حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے اپنی تحریروں میں تفصیل سے لکھا ہے کہ انہوں نے راہِ تصوف اختیار کرنے اور حضرت شیخ عبداالرحمن اسفرائنی ؒ کی مریدی اختیار کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ تلاشِ حق کی اس داستان کو بیان کرنے سے اُن کا مقصد صوفیائے متاخرین کے لیے رہنمائی کا سامان کرنا تھا۔ اس مقصد کے پیش نظر آپ نے اپنے خود نوشت سوانح میں ربط و تسلسل پیدا کرتے ہوئے دورِ شباب کے بعض اساتذہ اور ساتھیوں کے ناموں سے صرفِ نظر بھی کیا ہے۔ اس تفصیلات سے اغماض کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شیخ ؒ اپنی ذات اور تعلیمات کو جس رنگ میں پیش کرنا چاہتے تھے یہ تفصیلات ان سے مطابقت نہ رکھتی تھیں مثلاً جوانی میں آپ کا آزاد خیال ہونا ، امورِ دینی سے عدم آگاہی وغیرہ۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ بیان فرماتے ہیں کہ آپ کو راہِ حق کی ہدایت بھی محرم ۶۸۶ھ / فروری ۱۲۸۷ ء میں ایک مکاشفے میں ہوئی۔ آپ فرماتے ہیں۔

’’ مجھے احساس ہوا کہ خدا تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب پیغمبروں کا مذہب ہے کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں مختلف قبائل کے زعماء نے متفقہ طور پر اس امر پر اتفاق کیا کہ انسانیت کی تکمیل کے لیے تین امور پر توجہ ضروری ہے۔ یہ تین امور ہیں ، ’سیاست‘ یعنی دنیا میں امن اور نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے سزا کا نظام، ’طہارت‘ یعنی اخروی زندگی سے قبل اسی دنیا کی زندگی میں پاکیزگی حاصل کرنا، اور ’ عبادت ‘ یعنی اس خدا کی پرستش جو تمام مخلوقات کا خالق ہے۔‘‘

شیخ ؒ کی مذہبی بیداری کا مندرجہ بالا حصہ دراصل قانون فطرت کی دریافت کی ایک صورت ہے۔ بیداری کے احساس کا یہ سفراحساسِ ذات کی اس خاص منزل کے بعد شروع ہوا جب فرد اپنے وجود سے آگاہی حاصل کرتا ہے اور اس آگاہی کے وسیلے سے واجب الوجود یعنی اﷲ تعالیٰ کے پاک وجود کا بھی یقین حاصل کرتا ہے۔ شیخ ؒ کے مرتبے کے بزرگ کے لیے جو صوفیانہ کشف و الہام سے باری تعالیٰ کے وجود اور عبد و معبود کے رشتے سے بخوبی آگاہ ہو چکا ہو اپنے دین کی برتری ثابت کرنے کے لیے ایسی منطقی بحث میں پڑنا قطعی غیر ضرور ی تھا ۔ تاہم شیخ ؒ اہلِ عالم کے عمومی اتفاق کی خاطر اس منطقی بحث سے اپنے عقیدہ کا آغاز کرتے ہیں کہ ہمہ گیر معاشرتی قوانین کا نفاذ، تطہیر ِ ذات اور عبادت کے وسیلے سے اس ذات ِ واجب الوجود کا ایقان جو جملہ مخلوقات کے وجود کا باعث ہے، گویا ایسے مسلمات ہیں جن پر کل عالمِ انسانیت کا اتفاق ہو سکتا ہے۔ لیکن اس بحث میں بھی شیخ نے منطق و فلسفہ کی بحثوں میں الجھنے کی بجائے اپنے روحانی مکاشفات سے حاصل شدہ حقائق سادہ طریقے سے بیان کیے۔ ان تین بنیادی حقائق سے اگرچہ شیخ ؒ روحانی ذرائع سے روشناس ہوئے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر علما ء و محققینِ اسلام کی فلسفیانہ تحریروں میں بھی انہی تین امورات کو متفقہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ شیخ ؒ فرماتے ہیں۔

’’ اﷲ تعالیٰ نے میرے قلب پر اس حقیقت کا القا فرمایا کہ بعض فرقے ان تین امور یعنی سیاست، طہارت اور عبادت پر ظاہری طور پر عمل پیرا ہیں ، بعض فرقے ان پر باطنی انداز میں عمل کرتے ہیں اور بعض فرقے ظاہر و باطن دونوں میں ان امور کی پاسداری کرتے ہیں۔ چنانچہ میں نے آخری گروہ کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا اور اس بات کا یقین کر لیا کہ تمام فرقوں میں صرف وہی اہلِ حق ہیں۔ ‘‘

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے نزدیک وہ فرقے جو ان تین امور یعنی سیاست، طہارت اور عبادت پر محض ظاہری یا باطنی طور پر کاربند ہیں وہ زیاں اور نفاق کا شکار ہیں۔ ان میں سے جو محض ظاہر پر کاربند ہیں وہ عقیدے اور ایمان کی دولت سے محروم ہیں ۔ یہ و ہ بت پرست ہیں جو اپنی عبادت گاہوں میں بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اس کی مثال اہل ہنود، ترک اور زمانہ قبل از اسلام کے مشرکین ہیں۔ اسی طرح وہ فرقے جو ان امور کا مخص باطنی طور پر لحاظ کرتے ہیں اور انہیں محض تجریدی حقائق کے طور پر تسلیم کرنے کے علاوہ عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے وہ بھی نفاق کا شکار ہیں اور اس گروہ کی مثال اصحا ب العروہ اور یونان کے فلاسفہ ہیں۔ شیخ ؒ کے نزدیک اعلیٰ ترین صورت ان امور کے ظاہری اور باطنی پہلو دونوں کا پاس رکھنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ اور ظاہر و باطن کا یہ امتزاج محض اﷲ تعالیٰ کے پیغمبروں کے پیروکاروں کے ہاں نظر آتاہے۔ پس شیخ ؒ اپنے مذہبی احساس کی دوسری منزل کا بیان فرماتے ہیں کہ قوانینِ فطرت کی حقیقی معنوں میں پاسداری عقیدے اور عمل کے امتزاج ہی سے ممکن ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس کی تمام انبیاء نے عالمِ انسانیت کو ہدایت کی ہے۔

آپ مزید اس نتائج پر پہنچے کہ وہ انبیاء جنہوں نے اہلِ عالم کو دینِ حق کی ایک واضح شریعت کے ساتھ تعلیم دی ، ان کی تعداد سات ہے ، یعنی حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حصرت داؤد علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم۔ ان میں سے ہر ایک صاحبِ شریعت تھا اور علمائے دین کی مدد سے سب نے اپنی اپنی شریعت کو نافذ کیا۔ ان تمام شریعتوںمیں سے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے شریعت ِ محمدیہ ؐ کی سیاست یعنی قانونی پہلو کو جامع ترین، طہارت کے نظام کو بہترین اور عبادت کو مکمل ترین پایا۔ ان امور کے علاوہ یہ شریعت عمل کے لحاظ سے آسان ترین بھی ہے اس لیے آپ نے دینِ اسلام کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔

