آپ کا نام سر کنیت ابو الحسن بعض کے نزدیک ابو الحسین اور والد کا نام مخلش تھا ۔چونکہ آپ کباڑی کا کام کر تے تھے اس لئے بغداد بھر میں آپ سقطی یعنی کباڑ فروش کے نام سے مشہور ہو گیا۔کباڑی کے ذریعے رزق حلال کما نے کے ساتھ آپ شیخ الوقت حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت تھے نیز آپ حضرت امام علی رضاء اور امام محمد نقی علیہ السلام سے بھی فیضاب ہو تے تھے ۔اس طرح ہمعصر مشہور عارف حضر ت حبیب راعی ،ابوا لفتح ،علی الموصلی ،بشیر حافی اور ذو النون مصری سے بھی فیض کیا کر تے تھے ،
اسا تذہ ۔ آپ کے حالات اور تعلیمات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اچھی تعلیم پا ئی تھی ۔چونکہ آپ کا دور بنی عباس کا سنہری دور رہے اس زمانے میں بغداد علم و فن کا گڑھ بنا ہو اتھا زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے دنیا کے کو نے کے کو نے سے بغداد آتے تھے اور اپنے اپنے علم و فن اور مہارت کا مظاہرہ کیا کرتے تھے علماء وفضلا کی کثرت حکمرانوں اور امراء کی علم پروری نے بغداد کو رعروس البلاد بنا دیا تھا گلی گلی کو چے کو چے ،میں علم وفن کا چر چا تھا ۔اس علم ماحول میں حضرت سری سقطی نے بھی مروجہ علوم حاصل کیا تاہم یہ حقیقت ہے کہ تاریخ وتذکرہ ی کی کتابوں میں حضرت معروف کر خی کے سوا کسی اور استاد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور حضرت معروف کرخی آپ کے روحانی استاد ،مرشد اور شیخ طریقت تھے ۔
مریدین ۔ آپ جس پائے کے شیخ طریقت تھے اس لحاظ سے آپ کے مرید بھی کثیر تعداد میں تھے جنہیں آپ کی روحانیت کی تعلیم اور مریدین تصوف راہ سلوک کی تربیت دیتے تھے تاہم آپ کے مریدین میں سے درج ذیل ہے ۱۔حضرت ابوالحسن نوری ،۲۔حضرت ابو الحسن محمد بن اسما عیل خیر النساج ،۳۔حضرت امام احمد بن حنبل اور ،۴۔حضرت ابو سعید بن الحزار ۔
کلمتہ الثناء ۔ مختلف بزرگوں نے آپ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کیا ہے ذیل میں بعض مناقب پیش کئے جا تے ہیں ۔
عطار نیشا پوری ۔ شیخ وقت حضرت سری سقطی اہل تصوف اور اہل شوق کے امام تھے رموز و اشارات میں عجو بہ روزگار تھے ۔
میر سید محمد نوربخش ؒ ۔
دگر شیخ صوری وسیخ عش سری است
کہ در شہر معنی ورا سروری است
عبد الرحمن جامی۔ زہد وتقوی ،بندگی خوف ،خضوع ،خشوع میں آپ انتہائی درجہ رکھتے تھے معاصرین میں کو ئی بھی آپ کے برابر مقام نہ رکھتا تھا ۔
قاضی محمدجان قدسی ۔
نسبت او باسری سقطی ۔عارف حق متیب لا یخطی
نور اللہ شوستری ۔آپ جنید بغدا دی کے ماموں اور استاد اور تمام اولیا ء بغداد کے استاد ہے اور معروف کرخی کے شاگرد رشید ہیں ۔
معصوم علی شیرازی ۔آپ طبقہ اول کی آخری شخصیت ہیں جن سے طبقہ ثانیہ کے مشائخ وابستہ ہیں آپ کو امام اہل تصوف بھی کہتے ہیں ،مراتب وعلم عمل،خلق ایثار اور شفقت خزینہ حق ہیں ۔
میر ولی الدین۔ابو الحسن سری ابن المفلس السقطی امام اہل تصوف ابو الحسن بن مفلس اسقطی امام تصوف و در اصناف علم بکمال بودہ یگا نہ روزگار خود تھے ۔انصاف علم میں کامل یگا نہ روز گا رتھے ۔
