کشف و کرامت
حوالہ کتب

میر سیدمحمد نوربخش ؒ بہت بڑے عالم ، فاضل اور عارفِ کامل تھے ۔ بڑے بڑے علماء اور صوفیاء آپ کی تعریف میں رطب الّلسان ہیں ۔ذیل میں کچھ مثالیں پیش ہیں ۔

شیخ محمد غیبیؒ
دریغ و درد کہ آن صاحبِ زمان بگذشت
جھانِ معرفتِ علم از جھان بگذشت
دریغ و درد کہ آن شاہِ صورت و معنی
زِ راہِ صورت ازین تیرہ خاکدان بگذشت
جھان گذشت و حضوری گذشت از آنکہ
امامِ برحق و ھادی انس و جان بگذشت
زِ نوربخش جھان ھر کہ پرسدت من بعد
نشان بگوی کہ آن شاہ بے نشان بگذشت(1)
میر شمس الدین اسیر ی لاہیجی

ملکِ دین را آنکہ عالی مقتدا ست
زبدۂ اولادِ ختم الانبیاء است
باطنِ او مخزنِ سرِ علی است
قرۃالعینِ نبی است و ولی است
قطبِ اقطابِ جھان ھادی الوراء
مھدیٔ دوران و فخرِ اولیاء
آن محمدؐ سیرت و حیدر خصال
ھمتش را ھر دو عالم پای مال
غوثِ اعظم دین و ملت را پناہ
فقر ذاتش بر کمالاتش گواہ
مظھرِ جامع امام الاصفیاء
گشتہ بر تختِ ولایت پادشاہ
آن مدار ھفتِ طاقِ بی ستون
مرکزِ این نہُ رواقِ نیلگون
در شریعت در طریقت پیشوا
در حقیقت رھروان را رھنما
وارثِ علم و کمالِ انبیاء
پیشوای اولیاء کھف الوراء
ھر چہ در عالم کمالش نام بود
جملہ در ذاتِ شریف او نمود
ختم شد بر ذات او فضل و کمال
در کمالش کی رسد وھم و خیال(2)
علی محبی ؒ

ورا پیری بودی و ھم مقتدیٰ
محمد کہ بود آن امامِ ھدیٰ
لقب نوربخشش از وی رسید
بہ خّلاقِ عالم جمیعِ مرید
محمد کہ زو شد جھان نوربخش
کہ خلقان گرفتند ازان نوربخش(3)
شیخ محمد سمرقندی ؒ

تا دست بہ دست ملک نوربخش است مرا
ھر لحظہ زِ گنج نوربخش است مرا
گر از سرِ ھمت بہ رکاب آرم پای
چون فرسخم زِ عرش رخش است مرا(4)
حاجی محمد قدسی ؒ

نسبتِ او بہ نیّرِ اعظم
مظھرِ رحمت و جھانِ کرم
نوربخش آن محمّدِ ثانی
غوثِ اعظم امامِ ربّانی(5)
آقائے رحیم الدین کردی

عالم ربانی الحکیم الصمدانی ، جامع المعقول و المنقول ، ھادی الفروع و الاصول ، قطب العارفین ، سلطان الموحدین ، ملک المتألھین ، النجم المضیٔ و الکوکب الدری، دلیل الا ولیاء ، برھان الاصفیائ، بدر فلک التفرید ، شمس السمآء التجرید ، فلک بحر التوحید مولانا السعد الامجد المیر سید محمد المدعو بنوربخش اعلی اﷲ مقامہ(6)
ڈاکٹر احسان استخری

بعدِ وی مولای دین نوربخش جان
ساقیِ بزمِ خمارِ عاشقان(7)
اخوند سلطان علی بلغاری بلتستانی

شہِ عارفان قدوۃ الاولیاء است
مہ کاملان زبدۃ الاصفیاء است
مسمّی محمد لقب نوربخش
بہ جذبہ بہ اہلِ طلب نوربخش
سیادت نسب سیّدِ موسوی
سعادت طلب خسروِ معنوی
حکیمِ دل و جانِ اھلِ قلوب
طبیبِ مریدان بہ کشف الغیوب
چراغِ شبستانِ دینِ ھدا
سراجِ دبستانِ ایزد نما
امامِ یقین بخشِ اھلِ شکوک
علاجِ دلِ سالکانِ سلوک
بہ تختِ شریعت شہِ تاجدار
بہ چرخِ طریقت مہِ دہ چھار
چو خور جملہ ابدال را نوربخش
شفا جملہ شان را زِ رنجور بخش(8)
قاضی نوراﷲ شوشتری

غوث المتاخرین سید العارفین محمد نوربخش نوراﷲ مرقدہ کوکب ِدرخشندہ بود نوربخش دیدۂ مراقبانِ ملھماتِ غیبی و فروغ افزای بصیرتِ راصدانِ مراصد وارداتِ لاریبی……
بماھتاب چہ حاجت شبِ تجلّی را
’’غوث المتاخرین سید العارفین میر سید محمد نوربخش نوراﷲ مرقدہ ایک روشن ستارا تھے ۔ اسرارِغیبی کی طرف جھانکنے والی آنکھوں کو نور بخشنے والے اور لاریبی واردات کی رصدگاہوں سے دیکھنے والوں کی بصیرت بڑھانے والے تھے ۔شبِ تجلی کو چاند کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘(9)
صاحب المنجد

