جیسا کہ کتاب کے شروع میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت شیخ معروف حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے دربان تھے۔ آپ مرتے دم تک امام علیہ السلام کی دربانی کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ اچانک ایک بڑا ہجوم امام سے ملنے آیا۔ ان کی بدتمیزی اور ہڑبونگ میں آپ کچلے گئے جس سے آپ کی پسلی ٹوٹ گئی ۔پھر آپ شدید بیمار ہوگئے۔ (252)
بیماری کی شدت سے آپ بار بار کراہتے اور اسی مرض میں آپ کا انتقال ہوا۔ گویا یہ صدمہ آپ کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔ لیکن ابن الجوزی اس واقعۂ ازدحام کو صحیح نہیں سمجھتے اور یہ حکایت درست نہیں۔ شیخ ابوالفضلؒ نے فرمایا ہے کہ یہ بات اہل نقل کے ہاں معروف نہیں ہے، کیونکہ معروفؒ تو ہمیشہ مسجد میں گوشہ نشینی میں رہتے تھے۔ (253)
حضرت میر سید محمد نوربخشؒ لکھتے ہیں کہ چونکہ شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ امام علی رضا علیہ السلام کے گھر پر پردہ کرتے تھے کیونکہ وہ دربان تھے۔ ایک دن شیعہ لوگوں نے ان کے مکان پر ازدھام کیا اور ان کے دانت توڑڈالے یہی ان کی وفات کا سبب بن گیا۔ انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون۱ (254)
وصیتِ معروفؒ
حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز کی علالت کے دوران ان کی تیمارداری میں مصروف تھا کہ آپ کی حالت اچانک بگڑگئی اور اس حالت کو دیکھ کر میں نے عرض کی حضرت! آپ کچھ وصیت فرمادیجئے۔ آپ نے فرمایا! میری وصیت یہ ہے کہ میں انتقال کرجاؤں تو مجھے برہنہ دفن کرلینا اور میرے کفن کو مسکینوں پر صدقہ کردینا۔ کیونکہ میں اس دنیا میں برہنہ ہی آیا تھا۔ اور میں چاہتا ہوں کہ اسی حالت میں واپس بھی چلا جاؤں۔ (255)
ارتحالِ معروفؒ
جیساکہ سابقہ سطور میں ذکر ہوا کہ حضرت شیخ معروف کرخی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی دربانی کررہے تھے۔ بغداد کے شہروں سے لوگوں کا ایک ازدحام دربارِ امام میں حاضر ہوا اور انہوں نے حضرت شیخ معروفؒ سے بدتمیزی کی اور آپ پر ہلہ بول دیا۔ مجمع کے ہجوم سے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ اور حضرت شیخ ان کے اس بلوہ کا شکار ہوگئے۔ آپ بری طرح کچلے گئے۔ اور آپ کی پسلی میں سخت چوٹ آئی اور ٹوٹ گئی۔ جس بناء پرآپ نہ صرف بیمار ہوئے بلکہ اس صدمے کو تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ کہتے ہیں یہ صدمہ آپ کو شیعوں سے پہنچا تھا۔ ان کی رحلت پر سوگ منایا گیا اور بغداد کا بازاربند ہوا۔اور باب الدیر میں آپ کی تدفین ہوئی جوکہ کرخ بغداد کے مغرب میں ہے۔ آپ کا مزارِ مبارک قبر معروف کرخیؒ کے نام سے مشہور ومعروف ہے اور آج تک مرجعِ خلائق بنا ہوا ہے۔
قالو انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب یقینا اللہ کے لئے ہیں اور بے شک ہم سب اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (256)
قاضی نور اللہ شوستری نے لکھا ہے کہ :
شیعہ بروز امام علی رضا ؑغلوکردند و پہلوئے معروف شکستہ شدہ بیمار گروید و مرد (مجالس المومنین)
ایک نے شیعوںنے امام علی رضا ؑ کی درگاہ پر بلوہ کیا جس پر حضرت معروف کی پسلیاں ٹوٹ گئیں وہ سخت بیمار ہوکر شہید ہوگئے۔
