دعا و مناجات کے طریقے اور انداز قرآن وسنت سے دستیاب چیز ہیں۔ لیکن جہاں حضرت معروف کرخیؒ کے عادات وخصائل اور کلماتِ پُرتاثیر میں جو معنی ومطالب پائے جاتے ہیں ان کا اپنا ایک مقام ہے۔ وہ قابل عمل اور قابل اعتبار اثرات کے حامل ہیں۔ اَدعیہ واَذکار ِ آیات ومسنون دُعاؤں کا مجموعہ اسلامی تعلیمات کے خزانے میں موجود ہیں۔ تمام علماء اسلام کا ان پر اتفاق بھی ہے۔ ان کو عربی الفاظ وانداز میں ہی پڑھنا اجر وثواب کا موجب ہے۔ دوسری طرف حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کا اندازِ مناجات اور اَدعیہ زود اثر ہیںاور بہت جلد اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتی ہیں یہ بھی مسلم بات ہے۔ دراصل دعا جو دل سے نکلتی ہے اور وہ بھی کسی عارفِ کامل ولی ، مرشد اور فردِ واصل ومتواصل کی زبانِ اطہر سے نکلی ہوئی ہوتی ہے، اس کی تاثیر اور قبولیت واجابت میں بڑے معجزانہ نتائج ہوتے ہیں۔ جن کی مثال عام انسانی زندگی میں نہیں ملتی۔
علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ محمد بن منصور روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کو اس طرح دعا کرتے ہوئے سنا۔
اللّٰھم اجعلنا الصّالحین حتی نکون الصّالحین۔
پروردگار! ہمیں صالح لوگوں میں شامل کردے ۔ یہاں تک کہ ہم صالح ہی بن جائیں۔
ابو محفوظ شیخ معروفؒ سے سلمہ بن عقار بیان کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف بادشاہوں کے تذکرے کے وقت یوں دعا کرتے تھے۔
اللّٰھم لا ترنا وجہ من لا تحب النظر الیھم۔ اے پروردگار! ہمیں ایسے لوگوں کا منہ ہی نہ دِکھا جن کی طرف دیکھنا تو پسند نہیں فرماتا۔
حضرت شیخ معروف کرخی بعض دفعہ دوسروں کی دعاؤں کو اہمیت دیتے تھے اُن سے دعا کرواتے تھے اور خود آمین فرماتے تھے۔ جیساکہ حضرت ابی حفص التوزی المحترمی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت شیخ معروف کے پاس یہ کہتے ہوئے ایک آدمی آیا۔ یا ابا محفوظ! آپ میرے لئے دعا فرمائیں تاکہ ہم مومن بن جائیں۔ شیخ نے فرمایا بلکہ تم خود ہی دعا کرو تاکہ ہم مومن بن جائیں۔ چنانچہ اس بندے نے دعا کی اور حضرت شیخ نے آمین کہی۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بندہ حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کے پاس حاضر ہوا اور دعا کی غرض سے کہا کہ حضرت آپ میرے لئے دعا فرمائیں تاکہ میرا دل نرم ہوجائے۔ شیخ نے فرمایا۔ تم یوں کہا کرو۔
یا ملین القلوب لئن قلبی قبل ان تلینہ عند الموت۔
اے دلوں کو نرم فرمانے والے پروردگار! میرے دل کو موت آنے کے دم سے پہلے ہی نرم فرمادے۔
حضرت شیخ معروف اکثر اپنی دعاؤں میں یوں مناجات فرماتے تھے۔
یامن بلغ اھل الخیر الخیر واعانھم علیہ اصلحنا واعنا علیہ۔ اے وہ ذات! جو نیک لوگوں کو نیکی تک پہنچاتی ہے۔ اور ان کی اس سلسلے میں مدد فرماتی ہے تو ہمیں نیکی کرنے کی صلاحیت عطا فرما اور اس پر ہماری بھی مدد فرما۔
علی بن موفق بیان کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف اپنی اکثر دعاؤں میں ان الفاظ میں مناجات فرماتے تھے۔
یا مالک یا قدیر یا من لیس لہٗ بدیل۔ اے مالک اے قدرت والے ربّ! اے وہ ہستی جس کا کوئی بدل موجود نہیں۔