شفیع الدین قادری ۔
خواجہ سری سقطی پیر ما اعتقاد مایہ تخمیر ۔فیضاب از نعمت معروف بوددر متناہی وصف با موصوف بود
رحمت حق باد بر خدا م او ۔در فرد الحلی آرام او
رشید احمدارشد ۔سری سقطی اور جنید بغدادی تمام اہل بغداد کے استاد ہیں ،پرہیز گاری اور علم توحید مین یکتا زمانہ تھے بغداد کے اکثر پیران کی طریقت کی نسبت آپ تک پہنچتی ہے ۔
ضیا ء الحسن فاروقی ۔حضرت سری سقطی ایک بڑے عالم تھے اور تصوف میںبڑی عظمت والے تھے مشائخ عراق میں بیشتر ان کے مرید تھے۔
تصوف کی جانب رجوع ۔انسان خطا کا پتلا اور نفس و شیطان کا غلام ہے بعض اوقات ایسے واقعات وقوع پذیر ہو تے ہیں جن سے پا کیزہ باطن والے متنبہ ہوجا تے ہیں اور اپنی کو تاہیوں اور لغزشوں اور خامیوں کو دور کر نے میں لگ جا تے ہیں جبکہ بد باطن اور بد قسمت لوگ پھر بھی خواب غفلت سے بیدار نہیں ہو تے ۔حضرت سر ی سقطی کباڑی کا کاروبار کر تے تھے ایک دفعہ بغداد کے اس بازار میں آگ لگ گئی جس میں آپ کی دکان تھی آگ کی شدت اس قدر تھی کہ سارا بازار جل کر خاکستر ہو گیا جب آگ بجھ گئی لوگ بازار دیکھنے گئے تو دیکھا کہ آپ کا دکان صحیح وسلامت تھے ۔خالق حقیقی کا یہ جلوہ دکھ کر لوگ حیران ہو گئے۔اور آپ نے فورا سارا سامان،درویشوں کو دء کر راہ تصوف اختیا ر فرما لیا ۔
ریاضت۔کسی بھی کام کے لئے عزم وارادے کے بعد ریاضت نہا یت ضروی ہے جس کے بغیر کامیا نی ممکن ہی نہیں ہے میر سید محمد نوربخش فرما تے ہیں ۔
اگر باب ریاضت بر آوری غسلی
تمام کدورت دل را صفا توانی کرد
’’یعنی اگر دل کی صفائی (تصفیہ قلب)چاہتے ہو تو اسے ریاضت کیپا نی سے دھوناچاہیے ریاضت کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔‘‘حضرت سری سقطی بھی بہت ریاضت کرتے تھے حضرت جنید بغدادی کابیان ہے کہ آپ ریاضت و مجاہدہ میں بہت مبا لغہ کر تے تھے ان کے برابر کسی کو ریاضت میںکا مل نہیںدیکھا ۔آپ نے ۹۸ سال تک زمین پر پہلو نہیں رکھا مر ض الموت میں ایک دفعہ فرمایا کہ میرا نفس چالیس سال سے شہد کھا نے کے لئے مانگ رہا ہے مگر میں نے اس کو نہیں دیا نہیں ۔آپ نے دکان پر پر دہ لٹکا رکھا تھا اور اس کے پیچھے روزانہ ایک ہزار رکعت نفل نماز پڑھا کر تے تھے ۔
کرامات ۔ریاضت کر نے سے آدمی تزکیہ نفس تصفیہ نفس قلب اور تجسم روح کا حامل بن جا تا ہے گوناگوں ریاضت ومجاہدے آدمی کو کندن بنا دیتے ہیں ان ریاضیات میںنفلی نماز ،زہد وتقویٰ ،مرقبہ،خلوت نشینی ،اور اوراد وظائف سیاحت عالم،زیارت اہل اللہ شفقت علی خلق اللہ ،وعظ وہدا یت وغیرہ شامل ہیں ان ریاضیات سے آدمی میں خاص قسم کی لذت روحانی پیدا ہو تی ہے۔