تعارف

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ ذوالحج ۶۵۹ ھ بمطابق نومبر ۱۲۶۱ ء میں پیدا ہوئے اور ۲۲ رجب ۷۳۶ ھ بمطابق مارچ ۱۳۳۶ ء میں وفات پائی۔ آپ کا مبارک زمانہ وہ تھا جب منگول الخانید ایران اور عراق پر قابض تھے، جن کا دورِ حکومت تیرھویں صدی عیسوی کے وسط سے چودھویں صدی تک کی مدت کو محیط ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں نوآبادیاتی استعمار سے قبل یہ پہلا موقع تھا کہ یہ وسط ایشیائی اسلامی علاقے کسی غیر مسلم حکومت کے زیر تسلط آئے۔ عراق او رایران کو تاراج کرنے کے عمل میں منگولوں نے نہ صرف ان علاقوں کے مذہبی اور انتظامی تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا بلکہ مرکزِ خلافت ،بلاد العروس بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی جو اس دور میں اسلامی تہذیب و تمدن کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ خلیفۃ المسلمین کو اقتدار سے محروم کرنے کے بعد منگولوں نے ان علاقوںمیں غیر مذہبی طرزِ فکر رکھنے والی اشرافیہ کو انتظامی امور سونپے جن میں مشہور ترین جوینی خاندان تھا۔ لیکن جوینی خاندان کے ساتھ ساتھ تاریخ میں ایک سمنانی خاندان کا ذکر بھی بار بار آتا ہے۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ اسی مقتدر خاندان کے چشم و چراغ تھے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی ابتدائی زندگی ایک درباری کی حییثت سے بڑی عیش و عشرت میں بسر ہوئی۔ لیکن بعدازاں آپ نے دنیوی جاہ و حشم اور راحت و آسائش کو لات مار کر زہد و تقویٰ اور تصوّف و سلوک کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور یہ اسلامی تاریخ کا ایک ا ہم واقعہ ہے۔ اگرچہ آپ سے قبل حضرت شیخ ابراہیم بن ادھم ؒ نے بھی بادشاہت ترک کر کے فقرو درویشی کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن اُن کے واقعات صفحاتِ تاریخ میں محفوظ نہ ہو سکے ، جبکہ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی مبارک زندگی کے حالات اور آپ کی تعلیمات آج بھی محفوظ ہیں۔

اگرچہ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ ایک بڑے عالمِ دین ، فقیہ اور شاعر بھی تھے مگر آپ کی اصل وجہِ شہرت آپ کے عظیم صوفیانہ افکار ہیں۔ آپ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ (م ۶۱۸ھ/۱۲۲۱ھ) اور اس عہد کے مشہور بزرگ حضرت مجددالدین بغدادی ؒکے روحانی تجربات اور طریقۂ ذکر سے بے حد متاثر تھے۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے ان عظیم بزرگوں کے احوال کو انوار و لطائف غیبی کے ایک پیچیدہ علامتی نظام کی شکل میں بیان فرمایا۔ اس کی اہم خصوصیات میں درجات و مراتب کا ایک مربوط نظام، عالم طبیعی و روحانی کے درمیان ایک رابطے اور تعلق کا تعین اور ان دو دنیاؤں کے اختلاف و توافق کا انکشاف شامل ہیں۔