یہ منطقی استخراج شیخ ؒ کے مذہبی احساسِ بیداری کی تیسری منزل ہے جہاں آپ نے ان دیگر مذاہب کے مقابلے میں جو خدائے واحد کے قائل ہیں دینِ اسلام کی افضلیت کا ایقان حاصل کیا۔ یہاں یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ شیخ ؒ نے محض کسی روحانی برتری کی بنا پر اسلام کی افضلیت ثابت کرنے کی بجائے اس حقیقت کو منطقی طور پر اہلِ عالم کے ذہن نشین کرایا ہے۔ یعنی اس دین کا قابلِ عمل ہونا، جامع ہونا، اس عہد کے معاملات پر قابلِ اطلاق ہونا اور سب سے بڑھ کر سادہ اور آسان ہونا اس کی برتری کا ثبوت ہیں۔ شیخ ؒ فرماتے ہیں۔

’ ’ اﷲ تعالیٰ نے میرے قلب پر القا فرمایا کہ اسلام کے تمام فرقے دراصل سات فرقوں پر مشتمل ہیں یعنی جبری، قدری، معطلی، مشببّی، رافضی، خارجی اور سنی اور مجھے ہر فرقے کے حق اور باطل کی تمیز ہوگئی۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ کہ جبری صاحبِ افراط ہیں کیونکہ وہ اپنے جملہ اعمال کو خدا تعالیٰ سے منسوب کر تے ہیں ، قدری صاحبِ تفریط ہیں، کیونکہ وہ اپنے تمام اعمال کو خود سے منسوب کرتے ہیں اور خود کو فاعلِ مختار جانتے ہیں اس طرح ذاتِ احدیت کی قدرت کا انکار کرتے ہیں۔ مشببّی خدا تعالیٰ کو مخلوق کے مشابہ قرار دیتے ہیں اور مخلوق کی طرح خدا کی صورت کا بھی تعین کرتے ہیں۔ معطلی خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرتے ہیں جن کا کلامِ مجید میں بیان ہوا ہے۔ رافضی ائمہ اہلِ بیت کی محبت میں حد درجہ غلو سے کام لیتے ہیں اور اکثر اولین اہلِ ایمان کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے جبکہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے حق میں ارشاد فرمایا ہے کہ اﷲ ان سے راضی ہوا اور وہ اﷲ سے راضی ہوئے۔ خارجی ان ائمہ اہلِ بیت سے نفرت میں انتہائی درجہ کو پہنچے ہوئے جو بنی نوعِ انسان کے لیے چراغ ِ ہدایت ہیں اور اہلِ عالم کو اﷲ کے لیے، اﷲ کے ذریعے اﷲ کی طرف بلانے والے ہیں۔ ‘‘

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کو اس مرحلے پر اہلِ سنت والجماعت کے علاوہ دیگر تمام فرقے ناقص معلوم ہوتے ہیں۔ یہ تمام فرقے افراط و تفریط کا شکا ر ہیں۔ قرآن مجید نے خود ان فرقوں کے اندر موجود کمزوریوں کی نشاندہی فرمائی ہے ۔ اس ذیل میں آپ قرآن مجید کی آیتوں سے یو ں استنباط فرماتے ہیں۔

’’ اور میرے دل پر القا ہوا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُم (النسآء ۱۷۱) اور فرماتے ہیں بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط (اٰل عمران ۲۶) تاکہ جبریہ کے عقائد کا ابطال ہو ۔ اور فرماتے ہیں کہ اِنَّکَ عَلیٰ کُلّ ِ شَیْی ئٍ قَدِیْر’‘ o (اٰل عمران ۲۶) تاکہ قدریہ کے عقیدے کو باطل ثابت کیا جائے۔ اور فرماتے ہیں لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْیء ’‘ ج (الشوریٰ ۱۱) تاکہ مشببیہ کے عقیدے کو باطل قرار دیا جائے اور فرماتے ہیں کہ اِنَّہ‘ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُِ o (بنیٓ اسرآئیل۱) تاکہ معطلیہ کے عقیدے کا ردّ ہو۔ اور فرماتے ہیں قُلْ لاّ ٓ اَسِئَلُکُم عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ ط (الشوریٰ۲۳) تاکہ خارجیہ کے باطل عقیدے کی نفی ہو اور فرماتے ہیں کہ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَان ٍ لا رَّضِیَ اﷲ ُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنُہُ …(التوبۃ ۱۰۰) تاکہ رافضیہ کے باطل عقیدے کو جھٹلایا جائے اور مجھے معلوم ہوا کہ اہلِ سنت ہی صراط ِ مستقیم پر گامزن ہیں۔ ‘‘

اگرچہ شیخ ؒ اہلِ سنت کے عقیدے کو صراطِ مستقیم سمجھنے لگے کیونکہ یہ اعتدال کا راستہ تھا اور افراط و تفریط سے دور تھا ۔ اعتدال کا یہ تصور بدھ مت سے مماثل معلوم ہوتا ہے جسے شیخ ؒ ایک نامکمل دینی نظام قرار دے کر رد کر چکے تھے( یہ فاضل مؤلف کا اپنا نقطۂ نظر ہے ۔ مترجم اس سے متفق نہیں۔ اعتدال دینِ اسلام اور مذہبِ صوفیہ دونوں کا خاصہ ہے۔)۔ وہ سمجھنے لگے کہ اسلام ہی واحد سچا دین ہے اور اہلِ سنت اور دیگر فرقوں کی مثال ایسی ہے جیسے اسلام کے مقابلے میں دیگر ادیان ۔ لیکن پھر آپ نے دیکھا کہ خود اہلِ سنت کے ائمہ بھی آپس میں کسی بات پر متفق نہیں اور یہ مذہب بھی مختلف فقہی مسالک میں بٹا ہوا ہے جن کے علماء ایک دوسرے کا انکار کرتے ہیں۔ جس وقت آپ اہلِ سنت کی تفرقہ بازی اور اصل فرقۂ ناجیہ کی پہچان کے بارے میں فکر و تردّد کا شکا ر تھے تو اﷲ تعالیٰ نے ایک بار پھر آپ کی رہنمائی فرمائی۔ حق تعالیٰ نے اپنے نمائندے کو الروح المتکیہ کی صورت عالم ِ روحانی میں سمنان بھیجا، جس نے بزرگوں کی ایک جماعت کی طرف نشاندہی کی۔ اس روح نے شیخ ؒ کو باور کرایا کہ اﷲ تعالیٰ نے حق کا انکشاف اسی گروہ کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔ شیخ ؒ دل و جان سے اس گروہ کے آگے اپنے نفس کو غلام بنانے اور ان کے طریقے پر چلنے کے لیے آمادہ ہو گئے کیونکہ یہی صراط ِ مستقیم پر چلنے والا گروہ تھا۔ جب شیخ ؒ اس گروہ کے نزدیک پہنچے تو آپ نے ان کے چہروں پر سیماء الحق یعنی خدا کی نشانی دیکھی اور دیکھا یہ گروہ حق کے علاوہ کچھ نہ بولتا تھا۔

