معروف کا پانی پر چلنا:تاریخ بغداد اور سیر النبلاء وغیرہ کے حوالے سے علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں۔ کہ راوی کہتے ہیں کہ میں معروف کرخی قدس سرہ کی مجالس میں اکثر بیٹھا کرتا تھا۔ پھر ایک دن میں نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کا چہرہ متغیر تھا۔ میں نے ان سے کہا اے ابا محفوظ! میں نے سنا ہے کہ آپ پانی کی سطح پر چل پڑتے ہیں۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا۔ میں پانی پر بالکل نہیں چلتا بلکہ جب بھی میں دریا کو عبور کرنا چاہتا ہوں تو دریا کے دونوں کنارے آپس میں مل جاتے ہیں اور میں اُسے پار کرجاتا ہوں۔(205)
کرخی زمزم پر:محمد منصور طوسی بیان کرتے ہیں۔ کہ میں ہمیشہ کی طرح آج بھی حضرت شیخ معروف قدس سرہ کے پاس بیٹھا تھا اور اسی طرح گزشتہ کل بھی ان سے ملاقات کرلی تھی۔ لیکن آج کیا دیکھتا ہوں۔ کہ ان کے چہرے پر ایک چوٹ کا نشان پڑگیا ہے۔ شیخ محترم مجھ سے پیار کرتے تھے اور مجھ سے نزدیک ہونے کو فرمایا۔ جب میں ان کے نزدیک گیا۔ میں نے عرض کی یا ابا محفوظ! کل ہم یہاں سے گئے تو چہرے پر کوئی نشان نہ تھا۔ آج یہ نشان کیسے نمودار ہوگیا؟ شیخ معروف کرخی قدس سرہ نے فرمایا تم کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہو۔ خدا تجھے معاف فرمائے۔ میں نے عرض کی حضرت !میںخدا کے واسطہ دے کر پوچھتا ہوں آپ جواب دیجئے یہ نشان کیسے پڑگیا؟ شیخ علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ اُف، اُف، اُف تو مرجا! تونے مجھے اللہ کے ساتھ واسطہ دے کر خدا کے ساتھ مخالفت کی طرف دعوت دے رہے ہو۔ اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں رات کے پچھلے پہر وہاں نماز پڑھ رہا تھااور میں نے چاہا بیت اللہ کا طواف کروں اس دوران مکہ سے گزررہا تھا طواف کے بعد زمزم پر اترا تاکہ اس سے سیراب ہوجاؤں۔ پانی پیتے ہوئے میرا پاؤں پھسل گیا اور دروازے پر گرگیا۔ جس کے سبب میرے چہرے پر یہ زخم کا نشان پڑگیا۔ علامہ جوزی نے اس واقعہ کا مختلف پیراؤں میں ذکر کیا ہے۔ (206)
آستین سے سفرجل نکالا: محمد بن منصور سے روایت ہے کہ میں نے ایک مرتبہ روزہ رکھا اور عہد کیا کہ سوائے حلال مال کے اور کسی چیز سے افطار نہیں کروں گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلسل تین دن گزرگئے مجھے روزہ افطار کرنے کے لئے کوئی حلال چیز نہیں ملی۔ جب چوتھا دن ہوا تو میں نے دل میں عزم بالجزم کرلیا کہ آج شب کسی بزرگ کے ہاں جاکر جن کا کھانا سر بسر حلال وطیب ہو، روزہ افطار کروں گا۔ چنانچہ میں معروف کرخیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں سلام کہا اور پاس ہی جاکر بیٹھ گیا۔ آپ نماز مغرب اداکرنے کے بعد مسجد سے باہر آرہے تھے۔ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے طوسی! تم اپنے بھائی کے پاس جاؤ اور شب کا کھانا بھی اس کے پاس کھاؤ۔ طوسی کا بیان ہے کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ چار دن تو ہوگئے ہیں مسلسل روزہ رکھتے ہوئے اور اب بھی پتہ نہیں کہ کھانا کس قسم کا کھانا پڑے گا۔کہ وہ حلال ہوگا ۔ حضرت معروف کرخیؒ سے میں نے عرض کیا حضرت میرے پاس کھانا ہے کہاں ۔ لیکن آپ نے توجہ نہ دی۔ اس بات کا اعادہ کیا تو میں نے بھی وہی جواب دیا۔ دو مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار میرا جواب سن کر تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہے اور اس کے بعد ارشاد فرمایا۔ اچھا تم میرے پاس آؤ۔ میں ضعف ونقاہت کی وجہ سے بے دم ہورہا تھا۔ مشکل سے اٹھا اور حضرت معروف کے بائیں جانب جاکر بیٹھ گیا۔ حضرت شیخ معروفؒ نے میرے دایاں ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے بائیں ہاتھ کی آستین میں داخل کردیا۔ مجھ کو آستین میں سے ایک سفرجل (جاپانی پھل) ملا۔ جس پر دانت سے کاٹنے کے نشان تھے۔ میں نے اسے کھایا تو اس کا ذائقہ بہت عجیب وغریب تھا۔ میں نے آج تک اس طرح کا کوئی میوہ نہیں کھایا تھا۔ اور اس میوہ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اسے کھا کر میں پانی سے مستغنی ہوگیا۔(208)
