاتے تھے اور یہ خاندان سمنان کا دوسرا بڑا جاگیردار گھرانہ تھا، جبکہ سمنانی ؒ کے عہد میں سب سے بڑے جاگیردار سید ابراہیم سمنانی تھے۔ یہ بھی ایک صوفی بزرگ تھے اور حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ سے دس بر س قبل وفات پائی۔ سید ابراہیم کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے اشرف جہانگیر سمنانی ان کے جانشین بنے جنہوں نے اپنی ساری دولت اور جائیداد چھوٹے بھائی سید عماد الدین کے حوالے کی اور خود حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی مریدی اختیار کر لی اور آپ کے بعد عبدالرزاق کاشانی کے مرید ہوئے۔

شیخ ؒ کا خاندان سنی العقیدہ تھا اور خراسان کی اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ خاندان ہر عہد میں صلح و آشتی کے اصول پر عمل پیرا رہا اور وقت کے حکمرانوں کا ساتھ دیتا رہا۔ نسبتِ مادری کے اعتبار سے آپ کا تعلق ضیاء الملک محمد بن مودود سے ہے جو محمد خوارزم شاہ کا درباری تھا جب منگولوں نے جلال الدین خوارزم شاہ کو شکست دے کر دریائے سندھ کے پار دھکیل دیاتو یہ بھی اس کی ملازمت میں تھا۔ آپ کے ماموں خواجہ رکن الدین سائیں قاضی ٔ جملات الممالک کے عہدے پر فائز تھے جنہیں غزان کے حکم سے ۲۲ ذوالحج ۷۰۰ھ /۲۸ اگست ۱۳۰۱ ء کو تہِ تیغ کیا گیا۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے پڑ دادا ضیاء الدین بیابانکی سمنانی کا تعلق دربارِ خوارزم سے تھا جنہیں علاؤ الدین محمد نے ۵۹۶ھ/۱۲۰۰ء میں اپنا وزیر مقرر کیا۔ شیخ ؒ کے والد ملک شرف الدین اور چچا جلال الدین مخلص نے ارغون کے دربار میں ملازمت اختیار کی جب وہ خراسان پر حاکم تھا۔ آپ کے والد عراق کے الوغ تپکچی یعنی محافظوں کے سردار اور صاحب ِ دیوان کے علاوہ بغداد کے ملک کے عہدے پر فائز تھے، جبکہ آپ کے چچا ۶۸۳ھ/۱۲۸۴ ء میں وزیر بنے اور شمس الدین محمد بوقا کی وفات پر ۶۸۵ھ / ۱۲۸۶ ء میں ایران کے وزیر کے عہدے پر ترقی پائی لیکن ۶۹۷ھ/۹۸۔۱۲۹۷ء میں انہیں اس عہدے سے معزول کیا گیا اور اگلے سال قتل کر دیا گیا۔

چنانچہ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کا خاندان ماں باپ دونوں طرف سے درباری سیاستوں اور ریشہ دوانیوں میں ملوّث تھا۔ رکن الدین سائیں سعد الدین محمد عواجی سے عداوت رکھتے تھے جو جمال الدین دستگیردانی کے بعد غازان کا وزیر بنا تھا اور شاید یہی عداوت ان کے انجام کا باعث بنی۔ شرف الدین اور جلال الدین سمنانی امیر نوروز جیسے ارغون کے وفادار ساتھیوں سے وابستگی رکھتے تھے ، جن پر غازان کے عہد میں مملوکو ں کے ساتھ سازباز کا غلط الزام تھا۔ یہ حضرات ارغون عہد کے سب سے اہم حاکم سعدالدولہ (م ۶۹۰ھ/ ۱۲۹ء) کے قہر و غضب کا نشانہ بھی بنے۔

ارغون نے مسلمان خصوصاً سنی درباریوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ روا رکھا اور ان کی جگہ جہاں تک ممکن ہو سکا یہودیوں اور عیسائیوں کو تعینات کیا۔ اس کا معتمد ِ خاص صفی الدین ابہری کا بیٹا سعد الدولہ تھا۔ سعدالدولہ نے بطور ِ وزیر جلال الدین سمنانی ؒ کی جگہ لی تھی ، مؤخرالذکر کو سعد اﷲ کے خلاف سازش کے پاداش میں معزول کر کے قتل کر دیاگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سعدالدولہ الخان کے بعد طاقتور ترین حکمران بن گیا۔ اس نے اپنے اہلِ خاندان کو اہم عہدوں پر فائز کیا ، مثلاً اپنے بھائی فخر الدولہ کو بغداد کا گورنر بنایا، جبکہ دوسرے بھائیوں کو دیارِ بکر، ربیعہ اور آزر بائیجان کا اور ایک چچازاد بھائی کو فارس کا حاکم مقرر کیا ۔ سعدالدولہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا تھا اور مسلمانوں کو اہم درباری عہدوں پر فائز کرنے سے ارغون کو باز رکھتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور آغازِ سلوک