جنید بغدادی سے روایات ہے کہ ایک بار ہمارے استاد سری سقطی بیما رپڑ گئے ہمیں اس کا کو ئی سبب معلوم نہ ہو سکا اور نہ یہ جان سکے کہ کونسی دوا دی جا ئے لوگوں نے ایک طیب حاذق کا پتہ بتا یا ہم اپنے استاد کا قارورہ لیکران کے پاس گئے انہوں نے تھوڑی دیر غور سے دیکھا اور مجھ سے کہا کہ میراخیال ہے کہ یہ کسی عاشق کا قارورہ ہے حضرت جنید نے کہا کہ یہ سن کر میں نے چیخ ماری قارورہ میر ے ہاتھ سے گر گیا اور میں بے ہوش ہو گیا جب ہوش میںآیا اور سری کے پا س آکر واقعہ سنا یا وہ مسکرائے اور طیب کی مہارت کی تعریف کی بعد میں طیب کو بتلا یا کہ وہ سری سقطی کا قارورہ ہے تو طیب یہ دیکھ کر مشرف با اسلام ہو ا،ابو عبد اللہ جلاء کا بیان ہے کہ میں ایک دن سری کے گھر میں تھا جب کچھ رات گزری تو سری نے کپڑے تبدیل کئے میں نے پو چھا کہ اس وقت کہاں کا ارادہ ہے فرمایا میں فتح موصل کی عیادت کو جا رہا ہوں چنانچہ آپ چلے گئے لیکن کو توال نے آپ کو گرفتا ر کر کے زنداں میں قید کر دیا صبح حاکم نے قیدیوں کو مارنے پیٹنے کاحکم دیا آپ کو مارناچاہتا تھا مگر ہاتھ ہلا نہ سکے حاکم نے پو چھا کہ تم کیوں نہیں مارتے اس نے کہا کہ میرے سامنے ایک آدمی آیا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ خبردار اس کو مت مارو اس کے یہ کہنے سے میرا ہاتھ بے جان ہو جا تا ہے انہوں نے دیکھا کہ تو فتح موصلی وہاں کھڑا تھا چنانچہ آپ کو چھوڑ دیا ۔
اجابت دعوات میں بے مثال تھے علی بن عبد الحمید ۶۰ سال تک ریاضت میں کھڑے رہے کسی نے ان سے کہا کہ یہ آپ نے کس سے سیکھا ہے کہنے لگے کہ انہوں نے سری سے سیکھا ہے ایک بار میں ان کے گھر گیا دروازہ کھٹکھایا ۔پوچھا کون ہے جواب ملا ایک آشنا ہوں جو اب ملا اگر ایک آشنا ہو تو آشنا کے ساتھ مشغول ہو تا ہمارے پا س کیوں آیا پھر دعا کی کہ اے اللہ اسے تیرے خیال میں مشغول رکھ اور کسی کی اسے پروانہ ہو نے دے اس دعا کا اثر ہے کہ میرے دل میں کو ئی چیزآئی اور اس کا انجام اس حد تک پہنچا ہے جو تو دیکھ رہا ہے ۔حضرت سری سقطی کی ہمیشرہ نے آپ کی گھر کی صفائی کر نا چاہی مگر آپ نے انہیں اجازت نہ دی ایک دن آپ کی ہمیشرہ نے دیکھا کہ کو ئی بوڑھی عورت آکے گھر کی صفائی کر رہی ہے ہمیشرہ نے کہا کہ بھا ئی جان آپ نے مجھے صفائی کر نے کو کیوں نہ کہا تھا اور آپ نے ایک غیر محرم کو بلا کر صفا ئی کروائی۔آپ نے کہا کہ اے میری ہمیشرہ دل کو قابو میںرکھ،غم کی کو ئی بات نہیں ہے یہ بوڑھی عورت دنیا ہے جو ہمارے عشق میں جل گئی تھی اور ہم سے محروم تھی آپ اللہ تعالی کی طرف سے اسے صفا ئی کر نے کی اجازت مل گئی ۔
ایک دفعہ آپ کی مجلس گرم تھی اتنے میںخلیفہ وقت کا ایک مصاحب احمد نامی شخص بڑی شان و شوکت کے ساتھ ادھر سے گزرا آپ اس وقت یہ فرما رہے تھے کہ تمام کا ئنات میں انسان سے زیادہ ضیعف و کمزور کو ئی شے نہیں اس سے بڑھ کر کو ئی گنہگار نہیں ‘یہ بات تیر کی طرح احمد مصاحب کے جان و جگر پر لگی او رروتا ہو اگھر چلا گیا دوسرے دن پھرآیا مگر وہ شان وشوکت نی تھی تیسرے دن درویشوں کا لباس پہن کر آیا اور کہا کہ آپ کی بات نے میرے دل پر نشتر کا کام کیا اور محبت دنیا کو سرد کر دیا ہے میں خدا کی طرف جا نا چاہتاہوں آپ نے فرمایا کہ دوراستے ہیں ایک عام اور دوسرا خاص ۔