یقینا اس روح نے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کو صوفیہ ہی کی نشاندہی کرائی تھی۔ ( حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے اس بیان سے جو ’العروہ الاھل الخلوہ و الجلوہ‘ میں موجود ہے اور جسے فاضل مؤلف نے یہاں نقل کیا ہے، یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ حق سبحانہ‘ و تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی رہبری فرماتے ہوئے مذہبِ صوفیہ کو مذہبِ حقہ اور صراطِ مستقیم قرار دیا تھا۔ اس وضاحت کے بعد شیخ ؒ کو مذاہبِ اربعہ اہلِ سنت میں سے کسی ایک کا پیرو ثابت کرنا بے معنی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میر سید محمد نوربخش ؒ ، میر سید علی ہمدانی ؒ ، شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ اور سلسلۃ الذہب الصوفیہ کے دیگر کبار صوفیہ کی طرح آپ بھی مذہبِ صوفیہ پر کاربند تھے۔ اس اجمال کی تفصیل کے لیے شیخ ؒ کی تصنیف ’العروہ لاھل الخلوہ و الجلوہ‘ ص ۳۰۰ تا ۳۰۵ ، نیز راقم کی تالیف ’ میر سید محمد نوربخش ؒ اور مسلکِ نوربخشیہ‘ کا متعلقہ حصہ ملاحظہ فرمائیں۔(مترجم( آپ کو معلوم ہوا کہ ایک معین وقت میں ان بزرگوں کی ایک خاص تعداد دنیا میں موجود رہتی ہے۔ اور ان اولیاء کو درجہ و مرتبہ کے اعتبار سے سات گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، جو اہل الطلب، اہل الارادہ، اہل السلوک، اہل السیر، اہل الطیران، اور اہل الوصول ہیں اور آخری درجہ مرتبہ الموصل ہے جو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ہے۔

اس طرح شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ کس طرح دو روحانی تجربات کی روشنی میں آپ نے مذہبِ صوفیہ پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کیا ۔ ایک اور موقع پر جب آپ اربعین یعنی چلہ کشی میں مصروف تھے تو آپ پھر عالمِ روحانی میں پہنچے اور آپ پر القاء ہوا کہ صوفیہ کے مسالک میں سے بھی کامل ترین راستہ حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ کا ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔

’’ مکاشفے میں میں نے دیکھا کہ مریدی کی رسی قطبِ ولایت سے بندھی ہوئی ہے اور جس طرح حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ نے میرے وجود کو اپنے اختیار میں لے رکھا تھا اسے مجھے یقین ہو گیا کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ شیخ اسفرائنی ؒ ہی کا راستہ ہے۔ ‘‘

یہ حقیقت ہے کہ شیخ اسفرائنی ؒ آپ کی زندگی میں اہم ترین مرشد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ بعد کی تصنیفات میں شیخ ؒ نے شعوری طور پر دیگر صوفیاء کے ذکر سے گریز کیا ہے اور شیخ اسفرائنی ؒ ہی کو قطب الارشاد فی زمانہٖ کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شیخ ؒ نے دیگر اولیاء کا انکار کیا ہے بلکہ محض اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ خود ان کے لیے شیخ اسفرائنی ؒ ہی واحد مرشدِ حقیقی ہیں۔ دوسری طرف شیخ اسفرائنی ؒ بھی آپ کی طرف اسی قدر مائل تھے اور حکامِ وقت اور مریدوں میں آپ کے اعلیٰ مقام کی تعریف کرتے اور اپنی غیر موجودگی میں خانقاہ کے معاملات آپ کے سپرد فرماتے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کا زنجیرۂ تصوف شیخ اسفرائنی ؒ ہی سے وابستہ ہے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ

حضرت شیخ نور الدین اسفرائنی ؒ

حضرت احمد جورپانی

حضرت شیخ رضی الدین علی لالا ؒ (م ۶۴۲ھ/۱۲۴۴ء)

حضرت شیخ مجدد الدین بغدادیؒ (م ۶۱۶ھ/۱۲۱۹ء )

حضرت شیخ نجم الدین الخواقی کبریٰ ؒ (م ۶۱۷ھ /۱۲۲۰ء )

حضرت شیخ عمار بن یاسر بدلیسی ؒ (م ۵۹۰۔۶۰۴ھ/۱۱۹۴۔۱۲۰۷ء)

حضرت شیخ ابونجیب سہروردی ؒ ( م ۵۶۳ ھ / ۱۱۶۸ء)

حضرت شیخ احمد الغزالی ؒ (م ۵۲۰ھ /۱۱۲۶ء)

حضرت شیخ ابوبکر النساج ؒ (م۴۸۷ھ/۱۰۹۴ء)

حضرت شیخ عبدالقاسم الجورجانی ؒ (م ۴۶۹ھ/۷۷۔۱۰۷۶ء)

حضرت شیخ ابو عثمان المغربی ؒ(م ۳۷۳ھ/ ۸۴۔۹۸۳ء)

حضرت شیخ ابو علی الکاتب ؒ (م ۳۴۰ھ/۹۵۱ء)

حضرت شیخ ابو علی الرودباری ؒ (م ۳۲۲ھ/۹۳۴ء)

حضرت شیخ جنید البغدادی ؒ (م ۲۹۷ھ/۹۱۰ء)

حضرت شیخ سری سقطی ؒ

حضرت شیخ معروف الکرخی ؒ ( م ۲۰۰ھ/۸۱۵ء)

حضرت شیخ داؤد الطائی ؒ(م ۱۶۵ھ/۲۔۷۸۱ء)

حضرت شیخ حبیب العجمی ؒ (م ۱۵۶ھ/۷۷۳ء )

حضرت شیخ حسن البصری ؒ (م ۱۱۰ھ/ ۷۲۸ء)

حضرت علی ابن ابی طالب ؑ (م ۴۰ھ/۶۶۱ء)

حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم

(نوٹ) فاضل مؤلف نے یہ شجرۂ طریقت ’رسالہ فی الذکر اسامی مشائخی‘ سے اخذ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اکثر کتبِ تصوف میں سلسلۃ الذہب حضرت شیخ معروف ِ کرخی ؒ کے بعد حضرت امام علی رضا ؑ کے واسطے سے دیگر ائمۂ اہلِ بیت سے ہوتا ہوا حضرت علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ تک پہنچایا گیا ہے، جو حسبِ ذیل ہے:

حضرت شیخ معروف کرخی ؒ (م ۲۰۰ھ)

حضرت امام علی رضا ؑ (م ۲۰۳ھ)

حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ (م ۱۸۳ھ)

