خلوت اور ذکر

تکمیلِ ذات کی منزل کو پانے کے لیے لوگوں سے دُور ی اختیار کر کے خلوت گزین ہونا ضروری ہے۔ یہ خلوت نشینی جو حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے خود بھی بکثرت اختیار کی، دراصل دل کو غیر اﷲ سے الگ کر کے اﷲ تعالیٰ سے وابستہ کرنے اور یوں اس کی درگاہ تک رسائی پانے اور اس کی قربت میں جگہ پانے کا نام ہے۔ سالک خلوت گزین ہو کر مختلف عبادات و ریاضات بجا لاتا ہے اور یوں راہِ سلوک کے مختلف احوال اور مقامات کو طے کرتا ہوا آخرکا ر اپنے لطیفۂ انایہّ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایک مکمل مرأتِ خداوندی بن جائے ۔ سمنانی ؒ کے نزدیک کوئی انسان خلوت نشینی کے بغیر حسنِ اطاعت کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ خلوت نشینی کا عمل ابتدائے سلوک میں خاص طور پر مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس ابتدائی مرحلے پر سالک کو نفسِ سفلی اور شیطان کی مخالفت کا سامنا ہوتا ہے۔ خلوت نشینی کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر سمنانی ؒ نے اس کی ماہیت اور لوازمات کے بیان پر خصوصی توجہ دی ہے۔ سلسلہ ٔ کبرویہ کے دیگر بزرگوں خاص کر شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ اور شیخ جنید بغدادی ؒ نے بھی اس موضوع پر خاص طور پر زور دیا ہے اور اعتکاف کے شرائط گنوانے کے علاوہ ہر ایک پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ خلوت نشینی کے آٹھ اصول حضرت جنید بغدادی ؒ سے منسوب ہیں ، جن میں بعض اوقات مزید دو کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ سمنانی ؒ شیخ جنید بغدادی ؒ کے تعلیم کردہ انہی اصولوں پر سختی سے کاربند تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ ان اصولوں پر عمل پیرا ہوئے بغیر خلوت نشینی کا عمل بے کار اور بے مصرف ہے۔ چنانچہ سمنانی ؒ کی تعلیمات کو بھی ان اصولوں کی روشنی میں ہی تسلی بخش پیرائے میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ اصول درج ِ ذیل ہیں:

۱۔ حواسِ ظاہری کی حفاظت۔

۲۔ مسلسل طہارت کی حالت میں رہنا۔

۳۔ مسلسل روزے رکھنا۔

۴۔ مسلسل خاموشی ۔

۵۔ کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کا مسلسل ورد۔

۶۔ توجہ میں خلل ڈالنے والے امور کو دل و دماغ سے ہر وقت دُور رکھنا۔

۷۔ باطنی توجہ مکمل طور پر مرشد کی طرف مرکوز رکھنا۔

۸۔ اﷲ تعالیٰ پر کسی قسم کے اعتراض سے پرہیز کرنا۔

ان اصولوں اور شرائط کی مزید وضاحت درکار ہے۔ اگرچہ تخلیہ ایک باطنی عمل ہے جس کے ذریعے آدمی اﷲ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز سے علیٰحدگی اور تنہائی اختیار کر لیتا ہے، لیکن ظاہری اور جسمانی طور پر بھی آدمی کو معاشرے سے الگ ہونا پڑتا ہے۔ خلوت گزینی کا یہ عمل ایک بیت الخلوت میں اختیار کیا جاتا ہے جس کی وسعت محض اتنی ہوتی ہے کہ اکیلا آدمی عبادت کر سکے اور اس کی کوئی کھڑکیاں اور دریچے ایسے نہ ہوں جن سے سورج کی روشنی اندر داخل ہو سکے۔ اس طرح کا تخلیہ حواس ِ ظاہری پر قابو پانے کی منزل کو آسان بنا دیتا ہے۔ تخلیے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لیے سالک کو چاہیے کہ وہ حوائجِ ضروریہ کی انجام دہی، وضو تازہ کرنے اور نماز با جماعت کی ادائیگی کے علاوہ کسی مقصد سے بھی خلوت گاہ کو نہ چھوڑے۔

دوامِ طہارت، روزہ اور خاموشی سے بھی حواس کو قابو میں لانے اور نفس کو زیر کرنے میں مدد ملتی ہے۔ دراصل یہ نفسِ سفلی ہے جو لطیفۂ روحی حیوانیہ کی مماثل ہے اور جو برائی کا سرچشمہ اور رذیل خصوصیات کا باعث ہے۔ روحِ سفلی جو برائی کی طرف راغب کرتی ہے ، شیطان کی ہمکار ہے اور عوالمِ جسمانی و روحانی میں اس کی تابعِ فرمان ہے۔ یہ نفس قلب اور روح کی قوائے شریفہ و علویہ سے برسرپیکار رہتا ہے اور اسے زیرِ نگیں کرنے کے درپے ہوتا ہے تاکہ انہیں اپنی اور اپنے مخصوص قویٰ کی خدمت میں مشغو ل کرد یا جائے۔ راہِ سلوک کی برتر منزلوں کو پانے والوں کے اندر بھی نفسِ امّارہ ان اخلاقِ رذیلہ کے حامل قوائے سفلیہ سے حاصل ہونے والی اپنی موروثی خصوصیات کو برقرار رکھتا ہے۔ نفسِ امّارہ اس موتِ اختیار ی سے جسے فنا بھی کہتے ہیں ، نہیں مرتا بلکہ محض منتشر ہو جاتا ہے اور اس کی شرانگیز خصوصیات برقرار رہتی ہیں۔ نفسِ امّارہ انسان کی جسمانی موت کے ساتھ ہی معدوم ہوتاہے۔ اس لیے سالک کو چاہیے کہ وہ نفس سے ہوشیار رہے اور اس کی خواہشات سے باخبر رہے کیونکہ جب تک مادی وجود باقی ہے یہ اس کا حاکم بنا رہتا ہے۔

مبتدی کے لیے نفس ِ امارہ کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ خاموشی اور خوروخواب سے پرہیز کرنا ہے۔ سمنانی ؒ کے نزدیک اس سلسلے میں نفس پر سختی اور جبر کرنا پڑتا ہے اور اس کی تسکین محض اس حد تک ہونی چاہیے کہ جسم و روح کا رشتہ برقرار رہے۔ عالمِ مادی سے اس سے بڑھ کر جو بھی رزق یا آسائش اسے ملے گی اس سے اس کی سفلی خصوصیات میں اضافہ ہی ہو گا۔ تاہم یہ احتیاط بھی لازم ہے کہ جو چیزیں اﷲ تعالیٰ نے حلال کی ہیں ان سے نفس کو روکنے سے گریز کیا جائے۔ اس کی ایک استثنائی صورت یہ ہے کہ ابتدائے سلوک میں آدمی شیخ کی رہنمائی سے محروم رہ جائے تو وہ جہالت کے باعث حلال کو بھی ترک کرے۔ لیکن جب وہ راہِ سلوک کے تقاضوں سے آگاہ ہو جائے یا شیخِ طریقت کی رہنمائی سے بہرہ ورہو جائے تو اور مبتدی کو چاہیے کہ اپنے اعمالِ گزشتہ سے توبہ کرے اور جس حلال شے کو اپنے اوپر ناجائز کر رکھا تھا اس پرہیز کے خاتمے کی علامت کے طور پر اس حلال شے کی کافی مقدار تصرف میں لائے۔

نفسِ امّارہ کے خلاف جنگ میں طہارت بھی ایک کارگرہتھیار ہے۔ دوامِ طہارت نفسِ سفلی اور شیطان کے خلاف ڈھال اور زرہ کا کام دیتا ہے۔ وضو ایک عظیم نور ہے جو خلوت کے اندھیرے کو منوّر کرتا ہے۔ جہاں طہارتِ ظاہری جسم کی آلائشوں کو دُور کرتی ہے وہاں طہارتِ باطنی قلب کو حضوری عطا کرتی ہے اور زبان کو ذکر میں مصروف رکھتی ہے اور یہ دونوں امور سالک کی پستیٔ فطرت سے نجات اور تزکیۂ باطنی کے لیے مددگار ہیں۔ تمام باطنی ریاضتیں ہی دراصل طہارتِ باطنی کے حصول کی صورت ہیں اور اسی سے باطنی مقامات وابستہ ہیں۔ اس ضمن میں مبتدی کو تجلیات ِ صوری حاصل ہوتی ہیں ۔ متوسط کو تجلیات ِ نوری حاصل ہوتی ہیں اور منتہی کو تجلیات ِ معنوی حاصل ہوتی ہیں۔ قطب کو جسمِ مادی کے فنا کے بعد تجلیّ ِ ذوقی حاصل ہوتی ہے۔ تفسیر نجم القرآن میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ اے اہلِ غفلت ! اپنے باطن کی لوح کو اس عالمِ خلق کے غبار سے صاف کرنے کی کوشش کرو جو ہوائے نفسانی کے باعث اس پر جمع ہو جاتا ہے اور ذکر میں کوشش کرو تاکہ وہ کتابیں جو الہام ہوئیں اور وہ جو الہام نہیں ہوئیں تم ان کی تلاوت کرنے کے قابل بن جاؤ اور اس امّ الکتاب تک رسائی حاصل کرسکو جو عالمِ لاہوت میں محفوظ ہے۔‘‘

