گزشتہ دو ابواب میں فکرِ سمنانی ؒ کے حوالے سے بعض وجودیاتی حقائق پر بحث کی گئی ہے۔ وجود کی اس درجہ بندی سے سالک عروجِ روحانی کی اس معراج کو پا سکتا ہے جو لطیفۂ انایّہ ہے اور جو جمالِ ذات کا شاہد ہے۔ وجود کا یہ نظام ِ مراتب جس کا آخری نقطہ لطیفۂ انایّہ ہے، کشف و الہام سے وابستہ نہیں بلکہ اس کی نوعیت ابتدا میں فکری اور آخر میں تجرباتی ہوتی ہے۔ اس منزل تک رسائی مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن اس لیے نہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے صرف انسان کوہی ایسی مخلوق بنایا ہے جو ذاتِ الٰہی کے شعور سے متصف ہونے کی اہل ہے۔ اس مقصد کے لیے اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیٰ نبینا علیہ السلام کو اس روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اور اولادِ آدم ؑ کو بھی خلافت و نیابتِ الٰہی سے سرفراز فرمایا۔ اﷲ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس لیے خلق فرمایا کہ انسانِ کامل وجود میں آئے۔ چونکہ تخلیقِ کائنات افعالِ الٰہی کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والے آثار کا نتیجہ ہے اس لیے اس عالم میں اﷲ تعالیٰ کی صفاتِ فاعلیہ کے شواہد موجود ہیں۔ ان صفات کا علم آدمی کے وجود کو ایسا آئینہ بنا دیتا ہے جس میں علمِ صفاتِ الٰہیہ کا انعکاس ہوتا ہے۔ صدائف الطائف میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ اﷲ تعالیٰ نے تجھے اس عالم کا برتر اور تیرے وجود کا کمتر باغ اس لیے عطا فرمایا ہے کہ تو ان دونوں میں زراعت کرے۔ لیکن جان لے کہ تیرا رزق اﷲ تعالیٰ جل شانہ‘ کی طرف سے ہے ان باغوں سے نہیں۔ اور اگر تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے غافل نہ ہو اور ان دونوں باغوں کی زراعت میں مشغول رہے اور خود کو اس کا خادم اور غلام سمجھے اور جانے کہ ان میں سے ہر مزرعہ میں تجھے ہی کام کرنا ہے اور تیرے رب سے تجھ سے یہ تقاضا ہے کہ تو اس کی خدمت میں ندامت اور توبہ سے کام لے تو تیرا شمار بھی ان لوگوں میں ہوگا جو قربِ ذات سے مشرف ہوئے ہیں اور یہ دنیا تیرے لیے ایک مبارک اور محمود مقام بن جائے گی۔‘‘

اور ایسا اﷲ تعالیٰ کے فیض و کرم سے ہی ممکن ہے ۔ تفسیر نجم ا لقرآن میں سمنانی فرماتے ہیں۔

’’ وَاﷲ ُ ذُوْالْفَضْل ِ الْعَظِیْم ِہ (الحدید ۲۱)’’اور اﷲ فضلِ عظیم کا مالک ہے ۔ ‘‘کیونکہ وہ ہمیں عدم سے وجود میں لے آیا اور ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی۔ اس نے ہمیں لطائف عطا فرمائے اور راہ ہدایت کی نشاندہی فرمائی اور اس راہ پر چلنے کی توفیق اور طاقت عطا فرمائی۔ پھر اس نے اپنی قدرت سے ہمارے اعمال کی جزا عطا فرمائی۔ اسی کی ہدایت سے ہم حق و باطل میں تفریق کے قابل ہوئے۔ اس نے ہمیں اپنی اوقات سے بڑھ کر اپنے نورِ وجود سے حصہ دیا تاکہ ہم اسی نور کی عالمِ خلق میں سفر کر سکیں۔ اور یہ سب محض اس کا بے پایاں فیض و کرم ہی ہے۔‘‘

وجودِ انسانی ا س عالم میں تکمیل و عروج کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے لیکن اس عروج کا حصول صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ اپنے فانی وجود سے نورِ عرفان کے ذریعے کبرو نخوت کو ختم کرے۔ اس سلسلے میں انسان اولاً اس کبر اور عجب کی ماہیت اور مبداء سے آگاہ ہو جاتا ہے اور پھر اپنے وجودکے چہرے سے اس کبروعجب کے پردے کو اتار پھینکتاہے۔

وجودِ انسانی کے اندر تکمیل و ترقی کی جو صلاحیت موجود ہے سمنانی ؒ اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔ اگر ایک بیج کو زمین میں بو دیا جائے تو اس سے ایک درخت اگتا ہے جس سے دس ہزار بیج حاصل ہوتے ہیں۔ اب اگر ان دس ہزار بیجوں کو پھر بو دیا جائے تودس ہزار درخت اگیں گے ۔ ان میں سے ہر درخت سے دس ہزار مزید بیج پیدا ہوں گے لیکن بعد میں آنے والے ہر بیج اور درخت میں اس پہلے بیج کی خصوصیات موجود ہوں گی۔ اسی طرح قابلاتِ فیوضِ نفسِ کلّی کے جواہر جو حضرت آدم علیہ السلام کے وجودِ مبارک میں موجود تھے وہ آپ کی جملہ اولاد میں بھی در آئے ہیں۔ اسی طرح قلبِ باطنی کو تہ در تہ ملفوف کیا گیا ہے اور ہر تہ میں عقلِ الٰہی کا ایک حصہ موجود ہے۔ اس حقیقت کے باوجود بہت سے لوگ روحانی عروج کی ممکنہ منزلوں تک اس لیے رسائی نہیں پاتے کہ وہ اپنی فطرت کی درست نشوونما سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صراطِ مستقیم پر کاربند ہونے کے معاملے میں بعض انسان دوسروں سے بلند تر مقام کے حامل ٹھہرتے ہیں۔‘‘