عربی لغت کی مشہور کتاب ’ المنجد ‘ میں نوربخش ؒ کا تعارف یوں پیش کیا گیا ہے ۔
نوربخشؒ ( محمد ) ( ۱۳۹۲۔۱۴۶۴) ولد فی قوھستان و توفیٰ فی الری موسس الطریقۃ النّوربخشیۃ ، دعاء الناس الی ایمان بہ مھدیا و اماماً و خلیفۃ ، سجن و اخرج عنہ ، لہ الفقہ الاحوط وضع فیہ علیٰ ما یقال مذھباً و سطا بین تعالیم السنۃ و الشیعۃ
’’نوربخش( محمد) ( ۱۳۹۲۔ ۱۴۶۴)آ پ قہستان ( ایران) میں پیداہوئے اور رے ( ایران) میں وفات پائی ۔ آپ مسلک ِنوربخشیہ کے مؤسس ہیں ۔ آپ نے ایک مہدی ، ایک امام اور ایک خلیفہ کا کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں کو ایمان کی دعوت دی ۔ اس سلسلے میں آپ کو قید و بند دیکھنا پڑا جو رہائی پر منتج ہوا ۔ آپ کی تصنیف الفقہ الاحوط ہے جس میں اہل ِتشیع اور اہل سنت کے مسالک کے درمیان ایک معتدل اور متوسط مسلک کا بیان ہے ۔ ‘‘(10)
امین احمد رازی

سید محمد نوربخشؒ از ساداتِ عالی درجات بودہ مرأتِ ضمیر منیرش عکس پذیرِ صورت ِولایت وارشاد وقفا، خاطرِ مھر ِتنویرش مظھرِ فروغِ کرامات و اجتھاد است (11)
مشتاق علی ایرانی

مفخر العرفاء استاد نحاریر الادباء معدن اللطائف الروحانیہ و مخزن المعارف السبحانیہ امیر سید محمد نوربخشؒ (12)
فخر المحدثین ، شمس المفسرین اورع الفقہاء و المجتہدین سلطان العارفین کھف الواصلین مربی السالکین سید المجتھدین غوث المتأخرین امیر سید محمد نوربخش(13)
علی رضا شریف محسنی ایرانی

قدوۃ الفقہاء و المجتہدین ، فخر المحدثین و المحققین ، امام المفسرین الشامخین ، سلطان العارفین ، قطب اقطاب الواصلین، مرشد الکاملین ، اکمل المکملین، کھف الاوتاد والواھبین ، سراﷲ فی الارضین ، حجۃ الحق علی الخلق العالمین ، وارث الحقایق الانبیاء و المرسلین ، صاحب الاسرار ولایت امیر المؤمنین ، سید المجاھدین ، غوث المتأخرین ، حضرت امیر سید محمد نوربخش قھستانی (14)
نسخہ ’جامعہ مراسلات اولوالالباب ‘ میں لکھا ہے کہ اشرف فضائل و کمالات میں کوئی بات نہیں جو خدا نے ان کو نہ دی ہو ۔ نسب میں وہ قریشی ، ہاشمی ، علوی ، فاطمی ، حسینی ، اور کاظمی ہیں ۔ علوم ِعربی میں فرید ِفضلائے زماں ، علوم ِشرعی میں وحید ِمجتہدانِ جہاں ، علوم ریاضی میں اگر افلاطون فی زمانہ موجود ہوتا تو ان سے استفادہ کرتا ۔ علوم ِشریفہ جفریہ میں وہ علی مرتضی ؑ کے تابع ہیں ۔ سیمیا کیمیا وغیرہ میں اگر وہ عار نہ سمجھیں تو بو علی سینا ہیں ۔ مکاشفاتِ فلکی ، مشاہداتِ ملکوتی ، مغیباتِ جبروتی اور تجلیاتِ لاہوتی میں وہ کامل ہیں ۔ اطوار ِاذکار ِسبعہ لسانی و نفسی و قلبی و سری و روحی و حفی و غیب الغیوب میں واصل و متواصل ہیں ۔ معرفت حقائق ِاشیاء اور مشرب ِتوحید میں آسمان کے تلے ان سا ہے نہ ہوا ہو گا ۔ (15)
مرزا شاہ رخ کے نام ایک خط میں جو میر ؒ سے منسوب ہے آپ خود لکھتے ہیں ۔ ’’قل لا اسئلکم اجراً علیہ الا المودۃ فی القربیٰ کے بموجب اہل ِجہاں پر واجب و لازم ہے اور اس زمانے میں باجماع ِاہل ِبصیرت و بصارت خاندان ِنبوت و ولایت کا کوئی فرد اگر شریعت و طریقت و حقیقت حضرت رسالتماب ؐ پر ہے تو وہ محمد نوربخشؒ ہے ۔ حدیث شریف ’’ اشرف امتی حملۃ القرآن ‘‘ ’’العلماء ورثۃ الانبیائ‘‘ ’’الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ‘‘
ان سب کا اطلاق ان پر ہوتا ہے ۔ جہاں بھر میںاگر کوئی سیدّ ہے جو فنون ِعلم شرعی و ادبی و حکمی میں متبحرّ ہے اور مکاشفات و مشاہدات و معانیات و تجلیات ِآثاری و احکامی و صفاتی و ذاتی اور حقایق ِتوحید و معرفت و تصوف میں منفرد ہے اور پچاس مرید صاحب ِحال رکھتا ہے جو ریاضت اور معاہدت اور خدمت اور عزلت میں تربیت یافتہ اور صاحب ِتجلیّ اور محقق ہیں تو ایسا سید نوربخش ہے اور مرشدانِ صمدانی او رعلماء ربانی کے نزدیک ایسے صاحب ِکمال کے ساتھ محبت اور ارادت رکھنا اور اس کی ملازمت اور اطاعت کرنا پادشاہانِ اسلام پر واجب ہے اور اکثر علماء اسلام بلکہ خواص و عوام جانتے ہیں کہ اس کاتب ِحروف کے علاوہ اور کوئی شخص دنیا بھر میں ان صفات کی جامعیت کے ساتھ موصوف نہیں ہے ۔ ‘‘ (16)
نیز فرماتے ہیں ۔
ابنِ عربی رئیس کمّل
فہرستِ حقایق است مجمل
تفصیلِ حقایق و معانی
ماییم ، یقین اگر بدانی17))