شوستری خود اس روایت کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا اس لیے ذاتی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بڑی دھواں دار قدغن لگائی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ شہید راہ وفا تھے
زاریخِ وفات
علمائے تاریخ وسیر کے ہاں حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز کی تاریخ وفات کے بارے میں اختلافاتِ کثیرہ پائے جاتے ہیں۔ علامہ نوراللہ شوستری نے ۲۶۱ہجری اور ۲۳۴ہجری بتایا ہے۔ (257)
عبدالرحمان جامی نے ۲۰۰ہجری کو یومِ وفات قرار دیا ہے۔(258)
جبکہ ابن اثیر نے اپنی تحقیق میں۲۰۰ ہجری، اور ابن خلقان نے ۲۰۰ ہجری، ۲۰۱ہجری اور ۲۰۴ ہجری لکھا ہے۔ (259)
لیکن علامہ جوزی نے لکھا ہے ۔ کہ یحییٰ ابوطالب کہتے ہیں کہ شیخ معروف کرخی نے ۲۰۴ ہجری میں انتقال کیا تھا۔ خطیب بغدادی کہتے ہیں صحیح روایت یہ ہے کہ آپ ۲۰۰ ہجری میں وفات پاگئے تھے۔ (260)
شیروانی نے شیخ معروف کی سنِ وفات۲۰۰ ہجری بتایا ہے ، مولوی محمد شفیع نے بھی اسی روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔ جبکہ حضرت میر سید محمد نوربخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ آپ کی سن وفات ۲۳۴ ہجری ہے۔(261)
معروف شیعی مؤرخ عباس قمی نے جناب شیخ معروف کرخی کی تاریخ وفات ۲۰۱ ہجری بتائی ہے۔ (262)
اب ہم ان تمام منتشر خیالات کا تھوڑا سا منطقی جائزہ لیتے ہیں۔ جملہ مرویئین کے نزدیک ۲۰۰ ہجری، ۲۰۱ ہجری اور ۲۰۴ سب کے ساتھ حقیقت حال کے مطابق معلوم اس لئے نہیں ہوتا کہ اُن تمام بزرگان محققین کے ہاں قابل قبول بات یہ ہے کہ حضرت معروف کرخی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے خلیفہ ارشاد اور صاحب مجاز پیر طریقت ہیں۔ اور امام علی رضا علیہ السلام کا سن وفات ۲۰۳ ہجری ہونا بھی یقینی ہے۔ تو حضرت امام رضا ؑ سے پہلے معروف کرخی کی وفات ہونا لازم آتا ہے جو مناسبِ حال معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے قولِ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد جناب معروف کرخی ۵۸ سال زندہ نہ رہے ہوں تو کم از کم ۳۱ سال ضرور زندہ رہے ہیں۔
نوراللہ شوستری کے مطابق اوّل الذکر ۲۶۱ ہجری کی سن وفات کو لے لیں تو آپ کا حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بعد ۵۸ سال زندہ رہنا ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر ثانی الذکر سن ۲۳۴ ہجری کو قبول کرنے کی صورت میں معروف کرخی کا امام علی رضا علیہ السلام کے بعد کم از کم ۳۱ سال زندہ رہنا ثابت ہوتا ہے۔ شوستری کے دو بیانوں میں قولِ راجح وہی ہے جس کی تائید وتصدیق حضرت میر سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ کی تحریر سے ہوتی ہے۔ آپ نے شیخ کی سن وفات ۲۳۴ ہجری رقم فرمائی ہے۔ (263)
کیونکہ ۲۵۱ ہجری میں فتنہ بغداد رونما ہوا۔ جبکہ اس فتنے کے واقع ہونے سے پہلے لوگ معروفؒ کے آستانے پر جاتے تھے اور اس فتنہ کے دوران بھی ۔ اس لئے شوستری کا پہلا قول درست نہیں۔
