جب کسی شخص کے ذاتی اَوصاف وکمالات لوگوں میں معروف ہوجائیں تو اہلِ کمال آخرکار معترف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہٗ العزیز اپنی روحانی عظمت وبزرگی کا لوہا منواچکے تو دنیا کے کئی معروف ومشہور عرفاء صلحاء اور علماء نے آپ کے حق میں کلماتِ ثنا کہے اورآپ کے ساتھ ارادت ومحبت کے وجودی ثبوت پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں۔ ذیل میں ہم اُن صلحاء کے ناموں کے ساتھ ساتھ اُن سے ارادت ومناقب اور مدح وثنا کے کلمات درج کرتے ہیں۔
حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف بن فیروز ان الکرخی قدمائے مشائخ میں شمار ہوتے ہیں حلیمی طبع اور خلوص اطاعت میں مشہور ہیں (کشف المحجوب۱۹۰)
حضرت معروف بن فیروز الکرخی رضی اللہ عنہٗ قدماء وسادات مشائخ میں سے تھے۔ آپ جواں مردی میں معروف، تقویٰ وانابت میں مشہور تھے۔ آپ کے مناقب وفضائل بہت ہیں۔ فنونِ علم میں آپ مقتدائے قوم تھے۔(116)
حضرت سید محمد نوربخشؒ لکھتے ہیں۔
بکامل مکمل بجمیع اسماء وصفات موصوف شیخ معروف۔ (117)
تمام اسماء و صفات سے موصوف کامل اور مکمل مرشد شیخ معروف ہیں۔
دیگر شیخ معروف کرخی بود شعرکہ صدرِ شیخی بود۔ (118)
پیران پیر میں حضرت شیخ معروف تمام شیوخ کے صدر ہونے کے قابل ہیں۔
حضرت شیخ فرید الدین ابراہیم عطار فرماتے ہیں۔
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ مقتدائے طریقت پیشوائے حقیقت تھے۔ (119)
حضرت نور الدین عبدالرحمان بن احمد جامی لکھتے ہیں۔
معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ از طبقہ اولیٰ است واز قدمائِ مشائخ است استاد سری سقطی وکنیت ابومحفوظ است۔ (120)
حضرت شیخ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ طبقۂ اوّل کے صوفی ہیں اور قدیم مشائخ میں سے ایک فرد ہیں۔ آپ سری سقطیؒ کے استاد اور کنیت ابو محفوظ ہے۔
حضرت شیخ علی ابن موفق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ گویا کہ میں جنت میں داخل کیا گیا ہوں۔ میں نے ایک آدمی کو دسترخوان پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور اس کے دائیں بائیں دو فرشتے تھے۔ اس کے منہ میں اچھی اچھی چیزیں ڈالتے جاتے تھے اور وہ کھارہا تھا۔ اور میں نے جنت کے دروازے پر ایک آدمی دیکھا جو لوگوں کے چہرے غور سے دیکھتا ہے۔ بعض کو تو جنت میں داخل کردیتا ہے اور بعض کو واپس کردیتا ہے۔ پھروہ اُن سے گزر کر خدا تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچا۔ میں نے عرش کے پردے میں ایک آدمی کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھ رہا تھا اور آنکھ بھی نہ جھپکتا تھا۔ میں نے رضوان سے پوچھا یہ کون آدمی ہے؟ تو اس نے کہا معروف کرخی! اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں محض اللہ کو خوش کرنے کے لئے کی ہے نہ اسے آگ کا ڈر تھا نہ جنت کا لالچ بلکہ صرف خدا کی محبت تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت تک اپنی طرف دیکھنے کی اجازت دے دی۔ دوسرے لوگ بھی اولیاء میں سے ہی تھے۔(121)
حضرت شاہ نعمۃ اللہ ولی لکھتے ہیں۔
باز شیخ سری بود معروف
چوں سری او بود مکشوف
او زموسیٰ چو از احسان یافت
کفر بگزشت راہِ ایمان یافت
یافت درخدمت امام مجال
بود دربان در گہش دہ سال
(122)
جان محمد صد قدسی لکھتے ہیں۔
نسبت او شیخ معروف است
کہ باوصاف صدق موصوف است
(123)
مشہور ایرانی محقق ڈاکٹر قاسم غنی لکھتے ہیں۔ معروف پہنچا ہوا، عبادت گزار، اور رسومِ شرعی کا پابند شخص تھا۔ سید محمود قاسم لکھتے ہیں۔ آپ عبادات وریاضت میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ نیز کشف وکرامات میں اور خوارقِ عادات آپ کے بے حد بے پایاں ہیں۔ (124)
حضرت سفیان عیینہ فرماتے ہیں۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت سفیان نے ہم سے فرمایا کہ تم کہاں سے ہو؟ تو ہم نے عرض کی ہم بغداد والے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ۔ مافعل ذاک الاجل الّذی منکم؟ وہ عظیم دینی پیشوا کیا کررہے ہیں جو تمہارے ہاں ہوتے ہیں؟ ہم نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمانے لگے کہ معروف! اُن سے بڑھ کر میں نے کسی زاہد کو نہیں دیکھا۔ جن کی تعریف اہلِ ریاضت کرتے ہیں۔
نقل ہے کہ ثوبان راہب نے کہا کہ میں نے تمہارے معروف کو دیکھا ہے۔ جس کے تم فضل و کرامت کا تذکرہ کرتے رہتے ہو۔ تو میں خوش ہوا کہ وہ میرے ساتھ موجود ہیں اور وہ معروف کو چاہتے ہیں۔ تو ہم نے ابو محفوظ سے ملاقات کرلی۔ آپ مسجد میں بیٹھے تھے۔ میں نے اُن کو سلام کیا۔ میں نے کہا یہ آپ کو سلام کرنے اور ایک عہد کا تذکرہ کرنے آیا ہے۔ تو حضرت معروف نے اس سے فرمایا۔ کہ تمہارے اندر اس اسلام کی کیا قدرومنزلت ہے؟ اس نے جواب دیا۔ ہم نے اسے عظیم پایا ہے۔ حضرت معروف نے فرمایا۔ اے راہب! خدا کی قسم خدا کے ہاں اسلام تو بہت عظیم ہے۔ پھر حضرت معروف نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔
انّ الدّ ین عند اللہ الاسلام۔ (125)
اللہ کے ہاں پسندیدہ دین تو اسلام ہے۔
یہاں تک کہ مکمل آیت پڑھی۔ پھر فرمایا اے راہب! تم مسلمان ہوجاؤ۔ یقینا تجھے یہی زیبا ہے۔ کہ تمہاری واپسی ہم پر اسلام لائے بغیر نہیں ہونی چاہئے۔ جس پر راہب رو پڑا۔ پھر اس نے کہا آپ کی بات میرے دل تک جا پہنچی ہے۔ پھر اس نے کلمہ پڑھا۔ پھر ہم وہاں سے لوٹ آئے جب وہ ہم سے جدا ہورہے تھے تو اس نے کہا اے زاہد میں نے زمین میں ان سے بڑھ کر کوئی صالح مرد نہیں دیکھا۔ میرے کلام کا مقصد جسے میں نے شروع میں کہا تھا کہ وہ یہی معروف تھے جو تمہارے اندر موجود ہیں۔ جو شخص ان کا سا موجود ہو تو انہیں مضبوطی سے اپناؤ۔ پھر اس نے کہا کہ میں نے اُن جیسا دنیا میں کسی کو نہیں دیکھا۔ اگر وہ پھر سے لوٹے تو اُن سے پھر کلمہ پڑھوں گا۔ اور میں یہ سمجھوں گا ۔ کہ وہ مجھے اس دین سے اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔ جو عیسائی مذہب میرا اور میرے باپ دادا کا ہے جس پر ہم موجود تھے۔
طبقاتِ حنابلہ کے حوالے سے منقول ہے کہ جب حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کوئی آسمانی خبروں میں سے کوئی خبر بتائے تو (حضرت امام احمد بن حنبلؒ) اس پر یقین کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بہت سے مؤرخین نے آپ کے بارے میں لکھا ہے سب نے آپ کی صحیح ترجمانی کی ہے اور سب نے اتفاق کیا ہے کہ یقینا آپ مستجاب الدعوات تھے۔ نیک لوگ آپ کو گھیرے رکھتے تھے۔ عارف لوگ آپ کی زیارت سے شرف یاب ہوتے تھے۔ آپ کی بہت سی کرامات مشہور ہیں اور آپ زہد اور نیکی میں اور ترکِ دنیا میں معروف تھے۔ (126)
نقل ہے کہ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب تمہیں کچھ مانگنا ہو تو کہو۔ اے اللہ! بحق معروف کرخی مجھ کو عطا کر تو ضرور دعا قبول ہوگی۔ دوسری جگہ مرقوم ہے کہ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں آپ کو عرش کے نیچے اس حالت میں دیکھا کہ آپ بے ہوش ہیں اور ندائے غیبی ہوئی یہ کون ہیں؟ ملائکہ نے کہا! یا اللہ آپ ہم سے زیادہ جانتے ہیں ۔ پھر ندا ہوئی یہ معروف کرخی ہے جسے ہماری دوستی نے بیخود کردیا ہے۔ جب تک کہ ہمارا دیدار حاصل نہ ہوگا، وہ ہوش میں نہ آئے گا۔ (127)
حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے مداح تھے۔ احمد بن علاؤ بغدادی سے مروی ہے کہ میں نے عبداللہ ابن احمد بن حنبل سے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ذکر میرے والد کی کسی مجلس میں چھیڑا گیا۔ تو کسی نے کہا کہ وہ کم علم والے تھے۔ تو اسے میرے والد نے کہا۔ امسک عفاک اللہ۔ ٹھہرو! اللہ تجھے معاف کردے۔ تم علم کا پوچھتے ہو۔ معروف نے جو پایا ہے وہ کسی نے نہیں پایا ہے۔
ابن جوزی نے طبقاتِ حنابلہ سے نقل کیا ہے۔ کہ عبدالعزیز بن منصور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دادا سے سنا کہ وہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے ہاں موجود تھے۔ مجلس میں معروف کرخی کا تذکرہ ہوا ۔ تو بعض حاضرین میں سے کسی نے کہا۔ ھو قصیر العلم۔ وہ کم علم رکھتے تھے۔ ٹھہرو! تمہیں خدا معاف کرے۔ علم سے جو مراد لی جاتی ہے ۔ وہ صرف معروف نے حاصل کیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عبداللہ ابن احمد بن حنبل نے اپنے والدمحترم سے پوچھا! کیا معروف کوئی عالم تھا؟ تو آپ نے فرمایا۔ اے بیٹے! ان کو علم کی اصل حاصل تھی۔ کان معہٗ رأس العلم، خشیۃ اللّٰہ۔ ان کو علم کی جڑ یعنی خدا کا خوف حاصل تھا۔ (128)
حضرت معروف کرخی اپنے باطنی اور روحانی کمالات کی وجہ سے اس درجہ ہر دلعزیز تھے کہ لوگ معروف کے نام سے اپنے بچوں کا نام رکھتے تھے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کے ساتھ ہم نامی کا شرف اور برکت حاصل کریں۔
علامہ ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت سفیان بن عیینہ کی خدمت میں بغداد کا ایک وفد حاضر ہوا۔ آپ نے اِن سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ بغداد سے۔ بغداد کا نام سن کر آپ نے دریافت کیا کہ اس عالمِ اجل کا کیا حال ہے؟ تو اہلِ وفد نے استفسار کیا کہ حضرت وہ کون سی شخصیت ہیں؟ حضرت سفیان نے فرمایا۔ ابو محفوظ کرخی۔ بغدادیوں نے کہا وہ حضرت بخیریت ہیں۔ حضرت سفیان نے ارشاد فرمایا کہ وہ جب تک اہلِ بغداد میں رہیں گے اہلِ بغداد بخیریت رہیں گے۔ (129)