شمس الدین عراقی ؒ کا بیان

میر شمس الدین عراقی ؒسے منقول ہے کہ ایک دفعہ میں نے شیخ محمود بحری ؒسے میر سید محمد نوربخشؒ کے احوال کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا ۔
’’از زبان ِمبارک حضرت امام نقل نمودہ اند کہ وقتی از اوقات در عوالم ِکلیہ و خضرات ِخمسہ سیر و سلوک می کردم وھزار ھزار دور ِاعظم مافوق ِعرش طیران نمود و بعالم بی منتھای لاھوت کہ عالم ِذات است عروج و تصاعد یافتم و دران عالم ھزارھزار دو رِ اعظم از جمیع مقیدات ِعوالم ِصفاتی و افعالی و آثاری محض مطلق گشتم و از تمام تعینات ِعوالم جبروت و ملکوت و ملک و ناسوت محو مطلق شدہ فناء فی اﷲ یافتہ و ھزار ھزار دو ر ِاعظم در ھر دوری فنای یافتم و بعد از ھر فنای بقای می یافتم و در حین بقا این غزل را می خواندم و در حین فنا وجد و سماع می کردم (18)
غزل
ای اھلِ درد جوشی وی عاشقان خروشی
کز دست می فروشی نوشیدہ ایم نوشی
گشتیم مست و حیران دادیم جان بجانان
واندر قراری آن دادند باز قوشی
پیوستہ در خمارم زان می کہ داد یارم
گر مستیٔ ندارم ھم نیست عقل و ھوشی
مستیٔ اھلِ معنی ھست از می تجلّی
ھر دل کہ نیست اعمی دارد چو بادہ جوشی
ھر کس کہ دید روشن ھر دم در آرزویش
پیشِ سگان کُویش گیرد بہ صدق گوشی
در ھر زمان و دوری خود را نمود طوری
زان ھر کشیش و کوری دارند ازو دروشی
تا نوربخشؔ باشد دورانِ اولیاء شد
عالم پُر از صفا شد از شوقِ خرقہ پوشی19))

سید محمد سے نوربخش ؒتک

دنیائے تصوف و عرفان میں یہ ایک نادر مثال ہے کہ مرید کا علمی وروحانی مقام اتنا بلند ہو جائے کہ مرشد خود اس کے ہاتھ پر بیعت کر لے اور اس کے حلقہ ٔ ارادت میں شامل ہو جائے ۔ میر سید محمد نوربخش ؒکے روحانی مرتبے کا اس سے بڑا ثبوت کچھ نہیں ہو سکتا کہ خود آپ کے مرشد اور خلیفہ ٔ میر سید علی ہمدانی ؒ خواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے جو قطب ِ دوران کے مرتبے پر فائز تھے ، ایک غیبی اشارے کے تحت آپ کی مریدی اختیار کی ،جیسا کہ میرعلیہ الرحمہ نے خود اس جانب اشارہ فرمایا ہے ۔
پیریم و مریدِ خواجہ اسحاق
آن شیخِ شھید قطبِ آفاق
کو بود مریدِ پیرِ فانی
شاہِ ھمدان علیّ ثانی
دادند بہ حالِ ما شھادت
بردند سعادتِ شھادت(20)
سید محمد موسوی جب شیخ ابراہیم ختلانی کی راہبری میں خواجہ اسحاق ختلانی ؒکے مرید ہوئے اور مسلسل اعتکاف نشین ہوتے اور سخت ریاضتیں بجا لاتے رہے تو آپ اتنے بلند روحانی مقام اور مرتبے پر فائز ہو گئے کہ خواجہ اسحاق ؒکے مریدو ں میں خلیل نامی ایک مرید نے واقعے میں دیکھا کہ ایک نورخلوت میں میر سید محمد پر نازل ہوا اور پھر ان کی وساطت سے دوسرے لوگوں تک پہنچا ۔
جب اس واقعے کو خلیل نے قطبِ دوران خواجہ اسحاق ؒ کے گوش گزار کیا تو آپ نے سید محمد کو نوربخشؒ کا خطاب عطا کیا اور یوں وہ نوربخش کہلانے لگے ۔ (21)
چنانچہ میر سید محمد نوربخشؒ کے نامور مرید اور خلیفہ میر شمس الدین محمد لاہیجی ؒاسیریؒ اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نوربخشؒ کا لقب غیب سے آیا تھا چنانچہ ’ اسرار الشہود ‘ میں لکھتے ہیں ۔
آمدہ از غیب نامش نوربخش
بود چوں خورشید بامش نوربخش
’’ نوربخش کا لقب غیب سے آیا اور نوربخش کا چوکھٹ آفتابِ عالمتاب کی طرح کل عالم کو نوربخشنے والا ہے ۔ ‘‘