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے پوچھا ابا جعفر تم ہو؟ آپ نے کہا ۔ ہاں! میں تجھے مزید کہتا ہوں کہ میں نے اس سفر جل سے بڑھ کر کوئی میٹھی چیز نہیں دیکھی۔اس کے بعد جو بھی میوہ کھاتا میں اِس پھل کا ذائقہ پاتا۔ پھر محمد بن منصور نے اپنے اصحاب کی طرف مڑکر دیکھا۔ اور کہا اللہ تمہارا بھلا کرے تم جو مجھے کہہ رہے تھے نا کہ میں مرجاؤں لیکن میں تو اب بھی زندہ ہوں۔ (209)
گم شدہ لڑکا مل گیا: حضرت شاہ سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔ کہ خلیل صیاد روایت کرتے ہیں کہ میرا لڑکا محمد گم ہوگیا۔ اس کی ماں بڑی بے قرار تھی۔ پس میں شیخ معروف کرخی قدس سرہٗ العزیز کے پاس حاضر ہوا۔ شیخ نے کہا کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا کہ حضرت! میرا لڑکا گم ہوچکا ہے اور اس کی ماں بڑے اضطراب اور بے قراری میں مبتلا ہے۔ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا فرمادیجئے کہ لڑکا ماں کے پاس واپس آجائے۔ پس شیخ نے فرمایا۔
اللّٰھم انّ السّماء سمائک والارض ارضک وما بینھما لک فات بہ ۔
اے اللہ ! یہ آسمان بھی تیرا ہے۔ یہ زمین بھی تیری ہے۔ اور جو اِن دونوں کے درمیان ہے وہ بھی تیرا ہے۔ پس اسے واپس لے آ۔
خلیل صیاد کہتے ہیں اس کے بعد میں گھر واپس آگیا۔ جب باب الشام میں پہنچا تو میرا لڑکا حیران کھڑا تھا۔ جواب دیا۔ اے باپ ابھی میں شہر انبار میں تھا اور ناگہان یہاں پہنچ گیا۔(210)
تجوری روپوں سے بھرگئی: حضرت محمد رقاشی بیان کرتے ہیں۔ کہ ایک دن میں نے حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کو دیکھا ،آپ رو رہے ہیں۔ میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا۔ برادری ختم ہوگئی ہے ،لوگ دنیا کے لئے بے قرار ہے، سنگ دلی مول لی ہے، نرمی دلوں سے چھٹ گئی ہے اور آخرت کو بھول چکے ہیں۔ پھر کھڑے ہوکر چلنے لگے تو میں بھی اُن کے ہمراہ اُن کے اپنے بھائی کی دکان پر پہنچ گیا۔ بھائی کو سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ آپ کا بھائی آٹے کی تجارت کرتا تھا۔ ان کے بھائی نے آپ سے کہا۔ ذرا ٹھہرو! میں کسی کام سے جانے والاہوں۔ بھائی اپنے کام کے لئے چل دیئے۔ جب شیخ معروفؒ نے بیٹھے ہوئے غریبوں، یتیموں اور ضعیفوں کو دیکھا تو آٹا لوگوں میں تقسیم کرکے دکان کا صفایا کردیا۔ جب ان کا بھائی واپس آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ دکان خالی ہوگئی ہے۔ اس نے ایک چیخ ماری اور کہا اے معروف تونے مجھے کنگال کردیا۔ شیخ معروف وہاں سے اٹھے اور اپنی مسجد کو روانہ ہوگئے۔ جب دکاندار نے تجوری کھولی تووہ روپوں سے بھری پڑی تھی۔ اس واقعہ کے بعد بھائی نے آپ سے کہا کہ کل آپ کو تھوڑی دیر کے لئے میری دکان پر ضرور آنا ہوگا۔ آپ نے اس کو آزمانے کی خاطر فرمایا۔ میں اس طرح تمہارے غرض کے لئے نہیں آؤں گا۔ آپ نے فرمایا (اے میرے پروردگار!) تیری ذات مقدس ہے چاہے عطا کرتی ہے اورمالک بنادیتی ہے۔ اگر ہم تجھ سے اس کے لئے یہ سوال کریں جس میں وہ موجودہے وہ منع نہیں کرے گا۔ لیکن ہم نے اللہ سے سوال یہ کیا ہے کہ اسے اس کا مقدر مل جائے۔ آپ نے سابقہ آٹے کی قیمت والی کہانی سنائی تو بھائی نے سارا آٹا صدقہ کرنے کی اجازت دی۔ پھر ان کی اجازت سے ایسا ہی کردیا گیا۔(211)
یہ اولیاء کی نگاہوں کا کرشمہ ہے کہ اُن کی نگاہ یک لخت میں انسان کی ضمیر کو بیدار کرکے اُسے راست راہ دِکھاتی ہے۔
طلب باراں پر بارش: روایت ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے یعقوب نے ہمیں بتایا ہے۔ انہوں نے شیخ معروفؒ سے کہا ۔ کہ اے ابا محفوظ! اگر آپ اللہ سے دُعا کریں تو بارش ہوجائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ موسم اس دن صاف اور سخت گرمی کا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے کپڑوں کو سمیٹ لو۔ جنہوں نے ان کی آواز سنی اپنے کپڑوں کو سنبھالا ہی تھا کہ بارش برسنے لگی۔ (212)