حضرت شیخ سمنانی ؒ کے اہلِ خاندان کے احوال کے ذکر سے یہ باور کرنا قرین ِ قیاس ہو گا کہ خود شیخ ؒ کو بھی الخانیدی دربار میں ایک کلیدی عہدے پر فائز ہونا تھا۔ جب آپ چار برس کے تھے تو آپ کے والد نے آپ کو ایک مقامی اتالیق صدر الدین اخفش کے سپرد کیا جن کے ہاں آپ تقریباً گیارہ سال تک زیر تعلیم رہے۔ یہ غالباً وہی اخفش ہیں جو قواعد کے استاد تھے اور جن کا ذکر چہل مجلس میں سید اخفش کے نام سے کیا گیا ہے ۔ شیخ ؒ نے اپنی تحریروں میں اخفش کے تصوف و سلوک کے بارے میں شدید مخالفانہ اور معاندانہ رویے کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ شیخ ؒ کو ابتدائی زندگی میں تصوف و سلوک کی تربیت حاصل نہیں ہوئی، لیکن دورِ طفولیت میں ہی آپ کا بعض صوفیہ سے رابطہ ضرور رہا۔ سید ابراہیم سمنانی ؒ کے علاوہ اور بھی سیاح اولیاء جو سمنان سے گزرے، شیخ نے ان کی صحبت سے فیض پایا۔ ان اولیاء کے ناموں اور احوال کا تعین مشکل ہے ، تاہم معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اولیں بزرگ سیاوش الشیروانی تھے ، جو ترکستان سے اس وقت وارد ہوئے جب سمنانی ؒ کی عمر گیارہ سال تھی اور عازم اصفہان ہونے اور چار سال بعد واصل بحق ہونے سے قبل وہ سمنان میں ایک برس مقیم رہے۔ چودہ برس کی عمر میں آپ ایک اور صوفی بزرگ مہدی حاجی سے ملے اور ابہر میں حاجی ابہری سے ان کی مسجد میں جا کر ملاقات کی۔

پندرہ بر س کی عمر میں اپنے چچا کی تحریک پر آپ ارغون کے دربار کے منسلک ہوئے جو بدھ مت کا راسخ العقیدہ پیرو تھا اور اسلام کے بارے میں معاندانہ رویہّ رکھتا تھا۔ تبریز میں آپ کی درباری زندگی کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں سوائے اس کے کہ بدھ راہب یا بخشیان اس دربار میں اہم عہدوں پر فائز تھے اور ارغون کی حمایت میں مسلمان علماء سے بحث و مباحثہ کا بازار گرم کئے رکھتے تھے۔

کوچۂ تصوف میں قدم

۱۶ صفر ۶۸۳ھ / ۴ مئی ۱۲۸۴ء کو حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے قزوین سے باہر اقخواجہ کے مقام پر ارغون اور الیناق کے درمیان برپا ہونے والے ایک معرکۂ کارزار میں حصہ لیا۔ مؤخر الذکر احمد تاقودار کا سپہ سالار اور داماد تھا۔ اس وقت شیخ ؒ کی عمر چوبیس سال تھی۔ جب فوجیں صف آرا ء ہوئیں اور شیخ نے اﷲ اکبر کا نعرہ بلند کیا تو عین اسی وقت آپ ایک واردات ِ روحانی سے دوچار ہوئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی میں نے تکبیر بلند کی اﷲ تعالیٰ نے اس دنیوی حجاب کو میرے آنکھوں سے ہٹا دیا اور اور اخروی زندگی کے حسن اور رعنائی کو عیاں اور آشکارا کر دیا۔ ‘‘ یہ روحانی تجربہ اس لڑائی کے دوران اور اگلے روز بھی باقی رہا اور پھر بتدریج سطحِ اعتدال پر آ گیا۔

میدانِ جنگ میں پیش آنے والی یہ روحانی واردات شیخ ؒ کی مذہبی زندگی کا اہم ترین واقعہ ہے۔ یہی واقعہ ان کے راہ ِ سلوک پر گامزن ہونے کا باعث بنا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ ؒ کی تمام اہم خود نوشت سوانحی تحریروں میں اس واقعے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ صوفیانہ تذکروں میں بھی اس واقعے کی اہمیت کا بیان آیا ہے۔ اس روحانی واردات کے ذریعے شیخ کو حقائق ِ اشیاء کی صحیح معرفت کا موقع میسر آیا۔ یہ احساس اس قدر شدید تھا کہ وہ خود کو مزید قتال و حرب میں مصروف نہ رکھ سکے، جیسے خدا نے اس جنگ و جدل کے راستے میں ان کے سامنے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہو تاکہ وہ اس قتل و غارت سے باز رہ سکیں۔