تخلیہ کا بنیادی مقصد ذکرِ الٰہی میں مستغرق ہونا ہے تاکہ سالک کو ایسا تزکیہ حاصل ہو کہ وہ جمالِ خداوندی کا شاہد بن سکے۔ مسلسل خاموشی تخلیہ کی شرائط میں سے ہے اور حواسِ ظاہری کی نفی اور نفسِ سفلی سے پیکار کے لیے ضروری ہے۔ وہ واحد قابلِ تخفیف امر جس کے لیے سالک خاموشی توڑ کر تخلیے سے باہر نکل سکتا ہے ، یہ ہے کہ وہ دورانِ ریاضت پیش آنے والی بعض باطنی واردات کے معنیٰ جسے وہ خود سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ، شیخ سے دریافت کرنے کی غرض سے ایسا کرے۔ البتہ شیخ سے بالمشافہ گفتگو صرف اسی صورت میں کرے جب عالمِ باطنی میں شیخ سے کسبِ فیض ممکن نہ ہو۔ شیخ سے رہنمائی کے لیے ترکِ سکوت کی اجازت سے معلوم ہوتاہے کہ فکرِ سمنانی ؒ میں باطنی رہبر کی اہمیّت بہت زیادہ ہے، تاہم آپ نے مطالعۂ کتب کی اہمیت سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا، بلکہ آپ نے صوفیائے متقدمین کی تحریروں کے مطالعے کو ضروری قرار دیا ہے اور سالکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ شیخ ابونجیب سہروردی ؒ کی ’ آداب المریدین‘ سے راہِ سلوک کے آداب سیکھیں اور تفاصیل کے لیے مجدد الدین بغدادی ؒ کی ’ تحفۃ البررہ فی المسائل العشرہ‘ کا مطالعہ کریں۔ تاہم ان کتابوں سے حاصل شدہ علم ایک زندہ رہبر کی رہنمائی کا نعم البدل نہیں بن سکتا۔

شیخِ طریقت کا اس جہانِ فانی میں زندہ حالت میں ہونا ضروری ہے تاکہ وہ سالک کو سیدھا راستہ دکھائے اور اسے اس راہ میں پیش آنے والی پریشان خیالی اور اوہام ِ فاسدہ اور ان کے اسباب پر مطلع کرے۔ یہی سبب ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے مرشدِ اولیں حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلّم کو بصورتِ بشر اور انسانِ فانی پیدا فرمایا اور حکم فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہیں کہ میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں۔ دیگر تمام شیوخِ طریقت اور مرشدینِ حقیقت سندِ ارشاد مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ کی وساطت سے حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلّم سے حاصل کرتے ہیں کیونکہ حضور ؐ نے تمام اسرارِ باطنی کا حضرت علی ؑ کو امانت دار بنایا اور آپ کو عالمِ نور اور عالمِ باطنی کے اسرار و رموز سمجھائے اور اپنی معیت میں حضرتِ حق تک پہنچایا۔

سمنانی ؒ کے نزدیک شیخ یعنی مرشدِ حقیقی کی بیعت کیے بغیر صوفی بننا ممکن نہیں ہے۔ جو شیخِ طریقت کی رہنمائی کے بغیر محض اپنی تخمین و ظن کی بنیاد پر باطن کا سفر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی ریاضت بے ثمر ثابت ہوتی ہے۔ راہِ خدا پر چلنے کے لیے ضروری ہے کہ سالک اپنے آپ کو مرشد کے حوالے کر دے اور زمامِ اختیار اسی کو سونپ دے۔ باطنی ریاضت کے لیے مرشد کی سرپرستی نہایت ضروری ہے کیونکہ بقول سمنانی ؒ ایک ماہر اور ہمدرد طبیب کے بغیر قلبِ بیمار کا علاج ہونا ممکن نہیں ہے۔

خود کو مرشد کے حوالے کرنے یا اس کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا مطلب اس کے ہر حکم پر مکمل اعتماد کرنا ہے۔ سالک کو کبھی خفیہ یا علانیہ اس کے کسی حکم پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا نفس کو شیطان سے رازو نیاز کی اجازت دینے اور شیطا ن کو نفس کے اندر دخول اور اسے ذات و صفاتِ الٰہی کے بارے میں شبہات سے بھر دینے کی اجازت دینے کے مترادف ہو گا۔ مرشد پرمریدکے یقین اور اعتماد کاایسا عالم ہونا چاہیے کہ اگر مرشد راہِ سلوک کے مسلمہ اور صحیح طریقوں کے منافی بھی کوئی حکم دے تو مرید بلا چون و چرا اس پر عمل کرے۔ شیخ کے حکم سے غیر واجب امورِ دینی کا ترک کرنا اپنی رضا سے انہیں اختیار کرنے سے بہتر ہے۔ مثال کے طور پر شیخ کے حکم سے ہفتہ بھر روزانہ مرغِ مسلّم اور شیرینی تناول کرنا اپنی رضائے نفس سے نانِ جویں کے ٹکڑے کھانے سے بہتر ہے۔

اسی طرح شیخ ِ طریقت سے مکمل قلبی تعلق اور رابطہ قائم کرنا تخلیے کے ابتدائی شرائط سے زیادہ دشوار امر ہے۔ اگر یہ تعلق کمزور ہے تو سالک کا سنتِ نبوی ؐ سے تعلق بھی کمزور ہوگا۔ سمنانی ؒ فرماتے ہیں ، سالک کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس آیتِ کریمہ کی رو سے وہ اپنے مرشد کے وسیلے کے بغیر اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ ’’ قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاس ٍمَّشْرَبَھُمْ ط (البقرۃ ۶۰) ا ور سالک کا مشرب ولایتِ شیخ ہے۔

تخلیے کی دوسری شرط دل سے تمام اچھے برے خیالات کو دُور کرنا ہے۔ خیالات و اوہام سے گلوخلاصی کے بغیر قوائے باطنی پر تصرف ممکن نہیں جو راہِ سلوک پر گامزن ہونے کا ایک احسن اورپسندیدہ نتیجہ ہے۔ تمام امورِ باطنی اور مشاہدات و معائنات کی تشریح کے لیے سالک کا اپنی ذات کی بجائے مرشد سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے اﷲ تعالیٰ آخرکار اسے نورِ عقل اور نورِ عدل سے مشرف فرمائے گا تاکہ وہ نورِ عقل سے تمیز اور نورِ عدل سے تفریق کی صلاحیت حاصل کرے۔

فاسد خیالات سے نجات اور قوائے باطنی پر تصرف پانے کا طریقہ ذکرِ الٰہی ہے۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے ذکر کے طریق اور اہمیت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

ذکر کے اصول

سمنانی ؒ راہِ سلوک میں ذکر کے عمل کی وضاحت کے لیے اکثر نور کا استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ دوام ِ ذکر سے ایک نور پیدا ہوتا ہے جو نورِ محبت کہلاتا ہے۔ لیکن اگر سالک کے جسمانی اور مادی عناصر موجود رہیں تو اس نور کے ساتھ دھواں بھی ہوتا ہے جو اسے سالک سے دُور رکھتا ہے۔ اس دھواں کو دُور کرنے کا واحد ذریعہ نورِ محمدیؐ ہے۔ سنتِ نبوی ؐ پر عمل پیرا ہونے اور اسلام کی بنیادی عبادات یعنی نماز ، روزہ وغیرہ کی بجاآوری سے خزانۂ دل میں موجود اسرارِ الٰہی کا سالک پر انکشاف ہوتا ہے۔

سمنانی ؒ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے اہلِ اسلا م کو اپنے ذکر کا حکم دیا ہے۔ وَاذْکُرِاسْمَ رَبَّکَ بُکْرَۃً وَّ اَصِیِِلاً o (الدھر ۲۵) اصیلِ جسمانی یعنی رب کو شامِ جسمانی سے یاد کرنا اور بُکرۃ الرّوحانیہ یعنی اسے روح کی صبح سے یاد کرنا کفر و عصیان اور طاغوتی قوتوں کا اثر زائل کردیتا ہے۔ دوسری جگہ حکمِ ربّانی یوں آیا ہے۔ وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیلاً o (المزمل ۸)