بچے مصیبت سے بچ گئے: روایت ہے کہ ایک آدمی کو بچہ ہوا۔ اس کی بیوی نے کہا اسے حضرت شیخ معروفؒ کے پاس لے جاؤ تاکہ وہ اس کے حق میں دعا فرمائے۔ کہتے ہیں کہ بچے کو شیخ کے پاس لے آیااور عرض کیا۔ حضرت! اس بچے کے حق میں دعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا اللّٰھم خر لہٗ۔ اس کا مطلب ہے اے اللہ! اسے پسند فرما۔ کہتے ہیں وہ بچہ مرگیا۔اسے پھر ایک بچہ پیدا ہوا تو بیوی کے کہنے پر اس نے پھر آپ کے پاس دعا کے لئے استدعا کی۔ حضرت میرے بچے کے حق میں دعا کیجئے۔ آپ نے پھر ایسا فرمایا۔اللّٰھم خر لہٗ۔بچہ پھر مرگیا۔ جب اسے تیسرا بچہ پیدا ہوا تو اس کی بیوی کہنے لگی اب میں ایسا نہیں کروں گی۔ یعنی بچے کو حضرت شیخ معروف کے پاس دعا کی خاطر نہیں لے جاؤں گی۔ اس دفعہ اس آدمی نے کہا اس بچے میں کچھ علت ہے جس کی وجہ سے ہم نہ سو سکتے ہیں نہ سکون سے رہ سکتے ہیں اور نہ ہی کھا پی سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب وہ زیادہ علیل ہوگیا۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو میں نے کہا ۔ میں اسے شیخ معروفؒ کے پاس لے جاؤں گا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائے ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر بچے کے بارے میں تکلیف بیان کی۔ اور عرض کی حضرت! میرے اس بچے کے بارے میں بھی دعا فرمائیں۔ تو آپ نے پھر وہی دعا کی اللّٰھم خر لہٗ۔تو بچہ پھر مرگیا۔ (213)
آپ کی اس دعا سے بچوں کا مرنا کوئی نیک فال معلوم نہیں ہوتا مگر آپ کے دعائیہ کلمات قابلِ غور اور معنی سے بھرپور ہیں۔ جس کے نتیجے میں بچوں کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا اور دنیا کے مصائب سے جان چھوٹ گئی۔
ہاشمی کی قسمت سنور گئی:ابوالعباس مودب بیان کرتے ہیں۔ کہ میرے پڑوس میں ایک ہاشمی رہتا تھا۔ یہ غریب نہایت مفلوک الحال اور عسرت زدہ تھا۔ ایک دن اس کے گھر میں ایک بچے کی ولادت ہوئی۔ بیوی نے تنگ آکر کہا۔ اس وقت میری جو حالت تم پر روشن ہے۔ صبح کو کھانے کے لئے کچھ نہیں اور میری ناتوانی حد سے بڑھتی جارہی ہے۔ ضرور ی ہے کہ کچھ نہ کچھ کھاؤں اس وقت رات زیادہ گزر چکی تھی۔ خدا پر توکل کرکے یہ ہاشمی رزق کی تلاش میں اسی وقت گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ ایک بقال کے پاس آیا۔ اسے اپنی داستان مصیبت سنائی اور بطور قرض کچھ چیزیں طلب کیں۔ ہاشمی بقال کا پہلے سے ہی مقروض تھا۔ اس نے مزید قرض دینے سے انکار کردیا۔ یہاں سے مایوس ہو کر اس نے ایک اور بقال(سبزی فروش) کی دکان کا رخ کیا لیکن یہاں بھی یہی صورت پیش آئی۔ اب اس حسرت زدہ کی سراسیمگی کی حد نہ رہی۔ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے بائوجود تنگ نظر آرہی تھی۔ کوئی تدبیر اس فشار عالم سے بچنے کی سمجھ میں نہ آتی تھی۔ اور اسی عالم حیرت وبے خودی میں دریائے دجلہ کی طرف رُخ کیا۔اب ساحل پر پہنچ کر سنا کہ ملاح بغداد کے مختلف محلوں کا نام لے لے کر پکارتا تھا۔ جس نے جانا ہے کشتی میں آجائے۔ ہاشمی نے ملاح کو آوازدی۔ اس نے اپنی کشتی کنارے سے لگادی۔ ملاح نے پوچھا کہاں جاؤگے؟ ہاشمی بولا۔ مجھے پتہ نہیں۔ ملاح بولا۔ بھئی میں نے تم سے زیادہ عجیب وغریب شخص آج تک نہیں دیکھا۔ ایسے بے وقت میں تم کو اپنی کشتی میں بٹھا کر لے جارہاہوں اور پوچھتا ہوں کہ کہاں جاؤگے تم جواب دیتے ہو مجھے معلوم نہیں! مظلومیت کے احساس نے دل وجگر کو محرومی، ناکامی کے دھویں سے دخان زار بنادیا اور آنکھیں پُرنم ہوگئیں۔ ہاشمی غریب نے مجبور ملاح کو بھی اپنی داستانِ غم سنادی۔ ملاح کا دل پسیج گیا اور اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا گھبراؤ نہیں میں تمہیں اصحاب السباح کے محلہ میں پہنچادیتا ہوں۔ وہاں امید واثق ہے کہ تمہیں اپنے مقصد میں کامیابی ہوگی۔ چنانچہ ملاح ہاشمی کو اصحاب السباح کے محلے کی ایک مسجد میں لے آیا۔جہاں حضرت شیخ معروفؒ رہتے تھے۔ ہاشمی نے ملاح کی ہدایت کے مطابق وضو کیااور مسجد میں داخل ہوکر حضرت شیخ معروف کرخیؒ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا۔ حضرت معروفؒ نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہوئے تو ہاشمی کی طرف متوجہ ہوئے۔ علیک سلیک کے بعد آپ نے حال پوچھا اور یہاں اس وقت آنے کی وجہ دریافت کی ۔ ہاشمی نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے یہ سن کر اپنی نماز پھر شروع کردی۔ اتنے میں موسم متغیر ہوگیا اور اس زور کی بارش برسی کہ جھل تھل ہوگیا۔ مفلسی میں آٹا گیلا۔ بیچارے ہاشمی کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہونے لگے۔ بیوی کو مفلسانہ زچگی کے عالم میں اور بے کسی میں تنہا چھوڑ کر آیا تھا۔اور مقصد ہنوز حاصل نہیں کرپایا کہ رات تاریک اور بارش موسلادھار اب غریب کے لئے یہ بھی ممکن نہ رہا کہ گھر واپس جائے۔ فقر وخیال کے فرد الم میں اپنے پریشان افکار کے تھپیڑوں سے کھیل رہا تھا۔ کہ یکایک مسجد سے باہر دروازے پر کسی سواری کی آہٹ محسوس ہوئی۔ چند لمحوں کے بعد دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا کہ میں فلاں شخص کا بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ وہ صاحب آپ کو سلام کہتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ میں بستر پر سورہا تھا۔ جسم پر صرف بنیان تھی کہ ناگاہ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے اوپر اللہ کی بڑی نعمت دیکھی۔ اب میں شکرانہ میں آپ کے پاس پانچ سو دینار کی تھیلی بھیج رہا ہوں۔ آپ اسے مستحقین میں تقسیم کردیجئے گا۔ حضرت معروف کرخیؒ نے قاصد سے فرمایا ۔ کہ تم یہ تھیلی اس ہاشمی کو دے دو۔ قاصد نے حکم کی تعمیل کی۔ ہاشمی نے خوش ہوکر دیناروںکی تھیلی کمر سے باندھ لی اور کیچڑ اور گارے میں گرتا پڑتا بڑی مشکل سے بقال کی دکان پر آیا اور وہاں سے شہد، شکر، شیر، چاول اور روغن لے کر گھر آیا۔ جہاں اس کی ضعف میں مبتلابیوی انتظار میں جاں بلب تھی۔ہاشمی کو دیکھتے ہی برا بھلا کہنے لگی۔ ہاشمی نے اپنی پوری سرگذشت اُسے سنائی۔ جس سے بیوی کی جان میں جان آئی۔ دونوں نے مل کر حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ کو دعائیں دیں۔ ہاشمی نے ان دنانیر سے ایک جائداد خرید لی۔ فقر ومصیبت کے دن ختم ہوگئے۔جس گھر میں پہلے قحط وافلاس کا دور دورہ تھا اب وہ مسرت وشادمانی کا گہوارہ بن گیا۔(214)
بھگوڑا واپس آگیا: ابو محمد فریری سے منقول ہے کہ میں ایک دن ابو بکرمردوویہ کو تلاش کرنے کے لئے ان کے گھر گیا۔ اس نے کہا کہ چند روز پہلے میرا لڑکا گم ہوگیا ہے اور گھر کی تمام عورتیں بے قراری اور اضطراب میں ہیں۔ اور میں ان کی اس حالت سے پریشان ہوں۔ میرے ساتھ شیخ معروف کے پاس چلو۔ چنانچہ ہم شیخ کے پاس آئے۔ شیخ اس وقت مسجد میں تھے۔ ہم نے سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیااور پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ ابو بکر نے کہا کہ میرا لڑکا گم ہوگیا ہے اور چند دنوں سے گھر میں عورتیں گریہ وزاری میں مبتلا ہیں۔ ان سے تنگ آکر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ پس شیخ معروف کرخی ؒنے فرمایا۔
یا عالما بکل شیٔ و یا من لا یخفیٰ علیہ شیٔ و یا من علمہ محیط بکل شیٔ اوضح لنا امرذ الغلام۔
اے ہر چیز کے جاننے والے! اے وہ ذات! جس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔ اے وہ ذات! جس کا علم ہر چیز پر محیط ہے ہم پر اس لڑکے کا معاملہ واضح کردے۔
آپ علیہ الرحمہ نے تین بار یہ دعا پڑھی اور ہم واپس اٹھ کر چلے آئے۔ جب صبح ہوئی تو میرے پاس مردوویہ کا خادم آیا اور کہا کہ آپ کو میرا آقا بلاتا ہے۔ میں نے پوچھا کیا کام ہے؟ کہنے لگا کہ ان کا لڑکا واپس آگیا ہے۔ چنانچہ میں ان کے ہاں گیا تو دیکھا اس کا لڑکا باپ کے سامنے کھڑا ہے۔ پس ابو بکرمردوویہ نے کہا کہ اس سے اپنی زبانی سن ۔ پس اس لڑکے نے کہا کہ میں اتوار کے دن کوفہ میں تھا۔ راستہ میں جارہا تھا کہ مجھ کو دو آدمیوں نے پکڑ لیا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے کہ کوفہ سے نکل جاؤ اور اس جگہ مت رہو اپنے گھر واپس ہوجاؤ۔ تو میں گھر کو چلا اور کسی جگہ نہیں بیٹھا اور نہ کچھ کھانا کھایا اور نہ پانی پیا۔ حالانکہ راستہ میں نو مرتبہ کنویں سے گزر ہوامگر میں نے اس طرح توجہ نہ دی اور متواتر راستہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس پہنچ گیا ہوں۔ پس مجھے کھانا دے دیں میں نے اس مدت میں کوئی چیز نہیں کھائی ہے۔(215)