آپ فرماتے ہیں ’’ جب خد ا تعالیٰ نے میرے قلب پر نور الارادہ کا نزول فرمایااور مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کیا میری روح اس دنیا کی لذتوں سے یکسر برگشتہ ہو گئی اور میں سلطان کی مصاحبت سے بیزار ہو گیا۔ ‘‘ اس واقعے کے بعد ماضی کی غلطیوں خصوصاً ارغون کے دربار سے وابستگی کی خلش نے ایک مدت تک انہیں بے چین رکھا جس کا اظہار ان کی بعد کی تصانیف میں ہوا ہے۔ اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ہی وہ ایک اور روحانی تجربے سے گزرے جب عالم ِ رویا میں آپ کو سرورِ کونین حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت شیخ ابو یزید بسطامی ؒ کی زیارت ہوئی۔ اس واقعے کے بعد شیخ ؒ نے ماضی کی فروگزاشتوں کے ازالے کے لیے سخت ریاضت اور مجاہدہ شروع کیا۔ آپ ہر رات جوانی میں فوت شدہ دس دنوں کی نمازوں کی قضا پڑھتے اور ہر روز قرآن پاک کی پانچ آیتیں حفظ کرتے تھے۔ اسی اثناء میں آپ کو مرشدِ حقیقی کی تلاش ہوئی اور اس راہ میں جو دو اولیں رہبر ملے وہ مہدی کیا اور خواجہ حاجی تھے، جن میں سے اول الذکر بزرگ علائق دنیوی سے کنارہ کشی اختیار کر کے عامل کے مقام پر خلوت نشین ہو گئے تھے جبکہ مؤخر الذکر نے ابہر میں زہد و تقویٰ کی زندگی اختیار کر رکھی تھی۔ قرین ِ قیاس ہے کہ یہ وہی سیاح اولیاء ہیں جن کا ذکر مہدی حاجی اور حاجی ابہری کے نام سے آیا ہے اور جن کی صحبت سے سے شیخ ؒ جوانی میں فیضیاب ہوئے تھے۔ شیخ ؒ نے درپردہ خو اجہ حاجی سے ارغون کے دربار کی ملازمت ترک کرنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن خواجہ نے یہ کہہ کرآپ کو اس خیال سے باز رکھا کہ خدا تعالیٰ کے حضور ہماری دعاسے آپ کی موجودگی کے طفیل شاید سلطان کے دربار میں مزید لوگ زمرۂ اہلِ حق میں شامل ہو جائیں۔ شیخ ؒ نے اس ہدایت پر عمل کیا اور تبریز میں مزید ڈیڑھ سال تک زہد و تقویٰ اور مجاہدہ و ریاضت کی زندگی جاری رکھی۔ آپ نے توبہ کی ، مے نوشی ترک کی اور اپنے شب و روز نماز اور حفظِ قرآن میں گزارتے رہے۔ اس عبادت اور ریاضت میں شرف الدین حسن بن عبداﷲ قروانی آپ کے شریک تھے۔

سخت مجاہدے اور ریاضت کے باعث آپ بیمار پڑ گئے اور سلطان کے معالج آپ کی بیماری کے علاج سے قاصر ہو گئے۔ آپ ارغون کی اجازت سے سمنان تشریف لے گئے۔ شیخ ؒ ۱۶ شعبان ۶۸۵ھ / ۷ اکتوبر ۱۲۸۶ء کو اردوئے الجایتو سے روانہ ہوئے اور اسی سال رمضان شریف کے مہینے میں سمنان پہنچے۔ تبریز سے کچھ دُور جانے کے بعد ہی آپ کا بخار تیز ہو گیا ار آپ الجان کے مقام پر یخ بستہ پانی میں کچھ دیر بیٹھے رہے۔ جب پانی سے باہر نکلے تو خدا تعالی ٰ کے حضور دعا کی اور فضلِ خداوندی سے مکمل طور پر شفایاب ہو گئے۔

آپ فرماتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے بغیر کسی معالج کے وسیلے کے میرے ظاہری جسم کو شفایاب فرمایا اسی طرح مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میرے باطنی وجود کو بھی حبِ دنیا اور ہوائے نفسانی کی پیروی کے امراض سے شفا بخشے گا۔

یہ شیخ ؒ کا تیسرا روحانی تجربہ تھا اور آپ کو اس امر کا یقین ہو گیا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے راہِ ہدایت پر آپ کی رہنمائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اوائل رمضان میں آپ واردِ سمنان ہوئے تو آپ نے لباس و خلعت ِ شاہی کو یکسر خیر باد کہہ دیا اور علائقِ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے حضرت حسن سکّاک ؒ کے مزار پر لباسِ فقر و تصوف زیب تن کیا۔