بیان کرتے ہیں کہ اصحاب زہیر کے کچھ لوگ جو کسی جنگ کے عزم سے آئے تھے حضرت معروف کرخی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان لوگوں میں ایک جوان لڑکا بھی تھا۔ اس نے حضرت شیخ معروف کرخی سے دعا کی استدعا کی۔ آپ نے فرمایا۔ اللّٰھم احفظھم۔ اے اللہ ! ان کی حفاظت فرما۔ جس پر کسی نے کہا۔ حضرت! آپ ایسے لوگوں کے حق میں دعا فرمارہے ہیں (جوبددُعا کے مستحق ہیں) آپ نے فرمایا۔ مرجائیں! اگر ان لوگوں کی خدا حفاظت فرمارہے ہیں تو یہ لوٹ کر ان کے پاس واپس نہ جاتے۔ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ ان کا بچ جانا دراصل اہلِ خیر کے حق میں ہے اور لوگوں کی ہدایت کا موجب ہے۔ اس لئے شیخ معروفؒ دعائے خیر میں بھی حکمت ودانشمندی کو پیش نظر رکھتے تھے۔ جذبات محض سے پرہیز فرماتے۔ اس روایت میں اصحاب زہیر کا ذکر ہوا ہے۔ زہیر ایک ایسے فرد کا نام ہے جو دراصل زہیر بن المسب الضبی تھا اور عباسی سرداروں میں سے ایک تھا۔ ’’فتنہ امین‘‘ یعنی ایک بندے سے منسوب فتنہ جس کی وجہ سے بغداد کو تباہی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس میں یہ مامون کی جانب سے پیش پیش تھا۔ اس روایت کے علاوہ سابقہ کسی روایت میں ہے جس میں حضرت معروف کا اپنا منہ چھپانے کا ذکر تھا۔ دونوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت معروف کرخی عباسی لشکروں سے جو مامون کے حامی وقاصد تھے نفرت فرماتے تھے۔ ان واقعات کی تفصیل الکامل لابن الاثیر وغیرہ سے مل سکتی ہے۔ (225)
ڈاکٹر عبداللہ الجبوری نے کتاب ابن الجوزی پر تحقیق کی ہے اُن کا بھی یہی بیان ہے۔ اور تاریخی آثار بھی یہی بتاتے ہیں کہ اہلِ تصوف عباسی خاندان کے مظالم سے بچ نہ سکے۔ کتاب صفوۃ الصفوۃ کے حوالہ سے ابراہیم اطروش کا بیان ہے کہ ایک دفعہ ہم حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دریائے دجلہ پر سے ایک پُرفتن قوم جو اپنی شرارتوں کو عام کرتے ہوئے گزررہی تھی۔ ہم نے ان کے خلاف بد دُعا کرنے کی درخواست کی تو آپ نے فوراً یوں دعائیہ کلمات ادا فرمائے اور آپ کے ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھے ہوئے تھے۔
الٰہی وسیّدی ومولائی أسئلک ان تفرحھم فی الجنۃ کما فرحھم فی الدّنیا۔
اے میرے پروردگار! میرے آقا اور میرے مولا! میں تجھ ہی سے سوالی ہوں کہ ان کو جس طرح دنیا میں خوش رکھے ہوئے ہیں ان کو قیامت میں بھی خوشی عطا فرما۔
اس دعا سے واضح ہوا کہ آپ کسی بھی قوم کے حق میں بددُعا کرنے کے حق میں نہ تھے۔ کسی دوست نے کہا حضرت! ہم نے ان کے حق میں بددعا کرنے کی استدعا کی تھی دُعا کے لئے نہیں۔ تو شیخ نے فرمایا کہ جب یہ توبہ کرلیں گے تو آخرت میں بھی خوش ہوں گے اور وہ کسی کو کسی حالت میں نقصان نہیں پہنچاسکیں گے۔
منقول ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی جب دعا فرماتے تھے تو یہ کلمات اداکرتے تھے مگر راوی کو شک ہے کہ یہ دعا کس غرض کے لئے تھی۔ فقراء کے لئے تھی، یا قرض کی ادائیگی کے لئے یا یہ دعا سحر کے موقع پر بندے کو مناجات میں کرنا چاہئے۔ تاہم اسے جو بھی شخص پچیس مرتبہ پڑھے گا وہ اپنی حاجت کو پورا ہوتے ہوئے دیکھے گا۔
لا الٰہ الا اللّٰہ۔ واللّٰہ اکبر کبیراً وسبحان اللّٰہ کثیراً اللّٰھم انی أسئلک من فضلک ورحمتک فانھما بیدیک لا یملکھما احد سواک او غیرک۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ بہت ہی بڑا ہے۔ اس کی پاکی بھی بہت ہے۔ اے بار الٰہا! میں تجھ سے تیرے فضل اور رحمت کا سوال کرتا ہوں یہ دونوں تیرے ہاتھوں موجود ہیں۔ تیرے سوا کوئی ان کا مالک نہیں۔
حلیۃ الاولیاء اور الکواکب الدریہ کے حوالے سے ابراہیم بن الجنید بیان کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کی دعاؤں میں سے یہ کلمات بھی تھے۔