طغیانی میں سکون: خطیب بغدادی لکھتے ہیں۔ کہ ایک مرتبہ ایک دولت مند تاجر امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جو اپنے ایک تجارتی سفر سے سلامت واپس ہو آیا اور تجارت میں برکت وفائدہ پانے کی دعا کرانے آیا تھا۔ امام علیہ السلام نماز میں مصروف تھے۔ وہ جلدی جانا چاہتا تھا۔ معروف کرخیؒ کے پوچھنے پر اس نے اپنی آمد کی وجہ بیان کی آپ نے قلم دوات منگوائے اور کچھ لکھ کر اسے دے دیا۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ جب کبھی تمہیں کوئی دشواری پیش آئے۔ سمندر میں لہریں سراُٹھانے لگیں تو اس کاغذ کو کھولنا اور جو کچھ اس میں لکھا ہے، اس کو پڑھ لینا، انشاء اللہ پانی کی لہریں خاموش ہوجائیں گی اور تم سلامت سے ساحل پر اترجاؤگے۔ اس تاجر نے کاغذ کو جیب میں ڈالا اور اپنے تجارتی سفر پر روانہ ہوگیا۔ وہ ایک سمندری راستے سے گزررہے تھے کہ سمندر میں طغیانی آگئی اور اس کی کشتی بھنور میں پھنس گئی۔اس نے یہ سوچ کر کہ حضرت شیخ معروفؒ نے حضرت امام علیہ السلام کی کوئی آزمودہ اور مجرب دعا لکھ دی ہوگی۔ اس دشواری کے عالم میں پڑھنے کے لئے اُس کاغذ کو کھولا تو اس میں لکھا تھا۔ کہ اے سمندر معروف کرخیؒ کے سر کا واسطہ جو حضرت علی ابن موسیٰ رضاؑ کا دربان ہے، سکون میں آجا۔ اتنی سی تحریر دیکھ کر وہ فکر مند ہوا پھر بھی وہ اسے سمندر میں پھینک دیا۔ اُس کاغذ کے سمندر میں گرتے ہی لہروں میں سکون آگیا۔ چنانچہ تاجر اور اس کے تمام ساتھی سمجھ گئے کہ امام علی رضا علیہ السلام کی دربانی کرنے سے حضرت شیخ معروف کرخیؒ اور ان کے نام میں اس قدر فیض وبرکت ہے کہ سمندر کی طوفانی لہریں پُرسکون ہوجاتی ہیں۔ اس طرح تمام تاجر بخیر وعافیت ساحل پر اُترگئے۔ ابن خلکان اس واقعہ کو درج کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ اب بھی بغداد کے دریا اور سمندری مسافروں کا معمول ہے کہ جب کبھی طغیانی نے سر اُٹھایا اور لہریں بالا ہونے لگیں۔ تو معروف کرخی کے سر کا واسطہ دے کر لہروں کر پُرسکون ہونے کو کہتے ہیں۔ اور دریا پُرسکون ہوجاتا ہے۔ (216)
ہر منگتے کی حاجت پوری: روایت ہے کہ حجاج المقری بیان کرتا ہے کہ مجھے اللہ نے ایک بیٹا دیا ۔ میرے پاس خرچہ کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ میں نے حضرت شیخ معروفؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی۔ حضرت! میرے ہاں آج بیٹا ہوا ہے۔ لیکن میرے پاس کوئی خرچہ موجود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اے بھائی! اپنے ربّ سے دعا کرو۔ کہتے ہیں آپ دعا فرماتے اور آمین بھی فرماتے تو میں بھی اللھمآمین کہتا رہا دُعا مانگتا رہا۔ جب دُعا لمبی ہوگئی تو میں اُٹھ کر جانے لگا اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے پیچھے سے ایک شخص پکارتا ہوا آرہا ہے او بھئی! اوبھئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کے پاس ایک روپوں کی پوٹلی تھی۔ راوی کہتا ہے کہ شیخ معروف نے سائل سے فرمایا لو اسے اپنی ضروریات میں خرچ کرو ۔ دیکھا تو اس پوٹلی میں ایک سو دینار تھے ۔(217)
