حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ کو بعض رجال الغیب سے ملاقات کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ اہل اللہ تو دراصل رجال الغیب کے طالب ہوتے ہیں۔ چونکہ ان رجال اور اولیاء کاملین میں روحانی اور عرفانی رشتہ قائم ہوتا ہے۔ بعض اولیاء کرام رحمہم اللہ کے بہت سے رجال الغیب اور حضرت خواجہ خضر علیہ السلام کے دوست اور مصاحب گزرے ہیں۔ جیساکہ حضرت قطب السالکین علاؤ الدولہ سمنانی رحمۃ اللہ علیہ مصاحبِ خضر ؑ کے نام سے ہی معروف تھے۔اُن کے پاس خواجہ خضر ؑ کی کئی عنایات اور تحفے موجود تھے۔ اسی طرح حضرت شیخ معروف الکرخی قدس سرہ العزیز نے بھی اپنے دور کے رجال الغیب سے ملاقاتیں کیں اور اُن کے مصاحب بنے ہیں۔
چنانچہ علامہ ابن الجوزی نے ابن القدامہ مقدسی کی کتاب التوابین اور الروض اخلاق سے روایات نقل کی ہیں۔ کہ یحییٰ بن حسن الرازی نے حضرت شیخ معروف الکرخی سے بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ ایک نوجوان کو باؤلاپن کا شکار دیکھا۔ شکل وصورت سے خوبصورت تھا۔ اس کے پیشانی پر دو دلکش زلفیں سجی ہوئی تھی۔ سر پر قیمتی چادر اور جسم پر ایک گراں بہا قمیض تھی۔ پاؤں میں دیدہ زیب جوتے تھے۔ حضرت شیخ معروفؒ فرماتے ہیں کہ میں متعجب ہوا کہ یہ نوجوان ایسی جگہ پر اس حد تک بن ٹھن کر اور زیب وزینت کے ساتھ موجود ہے۔ بہر حال میں نے کہا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ اس نے میرے سلام کے جواب میں کہا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ چاچا جی۔ میں نے اس نوجوان سے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا کہ شہر دمشق سے۔ میں نے پوچھا تم وہاں سے کس وقت نکلے تھے؟ اس نے کہا چاشت کے وقت (یعنی نو۔ دس بجے) میں اس بات پر متعجب ہوا کہ جہاں نوجوان موجود ہے اس جگہ اور دمشق کے درمیان کئی مراحل پر اس بندے کو دیکھا تھا۔ میں نے پوچھا تم نے کہاں جانا ہے؟ اس نے کہا مکہ۔ تو مجھے یقین ہوگیا کہ کوئی رجال الغیب ہے۔ میں نے انہیں الوداع کہا اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ یہاں تک کہ تین سال گزرگئے کہ میں نے انہیں نہیں دیکھا۔ لیکن ہوا یہ کہ ایک دن میں اپنے ہی گھر میں اس کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اچانک کسی آدمی نے دروازے پر دستک دی۔ جب میں نے دیکھا تو وہی نوجوان (رجال الغیب) کھڑا ہے۔ سلام کرنے کے بعد میں نے خوش آمدید کہا اور انہیں اپنے گھر لے آیا۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بڑی محبت اور والہانہ انداز میں مجھ سے مل رہا ہے۔ اُس کے بدن پر کھلا اور پھیلا ہوا اونی جبّہ ہے۔جب میں نے ان سے پوچھا کیا حال چال ہے؟ اس نے کہا۔ استاد جی کیا کہیں! کسی نے مجھے بہت پیار دیا۔ یہاں تک کہ میں اس کے جال میں پھنس گیا۔ پھر اس نے مجھے پھینک دیا۔ کبھی وہ مجھ سے پیار کرتا ہے کبھی وہ مجھے دھتکارتاہے۔ کبھی مجھے ڈراتا ہے تو کبھی پھر میری توقیر کرتا ہے۔ تو میں اچانک بعض اولیاء کرام کے اَسرار سے آگاہ ہوتا ہوں۔ پھر وہ میرے ساتھ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ حضرت معروفؒ فرماتے ہیں کہ اس کی ان باتوں نے مجھے رونے پر مجبور کردیا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ کے ساتھ مزید کیا کچھ گزرا اور ہمارے درمیان جدائی کے اس عرصے میں کیا بیتا؟ کچھ بتادیجئے۔ اس نے کہاکہ دور کی بات! میں چاہتاتھا لیکن وہ مجھ سے چھپاتے تھے۔ لیکن آپ اور میرے درمیان پائی جانے والی گفتگو میں کوئی نئی بات نہیں کہی جس سے میرے زینے میں کمی آگئی ہو (یعنی ہماری طریقت میں ہم آہنگی موجود تھی) میں نے پوچھا اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اس نے مجھے تیس دن بھوکا رکھا۔ پھر میں ایک بستی میں ککڑی والے کسی کھیت میں چلا آیا۔ جہاں ککڑی کے پودوں اور پھلوں کی بھرمار تھی یہیں بیٹھا اور خوب کھاتا رہا۔ اتنے میں کھیتی کے مالک نے دیکھا۔ اس نے مجھے زدوکوب کیا۔ میری پشت پر اور پیٹ دونوں پر مارا اور کہا اے چور! آج تک میری فصل کو کسی نے خراب نہیں کیا لیکن آج تم نے ۔ میں دیر سے دیکھ رہا تھا کہ یہ کون ہوگا؟ لیکن پتہ چلا کہ تم ہی میری ککڑی برباد کررہے تھے۔ وہ میری پٹائی کررہے تھے کہ اتنے میں فارس کی طرف سے ایک شخص دوڑتا ہوا اس کی طرف آیا۔ جو بڑے غصے میں تھا اور کہا کہ تم خدا کے اولیاء میں سے ایک ولی پر تشدد اور چڑھائی کررہے ہو۔ تو مالک نے کہا اے چور! پھر کھیتی کا مالک میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گیا۔ اس نے میری عزت میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ پھر اس نے مجھے کھائی ہوئی ککڑی اور نقصان معاف کردیا۔ اور ساری کھیتی حضرت شیخ معروف کے اصحاب یعنی فقراء کے لئے وقف کردی۔ میں نے اس مالک سے کہا کہ یہ معروف کون ہے؟ اس کا تعارف کرائیں تو اس نے مجھے آپ کے تمام اوصاف بیان کئے۔ جنہیں میں نے آپ کے اندر مشاہدہ کیا تھا۔ حضرت شیخ معروف ابھی کچھ کہنے والے تھے اتنے میں کسی نے دروازے پر دستک دی۔ وہ اسی کھیتی کا مالک تھا۔ اور وہ بھی ہمارے پاس آگیا اور وہ مالامال ہوکر آیا تھا۔ اس نے اپنی ساری پونجی نکالی اور فقراء پر خرچ کردی پھر وہ اور وہ نوجوان ایک سال تک ساتھی بنے رہے۔ اور ہم حج کے لئے روانہ ہوگئے پھر وہ دونوں زبدہ کے مقام پر فوت ہوگئے۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ یہ دونوں مکہ مکرمہ میں انتقال کرگئے۔ اور لمعلاۃ، زبدہ جو مدینہ کے قریب کوئی جگہ ہے جہاں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہٗ کا آستانہ بھی پایا جاتا ہے وہیں مدفون ہوئے۔
دوسری روایت میں ہے کہ بعض اصحابِ معروف نے بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا میں نے ایک دن عجب المنظر آدمی کو دیکھا ۔ اس کے ساتھ کوئی دوسرا آدمی بھی نہیں تھا۔ میں چلتے چلتے اس کے نزدیک پہنچ گیا۔ میں نے سلام کیا تو سلام کا جواب ملا۔ میں نے کہا اللہ تم پر رحم کرے تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کیا تم نے ایسا آدمی دیکھا ہے جسے پتہ نہیں کہا ں جارہا ہے؟ اس نے کہا ہاں ان میں سے ایک میں ہوں۔ کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ تو وہ بولا مکہ۔ میں نے کہا تم مکہ کی طرف جارہے ہو اور یہ معلوم نہیں کہ کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا ہاں! وہ اس لئے ہے کہ میں نے بہت دفعہ مکہ جانے کا ارادہ کیا لیکن اس نے مجھے طرطوس (شام کے ساحل پر مشہور بندرگاہ ہے) پہنچادیا۔ بہت دفعہ میں نے طرطوس کا ارادہ کیا تو مجھے مکہ پہنچادیا۔ بہت دفعہ میں نے بصرہ جانے کا ارادہ کیا تو اس نے مجھے عبادان پہنچادیا۔ میں نے پوچھا۔ پھر تم کیسے کھاتے پیتے ہو؟ اور کہاں سے؟ تو اس نے کہا۔ بس چاہے تو مجھے بھوکا رکھتا ہے، چاہے تو مجھے خوب کھلاتا ہے۔ کبھی میں جی بھرکے کھاتا ہوں اور کبھی کھانا ملتا ہی نہیں۔کبھی وہ میری خاطر کرتا ہے کبھی نہیں اور خوار ہوتا ہوں۔ کبھی وہ میری سنتا ہے اور کبھی نہیں۔ کبھی تو وہ کہتا ہے اے چور آدمی! تم سے بڑھ کر دنیا میں کسی شریر کو نہیں دیکھا۔ اور کبھی کہتا ہے کہ تم سے بڑھ کر روئے زمین میں کسی زاہد کو اور تم جیسے انسان کو نہیں دیکھا۔ کبھی وہ مجھے بہترین بستروں میں سلادیتا ہے۔ اور کبھی مجھے دھتکارتے میری بے عزتی کرتاہے اور مجھے تابوت میں سلادیتا ہے۔ میں نے کہا اللہ معاف کرے وہ کون شخص ہے؟ اس نے کہا! اللہ جل شانہٗ ہے۔ اس نے مجھے ایسے سمندر میں ڈالا ہے جس کا کوئی ساحل ہی نہیں، اور وہ ایسا رویا کہ نڈھال ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس پر مجھے ترس آیا میں بھی اس کے ساتھ رونے لگا۔ پھر میں نے ایک چیخ سنی جو ہر طرف پھیل گئی اور وہاں کوئی غم خوار پیدا نہ ہوا۔ میں نے اس سے کہا اللہ رحم کرے تم پر! سنو اور بھی رورہے ہیں۔ اس نے کہا ہاں یار۔ یہ میرا ایک جن ساتھی ہے جو افران نام رکھتا ہے۔ جب میں روتا ہوں تو یہ بھی روتا ہے۔ حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیںکہ جب وہ چلاگیا اس دن سے میں حیران ہوں اور میں اپنے تئیں کمزور پاتا ہوں۔ پھر جب مجھ سے اس کی ملاقات ہوگئی تو میں نے اس سے کہا۔ اس واقعہ کا راز کیا ہے؟ تو وہ ڈر گیا اور کہا اے چور! تم میرے اور میرے آقا کے درمیان حائل ہونا چاہتے ہو۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ خدا کی قسم! یہ بات اس کے سوا کسی کو بتاؤں گا نہیں۔ یہ کہہ کر وہ (رجال الغیب) غائب ہوگیا۔ (241)