حضرت امام جعفر صادق ؑ(م۱۴۸ھ)

حضرت امام محمد باقر ؑ(م ۱۲۷ھ)

حضرت امام علی زین العابدین ؑ (م۹۴ھ)

حضرت امام حسین ؑ (م ۶۰ھ)

حضرت امام علی ابن ابی طالب ؑ (م ۴۰ھ)

حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلّم (م ۱۱ھ)

مزید تفصیل کے لیے راقم کی تالیف ’ میر سید محمد نوربخش ؒ اور مسلک ِ نوربخشیہ ص ۱۰۷ تا ۱۳۳ کا مطالعہ کیا جائے۔ (مترجم)

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے دو اورسلسلہ ہائے طریقت کابھی ذکر کیا ہے جو آپ نے شیخ ؒ اسفرائنی ؒ کی وساطت سے حاصل کیے۔ ان میں سے ایک طریق صبحات ہے اور مذکورہ بالا سلسلے سے مماثل ہے سوائے اس فرق کے ابوالقاسم جورجانی ؒ اور ابو عثمان مغربی ؒ کے درمیان منصورِ خلاف نامی بزرگ کا بھی نام مذکور ہوا ہے۔ دوسرا سلسلہ طریقہ انزوا و خلوت ہے۔ اس سلسلے کی سند حضرت ابو سعید ابی الخیر ؒ (م۴۴۰ھ/۱۰۴۹ء) سے ہے اور حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کے مشہور سلسلے سے جداگانہ سلسلہ ہے۔

حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ

حضرت شیخ احمد جورپانی ؒ

حضرت شیخ رضی الدین علی لالا ؒ

حضرت مجددالدین شیخان ؒ ( جن سے شیخ علی لالا ؒ نے خرقہ حاصل کیااور جو ابوسعید کے پڑ پوتے ہیں۔)

حضرت نور الدین منور ؒ (حضرت مجدد الدین کے والد)

حضرت ابو طاہر ؒ ( حضرت نور الدین ؒ کے والد)

حضرت ابو سعید ابی الخیر ؒ

حضرت فضل حسن سرخسی ؒ

حضرت سراج ؒ

حضرت محمد مرتعش ؒ

حضرت جنید بغدادی ؒ

خرقۂ تصوف

راہِ سلوک پر گامزن ہونے کے بعد حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے بیشتر خرقۂ ہائے تصوف اپنے شیخ حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ کی وساطت سے حاصل کیے۔ ان میں سے اولیں خرقہ یعنی خرقۂ ملمع کا ذکر گزر چکا ہے جو حضرت اسفرائنی ؒ نے اخی شرف الدین کی وساطت سے شعبان ۷۸۷ھ/ ستمبر۱۲۸۸ء میں ارسال فرمایا۔ یہ خرقہ شیخ ؒ کے حضرت اسفرائنی ؒ کے حلقۂ ارادت میں قبولیت کی نشانی کے طور پر عطا ہوا تھا۔ اس واقعے کے تقریباً دس سال بعد ۶۹۷ھ/۱۲۹۸ء میں حضرت اسفرائنی ؒ نے شیخ ؒ کو اپنا وہ خرقہ عطا فرمایا جو وہ مسلسل دس برس سے حالتِ ذکر میں زیبِ تن فرماتے آ رہے تھے۔ یہ خرقہ جسے شیخ ؒ خرقہ الذّکریہ کا نام دیتے تھے ، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ سے چلاآتا تھا ، جس کی سند حسبِ ذیل ہے:

حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ

حضرت اسمٰعیل حسین القیصانؒ

حضرت محمد بن منکیلؒ

حضرت داؤد بن محمد ؒ خادم الفقراء

حضرت ابوالعباس بن ادریسؒ

حضرت عبدالقاسم بن رمضان ؒ

حضرت ابو یعقوب الطبری ؒ

حضرت ابو عبداﷲ بن عثمان ؒ

حضرت ابو یعقوب النہراجوری ؒ

حضرت ابو یعقوب السوسی ؒ

حضرت عبدالواحد بن زید ؒ

حضرت کمیل ؒبن زیاد

حضرت علی ابن ابی طالب ؓ

حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے ایک خرقۂ تبرک بھی حاصل کیا جو حضرت شیخ اسفرائنی ؒ اور حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کے واسطے سے درج ِ ذیل سند کا حامل ہے:

حضرت عمار بدلیسی ؒ

حضرت ابونجیب السہروردی ؒ

حضرت وجیہہ الدین عمر ؒ (برادر حضرت عبداﷲؒ)

حضرت محمد بن عمویہ ؒ (پدرِ حضرت وجیہہ الدین و حضرت عبداﷲؒ)

حضرت احمد سیاح الدیناوریؒ

حضرت ممشاد الدیناوریؒ

حضرت جنیدِ بغدادیؒ

حضرت سری سقطی ؒ

حضرت معروف الکرخی ؒ

حضرت داؤد الطائی ؒ

حضرت حبیب العجمی ؒ

حضرت حسن البصری ؒ

حضرت علی ابن ابی طالب ؑ

حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم

اس خرقۂ تبرک کا ایک اور وسیلہ یوں ہے:

حضرت شیخ نورالدین اسفرائنی ؒ

حضرت رشید الدین ابو عبداﷲ ؒ

حضرت ابوالقاسم المقاریؒ

حضرت شہاب الدین عمر السہروردیؒ

حضرت ابو نجیب السہروردی ؒ

یوں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے سہروردی سلسلے سے خرقۂ تبرک دو واسطوں سے حاصل کیا تھا۔