احمد نے کہا کہ دونوں راست بیان کریں آپ نے فرما یا کہ عام راہ شریعت کی ہے شریعت حقہ کی پا بندی کرو اورخاص راہ طریقت کی پا بندی کی ہے پا بندی شریعت کے علاوہ دنیا کو بھی ترک کر ددو یہ دونوں سن کر وہ مصاحب جنگل میں چلا گیا تھوڑے دنوں بعد ایک بوڑھی عورت نہا یت غمزدہ آپ کے پا س آئی ۔اور کہا کہ میرا جوان بیٹا کچھ دنوں سے غائب ہے آپ نے فرمایا غم نہ کر سوائے خیر کے اور کچھ نہیں جب وہ آئیگا تو میں تم کو اطلاع دوں گا کچھ عرصہ بعد احمد درویشانہ حالت میں آپ کے پاس آیا آپ نے اس کی والدہ کو اطلاع دی تھوڑے عر صہ بعد اس کی والدہ ،بیوی بچہ،آگئے احمد نے کہا کہ یا شیخ آپ نے ان کو اطلا ع کیوں دی ہے فرمایا میں وعدہ کر چکا تھا ماں نے ہر چند اس کو گھر لے جا نا چاہا مگر نہ گئے اور ان کو روتا ہو اجنگل کی طرف نکل گیا چند سال کے بعد عشا کی نما زکے وقت ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھ کو احمد نے بھیجا ہے آپ گئے اور دیکھا کہ احمد کا اخیر وقت ہے احمد نے آنکھ کھو ل کر دیکھا اور کہا یا شیخ آپ وقت پر آئے پھر انتقال کر گیا آپ روتے ہو ئے جنگل کی طرف نکل گئے تا کہ کفن دفن کا سامان کریں شہر میں آوازآئی کہ جو شخص خدا کے خاص ولی کی نما زجنازہ پڑھنا چاہے وہ قبرستان شو نیز یہ کی طر ف جا ئے۔
اتفاقات روزگار ۔انسان سے بعض اوقات ایسے کام سرزد ہو جا تے ہیں جو بہت سے پا ک باطن اور نیک فطرت لوگوں کے لئے مشعل راہ اور مینارہ نور بن جا تے ہیں ذیل میں حضرت سری سقطی کے بعض واقعات پیش کئے جا تے ہیں ۔
تلقین صبر اور آپ کا عمل ۔آپ سے صبر کے بارے میں ایک مسئلہ دریا فت کیا گیا تو آپ بیان کر نے لگے اتنے میں ایک بچھو آپ کو ڈنگمارنے لگا ۔مگر آپ نے اپنا پاوں نہ ہٹایا اور نہ ہی بچھو کو وہاں سے ہٹایا دیا جب آپ تلقین سے فارغ ہو ئے تب بچھو کو ہٹا دیا۔ حاضرین نے پوچھا کہ اسے ہٹایا کیوں نیں ؟ ٖفرمایا مجھے اللہ سے شرم آئی ہے کہ میں صبر کی تلقین کروں اور اس کی کیفیت کے بارے میں کلام کروں اور عملا اس کی مخا لفت کروں۔
کاروبار ی دیا نتداری ۔آپ کباڑی کا کاروبا ر کر تے تھے اور پانچ فیصد سے زائد منافع نہ لیتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بغداد میںبادام کے نرخ چڑھ گئے آپ کے پاس کا فی مقدارمیں بادام کا ذخیرہ موجو د تھا جسے آپ نے دینار کے بھاو خرید لیا تھا ایک دلال(آڑھتی)آپ کے پاس آیا اور نرخ پوچھا آنے ۸۳ دینار بھاو بتا یا تو دلال نے کہا کہ آج کل بازارمیں بھا و ۹۰ دینار ہے آپ نے فرمایا کہ میں اپنے عہد پر قائم ہوں میں اپنا عہدنہیں توڑ سکتا چنانچہ سودا نہیں ہو سکتا ۔
وفاداری ۔آپ دوستوں کے ساتھ نہایت وفادار ی کا برتاو کر تے تھے آپ کا یک ساتھی گم ہو گیا آپ تیس سال تک اسے تلاش کرتے رہے مگر کو ئی سراغ نہ ملا پھر بھی آپ کو اطلا ع ملی کہ وہ ایران سیستان نامی صوبے میں ہے توآپ بغداد سے طویل سفر طے کر کے وہاں پہنچے اور اس کو تلاش کر کے واپس لوٹے ۔
