حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کا شمار سلسلۃ الذہب الصوفیہ کے نامور ترین شیوخِ طریقت میں ہوتا ہے۔ آپ شاہ ِ ہمدان میر سید علی ہمدانی ؒ کے مرشد ہونے کے علاوہ آپ کے ماموں بھی ہیں۔ حضرت شاہ ہمدان ؒکی عظیم علمی اور روحانی مساعی کی شہرت فی زمانہ عالمگیر حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس ذیل میں ہمارے مرحوم دوستوں آغا ڈاکٹر سید حسین ہمدانی اور میر عبدالعزیز کی کوششوں سے منعقد ہونے والی انٹرنیشنل شاہ ہمدان کانفرنسوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کشمیر، ایران اور تاجیکستان میں تو آپ کی شخصیت محتاج ِ تعارف پہلے بھی نہ تھی ۔ برعظیم ِ ہند اور خصوصاً پاکستان میں آپ حکیم الامت حضرت ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کے ممدوحِ خاص ہونے کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔
سلسلۂ ہمدانیہ و کبرویہ اور حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ سے ہمارے تعارف کا ایک اور وسیلہ میر سید محمد نوربخش ؒ اور سلسلۂ نوربخشیہ ہے، جن کے لاکھوں پیروکار پاکستان اور ایران میں موجو د ہیں۔
میرے لیے انتہائی مسرت اور طمانیت کی بات ہے کہ جہاں فاضل مؤلف پروفیسر جمال جاوید الیاس نے زیر ِ نظر تالیف میں حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کی حیات و تعلیمات کا نچوڑ پیش کیا ہے وہاں مذکورہ بالا دونوں حوالوں کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے۔ افکارِ سمنانی ؒ اور فکر ِ اقبال ؒ کے خصوصی تعلق کے بارے میں فاضل مؤلف لکھتے ہیں۔
Simnani’s influence in this regard has been so far-reaching as to inspire the influential poet and philosopher, Muhammad Iqbal_, who maintained that Junayd al-Baghdadi and Simnani were his precursors in the development of the philosophy of the self (asrar-i Khudi).
اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ وحدت الشہود کا نظریہ جو شیخ احمد سرہندی ؒ اور سلسلۂ نقشبندیہ نے شیخ ابن العربی کے عقیدۂ وحدت الوجود کے مقابلے میں متعارف کرایا وہ فکرِ سمنانی ؒ سے ہی ماخوذ ہے۔ نیز مندرجہ بالا بیان میں حضرت علامہ اقبال ؒ کے حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی ؒ کی تعلیمات سے براہِ راست استفادے کا بھی اشارہ ملتا ہے۔
اسی طرح ’مسلکِ نوربخشیہ ‘ کے حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی ؒ کے فکری اور روحانی ورثے کے امین ہونے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
Simnani has left a lasting impression upon the development of Islamic mysticism. His teachings concerning the requirement of the path and visions encountered therein served as a distinguishing feature of the Rukniyya, a subbranch of the Kubrawiyya named after him. Through Ali-yi Hamdani these ideas also influenced Sayyid Muhammad-i Nurbakhsh and subsequently Nurbakhshi order.
ان بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بھی ممکن ہے کہ فی زمانہ تعلیماتِ تصوف کے ذیل میں فکرِ سمنانی ؒ ، فکرِ ہمدانی ؒ نیز فکر ِ اقبال ؒ کی صوفیانہ وراثت مسلکِ نوربخشیہ کو ہی منتقل ہوئی ہے۔ اتحاد بین المسلمین اور رفع ِ اختلاف بین المسالک کی تحریک ہونے کے باوصف مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے موجودہ ماحول میں اگر کوئی مسلک ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کے نظریے کی فکری اساس مہیا کر سکتا ہے تو وہ بالعموم مذاہبِ تصوف اور بالخصوص مذہبِ صوفیہ مسلک ِ نوربخشیہ ہے۔ بزرگانِ سلسلۃ الذہب نوربخشیہ کا شاندار علمی ورثہ اس دعویٰ کی کافی دلیل ہے۔ اہل ِ تحقیق کو اس اہم موضوع پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