وجود ِ انسانی کے اندر قوہ امارہ کافرہ اور قوہ لوامہ مؤمنہ یعنی بدی اور نیکی کی قوتیں جمع ہیں۔ انسان کا نفس اس صورت میں سعادت سے بہرہ ور ہوتا ہے جب وہ ان لطائف کی مدد سے جو پیغمبروں کی صورت اس دنیا میں آئے ہیں اپنی تطہیر کرے اور ان سفلی اور ظلمانی خصوصیات کو خود سے دور کرے جو پانی کے خواص ہیں اور گمراہی کی خصوصیت سے نجات پائے جو ہوا کا خاصہ ہے اور ان تباہ کن رجحانات سے گلوخلاصی حاصل کرے جو آگ کی پیدا کردہ ہیں اور اسی طرح عناصرِ خبیثہ کی غلاظت سے خود کو پاک کرے اور اپنے باطن کو بھی عالمِ سفلی کی محبت کی کثافت سے پاک کرے۔ جو نفس اس تطہیر میں ناکام رہ جائے عذابِ دائمی اس کا مقدر بن جاتاہے۔

سمنانی ؒ کے نزدیک تکمیلِ ذات کے لیے لذائذِ دنیوی کو ترک کرنا ضروری ہے جنہیں اﷲ تعالیٰ نے بے حقیقت اور بے وقعت قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے۔ اِعْلَمُوْ ٓا اِنَّمَا الْحَیَواۃُ الدُّنْیَا لَعِب’‘ وَّ لَھْو’‘ وَّ ز ِیْنَۃ’‘ وَّ تَفَاخُر’‘ م بَیْنَکُمْ وَ تَکَاثُر’‘ فِی الاَمْوَالِ وَ الْاَولَادِ ہ کَمَثَل ِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہ‘ ثُمّ یَھِیْجُ فَتَرَاہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا ط وَ فِی الْآخِرَۃِ عَذَاب’‘ شَدِیْد’‘ لا وَ مَغْفِرَۃ’‘ مّنِ َ اﷲِ وَ رِضْوَان’‘ ط وَ مَا الْحَیَواۃُ الدُّنْیَا اِلَّا الْمَتَاعُ الْغُرُوْر ِ ہ یہ دنیا دائمی نہیں بلکہ عارضی اورفانی ہے اور بجائے خود اس کا وجود بے حقیقت ہے اور اہلِ باطن اسے ایسا ہی جانتے ہیں۔ اس کے برعکس اخروی زندگی حقیقی زندگی ہے کیونکہ اس میں نہ تو کوئی ماضی ہے اور نہ مستقبل بلکہ یہ ابدی اور غیر تغیر پذیر ہے۔

اخروی زندگی میں انسانوں کو اس دنیوی زندگی کے اعمال کے لحاظ سے جزا اور سزاملے گی۔ وہ شخص جو اپنے خواہشِ نفسانی کا غلام ہو گا وہ اس کی سزا پائے گا اور جو شخص اﷲ تعالیٰ کی خلوص و محبت کے ساتھ غلامی کرے وہ دیدارِ الٰہی سے مشرّف ہو گا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ان قوتوں اور اسباب و وسائل کے بغیر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے ان کی ترقی اور عروج کے لیے عطا فرمائے ہیں ۔ وہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں اور ان قویٰ اور وسائل کا استعمال لذّاتِ شہوانی کے حصول کے لیے کرتے ہیں۔ پس یہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں بھی اپنی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کریں گے اور اگلے جہاں میں بھی انعام پائیں گے وہ دراصل غلطی پر ہیں، کیونکہ دونوں عالم ہی اﷲ تعالیٰ کی ملکیت ہیں۔ حیاتِ دنیوی میں ان کا اندوختہ کفر و عصیاں کی آگ ہے اور اﷲ تعالیٰ انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سزا دیں گے۔ اسی طرح ان سب لوگوں کا اس دنیا میں حقیقی روحانی مقام پانا ضرور ی نہیں جو متقی اور راست باز ہیں کیونکہ وہ اہل و عیال کی ذمہ داریوں کی وجہ سے علائق ِ دنیوی سے کنارہ کش نہیں ہو سکتے۔

روحانی ترقی کے اعتبار سے سمنانی ؒ انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلا گروہ عام اہلِ ایمان کا ہ۔ دوسرا گروہ ان کے روحانی مرشدین یعنی صوفیہ کا ہے جو علائق ِ دنیا سے کنارہ کشی کر کے ترکِ دنیا کی روش اپناتے ہیں ۔ جبکہ تیسرا گروہ متصوفہ کا ہے جو تجرید سے گزر کر تفریدِ باطنی کے حامل بن جاتے ہیں۔ متصوفہ کی تعداد اس دنیا میں ۳۴۷ ہے۔ ان میں سے تین سو ابطال ہیں اور جو حقیقی صوفیہ میں سے مبتدیوں کا گروہ ہے۔ چالیس ابدال ہیں جو درمیانے مقام پر فائز ہے۔ سات سیّاحوں ہیں جو حقیقی صوفیہ کا اعلیٰ ترین مقام ہے اور یہ قربِ الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں۔ وہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبروں کے جانشین ہونے کے اعتبار سے وہ اﷲ تعالیٰ کے نائب اور اس کی طرف رہبری کرنے والے ہیں۔ یہ مقامِ ولایت ہے کیونکہ بابِ نبوت کے بند ہونے کے بعد ولایت کا دروازہ کھلا۔ چنانچہ وہ علمائے اہلِ اسلام جو درجۂ ولایت پر فائز ہیں وہی انبیائے متقدمین کی طرح انسانوں کو نورِ ہدایت دینے والے ہیں ۔

یہ اولیاء اور سالکین تکوینی اہمیت کے حامل ہیں اور کائنات کے تخلیقی عمل کا جزوِ لاینفک ہیں۔ لفظ کون ، کن کے کاف، ولایت کے واؤ اور نبوت کے نون سے بنا ہے۔ چنانچہ انہی اولیاء کی وساطت سے ہی تمام انسانوں کو رزق دیا جاتا ہے اور کامیابی عطا کی جاتی ہے۔ اگر ان کا وجود نہ ہو تو یہ دنیا نیست و نابود ہو جائے۔