جو لوگ ذکرِ الٰہی سے عمداً اجتناب کرتے ہیں وہ حزب الشیطان ہیں۔ اَلاَ ٓ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ o (المجادلہ ۱۹) اس کے برعکس نیکوکار ہمیشہ ذکرِمیں مشغول رہتے ہیں، اور علائق ِ دنیوی انہیں اس سے باز نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کا دھیان ہمیشہ اس آیتِ کریمہ کی طرف ہوتاہے۔ فَاذْکُرُوْنِیٓ اَذْکُرْکُمْ (البقرۃ ۱۵۲) یوں سالکِ راہ شیخ کے حکم پر جملہ اسباب و علائق کو ترک کر دیتا ہے اور دوامِ ذکرِ الٰہی سے وہ نعمتوں کی نفی کی بھی سعی کرتا ہے اور خدا سے صرف خدا کو ہی مانگتا ہے۔ سرّ ِ سماع میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلاَ تَدْعُوِْا مَعَ اﷲِ اَحَدًا o (الجن ۱۸) یعنی عالمِ روحانی میں مساجدِ قلوب اﷲ تعالیٰ کے لیے بنائی گئی ہیں ، اس لیے اﷲ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ ان مسجدو ںمیں کسی اور کا نام نہ لو۔ ضرر رساں خیالات کو اپنے دل میں داخل نہ ہونے دو۔ ان خیالات کو دراندازی کی اجازت دینے سے ذاکر کے دل میں کبرو نخوت پیدا ہوتاہے۔ اس لیے ذکرِ قلبی میں اوہامِ فاسدہ سے بچنا ضروری ہے۔ ‘‘

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے سلوک کا آغاز شیخ کی رہبری کے بغیر ہی کیا تھااور اپنے طریقِ ریاضت کا خود ہی تعین کر لیا تھا۔ اخی شرف الدین کی آمد سے قبل آپ دن میں تین سو رکعت نماز ادا فرماتے تھے اور کلمہ لا الٰہ الاّ اﷲ کا ورد دو لاکھ مرتبہ کرتے تھے۔ تاہم آپ فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے مرشد شیخ نورالدین اسفرائنی سے ایک مفصل طریقِ ریاضت سیکھا جو مؤخر الذکر نے سلسلۃ الذہب کے شیوخ کی وساطت سے بلا انقطاع حضرت شیخ معروفِ کرخی ؒ سے اخذکیا تھا اور شیخ معروفِ کرخی سے قبل یہ طریقہ حضرت امام موسیٰ رضا ؑ کی وساطت سے حضرت علی ابن ابی طالب ؑ سے ماخوذ ہے۔

اگرچہ سمنانی ؒ کا طریقۂ ذکر وہی ہے جو حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ سے منقول ہے لیکن اس کا ظاہری طریقِ کار اس ذکر سے مختلف معلوم ہوتا ہے جو سمنانی ؒ نے اخی شرف الدین سے پہلی ملاقات کے موقع پر اخذ کیا تھا۔ ممکن ہے شیخ اسفرائنی ؒ نے سمنانی ؒ کو اخی شرف الدین کو سکھائے ہوئے طریقے سے کسی اکمل و برتر طریقِ ذکر کی تعلیم دی ہو ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود سمنانی ؒ نے اس طریقِ ذکر میں کچھ تبدیلیاں پیدا کی ہوں اور بنیادی ذکر کو اسی طرح برقرار رکھتے ہوئے جسمانی حرکات و سکنات اور تنفّس سے متعلقات جزویات شامل کر دی ہوں۔

سمنانی ؒ کے نزدیک طریقِ ذکر یوں ہے کہ سالک روبہ قبلہ ہو کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائے اور اس دعا سے ذکر کا آغاز کرے۔ (ترجمہ:) اﷲ ! اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اسی پر میں توکل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ اے میرے مالک، میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور ان شیاطین کے سرداروں سے بھی تیری پناہ مانگتاہوں۔ ‘‘

اس کے بعد وہ تین مرتبہ کلمہ توحید کا ذکر کرے اور اپنے شیخ کو تصوّر میں لائے جیسے وہ اس کے دل میں موجود ہے اور وہ اس کے آگے حاضر ہے۔ اس کے بعد ذکر آغاز کرے جس کی بہترین صورت کلمہ لا الٰہ الاّ اﷲ ہے۔ اس کلمہ کو چار ضربوں میں حسبِ ذیل طریقے سے ادا کرے۔

۱۔ ذاکر اپنی پوری قوت سے لاکہے اور اپنی سانس ناف کے مقام سے اوپر کھینچ کر باہر نکالے۔

۲۔ پھر وہ کلمہ الٰہ پڑھے اور سانس اندر کھینچتا ہوا سینے کی دائیں طرف اشارہ کرے۔

۳۔ پھروہ سانس باہر نکالتا ہوا الاّا پڑھے سر کو دائیں سے بائیں جانب جھٹکا دے۔

۴۔ آخر میں سانس کو اندر کھینچتا ہوا اﷲ کہے اور سینے کی بائیں جانب صنوبری شکل کے قلبِ ظاہری کی طرف اشارہ کرے۔ اس طرح لفظ اﷲ کی پوری قوت قلب تک پہنچے گی اور اس میں موجود جملہ خواہشاتِ نفسانی کو جلا کر رکھ دے گی۔ قلبِ ظاہری یا جسمانی محض گوشت کا لوتھڑا ہے اور روحِ حیوانی کا مقام ہے لیکن اس میں سے ایک دریچہ قلبی حقیقی و باطنی کی طرف کھلتا ہے اور یہاں سے نورِ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ اس نور سے عالمِ باطنی روشن ہو جا تا ہے اور سالک کو جسم کے اعضاء و جوارح کی نوعیت کے متعلق علم ہو جاتا ہے کہ کون کون سے قوائے جسمانی بے ضرر اور کون سے ضرررساں ہیں۔

دورانِ ذکر سالک اپنے ابروؤں کی طرف دیکھے تاکہ وہ اس کیفیت کا مشاہدہ کر سکے جس میں روزمرّہ ذکر کا عمل معدے کے مقام سے جگر کی طرف صعود کرتا ہے اور جگر سے یہ قلبِ مادی تک جاتا ہے اور وہاں سے سر تک پہنچتاہے ۔ مقامِ سر سے یہ مادی آنکھوں سے اکتسابِ نور کے بعد قلبِ حقیقی یا قلبِ باطنی تک پہنچتا ہے۔ ذکر کے قلبِ باطنی و حقیقی تک اس صعود کے دوران ہی ذاکر کو مختلف الوان اوررویا نظر آتے ہیں۔

یہ امر ضروری ہے کہ ذاکر اپنے سانس کو قابو میں رکھے اور اس کی رفتار پر دھیان دے تاکہ وہ ہر لمحے اور ہر سانس کے ساتھ مصروفِ ذکر رہ سکے۔ ہر نئے سانس کے ساتھ اسے ایک نئی آگہی حاصل ہوتی ہے کیونکہ جس طرح اس کا ہر سانس میں حصہ ہے اسی طرح ہر سانس کا اس پر ایک حق ہے۔ سانس سے اس کا حصہ زندگی ہے جبکہ سانس کا اس پر حق ذکرِ خداوندی ہے جس کے ذریعے سے اسے ذات و صفاتِ الٰہی کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔

اگر سالک اوقاتِ مقرّرہ میں سے کسی وقت ذکر سے قاصر رہے تو اسے چاہیے صبح یا شام کے وقت اس کو پورا کرے۔ تاہم نمازوں کے اوقات میں مصروفِ ذکر ہونا مکروہ ہے۔ سالک کے لیے نماز ِ صبح سے لے وقتِ طلوعِ آفتاب تک اور غروبِ آفتاب سے لے کر رات کی تاریکی چھا جانے تک کے دوران میں ایک دن کے لیے بھی ذکر سے ناغہ کرنا ممنوع ہے۔ سمنانی ؒ فرماتے ہیں کہ جو کوئی ان دو اوقات میں مصروفِ ذکر نہ ہو وہ اگرچہ صوفی ہونے کا دعوے دار ہو اور ایک ہزار بار چلّہ کشی کرے ، درحقیقت مدعی ٔ کاذب ہے۔ تفسیر نجم القرآن میں سمنانی ؒ سالک کو ہدایت فرماتے ہیں۔

’’ اپنی خلوت نشینی اور معرفت پر مغرور نہ ہو۔ … ہمہ وقت اﷲ تعالیٰ کاذکر کرتا رہ اور اپنے نفس سے جہاد جاری رکھ تاکہ یہ دنیوی خواہشات سے مغلوب نہ ہو جائے۔ ہر دن اور ہر رات پانچ مرتبہ اپنے نفس کا احتساب کر اور اس کا تنقیدی امتحان لے۔ ذکر میں استقامت اختیار کر ، خاص کر نماز ِ فجر سے لے کر طلوعِ آفتاب تک اور غروبِ آفتاب سے لے کر رات ہو جانے تک ، تاکہ تُو ان دو اوقات میں یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو جائے۔ اس طرح تیرا نام سست ، کاہل اور غافل لوگوں کے بجائے خیرکے لیے جدوجہد کرنے والے اور اﷲ تعالیٰ کو یاد کرنے والے سالکین کے دفتر میں لکھا جائے گا ۔‘‘