عبداللہ الجبوری کے مطابق حصرت معروف کی پیدائش تقریباً۱۲۰ھ کو ہوئی تو اس سن کے حساب سے تاریخ وفات ۲۰۰ ہجری کو ماننے کی صورت میں اسی سال اور ۲۳۴ ہجری کو ماننے کی صورت میں ایک سو چودہ سال کی عمر پانے کا اظہار ہوتا ہے لیکن ان دونوں صورتوں میں چونتیس سال کا فرق آنا پریشان کن ہے اس لیے ان کی یہ سن پیدائش دراصل قابل تحقیق ہے۔
جناز ے پر تنازعہ
حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں ایک عجیب صورت حال رونما ہوگئی۔ ایسا آج تک دنیا میں نہیں ہوا ۔چنانچہ روایت ہے کہ آپ کے انتقالِ پُرملال کے بعد ہر مذہب والے اپنے اپنے طریقہ پر آپ کا جنازہ اٹھانے کے لئے لڑنے لگے۔ آپ کے ایک خادم نے کہا کہ آپ کی وصیت ہے کہ جس مذہب کے لوگ زمین سے میرا جنازہ اٹھا لیں۔ وہی اپنے طریقہ پر مجھے دفن کردیں۔ تمام مذاہب کے لوگوں نے باری باری آپ کا جنازہ اٹھانا چاہا مگر نہ اٹھا سکے۔ جب اہلِ اسلام کی باری آئی تو جنازے کو اٹھایاجاسکا اور انہوں نے اپنے طریقہ پر دفن کیا۔(264)
جس سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ معروفؒ کے جنازے میں یہودیوں، عیسائیوں، مجوسیوں اور مسلمانوں میں تنازعہ ہوگیا تھا۔ ہر مذہب کے لوگ کہنے لگے کہ وہ ان کے جنازے کو اٹھائیں گے اور اپنے طریقہ پر دفن کریں گے۔ کیونکہ ہر ایک کو دعویٰ تھا کہ وہ ان کے دین پر انتقال ہوئے ہیں۔ لیکن اس سنگین اختلاف کے واقع ہونے کے بارے میں آپ پہلے ہی اطلاع دے چکے تھے اور اس بارے میں وصیت کرچکے تھے کہ جب میرے جنازے کے اوپر نزاع کھڑا ہو اور لوگوں میں اختلاف پایا جائے تو میری وصیت یہ ہے جس پر عمل کرے جس کا اعلان ایک خادم نے یوں کیا کہ حضرت شیخ معروف کرخی کا فرمان ہے کہ میرے بعد میرے بارے میں لوگ اختلاف کریں گے۔ میں اسی قوم کے ساتھ ہوں کہ جو میری لاش کو اُٹھا سکیں۔ اس اعلان کے بعد پہلے مجوسیوں نے ، پھر عیسائیوں نے، پھر یہودیوں نے جنازہ کو اُٹھا نے کی کوشش کی، لیکن سب ناکام ہوئے۔ آخر میں مسلمانوں نے حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی نعش کو اٹھالیا۔ اور نماز جنازہ پڑھ کر بغداد کے مشہور قبرستان شونیزیہ میںسپردِ خاک کردیا۔ (265)
نمازِ جنازہ
ابوالحسین المناوی بیان کرتے ہیں۔ کہ میں نے اپنے دادا سے سنا ہے کہ وہ کہتے تھے۔ کہ ہم ۲۰۰ ہجری کو ابوالنضر کے پاس بیٹھے تھے۔ ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اعظم اللّٰہ اجرک فی اخیک معروف۔ تم سب معروف کے لئے اٹھو۔ اللہ تمہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔ اس بات کو ہم نے واقعی عظیم سمجھا اور سب کھڑے ہوگئے۔ اور جنازہ پڑھنے کیلئے چلے گئے۔ کہتے ہیں اُس روز حضرت شیخ معروف قدس سرہ العزیز کے جنازے میں سوا لاکھ افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد آج تک کسی کے جنازے میں اتنے لوگ جمع نہیں ہوئے اور آپ کے جنازے میں ایک عیسائی راہب نے شرکت کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔ اس نے کہا اگر تم میں سے بھی کوئی معروف جیسا عمل اختیار کرلے تو تم بھی ان جیسے ہوسکتے ہو۔ (266)
اس دور کے مطابق اتنی تعداد میں کثیر لوگوں کی شرکت بہت بڑی بات تھی اور یہ بات کہ آپ کے سوگ میں تمام ادیان کے لوگ موجود تھے۔ جن میں عیسائی، یہودی، مجوسی اور مسلمان وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ معروف رحمۃ اللہ علیہ کی قدر ومنزلت اپنے تو اپنے غیروں کی نظروں میں بھی عالی شان تھی۔ یعنی تمام انسان آپ کا برابر احترام کرتے تھے اور آپ کوقدر کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ مولانا روم قدس سرہ فرماتے ہیں۔