ظہورِ ذاتِ حق اور تخلیق ِ کائنات کے باہمی رشتے کے تعلق کی وضاحت کے لیے آپ نے عقیدۂ وحدت الوجود سے ہٹ کر ایک مسلک اختیار کیا، جس میں موجودات و مخلوقات کو ذاتِ الٰہی کا جزو سمجھنے کے بجائے تجلیاتِ الٰہی کے درجہ بدرجہ اظہار کا ایسا تصوّر موجود ہے جو مادی کائنات کی تخلیق پر منتج ہوتا ہے۔ حضرت شیخ محی الدین عربی ؒ کے عقیدۂ وحدت الوجود کے مقابل یہ ایک مستقل اور جداگانہ اہمیت کا حامل عقیدہ ہے جس کا اظہار حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒنے ابنِ عربی ؒ کے مرید عبدالرّزاق الکاشانی ( م ۷۳۶ھ/۱۲۴۰ء) کے نام خطوط میں کیا ہے ۔ تین سو سال بعد سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم صوفی حضرت شیخ احمد سرہندی ؒ نے ہندوستان میں ابن عربی کے عقیدۂ وحدت الوجود کے اثرات کو کم کرنے کے لیے وحدت الشہود کا نظریہ پیش کیا ۔ یہ عقیدہ جس نے نقشبندی سلسلے کے علاوہ دیگر سلاسل ِ تصوف کے نظامِ فکر کو متاثر کیا، دراصل حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے افکارِ عالیہ سے ہی ماخوذ ہے اور خدا اور کائنات کے باہمی رشتے کو بیان کرنے کے باب میں اس نے بڑی حد تک عقیدہ ٔ وحدت الوجود کی جگہ لے لی ہے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ ایک کثیر التصانیف بزرگ تھے اور عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں آپ کی تصانیف کی بڑی تعداد موجود ہے۔ آپ کی تصانیف کی مجموعی تعداد ۱۰۴ ہے اور ان تصانیف میں ۱۵۴ موضوعات ضبطِ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ آپ کے خطوط و مراسلات کے علاوہ ۷۹ تصانیف ہم تک پہنچی ہیں۔ ان تصانیف میں بعض مختصر ہیں اور بعض صوفیانہ اصطلاحات اور تصورات کی تشریح و توضیح پر مشتمل ہیں جبکہ اکثر مبسوط تحریریں ہیں جن میں قرآن ِ مجید کی وہ اہم تفسیر بھی شامل ہے جو تصوف و عرفان کا بیش بہا خزانہ ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا مجموعۂ غزلیات ا ور بعض دیگر صوفیانہ تصانیف بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ کی اس علمی زندگی کا آغاز حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ سے ملاقات کے بعد ہوا جنہوں نے آپ کو سلسلۂ کبرویہ سے متعارف کرایا اور بعد ازاں خرقۂ تصوف اور سندِ ارشاد بھی عطا فرمائی۔

آپ کی تصانیف کے موضوعات متنوع ہیں لیکن ان میں سے اکثر آپ کے اپنے مریدین اور صوفیائے متاخرین کے رشد و ہدایت سے متعلق ہیں۔ یہ ہدایات نظری بھی ہیں اور عملی بھی اور صوفیانہ، فلسفیانہ افکار اور شرع و دین سے متعلق امور پر مشتمل ہیں۔ آپ کی تصانیف میں خدا اور کائنات کے باہمی تعلق، انسان کے وجودِ روحانی کی ماہیت اور افعال، اربابِ تصوف کے درجات و مراتب، اور احوال و مقامات ِ باطنی کا تفصیلی بیان موجود ہے۔ ان تشریحات و توضیحات کے باب میں آپ نے جا بجا صوفیائے متقدمین کے افکار و ارشادات کا بھی حوالہ نقل کیا ہے اور ان کے ساتھ اپنے اتفاق یا اختلاف کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔ یہی نہیں بلکہ آپ کی تصانیف میں اذکار و و ظائف کے مخصوص طریقوں، اور عبادات و معاملات کے امور جیسے خاندان، جائیداد اور ریاست کے متعلقات کے بارے میں احکامات ، رسوماتِ دینی اور روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات مثلاً دسترخوان کے آداب وغیرہ پر بھی تفصیلی بحث موجود ہے۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے اپنی سوانحِ عمری میں ذاتی تجربات کی روشنی میں مذکورہ امور پر بحث فرمائی ہے۔