ناقہ ٹھیک ہوگیا:علامہ ابن الجوزی نے لکھا ہے۔ کہ محمد بن خلف بن المرزبان بیان کرتے ہیں ۔ کہ ہم حضرت شیخ معروف کرخیؒ کی مجلس میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اس کے پاس ایک اونٹ تھا۔ اس نے کہا یہ اونٹ ہے جسے میں اپنے روزگار کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ میں کثیرالعیال آدمی ہوں۔ میرا واحد ذریعہ معاش یہی ہے۔ اس کا کل تین دن سے بول بند ہے۔ حضرت معروف فرمانے لگے کیا چاہتے ہو؟ اس شخص نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں دعافرمائیں تاکہ میرا اونٹ ٹھیک ہوجائے۔ آپ ہماری طرف متوجہ ہوگئے۔ فرمایا اپنے اس بھائی کے لئے دعا کرو۔ اللہ کرے اس اونٹ کا بول کھل جائے۔ راوی کہتا ہے۔ پھر آپ نے دعا فرمائی ۔ جس کے نتیجے میں اونٹ کا پیشاب کھل گیااور اُسے بیماری سے شفا مل گئی۔ آپ جب بھی دعا فرماتے تو اکثر ان کلمات کو دہراتے تھے۔
یامن وفق الخیر للخیر۔ واعانھم علیہ۔
اے وہ ذات! جو نیکی کی توفیق ان کی بھلائی کے لئے دیتا ہے اور اس پر ان کی مدد بھی فرماتا ہے۔
چنانچہ ہماری بھی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور نیکی کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس واقعہ کو دوسری روایت میں یوں اضافہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جب اس شخص نے دعا کی درخواست کی تو آپ کھڑے ہوگئے اونٹ کے پاس کچھ دیر ٹھہرے اور پھر اس پرتوجہ فرمائی اور اس اونٹ کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا ۔ اس وقت آپ پڑھ رہے تھے۔
بسم اللّٰہ اعینہٗ بالاحد الصّمد الّذی لم یتخذ صاحبۃ وّلا ولداً۔اللہ کے نام سے پنا میں اٹھا ہوں جو کہ بے نیاز ایسا ہے جس نے کوئی بیوی اپنائی نہ بیٹا۔ اس اونٹ کا پیشاب جاری ہوگیا۔(218)
حکیم راہب کا قبول اسلام: حضرت اسماعیل بن علی بن اسماعیل الخطیب جو خطیب بغدادی کے نام سے معروف ہیں، روایت کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت معروف کرخی قدس سرہٗ علیل ہوگئے۔میں ان کی مزاج پُرسی کے لئے گیا۔ آپ کی حالت دیکھ کر مشورہ دیا کہ ان کے پڑوس میں جو کلیسا ہے اس کے راہب سے علاج کروایا جائے۔ اور بتایا کہ جو بھی اس کے پاس علاج کے لئے گیا وہ مایوس نہیں لوٹا۔ پھر یہ کہ وہ علاج کا معاوضہ بھی نہیں لیتا۔ حضرت معروف کرخی نے اجازت دی تو میں راہب کی طرف آپ کا قارورہ لے کر گیا۔ اس نے اسے بغور معائنہ کیا اور کہا ۔خوب! پھر بیٹھا غور سے معائنہ کیا اور مجھ سے تجسس کے ساتھ پوچھا کہ یہ قارورہ ہے کس کا؟ میں نے بتانے سے گریز کیا۔ راہب نے کہا اگر تم مجھ سے مریض چھپاؤگے تو میں اس کا علاج نہیں کروں گا۔ مریض سے خود اس کے کوائف معلوم کرنا چاہتا ہوں۔تب مناسب دوا دوں گا۔ میں بجائے نام بتانے کے واپس آکر حضرت معروف کرخیؒ سے بات کی کہ راہب آپ سے بالمشافہ ملنا چاہتا ہے۔ آپ نے اجازت دی۔ میں پھر گیا اور جاکر راہب کو لے آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت معروفؒ اپنے گھر کے دروازے میں کھڑے ہیں۔ گھر میں پلٹ گئے اور کواڑ بھی بند کردیئے۔ ادھر راہب ٹھٹک کر رہ گیا۔ میں نے پوچھا کہ دیکھ کر کیوں رُکے؟ تو راہب نے بتایا اللہ کی قسم! اگر یہ شخص مجھے مسلمان ہونے کے لئے کہے تو میں ضرور مسلمان ہوجاؤں گا۔ کیونکہ ان کی ہیبت نے میرے دل کو متاثر کیا ہے۔ میں نے کہابہت بہتر۔میں اُن سے پوچھ کر آتا ہوں۔میں گھر میں داخل ہوا تو حضرت معروف کرخیؒ مصلٰی پر تھے۔ میں نے پوچھا۔ آپ مصلے پر کیوں ہیں؟ جب کہ یہ آدمی آپ سے اجازت چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں اسی کے لئے کھڑا ہوں یقینا میں نے اسے دیکھا اور اس نے میری بات کو قبول کیا ہے۔ بلاشبہ! اب میرے اوپر اس کا حق ہے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ اسے مکمل ہدایت نصیب کرے۔ میں نے کہا کہ اس نے بھی ایسی ہی بات کی ہے کہ اگر آپ اسے اسلام کی دعوت دیں گے تو وہ اسلام قبول کرے گا۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں اسے لے آؤ۔ حضرت معروفؒ نے ان کی طرف قدم بڑھائے اور اسے اسلام کی دعوت دی اور وہ اسلام لے آیا۔ (219)