سالک کی زبان کو ذکرِ الٰہی کے علاوہ کوئی چیز پاک نہیں کر سکتی جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی o (الاعلیٰ۱) اسمائے الٰہی میں سے اعلیٰ ترین اسم اﷲ ہے لیکن سمنانی ؒ کے نزدیک محض اﷲ کا ورد کرنے سے کلمہ لا الٰہ الا ّ اﷲ کا ورد زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس کلمہ میں لفظ اﷲ بھی شامل ہے اس کے علاوہ اس سے نفی شرک اور اثباتِ توحید بھی ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تصوف کے عظیم ترین بزرگوں نے جن کا تعلق طبقۂ جنیدِ بغدادی ؒ سے ہے اسی کلمہ کو راہ ِ سلوک پر گامزن ہونے والوں کے لیے جو اپنے قلوب کا تزکیہ کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ،تاکہ قوتِ ذکرِ الہٰی کا ان پر نزول ہو ، مثالی ذکر قرار دیا ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے اس کلمے میں تمام نعمتوں اور فوائد کو جمع کر دیا ہے اور جو کوئی اس کا ورد خلوص اور سچے عقیدے کے ساتھ کرے وہ اصحابِ یمین میں شمار ہو گا۔ یہ لوگ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو ں گے اور شیطان انہیں ان کے راستے سے بھٹکانے میں ناکام رہے گا۔ سمنانی ؒ اس ضمن میں حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایک حدیث کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ جو کوئی خلوص کے ساتھ کلمہ لا الٰہ الا ّ اﷲ کا ورد کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ کلمۂ لا الٰہ الا ّ اﷲ کے ورد پر اس درجہ زور دینے سے بادی النظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اہمیت عقائد ِ اسلام کے مبادی سے بھی بڑھ کر ہے لیکن جوں جو ں سالک راہِ باطن پر قدمی کرتا ہوا منزلِ آخر کی طرف بڑھے گا، اسے معلوم ہو گا کہ ان عقائد کی اہمیت کسی طرح کم نہیں ہوتی۔ ’صلوۃ العاشقین‘ میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ اس شخص پر رحمت جو حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی شریعت کی پیروی کرے۔ اور اس شخص پر رحمت علیٰ رحمت جو شریعت اور طریقت دونوں پر گامزن ہو۔ اور اس شخص پر رحمت علیٰ رحمت علیٰ رحمت جو شریعت کی پاسداری کرنے کے بعد ذکر کی صورت میں علم الیقین کو پہنچے پھر طریقت پر گامزن ہو اور معنی ٔ ذکر میں عین الیقین کو پہنچے پھر حقیقت میں حضورؐ کی پیروی کرے اور حقیقتِ ذکر کے ساتھ حق الیقین کی منزل کو پہنچے پھر اپنے ذکر ِ باطنی کو اپنے ذکرِ ظاہری سے ارفع مقام پر یعنی معنیٰ اورحقیقت تک پہنچائے تاکہ وہ اس امر کا حقدار بن سکے کہ ذکر حقیقی میں سر تا پا غرق ہو۔ ‘‘

اگرچہ ایک ہی مرتبہ خلوصِ نیت کے ساتھ کلمۂ لا الٰہ الا ّ اﷲ کہنے سے آدمی دائرہ ٔ کفر سے نکل کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور کفر کے ظاہری بت کو شکست سے دوچار کرتا ہے لیکن اس بت کے علاوہ وہ مجازی بت بھی ہیں جو قرآنِ کریم کے الفاظ میں آدمی کے اپنے خواہشاتِ نفسانی کے بت ہیں۔ اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہ‘ ھَوٰہُ…(الجاثیہ ۲۳) ان بتوں کو شکست دینے کے لیے مکمل توجہ اور فہمِ کامل کے ساتھ دوامِ ذکر خالصتاً لوجہ اﷲ درکار ہوتا ہے۔ ایسے سالک کو اس امر کی سعی کرنی چاہیے کہ حرف لا کے مد کی ادائیگی کے بعد کوئی خیال اور ظن باقی نہ رہے۔ اور کلمہ لا الٰہ الا ّ اﷲ کی ادائیگی کے اختتام تک کوئی بھی پریشان کن خیال باقی نہ رہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کسی اور خیال کا اشتراک نہیں ہو سکتا۔

سمنانی ؒ ذکر ِ جلی اور ذکرِ خفی کے فرق پر زور دیتے ہیں اور مؤخر الذکر کی افضیلت کا بیان کرتے ہوئے یہاں تک کہتے ہیں کہ ذکرِ جلی دینی اور عقلی دونوں اعتبارات سے ممنوع ہے۔ دینی بنیاد پر اس عقیدے کے اثبات کے لیے وہ قرآن کریم کی بہت سی آیات کا حوالہ دیتے ہیں۔

وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوّ ِ وَالْاٰصَالِ…(الاعراف ۲۰۵)

اُدْعُوْا رَبَّکُمُ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہ‘ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ o (الاعراف ۵۵)

وَلَا تَجْھَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذَالِکَ سَبِیْلاً o (بنیٓ اسرآء یل ۱۱۰)

ان آیاتِ کریمہ کے علاوہ سمنانی ؒ احادیثِ نبوی ؐ کا بھی حوالہ دیتے ہیں مثلاً عبدالرحمن سلامی سے مروی یہ حدیثِ مبارکہ کہ ’’ بہترین ذکر ذکرِخفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کرنے والا ہے۔‘‘

ان دینی وجوہ کے علاوہ ذکرِ خفی کی افضلیت کے دس عقلی ثبوت بھی ہیں:

۱۔ خلوت گزینی کے فوائد میں سے ایک حواسِ ظاہری پر قابو پانا ہے تاکہ باطنی حواس کا ارتقاء ممکن ہو سکے جبکہ ذکرِ جلی سماعت کی حس ِ ظاہری کو زیر نہیں کر پاتا۔

۲۔ تنفس پر قابو نورِ باطنی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے یہ ذکرِ جلی کے ذریعے ممکن نہیں۔

۳۔ تمام عباداتِ دینی میں خلوص بنیادی شرط ہے جبکہ ذکرِ جلی میں ریا کا خوف ہے ۔

۴۔ راہِ سلوک میں ذکر کے قلب تک پہنچنے کے لیے خواہشاتِ نفسانی کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ مضبوط ذکرِ خفی کی حرارت کے بغیرجو قلبِ حقیقی باطنی تک پہنچتی ہے ان خواہشاتِ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف جب صوفی ذکرِ جلی میں مصروف ہوتا ہے تو سانس باہر آتا ہے اور اس کی بہت سی حرارت دہن کے راستے نکل جاتی ہے اور یہ ذکر اسے باطنی درجے تک پہنچنے میں مانع ہو جاتا ہے۔

۵۔ ذکرِ جلی عقل اور دماغ کو ماؤف کر دیتا ہے ۔

۶۔ ذکرِ جلی میں شرابِ نفس شامل ہوتی ہے جو خواہشِ نفس کے سماعِ ذکر کو مغلوب کرنے کا باعث بنتی ہے۔

۷۔ ذکرِ جلی باطنی گفتگو، دعا اور سالک کی اپنے رب کے نزدیک حضوری کے دوران قلب کے انتشار کا باعث بنتا ہے۔

۸۔ ذکر ِ جلی کے برعکس ذکرِ خفی غیر مرئی عالم کی طرف در کھولنے کا ذریعہ ہے۔

۹۔ ذکرِ جلی حضورِ خداوندی میں ترکِ آداب کا موجب بنتا ہے اور سالک کے لیے باعثِ عذاب بنتا ہے۔

۱۰۔ ذکرِ جلی مذکور کے سماعِ ذکر میں خلل کا باعث بنتا ہے جو کہ ذاکر کی اصل منزل ہے۔

ذکرِ جلی کو میں نے بلند آواز سے پڑھے جانے والے ذکر کی بجائے سنائی دینے والے ذکر کے معنوں میں استعمال کیا ہے تاکہ سمنانی ؒ نے ذکر کے جن مدارج کا ذکر کیا ہے ان کی تفہیم میں آسانی ہو۔ ذکرِ جلی یعنی سنائی دینے والے ذکر کے علاوہ آپ نے ایسے ذکر کا بھی بیان کیا ہے جسے ’ ذکر اللسانی القوی الخفی ‘ کا نام دیا گیا ہے اور بعض مقامات پر ’ ذکر اللسانی القالبی ‘ کا بھی تذکرہ فرمایا ہے ۔ ذکر کی یہ قسم ذکرِ جہری سے مشابہ ہے کیونکہ یہ ظاہری ہے اور زبان سے ادائیگی کے وقت ذکر کی طرف شعوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری طرف ذکر اللسانی الخفی سنائی نہیں دیتا اور ذکرِ جہری کے برعکس ذاکر کی توجہ ادائیگی پر نہیں ہوتی۔

ذکر اللسانی سالک کے لیے راہِ سلوک کے ابتدائی مراحل میں زیادہ مفید ہے کیونکہ یہ عالمِ جسمانی کے میلانات کا میل کچیل صاف کرنے میں معاون ہے۔ تاہم ان میلانات سے مکمل طور پر گلو خلاصی حاصل کرنا ذکر اللسانی القوی الخفی کے بغیر ممکن نہیں۔