بچے کی دلجو ئی ۔ایک دفعہ آپ معروف کرخی کے پاس گئے وہ اخروٹ چن رہے تھے آپ نے پوچھا یہ آپ کیا کر رہے ہیں فرمایا آج ایک یتیم بچے سے ملا ہوں عید کا دن ہے باقی بچے خوشیاں منار ہے ہیں جبکہ وہ وہ بچہ ان خوشیوں سے محروم ہے میں یہ اخروٹ بازار لے جا کر فروخت کروںگا اور اس سے کپڑے خرید کر اسے پہناوں گا ۔آپ نے فرمایا یہ کام میں کروں گا چنانچہ آپ بچے کو اپنے ساتھ لے گئے عمدہ لباس پہنایا بچہ بہت خوش ہوا یہ دیکھ کر حضرت معروف کرخی نے آپ کے حق میں دعا خیر کی ۔آپ فرما تے ہیں کہ اس دن سے میرے دل میں ایک نور پیدا ہو گیا اور میرا حال اسی دن سے بد ل گیا ۔
اقوال زریںاور تعلیمات ۔
قدر نعمت ۔جو شخص نعمت کی قدر نہیں جانتا اس سے نعمت اس طرح سلب کر لی جا تی ہے کہ اس کو خبر بھی نہیں ہو تی ‘‘
دین کی حفاظت۔جو شخص اپنے دین کو بچانا اور دل و جسم کو آرام پہنچانا چاہے اور فکر وغم کو کم کرنے کی آرزو من ہو چاہے کہ لوگوں سے دور رہے کیو نکہ اب زمانہ عزلت و تنہا ئی کا ہے ‘‘
دل۔جس دل میں کو ئی اور شے (الفت ومحبت خیال تصور )موجود ہو تو درج ذیل پانچ چیزیں داخل نہیں ہو تیں۔۱۔خوف،۲۔رجا،۳۔انس،۴۔محبت ،۵۔حیفا ء الہی
عاقل دانا ۔سب سے عقلمند وہ ہے جو قرآن کے اسرار کو سمجھتا ہواور ان میں سوچ و بچا ر کرتا رہتا ہو::
محبت حق ۔محبت بندے کو ایسا کر دیتی ہے کہ شمشیر و سنان کی اذیت بھی اسے محسوس نہیں ہو تی ۔
جوانوں کے لئے پیغام ۔اے جوانو!جوانی میں کام کر لوبیشتر اس کے کہ بڑھاپا آجا ئے اور تم ضیف ہو جاو ۔
تین چیزوں سے اجتناب ۔تین چیزوں سے دور رہنا چاہے (۱)مالدار پڑوسی سے ،(۲)بے عمل قاری سے ،(۳)امراء پسند عالم سے ۔
فالتو چیزیں ۔ان پانچ چیزوں کے سوا سب میرے لئے غیرضروری ہے(۱)جان بچانے کے لئے روٹی(۲)پیا س بجھا نے کے لئے پا نی(۳)گرمی / سردی سے بچنے کے لئے کپڑے(۴)سر چھپا نے کیلئے گھر(۵)اتنا علم جس پر میں عمل کر سکوں
وفات ۔نزع کی حالت تھی اور حضرت جنید بغدادی آپ کیلئے دستی پنکھا جھل رہے تھیآپ نے آنکھ کھو لی اور فرمایا اس شخص کو پنکھے سے کیا راحت ملے جس کے سینے میںساس کا کلیجہ پھنک رہا ہو اے فرزند!تم پنکھاجھل رہے ہو میرے کلیجے میں آگ لگی ہو ئی ہے ۔آپ کی بیماری کی تشخیص نہیں ہو پا رہی تھی پر طرح کے علاج و معالجے سے کو ئی افاقہ نہیںہو ا اسی دوران کسی نے طیب حاذق یہودی کے بارے میں بتایا چناچہ آپ کے پیشاب (قارورہ)کا نمو نہ ان کو دکھایا گیا انہوں نے دیکھ کر بتا یا کہ یہ کسی عاشق کا قارورہ ہے جب بتا یا گیا کہ حضرت سری سقطی کا ہے تو وہ مسلمان ہو گیا اور بتا یا کہ اس کا کو ئی علاج نہیں سوا وصال مولا کے۔آخر ۳ رمضان المبارک ۲۵۳ء کو آپ وفات پا ئی اور یہ عباسی خلیفہ معز بااللہ کی خلافت کا زمانہ تھا بغداد میںآپ قبرستان شو نیزیہ میں دفن ہوئے جہاں اب بھی معروف کرخی ،سری سقطی،اور جنید بغدادی کے مزار مر جع خلائق ہیں ۔۔

نوائے صوفیہ شمارہ نمبر 1 ماہ ستمبر ۱۹۹۴ ء احوال شیخ سر ی سقطی رحمتہ اللہ علیہ ۔
تحریر :غلام حسن نوربخشی