آپ کی موجودہ تصانیف میں آپ کے فکر کا عظیم ترین مرقع تفسیر نجم القرآن ہے۔ اس عظیم تصنیف میں جو سورۂ فاتحہ اور سورہ ۵۲ تا ۱۱۴ تک کی تفسیر پر مشتمل ہے اور جو بلحاظِ ضخامت قرآن مجید کا تقریباً چھٹا حصہ ہے، آپ نے اپنے عرفانی خیالات کا نچوڑ پیش کیا ہے ۔ چنانچہ تفسیر نجم القرآن کو آپ کی نمائندہ تصنیف اور آپ کے مسلکِ تصوف کا خلاصہ قرار دیا جا سکتاہے ۔

تاسّف کا مقام ہے کہ بالعموم اسلامی تصوف اور بالخصوص سلسلۂ کبرویہ میں آپ کے افکارِ عالیہ کی اس اہمیت کے باوجود قدیم و جدید تذکرہ نگاروں اور محققین نے آپ کی حیات و افکار پربہت کم توجہ دی ہے۔ اس عدم توجہی کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کا عہدِ مبارک منگولوں کے حملے اور تیموری دورِ اقتدار کی درمیانی مدت کو محیط تھا جس کے متعلق بیشتر حقائق گوشۂ اخفا میں ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قدیم اسلامی محققین نے آپ کو منگولوں کے دربار سے تعلق کی بنیاد پر نظر انداز کیا ہو۔ تاہم جدید محققین میں سے بعض نے آپ کی تعلیمات کی طرف خصوصی توجہ بھی دی ہے جن میں ایچ۔ کاربِن،ایچ۔ کارٹ،ن۔ م ہروی، ایچ۔ لینڈولٹ، ایم۔مول، عبدالرفیع حقیقت ، اور س۔ م صدر جیسے علمائے مشرق و مغرب کے نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں ماضی قریب میں آپ کی بعض اہم تصانیف نقد و نظر کے ساتھ زیورِ طبع سے بھی آراستہ ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود آپ کی حیات اور افکار کا ایک جامع تذکرہ منظرِ عام پر آنا ضروری تھا اور زیر ِ نظر تالیف اسی ضرورت کی تکمیل کی ایک کوشش ہے۔ آپ کی حیات اور افکار کو مختصر، مربوط اور عام فہم انداز میں پیش کرنے کی خاطر میں نے سوانحی تفصیلات کے بیان میں بہت سے تاریخی اور سماجی حوالوں سے صرفِ نظر کیا ہے۔ تاہم بعض ایسی صوفیانہ اصطلاحات کی وضاحت ضرور کی ہے جن کے بغیر آپ کے افکار کو کماحقہ‘ سمجھنا ممکن نہ تھا۔

یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصّہ ٔ اوّل میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی حیات ِ مبارکہ اور حصّہ ٔ دوم میں آپ کے افکا ر و تعلیمات کا تذکرہ ہے۔

کتاب کے دوسرے اور تیسرے باب میں میں نے دستیاب ماخذ کی روشنی میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی حیات اور تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا ہے ۔ اس سلسلے میں اسلامی تاریخ و تذکرہ کی کتابوں کے علاوہ شیخ کی اپنی تحریروں اور متفرق مذہبی کتابوں سے بھی مدد لی گئی ہے اور آپ کی سیرت کا ایک جامع اور مستند مرقع تیار کیا ہے۔

اگلے چار ابواب میں شیخ ؒ کی تصانیف کا محاکمہ کیا گیا ہے۔ چوتھے باب میں آپ کے صوفیانہ افکار کا مربو ط تجزیہ پیش کیا ہے جس میں ذات ِ باری، تخلیق ِ کائنات اور روحانی انسان کے متعلق بیانات شامل ہیں۔پانچویں باب میں انسان کے وجودِ روحانی کی ماہیت اور مقاماتِ عالیہ کا بیان ہے جنہیں شیخ ؒ ’الطائف العینیہ ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ میں نے شیخ کے بیانات کی اس حقیقت سے تطبیق کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک اعلیٰ ترین انسانی درجہ و مرتبہ ربّ ِ ذوالجلال کی ابدی بندگی سے عبارت ہے۔