اللّٰھم لاتجعلنا بثناء الناس مغرورین۔ ولا بالستر منک مفتونین۔ واجعلنا ممن یؤمن بلقائک ویرضیٰ بقضائک ویقنع لعطائک ویخشاک من خشیتک۔ اے میرے پالنہار! تو مجھے لوگوں کی تعریف کرنے کی بنیاد پر مغردروں میں شامل نہ فرما۔ اور گناہوں کی پردہ پوشی پر مجھے (اپنی طرف سے) فتنوں میں نہ ڈال اور مجھے ان لوگوں میں شامل رکھ جو تیری لقاء پر یقین رکھتے ہیں۔ اور تیری قضا پر خوش رہتے ہیں اور تیری عطا پر قناعت کرتے ہیں۔ اور تیرے ساتھ خوف کھانے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (226)
حضرت شیخ معروف کے سلسلۂ تصوف سے متصل ایک بزرگ حضرت شاہ سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ نے بھی اپنی معروف کتاب میں تحریر فرمایا ہے کہ محمد بن منصور بیان کرتے ہیں کہ میں نے معروف کرخی قدس سرہ سے سنا ہے کہ آپ کہہ رہے تھے۔
اللھم انی أعوذبک من طول الامل فانّ طول الامل یمنع خیر العمل۔
اے اللہ! میں تجھ سے لمبی امیدوں سے پناہ مانگتا ہوں کیونکہ لمبی امید نیک اعمال سے روکتی ہیں۔ (227)
یہ روایت علامہ ابن الجوزی نے قدرے نامکمل انداز میں نقل کی ہے اس بنیا د پر حضرت شاہ سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ کے بیان کو شامل کردیا گیا ہے۔ دیگر محققین کے رشحاتِ قلم جس کی توثیق کرتے ہیں۔ علامہ ابن الجوزی نے تاریخ ابن النجار کے حوالے سے رقم کیا ہے ۔ جندل الخادم بیان کرتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کرخی فرماتے تھے۔
اللّٰھم لا توذینی بعقوبتک ولا تواخذنی فی تقصیری فی رضاک عظیم خطیئتی، فاغفر ویسر عملی، فتقبل منی لا الّذی احسن استغنی عنک ولا عن عقوبتک، ولا الّذی اساء الیک الٰہ الانبیاء وولی الاتقیاء انت جدیر لاتبلیٰ، وحیٌّ لاتموت، بل عرفتک لولا انت لم ادر من انت، تبارکت وتعالیت۔
اے اللہ! تو مجھے اپنے عذاب سے اذیت نہ پہنچا اور میری کوتاہیوں پر میرا مواخذہ نہ فرما۔ تیری رضا کے مطابق میرے گناہ بڑے ہیں۔ مجھ سے درگزر فرما اور نیک عمل کو مجھ پر آسان کرتے ہوئے قبول فرما۔ مجھے تیری ذات کے سوا کوئی دوسرا مستغنی کرسکتا ہے نہ کوئی تیرے عذاب سے مجھے چھڑا سکتا ہے۔ او ر نہ کوئی تیری طرف برائی کی جسارت کرسکتا ہے۔ اے انبیاء کے معبود! اتقیاء کے والی! تو ہی اس قابل ہے مجھے آزمائش میں نہ ڈال اور تو زندہ رہنے والا ہے تجھ پر موت طاری نہیں ہوسکتی بلکہ میں تجھے پہچان چکا ہوں ۔ تو نہ ہوتا تو میں تجھے کیسے پہچان سکتا تھا۔ تیری ذات بلند اور برکت والی ہے۔ (228)
منقول ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی فرمایا کرتے تھے کہ جو آدمی ہر روز دس مرتبہ اس دعا کا وظیفہ رکھ دیں تو اس آدمی کو ابدالوں میں لکھا جاتا ہے۔
اللّٰھم اصلح امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم فرج امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم ارحم امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو درست کردے ۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے سختی کو دور کردے۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر رحم فرما۔(229)
علامہ ابن الجوزی نے اس روایت کو حلیۃ الاولیاء اور الکواکب الدریۃ سے نقل کیا ہے۔ روایت اپنی جگہ قابل عمل ہے لیکن اس دعا کی کچھ تفصیلات پر مبنی صورت کو حضرت میر سید علی ہمدانی المعروف بہ شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ نے زیادہ بہتر انداز سے مرتب فرمایا ہے۔ ہم دعا ئے رقاب کایہ حصہ ضرورت اور احتیاج کی کسی بھی گھڑی میں استفادۂ عام کی خاطر درج کررہے ہیں۔