شیخ فرماتے ہیں کہ جس وقت آ پ نے ارغون کی ملازمت اختیار کی، علوم ِ عقلی و نقلی پر آپ کو عبور تھا لیکن بدقسمتی سے دینی تعلیم قرآن مجید کی چھ مختصر سورتیں یا دکرنے سے کچھ آگے نہ بڑھ سکی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آپ نے فقہ و قانون کا مطالعہ شروع کیا اور اہلِ ہند، اہلِ یونان، ترک، ایرانی اور عرب قوموں کے نظامہائے عقیدہ و فکر کا بھی مطالعہ کیانیز اہلِ سنت کی تعلیمات سے بھی آگاہی حاصل کی۔ آپ نے بہت سے اسلامی فرقوں مثلاً قلندریہ، ابن العربیہ اور نصیریہ وغیرہ کے عقائد و اعمال کا بھی مطالعہ کیا ، مگر آپ کی تسلی کسی طور نہ ہو سکی۔ مرشد کی عدم موجودگی میں آپ نے کتب ِ تصوف سے روحانی علوم اخذ کرنے کا فیصلہ کیا اور ابوطالب مکی کی تصنیف ’قوّت القلوب‘ کا خصوصیت سے مطالعہ کیا۔ اس مطالعے اور جستجو کے باوجود آپ کی تشفی نہ ہو سکی کیونکہ اب تک دین کا جو علم بھی حاصل کیا تھا وہ کتابی اور عقلی تھا ، جبکہ مشاہدہ اور کشف ِ باطن کو اس میں عمل دخل نہ تھا۔ محرم ۶۸۶ھ/ فروری ۱۲۸۷ء تک آپ اسی باطنی کشمکش اور عدم اطمینان کا شکار رہے یہاں تک کہ آپ ایک اور عظیم روحانی تجربے سے دوچار ہوئے۔

حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ سے ملاقات

تصوف کی تعلیم کے ابتدائی دنوں میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ اپنے طور سے مجاہدے اور ریاضت میں مصروف رہے۔ ان دنوں آپ روزانہ تین سو رکعت نماز ادا کرتے اور بارہ ہزار بار ذکر کرتے جو تسبیح، تہلیل اور تکبیر پر مشتمل تھا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ کے ایک مرید اخی شرف الدین سعد اﷲ الہناوی ؒ خراسان سے بغداد جاتے ہوئے سمنان میں وارد ہوئے ۔ ان کے زمانۂ ورود کا قطعی تعین مشکل ہے ، تاہم تین ممکنہ تاریخوں میں رمضان ۶۸۶ ھ / اکتوبر ۱۲۸۷ء کے اوائل میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ سے ان کی ملاقات زیادہ قرین ِ قیاس ہے۔

حضرت اخی شرف الدین کے احوال کاصحیح تعین بھی مشکل ہے۔ تاہم اتنا معلوم ہے کہ انہوں نے تین بار حج کیا تھا اور کعبہ شریف سے قربت کی خاطر مکہ مکرّمہ میں قیام پذیر رہے تھے اور مختلف صوفیا کی خدمت میں وقت گزارا تھا۔ مکہ میں قیام کے دوران ہی وہ حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ کے مرید بنے۔ حضرت شیخ اسفرائنی ؒ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ خراسان کی طرف عازم سفر ہوں اور جب ایک ایسے صاحبِ شرف سے ملاقات ہو جسے جذبۂ مکرمۃ حق کا تجربہ ہوا ہو تو اس کی صحبت اختیار کرے اور خدمت گزاری اپنائے۔

قیامِ سمنان کے دوران اخی شرف الدین حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے ساتھ عبادت و دعا میں شریک رہے۔ اخی نے آپ کو حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی کے طریقِ ذکر سے آگاہ کیا ۔ شیخ ؒ اس کا ذکر بڑی تفصیل سے کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ایک دن جب دونوں حضرات مشغول عبادت تھے تو آپ نے دیکھا اخی شرف الدین ؒ دورانِ ذکر اپنے سر کو دائیں بائیں ہلا رہے ہیں۔ جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو شیخ ؒ نے اخی سے استفسار کیا کہ کہیں سر کو بار بار ہلانے کی وجہ کوئی درد یا عارضہ تو نہیں ہے۔ اخی نے جواب دیا کہ ایسا نہیں بلکہ یہ ان کا طریقۂ ذکر ہے۔ شیخ ؒ نے اخی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ذکر کا بہتر طریقہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا بیان کردہ ہے اور وہ ہے (ترجمہ:) ’’ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ، جو ملک الحق المبین ہے ، محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے رسول ہیں اور جس چیز کا اس(اﷲ ) نے وعدہ فرمایا اس کے با ب میں وہ صادق اور امین ہیں۔‘‘ اخی نے جواب دیا کہ ان کا طریقۂ ذکر ان کے شیخ کا تعلیم کردہ ہے اور وہ اس میں کسی تبدیلی کے مجاز نہیں۔ پھر سر کو ہلانے کی اہمیت کابیان کرتے ہوئے کہا :

