اس عنوان کے ذیل میں ہم حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز کے ان خوابوں کو مخصوص اور مناسب عنوانات کے ساتھ درج کرتے ہیں کیونکہ رویائے صادقہ دراصل انبیاء کے خصوصیات میں سے ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ صالح خواب کو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمنے نبوت کا چالیسواں حصہ قرار دیا ہے۔
حضرت شیخ معروفؒ کی کرامتوں اور فضیلتوں میں آپ کے افعال، اخلاق، اعمال، دعوات اور خوابوں کی تعبیرات بھی شامل ہیں۔ یہ خواب دلچسپ ہونے کے علاوہ دلنشین اور سبق آموز بھی ہیں۔ اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے خواب دراصل کشف والہام اور القاء کے ذیل میں آتے ہیں۔ بعض دفعہ ان کی تعبیر وغیرہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ بلکہ ان کے خواب ان کے لئے حکم ربّی سے کچھ کم درجہ نہیں رکھتے۔
شرابی بخشا گیا:حسن بن علویہ بیان کرتے ہیں۔ کہ حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے پڑوس میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ کوئی شرابی تھا ۔ حضرت معروف علیہ الرحمہ کو تنگ کرتا اور ان سے بد زبانی بھی کرتا تھا۔ آپ اس کے پاس جاکر اسے سمجھاتے تھے۔ بچے! تم اپنے خوبصورت چہرے کو دوزخ کی آگ سے بچالو! لیکن یہ شخص اپنی فحش حرکات میں بہت بڑھا ہوا رہتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے بعض ساتھیوں نے اطلاع دی کہ حضرت! وہ لڑکا تو شراب کی لت میں مرگیا ہے۔ یہ سن کر آپ بہت غمگین ہوگئے۔ اور فرمایا
اللّٰھم اغفرلہٗ ۔ اے اللہ! اسے بخش دے۔
اسی رات حضرت شیخ معروفؒ نے اس کو خواب میں دیکھا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ خدا نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے؟ اس نے کہا مجھے بخش دیا۔ آپ نے فرمایا وہ کیسے؟ اس نے کہا اس شعر کی وجہ سے جس کے لئے میں نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میرے سنگِ مزار پر لکھ دینا۔ جب حضرت شیخ معروفؒ نیند سے بیدار ہوئے اور اس کی قبر پر تشریف لے گئے تو دیکھا وہی شعر اس کے سنگِ مزار پر لکھا ہوا پایا۔ اور وہ شعر یہ تھا۔
حسن ظنی بک یا رحمان جرانی علیکا
فارحم اللھم عبداً صار رھنا فی یدیکا
٭- اے رحمان! (میرا ربّ) تجھ پر میرا حسن ظن ہے میں تجھے اپنا ضامن سمجھتاہوں۔ تو مجھ پر رحم فرما ۔ کیونکہ یہ بندہ تیرے ہاتھوں میں رہن ہوچکا ہے۔
یقینا اس نوجوان کو آپ کی دعا کے طفیل بخشش عنایت ہوئی لیکن حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سبب کی خوب تاویل کی۔ (245)
اشاعتِ دین کی عظمت: منقول ہے کہ ابن شجاع شیخ معروف کے بعض اصحاب سے بیان کرتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے کہ مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ شیخ ابو یوسف کوفی اپنی کسی بیماری میں مبتلا ہیں۔حضرت شیخ معروفؒ راوی سے کہتے ہیں ۔ کہ میں چاہتا ہوں کہ تم ان کے گھر پر جاؤ۔ اور جب اُن کی روح قبض ہوجائے تو مجھے آکر اطلاع دینا۔ تو میں گھر چلا آیا۔ جب شیخ ابو یوسف کوفی کی روح اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تو ان کا جنازہ باب داررقیق سے باہر نکالا گیا۔ تو راوی کہتا ہے مجھے یاد آیا کہ ابھی مجھے حضرت شیخ معروف کو اطلاع دینی ہے تو میں لوگوں کے ساتھ نمازہ جنازہ میں شامل ہوا۔ جنازہ پڑھ کر شیخ معروف کو ابو یوسف کے ارتحال کی خبر دی۔ اس پر آپ بہت متاثر ہوئے اور انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون پڑھا ۔ حضرت! کیا آپ کو ان کا جنازہ نہ پانے پر افسوس ہوا؟ آپ نے فرمایا! میںنے خواب میں دیکھا ہے کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں وہاں ایک محل تیار کیا گیا ہے۔ اور اسے خوب عالی شان بنایا گیا ہے۔ اس پر چونا یعنی رنگ وروغن کرنے کے بعد اس کے دروازے اور روزن بند کردیئے ہیں اور کسی کے نام مختص بھی ہوچکا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کے لئے تیار ہوا ہے؟ جنت کے دربانوں نے جواب دیا کہ یہ ابو یوسف کوفی کے لئے ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کیوں؟ انہوں نے جواب میں کہا اس لیے کہ وہ لوگوں کی تعلیم میں شفقت رکھتا تھا اور دین کی اشاعت کرتا تھا۔ (246)