اللّٰھم اغفر امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم ارحم امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم افتح لامّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم اصلح امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم فرج عن امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم کرّم امّۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم عظم امۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰھم تجاوز عن سیئات امّۃمحمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ۔
اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو معاف فرما۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر رحم فرما۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو نصرت فرما۔ اے اللہ!حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی کشائش فرما۔ اے اللہ!حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو نیک بنادے۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی مشکلات آسان فرما۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی توقیر بحال رکھ۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی تعظیم باقی رکھ۔ اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خطاؤں سے درگزر فرما۔ (230)
حضرت شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے۔ لیکن ڈاکٹر عبداللہ الجبوری نے اس کے راوی کا اچھے حوالوں سے تذکرہ نہیں کیا ہے۔ بہر حال روایت ہے جسے خطیب بغدادی کے حوالے سے علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت شیخ معروف کی دعاؤں کا ایک حصہ یہ بھی ہے۔ کہ آپ کہا کرتے تھے۔
اللّٰھم لا تعطنی بک عنک وخذ منی ما ھو لک منی۔
اے اللہ! تیری ذات کا واسطہ تو مجھے اپنے سے الگ نہ فرما۔ اور مجھ سے وہی عمل اٹھا جو میری طرف سے تیرے قابل ہو۔ (231)
حضرت مقری بیان کرتے ہیں۔ کہ حضرت شیخ معروف قدس سرہ اکثر اس دعائے ماثور کو اپنی دعاؤں اور وَظائف میں شامل رکھتے تھے۔ اور کہتے تھے۔
اللّٰھم انّ قلوبنا وجوارحنا بیدک ولم تملکنا منھا شیئًا فاذا فعلت ذالک بھما فکن انت ولیھا۔ اے پروردگار! یقینا ہمارے دل ،ہمارے اعضاء تیرے ہاتھوں میں ہیں۔ تونے ہمیں ان میں سے کسی چیز کا مالک نہیں بنایا ہے۔ جب تو اُن سے کچھ کرنا چاہے تو اُن کی کارسازی فرما۔
ایک روایت میں دعائے ماثور کو یوں بیان فرماتے تھے۔
اللّٰھم انّ قلوبنا ونواصینا بیدک لم تملکنا منھا شیئًا فاذا فعلت ذالک بھا۔ فکف انت ولیھا واھدھا الیٰ سوائِ السّبیل۔ (232)
اے میرے اللہ! یقینا ہمارے دل ،ہماری پیشانیوں کا اختیار تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس پر ہمیں کسی طرح کی ملکیت کا دعویٰ نہیں۔ جب ان سے کوئی معاملہ کرنا چاہے تو اُن کو اپنے اختیار میں رکھ ۔ تو اس کا کارساز ہے، اسے سیدھے راستے کی رہنمائی فرما۔
شیخ الاسلام روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک دن شیخ معروف اپنے بھانجے کے گھر میں موجود تھے۔فرمایا کہ جب تجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت ہوتو میرا واسطہ دے کو یوں دعا کیا کرو چونکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے۔
اللّٰھم انّی أسئلک بحق سائلین علیک وبحق راغبین الیک وبحق ممشائی الیک بحق ایں گامہائے من بر تو۔ اے اللہ! میں تجھ سے مانگنے والوں ، تیری طرف رغبت کرنے والوں، تیری طرف کشاں کشاں چلنے والوں اور میرے تیری طرف اٹھائے جانے والے ہر قدم کے واسطہ تجھ سے میرا سوال ہے۔ (233)