’’ لا الٰہ کے ساتھ میں غیر اﷲ کی نفی کرتا ہوں اور الا اﷲ کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی محبت کو دل میں مستحکم کرتاہوں۔ میں حرکت اس لیے کرتا ہوں کہ کہ قوتِ ذکر اس قلبِ مادی کی طرف راجع ہو جو سینے میں موجود ہے۔ اس طرح قلبِ مادی اور قلب ِ باطنی کے درمیان حقیقی شفافی پیدا ہوتی ہے اور قلبِ باطنی سے جسمِ ظاہری پر نورِ ایمان کی ایک کرن پڑتی ہے۔ ‘‘

یہ سنا تو شیخ ؒ نے اخی ؒ سے یہ طریقۂ ذکر سکھانے کی درخواست کی، اور اسے اختیار کرنے کے بعد پہلی ہی رات آپ کو ایسا گہرا باطنی تجربہ ہوا کہ آپ ہوش کھونے کے قریب ہو گئے۔ آپ نے اس حال کا ذکر اخی سے کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ عام طور پر سالکوں کو طویل ریاضت کے بعد ہی ایسا تجربہ نصیب ہوتا ہے۔ اس پر آپ نے اخی سے ان کے شیخ ِ طریقت کے متعلق استفسار کیا اور یوں پہلی بار حضرت نورالدین اسفرائنیؒ کے اسمِ مبارک سے آشنا ہوئے اور اخی کے بیان کردہ طریقوں کے مطابق حضرت اسفرائنی ؒ کے طریقِ سلوک کے موافق اعمال و وظائف بجا لاتے رہے۔

اخی شرف الدین ؒ کی صحبت اور اپنے روحانی تجربات کی بنا پر شیخ ؒ اس نتیجے پر پہنچے کہ روحانی ترقی کے لیے علائق ِ دنیوی مثلاً مال ، جائیداد حتیٰ کہ اہلِ خاندان سے بھی کنارہ کشی ضرور ی ہے۔ چنانچہ شیخ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تمام مال و دولت خدا کی راہ میں دینے کے بعد فقر اور زہد و تقویٰ کا راستہ اختیار کیا۔ عروہ میں آپ کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ ماہِ رمضان ۶۸۵ھ/ اکتوبر ۱۲۸۶ء میں ہی آپ تمام علائق سے کنارہ کش ہو چکے تھے۔ آپ فرماتے ہیں۔’’ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں اپنی تمام دولت خدا کی راہ میں دے دوں۔ جن جن کے حقوق میرے اوپر تھے میں نے وہ ادا کیے۔ وہ تمام دولت جس کے متعلق مجھ کوعلم نہیں تھا کہ کیسے حاصل ہوئی ہے میں نے امور ِ دینی اور صدقہ و خیرات میں صرف کر دی۔ میں نے سب غلاموں اور باندیوں کو آزاد کر دیا۔ اپنی اہلیہ اور بیٹے کو میں نے اس سے بڑھ کردیا جتنا مجھے میرے باپ سے ملا تھا اور میں نے حضرت حسنِ سکاکی ؒ کے نام پر خانقاہِ سکاکیہ تعمیر کی۔‘‘

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیخ نے اپنے املاک کا قبضہ برقرار رکھا تھا۔ آپ کی اراضی سے نوے ہزار درہم سالانہ آمدنی ہوتی تھی جسے آپ راہ خدا میں خرچ کرتے تھے۔ ابن حجر عسقلانی کا خیال ہے کہ شیخ نے کچھ جائیداد تقسیم کر دی تھی جبکہ اپنے بعض ذرائع آمدن پر وہ متصرف رہے اور ۷۰۹ھ/۱۰۔۱۳۰۹ء میں حضرت شیخ اسفرائنی ؒ کی خانقاہ کے لیے آپ نے پانچ ہزار درہم کی رقم بھجوائی ۔