’میر سید محمد نوربخش ؒ اور مسلکِ نوربخشیہ‘ کی اشاعت کے بعد ایک مخصوص حلقے نے محض تنقید برائے تنقید کی روش اپناتے ہوئے حدِ اعتدال و انصاف سے انحراف کیا ۔ چونکہ اعتراضات کی نوعیت علمی نہ تھی بلکہ وہ محض جذباتی نوعیت کے بیانات تھے اس لیے راقم الحروف نے انہیں قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ ان حضرات کی خدمت میں محض اتنی گزارش کروں گا کہ چونکہ محقق کا فرض حقائق کو جوں کا توں پیش کرنا ہوتا ہے اس لیے وہ اپنی تحقیق میں ذاتی پسند ناپسند یا رائے عامہ کی موافقت اور عدم موافقت کا خیال رکھے بغیر تحقیقی دیانت کا ثبوت دینا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے۔ اگر علمی اور تحقیقی اعتبار سے اس کے کام میں کوئی لغزش ہو تو اس پر مثبت اور تعمیری علمی تنقید ہونی چاہیے۔ اسی طرح کسی بھی مترجم کا فرض ہے کہ وہ ترجمہ کرتے وقت متن سے انحراف نہ کرے۔ ممکن ہے زیر ِ نظر تالیف کے بعض مندرجات سے بعض قارئین کو نظریاتی اختلاف ہو ۔ بلکہ ایک آدھ مقامات ایسے ہیں جہاں خود مترجم کا نقطۂ نظر مؤلف سے مختلف ہے۔ چنانچہ راقم الحروف نے چند مقامات پر اس اختلاف کا اظہار حاشیے میں کیا ہے۔
مجموعی طور پرپروفیسر جمال جاوید الیاس کا تحقیقی مقالہ The Throne Carrier of God مطالعۂ سمنانی ؒ کے ذیل میں ایک گراں قدر کوشش ہے۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی ؒ کے افکار بندے کو خدا سے ملانے والے راستے کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔ انوار و الوان اور مکاشفات و لطائف کے بیان میں سارے ادب ِ تصوف میں آپ کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ حضرت ابراہیم ادھم ؒ کی طرح آپ وہ بزرگ ہیں جنہوں نے براہِ راست فیض ِ الٰہی کی رہنمائی کے نتیجے میںدنیوی سلطنت و اقتدار کو چھوڑ کر کوچۂ فقر و تصوف میں قدم رکھا اور اس عظیم روحانی مقام تک پہنچے جہاں آپ خود کو بجا طور پر ’حاملِ عرشِ شرعِ حق‘ سمجھتے ہیں۔ آپ کی عظیم تصانیف خصوصاً ’تفسیر نجم القرآن‘ ادبِ تصوف کا گراں قدر سرمایہ ہیں۔
پروفیسر جمال جاوید الیاس ایمہرسٹ کالج امریکہ میں دینیات کے پروفیسر ہیں۔ پروفیسر صاحب سے راقم الحروف کی ملاقات ۱۳ جولائی ۱۹۹۸ء کو اسلام آباد میں ہوئی جب وہ تحقیقی اور علمی دورے پر پاکستان آئے اور غریب خانے پر تشریف لائے۔ اس ملاقات میں راقم الحروف نے پروفیسر صاحب سے ان کے علمی مقالے کے اردو ترجمے کی اجازت لی تھی۔
اس ترجمے میں وہ تمام خرابیاں موجود ہیں جو ترجمہ در ترجمہ کا خاصہ ہوتی ہیں۔ اصطلاحات ِ تصوف کو انگریزی کا جامہ پہنانے کے بعد انہیں تیسری زبان میں منتقل کرنا انتہائی دشوار کام تھا۔ میں نے اس مشکل کام سے حتی المقدور عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم مفہوم تک قاری کی رسائی ایک حد تک آسان ہو گئی ہے تاہم الفاظ و اصطلاحات کو صحت کے ساتھ اردو میں منتقل کرنے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں اہلِ علم قارئین سے گزارش ہے کہ ممکنہ فروگزاشتوں کی نشاندہی فرمائیں۔
میں پروفیسر جمال جاوید الیاس کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ازراہِ کرم اس اہم تالیف کا ترجمہ کرنے کی اجازت عنایت فرمائی۔ اصل کتاب سے استفادے کے لیے قارئین انٹرنیٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
یہ کتاب ’ شاہِ ہمدان پبلکیشنز‘ کے اشاعتی منصوبے کی وہ کڑی ہے ، جس کا وعدہ آج سے چند برس قبل کیا گیا تھا۔ انشاء اﷲ تعالیٰ مستقبل قریب میں کئی اور علمی کاوشیں نذرِ قارئین کی جائیں گی جن میں ’’ارمغانِ نجف‘‘ (منظوم ترجمہ دیوانِ علیؑ)، ’’ معارفِ نوربخشیہ‘‘ (منظوم ترجمہ مثنوی اسرار الشہود ) ، ’’مئے الست‘‘ (منظوم ترجمہ مثنوی مولانا رومؒ)، ’’خورشیدِ جہانتاب ‘‘ (منظوم ترجمہ دیوانِ نوربخشؒ)، ’’مثنوی پیغمبر نامہ‘‘ ، ’’ فیضِ ہما‘‘ یعنی غالب کا فلسفۂ حیات، ’’ احوال و افکارِ شاہِ ہمداںؒ ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔
غازی محمد نعیم ، اسلام آباد ، ۱۷ِ فروری ۲۰۰۶ء