صوفیاں را پیش رو موضع دھند
کآئینہ جانند و زآئینہ نہند
٭- لوگ صوفیوں کو ہی سامنے جگہ دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ روح کا آئینہ ہیں اور ظاہری آئینہ سے زیادہ بہتر ہے۔ (267)
آستانۂ معروفؒ
روضۂ معروف کے بارے میں جامع شیخ کے عنوان کے ضمن میں کچھ بیان ہوچکاہے۔ علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے۔ کہ آپ کی قبر لوگوں میں مشہور ومعروف ہے۔ قبر کی ایک جانب آپ کے بھائی حسن کا مزار ہے۔ اور دوسری جانب آپ کا بھتیجا محمد بن حسن کی مرقد ہے، لیکن بغداد میں آپ کا روضۂ اقدس مرجعِ خلائق بنا ہوا ہے جو کرخ بغداد میں واقع ہے۔ یہ جامع الصغیر کے احاطے میں پایا جاتا ہے۔ جامع الشیخ المعروف الکرخی کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کی جامع کی کئی بار مرمت اور تجدید کی گئی ہے۔ آستانہ کی قدیم عمارت تو ایک دفعہ جل گئی تھی اور کئی بار اس کی تعمیر وتوسیع کا کام ہوا ۔ اس جامعہ میں منارہ عباسی پایا جاتا ہے جو ناصر الدین اللہ نے تعمیر کی تھی۔ ۶۱۲ ہجری سے اب تک یہ تاریخی عمارت اپنی مثال آپ ہے۔ جس طرح جامعہ مذکور کی مرمت کئی بار ہونا ثابت ہے۔ اس کی آخری بار مرمت کا کام وزیر حسن پاشا جو والیٔ بغداد تھے کے عہد میں ۱۳۱۲ہجری میں ہوا۔ (268)
ڈاکٹر عبداللہ الجبوری کی تحقیق کے مطابق حضرت شیخ معروف کے حسن نامی بھائی کا کہیں ثبوت نہیں ملا۔ لیکن آپ کے بھائی عیسیٰ بن الفیروزان کا نام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کا ایک اور بھائی بھی تھا جس کا نام موسیٰ تھا۔ ہاں عیسیٰ بن الفیروزان کو آپ کی قبر کی ایک جانب دفن کیا گیا تھا۔ (269)
امام قشیریؒ نے لکھا ہے کہ بغدادیوں کے نزدیک معروف کرخی کی قبر تریاق مجرب ہے اس کی طفیل شفا کی دعا مانگی جاتی ہے۔ شیخ عطارؒ فرماتے ہیں۔ کہ جس حاجت کے لئے اُن کی قبر پر جاتے ہیں حق تعالیٰ وہ حاجت رَوا کرتا ہے۔ اس قبر کا محل وقوع اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ خلفاء کے زمانے کی محدود چند یادگاروں میں سے ہے جو مغربی بغداد میں موجود ہے۔ مولوی محمد شفیع نے اپنے مقالے میں لکھا ہے۔ کہ پرانامقبرہ جو اس قبر پر بنایا گیا تھا۔ ۴۵۹ ہجری میں اتفاقاً جل گیاتو خلیفہ قائم باللہ کے حکم سے اس کو شیخ المشائخ ابو سعید نیشاپوریؒ کے اہتمام سے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اہلِ بغداد اور بغداد میں آنے والے زائرین کا ہجوم ہمیشہ ان کی قبر پر رہا ہے۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ خلیفہ قادر باللہ ۳۸۱/۴۲۰ ھ زیارت کے لئے یہاں آیا کرتے تھے۔ جب ۴۷۹ ہجری میں ملک شاہ سلجوقی اور اس کا وزیر نظام الملک بغداد آئے تو زیارت کے لئے اس مزار پر آئے۔ ۵۸۰ ہجری میں ابن جبیر بغداد آیا تو یہاں بھی پہنچا اور لکھتا ہے کہ وہ صالحین میں سے ہیں اور اولیاء اللہ میں مشہور الذکر ہیں۔ شیخ سعدیؒ کے زمانہ میں اس قبر کی شہرت اس حد تک تھی کہ وہ فرماتے تھے۔
نبینی کہ در کرخ تربت بسی است