اگرچہ یہ ذکر خاموشی سے کیا جاتاہے لیکن کلماتِ ذکر کو دہرانے میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ کلمہ کی ادائیگی پُرزور طریقے سے ہونی چاہیے اور الفاظ کی ادائیگی صحیح انداز میں ہونی چاہیے کیونکہ قلب کی قوت الفاظ اور مخارج کی درست ادائیگی سے حاصل ہوتی ہے۔ شیخ ؒ کے بقول جب سالک ذکر اللسانی القالبی کے ساتھ سانس لیتا ہے تو یہ دنیائے فانی اور اس پر موجود پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ جاتے ہیں۔

ابتدائے سلوک میں جب سالک پر ابھی خواہشاتِ نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے اسے وقوع ِ ذکر پر شعوری طور پر دھیان دینا چاہیے۔ اس مرحلے پر اسے چاہیے کہ وہ خواہشات کے انخلا کے شعوری احساس کے زیرِ اثر رہے۔ یہ ذاتی ارادے کی نفی اور اس امر کے اثبات کے بغیر ممکن نہیں کہ اﷲ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں میں ہر ارادے کا مالک ہے۔ ذکر میں شعوری اشغال کی ایک وجہ یہ ہے کہ دین کو اٹکل اور رسم و عادت پر مبنی شے نہ سمجھا جائے کیونکہ حقیقی عبادت ترکِ عادت میں مضمر ہے۔ ایمان لانے کے بعد دین کے حقیقی معنی کو نظر انداز کر دینا اور عادت اور وراثت کا اسیر ہو جانا کفر کی طرح قابلِ ملامت و نفرین ہے۔ تفسیر نجم القرآن میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ اﷲ کے ذکر میں حضوری، تلاوت میں خشوع اور اطاعت میں تسلیم پیشہ بننے کی کوشش کرو ، گویا کہ تم قرآن کو خدا سے سن رہے ہو اور اس کا ذکر گویا اس کے حضور میں کر رہے ہو۔ ‘‘

اگرچہ ابتدائے سلوک میں ایسی توجہ ضروری ہے ، انجام ِ کار وہ ایسے مرحلے پر پہنچ جاتا ہے جب وہ ذکر اور خود اپنے وجود دونوں کو فراموش کر دیتا ہے۔ اپنے وجود کی ایسی نفی کے ذریعے ہی سالک حقیقت حق الیقین تک پہنچ جاتا ہے۔ تفسیر نجم القرآن میں مزید فرماتے ہیں۔

’’ کیا کبھی ذکر میں تجھ پر ایسا وقت آیا جب تو نے اپنے وجود کو فراموش کیا ہو ؟ اگر ایسا نہیں تو تُو کبھی ذکر حقیقی کی تکمیل کو نہ پہنچ سکے گا کیونکہ حقیقی ذکر کا تقاضا اﷲ تعالیٰ کے علاوہ ہر شے کو فراموش کر دینا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے۔ وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ … (الکھف ۲۴) یعنی اﷲ تعالیٰ کے علاوہ ہر شے کو فراموش کرو۔ پس اﷲ تعالیٰ کا فرمان پڑھو جب وہ فرماتا ہے۔ ھَلْ اَتیٰ عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْن’‘ مّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا o (الدھر ۱ ) یہ وہ حال ہے جو ذاکر پر اس وقت ظاہر ہو تا ہے جب وہ حضرت آدم علیہ السلام کے مرتبہ تک پہنچے جب قوتِ ذکرِ خداوندی اس کے وجودِ خاکی پر حاوی ہو جاتی ہے۔ یہاں جسمِ خاکی اپنی خاکی صفت کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکرِ حقیقی کا نور جسم کے ہر حصے میں سرایت کر جاتا ہے۔ ‘‘

راہِ سلوک میں سالک کی پیش قدمی کے اعتبار سے سمنانی ؒ ذکر کے بھی تین مدارج بیان کرتے ہیں۔ پہلا مرحلہ کلمہ لا الٰہ الا ّ اﷲ کا ہے جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔ ذکر کا یہ طریقہ عالمِ ناسوت کا ہے کیونکہ اس عالم کے رہنے والے بہت سے خداؤں اور دیوتاؤں کے وجود پر یقین رکھتے ہیں اور خدائے حقیقی اور رب الاربا ب سے پردے میں ہوتے ہیں۔ پس ان خداؤں اور دیوتاؤں کا انکار اور اﷲ تعالیٰ کے وجود کے اقرار سے جو اس کلمہ میں مضمر ہے مبتدی شرک اور کثرت پرستی سے نجات پالیتا ہے۔ ذکرکا دوسرا مرحلہ عالم ملکوت کے ذکر کا ہے اور جو صرف لفظ اﷲ پر مشتمل ہے جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم فرمایا ہے ۔ قُلِ اﷲ ُ لا ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ o (الانعام ۹۱) اس مرحلہ پر صرف اﷲ کا نام ہی کافی ہے کیونکہ عالم ِ ملکوت میں کثرت کے معدوم ہوجانے کے باعث غیر اﷲ کی نفی کی ضرورت نہیں رہتی۔ ذکر کی تیسری صورت جو کہ عالمِ جبروت کی ہے محض لفظ ھُو ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے بیان ِ توحید میں لفظ ھو کواﷲ پر اولیت دی ہے۔ اس کلمہ کی اولیت کے ثبوت میں سمنانی ؒ حضور پاک ؐ کی اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ جب بندہ اپنے رب کی اصلیت کا ایقان حاصل کرلیتا ہے تو وہ حقیقتِ توحید کو دل سے جان جاتا ہے۔

ذکر ِ حقیقی میں مشغول رہنے کے نتیجے میں سالک کئی طر ح کے تجربوں سے گزرتا ہے جو فنائے ذات کے مراحل پر مشتمل ہیں اور اس عمل میں وہ کئی الوان اور مکاشفات دیکھتا ہے۔ سمنانی ؒ ان روحانی تجربوں کا بیان اس تفصیل کے ساتھ کرتے ہیں کہ اسے صوفیانہ فکر میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان مکاشفات کے بیان سے پہلے وہ وہ سالکین کو دو امور کے بارے میں انتباہ کرتے ہیں۔ پہلا انتباہ تو یہ ہے کہ ذکر میں مشغولیت کے دوران سالک ہرگز عوام الناس کے درمیان نہ جائے کیونکہ باطنی کیفیت میں اس کا کلام ایسے حقائق کا ترجمان ہوتا ہے جو عوام کو معلوم نہیں ہوتے کیونکہ ان کے حقیقی معانی فہمِ انسانی سے ماورا ہوتے ہیں اور یوں لوگ اس پر مجنون ہونے کا گمان کرنے لگتے ہیں۔ دوسرا انتباہ یہ ہے کہ تمام تجربات اور مکاشفات دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ ایسی باطنی تجربہ جو قرآن و سنتِ نبوی ؐ کے مطابق نہ ہو محض دھوکا ہے اور سالک کے راستے میں شیطا ن کا بچھایا ہوا جال ہے۔ ‘‘

مدارجِ مکاشفات و الوان

جب سالک راہِ سلوک پر پیش قدمی کرتا ہے تو اس کے اندر نورِ ذکر پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے درجہ اور مقام کے مطابق مختلف قسم کے رنگوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ جب وہ سبعہ لطائف کے مدارج سے گزرتا ہے تو بتدریج اس نور کی مقدار اور رنگوں کی شدّت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ مکاشفات اور الوان اس پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس فرمانِ الٰہی کے مطابق ظاہر ہوتے ہیں۔

یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلؤُ والْمَرْجَان o (الرحمٰن ۲۲) یہاں موتی سے مراد اسرار السّرّی ہیں جو بحرِ علوی سے حاصل ہوتے ہیں اور مونگے سے مراد ، جو بحرِ سفلی سے حاصل ہوتا ہے ، قلب کی آتشِ عشق ہے۔

ابتدا میں جو الوان سالک پر ظاہر ہو تے ہیں ان کا تعلق عالمِ ملکوت سے ہوتا ہے۔ وسطِ سلوک میں جو الوان سالک کے قلب پر ظاہر ہوتے ہیں وہ عالمِ جبروت سے متعلق ہوتے ہیں۔ وہ اسرار جو لطیفۂ انانیہ پر نزول کرتے ہیں اور اپنے آپ کو سِرّ پر ظاہر کرتے ہیں وہ عالمِ لاہوت سے ہوتے ہیں۔ ان تجلیات کی نوعیت کی روشنی میں یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ مکاشفات ِ باطنی وجودِ انسانی سے باہر نہیں بلکہ مملکتِ نفس کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں۔

سالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذاتِ الٰہی کا علم حاصل کرنے کے لیے وجودِ روحانی کے سبعہ لطائف کی اقالیم کا سفر طے کرے۔ اس سفر میں سالک کو درجہ بدرجہ ان اقالیم کی نقاب کشائی کرنا ہوتی ہے اور ہر نقاب یا پردہ دس ہزار حجابات پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا ایک مخصوص رنگ ہوتا ہے۔ ان پردوں اور حجابات کو دُور کرنے کی ذیل میں سمنانی ؒ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ یہ پردے وجودِ انسانی پر پڑے ہیں نہ کہ ذاتِ الٰہی ان میں مستور ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی ذات کو کوئی پردہ یا حجاب مستور یا محجوب نہیں کر سکتا۔ پہلا پردہ عالم طبعی یا جسمانی یا شیطانی کا ہے اور اس کا رنگ کالا اور مکدر ہے۔ دوسرا پردہ نفس کا ہے اور اس کا رنگ باہر سے نیلا اور اندر سے سبز ہے۔ تیسرا پردہ قلب کے غیر مرئی کا ہے اور اس کارنگ سرخ یا یاقوتی ہے۔ اس کے بعد سِرّ کے غیر مرئی کا سفید اور باریک پردہ ہے جس کے بعد رُوح کا زرد رنگ کا پردہ آتا ہے۔ اگلا پردہ خفی کے غیرمرئی کا نورانی اور انتہائی شفاف سیاہ پردہ ہے۔ آخری پردہ غیب الغیوب کا ہے جس کا تعلق لطیفہ حقیہ سے ہے ۔ کچھ نے اس پردے کا رنگ سبز بتا یا ہے یا پھر یہ بے رنگ ہوتا ہے کیونکہ یہ نورِ خالص سے بنا ہے اور انتہائی خالص، روشن ، لطیف اور حاملِ عظمت و جلالت ہونے کے باوصف کسی رنگ کا حامل نہیں ہوتا۔ ان سات پردوں کے ہٹنے کے بعد جو ستر ہزار حجابات پر مشتمل ہیں سالک حجابِ کبریا تک پہنچ جاتا ہے۔ اس مقام پر ضروری ہے کہ سالک اپنا ہاتھ نہایت عاجزی سے آستانِ تضرّع و زاری پر رکھے تاکہ وہ عالمِ لاہوت کے جذبہ سے مغلوب ہو کر حضورِ حق میں پہنچ جائے۔ سمنانی ؒ نے سالک کو نظر آنے والے ان الوان اور تجربات ِ باطنی کے بیان میں ایک پورا رسالہ لکھا ہے جس کا نام ’رسالہ نوریہ‘ یا ’رسالت الانوار‘ ہے۔ اس رسالے کا انداز شاعرانہ اور تمثیلی ہے۔ اس رنگین طرزِ بیان کے باوجود یہ رسالہ راہِ سلوک کے اہم تجربات کو منظم اور مفصّل انداز میں بیان کرتا ہے۔ ذیل کے سطور میں مندرج مکاشفات کے بیان میں میں نے رسالۂ نوریہ کے بیانات کو پیشِ نظر رکھا ہے۔

جب سالک عالمِ جسمانی کے مرئی رخ سے اپنا منہ پھیر لے تو اسے چاہیے کہ عالمِ روحانی کے مرئی پہلو سے بھی منہ پھیر کر عالمِ روحانی کے غیر مرئی کی طرف منہ کرے۔ پہلا پردہ جو یہاں ظاہر ہوتا ہے وہ کالے اور گدلے رنگ کا ہوتا ہے تا آنکہ وہ کلمہ لا الٰہ الا ّ اﷲ کے ذکر کے چقماق کو اپنے قلب کے پتھر سے رگڑے ۔ تب اچانک وہ شعلۂ مستور جو اس کے وجود کے اندر ہے ہویدا ہوجاتا ہے اور وہ خود کو حرّاقیٔ نفس میں کھڑا پاتا ہے۔ وہ اس آگ کو اپنے جسم کے ایندھن سے بھڑکاتا ہے یہاں تک کہ وہ تیز اور روشن ہو جاتا ہے اور مذکورہ بالا گدلا اور مکدّر پردہ گہرے نیلے رنگ کا ہو جاتا ہے۔ جب وہ اپنے ہیزم ِ وجود اور باقی ماندہ لقمۂ ہائے مسرتِ جسمانی کو خشک کرتا ہے تو یہ رنگ اور زیادہ خالص اور شفاف ہوجاتے ہیں اور دھوئیں کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ جب یہ لقمے مزید خالص ہو جاتے ہیں اور صرف عدل ان میں باقی رہ جاتا ہے پھر کوئی دھواں باقی نہیں رہتا اور ایک خوشگوار مہک مشامِ جاں بن جاتی ہے۔ علاوہ بریں رنگین روشنیاں ظاہر ہونے لگتی ہیں اور سالک کو ارواح کی شکلیں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ جملہ تجربات قوتِ ذکر کی برکت اور لقمۂ جاں کو لذاتِ حسی کی رطوبت سے محفوظ رکھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ سالکِ مبتدی کو یہ تجربات لطیفۂ حسن کی وساطت سے حاصل ہوتے ہیں جو ظلمتِ جسمانی سے نجات پانے کے بعد اس کے سینے میں پیدا ہوتا ہے۔

اس مرحلے پر سرخ، سفید، زرد ، سیاہ اور نیلے رنگ کا تفاوت آتشِ ذکر کی قوت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ آتشِ ذکر کا جوہر پردے کے عقب سے باہر آئے اور چلاّ کر کہے’ ہمہ منم‘ یعنی میں ہی سب کچھ ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ سالک اس مقام پر غرور و عجب کا شکار نہ ہو جائے، کیونکہ یہ ذکر کے محض مبتدی کا درجہ ہے۔ اگر وہ غرور کا شکار ہو جائے تو راہِ سلوک کے اعلیٰ مدارج میں اس کا داخل ہونا ممنوع ہو گا۔ دوسری آگ جو سالک کے راستے میں آتی ہے اس کی ماہیت غیر معین ہے لیکن اس کی نوعیت کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ حقیقتِ ذکر، عشق، آرزو، خواہش، غضب، شیطنت اور جسمِ طبعی کی آگ ہے۔ راہِ سلوک میں پیش آنے والی علامات کی روشنی میں ان میں سے ہر قسم کی آگ کو پہچاننا ممکن ہے، لیکن مبتدی کو چاہیے کہ وہ شیخ کی رہنمائی کے بغیر ان میں تفریق کی کوشش نہ کرے کیونکہ شیطان کے مکر کا شکار ہو کر سالک غرور و عجب کا شکار ہو سکتا ہے اور اس صورت میں راہِ راست سے بھٹک جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سالک ہر باطنی تجربہ اپنے شیخ کے آگے بیان کرے تاکہ وہ ان تمام تجربات اور مکاشفات کی صحیح تشریح و تعبیر کرے۔ اگرشیخ اس مرحلہ پر سالک کو حکم دے کہ وہ تمام خیالات و خواطر کو ترک کر دے تو اس عمل میں پیش آنے والی مشکلات سے قطعِ نظر اس کو ضرور ایسا کرنا ہوگا۔ شیخ کی طرف سے ان خیالات و خواطر کو ترک کرنے کے حکم سے سالک کی ان کے ساتھ حددرجہ وابستگی ختم ہو جائے گی۔ اگر سالک اس مرحلے پر شیخ کی حکم عدولی کرے تو وہ راہِ سلوک میں مزید ترقی نہیں کرے گا بلکہ اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

اس کے بعد جب لذّات ِ جسمانی کے لقموں اور غلاظت عصیان سے آلودہ وجود آتشِ ذکر میں مکمل طور پر جل کر فنا ہو جاتا ہے تو نورِ نفس ہویدا ہو جاتا ہے جس کا پردہ خوشگوار نیلے رنگ کاحامل ہے۔ بعد ازاں نورِ قلب ظاہر ہو جاتا ہے جس کا پردہ یاقوتی سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ اس نور کے ظاہر ہونے کے ساتھ سالک کے دل میں ایک عظیم باطنی ذوق پیدا ہوتا ہے اور اسے راہِ سلوک میں دوام نصیب ہوتا ہے۔ بعض اوقات تطہیرِ قلب کے ابتدائی مدارج میں سالک اپنے لوحِ دل کو مختلف نقوش کی وجہ سے سیاہ دیکھتا ہے۔ پھر وہ دیکھتا ہے کہ اسے صاف اور ان نقوش سے منزہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ دیکھتا ہے کہ اس پر لفظ اﷲ مکمل طور سے حاوی ہے ۔ پھر اس کو صیقل کیا جاتا ہے اور محض اﷲ کا نام ہی باقی رہ جاتا ہے۔ پھر وہ دیکھتا ہے کہ اﷲ کا لفظ سرخ روشنی سے لکھا گیا ہے ، پھر یہ لفظ سفید روشنی سے اور پھر سبز روشنی سے لکھا گیا ہے۔ پھر وہ ایک لوحِ نور دیکھتا ہے جس کا نہ کوئی رنگ ہے اور نہ اس پر کوئی نقش ہے۔ عین اسی لمحے نقوشِ علم ِ لدنّی اس پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اور یہ علومِ باطنی یا مخفی کے ظاہر ہونے کا عمل ہے۔