سمنانی ؒ کے نزدیک اولیاء کا مقام انبیاء سے بھی بڑھ کر ہے ۔ انبیاء کی تعداد اولیاء سے بڑھ کر ہے اور جہاں انبیاء عوالمِ مادی و روحانی میں اﷲ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والے ہیں وہاں اولیاء اس عالمِ خلق کی بنیاد ہیں۔ اس حوالے سے ولی کا وہی کردا ر ہے جو قطب کا ہے اور جو ایسا ستون ہے جو تمام عوالمِ علوی و سفلی کو سہارا دیے ہوئے ہے اور اس کے بغیر یہ عوالم برقرار نہیں رہ سکتے۔ یہ علم نہیں ہو پاتا ہے کہ سمنانی ؒ کے نزدیک قطب اور ولی ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں یا الگ الگ ہیں کیونکہ اگرچہ ان کا کام ایک سا ہے لیکن تعداد مختلف ہے۔ کیونکہ ولی تعداد میں سات ہیں اور قطب چار ہیں۔ بہرحال ا ن کا رتبہ وہ اعلیٰ ترین رتبہ ہے جس پر کوئی انسان فائز ہو سکتا ہے۔

سلوک کی اسلامی بنیاد

باطنی شعور کا اعلیٰ ترین مرتبہ معرفت ہے۔ یہ معقول حیات بخش شعور کا ایسا درجہ ہے جو بلحاظِ تعداد و مقدار گزشتہ تمام روحانی درجوں سے مختلف ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی روحانی مشق و ریاضت میں مشغول ہو جائے جس کی ابتدا ارکانِ اسلام کے حقیقی دینی اور عقلی شعور اور پہچان سے ہو کیونکہ اسی بنیاد پر تصوف کی عمارت استوار ہے۔ یعنی سالک اﷲ تعالیٰ کی فطرت اورحصول ِ علم کے لیے کشف و الہام اور ہدایت کے دیگر ذریعوں کی حقیقی پہچان کے قابل ہو جائے۔ اس کے بعد شریعتِ مطہرہ کے جملہ ظاہری اور باطنی طریقوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے جو سالک کے راہِ سلوک پر گامزن ہونے کے لیے ناگزیر ہیں۔

سالک کے لیے پہلی شرط فطرتِ الٰہی کی معرفت حاصل کرنا ہے جیسا کہ گزشتہ باب میں اس کی تشریح کی گئی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو واجب الوجود جانے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، پھر اس کی وحدانیت کی تفہیم حاصل کرے اور اس کے تمام عیوب، نقائص اور امکانِ خطا و نسیاں سے مبرا اور منزہ ہونے کا یقین پیدا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ وہی ہر شے کا خالق اور عالم کا مالک ہے۔ اس کے بعد سالک کو چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ کی صفات فاعلیہ کا اور ان سے ظہور پذیر ہونے والے افعالِ الٰہی کا شعور حاصل کرے جن کی مثال تحریر کے عمل میں ظہور پذیر ہونے والے الفاظ کی طرح ہے۔ تخلیقِ کائنات انہی صفات اور افعال کا نتیجہ ہے۔ یہ تخلیقی عمل آبائے علوی اور امہاتِ سفلی کے ملاپ سے ہوتا ہے۔ سالک کو پھر اس حقیقت کا شعور ضروری ہے کہ انسان جملہ مخلوقات میں ایک ممتاز حیثیت کا مالک ہے اور خاتم الموالید اور مرأۃِ الٰہی ہے۔ اشرف المخلوقات ہونے کا یہ درجہ حاملِ امانتِ الٰہی ہونے کا متقاضی ہے اور یہ امانت داری مخصوص ضابطوں پر عمل کا تقاضا کرتی ہے۔

جب سالک مذکورہ حقائق کا شعور حاصل کرے تو وہ حقیقی عارف بن جاتا ہے اور انبیاء کا ہمنشین بن جاتا ہے یعنی ایسا ولی جو حق کے متلاشیوں کو راہِ ہدایت پر چلانے کی صلاحیت کا حامل ہو۔

اس نظام کے مطابق اﷲ تعالیٰ کو اس کی صفات کی رُو سے پہچاننا ضرور ی ہے یعنی یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی صفات میں حاکمیت و اقتدار، تقد یس و تنزیہ، عظمت و کبریائی ، اور عدل و انصاف شامل ہیں۔ لیکن اس کی حاکمیت اور اقتدار کا حقیقی شعور اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک آدمی غیر اﷲ کی جانب متوجہ رہے اور کسی کو اس کی حاکمیت اور اقتدار میں شریک جانے۔ جب آدمی میں یہ نقص موجود ہو تو وہ اﷲ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پر عمل سے قاصر رہے گا اور اپنی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کرے گا۔

اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی تقدیس و تنزیہ کا حقیقی ادراک اس یقین کے بغیر ممکن نہیں کہ اﷲ تعالیٰ انسان کے قلب، حواس اور ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات کا بھی خالق ہے اور ان تمام صورتوں کا بھی جن کے اندر اس کی صفات تمام مرئی اور غیر مرئی عالموں میں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی صفتِ عظمت و کبریائی سے آگاہ ہونے کا مطلب اس حقیقت کا شعور حاصل کرنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے افعال کا مالک ہے۔ اس حیثیت میں وہ اس انسان کی فہمائش کرتا ہے جو بدن کی درستی اور قلب کی پاکیزگی حاصل کرنے اور مرأت ِ وجود کو وجہ اﷲ کے قابل بنانے سے قاصر رہے۔ تاہم اﷲ تعالیٰ اس فردِ بشر کو معاف فرمائیں گے جو اپنے بدن کو احکامِ شرعی کا مکلف بنائے اور قلب کو طریقت سے آراستہ کرے اور ہنگامِ عبادت اپنے آئینۂ قلب کو وجہ اﷲ کے مقابل رکھے۔