مندرجہ بالا خرقوں کے علاوہ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ نے حضرت اسفرائنی ؒ سے خرقہ ہزار میخی بھی حاصل کیا جو ان تک حضرت نجم الدین کبریٰ ؒ سے حضرت مجدد الدین بغدادی ؒ اور حضرت علی لالاؒ کی وساطت سے پہنچا۔ شاید یہ وہ کلاہ ہے جسے کلاہِ ہزار میخی کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور جو حضرت نجم الدین کبریٰ ؒ کی ہے اور حضرت اسفرائنی ؒ نے شیخ ؒ کو رجب ۷۰۵ھ/ جنوری ۱۳۰۶ء سے کچھ مدت قبل عطا کی۔ ایک اور خرقہ جو شیخ ؒ حضرت اسفرائنی ؒ کی وساطت سے عطا ہوا اس میں حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا شانۂ مبارک (کنگھی) موجود تھا اور جو ابو رضا بابا رتن نے جو حضورؐ کے ہم عصر تھے حضرت شیخ علی لالاؒ کو سفرِ ہند کے دوران عطا کیا تھا۔ حضرت شیخ علی لالاؒ سے یہ حضرت احمد جورپانی ؒ کو اور پھر حضرت نورالدین اسفرائنی ؒ کو پہنچا۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ راہِ تصوف میں قدم رکھنے کے لیے مرشدِ کامل سے وابستگی کو انتہائی ضروری سمجھتے تھے۔ آپ نے جملہ مشائخین ِ متقدمین سے استفادہ فرمایا۔ اس راہ میں آپ کے اولیں استاد حضرت ابو یزید بسطامی ؒ تھے جو عالمِ روحانی میں تقریباً دو برس تک آپ کی رہنمائی فرماتے رہے۔ اصول ِ تصوف کو سیکھنے ، یاد کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے سلسلے میں صاحبِ ’قوت القلوب ‘ حضرت ابو طالب مکی ؒ آپ کے استاد تھے۔ ترکِ دنیا اور راہِ فقر اختیار کرنے کے باب میں حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ آپ کے استاد بنے۔ مودت اور فتوت کے اصول آپ نے حضرت ابو حفص الحداد النیشاپوری ؒ سے سیکھے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے اپنے مرشد حضرت شیخ اسفرائنیؒ کے علاوہ اس عہد کے دیگر علماء سے بھی رابطے تھے۔ بغداد میں قیام کے دوران آپ نے علمِ حدیث پر خصوصی توجہ دی۔ اس علم میں آپ کے اساتذہ محمد بن عبداﷲ الرشیدبن ابوالقاسم البغدادی اور عز الدین عبداﷲ بن عمر بن الفرج الفاروثی ؒ تھے ۔ مؤخر الذکر جن کا مذہب شافعی تھا، راہ ِ تصوف پر بھی گامزن تھے ۔ وہ ابو حفص عمر بن کرم بن ابی الحسن الدیناوری اور شہاب الدین سہروردی ؒ کے ہمدرس تھے اور مؤخر الذکر سے انہوں نے خرقۂ تصوف بھی حاصل کیا تھا۔ فاروثی سے روحانی کسبِ فیض کا علم نہ ہونے کے باوجود شیخ ؒ کے ان سے تعلقات سہروردی سلسلے سے آپ کی وابستگی کا پتہ دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ اور حضرت صدر الدین حمویائے جوینی (م۶۴۴ھ/۱۲۴۶ء) کے تعلقات ہیں جو حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کے مرید حضرت سعد الدین حمویہ کے بیٹے تھے۔ حضرت صدر الدین حدیث کے عالم تھے اور حصول ِ علم کے لیے انہوں نے دور دراز کے سفر اختیار کیے تھے۔ ابن الکربلائی انہیں صفی الدین اردبیلی ، عبدالرزاق کاشانی اور حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی ؒ کی طرح اپنے وقت کا عظیم شیخ ِ طریقت اور مرشد قرار دیتے ہیں۔ ان کی قدرو منزلت کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُن کی تبلیغ سے غازان نے شعبان ۶۹۴ھ/جون۱۲۹۵ء میں اسّی ہزار منگولوں کے ہمراہ اسلام قبول کیا۔ حضرت صدر الدین کے الخانیدی دربار سے گہرے تعلقات تھے۔ ۶۷۱ھ/۷۳۔۱۲۷۲ء میں انہوں نے مشہور مؤرخ عطا ملک جوینی (م ۴۸۱ھ) کی صاحبزادی سے نکاح کیا۔ عطا ملک جوینی کا بھائی شمس الدین صاحب ِ دیوان کے عہدے پر فائز تھا اور ۱۸۳ھ/۱۲۸۴ء میں انہیں قتل کر دیا گیا۔

صدر الدین ابراہیم سلسلۂ کبرویہ کے شیخ تھے۔ علاوہ بریں صفادی کو حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کا شاگرد ہونے کا دعویٰ ہے۔ چنانچہ یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ شیخ ؒ نے اپنی تحریروں میں ان کا ذکر کیوں نہیں کیا حالانکہ صدر الدین حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی طرح حدیث کے عالمِ متبحر تھے اور دونوں کے اساتذہ بھی مشترک تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے شاگرد بھی مشترک تھے۔ شاید اس کا سبب سمنانی اور جوینی خاندانوں کا منگول دربار میں مناقشہ تھا کیونکہ صدرالدین شادی کے بعدجوینی خاندان سے رشتہ داری میں بھی منسلک تھے اور ان کا تعلق بھی بحر آباد سے تھا جو علاقہ جوین کا ایک قصبہ ہے۔ خراسان میں سمنان اور جوین کے درمیان الخانیدی سلطنت کا مرکز ِ اقتدار بننے کی مسابقت چل رہی تھی اور سمنانیوں کے برعکس جوینی ارغون کے ساتھ مناقشے میں احمد تاکودار کا ساتھ دے رہے تھے۔ شیخ ؒ کی صدر الدین سے سرد مہری کی اہم وجہ ان کے والد سعد الدین ہو سکتے ہیں۔ سعد الدین سلسلۂ کبرویہ سے کلی طور پر منسلک نہیں تھے۔ بغدادی جن کا شیخ ؒ نہایت احترام کرتے ہیں ان سے بلکہ پورے حمویہ خاندان سے بدظن تھے۔ اور شیخ احمد جورپانی ؒ نے بھی سعد الدین حمویہ سے ملاقات سے انکار کیا تھا۔ اس مخاصمت کی بنیادی وجہ سعد الدین کے سرّی عقائد اور علم الاعداد سے ان کی دلچسپی تھی جس کا اظہار ان کی کتابوں ’بحرالمعانی‘ اور ’ کتاب المحبوب‘ سے ہوتاہے۔ نیز ابن عربی ؒ کے بھی وہ نہایت معتقد تھے۔

رفقاء اور مریدین

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے ہم عصر صوفیاء میں سے اہم ترین عبدالرزاق کاشانی ہیں ، جو ابن عربی ؒ کے معتقد تھے اور شیخ ؒ کے ان سے گہرے تعلقات تھے۔ خدا اور کائنات کے باہمی رشتے پر ان دونوں میں تبادلۂ خیال ہوتا رہتا تھا۔ شیخ ؒ عقیدۂ وحد ت الوجود کی علانیہ مخالفت کرتے تھے ۔ اس ضمن میں صفی الدین ابو الفتح اسحاق اردبیلی ؒ جو صفوی صوفی سلسلے کے مؤسس ہیں ، شیخ ؒ کے ہمنوا تھے۔ چہل مجلس کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ ؒ کے ان سے دوستانہ مراسم تھے۔

شیخ ؒ کی صلاح الدین حسن البلغاری سے بھی مراسلت تھی جو نخجیوان میں ۶۰۳ھ میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں گرفتار ہو کر بلغار پہنچے۔ تقریباً تیس سال بعد وہ ایران واپس پہنچے اور کرمان میں سکونت اختیار کی۔ بعدازاں وہ شیخ ِ طریقت بنے اور حضرت شیخ شمس الدین تبریزی ؒ سے خرقہ ٔ تصوف حاصل کیا۔ انہوں نے بظاہر الخانیدی دربار سے تعلق قائم رکھااور جمادی الاول ۶۹۸ھ/ فروری ۱۲۹۹ء میں ڈاکوؤں کے ایک گروہ کی طرف سے کرمان میں لوٹ مار سے قبل انہوں نے تبریز کا سفر اختیار کیا ۔ اسی سال انہوں نے تبریز میں وفات پائی۔ شیخ ؒ بلغاری کو اپنا استاد مانتے ہیں اور اپنے مکتوبات میں انہیں ’پدرم‘ کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح بلغاری بھی شیخ ؒ کو اپنا فرزند سمجھتے تھے۔