مزارِ نوربخش ؒ پر

نوربخش کا مزار وہ مرکزِ تجلیات ہے کہ یہاں حاضری دینے والے ہر اہلِ دل پر جذب و شوق اوروارفتگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ ذیل میں دو اہلِ عرفان کی غزلیں پیش کی جاتی ہیں جو انہوں نے اسی جذب و شوق کے عالم میں کہی ہیں ۔
(۱)روضۂ نوربخش حضرتِ میر
شمسِ دنیا و دینِ غوثِ کبیر
رھبرِ اولیاء بہ جمع الجمع
مھترِ اصفیا بہ کشفِ میر
آسمانی است ھر نجوم و شموس
گلستانی است پُر زِ سروِ منیر
فخرِ آلِ رسول و نسلِ بتول
خلعتِ مرتضای کشور گیر
کشوری بہ زِ ملکِ خسرو و جم
ملکتی نوربخش چرخِ اثیر
چمنی درمیانِ بیشہ تنگ
سلسبیلی زلال و حوضہ شیر
کو تماشای جنت الماویٰ
بہ تماشای قربِ حضرتِ میر
سولقان روضہ ای بود زِ بھشت
سولقان ھست ثم ملکِ کبیر
تا محمد امام شمس الدین
اندر آنجا نھاد تخت و سریر
گشت رشکِ سپھرِ مینایی
ملک از نہُ فلک کشیدہ بزیر
فقرِ مطلق فنای ذاتی گشت
در جھان فاش آشکار و شھیر
ای گروہِ طیورِ روحانی
ھین بہ پرید سوی قافِ امیر
با ھزاران نوای نغمہ و نی
سوی سیمرغ پر کشید نفیر
قطرہ ھا سوی بحر رو آرید
ذرہ ھا را کنید شمسِ منیر
دردھا را دواست در آن کو
مس ھا را شفاست ازان اکسیر
صد تجلی پدید شد زِ مزار
کہ جوانبخت گشت عالمِ پیر
رحمتِ حق بدوستانش باد
لعنتِ حق بود بہ منکرِ پیر
( میر عین الدین حسین ظھیر الاسلام دزفولی )(22)
(۲)
بیا کہ جلوہ گہِ روضۃ الصفا اینجاست
بہ جلوہ آیینۂ شاہِ اولیاء اینجاست
جھان زِ نورِ خداوند چونکہ لبریز است
عجب مدار اگر پرتوِ خدا اینجاست
تراست دیدہ اگر ینظر بنور اﷲ
بہ بین کہ پرتوِ انوارِ کبریا اینجاست
گرت ھواست کہ خورشید معرفت بینی
تجلی علوی شمس و الضحیٰ اینجاست
عجب مدار اگر دیدہ روشنایی یافت
کہ توتیای غبارش بچشمِ ما اینجاست
چو قلبِ مؤمنِ باﷲ عرشِ رحمان است
ببین کہ جلوۂ خلاق ماسوا اینجاست
رھی نرفتہ بجز راہِ وصلِ حضرتِ دوست
ھمانکہ بودہ بہ عشّاق مقتدا اینجاست
زِ چاردہ گُھرِ پر فروغ نور گرفت
کہ از شرارۂ غرقہ و رضیا اینجاست
زمین زِ جسم شریفش بود چو درج گھر
ببین بہ دیدۂ جان در پر بھا اینجاست
بخاکِ مرتضوی گر فرود آری سر
بیا ببین خلفِ پاکِ مرتضیٰ اینجاست
مگر کہ سینۂ او بودہ سینۂ سینا
کہ این مزارِ فرح بخش جانفزا اینجاست
گرفت فیض زِ حق و بخلق شد فیاض
ھمانکہ داشت دو دست گرہ گشا اینجاست
بخاکِ روی نیاز است پیروانش را
حرمسرای ھمایون درست ، تا اینجاست
چو تابناک وجودش زِ علم الاسماست
کسی کہ نور فشاند بماسویٰ اینجاست
فرشتگانِ خدا آشنا ترند بہ او
وجودِ قدسیِ برتر زِ درکِ ما اینجاست
متاب روزِ حریم و ببوس درگاھش
کہ حالِ جذبہ برای تو در دعا اینجاست
زِ نورِ معرفتش بھرہ اھلِ دل بردند
کسی کہ بودہ ضیاء بخش ، از قفا اینجاست
ببوس خاکِ مزارش زِ روی صدق و صفا
مسِ وجود ترا ، فیضِ کیمیا اینجاست
زِ بندگی شود انسان بہ ماسویٰ آگاہ
فروغِ جلوۂ حق سایۂ خدا اینجاست
زِ فیض درگہِ حق ھیچ ناامید مباش
وسیلہ گر طلبی منبعِ رجاء اینجاست
بھر کجا کہ زند مرغِ جانِ تو پر و بال
بہ آشیانۂ خود رو کند کہ جا اینجاست
ندیدہ کس بہ جھان باغِ دلگشای بھشت
ببین بہ روضۂ قدسش کہ آن صفا اینجاست
بنای بقعۂ او را نمودہ مشتاقی
کسی کہ پیرِ طریقت حالیا اینجاست
ھما رہ رایتِ عرفان در اھتراز بود
ھزار شکر کہ پیوستہ آن لوا اینجاست
زِ نوربخش مدد یافتہ است بدرالدین
کہ معجزہ بہ حضورش سخن سرا اینجاست
( حضرت آقای حیدر تھرانی ) (23)