اﷲ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے ۔ وہ سخت گیر ہے، قبول کرتا ہے ، عطا کرتا ہے، منع کرتا ہے اور زندگی اور موت دیتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلّت دیتا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اپنی رضا کے مطابق حکم دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے خالقِ حیات ہونے کا نتیجہ ہے کہ انسان اعلیٰ مراتب کے حصول کے قابل بن جاتا ہے۔ تفسیر نجم القرآن میں سورۃ البقرہ کی اٹھائیسویں آیت کی تفسیر یوں بیان ہوئی ہے۔

وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ط یعنی تم جاہل تھے اور اُس (اﷲ) نے تمہیں علم کے ذریعے زندگی تھی اور تم اپنی ماؤں کے ارحام میں مردہ تھے، اس نے تمہیں نفَسِ روح کے ذریعے زندگی دی اور تم قالب کے اندر مردہ تھے ، اس نے تمہیں نورِ ایمان کے ذریعے زندگی دی اور تم برزخ میں مردہ تھے ، اس نے تمہیں روزِ جزا کے ذریعے زندگی دی۔ تم جہالت کی موت میں مبتلا تھے اس نے تمہیں عقل و دانش کے ذریعے زندگی دی اور تم مردہ تھے اور وجہ اﷲ کو دیکھنے کے اہل نہ تھے اور اس نے اپنے نورِ بصر سے تمہیں زندگی دی۔ ‘‘

اﷲ تعالیٰ نے عالمِ علوی اور عالمِ سفلی کے امتزاج سے انسان کی تخلیق فرمائی۔ اس نے قوتِ قالبیہ کی تسکین کے لیے لذت و شہوت کے حواس خلق فرمائے ۔ لیکن چونکہ اﷲ تعالیٰ انسان کو بلند مدارج تک لے جانا اور اس کی تکمیل کرنا چاہتا ہے اس لیے اس نے قرآن مجید کی روشن آیات اور منصبِ رسالت کے ذریعے اس کی رہنمائی کا سامان فرمایا۔ اس ہدایت کے ذریعے وہ انسانوں کو حجاباتِ بدنی کی ظلمت سے نورِ روحانیت میں لے جاتا ہے اور حجاباتِ روحانی کی ظلمت سے نکال کر نورِ الٰہی میں پہنچا دیتا ہے۔

حقیقتِ قرآن

فکرِ سمنانی ؒ کی رُو سے قرآن ِ مجید اﷲ تعالیٰ کا ابدی پیغام ہے اور جو اس کے کلامِ الٰہی ہونے میں شک کرے وہ کافر ہے، جبکہ ایسا شخص جو قرآن ِ مجید کی ظاہری مادی حیثیت یعنی کاغذ اور روشنائی وغیرہ کو بھی ابدی سمجھتا ہے جہالت کا شکار ہے۔ آپ کے نزدیک کلام اﷲ تعالیٰ کی صفات ِ وجوبی میں سے ہے چنانچہ تفکر فی القرآن وجودِ انسانی کو ایسا آئینہ بناتا ہے جس میں صفاتِ وجوبی کا انعکاس ہوتاہے۔ تفسیر نجم القرآن میں سمنانی فرماتے ہیں۔

’ ’ اے قرآن کے باطنی معنی تلاش کرنے والے! تجھے پہلے قرآن کے ’ظاہری‘ اور لغوی معنی کو سمجھنا چاہیے اور اپنے وجودِ ظاہری کو اس کے اوامر و نواہی کا پابند بنانا چاہیے۔ دوسرے مرحلے پر تجھے اپنے تزکیۂ باطن میں مشغول ہونا چاہیے تاکہ خدائے رحمان کی ہدایت اور روح القدس کے الہام کے مطابق اس کے ’باطنی ‘معانی کی تجھے تفہیم حاصل ہو۔ تیسرے مرحلے پر تجھے اقلیمِ قلوب میں اس کے ’حد‘ کے عرفان کے لیے تفکر کرنا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں تجھے کسی تفکر یا شمار اور حساب کے بغیر اس کے ’ مطلع‘ کے مشاہدے سے سرفراز کیا جائے گا۔ ‘‘

اس نظامِ فکر کے مطابق معانیِ قرآن کے چار درجے ہیں جو وجود کے چار مراتب سے مطابقت رکھتے ہیں۔ قرآن کی ظاہری جہت کا تعلق عالمِ ناسوت سے ہے۔ اس کی باطنی جہت کا تعلق عالمِ ملکوت سے ہے ، حد کا تعلق عالمِ جبروت سے اور مطلع کا تعلق عالمِ لاہوت سے ہے۔ معانیِ قرآن کے ان چار درجوں پر یقین نہ رکھنا عقیدۂ اسلامی کے خلاف ہے۔ سمنانی ؒ کے نزدیک عالمِ ناسوت میں قرآن کے ظاہری معنی کا منکر ’کافر ‘ و زندیق ہے۔ جو شخص عالمِ ملکوت میں قرآن کے باطنی معانی کا انکار کرے وہ سخت قسم کا ’مشبہی‘ ہے۔ جو شخص قرآن کے ظاہری معانی پر یقین رکھے وہ راست عقیدہ’ مسلم‘ ہے اور جو باطنی معانی کو بھی مانے وہ ’ مؤمن‘ ہے۔ جب کہ وہ شخص جو عالمِ جبروت میں معانی ِ قرآن کی ’حد‘ کو جانے وہ ’محسن‘ہے۔ اور وہ شخص جو عالمِ لاہوت میں آیاتِ قرآنی کے مطلع سے واقف ہو’ شاہد ‘ کہلاتا ہے جو شاہدِ خلق اور محرمِ راز ہے۔