اگلے دو ابواب حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے طریقِ سلوک سے بحث کرتے ہیں۔ چھٹے باب میں ان بنیادی عقائد کا ذکر ہے جو شیخ کے نزدیک راہ ِ سلوک کی بنیادی شرائط کا درجہ رکھتے ہیں، جبکہ ساتویں باب میں میں نے مراقبہ، تخلیہ یعنی چلہ کشی اور اوراد و ادعیہ کی ذیل میں آپ کی تعلیمات کا بیان کیا ہے۔

مستند مطبوعہ مواد کی عدم دستیابی کے باعث میں نے قلمی نسخہ جات سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ خاص کر ’ تفسیر نجم القران‘ کے ذیل میں سلیمانیہ لائبریری استنبول کے صحت علی پاشا کے ذخیرے میں موجود مستند ترین نسخے سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ضمیمہ الف میں تصنیفات ِ سمنانی ؒ کا تذکرہ شامل ہے اور ہر تصنیف کا مختصر تعارف بھی پیش کیا گیا ہے، جبکہ تفسیر نجم القرآن کے قلمی نسخے کے تحقیقی جائزے اور تفسیرِ قرآن کی تاریخ میں اس کی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

سمنانی ؒ کی حیات و تعلیمات کے بنیادی ماخذ

خوش قسمتی سے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی حیات کے متعلق کئی آزاد ماخذ میں سوانحی مواد دستیاب ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس دور میں شیخ ؒ کو نہ صرف مذہبی زندگی میں ایک اہم مقام حاصل تھا بلکہ وہ سلطنت ِ الخانید میں اپنے نمایاں سیاسی اثر ورسوخ اور ایک باثروت خاندان کا فرد ہونے کے باعث بھی تذکرہ نویسوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ علاوہ ازیں آپ کی اپنی تصانیف میں بھی آپ کی سیرت اور سوانح حیات کے متعلق بہت سا اہم مواد موجود ہے۔

شیخ ؒ کو اپنے تجربات و واردات ِ روحانی کی اہمیت کا شدّت سے اندازہ تھا چنانچہ انہوں نے ان تجربات کو اکثر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ ان سوانحی معلومات کا اہم مقصد مریدین کی تربیت اور صوفیائے متاخرین کی رہنمائی تھا۔ چونکہ آپ کے بیانات میں واقعات کے تاریخی اور تدریجی ارتقاء کی بجائے معاملاتِ تصّوف کا ذکر زیادہ ہے اس لیے تحقیقی حوالے سے ان بیانات سے زیادہ اعتنا نہیں کیا جا سکتا ۔ انفرادی بیانات میں ربط و ہم آہنگی کے باوجود بحیثیتِ مجموعی ان میں تضادات کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ دیگر تصانیف کے علاوہ آپ کا اہم ترین سوانحی خاکہ آپ کی تصنیف ’ العروہ لاھل الخلوۃ و والجلوہ‘ کی شکل میں موجود ہے، جس میں آپ نے اپنے روحانی سفر کی تفصیل بیان کی ہے۔ بعض فروگزاشتوں کے باوجود یہ تصانیف شیخ ؒ کی تلاشِ حق کی داستان کو احسن طریقے سے بیان کرتی ہیں۔