حضرت بشر ابن حارث بھی آپ کے مداح ہیں۔ حضرت بشر بن حارث مشہور اور قدیم مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ ابو نصر بشر حافی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ابو نصر تمارؒ روایت کرتے ہیں۔ کہ میرے ماموں حضرت بشر بن حارث فرماتے ہیں کہ کرخی معروف بسیط معرفت کے بل بوتے پر پاک کھانا کھاتے ہیں۔ اور میں قبض ورع سے چھوڑ دیتا ہوں۔ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیںکہ:
معروف الکرخی من الابدال وھو مجاب الدعوۃ۔(130)
معروف کرخی ابدال میں سے تھے اور بڑے مستجاب دعوات شخص تھے۔
ان کے علاوہ بہت سارے بزرگوں اور اہلِ علم نے ان کی بزرگی کا اعتراف پُرزور الفاظ میں کیا ہے۔ خطیب بغدادی نے لکھا ہے کہ وہ زہد اور دنیا سے اعراض کے بارے میں اور عبادت وورع میں ساعی ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لوگ ان کی زیارت اور اُن کی ملاقات سے برکت حاصل کرنے کے لئے اُن کے پاس آتے تھے۔
ہجویری لکھتے ہیں ۔ کہ مناقب وفضائل ان کے بہت ہیں ۔ فنون وعلم میں وہ مقتدائے قوم ہیں اور حضرت شیخ عطار کا قول ہے ۔ کہ بے شک تحریر میں بے ہمتا ہیں۔ سیدمحبانِ وقت خلاصۂ عارفانِ عہد تھے ۔ کرامت، ریاضت، فتوت اور تقویٰ میں آیت تھے اور اُنس وعشق میں انتہا تک پہنچے ہوئے تھے۔ (131)
علامہ جوزی حضرت شیخ معروف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بغداد میں ایک عالم با عمل مجاہد موجود ہے وہ حضرت شیخ معروف کرخی کی ذات گرامی ہے۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کرخی زاہدوں کے امام ہیں۔ (مناقب معروف)
خطیب بغدادی لکھتے ہیں۔
ان کے اچھے اخلاق اور سیرت کے متعلق اچھی اچھی باتیں لوگوں نے جمع کی ہیں جیساکہ سیستانی نے ان کے بارے میں لکھا۔ ولہ اخبار محسنۃ حمدہ الناس ان کے اچھے واقعات ہیں اور لوگوں نے ان کی خوب تعریف کی ہیں۔ ابن جوزی نے معروف کے نام سے کتاب لکھی ہے۔۔۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے اصحاب عرفان اہل باطن اور اولیاء اللہ اہل حال ہوتے ہیں ان کے احوال و مقامات کے کوائف تفسیر و تعبیر سے بالاتر ہیں( مقالات محمد شفیع ج۔۱ ص۲۰۷)
قاضی نور اللہ شوستری رقمطراز ہیں کہ الشیخ عارف و معروف الکرخی حضرت امام ہمام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کا دربان تھے علوم ظاہری و باطنی کا استفادہ ان ہی سے کیا مستجاب دعوات ہونے میں مشہور و معروف تھے۔ ان کے مرقد منور کے واسطے سے لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں ’’مَرقد المعروف تریاق مجرب‘‘یہ جملہ عوام و خواص میں ضرب المثل ہے (مجالس المومنین ج۲ ص ۲۷)۔
شیخ محمد بن شریف الدین اسفرانی مدح سرا ہیں۔
حضرت شیخ معروف کرخی صفدر میدان کار ہیں ان کا شیخ دائودطائی اور ان کا شیخ حبیب عجمی ہیں عرب میں ہوتے ہوئے وہ عجم سے منسوب ہیں (رسالہ در سفر)۔
کتاب بحرلاسرار میں ظفرعلی شاہ کرمانی لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف صاحب فنون امام ہیں وہ اس دنیا میں سمندر سے بھرے ہوئے ساحل کی مانند ہیں۔ وہ طائفہ صوفیان کا رئیس و پیشوا ہیں۔ آپ کی ذات سے تصوف کے کئی سلسلے چل نکلے ہیں۔ امام ربانی حضرت شیخ معروف کا سلسلہ ام السلاسل سے پکارا جاتا ہے۔ آپ عرفا کے درمیان معروف بادشاہ ہیں گویا ساحل سکون ہیں۔ اولیاء کرام ان کے روحانی مقام سے خوب آشنا ہیں۔ جس طرح ان کو بطخ کا علم ہوتا ہے۔ تمام شہروں اور صوبوں کے لیے ساحل فیوض سے نہریں جاری ہوچکی ہیں۔ ( السیاحہ ۵۲۸)
اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مدرسہ بغداد کے معلمین سب کے سب صلح کل اور تصوف کے داعی تھے ۔ جنید بغداد کا مترجم محمد کاظم اظہار خیال کرتا ہے کہ تیسری صدی ہجری کے جن متصوفین کا ذکر ہوا یہ سب بغداد ہی کے مدرسہ تصوف سے تعلق رکھتے تھے اور انہی کے درمیان وہ ہوشمند، متوازن مزاج اور صلح کل صوفی شخصیت پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنید تھا۔ جنہوں نے اپنے عمل، اپنی تعلیمات اور اپنے اقوال و مکاتب میں ایک دفعہ پھر سے علم ظاہر و باطن دوسرے لفظوں میں شریعت اور طریقت کو باہم قریب لاکر ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور اس میں اپنی ذاتی حد تک کامیاب ہوئے ۔ حضرت جنید کا یہ مقام تھا کہ وہ سری سقطی اور معروف کرخی جیسے اصحاب کے تلمیذ تھے( جنید بغداد ۱۳)
اکثر مورخین نے حضرت شیخ معروف کی تعریف کی ہے ۔ علماء سلف صالحین نے جو روایات ان کے متعلق تواتر سے بیان کیا ہے جن پر سب کا اتفاق ہے یعنی آپ مستجاب الدعوات تھے۔ بزرگوں نے آپ کو خوب پایا۔ عارفوں نے آپ کی زیارت کی سعادت حاصل کی ان سے کرامات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ دنیا سے زہد اورغربت میں مشہور تھے (عبداللہ الجبوری)۔
ابوعبدالرحمن محمد بن حسین اسلمی کہتے ہیں ۔ وہ قدیم مشائخ میں عظیم حیثیت کا مالک ہے۔ ورع اور فتوت میں قابل ذکر مقام رکھتے تھے (مقدمہ مناقب معروف)۔