اخی شرف الدین ؒ کے بتائے ہوئے طریقِ سلوک پر کئی ماہ عمل پیرا رہنے کے بعد شیخ ؒ کے دل میں حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ سے بالمشافہ ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی ، چنانچہ آپ کے اپنے بیان کے مطابق آپ محرم ۶۸۶ھ/ فروری ۱۲۸۷ء میں شیخ اسفرائنی ؒ سے ملاقات کے لیے سمنان سے بغداد روانہ ہوئے لیکن قرینِ قیاس یہ ہے کہ آپ نے اگلے برس محرم میں یہ سفر اختیار کیا ۔ اس بات کی خبر جب ارغون کو ملی تو اس نے آپ کو ہمدان میں روکنے کے لیے ایک فوجی دستے کو حکم دے کر بھیجا کہ اگر ضروری ہوا تو آپ کو شرویاز (نزدِ تبریز) لایا جائے جہاں یہ الخانیدی بادشاہ اپنا نیا دارلسلطنت قائم کرنے میں منہمک تھا۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کو چالیس روز تک دربار میں روکا گیا اور ہندوستان، کشمیر اور تبّت کے بدھ راہبوں کے ساتھ زبردستی مذہبی مناظرے کروائے گئے۔ اس وقت ارغون دربار میںجلال الدین سمنانی وزیر تھے اور رکن الدین سائیں ندیمِ شاہی کے عہدے پر فائز تھے۔

اگرچہ یہ وجہ معلوم نہیں ہو سکی کہ ارغون نے شیخ ؒ کو دربار شاہی میں بلانے میں زبردستی کیوں کی لیکن قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عمل میں خود ارغون کے دل میں شیخ ؒ کے لیے موجود محبت کارفرما تھی۔ جب آپ کو ہمدان سے لایا گیا تو ارغون نے دوستانہ انداز میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن شیخ ؒ نے مکمل سکوت اختیار کیا۔ آپ کے چچا جلال الدین اور دوسرے درباریوں نے آپ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کی طرح ارغون کے درباری ہیں اور یہ کہ بادشاہ کی بات کا جواب نہ دینا گستاخی ہے۔ بعدا زاں ارغون نے ایک بدھ راہب کو بلایا اور شیخ ؒ سے مناظرہ کرنے کا حکم دیا۔ لیکن شیخ ؒ نے جلد ہی بدھ راہب کو شکستِ فاش سے دوچار کیا اور باور کروایا کہ وہ بدھ مذہب کی تعلیمات کی اصل روح سے ہی ناواقف ہے۔ شیخ ؒ کی اس کارکردگی سے خوش ہو کر ارغون نے آپ کو دربار میں رہنے کا کہا مگر آپ اس سے انکاری ہوئے۔ بعد میں ارغون آپ کو ایک باغ میں لے گئے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اسلام دینِ حق نہیں ہے تاہم اگر شیخ ؒ چاہیں تو وہ راہ ِ تصوف پر گامزن رہتے ہوئے بھی دربار میں قیام کر سکتے ہیں۔ یقین اس پیشکش سے ارغون کے دل میں آپ کے لیے موجود محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ شیخ ؒ نے بادلِ نخواستہ دربار میں رکنے کی حامی بھری لیکن جب ارغون نے آپ کو بغداد جانے کی اجازت سے انکار کیا تو آپ اس کی اجازت کے بغیر ہی سمنان واپس آگئے اور اخی شرف الدین کو حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ کی خدمت میں بغداد روانہ کیا ۔

جب شیخ ؒ کے چچا جلال الدین کو آپ کی اچانک سمنان روانگی کا علم ہوا تو انہوں نے ایک صوفی حاجی عاملی کو ارغون کی اجازت سے سمنان روانہ کیا کہ وہ آپ کو شیخ ؒ اسفرائنی کے حلقۂ اثر سے دور رکھنے اور عازمِ بغداد ہونے سے منع کرنے کی کوشش کرے۔ شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ وہ اس شخص کو پہلے سے ہی ناپسند فرماتے تھے اور عالمِ رویا میں اسے ایک سانپ کے روپ میں دیکھا تھا جو آپ کے چچا کے خیمے میں داخل ہورہا تھا۔ دوران ِ سفر شیخ کو اس شخص کے ملحدانہ عقائد کا یقین ہو گیا اور آپ نے اپنے ترک ملازم کو اس کے قتل کا اشارہ دے دیا۔ موت کے خوف سے عاملی نے اپنے عقائد سے بیزاری کا اظہار کیا اور اپنی وہ سب کتابیں نذرِ آتش کر دیں جو اس کے استاد عفیف الدین مصری نے اسے دی تھیں۔

اخی شرف الدین شیخ ؒ کے واردِ سمنان ہونے کے کئی ماہ بعد اواخرِ ماہ ِ شعبان میں بغداد سے سمنان واپس آئے اور شیخ اسفرائنی ؒ کا آپ کے لیے یہ پیغام لائے کہ فی الوقت بالمشافہ ملاقات ضروری نہیں ہے بلکہ آپ اخی شرف الدین کی وساطت سے شیخ اسفرائنی ؒ کی رہنمائی میں سمنان میں ہی رہتے ہوئے اعمال و وظائف جاری رکھیں۔ شیخ اسفرائنی ؒ نے آپ کو خلوت اختیار کرنے کی اجازت عطا فرمائی اور آپ کے روحانی تجربات، مشاہدات اور معائنات پر مشتمل ایک خط کا جواب بھی ارسال کیا جس میں ان احوال کی تشریح درج تھی۔ شیخ ؒ نے آپ کی حوصلہ افزائی کے لیے آپ کو ایک خرقۂ ملمع بھی ارسال کیا۔