نقشبندی کتب میں شیخ ؒ کی علی النساجی رامتینی سے بھی مراسلت کا ذکر ہے جو حضرت عزیزان یا خواجۂ عزیزان کے نام سے مشہور تھے اور خواجہ فغنوی مولوی کے مرید تھے۔ ان سے شیخ ؒ کی مراسلت کا بنیادی موضوع ذکر خفی و جلی کی بحث ہے ۔ شیخ ؒ ذکر ِ خفی کے قائل تھے۔

مذکورہ بالا افراد وہ بزرگ ہیں جن کے ساتھ شیخ ؒ نے زیادہ قریبی تعلق قائم رکھا۔ تاہم آپ نے صفی الدین اردبیلی ، شمس الدین اسواجی الشوستری، اور احمد مولانا کے استاد زاہد ابراہیم گیلانی (م۷۰۰ھ) جو خوارزم میں مدفون ہیں، اور تاج الدین کرکاری سے بھی سلسلۂ مراسلت رکھا۔ آپ نے درگزین کے جمال الدین الدرگزینی اور یمن کے ابن عاجل کا بھی ذکر فرمایا ہے۔

حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی حیات میں آپ کے شاگردوں اور مریدوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی جن میں سے بعض نے تصوف کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کے مریدین کا ایک اندرونی حلقہ ایسا تھا جس کے ساتھ آپ کے نہایت قریبی تعلقات تھے اور آپ انہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھتے تھے۔ بدقسمتی سے سمنانی ؒ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ اس عہد کے تذکروں میں ان کا ذکر موجود نہیں اور جو تھوڑا بہت علم ان کے بارے میں حاصل ہوتا ہے اس کی بنیاد شیخ ؒ کی اپنی تحریریں، آپ کے شاگرد اقبال سیستانی ؒ کی چہل مجلس، اشرف جہانگیر سمنانی ؒ کی لطائف ِ اشرفی اور دیگر صوفیانہ کتابوںمیں ملنے والے اتفاقی اشارے ہیں۔ ذیل میں ان مریدین کا ذکر ہے جو آپ کے خلفاء تھے اور ان میں سے اکثر غالباً نظامِ فتوّت سے وابستگی کی بنیاد پر اخی بھی کہلاتے تھے۔

۱۔ اخی ابوالبرکات تقی الدین علی دوستی سمنانی ؒ (م ۷۳۴ھ) سمنانی ؒ کے اولیں مرید تھے اور شاہ ہمداں امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ ، جوکہ آپ کے بعد سلسلۂ کبرویہ کے معروف ترین بزرگ ہیں، کے دو اساتذہ میں سے ایک تھے۔ شیخ ؒ نے انہیں رمضان ۷۱۴ ھ میں سندِ ارشاد عطا کی اور سمنان کی جامع مسجد کے بالمقابل واقع خانقاہ روضا کا شیخ مقرر کیا۔ سمنانی ؒ نے انہیں بعض اوقاف کا بھی انتظام سونپا۔ ۷۳۱ھ میں وہ ہمدان میں غالباً میر سید علی ہمدانی ؒ کی تعمیر کردہ خانقاہ میں آئے۔ ان کی وفات یا ہمدان میں ہوئی یا صوفی آباد خدادا د میں، جہاں وہ مدفون ہیں۔

۲۔ شرف الدین محمود مزدقانی ؒ (م ۷۶۶ھ) میر سید علی ہمدانی ؒ کے دوسرے استاد تھے جو ۷۳۲ھ میں مزدقان میں شیخ طریقت بن گئے تھے۔ آپ کے بارے میں معلومات محض ’چہل مجلس‘ یا میر سیدعلی ہمدانی ؒ کے سوانحِ حیات ’خلاصۃ المناقب‘ میں ملتے ہیں جو میر کے مرید نورالدین جعفر بدخشی ؒ کی تصنیف ہے۔ بظاہر شیخ مزدقانی ؒ کا روحانی درجہ علی دوستی ؒ سے زیادہ تھا اور انہوں نے مؤخر الذکر کو شیخ سمنانی ؒ کے طریقۂ ذکر کی تعلیم دی تھی۔

۳۔ علی مصری ؒ شام اور اناطولیہ میں شیخ ِ طریقت تھے۔ انہوں نے حضرت شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ کی شہرت سن کر سمنان جانے اور آپ کی مریدی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے جملہ شاگردوں کو بھی اپنے ہمراہ لے آئے۔ چہل مجلس کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیخ سمنانی ؒکے عالمِ متبحّر مریدوں میں شامل ہوتے تھے۔

۴۔ عزیز الدین محمد دہستانی ؒ نے ابتدا ہی میں شیخ ؒ سے تعلق پیدا کر لیا تھا۔ آپ شیخ ؒ کے قریبی شاگردوں میں سے تھے اور سفرِ حج میں آپ کے ہمراہ تھے۔ ’فرحت العاملین و فرجت الکاملین‘ انہی کی درخواست پر لکھی گئی۔

۵۔ نجم الدین محمد بن شرف الدین محمد الدھکانی الاسفرائنی آپ کے خلیفہ ہونے کے علاوہ علم حدیث میں آپ کے ہمدرس بھی تھے۔ طویل عمر پا کر ۷۷۸ھ میں فوت ہوئے اور اسفرائن کے قریب مدفون ہوئے۔

۶۔ اخی ابو الموحد محسن الدین الاحمدی ترکستان میں شاہ اغول بن قاعد کے درباری تھے۔ ایک باطنی تجربے کے نتیجے میں انہوں نے دربار سے علیٰحدگی اختیار کر لی۔ سمنانی ؒ اس واقعے کی خود اپنے تجربے سے مماثلت سے متاثر ہوئے اور اس کا ذکر ’ بیان الاحسان لاھل العرفان‘ نامی کتاب میں کیا ہے، جو شیخ نے انہیں ذوالقعدہ ۷۱۲ھ میں لکھوانا شروع کی۔ شیخ ؒ نے اخی کو جمادی الثانی ۷۲۲ھ میں ’رسالہ صدائف الطائف ‘ بھی لکھوانا شروع کیا۔

۷۔ وجیہ الدین عبداﷲ غرجستانی طوس میں شیخِ طریقت بنے جہاں انہوں نے مقامی حاکم سے قریبی تعلقات رکھے۔ وہ ایک جنگ میں شہید ہوئے اور طوس واپس لا کر دفن کر دیئے گئے۔ یہ غالباً وہی وجیہ الدین ابوالمحاسن عبداﷲ ہیں جن کا ذکر سمنانی ؒ کی ’ فرحت العاملین ‘ میں ہے اور جنہوں نے شیخ سے راہِ سلوک کے مکاشفات کے مدارج پر مشتمل ایک رسالہ ’ حقائق الحقائق‘ لکھنے کی فرمائش کی تھی۔