سمعانی آپ کی اس طرح تعریف کرتے ہیں کہ وہ زہد میں مشہور مجتھدین میں سے ایک ہیں۔ ان کی تعریف کی جاتی رہی کہ وہ مستجاب الغواث تھے۔
الفرج عبدالرحمن آپ کو رجال حدیث کہتے ہیں۔
حضرت امام ذھبی آپ کو ان الفاظ میں یاد کرتے ہیں کہ
علم الذھا د برکۃ العصر، ابو محفوظ بغدادی۔ ابومحفوظ بغدای زاہدوں کا علم اور زمانہ کے لیے باعث برکت ہیں۔
امام موصوف آپ کی عالی مرتبت کا یوں اظہار کرتے ہیں۔
عارف باللہ الشھیر و مظہرالکرامات العلیۃ والا حوال السنیۃ۔
یعنی آپ مشہور عارف باللہ ہیں۔ بڑی بڑی کرامات اوربلند احوال کے مالک ہیں(المقدمہ مناقب معروف)۔
دانایانِ مشرق کرخی کے دَر پر
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ مقتدائے زمان اور عارفِ دوراں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی روحانی زندگی اور فقر وفنا کا اعتراف سبھی کرتے ہیں۔ اس بنا آپ کی زیارت کرنے کے لئے کوسوں دور سے لوگ سفر کرکے آتے اور فیضِ دیدار پاکر لوٹ جاتے۔ قلب وروح کی تازگی کا ساماں لے کر فرخندہ حیات منزل سے آشنا ہوجاتے تھے۔ عام طور پر لوگ آپ کی زیارت کو آتے تھے جو ایک واقعی معمول تھا۔ لیکن جن معروف مشہور اکابرین اور فقہاء محدثین کی جم غفیر نے آپ کی زیارت روح افزا کا شرف حاصل کیا۔ ان میں سے چند مشاہیر کے نام یہ ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ، بشر بن حارثؒ، یحییٰ ابن معینؒ، محمد بن منصور طوسیؒ اور ابو جعفر الکرنبیؒ جو زاہدوں ، عابدوں، صالحوں اور ثقہ محدثوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ابو اسحاق دولانی رب سے تعلق رکھتے تھے، اجلۃ الابدال میں شمار ہوتے تھے۔ ان سے کئی کرامات ظاہر ہوئی ہیں اور حضرت معروف کرخی کے فضل وکرامت سے بڑے متاثر تھے۔ وہ بھی ان کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ عبداللہ الجبوری کے مطابق جعفر بن محمد اور ابو محمد الخلدی الخواص البغدادی اپنے وقت کے شیخِ صوفیاء تھے۔ انہوں نے بھی طویل سفر کرکے احادیث کا سماع کیا اور ایسے بڑے بڑے مشائخ اور محدثین سے ملاقاتیں کیں۔ وہ نہایت ثقہ راویوں میں سے تھے جو احادیث بیان کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ بغداد کی مجلسوں میں تین افراد ایسے تھے جو مشہور تھے۔ اشاراتِ شبلی، نکتہ ہائے متفش، حکایاتِ جعفر۔ ایسے ہی ابو ذکریا المری، الانباری بھی بڑے بڑے رجالِ حدیث میں سے تھے۔ ثقہ راوی ورع اور زہد میں بے مثل تھے۔ انہوں نے بھی حضرت شیخ معروف کی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔
ابن الجوزی کے مطابق محمد بن منصور بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت شیخ معروف کرخی کی زیات کو گیا تو وہ مجھ پر افسوس کرنے لگے اور فرمایا! کاش اگر ابو اسحاق دولانی اس موقع پر ملاقات کرتے تو مجھے مان لیتا۔ جس پر میں اٹھ کھڑا ہوا، تو آپ نے فرمایا۔ بیٹھ جاؤ اب تو وہ اپنے گھر میں پہنچا ہوا ہوگا جو موضع رت میں ہے۔ ابن جوزی نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ حضرت یحییٰ معین اور احمد بن حنبلؒ حضرت معروف سے کتابتِ حدیث کی غرض سے آیا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس ابی خادم والی کسی روایت کا کچھ حصہ تھا جو کہ آپ کی روایات میں گزرچکی ہے۔ حضرت احمد بن حنبلؒ کے بیٹے عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت یحییٰ بن معین میرے والد (احمد بن حنبل) کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابا عبداللہ! ہم معروف کرخی سے ملنے کو جائیں گے اور ان سے ان کے کلام سنیں گے۔ اگر چاہتے ہو تو تم بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھو ہم اکٹھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ ہم ان کے لئے خلل نہ بن جائیں۔ اس نے کہا نہیں! (یعنی ایسا نہیں ہوگا)۔ پھر ہم ان کے پاس گئے اور جب حضرت شیخ معروف کرخی نے میرے والد کو دیکھا تو ان کی بڑی عزت وتکریم کی اور خوش آمدید کہا اور لمبی گفتگو کرتے رہے۔ جب واپسی کا ارادہ کرنے لگے تو یحییٰ معین نے کہا۔ کہ اپنی بات ظاہر کرو یعنی سجدہ سہو کے بارے میں مسئلہ دریافت کریں (تو جس پر انہوں نے ) فرمایا کہ تم جیسے لوگوں نے بھی نماز میں ایسا کیا۔ تو انہوں نے جلدی سے کہا۔ ہاں! صرف دل کو سزا دینے کے لئے فرمایا اُٹھ جاؤ(اللہ) معاف کرے کہ تم بھولے! تو کیوں بھولے! جبکہ وہ تو تمہارے سامنے ہے۔ تو میرے باپ نے کہا۔ اے ابا زکریا یہ تمہارے علم میں ہے یہ تمہاری کتابوں میں ہے۔ اور یہی تمہارے اصحاب کی کتابوں میں پایا جاتا ہے؟ (132)