چاروں درجوں میں معانیِ قرآن کی تفہیم بھی مختلف طور پر ہوتی ہے۔ معانی ِ ظاہر کا ’مفسر‘ اپنی قوتِ سماعت پر انحصار کرتا ہے جس کی وساطت سے اس نے قرآن کو سنا اور سمجھا۔ ’ محقق‘ یا صوفی قرآن کے باطنی معانی کے بیان کے لیے کشف و الہام کا سہارا لیتا ہے۔ جبکہ’ مؤحّد‘ معانیِ قرآن کی حد کا بیان محض اذنِ الٰہی سے کرتا ہے۔ تاہم ’ مطّلعِ اسرارِ ذات ‘ کسی قسم کے بیان و تفسیر سے گریز کرتا ہے اور افتان و خیزاں مطلعِ قرآن کی طرف بڑھتا ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو متقین کے واسطے پڑھنے ، یاد رکھنے، اور تنبیہ و ہدایت کے لیے آسان بنایا ہے۔ ساتھ ہی اس نے ہر آیت کو ایسا خزانہ بنایا ہے جس میں عرفان کے لا تعداد موتی پوشیدہ ہیں اور ہر آیت کے معانی کو چھپانے کے لیے مثالوں سے کام لیا ہے۔ قرآن کے قاری کو ان مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ان مثالوںمیں پوشیدہ ہیں اور جاننا چاہیے کہ آیاتِ الٰہی کا مقصدتصفیۂ قلب اور تزکیۂ نفس ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اسی مقصد کے حصول کے لیے اپنے پیغمبر روئے زمین پر بھیجے۔ تفسیر نجم القرآن میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ اﷲ تعالیٰ جل شانہ‘نے مخلوق کی ہدایت کے لیے پیغمبر بھیجے تاکہ وہ انسان کے اندر ’سیاست‘ کے ذریعے اصلاح، ’طہارت‘ کے ذریعے تزکیہ، اور ’ عبادت ‘ کے ذریعے توجہ پیدا کریں تاکہ اﷲ تعالیٰ اپنی ذات، صفات ، افعال اور آثار کا اس آئینے میں مشاہدہ کرے۔‘‘

متقین پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہیں جبکہ فاسقین ان رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور خواہشاتِ رذیلہ کی پیروی کرتے ہیں۔ سمنانی ؒ نے عوالم ِ ظاہری و باطنی کے جس نظام کی نشاندہی کی ہے اس کی رُو سے یہ پیغمبر انسان کے باطن میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ وہ لطائف جو باطنی پیغمبروں کا سا کردار ادا کرتے ہیں تمام قوائے علویہ اور سفلیہ میں موجود ہوتے ہیںاور خدا کے منتخب ’اولین‘ کہلاتے ہیں۔ یہ قویٰ جن کا تعلق قالب، نفس، قلب، سرّ، روح اور خفی سے ہے ان پر یقین رکھنے والے’ اصحاب الیمین ‘ ہیں جو اﷲ کے پسندیدہ بندے ہیں اور جو ان کا انکار کرے وہ ’اصحاب الشّمال‘ ہیں اور غضبِ الٰہی کے سزاوار ہیں۔

حقیقتِ نبوت

سمنانی ؒ کے نزدیک نبوتِ الہامی کی روایت سے وابستگی نہایت ضرور ی ہے اور صرف وہ مذہب قابل اعتنا ہے جس کی بنیاد نبوت اور وحی و الہام پر ہو۔ آپ سمجھتے ہیں کہ قدیم یونان، عیسائیت اور بدھ مت کے راہب اور صوفی اس لیے اپنی منزل کو پانے میں ناکام رہتے تھے کہ وہ تخمین و ظن سے کام لیتے تھے اور انبیاء کی رہنمائی سے محروم تھے۔

انبیاء کے سردار حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور لطیفۂ حقیہ آپ کی ذاتِ اقدس سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ مؤمنِ حقیقی نورِ لطیفۂ حقیہ محمدیہؐ سے اسی طرح متصف ہو جاتا ہے جس طرح حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نورِ الٰہی سے فیضیاب اور ممتاز ہوئے۔ ہر مؤمن کے اندر لطیفۂ محمدیہ ؐ اور اس سے وابستہ ایک قوت پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ قوت اہلِ ایمان کے دیگر قوائے جسمانی و روحانی کے لیے بشیر و نذیر کا کام کرتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کے احکام پر چلنے والوں کے لیے اخروی زندگی میں انعام کی بشارت دیتی ہے۔

سمنانی ؒ کے نزدیک حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر اور آپ کے خاتم النبین ہونے پر ایمان کی زبردست اہمیّت ہے۔ آپ ارکان ِ اسلام کی اہمیت پر بھی بہت زور دیتے ہیں اور دیگر ادیان کے مقابلے میں اسلام کی فضیلت کا خصوصیت سے بیان کرتے ہیں۔ تفسیر نجم القرآن میں آیت (۶۴:۸) کی تفسیر یوں فرمائی ہے۔

فَاٰمِنُوْا باِﷲِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ النُّوْر ِ الَّذِیْ ٓ اَنْزَلْنَا ط یعنی اے قوائے جسمانی و روحانی اس اﷲ پر ایمان لاؤ جس نے تمہیں خلق کیا اور احسن التقویم سے سرفراز فرمایا۔ اور اس لطیفہ پر یقین رکھو جو تمہاری طرف بھیجا گیا اور اس نورِ الہام پر یقین رکھو جو ہم نے تم پر نازل کیا۔ خوشخبری ہے تمہارے لیے اے امتِ محمدیہؐ ! تم کلمہ لا الٰہ الاّ اﷲ محمدؐ الرسول اﷲ پر ایمان رکھتے ہو اور یقینا اصحاب الشمال میں سے نہیں ہو۔ اور جو کوئی بھی خلوص اور یقین کے ساتھ اس کلمہ پر یقین رکھے گا وہ اصحاب یمین میں سے ہے اور کامیابی اس کامقدر ہے۔ شیطان کے لیے اسے صراطِ مستقیم سے ہٹانا ممکن نہیں ہے۔‘‘