شیخ ؒ کی بعض ابتدائی تصنیفات کے زمانۂ تصنیف کا صحیح طور پر تعین کرنا دشوار ہے۔ غالباً آپ کی اولیں تصنیف جس میں سوانحی مطالب موجود ہیں ’ الوارد الشارد‘ ہے جس کی تصنیف ۶۹۹ ھ /۱۲۹۹۔۱۳۰۰ء میں مکمل ہوئی۔ اس تصنیف کا مقصد شیخ ؒ کے نزدیک مسالکِ اسلام میں سے صحیح ترین مسلک کا انکشاف اور فرقہ ہائے اسلام میں ناجی فرقے کی وضاحت ہے۔ اس تصنیف میں شیخ ؒ کی ابتدائے سلوک سے متعلق معلومات کے علاوہ بعض سوانحی متعلقات بھی شامل ہیں۔ ذاتی زندگی کی تفاصیل سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے آپ نے حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے اور خود اپنی خلافت و ارشاد کی تفصیلات اور اپنے سلسلۂ تصوف کے بیان کو اہمیت دی ہے۔ دو دیگر تصانیف میں جو ۲۸ صفر ۷۱۴ھ/۱۳ جون ۱۳۱۴ء سے قبل کی ہیں ، اسی نوع کے بیانات شامل ہیں۔ ایک اورتصنیف ہے جس کا زمانۂ تصنیف معلوم نہیں جبکہ ’رسالہ فتح المبین‘ شوال ۷۱۲ھ/فروری ۱۳۱۳ ء اور ۱۹ رمضان ۷۱۳ھ/ ۷ جنوری ۱۳۱۴ء کے درمیان لکھا گیا ہے۔ شیخ ؒنے دونوں رسائل میں اپنے دنیوی اقتدار کو خیر باد کہہ کر سلوک و تصوف کی راہ اپنانے کا ذکر کیاہے۔ ایک اور رسالے میں آپ کے اساتذہ اور معاصرین کا تذکرہ موجود ہے۔

ایک اور رسالہ ’رسالہ فی الذکر اسماء مشائخ ‘ کے نام سے ہے ، جس میں شیخ نے اپنے سلسلۂ بیعت اور خاص طور پر سلسلۂ کبرویہ سے خرقۂ تصوف پانے کا بیان کیا ہے۔ اسی نوع کا بیان ایک اور رسالے میں بھی ملتا ہے جس کا نام ’تذکرۃ المشائخ ‘ ہے۔

مذکورہ بالا رسائل میں شیخ کے سوانحِ حیات کا معمولی فرق و تفاوت کے ساتھ اعادہ کیا گیا ہے، جبکہ خود ’ العروہ‘ میں بھی جو ایک ضخیم نثری تصنیف ہے اور جس کی شیخ ؒ نے خود اپنی زندگی میں دو بار نظرثانی کی ہے، سوانحی معلومات موجود ہیں۔ ’العروہ‘ کی تکمیل شیخ ؒ کی زندگی کے آخری ایّام میں ہوئی۔ چونکہ شیخ ؒ کی زندگی کے اصل واقعات اور اس کتاب کی تصنیف میں خاصا زمانی تفاوت ہے اور شیخ ؒ نے شعوری طور پر اسے سالکین کی ہدایت کے لیے ایک لائحۂ عمل کے طور پر ترتیب دینے کی کوشش کی ہے ، اس لیے اس کتاب کے مندرجات کو ثقّہ قرار دینا مشکل ہے ، چنانچہ اس کتاب میں جہاں ان کی خود نوشت سوانح میں ایک تسلسل اور ارتقاء کا عنصر پایاجاتا ہے وہاں ابتدائی زندگی کے بعض معمولات اور متعلقات سے صرف ِ نظر کیا گیا ہے۔

آپ کی تصنیف ’ چہلِ مجلس‘ کے ضمن میں بھی یہی دشواری حائل ہے کیونکہ یہ زیادہ تر آپ کے ارشادات اور سیرت کے بیانات پر مشتمل ہے جسے چالیس متفرق مجالس کی شکل میں آپ کے مرید اقبال سیستانی نے مرتب کیاہے۔ اس تصنیف پر عقیدت کا رنگ زیادہ غالب ہے ، تاہم شیخ ؒ کے اپنے مریدین کے ساتھ معاملات اور آپ کے متعلق اُن کی عقیدت کا ذکر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

شیخ ؒ کی زندگی کے بارے میں مذکورہ خود نوشت رسائل کے علاوہ اولیں سوانحی معلومات صلاح الدین السفادی (م ۷۶۴ھ /۱۳۶۲ء ) کی سوانحی کتابوں ’ کتاب الوافی بالوفایت‘ اور ’ عیان العصر‘ میں ملتے ہیں۔ سفادی کے بیانات جہاں مفصل ہیں وہاں مستند بھی ہیں اور ان میں سے بعض ان کے استاد شمس الدین الذہبی (م ۷۴۸ھ/۱۳۴۷ء) سے ماخوذ ہیں۔