اس قصہ کے بارے میں امام غزالی ؒفرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبلؒ اور ابن معینؒ دونوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور وہ دونوں اس بارے میں حضرت معروف سے پوچھنا چاہتے تھے۔ چونکہ ظاہری علوم میں ان دونوں جیسا کوئی نہ تھا۔ اس لئے حضرت معروف نے فرمایا کہ تم لوگ بھی اس طرح کرتے ہو؟ تو ان دونوں نے کہا کہ ہم کیا کریں۔ جب مسئلہ قرآن وسنت میں نہیں ملتا تو ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق صالحین سے دریافت کر رہے ہیں۔ (133)
واقعۂ بالا سے معلوم ہوا کہ حضرت معروف وہ عظیم ہستی ہیں جن کے پاس بڑے بڑے اہلِ علم دین ودنیا کی معرفت حاصل کرنے کے لئے آتے اور ان کے فیوضِ ایمان افروز سے سرفراز ہوجاتے تھے ۔ اسی اعتراف میں فقہاء نے آپ کو امامِ کرخی کے نامِ نامی سے یاد کیا ہے۔
آپ کا زہد
خطیب بغدادی نے لکھا ہے کہ وہ زہد اور دنیا سے اعراض کے بارے میں اور عبادت وورع میں کوشش کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لوگ ان کی زیارت اور اُن کی ملاقات سے برکت حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس آتے تھے۔
عبدالوہاب کہتے ہیں کہ:
میں نے زہد میں ان سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ (134)
روایت ہے کہ حضرت محمد بن حسین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو خواب میں دیکھا ۔ آپ سے پوچھا کہ اللہ نے آپ کے ساتھ کیا کیا؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے بخش دیا۔ حضرت محمد بن حسینؒ نے پوچھا کہ آپ کو اللہ سے زہد کی وجہ سے بخشا ۔ فرمایا نہیں بلکہ میں نے ابن سماکؒ کی نصیحت پر عمل کیا تھا۔ کہ جو کوئی دنیا سے قطع تعلق کرکے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اللہ بھی اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے اللہ نے مجھے بخش دیا۔ (135)
جس شخص کے دل نے خشیتِ ربّانی سے استیلا پالیا ہو۔ اس کی نظر میں دنیاوی لذائذ اور مرغوبات کی کیا وقعت ہوسکتی ہے؟ چنانچہ حضرت شیخ معروف بھی دنیا سے بالکل بے تعلق رہتے تھے۔ انتہا یہ ہے کہ ان کی وفات ہونے لگی تو لوگوں نے اصرار کیا کہ کچھ وصیت کیجئے۔ تو فرمایا کہ میں مرجاؤںگا تو میرا کفن کا بھی صدقہ کردینا۔ میں چاہتا ہوں کہ دنیا سے جاؤں تو جس طرح یہاں برہنہ آیا تھا۔ اسی طرح یہاں سے برہنہ ہی جاؤں۔ (136)
حضرت سری سقطیؒ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ حضرت معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ سے سوال کیا کہ لوگ اب اللہ کی اطاعت پر قادر ہوسکتے ہیں؟ تو فرمایا کہ اسی وقت جب دنیا کی محبت ان کے دلوں سے خارج ہوجائے۔ اگر دنیا کی محبت سے ان کے دل فارغ نہیں تو ان کا ایک سجدہ بھی درست نہیں ہوسکتا۔ آپ عمر کے ایک لمحہ کو بھی ضائع دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ خود اس پر عامل تھے۔ اور دوسروں کوبھی اس کی ترغیب دیتے رہے ۔ ایک دفعہ ان کے پاس چند آدمیوں کی ایک جماعت آکر بیٹھ گئی۔ اور دیر تک بیٹھی رہی۔ آخر کار آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جاہتے ہو کہ اب مجلس ختم کردوں۔ حالانکہ آفتاب جس رفتار سے چل رہا ہے۔ اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ (137)
آپ خود فرماتے ہیں کہ دنیا کی محبت ترک کرنے والا اللہ کی محبت کا مزا پاتا ہے اور محبت اس کے فضل سے ملتی ہے اور فرمایا ہے کہ عارف سراپا نعمت ہے اسے مال ودولت کی ضرورت نہیں۔ (138)
اس لیے صوفیاء کرام کے ہاں زہد ایک اہم موضوع ہے۔ ان کے ہاں زہد سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حلال طیب چیزوں کو حرام قرار دے۔ دراصل حقیقی جوہر کی بنیاد اسلام ہے۔ خدا سے ڈرتے رہنا اور سختی اور تنگی میں نفس کا محاسبہ کرتے رہنا اور دل کو کسی بھی چیز کی طرف جھکنے نہ دینا اس معاملے کے بارے میں حدیث وارد ہے کہ :
الزاھد فی الدنیا لیس بتحریم الحلال و اضاع المال۔ ولکن الذھاد ان لا تکون بمافی یدک اوقف ممافی باللہ وان تکون فی ثواب المصیبہ اذاانت اصبت بھا ارغب فیھا لواتعابغیث طلب ۔
زہد کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں حلال کو حرام کرتے پھریں اور مال (میسرہ) کو ضائع کریں لیکن زہد یہ ہے کہ جو چیز اللہ کے ہاتھ میں ہو اس پر زیادہ اعتبار کرنا بہ نسبت ان کے اس سے جو اپنے ہاتھ میں موجود ہے کسی بھی پہنچنے والی مصیبت کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس کے اجر و ثواب پر نظر رکھنا ہے اور اس سے رغبت کرنا۔ اگرچہ وہ ہمیشہ کے لیے کیوں نہ ہو۔ اس طرح زہد ایک مکمل زندگی ہے جو اخلاص اور تقویٰ حاصل کرتا ہے اور امرو نواہی کا تابع رہتا ہے چنانچہ زاہد لوگ اجتماعی امراض کے علاج کے لیے اچھے فیوض اور تجلیوں کے بندوبست کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ یہ قول و عمل دونوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے متلاشی ہوتے ہیں اور بس!