ضروری ہے کہ جو لوگ اﷲ تعالیٰ پر ، اس کے آخری نبی حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر اور یومِ آخرت پر یقین رکھتے ہوں وہ نہ قوائے علویہ کی طرف متوجہ ہوں اور نہ اپنی عقل و فکر سے حاصل ہونے والے علوم اور نہ اپنے ہوائے نفسانی کی طرف راغب ہوں ، بلکہ انہیںسراسر لطیفۂ حقیہ محمدیہؐ سے وابستہ ہونا چاہیے۔ یہ ان کے لیے اﷲ تعالیٰ سے ان کی نیّتوں اور اعمال کی جزا پانے اور عذابِ اخروی سے نجات کا واحد راستہ ہے۔

اگرچہ سمنانی ؒ بارہا اس حقیقت کا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا عذابِ دنیوی و اخروی سے بچنے کے لیے ضروری ہے لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقی مؤمن محض عذاب کے خوف سے نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے عملِ خیرکرتا ہے۔ وہ اعمالِ خیر کی بجاآوری محض ان کی فرضیت کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ حقیقی لگن کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔

اگرچہ موت کے بعد تمام اہلِ ایمان کو معرفت ِ خداوندی نصیب ہو گی اور غیر اہلِ ایمان کو بھی اﷲ تعالیٰ کا یقین آ جائے گا لیکن عظیم ترین نعمت انہی کے لیے مخصوص ہے جو موت کے وقت پردہ اٹھ جانے سے پہلے احکامِ الٰہی پر ایمان لاتے ہیں۔ حیاتِ دنیوی میں معرفت ِ خداوندی حاصل کرنے کا بہترین طریقہ راہِ سلوک و تصوف پر گامزن ہونا ہے جسے سمنانی ؒ ایک درخت سے تعبیر فرماتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’ تجاوز ( گناہ) پر توبہ اس کی جڑ ہے، ترک اور تخلیہ اس کی چھال ہیں، توحید کا اقرار اس کا پھل ہے، صبر، صفا اور صدق اس کے پتّے ہیں، ورد ، وقار، ود( محبت) اور وفا اس کے پھول ہیں ، فقر ، فنا، فوز و فلاح اس کی شاخیں ہیں۔ ‘‘

راہِ سلوک کا سفر سالک کے علم کی نوعیت اور دنیا کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ فہم کی سب سے نچلی سطح ’ظن ‘ ہے۔ فہم سے اوپر صحیح علم ہے جو تعلیم و تدریس کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔ اس علم کے بعد’ علم الیقین ‘ کا مرحلہ آتا ہے ۔ اگلا مرحلہ’ عین الیقین‘ کا ہے اور یہ مشاہداتی علم کی طرح ہے۔ عین الیقین کے بعد’ حق الیقین ‘ کا درجہ ہے جس پر اہلِ باطن ہی متمکن ہوتے ہیں ۔ حق الیقین کا حامل صوفی ’عین حق الیقین‘ کی طرف پیش قدمی کرتا ہے جو تجرباتی علم کے مماثل ہے اور اصطلاح تصوف میں ’ذوق ‘ کہلاتا ہے۔

سمنانی ؒ علم کی مختلف اقسام کو انار کے درخت کی مثال سے سمجھاتے ہیں۔ اگر ایک کسان کسی شخص کو سمجھائے گا کہ انار نام کا ایک درخت ہے جس پر انار کا پھل لگتا ہے جس کے اندر موتی جیسے دانے ہیں اور یہ دانے ایک خوبصورت ترتیب سے ہیں اور ان کا ذائقہ شیریں ہے تو اس شخص نے جو کچھ سنا اور سمجھا اس کی بنیاد علمِ صحیح ہے۔ جب وہ شخص انار کے درخت کا سبز ہونا ، پھر اس پر پھول لگنا دیکھتا ہے تو اسے علم الیقین حاصل ہو جاتا ہے۔ جب پھول میں سے انار کے پھل نمودار ہوتے ہیں تو علم الیقین عین الیقین کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے اور وہ اسے درخت سے اتار کر اسے چیرتا ہے اور خود اپنی آنکھوں سے پھل کے اندر دانوں کی ترتیب کو دیکھ لیتا ہے تو عین الیقین حق الیقین میں بدل جاتا ہے۔ آخر کار جب وہ انار کے دانوں کو چکھ لیتا ہے اور اس کا رس اس کے کام و دہن میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے اپنے وجود ِ جسمانی میں جذب ہو کر اس کا حصہ بن جاتا ہے تو اسے عینِ حق الیقین کی منزل نصیب ہو جاتی ہے۔

خیال و ظن اور درسی اور معلوماتی علم فہم و ادراک سے حاصل ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی روحانی ریاضت اور مجاہدے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ دیگرعلم کی دیگر اقسام کا تعلق یقین سے ہے اور راہِ سلوک پر ثابت قدمی اور ذکرِ الٰہی کے علاوہ یہ علوم کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کیے جا سکتے ۔

مبتدی کے لیے شرائط

راہِ سلوک پر عمل پیرا ہونے کے لیے شریعتِ مطہرہ کے جملہ احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہونا بنیادی شرط ہے۔ تاہم اس سلسلے میں بنیادی شرط نیت ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کو اعمال کی ظاہری صورت سے غرض نہیں ہے وہ تو دلوں اور ان میں موجود نیّتوں سے سروکار رکھتا ہے۔ ان شرائط کے مطابق سالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اﷲ کے رسولوں، کتابوں، ملائکہ، اورآخرت اور معادیات سے متعلق حقائق مثلاً میدانِ حشر، صراط، میزان، حساب اور لقاء ِ خداوندی پر ایمان رکھے۔ اس کے بعد وہ ارکانِ اسلام پر سختی سے عمل پیرا ہو اور یقین رکھے کہ ہر ظاہری رکن کا ایک باطن بھی ہے۔ یہ باطنی ارکان نیت، حضور، خلوص، صدق اور صبر ہیں۔ باطنی عبادات کی اہمیت ظاہری عبادات سے بڑھ کر ہے۔ تفسیر نجم القرآن میں سمنانی ؒ فرماتے ہیں۔