ایک دوسری تصنیف جس میں شیخ ؒ کی حیات کا تذکرہ ملتا ہے ، شافعی مسلک کی کتاب ’ طبقات‘ ہے۔ جبکہ اثنوی (م ۷۷۲ھ/۱۳۷۰ء۔۱۳۷۱ء ) کی ’ طبقات الشافعیہ‘ ایک جداگانہ تصنیف ہے جس میں شیخ ؒ کا ذکرِ خیر موجود ہے۔ اس کتاب کی وساطت سے شیخ ؒ نے دیگر شافعی تذکروں میں بھی جگہ پائی ہے ، جن میں تقی الدین ابن قاضی شہبہ (م۸۵۱ھ/۱۴۴۷ء ) کا تذکرہ شامل ہے۔

شیخ ؒ کا مختصر سا ذکر ابن رفیع (م ۷۷۴ھ/ ۷۲۔۱۳۷۳ء ) کی کتاب میں بھی موجود ہے جو سفادی کے بیانات سے ماخوذ ہے۔ ابن الحجر عسقلانی ( م ۸۵۲ھ/۱۴۴۸ء) کی سوانحی کتاب میں ’ طبقات الشافعیہ‘ سے زیادہ تفصیلی معلومات موجو د ہیں لیکن یہ اطلاعات زیادہ تر سفادی سے ماخوذ ہیں اور سیرت نگاری کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں۔ ’ الضرار القامنہ‘ میں بھی گزشتہ اطلاعات ہی کا اعادہ ہے اور کوئی نیا انکشاف موجود نہیں۔ البتہ ’ طبقات المفسرین‘ اور ’ شذرات الذہب‘ جیسی تصانیف میں اسی کتاب کا حوالہ نقل کیا گیا ہے۔

الخانیدی اور تیموری دور کی سیاسی تواریخ میں بھی شیخ ؒ کی زندگی کے متعلق بہت سی معلومات موجود ہیں۔ آپ کے خاندان کا تذکرہ الخانیدی دور کی ہر تاریخی کتاب میں موجود ہے۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی زندگی کے متعلق بعض حوالے ’ تاریخ الجاطع ‘ ’ تاریخ وصّاف‘ او ر ’ تاریخ ِ گزیدہ ‘ میں موجود ہیں۔ جبکہ یزدی کی ’ظفرنامہ‘ میں بھی بعض اشارے ملتے ہیں۔

فصیح احمدخوافی (م۸۴۹ھ/ ۱۴۴۵ء) کی ’ مجمل ِ فصیحی‘ حیاتِ سمنانی ؒ کے واقعات کے تاریخی اندراج کے باعث اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ خواند امیر کی ’ تاریخ ِ حبیب السیر‘ بھی اس سلسلے میں ایک مفید دستاویز ہے۔ یہ ایرانی تاریخ کی اہم ترین اور معتبر ترین کتاب ہے جس میں حیاتِ سمنانی ؒ کا تفصیلی بیان موجود ہے۔

سیاسی تاریخ کی ان کتابوں کے علاوہ شیخ ؒ کی سیرت کے حوالے جغرافیۂ تاریخ کی کتابوں میں بھی ملتے ہیں جن میں اہم ترین ’ ہفت اقلیم‘ اور ’ ریاض السیّاحہ‘ ہیں ۔