صوفیاء فرماتے ہیں کہ زہد امیدیں کم رکھنے کا نام ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ زہد ذخیرہ اندوزی کم کرنے کا نام ہے۔ پوچھا گیا کہ زہد کی اور کیا تعبیر ہے؟ تو فرمایا یہ بات سمجھ لو کہ پیٹ ہی بندے کی دنیا ہے۔ اب جس قدر وہ پیٹ پر قابو رکھے گا اسی قدر وہ زہد کا مالک ہوگا اور جس قدر پیٹ اس پر غالب ہوگا اسی قدر دنیا اس پر غالب ہوگی۔ (قوت القلوب ج ۴ ص ۴۱۶)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں۔ کون دریائی لہروں پر مکان بنائے گا؟ بس دنیا یہی ہے تم اسے اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھو آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ ہمیں ایسا عمل بتائیں جس کے سبب اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا بنالے۔ آپ نے فرمایا تم دنیا سے عداوت رکھو اللہ تم سے محبت رکھے گا۔
حضرت ابودائود سے روایت ہے کہ حضرت رسول ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کے بارے میں جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے۔ (مکاشفتہ القلوب ص۲۲۵)۔
یقینا زہد دنیا سے اعراض کرنے اور رغبت نہ رکھنے کا نام ہے اور اس کے چاہنے والوں سے انحراف و اختلاف اختیار کرنے سے عبارت ہے۔ طول امل سے باز رہنے کا نام ہے۔ دنیا سے جی چرانا ہی زہد ہے۔ اس علائق سے دور رہنا مقصد ہے۔
انماز ہذ الفتی قصر الامل لاباکل المر لابلبس الثمل۔
یقینا زہد یہ ہے کہ بندہ طول امل سے بچے رہے نہ کہ کڑوی کھائے اور چادر میں اوڑھتا رہے ۔
زہد کی حقیقی صورت یہ ہے کہ سات صالحین ؒ اجمعین کا طریقہ تھا کہ وہ خود اپنی پسند کی اشیاء خرید کر لاتے اور انہیں گھروں میں جمع کر کے رکھتے ، لوگوں کے سامنے راغبین کا سا حال ظاہر کرتے مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ زاہد تھے (مال صدقہ کرتے زہد کو چھپاتے) انہیں کھاتے نہ تھے بلکہ جاہلوں کے دلوں میں اپنا مقام گراتے اور دیکھنے والوں پر اپنا حال پوشیدہ رکھتے۔ ناقلین کی توجہ اپنی جانب سے ہٹا دیتے اور اس کے ذریعے کئی مقامات قطع کرتے اور اجر و ثواب حاصل کرتے ۔ اس لیے یہ اس کا مقام ہے جس نے اشیاء میں زہد اختیار کیا اور زہد کو پوشیدہ رکھاصفائے زہد کی انتہا یہ ہے کہ اس کے برعکس معاملہ ظاہر کرے اور ہرچیز لے کر اس سے نفع حاصل نہ کرے اور اس سے خود لطف اندوز نہ ہو (مہمانوں کو کھلائے کسی غریب نادار پر خرچ کرے) یہ بات نفس پر مجاہدے سے بھی زیادہ سخت شاق گزرتی ہے ۔ اس لیے اس میں دو باتین سخت گران ہیں۔ ایک لذت روکنے کی دوسری اپنا مقام گرانے کی ( قوت القلوب ج ۴ ص ۴۲۲)۔
حدیث میں آتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ کسی سفر سے واپس تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت سیدہ فاطمہ ؑ کے گھر تشریف لے گئے آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ انہوں نے گھر میں ایک پردہ لٹکایا ہے اور ان کے ہاں کچھ زیادہ ضرورت کی چیزیں جمع ہوگئی ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر آپ واپس ہوگئے اور مکان کے اندر جلوہ افروز نہیں ہوئے اور زمین پر بیٹھ کر آپ زمین کو کریدتے ہوئے فرما رہے تھے کہ :
مالی ولدنیا و مالی ولدنیا
میرا دنیا سے کیا تعلق میرا دنیا سے کیا تعلق تو سیدہ فاطمہ الزہرا ؑ نے جان لیا کہ حضور اکرم ﷺ ان چیزوں کی وجہ سے واپس چلے گئے تو آپ نے وہ تمام چیز یں سمیٹ کر حضرت بلال حبشی ؓ کے ہاتھوں آنحضورﷺ کی خدمت اقدس میں بھیج دیا اور پیغام بھیجا کہ یہ تمام چیزیں صدقہ کرچکی ہوں۔ اب آپ جہاں چاہے خرچ کر دیں ۔ حضرت بلال وہ چیزیں لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے چیزیں پیش کردیں اور پیغام بھی پہنچایا کہ ان کو صدقہ کر دیا ہے۔ آپ انہیں جہاں چاہیں کسی مصرف میں استعمال کریں۔
آنحضور ﷺ یہ سن کر فرمایا! والدین کی قسم میں نے ان چیزوں کو خیرات کردیا حضرت بلالؓ سے فرمایا انہیں لے جائو اور بیچ ڈالو (عوارف المعاف) اور اس کی قیمت وصول کرکے رقم اہل صفہ پرخرچ کر ڈالا۔ یقینا ایسے ہی نیک خصلتوں کی تعریف میں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
انا جعلنا ما علی الارض زینۃً لھا لنبلو ھم ایھم احسن عملاً
یقینا ہم نے جو کچھ زمین پر بنایا ہے انہیں زمین کے لیے زینت بنایا ہے تاکہ ہم آزمائیں کہ کون اچھے اعمال انجام دیتا ہے؟
قصہ ایک گھوڑے کا:
ایک دفعہ حضرت شیخ معروف نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے پاس اپنا ایک قیمتی گھوڑا باندھا ہوا تھا وہ کسی کے کھیت میں چرنے لگا اور آگے نکل گیا۔ آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو گھوڑے کو اسی کھیت کے اندر چھوڑ دیا اور فرمایا میں نے گھوڑے کو ہی کھیت کے مالک کو بخش دیا۔ جس سے وہ چرتا رہا۔
خوفِ خدا کا غلبہ
حضرت شیخ معروف کرخی پر خدا تعالیٰ کے خوف کا بے حد غلبہ رہتا تھا۔ حق بھی یہی ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ
رأس الحکمۃ مخافۃ اللہ۔ دانائی کی جڑ (راز) اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے۔ اور یہی تمام نیکیوں اور سعادتمندیوں کا سرچشمہ ہے۔
حضرت یحییٰ بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت شیخ معروف کرخی کو دیکھا کہ اذان دے رہے تھے۔ جب اشھد ان لا الٰہ اِلّا اللّٰہ کہا تو دہشت وخوف کے مارے ان کے داڑھی اور سرکے بال کھڑے ہوگئے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اذان دیتے تھے اور اقامت بھی کہہ لیتے تھے۔ لیکن نماز پڑھانے کی جرأت کبھی نہ کرتے تھے۔
ابو بکر یحییٰ بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپ کی مسجد گئے۔ اس وقت آپ اپنے مکان پر موجود تھے۔ وہ ہمارے ساتھ نکل آئے جبکہ ہم پوری جماعت کے ساتھ تھے۔ علیک سلیک کے بعد اس دعائیہ کلمہ کا اضافے کے ساتھ فرمایا۔ حیّاکم اللّٰہ فی دار السّلام ونعمنا وایّاکم بالاحزان۔ اللہ تعالیٰ تم کو دارالسلام میں جگہ عطا کرے اور ہم سب کو یہ انعام حالت غم میں (خدا خوفی کے نتیجے میں) عطا کیا ہے۔ (139)
اذان میں اضطراب کی شدت سے آپ کی حالت غیر ہوگئی ۔ یہاں تک کہ خوف تھا کہ اذان پوری نہ کرپائیں گے۔ آپ جھک گئے یہاں تک کہ آپ مرنے کے قریب ہوگئے۔
حضرت شیخ معروف نے ایک آدمی سے فرمایا کہ اللہ پر بھروسہ رکھ یہاں تک کہ وہی تیرا استاد اور شکوہ کرنے کی جگہ ہو اور موت کی یاد ہر وقت تیرے ساتھ رہنی چاہئے جو کبھی جدا نہ ہو۔ اور جان لے کہ تجھ پر جو بھی مصیبت اترے اس کو شفاء سے مخفی رکھنا ہے کیونکہ لوگ نہ تجھے نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ نہ تجھے کچھ دے سکتے ہیں نہ کسی چیز کو روک سکتے ہیں۔
آپ سے کسی مخلص دوست نے پوچھا کہ اے ابومحفوظ! آپ کو عبادت کرنے پر اور مخلوق سے کنارہ کشی پر کس چیز نے آمادہ کیا تو آپ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا کہ موت کی یاد نے۔ اس نے سوال کیا کہ موت کیا ہے؟ تو فرمایا کہ قبر اور دوزخ کا ذکر۔ اس نے پوچھا کہ قبر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا آگ کا خوف اور جنت کی امید۔ اس نے پوچھا تو یہ دنیا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ تمام ملک اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر تیری اللہ تعالیٰ سے عداوت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ تجھے بھلادے گا۔ اور اگر تیرے اور اس کے درمیان محبت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ ان سب سے تجھے کفایت کرے گا۔ (140)
استغراق فی التوحید
کمالِ توحید یہ ہے کہ انسان اپنے تمام معاملات میں صرف خدا کی طرف رجوع کرے۔ اور اس کے سوا کسی اور سے اپنی کوئی حاجت متعلق نہ سمجھے۔ حضرت معروفؒ ایک دفعہ کوفہ کے بازار سے گزررہے تھے، وہاں انہوں نے دیکھا کہ وہاں اس عہد کے مشہور واعظ ابن سماکؒ کہہ رہے تھے ۔ کہ جو شخص اللہ سے بالکل اعراض کرتا ہے اللہ بھی اس سے بالکل اعراض کرتا ہے۔ اس وعظ کا اتنا اثر ہوا کہ وہ صرف خدا ہی کے ہو کر رہ گئے۔ اور فنا فی الشیخ ہوگئے۔ زندگی امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں صرف کردی۔ اور فنا فی التوحید کے جامِ جان نواز سے اتنے سرشار ومست رہے کہ غیراللہ سے انہیں کوئی علاقہ ہی نہ رہا۔
ایک دفعہ ایک شخص نے آپ سے نصیحت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ پر توکل کرو۔ یہاں تک کہ وہ تمہارا جلیس بن جائے۔ اور وہی تمہاری شکایتوں کا مرجع ہو اور تم موت کا ذکر زیادہ کرو۔ یہاں تک کہ تمہارا جلیس سوائے خدا کے کوئی اور ہو ہی نہ سکے۔ اور ہاں یہ سمجھ لو کہ لوگ تم کو نفع پہنچاسکتے ہیں نہ ضرر۔ وہ تم کو کوئی چیز دے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز سے منع کرسکتے ہیں۔ اس فنا فی التوحید کا یہی نتیجہ تھا کہ وہ خدا کی رحمت کے تصور سے بار بار دل کو تسکین دیتے اور یاس وناامیدی کو غالب نہیں ہونے دیتے تھے۔ بسا اوقات علی الصباح اُٹھ کر یہ شعر پڑھتے تھے۔