’’ باطنی عمل کی جزا ظاہری عمل سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے (سالک کو) چاہیے کہ جسمانی عبادت کی ریاضت سے فراغت پانے کے بعد باطنی ریاضت کرے جو خلوص ِ عمل، سچی نیت، اور دل سے فاسد خیالات کو دُور کرنا ہے۔ ‘‘

حقیقی نماز کا تقاضا یہ ہے کہ اعضا و جوارح کو غیر اﷲ کی طرف التفات سے روکا جائے۔ نفس کو امانتِ الٰہی کی امانتداری پر ثابت قدم رکھا جائے، دل کو اﷲ تعالیٰ کی یاد کے ذریعے پاک و مطہر بنایا جائے، اور اسی طرح سِرّ کی تطہیر کا بھی اہتمام کیا جائے، اور نیابتِ الٰہی کو روح کی صدارت بنایا جائے یہاں تک کہ اس کا رضائے الٰہی میں مکمل انجذاب ہو۔ حقیقی روزہ یہ ہے کہ مصائب و شدائد کے مقابلے میں صبر کیا جائے اور اﷲ تعالیٰ کے ساتھ عہد کی مکمل پاسداری کی جائے۔ اور حقیقی جہاد یہ ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کا مقابلہ کیا جائے اور تمام معاملاتِ زندگی میں راست بازی پر استقامت اپنائی جائے۔ سمنانی ؒ جہاد کے دونوں قسموں پر زور دیتے ہیں۔ جہاد ِ اصغرعالمِ ظاہری میں دینِ حقہ ّ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کا نام ہے اور جہادِ اکبر عالمِ باطنی میں نفس، اس کی خواہشات اور شیطان سے جنگ ہے کیونکہ یہ تینوں عالمِ باطنی کے دشمن ہیں۔

سمنانی ؒ نماز کو ایمان کا اہم ترین ستون سمجھتے ہیں۔ اس کے اندر دیگر عبادات بھی جمع ہیں ، چنانچہ رکوع و سجود کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور انکساری کے علاوہ اس میں اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے، تلاوتِ قرآن ہے اور ایمان کا اظہار و اقرار ہے۔ اس کے ذریعے خشیّت ِ الٰہی اور اﷲ تعالیٰ سے استمداد کا اظہار ہے، نیز ذاتی دعا، تضّر ع و زاری اور نفیٔ ذات کا بھی سامان ہے۔

اگر نماز کے نمازی کے کردار اور عمل پر مثبت اثر ات مرتب نہ ہوں تو یہ نماز ادھوری رہ جانے کی نشانی ہے۔ نماز کی کامیابی کی دس علامتیں یہ ہیں۔

۱۔ جمال الٰہی کا چشمِ باطن سے مشاہدہ۔

۲۔ لطیفۂ الٰہیہ کی خوشبو آنا۔

۳۔ شرحِ صدر۔

۴۔ فرحتِ سرّ۔

۵۔ ظہورِ روح۔

۶۔ وجد و حال ۔

۷۔ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ مناجات۔

۸۔ حضورِ حق سے سلام کا سنائی دینا۔

اگر یہ تجربات نہ بھی ہوں تو سالک کو ملال اور حوصلہ شکنی کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اسے عباداتِ دینی پر مقاومت کرنی چاہیے کیونکہ اس کی منزل یہ روحانی تجربے نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی بندگی اور حکمِ الٰہی کی بجا آوری ہے۔ اگر سالک استقامت کی راہ اپنائے تو وہ انجام کار مندرجہ بالا عظیم باطنی ذوق اور شیرینی سے آشنا ہو جائے گا۔

طریقِ راہ

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ راہِ سلوک کے مبتدی کی تربیت اور رشد و ہدایت کا خاص اہتمام فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ نے سالکین کے لیے دن رات کے اشغالِ روحانی کا نظامِ الاوقات بھی طے کر دیا تھا۔ تخلیے میں اعمال و وظائف بجا لانے کے لیے آپ نے دس شرائط گنوائی ہیں۔

۱۔ راہ ِ سلوک پر گامزن ہونے سے قبل سالک کے لیے ضروری ہے کہ علومِ شرعی میں ضروری سمجھ بوجھ پیدا کرے۔

۲۔ وہ نماز باجماعت ادا کرے۔

۳۔ وہ روزانہ صوفیاء متقدمین کی کتب و احوال کا کچھ دیر مطالعہ کرے۔

۴۔ تخلیے میں وہ خاموشی اور اخفا ء سے عبادات بجا لاتا رہے اور اس حقیقت کو ذہن میں رکھے کہ عبادت کا نو حصّہ خاموشی اور ایک حصہ تخلیہ ہے۔

۵۔ وہ قرآنِ مجید کے کم از کم ایک جزو کی تلاوت کرے اور قرآن کا جو حصہ پڑھے اس کے معانی پر بھی غوروخوض کرے۔

۶۔ وہ ہر وقت اﷲ تعالیٰ کو یاد کرتا رہے اور اس کی یاد سے لمحہ بھر کے لیے بھی غافل نہ ہو۔

۷۔ وہ اپنا زیادہ وقت کلمہ لا الٰہ الاّ اﷲ کے ورد میں صرف کرے تاکہ تسکین و اطمینان نصیب ہو۔

۸۔ وہ نوافل کی بجا آوری کرے کیونکہ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد کے مطابق نفل نمازوں کے بہت سے روحانی فوائد ہیں۔

۹۔ جب وہ تھکن ، اضمحال اور اکتاہٹ کا شکار ہو تو ورد و وظائف کا آغاز نہ کرے۔

۱۰۔ وہ اپنے نظام الاوقات کا ایسا تعین کرے کہ تمام عبادات اور اوراد و وظائف کی باقاعدہ بجا آوری ممکن ہو سکے۔