بجز گور معروف معروف نیست
منگول حملے سے اس مقبرہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ ابن بطوطہ نے ۷۲۸ ہجری میں اور احمد اللہ مستوفی نے حدود ۷۴۰ ہجری میں عربی بغداد کے مشہور مقابر میں اس قبر کا شمار کیا ہے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں یہ قبر اس مقام پر واقع ہے جہاں شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کو عہد ہارون میں دفن کیا گیا۔ (270)
صید الخاطر کے حوالے سے روایت کی جاتی ہے کہ آپ کے وصال کو چار سو سال گزرے ہیں کوئی ایسا دن نہیں کہ ان کی قبر پر قران خوانی کرکے ایصال ثواب نہ ہوتا ہو ۔ اکثر لوگ کم از کم سورۃ الفاتحہ (ایک بار اورسورۃ الاخلاص تین بار) بڑھ کر ان کو ثواب پہنچاتے ہیں۔ بڑے بڑے شہنشاہ وقت آپ کے مزار پر نہایت ذلت و انکساری سے حاضری دیتے ہیں۔ (مقدمہ مناقب)
گویا آپ کے آستانہ مبارک ہر زمانہ میں مرجع خاص وعام بنا ہوا ہے ؎
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش ناز ک تر
نفس گم کردہ مے آید جنید و بایزید این جا
(مناقب)

برکات مرقدِ معروفؒ
علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں۔ کہ ابا علی الصفار سے منقول ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں نے ابراہیم الحربی کو سنا ہے وہ کہتے تھے۔ قبر معروف التریاق المجرب۔ حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کی قبر ایک آزمودہ تریاق ہے۔ اس خبر کو علامہ جوزی نے مناقب میں، ابن خلکان نے ترجمہ الوزید میں لکھا ہے۔ اس کے علاوہ مرأۃ الجنان، طبقات الحنابلہ، صفوۃ الصفوۃ، الکواکب الدریۃ اور مناقب الابرار وغیرہ میں بھی مرقوم ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں۔ کہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ شیخ معروف الکرخی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار حاجات رَوائی کے سلسلے میں آزمودہ ہے۔ اور آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ جو شخص حضرت شیخ معروفؒ کے روضہ پر جاکر ایک سو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے ، اور ثواب بخشے پھر جو چاہے مانگے حاجت پوری ہونا یقینی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے طفیل تمام حاجات جس قسم کی ہو پوری فرمادیتے ہیں۔
ابن محاصل بیان کرتے ہیں کہ میں شیخ معروف کے مزار کو ستر سال سے جانتا ہوں۔ جب بھی وہاں کوئی پریشان جاتاہے تو وہاں سے اس کی پریشانی ختم ہوجاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ اس پر کرم فرما تا ہے۔ (271)
ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک دفعہ میں بغداد سے حج کے قصد سے نکلا تو راستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوگئی جس کے چہرے پر عبادات کے آثار تھے۔ مجھ سے پوچھا گیا کہاں سے آرہے ہو؟میں نے کہا بغداد سے۔ وہاں شر وفساد اُمڈآتے ہوئے دیکھا تو وہاں سے بھاگ نکلنے کو مناسب سمجھا۔ مجھے ڈر ہوا کہیں میں بھی لوگوں کے ساتھ نہ کچلا جاؤں۔ اس نے کہا تم واپس جاؤ، ڈرومت۔ وہاں چار بڑے اولیاء اللہ کے آستانے موجود ہیں وہاں جاکر دعا کرو۔ وہ تمہارے جملہ آفات سے بچنے کا موجب بن جائے گا۔ میں نے پوچھا کہ وہ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا۔ احمد بن حنبل، معروف الکرخی، بشر بن حارث اور منصور بن عمار رحمہم اللہ علیہم ۔ راوی کہتا ہے کہ میں واپس لوٹا۔ اس سال حج کو موقوف کردیا۔ (272)