مندرجہ بالا ماخذ حیاتِ سمنانی ؒ کے مطالعے کے ذیل میں خاص اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ آزادانہ ذرائع سے شیخ ؒ کی حیات کے مختلف گوشوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ان ماخذ میں نہ تو شیخ ؒکی اپنی فراہم کردہ اطلاعات کو بنیاد بنایا گیا ہے اور نہ یہ کتابیں صوفیانہ روایت کے مطابق لکھی گئی ہیں۔ سفادی کی تحریروں اور طبقات الشافعیہ میں شیخ ؒ کی غیر متصوفانہ زندگی کا تذکرہ بھی شامل ہے جس سے صوفیانہ تذکروں نے صرفِ نظر کیا ہے ۔ جبکہ صوفیانہ تذکرے محض سلسلۂ کبرویہ سے شیخ ؒ کی وابستگی اور ابن عربی ؒ ( م ۶۳۸ھ/۱۳۳۵ء) کے مرید عبدالرزاق کاشانی ( م ۷۳۶ھ/۱۳۳۵ء) سے شیخ ؒ کے تعلقات کے ذکر سے آگے نہیں بڑھتے ۔

صوفیانہ ادب کے ماخذ میں ذکر ِ سمنانی ؒ کے حوالے سے اہم ترین کتاب عبدالرحمن جامی ؒ (م۸۹۸ھ/۱۴۹۲ء) کی تصنیف ’نفحات الانس‘ ہے۔ جامی ؒ نے اپنے بیانات کی بنیاد شیخ ؒ کے خود نوشت واقعات اور آپ کے مریدین خاص طور پر اقبال سیستانی کی مرتبہ ’ چہل ِ مجلس‘ کی فراہم کردہ اطلاعات پر رکھی ہے۔ جامی ؒ نے شیخ ؒ کی زندگی کے بہت سے واقعات قلمبند کیے ہیں لیکن ان میں سفادی کے سے تنقیدی شعور کا فقدان ہے۔

ابن الکربلائی کی ’ روضات الجنان‘ میں مندرج شیخ ؒ کی زندگی سے متعلق مواد بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ ابن الکربلائی نے ’ نفحات الانس‘ سے بھی استفادہ کیا مگر انہوں نے شیخ ؒ کے خود نوشت حالات سے بھی رجوع کیا ہے اور شیخ کے مریدین اور آپ کی تعلیمات اور دنیائے تصوف میں آپ کے مقام و مرتبہ کے تعین کے ذیل میں یہ تصنیف زیادہ گراں قدر ہے۔

بعد کے صوفیانہ تذکرے زیادہ تر جامی ؒ کی تحریرکے اعادے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور حیات ِ سمنانی ؒ کے ذیل میں ہمارے معلومات میں مزید کوئی اضافہ نہیں کرتے۔ تاہم ان میں قابل ِ ذکر دارا شکوہ (م۱۰۶۹ھ)کا تذکرہ ’ سفینۃ الاولیاء ‘ اور غلام سرور لاہوری کی ’ خز ینۃ الاصفیاء ‘ ہیں ۔ ان تذکروں کے بعد ایک اہم نام معصوم علی شیرازی کی تصنیف ’طرائق الحقائق‘ کا ہے۔ یہاں مصنف نے ’ نفحات‘ جیسے تذکروں کے علاوہ خود شیخ ؒ کی کتابوں ’ العروہ لاھل الخلوۃ والجلوہ‘ اور ’ چہل مجلس‘ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا ہے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے شاعرانہ مقام و مرتبے کے باعث شعراء کے تذکروں میں بھی آپ کا ذکر آیا ہے، جن میں دولت شاہ سمرقندی کا ’ تذکرۃ الشعرائ‘ اور رضا قلی خان کے تذکرے ’ ریاض العارفین‘ اور ’ مجمع الفصحاء‘ اہم ہیں۔ دولت شاہ کے بیانات کی بنیاد شیخ ؒ کی اپنی تصانیف پر ہے، جبکہ دیگر دو تذکروں میں ’ نفحات الانس‘ کے اقتباسات شامل ہیں۔ سربدار تحریک اور سلسلۂ کبرویہ (جس کا تشیع سے ایک موہوم سا تعلق ہے) سے شیخ ؒ کی وابستگی کی بنا پر اہلِ تشیع کی سوانحی کتابوں میں بھی آپ کا ذکر موجود ہے۔ چنانچہ نور اﷲ شوستری ( م۱۰۱۹ھ/۱۶۱۰ء) کی ’ مجالس المؤمنین‘ میں مندرج آپ کے حالات کی بنیاد جامی کی ’ نفحات الانس ‘ ہی پر ہے۔ تاہم شوستری ائمہ سے شیخ ؒ کی وابستگی کا ذکر حددرجہ مبالغے کے انداز میں کرتاہے۔ جبکہ شوستری کے بیان کے برخلاف شیخ ؒ ایک طرف تو بنو امیہ سے برگشتہ نہیں ہیں ، دوسری طرف آپ نے اہلِ تشیع کے خلفائے ثلاثہ اور زوجِ نبی ؐ حضرت عائشہؓ کے معاملے میں عدمِ احترام کے جذبات پر تنقید بھی کی ہے۔ ’ مجالس المؤمنین ‘ کے حوالے سے شیخ ؒ کے ذکر نے محسن الامین کی ’ عیان الشیعہ‘ جیسی ضخیم تر کتابوں میں بھی جگہ پائی ہے۔