سمنانی ؒ کے دیگر قریبی مریدین جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے ، حسب ِ ذیل ہیں:

محمد خورد (یاخردجن کی فرمائش پر شیخ نے رسالۂ نوریہ لکھا)، عبداﷲ الحباشی، اخی علی رومی، اخی علی سیستانی، شمس الدین گیلانی، شاہ علی فراہی، تاج الدین محمد القشیری ( جن کی فرمائش پر رجب ۶۹۹ھ میں ’قواعد العقائد‘ کی تصنیف عمل میں آئی۔)

کئی ایسے بزرگ جو شیخ ؒ کے درس میں کم مدت رہے ، لیکن انہوں نے ہند ایرانی تہذیب میں فروغ ِ تصوف کے باب میں اہم کردار ادا کیا ، حسبِ ذیل ہیں:

۱۔ اقبال شاہ جلال الدین بن سابق سیستانی (اقبال سیستانی م ۷۸۵ھ) سجستان کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور اکثر صوفی آباد خداداد آتے تھے۔ حضرت سمنانی ؒ کی اجازت سے انہوں نے ۷۲۴ھ کے اواخر میں شیخ کی ملفوظات کو جمع کرنا شروع کیا اور ۷۳۵ھ تک اس کاوش کو جاری رکھا۔ یہ تالیف جو چہلِ مجلس، فوائد اور رسالۂ اقبالیہ کے ناموں سے موسوم ہے، شیخ ؒ کی حیات اور افکار کاسب سے معروف ماخذ ہے۔ اقبال سیستانی اور اشرف جہانگیری نے شیخ سمنانی ؒ اور عبدالرزاق کاشانی کے درمیان ہونے والی مراسلت میں بھی رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔

۲۔ اشرف جہانگیر بن سید محمد ابراہیم سمنانی ؒ سمنان کے حاکم تھے جنہوں نے حکومت اپنے چھوٹے بھائی کے سپرد کرکے خود حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی مریدی اختیار کر لی۔ اوائلِ جوانی میں ہی وہ ایران چھوڑ کر وسط ایشیاء گئے اور ایک مدت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند ؒ کی درس میں رہے جہاں وہ خواجہ محمد پارسا سمیت بہت سی نقشبندی شخصیات سے ملے۔ یہاں سے وہ ہندوستان گئے اور طویل سیاحت کے بعد کچھاوچھا میں سکونت اختیار کر لی۔ ان کی تصانیف ’لطائف اشرفی‘ اور ’مکتوباتِ اشرفی‘ کے مطالعے سے ان کے مذہبی خیالات پر حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی تعلیمات کے گہرے اثر کا پتہ چلتا ہے لیکن فلسفیانہ امور میں وہ اپنے دوسرے شیخ عبدالرزاق کاشانی ؒ سے زیادہ متاثر ہیں۔ قیامِ ہندوستان کے دوران میں وہ اس دور کے کئی مشہور صوفیا سے ملے جن میں علاء الدین لاہوری (پنڈوا کے سلسلہ چشتیہ کے بزرگ قطبِ عالم کے شیخ ) اور سید محمد حسینی گیسودراز (م ۸۲۵ھ) شامل ہیں۔ اشرف جہانگیر کے جونپور کے حکمران سلطان ابراہیم شاہ شرقی سے قریبی تعلقات تھے۔ شیخ قطبِ عالم کے ایما پر انہوں نے سلطان کو ایک خط لکھ کر دیناج پور بنگال کے راجہ گنیشا پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دی۔ انہوں نے مالوہ کے سلطان ہشنگ کے لیے بھی انتظامی امور میں مشاورت کی۔ عام اتفاق یہ ہے کہ اشرف جہانگیری نے ۲۷ محرم ۸۰۸ھ کو وفات پائی ۔ لیکن اگرچہ راجہ گنیشا والی بات درست ہے تو ۸۱۸ھ تک ان کا بقیدِ حیات ہونا ثابت ہوتاہے۔

۳۔ میر سید علی بن شہاب الدین محمد ہمدانی (سید علی ہمدانی ؒ ۱۲ رجب ۷۱۴ھ تا ۶ ذوالحج ۷۸۶ھ) حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے بھتیجے تھے اور آپ کی بہن فاطمہ کے بطن سے تھے۔ میر کی ابتدائی تعلیم حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی زیرنگرانی ہوئی ، بعد ازاں شیخ نے آپ کو اپنے مرید شیخ محمود مزدقانی ؒ کی خدمت میں بھیجا ، جبکہ مؤخر الذکر نے آپ کو بغرض تعلیم و تربیت اخی علی دوستی ؒ کی خدمت میں روانہ کیا۔ اخی کی وفات کے بعد آپ شیخ مزدقانی ؒ کی خدمت میں واپس آئے۔ اگرچہ یہ قرینِ قیاس نہیں کہ میر کی صوفیانہ تربیت آپ کے ماموں کے پاس ہوئی لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ شیخ سمنانی ؒ کی صوفیانہ روایت سے بہت متاثر تھے اور مذکورہ دو بزرگوں سمیت شیخ سمنانی ؒ کے بہت سے مریدوں سے آپ نے تعلیم پائی تھی۔ فتوّت میں آپ کے شیخ محمد الذکانی تھے۔ آپ نے اخی علی مصری اور اخی محسن سے بھی تعلیم پائی ۔ شیخ سمنانی ؒ کے برعکس آپ اپنی شاعری میں ’علائی ‘ تخلص اختیار کرتے ہیں۔

ایران اور باہر کی دنیا میں طویل سفر کے بعد میر سید علی ہمدانی ؒ ۵۴ ۷ ھ میں ہمدان میں مقیم ہوئے ، لیکن تیمور کے فتحِ خراساں (۷۷۲ھ) کے بعد آپ اشرف جہانگیر سمنانی ؒ کے ہمراہ ایران سے نکلے اور بدخشاں کے شہر ختلان پہنچے۔ یہاں سے آپ ۷۸۱ھ میں کشمیرکے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ قیامِ کشمیر کے دوران آپ کا سلطان قطب الدین پر بڑا اثر اور نفوذ رہا لیکن قطب الدین کی طرف سے بعض اسلامی احکام کی پاسداری میں عدم دلچسپی سے نالاں ہو کر ۷۸۴ھ میں ترکستان روانہ ہوئے اور اگلے سال مختصر مدت کے لیے کشمیر واپسی کے بعد دوبارہ ماوراء النہر کا سفر اختیار کیا۔ اس سفر کے دوران آپ نے کُنار کے مقام پر وفات پائی اور ختلان میں مدفون ہوئے۔ میر سید علی ہمدانی ؒ کے فرزند میر محمد ہمدانی نے ۸۰۵ھ میں سری نگر میں سکونت اختیار کر لی اور سلطان سکندر بت شکن کے دور میں اہلِ سنت کی مذہبی زندگی میں بیشتر اصلاحات کے ذمہ دار بنے۔