شیخ ؒ نے پہلی بار مضان ۶۸۸ ھ/ ستمبر ۱۲۸۹ ء میں بغداد پہنچ کر حضرت اسفرائنی ؒ کی خدمت میں حاضر ی دی۔ ۲۶ رمضان / ۱۳ اکتوبر تک آپ مسجدِ خلیفہ میں گوشہ گیر رہے اس کے بعد اسفرائنی ؒ کے حکم سے حج بیت اﷲ کی ادائیگی کی غرض سے مکہ معظمہ روانہ ہوئے۔ فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد آپ محرم ۶۸۹ھ/جنوری ۱۲۹۰ء میں بغداد واپس آئے اور حضرت شیخ سری سقطی ؒ کی سنت کے مطابق دو ہفتے کے اعتکاف کی نیت سے شونیزیہ میں داخل ہوئے۔مکہ سے واپسی پر شیخ ؒ کو اپنے چچا ملک جلال الدین کے قتل کا علم ہوا۔ آپ نے مزید ایک ماہ اپنے شیخ ؒ کی صحبت میں گزارا جس کے بعد آ پ کو دوسرا خرقہ عطا ہوا اور شیخ ؒ نے آپ کو مریدین سے بیعت لینے کی اجازت عطا فرمائی۔ اس کے بعد شیخ اسفرائنی ؒ نے آپ کو بغداد واپس جا کر اپنی ماں کی خدمت کرنے کا حکم دیا۔

معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی حضرت شیخ اسفرائنی ؒ سے ملاقات ہوئی تو ہر دو حضرات کے خاندان سیاسی آشوب میں گھرے ہوئے تھے تاہم خود سمنانی ؒ کی تحریروں سے اس کا ثبوت فراہم نہیں ہوتا۔ قرائن یہی بتاتے ہیں کہ شیخ اسفرائنی ؒ کو عین اس وقت حج بیت اﷲ کے لیے بھیجنا جب آپ کے والد قید کر دیئے گئے تھے اور چچا کو معزول کر کے شہید کر دیا گیا تھا، مصلحت کا تقاضا تھا۔ علاوہ ازیں شیخ اسفرائنی ؒ نے آپ کو یہ بھی حکم دیا کہ آپ مدینہ منور ہ کی بھی زیارت کریں اور واپسی پر عراقی حجاج کے کاروان کے ساتھ واپس آئیں تاکہ اس طور سے آپ کے سفر کا دورانیہ طول اختیار کر جائے۔ اس پر مستزاد شیخ اسفرائنی کا آپ کو اپنی والدہ کی خدمت کے غرض سے سمنان جانے کا حکم دینا بھی اسی قرینے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس وقت غازان اور ملوک کے درمیان کشمکش عروج پر تھی اور ۶۹۸ھ/۱۲۹۹ ء میں شام پر مختصر مدت کے لیے قابض رہنے کے باوجود الخانیدوں کی کمزوری واضح ہو چکی تھی۔ منگول دربار کے دیگر سنی زعما کی طرح شیخ ؒ کے والد اور چچا پر بھی ملوک کے ساتھ ساز باز کا شبہ تھا۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ اسفرائنی ؒ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کو بغداد سے دُور رکھنا چاہتے تھے جو ان دنوں سیاسی آشوب اور بدامنی کا شکار تھا۔

سمنان میں قیام

سمنان واپسی کے بعد حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے خود کو اپنی تعمیر کردہ خانقاہِ سکاکیہ سے وابستہ کر لیا۔ بعد ازاں آپ نے اپنے آبائی علاقے بیابانک کے باہر صوفی آبادِ خداداد کے نام سے ایک عظیم خانقاہ تعمیر کرائی۔ یہاں آپ اخی شرف الدین کی وساطت سے حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ کی رہنمائی میں خلوت گزیں ہو کر ہمہ تن عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔ اس دوران آپ نے خود بھی مریدین کی رشد و ہدایت کا کام شروع کر دیا اور آپ کے مریدوں کی تعداد چالیس ہوگئی۔ شیخ ؒ اپنے اہلِ خاندان کی دنیاداری خصوصاً الخانید حکمرانوں سے ان کے ربط و ضبط کے باعث کبیدہ خاطر رہتے تھے۔ چنانچہ آپ نے شام کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا لیکن شیخ اسفرائنی ؒ نے آپ کو اس ارادے سے باز رکھا۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے اس مدت میں کثرت سے اعتکاف یا اربعینات بجالائیں چنانچہ خانقاہِ سکاکیہ کے اندر آپ ایک سو چالیس بار اور خانقاہ کے باہر مختلف مقامات پر ایک سو تیس بار اعتکاف نشین ہوئے۔ آپ نے اس دوران الخانیدی دربار سے مسلسل دُوری اختیار کیے رکھی کیونکہ بادشاہ کو آپ کا شیخ اسفرائنی ؒ سے تعلق پسند نہ تھا۔ شیخ ؒ نے اپنے مرشد سے مسلسل رابطہ رکھا۔ شیخ اسفرائنی ؒاور آپ کے درمیان ہونے والی مکتوب نگاری میں جہاں راہِ سلوک میں پیش آنے والی مشکلات کے باب میں آپ کے سوالات کے جواب موجود ہیں ، جن سے کہ مرید اور مرشد کے باہمی تعلقات پر روشنی پڑتی ہے ، بلکہ ان میں بغداد میں شیخ اسفرائنی کے حلقۂ ارادت میں موجود مریدین و متعلقین ، نیز اس دور کی سیاسی فضا کےبارے میں بھی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