واپس اوپر جائیں

کشف و کرامت

اﷲ تعالیٰ اپنے جن بندوں کو محبوب اور برگزیدہ بنا لیتا ہے انہیں اپنی گوناگوں نعمتوں سے نوازتا ہے ۔ ان نعمتوں میں سے عظیم ترین باطنی نعمت تو قرب و وصل خداوندی ہے جس کے باعث ولی اﷲ کو فنا فی اﷲ اور بقا باﷲ کی منزلوں تک رسائی ہوتی ہے نیز اﷲ کی رحمت سے وہ دنیا کے خو ف و حزن سے بے نیاز ہو جاتے ہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
اَلاَ اِنَّ اَوْلِیآئَ اﷲِ لاَ خَوْف’‘ عَلَیْھِمْ وَ لاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ o (یونس۶۲)
یہ عظیم باطنی نعمتیں عوام الناّس کے مشاہدے میں نہیں آتیں اور صرف خواص ہی ان کی حقیقت سے آگاہ ہو سکتے ہیں ۔ عوام الناّس کی تقویت ِایمان اور تشفیِ اذہان کے لئے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام سے بعض خرق عادات یا فوق العادت افعال صادر ہوتے ہیں ۔ یہ باطنی نعمتوں کے ظاہری اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں تاکہ اہل ِایمان ان کے ذریعے سے حق کو پہچان سکیں ۔ جب یہ فوق العادات افعال انبیاء سے صادر ہوتے ہیں تو انہیں معجزہ کا نام دیا جاتا ہے اور جب اولیائے کرام سے صادر ہوتے ہیں تو انہیں کرامت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ میر سید محمد نوربخشؒ کے روحانی مقام اور مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے مریدوں سے بھی ایسی کرامتوں کا ظہور ہوا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ ان کرامتوں کی فہرست طویل ہے ۔ پہلے ہم نوربخش ؒ کی چند کرامتوں کا ذکر کرتے ہیں ۔

مرزا شاہ رخ کی موت کی خبر

ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص مرزا شاہ رخ کی موت کی خبر مجھے پہنچائے گا اسے انشاء اﷲ بغیر کسی ریاضت و مجاہدہ کے مطلوب ِاصلی اور مقصود ِحقیقی تک پہنچاؤں گا ۔
شیخ محمد غیبی ایک کمزور اور عمر رسیدہ شخص تھے ۔ مجاہدے اور ریاضت کی طاقت نہ رکھتے تھے لیکن دل میں آتش ِشوق کی لو تیز تھی ۔ چاہتے تھے کہ کوئی ایسا طریقہ ہاتھ آئے کہ سخت ریاضت اور مجاہدے کے بغیر مرشد کے نظر ِکرم کی وساطت سے قرب ِالٰہی حاصل کریں ۔ جب انہوں نے نوربخشؒ کے مذکورہ فرمان کے متعلق سنا تو موقع غنیمت جانتے ہوئے شاہ رخ کے پایہ تخت بلخ کا ارادہ کر لیا اور وہاں رہ کر اس کی موت کا انتظار کرتے رہے ۔ یہ طویل اور صبر آزما انتظار اس وقت ختم ہوتا نظر آیا جب سید محمد نوربخش ؒ کا قاصد شاہ رخ کے نام میر ؒ کا مکتوب لے کر آیا جس میں شاہ رخ کی موت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ شیخ محمد غیبی نے کسی طرح وہ خط حاصل کرکے پڑھ لیااور اپنے دل کی تسلی کر لی ۔
میر ؒ کی پیش گوئی کے عین مطابق ایک سال سے بھی کم مدت میں شاہ رخ فوت ہو گیا ۔ غیبی اسی لمحے کے انتظارہی میں تو تھے ، بلا توقف گیلان کورۂ شفت کی طرف روانہ ہوگئے جہاں میر نوربخشؒ قیام پذیر تھے تاکہ جلد از جلد مرزا کی موت کی خبر میرؒ کو پہنچا کر اپنا مقصود و مطلوب پا سکیں ۔ خانقاہ ِشفت جہاں میرؒ قیام پذیر تھے بلندی پرواقع تھی ۔ اس بلندی کے ایک طرف چند صوفی زائرین کو پانی پلانے اور ان کی دلجوئی کے لئے مامور تھے اور خانقاہ سے نمایاں طور پر دکھائی دیتے تھے ۔ شیخ غیبی جب ان صوفیو ںکے پاس پہنچے نوربخش ؒ درویشوں کی کثیر تعداد کے ساتھ خانقاہ کے باہر تشریف فرما تھے ،جنہوں نے آپ کو بتایا کہ ایک مسلح سوا ر نیچے صوفیوں کے پاس پہنچا ہے اور جلد یہاں پہنچنے والا ہے ۔ حضرت نوربخش ؒنے فرمایا ۔
این سوار برای جمیع ابرار و اخیار خبری قابل ِایثار و بشارتی لائق نثار آوردہ و وی جھت تحصیل ِاین استبشار و تبلیغ ِاخبار محنت ِبسیار و مشقتِ بی شمار کشید صبر کنید تا این خبر از زبان او بشنوید
’’ یہ سوار ابرار اور اخیار کے لئے قابل ِایثار خبر اور لائق ِنثار بشار ت لے کر آ رہا ہے ۔ اس نے اس خبر اور بشارت کو پہنچانے کے لئے بہت محنت اور مشقت اٹھائی ہے ۔ صبر کرو تاکہ یہ خبر ہم اسی کی زبانی سنیں ۔ ‘‘
اتنے میں شیخ غیبی غبار میں اٹے ہوئے حاضر ِخدمت ہوئے اور گھوڑے سے اتر کر بلاتوقف شاہ رخ کی موت کی خبر میر ؒ کے گوش گزار کی ۔ شاہ ؒنے تبسم فرمایا اور ایسی کیمیا اثر نگاہ ڈالی کہ غیبی کے باطن کی دنیا بدل گئی اور آن ِواحد میں وہ درجہ ٔ کمال کو پہنچ گئے ۔(24)
نوربخشؒ کی مندرجہ ذیل غزل میں اسی واقعے کا حال منظوم ہوا ہے ۔
آنم کہ زھر در کفِ من انگبین شود
دیو از لطافتم بہ مثل حورِ عین شود
آنم کہ گر بہ بیندم آن شھپرِ ملَک
بر درگہِ نیاز گدای کمین شود
آنم کہ گر گزار کنم بر دلِ جحیم
دوزخ بھشت و نار گل و یاسمین شود
لطفیست عام از دلِ درویش در جھان
لیک آن لطیفہ ساکنِ قلبِ حزین شود
آن کو زِ روی صدق نھد سر بر آستان
نہُ چرخ پای رفعتِ او بر زمین شود
حیران شد آن یکی کہ بحق چون رسید زود
پنداشت کان زِ خاصیتِ اربعین شود
نی جانِ من کہ چشمِ نوربخش چو کیمیاست
بر ھر کہ آنچنان نگرد این چنین شود(25)
ترجمہ:
لُوں زہر ہاتھ میں تو مے و انگبیں بنے
ڈالوں نگاہ دیو پہ تو حُورِ عیں بنے
ڈالوں میں ایک نظر جو کسی بادشاہ پر
وہ بر درِ نیاز گدائے کمیں بنے
میں وہ ہوں میرا سایہ جہنم پہ گر پڑے
دوزخ بہشت ، آگ گل و یاسمیں بنے
ہے عام سب کے واسطے درویش کا جو لطف
وہ لطف محض ساکنِ قلبِ حزیں بنے
رکھے جو سر کو میرے درِ آستان پر
نو آسمان پاؤں میں اس کے زمیں بنے
حیراں ہے وہ جو کہتا تھا کس طرح میرا کام
بے چلہ و ریاضت و بے اربعیں بنے
ہاں نوربخشؔ کی ہے نظر کیمیا اثر
جس خاک پر پڑے زرِ خالص وہیں بنے

شاہ رُخ کا دردِ شکم
نوربخش ؒ کی ایک اور اہم کرامت جس کا تمام تذکروں اور تواریخ میں ذکر آیا ہے یہ ہے کہ جب ۸۲۶ھ میں مرزا شاہ رخ کے حکم سے گورنر ختلان بایزید نے آپ کو اور خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کو گرفتار کر لیا اور گرفتاری کی اطلاع کے ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاع مرزا تک پہنچائی کہ قیدیوں کو ہرات روانہ کیا جارہا ہے ۔ خواجہ اسحاق ختلانیؒ کے مخالفین کی چغل خوری اور غلط بیانی سے متاثر ہوکر مرزا نے ایک رقعہ لکھا کہ قیدیوں کو جہاں پہنچے ہوں وہیں قتل کر دیا جائے ۔ چنانچہ قاصد خط لے کر روانہ ہوا ۔ اُدھر اچانک مرزا کے پیٹ میں شدید درد شروع ہوا ۔ یہ درد ِشکم اتنا سخت تھا کہ شاہی اطباء علاج معالجے سے عاجز آگئے ۔ شاہ رخ کے طبیب خصوصی مولانا حکیم الدین نے شاہ رخ سے کہا ۔
سید محمد نوربخش چنین کہ در عالم مثلِ خود نداردو در زھد و تقویٰ و علم و ریاضت کمالات صوری و معنوی دارد حکم بہ کشتن ِ او کردہ اید پس این درد ِشمارا دوا تغیر آن حکم است
’’ آپ نے سید محمد نوربخش کے قتل کا حکم دیا ہے حالانکہ اس وقت دنیا میں زہد و تقویٰ ، علم و ریاضت اور کمالاتِ صوری و معنوی کے لحاظ سے ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے ۔ آپ کے اس دردِ شکم کی دوا محض یہی ہے کہ اپنے حکم کو واپس لیں۔ ‘‘
پس شاہ رخ نے فوراً دوسرا قاصد بھیجا کہ پہلا حکم منسوخ سمجھا جائے ۔ اس دوسرے قاصد کے روانہ ہوتے ہی مرزا کا دردِ شکم ختم ہو گیا ۔ (26)

سمرقند کے شیخ الاسلام اور قاضی کی کایا پلٹنا

مولانا محمد سمرقندی ؒسمرقند کے شیخ الاسلام اور مولانا احمد قاضی تھے ۔ جب ایران ، توران اور ترکستان کے جملہ علاقوں میں میر سید محمد نوربخشؒ کی شہرت پھیل گئی تو ان دونوں نے سید محمد نوربخش ؒ کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا اور سمرقند سے گیلان روانہ ہوئے جہاں میر ؒ رہائش پذیر تھے ۔ گیلان پہنچتے ہی انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سید محمد نوربخشؒ کن لوگوں کو پسند کرتا ہے اور کن لوگوں کو ناپسند کرتا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ فقرا ء اور درویشوں سے متفق ہیں اور ان کے دوست ہیں جبکہ فرقہ ٔ قلندریہ اور حیدریہ سے بیزاری کا اظہار فرماتے ہیں ۔ یہ سن کر ان دونوں نے آپ کو اشتعال دلانے اور آپ کی روحانی عظمت کو جانچنے کی خاطر قلندروں کا لباس پہنا اور تاج ِحیدری سر پر رکھا اور آپ کی خدمت میں پہنچے ۔ آپ کے مریدین اس انتظار میں تھے کہ آپ اپنی درگاہ سے دیگر قلندروں کی طرح ان کو بھی نکال باہر کریں گے ۔ لیکن آپ کی باطنی آنکھیں ان قلندروں کے بھیس میں کچھ اور مشاہدہ کر رہی تھیں ۔ چنانچہ آپ نے ان دونوں کو اپنے پاس بلایا راستے کی مشکلات اور سفر کی تکالیف کے متعلق گفتگو فرمائی ۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوا ۔ شیخ محمد الوندی میرؒ کے امام ِ جماعت تھے اور آپ ان کی موجودگی میں نہ خود نماز پڑھاتے تھے اور نہ کسی اور کو پڑھانے کی اجازت دیتے تھے مگر اس روز خلاف ِمعمول آپ نے شیخ محمد سمرقندی کو نماز پڑھانے کی دعوت دی ۔ نماز کے دوران ہی شیخ محمد سمرقندی اور مولانا احمدپر فتوحات ِالٰہی کے دروازے کھل گئے اور نماز سے فراغت کے فوراً بعد ہی انہوں نے میر ؒ کے دست ِمبارک پر بیعت کر لی اور آپ کے در کے مجاور بن گئے ۔ اس واقعے کا بیان شیخ محمد سمرقندی ؒنے ان اشعار میں کیا ہے ۔
گرم صد ھزاران زبان در دھان
پدید آید و عمرِ نوح آنچنان
کنم شکر ایزد بھر یک ھزار
نگفتہ بماند بسی شکر آن
کہ در صحبتِ حضرتِ نوربخشؒ
من افتادہ ام از سمرقندیان
’’ اگر میرے منہ میں ایک لاکھ زبانیں پیدا ہو جائیں اور میری عمر عمرِنوح ؑ کی مانند طویل ہوجائے اورمیں ہر زباں سے باری تعالیٰ کا ہزار ہزار بار شکر ادا کروں تو پھر بھی ناکافی ہو گا کہ اس نے مجھے حضرت شاہ سید نوربخشؒ کی صحبت میں آنے کا شرف عطا کیا ۔ ‘‘
سمرقند کے دوستوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے شیخ سمرقندی ؒ کہتے ہیں ۔
تا دست بہ دست ملک نوربخش است مرا
ھر لحظہ زِ گنج نوربخش است مرا
گر از سر ھمت بہ رکاب آرم پای
چون فرسم زِ عرش رخش است مرا(27)

میر سعد الحق کا افشائے راز

میر نوربخش ؒ کے فرزندِ عزیز میر سعد الحق جن کی عمر چار پانچ برس تھی اس صغیر سنی میں ہی تصوف وعرفان کے اسرار ورموز سے آگاہ ہوگئے تھے ۔ اور محی الدین ابن عربی کے ’ فصوص الحکم ‘ کے دقیق مسائل کو پیرِ ہمدان جیسا مرید نہ سمجھ سکتا تو سعد الحق بآسانی انہیں سمجھ لیتے تھے ۔ میر سعد الحق صغیر سنی کی وجہ سے انوار و اسرار اور حقائق و معارف لایزالی کو چھپانے کی قوت نہ رکھتے تھے اور چھوٹے بڑے سب کے سامنے افشائے راز کرتے تھے ۔ حضرت شاہ ؒ نے حکم فرمایا کہ انہیں مشتبہ طعام کھلایا جائے تاکہ باطنی کثافت پیدا ہو اس حکم کی تعمیل کے بعد کچھ دن تو تسکین رہی لیکن پھر صفا واپس آگئی اور دوبارہ افشائے راز کرنے لگے ۔ میرؒ نے لاچار درگاہ خداوندی میں دعا فرمائی ۔
الٰھی این فرزندِ دلبند اگرچہ قرۃ العین این دردمند بودہ اما چوں حوصلہ ٔ محافظت ِ اسرار الہ وقوت ِ بار ِحقائق و معارف درگاہ بہ مقدار قاسم شاہ ندارد ودیعت حیات او بدرگاہ تو سپردم باقی احوال ِاو را تو می دانی
’’ پرودگار یہ فرزند اگرچہ اس دردمند کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے لیکن اس میں قاسم شاہ کے برابر اسرار ِالٰہی کی حفاظت کا حوصلہ اور حقائق و معارف کا بار اٹھانے کی قوت نہیں ہے ۔اس کی زندگی کا معاملہ تیرے حوالے کرتا ہوں ۔ باقی معاملات کو تو بہتر جانتا ہے ۔ ‘‘
اس دعا کے چند دنوں بعد میر سعد الحق نے وفات پائی ۔ (28)

عظیم اولیائے کرام کے مریدین اور عقیدت گزار بھی صاحب ِکرامت ہوا کرتے ہیں ۔ سید محمد نوربخشؒ کے مریدین کی کرامات کی فہرست طویل ہے ۔ ذیل میں ہم صرف ایک واقعے کا بیان کرتے ہیں جو ان کے مرید پیر حاجی بحر آبادی ؒسے متعلق ہے ۔

پیر حاجی ؒ کی تربیت کا اثر

پیر حاجی ؒ کی محفل میں اثر ِتربیت کے موضوع پر بات ہورہی تھی ۔ پیر حاجی فرمانے لگے کہ استاد کی تربیت اگر کارفرما ہو گی تو خام اور بے جوہر لوہے کو بھی آئینہ بنایا جا سکتا ہے ۔ حاضرین میں سے بعض نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بدقماش ، احمق اور جاہل لوگوں کو کیونکر مرشد و پیشوا بنانا ممکن ہے ؟ حاجی پیر نے از راہ ِغیرت کہا کہ تم جتنے چاہو اوباش اکٹھے کر کے لاؤ میں ان کی تربیت کروں گا اور دیکھتے رہو کہ خدا کی رضا کیا ہے ۔ ان لوگوں نے چالیس اوباشوں کا گروہ حاجی پیر کی خدمت میں حاضرکیا کہ وہ ان کی تربیت کریں ۔ حضرت حاجی پیر ؒنے آداب ِسلوک و ریاضت و مجاہدہ و عزلت ان کو سمجھائے اور اعتکاف میں بٹھا کر اس اہتمام سے ان کی تربیت فرمائی کہ وہ چالیس خلوت نشین مرتبہ ٔ کمال کو پہنچ گئے اور انہیں خط ِارشاد عطا فرمایا کہ وہ طالبین سے بیعت لینے اور ہدایت کرنے کے مجازہو گئے ہیں ۔ اہل حال نے ان کے احوال کی تحقیق کی اور ۳۹ اشخاص کے متعلق اطمینان حاصل کیا ۔ تحقیق مکمل ہونے پر نوربخش ؒ کی خدمت میں پیش ہو کر عرض کیا کہ ان چالیس میں سے انتالیس اشخاص تو مرتبہ کمال کو پہنچ گئے ہیں لیکن صرف ایک شخص کے احوال و مرتبے کا ہمیں علم نہیں ہو سکا ۔ میرؒ نے از راہِ تفنّن فرمایا کہ جس شخص نے ۳۹ سالکین کو درجہ ٔ کمال تک پہنچایا ہو صرف ایک شخص کو بغیر استحقاق و قابلیت کیوں کر خط ِارشاد عطا کر سکتا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ اس شخص کا مرتبہ و مقام تمہارے اپنے دائرۂ مکاشفات سے باہر ہے ۔ (29)

حوالہ کتب

’تحفۃ الاحباب ‘ میں میر شمس الدین عراقی ؒسے روایت ہے کہ جب وہ کشمیر سے آٹھ برس بعد ایران واپس ہوئے تو درشت نامی مقام پر رہائش اختیار کر لی جہاں آٹھ برس کی مدت میں ان کے ہاں پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔ ابھی وہ اولادِ نرینہ سے محروم تھے ۔ اس صورت ِحال سے عراقی کی اہلیہ حضرت بیجہ آغا اور دوسرے خویش و اقارب ملول رہتے تھے اور اولادِ نرینہ کی تمنا کرتے تھے ۔ یہ بات میر عراقی ؒ تک پہنچی تو انہوں نے حکم دیا کہ مستورات سولغان جائیں اور وہاں رشتہ داروں کے ہاں قیام کریں اور سید محمد نوربخشؒ کے روضے پر جا کر بار بار ان کے وسیلے سے اﷲ تعالیٰ سے اولاد ِ نرینہ کی دعا کریں ۔ قوی امید ہے کہ محمد نوربخشؒ کی دعا کے طفیل اﷲ تعالیٰ فرزند کی نعمت سے نوازے گا ۔
چنانچہ شمس الدین عراقی ؒ کی بیٹیاں ثانیہ بی بی ، فاطمہ بی بی ، اور رابعہ بی بی روانہ ہوگئیں ۔ تین دن تک سب صبح و شام سید محمد نوربخشؒ کے آستانے پر گریہ و زاری کے ساتھ اﷲ تعالیٰ سے ایک بھائی کے لئے درخواست کرتے رہے ۔ تیسرے دن یہ تینوں کمسن بچیاں سجدے میں اﷲ تعالیٰ سے عرض کر رہی تھیں کہ ناگاہ سید محمد نوربخشؒ کے مقبرے سے آواز آئی ۔
بروید حق تعالیٰ شمارا برادر ی داد
’’ جاؤ اﷲ تعالیٰ نے تمہیں ایک بھائی عطا کر ہی دیا ‘‘ ۔
اس واقعے کے ایک دو ماہ بعد بیجہ آغا حاملہ ہوئیں اور ان کے بطن سے دانیال پیدا ہوا ۔ (30)

واپس اوپر جائیں

حوالہ کتب


تحفۃ الاحباب (ص۱۱۳)
اسرار الشہود ( ص۴۸ تا ۵۱)
سلسلہ نامہ (ص۴)
تحفۃ الاحباب (ص۴۴)
ایضاً ( ص۴۲۴)
مثنوی کشف الحقیقت (سرورق)
خمحانۂ وحدت (ص۲۴)
فقہ منظومہ (ص۳)
مجالس المؤمنین ( ص۳۰۳)
المنجد ( ص ۷۱۸)
ہفت اقلیم (ص ۲۲)
میراثِ عارفانہ جاودانہ (ص۱۲)
میراث عارفانہ جاودانہ (ص۱۵)
مقدمہ اقرب الطرق الی اﷲ (ص۸۵)
مقالات ِ مولوی محمد شفیع جلد دوم (ص۱۵)
تحفۃ الاحباب (ص۱۲۴)
وارداتِ نوربخش (ص۲)
تحفۃ الاحباب (ص۱۳۶،۱۳۷)
دیوانِ نوربخش (ص۷)
دیوانِ نوربخشؒ (غزل نمبر۲۴)
روضات الجنان جلد دوم (ص۲۴۹)
مقدمہ میراثِ عارفانہ ٔ جاودانہ
مقدمہ میراثِ عارفانہ ٔ جاودانہ
تحفۃ الاحباب (ص ۱۲۲ تا ۱۳۱)
تحفۃ الاحباب (ص ۱۳۰ ،۱۳۱)
مجالس المؤمنین (ص۳۰۴)
تحفۃ الاحباب (ص۴۴)
تحفۃ الاحباب (ص ۱۰۹،۱۱۰)
تحفۃ الاحباب (ص۴۶ تا ۴۹)
تحفۃ الاحباب (ص۲۵۱)