میر سید علی ہمدانی ؒ کے مرید اور دامادخواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے اپنے مرید اور شاگرد سید محمد نوربخش ؒ (م۸۶۹ھ/۱۴۶ء) کے مہدویت کے اعلان کے ساتھ خروج کیا۔تیموری بادشاہ شاہ رخ نے اس بغاوت کو جلد فرو کر دیا اور خواجہ اسحاق ؒ کو ۸۲۶ھ میں شہید کروا دیا۔ میر سید محمد نوربخش ؒ اپنے شیخ کے برعکس دعویٰ مہدویت میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے ، چنانچہ سلطان نے آپ کو معاف کر دیا۔(نوٹ)(مسلکِ نوربخشیہ کے پیروکار اس نقطۂ نظر کے حامی نہیں ہیں، جیسا کہ فاضل مؤلف کا موقف بھی یہی ہے کہ میر نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کے لیے مترجم کی تالیف ’میر سید محمد نوربخش ؒ اور مسلکِ نوربخشیہ‘ اس موضوع پر موجود تفصیلی بحث کو ملاحظہ کیا جائے۔ (مترجم)) میر سید محمد نوربخش ؒ سلسلۂ کبرویہ ہمدانیہ کے رہبر بنے۔ جبکہ ختلانی ؒ کے ایک دوسرے مرید شہاب الدین عبداﷲ برزش آبادی (۸۷۲ھ)نے نوربخش ؒ کی سیادت کو ماننے سے انکار کر دیا اور نامعلوم تاریخ کو ذہبیہ کے نام سے ایک نئے سلسلے کی بنیاد رکھی۔ نوربخشیہ اور ذہبیہ سلسلہ جو حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی روایتِ تصوف و سلوک کے وارث ہیں ، آج بھی ایران کے دو اہم سلاسلِ تصوف شمار ہوتے ہیں۔

۴۔ شیخ خلیفہ ماژندرانی جو سربدار تحریک کے بانی ہیں، شیخ سمنانی ؒ کے مریدو ںمیں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن شیخ ؒ کے ساتھ ان کے تعلقات نہ تو قریبی تھے اور نہ دیرپا ثابت ہوئے۔ ایک دن جب سمنانی ؒ نے خلیفہ ماژندرانی سے سوال کیا کہ اہل سنت کے چار فقہی مسالک میں سے وہ کس کو مانتے ہیں تو خلیفہ نے جواب دیا کہ وہ ابھی اسی تلاش و جستجو میں ہیں کہ ان میں سے بہترین فرقہ کون سا ہے۔ اس جواب کے سنتے ہی شیخ نے اپنی سیاہی بھری دوات خلیفہ پر پھینک دی اور یوں ان کے تعلق کا خاتمہ ہوا۔ خلیفہ بغداد جا کر شیعہ عالم غیاث الدین ہیبت اﷲ المحمودی حمویہ کے درس میں شامل ہوئے۔ پھر سبزوار چلے گئے جہاں وہ ایک کثیر مقامی شیعہ آبادی کو اکسانے میں کامیا ب ہوئے۔

۵۔ عبید اﷲ بیبادی کا ذکر شجر ۃ الطبقات المشائخ میں جو علی کشمیری کا لکھا ہوا سلسلہ کبرویہ ہمدانیہ کا صوفیانہ تذکرہ ہے، شیخ سمنانی ؒ کے مرید کے طور پر کیا گیا ہے۔ بیبادی ابوطاہر خوارزمی کے استاد ہیں جو زین الدین ابو بکر علی تائب آبادی کے شیخ ہیں۔ مؤخر الذکر تیموری دور کی معروف دینی شخصیت ہے۔ جامی ؒ کے بقول تائب آبادی نے بابا محمد طوسی (سمنانی ؒ کے مرید عبداﷲ غرجستانی ؒ کے شاگرد) اور سلسلۂ نقشبندیہ کے شیخ خواجہ محمد پارسا سے بھی تعلیم حاصل کی ۔

۶۔ خواجو کمال الدین ابو العطا محمود بن علی کرمانی (خواجو ی کرمانی م ۷۴۲ھ) مشہور فارسی شاعر ہیں اور ان کے اثر و نفوذ کو حافظ شیرازی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ کرمان میں اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد سمنانی ؒ کے مرید بنے۔ بعد ازاں وہ ابو اسحاق انجو کی زیر سرپرستی شیراز میں قیام پذیر ہوئے۔ انہوں نے سلطان ابو سعید اور مظفری مبارز الدین محمد اور ان کے وزراء کے لیے قصائد لکھے۔ غالباً انہوں نے حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی کچھ شاعری کی ترتیب و تدوین بھی کی۔

شیخ کے بعض دیگر مریدین کے نام یہ ہیں:

سلمان ساوجی (م ۷۶۹ھ) مشہور فارسی شاعر جو امیر حسن نویان اور ان کے بیٹے سلطان اویس ایلکانی کے دربار سے وابستہ تھے اور دیوانِ سمنانی ؒ کے مرتب ہیں، منہاج بن محمد السرائی، خواجہ ابوالفتح قطب الدین یحییٰ( م ۲۱ جمادی الثانی ۷۴۸ھ) جو ملک معز الدین حسینی کرت کے رفقاء میں سے تھے، مولانا جلال الدین عتیقی، مجددالین اسماعیل سیسی، اور الجایتو کے وزیر علاء الدین ہندو۔ حسن البلغاری کے نام شیخ ؒ کے خط سے دو اور حضرات بدرالدین براعی اور امین الدین علی کے نام آئے ہیں جو سمنان سے بلغاری کے پاس آئے۔ امیرشرف الدین ابراہیم بن صدر الدین محمد اور شیعی عالم رکن الدین قزوینی نے شیخ سمنانی ؒ اور صدر الدین ابراہیم حمویہ دونوں سے تعلیم پائی۔

مذکورہ بالا حضرات سمنانی ؒ کے مرید تھے۔ ان کے علاوہ علم ِ حدیث میں بھی آپ کے شاگرد تھے ۔ اس ذیل میں ان کے خلیفہ محمد الذکانی صفادی نے دو شاگردوںسراج الدین قزوینی اور امام الدین علی بن مبارک البکری کا ذکر کیا ہے۔ سراج الدین عمر بن علی جو عراق کے شیخِ حدیث ہیں، رشید بن ابوالقاسم کے درس میں رہے ہیں۔ امام الدین البکری غالباً امام الدین علی بن ابو بکر النساوی الشیرازی ہیں جو ۷۰۹ھ میں متولد ہوئے اور دمشق ، قاہرہ اور یروشلم میں تعلیم پائی۔٭