اس حکایت کو اس سے پہلے بھی حسبِ ضرورت قلمبند کیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر عبداللہ الجبوری اپنے حاشیہ مناقب المعروف میں لکھا ہے کہ ایسی حکایتیں تو گمراہ کن ہیں۔
مقبروں کی زیارت سے کیسے بلاؤں سے بچ سکتے ہیں؟ اور پھر قبور کی زیارت کیلئے حج کو کیسے موقوف کیا جاسکتا ہے۔ (273)
لیکن دیکھنا یہ ہے کہ حضرت امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ کے مقابر دراصل کوئی حیثیت نہیں رکھتے لیکن جو فیض مل رہا ہے وہ صاحب قبر ولی سے متوقع ہے۔ کیونکہ یہ دنیاوی زندگی میں جس طرح فیض پہنچانے میں پیش پیش تھے مرنے کے بعد بھی اس قابل ہیں ۔ لہذا اولیاء اللہ کے آستانے انسانوں کے لئے وسیلۂ نجات وفلاح کا موجب ہیں۔ (274)
مذکورۂ بالا حکایت میں جس آدمی کو واپس کیا گیا تھا دراصل اس کے حق میں شاید یہی بہتر تھا اور واپس کرنے والا خدا کا شاید کوئی ولی تھا۔ جو معاملات اور نتائج کا زیادہ بہتر ادراک رکھتا ہے۔ اس حکایت سے یہ قطعاً ظاہر نہیں ہوتا کہ حج سے بڑھ کر زیارتِ قبور کو فضیلت حاصل ہے۔ اسے جو کہاگیا تھا اس کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آسانی سے جو امن وسکون مل سکتا ہے اس کی نسبت مشقت سے ملنے والی عافیت کی طرف کیوں جائے۔ اس لئے اسے آسان راستہ بتادیا گیا۔ دُعا قبول ہونے والے مقامات کا تذکرہ کرتے ہوئے امام جزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روضہ کے پاس دعا قبول نہ ہو تو پھر کہاں ہوگی۔ مزید لکھتے ہیں کہ۔
و عند قبور الاولیاء علیہم السلام جریت استجابۃ لدعا، عند قبور الصالحین بشروط المعرفتہ۔ (275)
اولیا کے قبروں کے پاس دعا مستجاب ہونے میں مجرب ہے لیکن صالحین کے پاس اس کی معرفت کے اندازے کے مطابق ایسا ہوتا ہے۔
انبیاء علیہم السلام کے اور صالحین اولیاء کرام کی ضریح کے پاس دعا قبول ہونا آزمودہ بات ہے۔ لیکن یہ معرفت ہونے کی شرط پر ممکن ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ۔
قبر امام موسیٰ الکاظم تریاق مجرب لاجابۃ الدّعا۔ (276)
حضرت امام موسیٰ کاظم اور حضرت امام جعفر صادق کا روضہ دعائوں کی اجابت کے لیے بہت مجرب ہے۔
اسی طرح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے قبر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں اور ابن ہجر نے خیرات صفات میں ایسی بہت سی روایات درج کردی ہیں۔ بغداد کے تمام اکابر وصلحاء اس پر اتفاق کئے ہوئے ہیں کہ خبر مشہور ومعروف ہے کہ ’’قبر معروف تریاق مجرب‘‘ ابوالقاسم قشیری جو کہ چوتھی صدی ہجری کے عظیم صوفی اکابرین محدثین میں شمار ہوتے ہیں، رسالہ قشیریہ میں حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
حضرت معروف الکرخی رضی اللّٰہ عنہٗ کان من المشائخ الکبار مستجاب الدعوات یستشفی بقبرہٖ یقول البغدادیون قبر معروف تریاق مجرب۔ (277)
حضرت شیخ معروف الکرخی اللہ ان پر راضی رہے، آپ مشائخِ کبار میں سے تھے، مستجاب الدعوات تھے۔ بغدادیوں میں زبان زدِ عام ہے کہ معروف کی قبر آزمودہ شدہ تریاق ہے۔