بحق معروف کرخی: حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی تمام تر صفاتِ کمالیہ اور اُن میں موجود رحمانی اخلاق سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ آپ جملہ اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ کریمہ فاضلہ سے متصف تھے۔ آپ کی روحانی اور عرفانی پہنچ درگاہِ خداوندی میں اس حد تک پسندیدہ اور درخشاں مقام رکھتی ہے ۔ کہ اُن کے نام سے پکارنے والے کو بھی من کی پسند مل جایا کرتی ہے۔ ہر دُعا جسے معروف کرخیؒ کی ذات سے متعلق کرلے یعنی ان کا واسطہ دے کر کرے قبولیت سے ہمکنار ہوگی۔ لیکن یہ بات ایسے ہی اولیاء کرام سے مخصوص ہے جن کی بارگاہِ ایزدی میں بڑی قربت وعزت ہو۔ اس بحث اور موضوع میں حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کی اپنی زبانی کلماتِ ربّانی ملاحظہ فرمائیں کہ آپ لوگوں کو دعاؤں کے سلسلے میں کیا تعلیم فرمارہے ہیں۔
علامہ ابن الجوزی تاریخ بغداد کے حوالے سے قلمبند کرتے ہیں کہ ان کے بھائی کا فرزند یعقوب بیان کرتا ہے۔ مجھے میرے چچا حضرت معروفؒ نے فرمایا۔ اے بیٹے! جب بھی کوئی حاجت پیش آئے تو فاسئلہٗ بی۔ میرے وسیلے سے دعاکرلیا کرو اللہ ضرورت پوری فرمائے گا۔(220)
میرے استاد محترم سید مرتضیٰ علیہ الرحمہ نے ہم سے اولیاء کی کرامتوں کا ذکر فرماتے ہوئے بیان کیا کہ میں جب بھی کسی کی تعمیر و ترقی مکان و دکان کی برکت کی خاطر یا کسی کاروبار والے کے لیے دعا کرتا ہوں تو انہیں یہ شعر لکھ کر دیا کرتا ہوں تاکہ وہ اسے تعویز بنائے ۔
الٰہی بحق عارف معروف کرخیش
بماند سالہا دیوار ترقی
تو اس کے بڑے اثرات پائے گئے۔ اس لیے یہ میرا ہمیشہ کا معمول بن گیا ہے۔ (راقم)
کسی نے اس روایت پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ نص حدیث سے متضاد ہے۔ حدیث رسولﷺ میں آتا ہے۔ اذا سألت فاسئل اللّٰہ۔ جب مانگو تو تم اللہ سے مانگو۔ یہ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ ولی اہل بیعت متوسلین ہوتے ہیں۔ روحانی متوسلین بھی مرشدوں کا وسیلہ وقول رضائے الٰہی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ راقم توجیہہ پیش کرے گا کہ یہاں فاسئلہٗ بی سے مراد میرے وسیلے سے خدا کے ہاں استدعا کرو، مراد ہے نہ کہ مجھ ہی سے ۔ کیونکہ وسیلہ کلامِ خداوندی کی تعلیم کا ایک حصہ ہے۔ جہاں دعاؤں میں اپنے اپنے کوتاہ اعمال کو وسیلہ بنایاجاسکتا ہے تو صلحاء اور اولیاء کرام کے ناموں کا بھی واسطہ دیا جاسکتا ہے۔ جبکہ اذا سألت فاسئل اللّٰہ۔ میں اخلاص فی التوحید کا حکم ہے اور اولیاء کرام اس معاملے میں قطعاً کمزور عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ ان کا عقیدہ مستحکم ان کا عمل مدلل ہوتا ہے۔ لہذا یہاں کیا جانے والا اعتراض قیاس مع الفارق سمجھا جائے گا۔ اولیائِ کرام کے ہاں وسیلہ کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ وہ نص پر اعتبار کرتے ہیں اور ثبوت کے لئے یہ کلام خداوندی کافی سمجھتے ہیں۔ وابتغوا الیہ الوسیلۃ۔ تم خدا تک پہنچنے کے لئے وسیلہ کا سہارا لو۔ چنانچہ سابقین اولین اولیاء کے سردار حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ اظہار فرماتے ہیں۔
توسّل بالنّبی فکل خطبٍ یھون اذا توسّل بالنّبی۔
تو پیغمبر کا وسیلہ اختیار کر کیونکہ پیغمبر کا وسیلہ اختیار کیا جائے تو ہر مصیبت ہلکی ہوجاتی ہے۔ (221)
دعاؤں کی تاثیر:حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہٗ العزیز بڑے ہی مستجاب الدعوات ولی تھے۔ آپ ہمیشہ لوگوں کے حق میں دعائے خیر فرمانے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے، ہر دم ہر محتاج وضرورت مند کے حامی وہمدرد رہے۔ خلوصِ دل کے ساتھ دعا فرماتے اور طالب منزل کو منزل ملتی، صاحب مشکل کی مشکل کشائی ہوتی۔ بیمار کو شفائ، محتاج کو دولت ونعمت اور گمراہ کو رُشد و ہدایت حاصل ہوجاتی تھی۔ آپ کی دعائیں یوں تو تمام مسلمانوں اور امت مرحومہ کے لئے ہوتی تھیں۔ لیکن جو شخص خصوصی طور پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر دعائے خیر کی درخواست کرتا اس کے لیے آپ فوراً حسب موقع دعا فرماتے اور اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں قبول فرماتے تھے۔ محتاج کی حاجت ضرور پوری ہوجاتی آپ کی دعاؤں کی تاثیر سے لوگوں کی حاجات فوراً پوری ہوتی تھیں۔