جدید علمی تحقیق اور سمنانی ؒ کی روایت

موجودہ صدی (بیسویں صدی) میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے مطالعے کی طرف کم توجہ دی گئی ہے۔ یہ امر حیران کن ہے کیونکہ شیخ ؒ نہ صرف الخانیدی ایران کے عظیم ترین دانشور ہیں بلکہ ابو سعید کے عہد میں مذہبی دنیا میں انہیں سند کا درجہ حاصل رہا ہے۔ تاہم بیسویں صدی کے آخری عشرے میں شیخ ؒ کی تصانیف اور سوانح کی اشاعت پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ تاہم آپ کی حیات اور افکار کا ایک مکمل تجزیاتی مطالعہ تاحال نہیں ہو سکاہے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ پر پہلا جدید علمی مقالہ فارسی زبان میں سعید نفیسی نے تحریر کیاہے۔ اس کے بعد سید مظفر صدر نے ایک مقالہ شرح احوال و افکار و آثار شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے نام سے لکھا ۔ یہ دونوں کاوشیں اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ان میں شیخ ؒ کو کبرویہ سلسلے میں شامل کیا گیا ہے لیکن صوفیانہ تذکروں پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے ان کے پایۂ استناد کو کمزور بنا دیا ہے۔

مول نے سمنانی ؒ کا تذکرہ آپ کی شیعیت سے وابستگی کے تناظر میں کیا اور کچھ مدت بعد نظیف ساہنوگلونے حیاتِ سمنانی ؒ پر مقالہ تحریر کیا۔ علاوہ ازیں ہنری کاربن نے اپنی اہم تصنیفEn Islam Iranien میں شیخ ؒ کے صوفیانہ افکار کا مطالعہ پیش کیا ۔ ہرمن لینڈولٹ نے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ اور آپ کے اپنے مرشد حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ سے تعلقات کے باب میں مزید معلومات فراہم کی ہیں۔

ماضی قریب میں ہنری کارٹ نے ’چہلِ مجلس ‘ کے تجزیاتی مطالعے کے ساتھ حضرت شیخ ؒ کے مختصر سوانح بھی شامل کیے ہیں۔ نیز ایران میں مطالعۂ سمنانی ؒ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے نتیجے میں عبدالرفیع حقیقت نے اپنی تصنیف ’ خمخانۂ وحدت ‘ میں شیخ کی حیات پر مبسوط مقالہ تحریر کیا ہے۔ اس ضمن میں نجیب مائل ہروی کے سوانحی خاکوں کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے جنہوں نے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی تصانیف کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے۔

مذکورہ بالا کاوشوں کے علاوہ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کا مطالعہ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں فرٹز میئر اور جوزف وان ایس کے مقالے کی صورت میں شامل ہے جو ایک مستند اور معتبر حوالہ ہے۔ ٭