یہ روایت علمائ، صلحاء اور محدثینِ اسلام کے ہاں بہت مشہور ومعروف ہے، اسے علامہ ابن خلقان نے وفیات الاعیان جلد ۲ صفحہ ۱۳۴ پر امام ابو بکر بن حذیحہ نے تعریف امام سبکی اور طبقات کبریٰ میں، اور امام ذہبی نے تذکرۂ حفاظ میں لکھا ہے۔ یہ اکابرینِ اسلام شہر طوس میں امام علی ابن موسیٰ رضا ؑ کے آستانہ پر بڑی تعظیم، خشوع وخضوع اور تواضع وتضرع بجالاتے تھے۔ (278)
یہی روایت ابن حجر عسقلانی تہذیب التہذیب میں نقل کرتے ہیں۔ بہر حال تمام محدثینِ کرام، صلحاء عظام، فقہائے اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اولیاء کرام انبیاء عظام اور بزرگانِ دین کے آستانے فیوض وبرکات اور اللہ سے دعا وحاجات مانگنے کے بہترین اور افضل ترین مقامات ہیں۔ اگرچہ یہ مقام اس بحث کا متحمل نہیں لیکن ضمناً مذکور کردہ شک کو دور کرنے کی سعی کی گئی ہے تاکہ تشریک وتردید اور تکفیر کے ناموزوں خطرات سے بچایا جائے، وما توفیقی الا باللّٰہ العلی العظیم۔
زیارتِ معروف کرخیؒ
پیوستہ ابواب میں تفصیلات کے ساتھ بیان ہوچکا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز کے روضۂ عالی کی فضیلت وبرکت پر علماء اسلام واکابرین دین کا اتفاق ہے۔ ایک اور روایت سے ایک بڑے محقق ومصنف، عالم وفاضل ، نابغۂ روزگار مؤرخ کا واقعہ یوں ہے جسے بہت سے مؤرخین نے نقل کیا ہے۔ علامہ ابن جوزی بہت ساری تواریخ اسلام کے مطالعہ کے بعد لکھتے ہیں۔ کتاب الفتوح الکبیر کے مصنف شیخ سیف کہتے ہیں۔ کہ بغداد کے فتنوں کے ایام (شاید ۲۵۱ھ) کی بات ہے ۔ ہم مصر کی طرف سفر کیاپھر میں واپس آیا ایک بندے کی طرف رخ کیا۔ اس نے کہا کہ تم نے اپنے اوقات کو ضائع کیا۔ اور وہ بھی فتنوں کے ایام میں۔ تو اس بات سے میں سخت مایوس ہوا اور مجھے نقصان کا بڑا احساس تھا اور اس طرح کوئی دس سال گزرگئے۔ پھر میں نے ایک دن حضرت شیخ معروف الکرخی رحمۃ اللہ علیہ کے روضے کی زیارت کی۔ وہاں آپ کے وسیلہ سے دعائیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر آسانیوں کا دروازہ کھول دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک رات ایک آنے والے نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ تو میں نے پوچھا کون ہو؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے فلاں نے بھیجا ہے۔ لو یہ خط لے لو اور وہ کہتے ہیں کہ تالیف کیا کر (لکھا کر) آج میں ممتاز مقام پر ہوں ۔ میں لکھتا گیا اس دوران میں نے بہت کچھ پایا اور اللہ اسے امن میں رکھے اس بزرگ نے اور بہت کچھ فرمایا ہے۔ (279)
یہ وہ بزرگ ہیں جن کا نام سیف بن عمر التمیمی ہیں جو بہت سی تالیفات اسلام کے نام تحفہ چھوڑکر چلے گئے۔ (280)
آخر میں یہ بتاتے ہوئے خود اپنی کمزویوں کا اعتراف کروں گا کہ یہ ساری کمزوری میری ہے اور جو کچھ اچھا ہوا رب تعالیٰ کی مہربانی سے ہوا اور جو خراب ہوا میری نادانی سے ہوا۔
کیا فائدہ بیش و کم سے ہوگا
ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا
جوکچھ کہ ہوا ، ہوا کرم سے تیرے
جو کچھ ہوگا تیرے کرم سے ہوگا
۴
) مورخہ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۱ء بمطابق ۲۲ رجب المرجب ۱۴۲۲ھ (