آپ کے اصحاب سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے آنحضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوخواب میں دیکھا ۔ کہ آپ ہشیم کے لئے یہ دعائیہ کلمات فرمارہے تھے۔ جزاک اللّٰہ عن امّتی خیراً۔ ابن بسام نے شیخ سے استبصار کیا۔ حضرت! کیا آپ نے اسے دیکھا ہے۔ شیخ نے فرمایا ہاں۔ ہشیم کے بارے میں جو تم خیال رکھتے ہو وہ اس سے بہت بہتر ہے۔ یہ تکرار کرنے کے بعد فرمایا رضی اللہ عن ہشیم فرمایا۔ (اللہ تعالیٰ ہشیم سے خوش ہوجائے) اور دوسری روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکی دعائیہ کلمات میں جزاک اللّٰہ ھشیمًاعن امّتی خیراً۔ (اللہ تعالیٰ ہشیم کو میری امت کی بہترین جزا عطا فرمائے)کے الفاظ موجود ہیں۔(247)
ہشیم ایک مشہور محدث اور فقیہہ ہو گزرے ہیں جن کا تفصیلی نام یہ ہشیم بن بشیر بن ابی الحاذم السلمی ہے اور جو سن ایک سو تراسی ہجری (۱۸۳ھ) میں فوت ہوئے ہیں۔ اُن کا شمار مشہور رجال حدیث میں ہوتا ہے۔ (248)
نبی کریم ﷺ کی زیارت: مندرجہ بالا روایات کے علاوہ بھی بعض روایات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت سے مشرف ہونے کا تذکرہ ملتا ہے۔ یوں تو اولیاء کرام ، صلحاء عظام ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمسے خواب میں ملتے ہی رہتے ہیں۔ حضرت معروف کرخی قدس سرہ کی تو شان اور بھی اس بات کی مظہر ہے۔ لیکن روایات میں اس کی تفصیلات زیادہ اس لئے نہیں کہ یہ تو حقی اور قلبی باتیں ہیں۔ اولیاء کرام ایسی باتوں کو پوشیدہ رکھنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسی روایتوں سے کئی فتنے برپا ہوجاتے ہیں اور مختلف قسم کی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اولیاء کرام ہر وقت دین کی عافیت کا خیال رکھتے ہیں۔ (249)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زیارت: سسر بن بسار سے مروی ہے۔ کہ میں نے حضرت شیخ معروفؒ کے بارے میں ابی جعفر السما سے سنا ہے ۔ بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ بشر بن حارثؒ اورحضرت معروف کرخیؒ ساتھ ہی سو رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ دونوں کہاں سے آرہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم جنت الفردوس سے آرہے ہیں اور ہم نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے ملاقات کی۔ گویا ہم ان کی زیارت کرکے آرہے ہیں۔ (250)
اَرض وسماء کا معروف: محمد بن وراق بیان کرتے ہیں کہ شام کی جانب سے ایک شخص آیا اور حضرت شیخ معروف علیہ الرحمہ کو سلام کیا اور کہا کہ میں نے یقینا یہ خواب دیکھا کہ مجھے کہا جارہا ہے تم جاؤ اور معروف کو سلام کرو۔ یقینا وہ جس طرح زمین میں معروف ہیں وہ آسمان میں بھی معروف ہیں۔
جنت کے وسط میں: علی ابن الموفق کہتے ہیں۔ کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہورہا ہوں۔ وہاں تین آدمیوں کو دیکھا۔ ایک آدمی درخواست کررہا ہے اور اسے دو موکل فرشتے کھلا پلارہے ہیں اور دوسرا جنت کے دروازے پر کھڑا دیکھ رہا ہے اور ایک قوم کا انتظار کررہا ہے اور تیسرا جنت کے عین وسط میں کھڑا ہے اور اس کی نگاہیں عرش کی طرف مرکوزہیں اور اپنے ربّ کو دیکھ رہا ہے۔ کہتے ہیں میں اپنے ربّ کے ہاں آتا ہوں اور میں استبصار کررہا ہوں کہ یہ لوگ کون کون ہیں؟ فرمایا کہ پہلا آدمی بشر بن حارث الحافی ؒہیں۔ انہوں نے دنیا سے بھوک پیاس کے عالم میں کوچ کیا۔ دوسرا آدمی جو جنت کے دروازے پر کھڑا ہے وہ حضرت امام احمد بن حنبل ؒ ہیں اور تیسرا آدمی جو جنت کے عین وسط میں کھڑے عرش کا نظارہ کررہے ہیں ،وہ حضرت شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ خدا کی محبت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے آپ کو ربّ العرش کی طرف سے عطائے نظار گی ہورہی ہے یعنی آپ عرشِ عظیم کی سیر کررہے ہیں۔ (251)