اس نظام الاوقات کی تفصیل یہ ہے کہ قبل از سحر سنن کی بجاآوری کے بعد فرضِ صبح تک ذکر(اوادِ صبحیہ) کرے۔ صبح کی فرض نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد طلوعِ آفتاب تک ذکر(اورادِ فتحیہ) کرے۔ اس کے بعد سالک چار رکعت نماز ادا کرے اور نمازِ اشراق تک قرآنِ پاک کی تلاوت جاری رکھے۔ نمازِاشراق کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر قیلولہ کرے،پھر جاگ کر وضو کرے اور پھر دو رکعت نماز تحیۃ الوضوء اور دیگر مسنون نمازیں ادا کرے۔ نمازِ ظہر کی باجماعت ادائیگی کے بعد دو رکعت سنت ادا کرے اور قرآن ِ پاک کا ایک پارہ پڑھ کر صوفیائے متقدمین کے احوال و اقوال کا مطالعہ کرے تاکہ ذوق و شوق میں اضافہ ہو۔ نمازِ عصر کا وقت آئے تو باجماعت فرض نماز کی ادائیگی سے قبل چار رکعت سنت ادا کرے۔ سہ پہر کا باقی وقت ذکر میں گزارے یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو جائے ۔ نمازِمغرب کی باجماعت ادائیگی کے بعد سنتیں پڑھے اور پھر دو رکعت نفل ادا کرے۔ نمازِ مغرب میں پڑھی جانے والی مخصوص سورتوں کے متعلق سمنانی ؒ نے تفصیلی بحث فرمائی ہے۔ نماز سے فراغت کے بعد عشاء کی نماز تک ذکر کرے ۔ عشاء کی فرض نماز سے قبل چار رکعت اور بعد میں چھ رکعت نوافل بجا لائے۔ نمازوں سے فراغت کے بعد سالک رات کا تیسرا حصہ یا زیادہ سے زیادہ نصف حصہ سوئے اور پھر بیدار ہو کر اگلے دن کی عملیات اسی ترتیب سے بجا لائے۔

راہِ سلوک پر قدم رکھنے کے بعد سالک کے سفر کو احوال و مقامات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مقامات درجہ بدرجہ حاصل ہوتے ہیں اور ایک خاص ترتیب کے پابند ہیں جبکہ احوال کی نوعیت عارضی ہے اور ان میں خاص تسلسل اور ارتقاء کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔

سمنانی ؒ نے ان احوال و مقامات کے تین درجے لکھے ہیں۔ سب سے پہلا درجہ ’ مبتدی‘ کا ہے۔ اگلا اور درمیانہ درجہ ’متوسط‘ کا ہے اور آخری تکمیلی درجہ ’منتہی‘ کا ہے ۔ سمنانی ؒ اس درجہ بندی کی بنیاد اس آیتِ قرآنی کو بناتے ہیں۔ فَمِنْھُمْ ظَالِم’‘ لِّنَفْسِہٖ ج وَ مِنْھُمْ مُّقْتَصِد’‘ج وَ مِنْھُمْ سَابِق’‘ بِالخَیْرَاتِ بِاذْنِ اﷲِ ط (۳۳:۳۲)

ہر مقام کے نو احوال ہیں جن میں سے دو آغاز میں، دو وسط میں اور دو آخر میں پیش آتے ہیں۔ اور چونکہ مقامات کی تعداد ایک سو ہے اس لیے احوال کی کل تعداد نو سو ہے۔ ہر مقام کے نو احوال کا قطب پانچواں حال ہے کیونکہ اس حال سے پیشتر کے احوال پچھلے مقام کے ساتھ اور اس سے بعد کے احوال اگلے مقام کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ سو مقامات میں سے ہر ایک میں مبتدی کا درجہ ایمان سے پیوستہ ہوتا ہے، متوسط کا صبر سے ، اور منتہی کا تقویٰ سے۔ قطب یا واصل کا درجہ احسان و کرم سے پیوستہ ہوتا ہے۔

اگرچہ راہِ سلوک کے تینوں مدارج میں سالک مختلف روحانی احوال اور تجربات سے گزرتا ہے ، باطنی تعلیم و تربیت کے ضمن میں سمنانی ؒ کی توجہ کا خصوصی مرکز مبتدی ہے۔ آپ نے مبتدی کو اس راستے کے آداب و اطوار سے آشنا کرنے کے لیے مفصل ہدایات تحریر فرمائیں اور انہیں علائقِ دنیوی کے ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ مبتدی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ سمنانی ؒ کی صوفیانہ تحریروں کا بنیادی خاصہ ہے۔ ’ فرحت العاملین ‘ میں فرماتے ہیں۔

’’ علمِ سرمدی کا خزانہ خانقاہوں کے گرد آلود گوشوں میں تلاش کرو۔ یقین رکھو کہ یہ خزانہ انہی گوشوں کی امانت ہے۔ ان کی ظاہری تاریکی اور تکدّر پر نہ جاؤ کیونکہ یہ محض اس خزانے کو چھپانے کی خاطر ایک طلسم ہے تاکہ ہر کس و ناکس کی اس تک رسائی نہ ہو۔ لوگ جب اس ظاہری حالت کو دیکھتے ہیں تو اس سے متنفّر ہو جاتے ہیں اور اس طرح یہ خزانہ بیگانے ہاتھوں میں جانے سے بچ جاتاہے۔ لیکن تُو اسے سالکِ راہ، جو ان خزانوں کا متلاشی ہے اپنا رخ درگاہِ محمدیؐ کی طرف پھیر لے اور اس خزانے کی کنجی کو حاصل کرلے جو کہ کلمہ لا الٰہ الاّ اﷲ محمّدًا الرّسول اﷲ ہے، اوراگر خزانے کو اس کنجی سے کھولنے کا راز مرشدین سے حاصل کرے تو اس کا کھولنا تیرے لیے آسان ہو جائے گا۔ اور جب تُو اس خزانہ کو پالے تو مغرور نہ ہونا کیونکہ یہ آخری منزل نہیں ہے۔‘‘٭