محمد بن منصور روایت بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ جامع مسجد میں آپ کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ آپ مسلسل یہ فرمارہے تھے۔ واغوثاہٗ یااللّٰہ۔ اے اللہ! میری فریادرَسی فرما۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ کوئی دس ہزار مرتبہ پڑھا۔ راوی کہتا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ میری پسندیدہ دُعا خدا کی درگاہ میں استغاثہ کرنا ہے کیونکہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے۔
اذا تستغیثون ربّکم فاستجابکم۔
جب تم اپنے ربّ کی درگاہ میں فریاد کرو تو تمہاری سنی جائے گی۔ 222))
بحوالہ تاریخ بغداد لکھتے ہیں کہ ابو بکر الحماد المقری بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے حضرت شیخ معروفؒ سے عرض کیا۔ حضرت! میرے اوپر بھاری رقم کا قرضہ ہے۔ آپ نے فرمایا میں تجھے کوئی چیز سکھاؤں گا۔ جس کی بدولت تمہارا قرض اتر جائے گا۔ تم ہر روز صبح پچیس مرتبہ اس طرح پڑھا کرو۔
لا الٰہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ کثیراً وسبحان اللّٰہ بکرۃ وّاصیلاً۔
ابو بکر بن حماد کہتے ہیں میں نے اس دعا کو پڑھا۔ اللہ نے میرا قرض اُتاردیا اور مجھے بہت سارا رزق دیا۔ ایک بار پھر آپ کے ہاں سے گزر ہوا تو میں نے کہا حضرت ! جس دعا کی آپ نے تلقین کی میں نے ایساہی کیا۔اللہ نے میرے قرض کا بوجھ اتاردیا اور مجھے بہت سارا رزق دیا۔ شیخ نے فرمایا اس دعا کو درھم الکیس (روپوں کا بٹوا) کہا جاتا ہے۔
ابو طالب المؤدب کہتے ہیں۔ کہ میں نے بھی اسی طرح اس دعا کو پڑھا جس طرح آپ نے تعلیم دی۔ میرا بھی قرض اللہ تعالیٰ نے اُتاردیا۔ اور اسی طرح احمد بن احمد روایت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! مجھ پر بھی کوئی قرض تھا۔میں نے اسی طرح ان کلمات کو پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے میرے اوپر سے بھی قرض کا بوجھ اتاردیا۔(223)
عباسیوں سے بیزاری
روایت ہے کہ ابو محمد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ معروف قدس سرہ کو دیکھا کہ آپ نے جب المسودۃ (عباسی لشکر جو لباس سیاہ پہنتے تھے ) کو دیکھا تو آپ نے اپنے ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا۔ (224)
ڈاکٹر عبداللہ الجبوری کے مطابق المسودۃ یعنی کالے والے سے مراد لشکر عباسی ہیں۔ چونکہ وہ لوگ سیاہ لباس اور ظلم کو خصوصی طور پر اپنائے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس لباس کو اپنا امتیازی شعار سمجھتے تھے اور ظالم تھے ۔ اس لئے شاید حضرت معروف کرخی نے پسند نہیں فرمایا اور ان کو دیکھنا بھی گوارا نہیں فرمایا کیونکہ اسلام میں کسی مخصوص لباس کو شد ومد سے اختیار کرنے کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔ اس بنیاد پر صوفیاء کرام دین میں پائے جانے والی بدعات کو قطعی طور پر ناپسند کرتے ہیں۔ ان کی روایات اور تعلیمات کا محور تقویٰ وطہارت اور سادگی ہے۔ لباس جو بھی میسر آجائے مگر رنگ سنت کے مطابق ہو۔ سفید رنگ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا۔ ان کو بھی پسند ہے جسے آپ نے چھوڑا۔ اسے ان لوگوں نے بھی چھوڑدیا۔ تاہم صوفیاء کا لباس پھر بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ چنانچہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ولباس التقویٰ ذالک الخیی۔ تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔
جیسا کہ حضرت انس بن مالک کی روایت سے معلوم ہوتا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسبز اور سفید لباس کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔ بعض صوفیاء کرام نے دنیا کی سیاہ کاریوں کی مناسبت سے سیاہ لباس اپنایا ہے۔اس اعتبار سے حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر نفرت کا اظہار کرنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ عباسی لشکر نفسیاتی طور پر فتنہ پَرور اور شرپسند تھا۔