سلطان ابو سعید (۷۱۶ھ/۱۳۱۶ ء تا ۷۲۵ھ/۱۳۳۵ئ) کے عہدِ حکومت تک الخانیدی دربار کے ساتھ شیخ ؒ کے تعلقات کشیدہ رہے۔ آپ کے چچا رکن الدین کو غازان کے حکم سے ۷۰۰ھ/۱۳۰۱ء میں قتل کر دیا گیا۔ ۷۰۵ھ/۱۳۰۵ء میں ان تعلقات میں عارضی طور پر بہتری اس وقت پیدا ہوئی جب الجایتو نے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی مذہبی حیثیت کا احترام کرتے ہوئے آپ کو فقر و تصوف کی راہ پر کاربند رہنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا اور آپ کو سلطانیہ میں الجایتو کے اپنے دینی مرکز ابواب البر کے افتتاح میں شرکت کی دعوت دی۔ جبکہ الجایتو ہی نے دو سال قبل شیخ ؒ کے متصوفانہ روش کی مخالفت کی تھی اور آپ کی شیخ اسفرائنی ؒ سے ملاقات کی راہ میں بھی مزاحم ہوا تھا۔ یہ بہتری عارضی تھی کیونکہ جلد ہی فریقین کے تعلقات اس وقت پھر خراب ہو گئے جب الجایتو نے ۷۱۰ھ /۱۳۱۰ء میں تشیع اختیار کیا۔ شیخ ؒ نے اس موقع پر اپنی ناپسندیدگی کا کھل کر اظہار کیا۔

ابوسعید کے دور میں شیخ ؒ کی قدرومنزلت میں پھر اضافہ ہوا۔ اس دور میں شیخ ؒ کو سلطنت کے سیاسی اور مذہبی معاملات میں خاصا عمل دخل حاصل رہا۔ ایک بیان کے مطابق الخان ابو سعید نے خود شیخ سے ان کی خانقاہ میں ملاقات کی۔ اس دوران میں شیخ ؒ نے متعدد بار بغداد کا سفر اختیار کیا اور ایک یا دو بار مکہ معظمہ بھی گئے۔ امیر چوبان اور نوروز آپ کے بڑے معتقد تھے اور شیخ بھی غازان کے برعکس ان کے سنی العقیدہ ہونے کے باعث ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ ان دونوں حضرات نے سمنان میں شیخ ؒ کی زیارت کی اور جب نوروز مشہد کا حاکم تھا تو شیخ ؒ نے بھی اس سے ملاقات کے لیے مشہد کا سفر اختیار فرمایا۔ اسی طرح جب چوبان ابوسعید کی حمایت سے محروم ہو گیا اور اور اس کے بیٹے کو ۷۲۷ھ / ۱۳۲۷ء میں قتل کیا گیا تو شیخ ؒ نے خصوصی طور پر سلیمانیہ جا کر ابوسعید سے ملاقات کی۔ ابوسعید کے وزراء رشید الدین فضل اﷲ ہمدانی اور غیاث الدین محمد کارت بھی شیخ کا بے حد احترام کرتے تھے۔

آخری دنو ںمیں شیخ ؒ مریدوں کے ایک بڑے حلقے میں گھرے رہتے تھے۔ آپ نے ۲۲ رجب ۷۳۶ھ بمطابق ۶ مارچ ۱۳۳۶ء کو صوفی آبادِ خداداد کے برج ِ احرار میں وفات پائی اور عمادالدین عبدالوہاب کے قبرستان میں مدفون ہوئے۔ آپ کا روضہ مبارک آپ کی ویران خانقاہ کے باہر آج بھی موجود ہے۔ بدقسمتی سے بارش کے لیے ایک معمولی آڑ کے علاوہ مزار ِ اقدس کی حفاظت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔٭