حضرت میر سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں کہ جو آدمی بستر سے اٹھتے وقت یہ تسبیح پڑھے تو اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کو جو کہ بندوں کی حاجات پوری کرنے پر مامور فرشتہ ہے۔آواز دیتے ہیں کہ اے جبرائیل! میرے فلاں بندے کی حاجات پوری کرو۔
سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الٰہ الا اللّٰہ واستغفراللّٰہ اللّٰھم انّی أسئلک ورحمتک فانھما بیدک ولایملکھما احد سواک۔ اللہ پاک ہے سب تعریفیں اللہ کیلئے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں کہ وہ دونوں تیرے اختیار میں ہیں اور تیرے سوا ان کا کوئی مالک نہیں ہے۔ (234)
علامہ ابن الجوزی حلیۃ الاولیاء کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ عبداللہ ابن محمد انصاری سے مروی ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ معروف کرخی کو کہتے ہوئے سنا ہے جب گھر کے آدمی کو الوداع کہہ رہے تھے۔
اللّٰھم لک الحمد عدد عفوک عن خلقک ۱۔
اے اللہ! ساری تعریفیں تیرے لئے جو کہ تیرے بندوں پر کئے جانے والی بخششوں کی تعداد کے برابر ہیں( یعنی جس طرح بے حساب بخششیں ہیں اس طرح تو بے حساب تعریفوں کے لائق ہو)۔
حضرت شیخ معروف کرخی کے اپنے برادرزادے سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے عم محترم حضرت شیخ معروف کو سنا ہے آپ کہہ رہے تھے کہ جب کوئی آدمی اپنے بستر پر جائے تو وہ یوں کہے۔
اللّٰھم لا تنسنا ذکرک، ولا قومنا مکرک، ولاتھتک عنا سترک، ولا تجعلنا من الغافلین، ونبھنی، لاحب الساعات الیک، اسئلک فتعطینی، واستغفرک، فتغفرلی، وادعوک فاستجب لی۔اے اللہ ! مجھے اپنے ذکر سے فراموش نہ رکھ اور اپنے مکر سے بے پرواہ نہ کر اور ہم سے اپنی (رحمت سے) پردہ پوشی ختم نہ فرما ۔ ہمیں غافل لوگوں میں شامل نہ فرما۔ ہمیں اچھے اوقات میں اپنی طرف متوجہ فرما۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تو مجھے عطا فرما۔ میں تجھ سے بخشش کا طلبگار ہوں تو معاف فرما۔ میں تجھے پکارتاہوں تو میری پکار کو قبول فرما۔
اس سے ایک فرشتہ بیدار کرنے کے لئے آئے گا۔ اس سے پہلے وہ بندہ بیدار ہوا تو ٹھیک ورنہ اس کے بستر تک وہ فرشتہ دعا کرتا ہوا آئے گا جس کا ثواب اس وظیفہ کے پڑھنے والے کے حق میں لکھا جائے گا۔ (235)
کتاب سلسلۃ الذہب میں مرقوم ہے کہ محمد بن حسان نے کہا مجھ سے حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ نے فرمایا۔ میں تجھے دس کلمے سکھاتا ہوں۔ پانچ دنیا کے لئے اور پانچ عقبیٰ کے لئے جو اِن کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا۔ اِن کلمات کو اللہ تعالیٰ کے پاس پائے گا۔ میں نے کہا کہ مجھے یہ لکھ دیجئے۔ کہنے لگے لیکن میں ان کی تکرار کروں گا۔ جیساکہ مجھ پر بکر بن خنیس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی تکرار کی تھی (وہ دس کلمات یہ ہیں)۔
حسبی اللّٰہ لدینی۔حسبی اللّٰہ لدنیای۔حسبی اللّٰہ الکریم لما اھمنی۔حسبی اللّٰہ الحلیم القوی لمن بغیٰ علی۔حسبی اللّٰہ الشدید لمن کادنی بالسوء (یہ پانچ کلمات دنیا کے معاملات سے متعلق ہیں) حسبی اللّٰہ الرحیم عند الموت۔حسبی اللّٰہ الرؤف عند المسائلۃ فی القبر۔حسبی اللّٰہ الکریم عند الحساب۔ حسبی اللّٰہ اللطیف عند المیزان۔حسبی اللّٰہ القدیر عند الصراط۔ حسبی اللّٰہ لا الٰہ الا ھوعلیہ توکلت وھو ربّ العرش العظیم(یہ پانچ کلمات آخرت کے معاملات سے متعلق ہیں)۔
مجھے اپنے دین کیلئے اللہ کافی ہے۔ مجھے میری دنیا کیلئے اللہ کافی ہے۔ مجھے میرے تمام فکروں میں اللہ کریم کافی ہے۔ مجھے میرے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ حوصلے والاطاقت ور کافی ہے۔ مجھے مجھ سے بری تدبیریں کرنے والوں کے مقابلہ میں اللہ سخت قوت والا کافی ہے۔ مجھے اللہ مہربان میری موت کے وقت کافی ہے۔ مجھے میرا اللہ شفقت کرنے والا قبر کے سوال میں کافی ہے۔ مجھے میرا اللہ کریم حساب کے وقت کافی ہے۔ مجھے باریک بین اللہ ترازو کے وقت کافی ہے۔ مجھے اللہ قدرت والا پل صراط پر سے گزرتے وقت کافی ہے۔ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر توکل کیا اور وہ بڑے عرش کا ربّ ہے۔ (236)
سعد بن یزید روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی بندہ کسی چیز کو بھول جائے تو وہ یوں کہے۔
اللّٰھم مذکر الخیر وفاعلہٗ صلی علی محمد وعلیٰ اٰل محمد واذکرنی حاجتی۔ اے اللہ! بھلائی کو یاد دلانے اور اس کے سرانجام دینے والے پروردگار! تو محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما اور میری حاجت کی یاد دلادے۔ (237)
آپ سے یہ وظیفہ بھی منقول ہے کہ جو شخص فرزند سے محروم ہو، بے اولاد ہو تو یہ اسم شریف ہفتہ کی رات سو بار پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے فرزند صالح وپارسا عطا کرے گا۔
یا خالق انت الّذی تخلق اصناف الخلائق بقدرتک۔ اے اللہ! پیدافرمانے والے ربّ! تو وہ ذات ہے جو اپنی قدرت سے تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے۔ (238)
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت معروف کرخی قدس سرہ فرماتے تھے۔ کہ جب تمہیں کچھ مانگنا ہو تو کہو۔ اے اللہ! بحق معروف کرخیؒ مجھے یہ چیز عطا کر تو دُعا ضرور قبول ہوگی۔ (239)