اس مرحلے کے بعد نورِ سِرّی ہویدا ہوتا ہے جس کا پردہ سفید رنگ کا ہے۔ اس مرحلے پر سالک کو مسرتِ ظہور کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اگلا مرحلہ نورِ رُوحی کا ہے جو ایک نہایت خوشگوار زرد رنگت کے ساتھ ہویدا ہوتا ہے۔ اس نور کے نظر آنے سے نفسِ سفلی کمزور ہو جاتا ہے اور قلب کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے بعد نورِ خفی جس کا حوالہ روح القدس ہے، ظاہر ہوتا ہے۔ اس کا پردہ اس قدرشفاف اور پُرجلال سیاہ رنگ کا ہے کہ سالک اس کے دیکھنے کے خوف سے ہی فنا ہو جاتا ہے۔ رسالہ نوریہ میں شیخ ؒفرماتے ہیں۔

’’ اس سیاہی میں آبِ حیات جلوہ آرا ہوجاتا ہے۔ جو کوئی نورِ پیغمبر کی تابندگی میں خود کو ایک جام پلائے اوراتباعِ پیغمبر کے سائے میں رہے تو مانندِ خضر ؑ وہ شخص چشمۂ آبِ حیوان پر پہنچ جاتا ہے جو انوارِ صفاتی کا منبع ہے۔ پھر وہ توفیقِ الٰہی کے دریائے علوی سے ایک جام پیتا ہے اور اس شے کا سزاوار بن جاتا ہے جو ربّ الاعلیٰ صفاتِ جمالی و جلالی کے ذریعے اس پر ظاہر فرماتاہے۔ ‘‘

جب لطیفۂ خفی لطیفۂ حقیّہ کی آمد کا اعلان کرتا ہے تو قوائے جسمانی و نفسانی اس کا یقین نہیں کرتے۔ یہ حالت سالک پر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ پردہ ہائے لطائف ِ قالبیہ، نفسیہ ، قلبیہ، خفیہ، اور روحیّہ سے گزر چکا ہوتا ہے اور ان کے مواطن میں قیام کر چکا ہوتا ہے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ لطیفۂ خفیہ کو اس کے پاس بھیجتا ہے جو اسے اٹھا لیتا ہے اور خفی کی مملکت میں داخل کردیتا ہے۔ یہاں سالک کو چاہیے کہ شیخ کے حکم سے فالتو عبادات ترک کرے تاکہ اس مرحلے سے آسانی سے گزر سکے۔ اس مرحلے پر سالک کو چاہیے کہ اعمال ِبدنی اور ذکر لسانی ترک کرے کیونکہ اعمالِ بدنی محض اس مرحلے تک پہنچنے کا وسیلہ ہوتے ہیں۔

غیر واجب اعمال کو ترک کرنے کے علاوہ سالک کو چاہیے کہ وہ اس سیاہی میں رکھے گئے جواہرات کی طرف رغبت کیے بغیر خلوص اور قوتِ قلبی کے ساتھ قدم بڑھاتا جائے۔ اس مرحلے پر جو خوفناک آوازیں سنائی دیتی ہیں یا شکلیں دکھائی دیتی ہیں اسے ان سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے تاکہ نورِ خفی غیر مرئی سمت میں اپنی قوتِ امکانی سے ظاہر ہو جائے ۔ اگر ایسا ہو جائے تو خوف انس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور جب وہ اس مرحلے کے تقاضے پورے کرتا ہے تو نورِ مطلق جو خدا تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے ، ظاہر ہو جاتاہے۔ اس کا رنگ سبزہے اور سبز رنگ حیاتِ شجرِ وجود کی علامت ہے۔

نورِ مطلق کا ظہور صرف جنت میں ممکن ہے، جب اس کے ساتھ دوسرے اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ اولاً سالک خود اپنے فنا کے تجربے سے دوچار ہوتا ہے، اس کے بعد اسے معادیاتی امور کے مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں مثلاً یہ کہ کبھی وہ برزخ پر کھڑا ہوتا ہے، یا آسمان ٹوٹ رہا ہوتا ہے، ستارے جھڑرہے ہوتے ہیں، سورج کی جگہ چاند اور چاند کی جگہ سورج طلوع ہو رہا ہوتا ہے، سیارے مدھم پڑ جاتے ہیں،میزانِ عدل میں اعمال کو تولا جا رہا ہوتا ہے، پلِ صراط پر سے گزر ہوتا ہے، قعرِ دوزخ میں گرایا جاتا ہے یا بمراتب اٹھایا جاتا ہے۔ جب سالک یہ علامات دیکھتا ہے تو اسے جاننا چاہیے کہ وہ خلدِ برین میں ہے۔ پھر اسے چاہیے کہ جمالِ حضورِ حق کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو جائے، اور جملہ ماسوا سے اپنی توجہ ہٹا لے تاکہ ذاتِ مقدّس کی تجلی کا ظہور ہواور وہ سب مناظر جو سالک نے پہلے مشاہدہ کیے اس تجلی کے نور سے منوّر ہو جائیں گے۔

نورِ خداوندی کا ظہور ہر شے سے ارفع ہے اوریہ بے مثل ہے۔

نورِ خفی کا ظہور سر کے اوپر سے ہوتا ہے اور عالمِ مرئی میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور یہ نور ایسا ہے کہ اپنے ظہور کے نقطۂ آغازپر ہی سالک کو فنا کر کے رکھ دیتا ہے۔

نورِ رُوح کی شدّت نورِ آفتاب سے زیادہ ہے اور عموماً اس کا ظہور پشت کی طرف سے ہوتا ہے اگرچہ بعض اوقات یہ دائیں یا بائیں جانب سے بھی ظاہر ہوتاہے۔

نورِ سِرّ بھی نورِ رُوح سے مماثل ہے لیکن یہ روشن تر اور لطیف تر ہے۔ اس کا ظہور سالک کی مخالف جانب سے ہوتا ہے اور اس کی آنکھوں کے راستے اس کے بدن میں داخل ہوتا ہے اور اسے فنا کر دیتا ہے۔ اور جب سالک اس فنا سے واپس آتا ہے تو وہ اپنے اندر بہت سا ایسا علم موجود پاتا ہے جو اس سے قبل اس کے پاس نہیں ہوتا۔ جب یہ نور اس کی آنکھوں میں پڑتا ہے تو اس کے جسم کے تمام اعضاء میں نفوذ کر جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو شفاف اور نورانی پانی کی مانند دیکھتا ہے کیونکہ اس کی جلد اور اس کا لباس بھی منوّر ہو جاتا ہے۔

نورِ قلب نورِ ماہتاب کے مماثل ہے۔ اس نور کا ظہور سالک کے بائیں جانب سے ہوتا ہے اور اسے فنا کر دیتا ہے۔ اس عالم میں قلب کی مساعی کم ہو جاتی ہیں اور سالک کو عجیب انوار اور احوال کا مشاہدہ ہوتاہے۔

نورِ نفس سالک کو گھیر لیتا ہے۔ اس کی مثال ایسے صیقل شدہ دروازے یا کھڑکی کی ہے جس پر سورج کی چمک پڑ رہی ہو اور وہاں سے یہ روشنی منعکس ہو کر کسی دیوار پر پڑ رہی ہو۔ نورِ نفس میں قوتِ فنا موجود نہیں ہوتی بلکہ یہ محض مرئی اشیاء کو منور کر دیتا ہے۔ اس مرحلے پر سالک کو دیگر انوار بھی نظر آتے ہیں جیسے شمع، چراغ یا قندیل کی روشنی جواپنے مدارجِ حصول کے مطابق انوارِ طبقاتِ انس و جن کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سالک ابتدا میں جو آگ کی چنگاریاں دیکھتا ہے وہ دراصل اس کے اپنے وجود کے آتشی اجزا میں میں سے گزرنے کی علامت ہے۔ اسی طرح سالک کا ہوا میں سفر وجود کے بادی اجزا میں سفر کی نشاندہی کرتا ہے۔ دریا اور سمندر میں تیراکی یا سطحِ آب پر چلنا سالک کے اپنے وجود کے آبی اجزا میں سفر کی وجہ سے ہے۔ گلیوں ، مکانوں اور دیواروں کے اوپر سے اڑنا سالک کے اپنے وجودِ جسمانی کے خاکی اجزا میںسفر کی نشانی ہے۔ جوں جوں سالک کے وجود کی لقمہ ہائے لذتِ حسّی کی ظلمت سے تطہیر ہوتی جاتی ہے اسے خالص، سریع الحرکت اور خوبصورت رنگوں کی آگ ، نیز روشن فضا، صاف و شفاف پانی، کھلی کھلی گلیاں، صاف اور شاندار محلّات ، خوبصورت قالین اور شاندار ضیافتیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔

اگر سالک جسمِ باطنی کو لذّت ِ حسی کے لقموں اور خود غرضانہ خواہشاتِ شہوانی سے آلودہ کرے تو وہ مذکورہ بالا مناظر کے برعکس خوفناک اور تباہ کن آگ اور دھوئیں کے مرغولے دیکھتا ہے جن میں وہ گرتا ہے اور بھسم ہو جاتا ہے۔ علاوہ بریں وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اسے بھٹی میں ڈالا گیا ہے یا وہ طوفانی ہوائیں، بجلی کا چمکنا، کوئی خوفناک صورت حال یا ہولناک اندھیرے دیکھتا ہے جن میں اسے محبوس کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر خوفناک مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں مثلاًگندے اور آلودہ پانی میں ڈوبنا، یا تنگ و تاریک گلیاں ، یا تباہ حال، غلاظت بھرے مقامات دیکھتا ہے۔ جب بھی سالک ان ویرانوں سے فرار کی کوشش کرتا ہے تو بلندو بالا دیواریں چاروں طر ف سے اسے گھیر لیتی ہیں۔ وہ ریتلی پہاڑیاں دیکھتا ہے جن پر وہ بمشکل تمام چڑھنے کی کوشش کرتا ہے یا عمیق اور تاریک کھائیاں دیکھتا ہے جن میں وہ گرتا ہے۔ اس مرحلے پر خوفناک اور موذی درندے اور جانور جیسے سانپ، بچھو، شیر، چیتا، ریچھ، سؤر وغیرہ نمودار ہو جاتے ہیں اور سالک کو ڈستے اور بھنبھوڑتے ہیں۔

اس مرحلے سے فرار کا دارومداران صفاتِ نفسانی سے چھٹکارا پانے پر ہوتا ہے جو بدی کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ جس قدر سالک لقمہ ہائے لذّتِ حسّی کی ظلمت کو لقمہ ہائے صدق کی پاکیزگی اور شفافی سے تبدیل کرنے کے قابل ہو گا اسی قدر صفاتِ ذمیمہ صفاتِ حسنہ سے مبدل ہوں گی اور مذکورہ بالا خوفناک اور کریہہ المنظر شکلوں کی جگہ خوشگوار مناظر اور اشکال مثلاً ہرن اور خوش رنگ اور خوش الحان پرندے نظر آئیں گے۔ اس قلبِ ماہیت کا شعور حاصل کرنے کے لیے سالک کو مذکورہ خوفناک مناظر مثلاً بچّھو، آگ اور کاٹھ کباڑ وغیرہ کی حقیقت کا شعور حاصل ہونا ضروری ہے۔ ان بظاہر خوفناک دنیوی مناظر کے اندر دراصل حقائق الحوریہ و الخلدیہ اور عنایاتِ ابدی مستور ہو سکتے ہیں۔

جب سالک راہِ سلوک پر مزید پیش قدمی کرتا ہے تو ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جب حیوانی شکلوں کی بجائے انسانی شکلیں نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت سالک خود کو حقیقت کے حسبِ حال ایک روحانی یا باطنی مسافر کی شکل میں دیکھتا ہے اور اچانک لقمہ ہائے حقیقت کی پاکیزگی اور خوبصورتی دوچند ہو جاتی ہے۔ عالمِ مرئی میں غیر مرئی کے حسن کی ظاہری علامت سالک کا حسن ِ کردار ہوتا ہے۔ اس مرحلے سے ارتفاع پانے کے بعد انسان کی تاریک مخفی شخصیت روشن ہو جاتی ہے اور سالک نورِ مجسم بن جاتا ہے۔ اس مرحلے پر سالک لطیفۂ انائیہ کی حقیقت کی طرف صعود کرتا ہے اور بدنِ مکتسب تا بہ ابد اس کے ساتھ رہتا ہے۔

فنا اور قیامت

سالک کے سفرِ روحانی یا باطنی کا ایک پہلواس کا فنا ہونا اور پھرقیامت میں محشور ہونا ہے۔ سمنانی ؒ فنا اور قیامت کی اصطلاحات کو ایک معنی میں استعمال کرتے ہیں اگرچہ ان دونوں میں پیش آنے والے مظاہر کی نوعیت قطعی یکساں نہیں ہے۔

فنا کی اصطلاح عام صوفیانہ تصور کے مطابق صوفی کی فنائے ذات کے معنوں میں استعمال ہوئی ہے۔ یہ فنا چار مختلف مدارج میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

۱۔ ابتدائے سلوک میں فنا باالذکر پیش آتی ہے۔

۲۔ وسطِ سلوک میں فنا من الذکر کا مرحلہ آتا ہے۔

۳۔ آخرِ سلوک میں فنا فی الذکر کا تجربہ ہوتا ہے۔

۴ ۔ آخری مرحلے پر فنا فی لمقصد الذکر ہے جو عالمِ علوی میں دخول کی علامت ہے۔

فنا کے اس آخری مرحلے کے بعد سالک کو خدا تعالیٰ کے ساتھ بقا حاصل ہو جاتی ہے۔ اور وہ مقامِ عبدیت حاصل ہوتا ہے جو تمام مقامات و مدارج سے بڑھ کر عظیم الشان ہے۔

فنا کے ان مدارج کا بیان ذکر کے سیاق و سباق میں ہوا ہے۔ دیگر جملہ معاملات میں فرد کے فنا پذیر ہونے ہونے اور دوبارہ محشور ہونے کے لیے سمنانی ؒ نے فنا کی بجائے قیامت کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ بعض مقامات پر آپ نے فنا یا قیامت کی بجائے موت کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے خاص طور پر انسانی تجربے میں آنے والی تین طرح کی اموات یعنی موت ِ اختیاری ، موتِ اضطراری اور یوم الموعود الاکبر العظیم جو جملہ نوعِ انسانی کی اجتماعی موت پر مشتمل ہے، کا ذکر ملتا ہے۔ ان اموات میں سے ہر ایک کے بعد ایک قیامت کا مرحلہ آتا ہے۔ ان میں پہلی قیامت قیامتِ صغریٰ ہے جو موتِ اختیار ی کے نتیجے میں برپا ہوتی ہے، جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی حدیث ِ مبارکہ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا میں اس جانب اشارہ ہے۔ دوسری قیامت قیامت ِ وسطیٰ ہے جس کا تذکرہ کی آنحضرت ؐ کی اس حدیث میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مرا اس کی قیامت واقع ہو گئی۔ تیسری قیامت یعنی قیامت ِ عظمیٰ وہ قیامت ہے جو جملہ مخلوق پر وقوع پذیر ہوگی۔ حقیقت کی نوعیت اور ثمرِ ریاضت کو ہر شخص کے لیے عیاں کر دیا جائے گا چاہے وہ قیامتِ وسطیٰ میں ہو یا عظمیٰ میں۔ تاہم اﷲ کے نیک بندے موت سے قبل ہی اس کیفیت کا مشاہدہ کرتے ہیں اور فنا حاصل کرنے کے لیے خود کو عبادات و ریاضات میں ہمہ تن مشغول رکھتے ہیں۔ اسی کا نام موتِ اختیاری ہے جس کا اﷲ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔

طبعی موت سے پہلے موتِ اختیاری کی منزل حاصل کرنا ہر عبادت و ریاضت کا بنیادی ہدف ہے۔ اس منزل کے حصول کے بعد ہی علم حقیقی اور حضورِ خداوندی میں قبولیت ممکن ہے۔ سمنانی ؒ کے نزدیک موت ِ اختیاری فنا اور قیامت کے ایک سلسلے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ قرآن ِ مجید میں اس کا ذکر القیامۃ، التامّہ، السّاخّۃ، الحاقّۃ، الغاشیۃ، السّاعۃ، اور الواقعۃ جیسی اصطلاحات کے ذریعے ہوا ہے۔ یہ اصطلاحات جسمِ روحانی کے مختلف مدارج کے ساتھ مربوط ہیں۔

پہلی قیامت جسم کی ہے جسے قرآن نے القیامۃ کے نام سے یاد کیا ہے۔ اس کے بعد قلب اور خفی کی قیامتیں ہیں جنہیں السّاعۃ اور الحاقہ کہا گیا ہے ۔ اگلی قیامت روح کی ہے جس کو الواقعۃ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں محیر العقول قسم کے مکاشفات پیش آتے ہیں جیسا کہ آگے مذکور ہو چکا ہے۔ اس قیامت کی شدت سے پہاڑ ہل جاتے ہیں ، زمین لرزنے لگتی ہے، اور عزّتِ حضرت ِ حق کی آندھی محبت اور شوق کے شعلوں کو بھڑکاتی ہے اور آبِ عقول رزق ِ خاک بن جاتا ہے جبکہ سالک کو ایسا علم عطا ہوتا ہے جس سے وہ پہلے بے خبر ہوتا ہے۔

آخری قیامت سِرّ کی قیامت ہے جسے الآزفۃ کہتے ہیں۔ اس کی شدت اور خوفناکی کا یہ عالم ہے کہ سوائے حق تعالیٰ کے کوئی اس کی رونمائی پر قادر نہیں۔ یہ قیامت حضرتِ حق کے قریب ترین ہے اور اس کے وقوع پذیر ہونے کے بعد سالک لطیفۂ انایّہ کا درجہ حاصل کرتا ہے اور ابدی طور پر حضورِ حضرتِ حق میں مقیم ہو جاتا ہے۔٭