ای شیٔ نذیر من الذنوب
شغفت لی فلیس عنی تغیب
ما یضر الذنوب لو اعتقتنی
رحمۃ لی فقد علانی المشیب(141)
ٌ٭- ان گناہوں نے آخر میرے متعلق کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ کہ مجھ سے چمٹ گئے ہیں اور مجھ سے غائب نہیں ہوتے۔ اچھا اگر اللہ کی رحمت نے مجھ کو آزاد کردیا تو اب جب کہ مجھ پر بڑھاپا غالب ہوگیا ہے تو یہ گناہ مجھ کو کیا نقصان پہنچاسکیں گے۔
آپ کا توکل
حضرت شیخ معروف قدس سرہٗ مقام توکل ویقین کے مرتبے پر فائز تھے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ پر اس حد تک یقین واعتماد تھا کہ کھانے پینے ، رہنے سہنے اور دوسرے دھندوں سے دور ہی رہتے تھے۔ بلکہ آپ کو دنیاوی چیزوں کا خیال تک نہیں رہتا تھا۔ اس سلسلے میں اہتمام وانصرام میں مصروف رہنے والوں کو آپ بہت ناپسند کرتے تھے۔
ابو حامد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ معروف کرخی نے کسی کے پیچھے نماز پڑھی ۔ سلام پھیرنے کے بعد امام صاحب نے آپ سے پوچھا ۔ کیا کام کرتے ہو؟ اور کہاں سے کھاتے ہو؟ آپ نے جواب دیا۔ ذرا ٹھہریئے مجھے پہلے ذرا نماز دوبارہ پڑھنے دیجیے۔ امام صاحب نے پوچھا کیوں ابھی ابھی تم نے نماز نہیں پڑھی ؟ فرمایا کہ اس لئے کہ جو شخص رزق میں شک کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے میں بھی شک کرتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ چنانچہ آپ نے نماز دوبارہ پڑھی اور اپنی راہ لی۔ (142)
حضرت شیخ معروف ارشاد فرماتے ہیں۔ خدا پر توکل کر تاکہ خلق تمہیں نقصان نہ پہنچاسکے۔
نیزآپ نے فرمایا۔ تمام چیزیں اللہ سے مانگو یہ بھی آپ کا ارشاد ہے۔کہ اس بات کا خوف کرو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔(143)
طولِ امل سے گریز
کتاب صفوۃ الصفوہ کے حوالے سے علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ سری بن یوسف انصاری بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت شیخ معروف کرخی نے نماز کے لئے اقامت کہی اور آپ نے محمد بن ابی توبہ سے فرمایا کہ آگے بڑھیں اور ہمیں نما ز پڑھائیں۔ وہ خود امامت نہیں کیا کرتے تھے۔ البتہ اذان دیتے تھے۔ تکبیر پڑھتے تھے اور دوسرے کسی کو نماز پڑھانے کے لئے آگے کیا کرتے تھے۔ تو انہوں نے (محمد بن ابی توبہ) سے کہا کہ یہ نماز تو میں پڑھاؤں گا لیکن آئندہ کوئی نماز تمہیں نہیں پڑھاؤں گا (لا اصلی بکم صلوٰۃ اخریٰ) اس پر حضرت شیخ معروف نے فرمایا ۔ تم یہ توقع کرتے ہو کہ تم پھر کوئی نماز پڑھا (پڑھانے تک زندہ رہ سکو گے)۔
نعوذ باللہ من طول الامل۔ طول الامل یمنع خیرالعمل! ہم طولِ امل سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ کیونکہ وہ نیک عمل کو روکتا ہے۔
طول امل یعنی لمبی امیدیں انسان کو موت سے فراموشی کے زمرے میں پہنچادیتی ہے۔ جسے اہلِ عرفان وتصوف روحانی گراوٹ اور کمزوری سمجھتے ہیں۔ بلکہ موت کو بھولنا خدا کو بھول جانے کا مترادف ٹھہراتے ہیں۔ اس لئے اہلِ سلوک اور اولیائِ عظام ہمیشہ موت کو یاد رکھتے ہیں۔ ان کے دل پر ہر وقت موت کی آمد کا خدشہ طاری رہتا ہے۔ چنانچہ وہ زہد وتقویٰ ، عبادات ومعاملات میں احسان واحتیاط کو اور صفائی اور طہارت کو پیشِ نظر رکھتے ہیں اور تزکیۂ نفس،تصفیۂ قلب اور تخلیۂ روح کے سلسلے میں کمال پیدا کرنے کی سعی جاری رکھتے ہیں۔
طبقات سلمی اور تاریخِ بغداد کے حوالے سے علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ احمد روقی نے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ ہم دجلہ کے قریب تھے۔ معروف نے وضو کی جگہ تیمم کیا تو کسی نے کہا کہ پانی آپ کے نزدیک ہے وہاں جاکر وضو کریں تو آپ نے فرمایا کہ شاید میری زندگی اتنی نہ ہو کہ میں وہاں تک پہنچ سکوں۔ (لعلی لا اعیش حتی ابلغہٗ) مؤلف کہتے ہیں کہ شاید راوی نے حضرت شیخ معروف کو نہیں سمجھا ہو کہ وہ کیا کررہے تھے۔ ممکن ہے وہ استعمال کے لئے پتھر اٹھائے ہوئے ہوں تو راوی نے کہا۔ انہوں نے تیمم ہی کیا ہے جبکہ تیمم پانی کی موجودگی میں کیسے جائز ہوسکتا ہے؟مناقب الابرار کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جن کا اسماعیل بن احمد نے اعتراف کیا اور ان تک جو روایت پہنچی تھی اس کی تصدیق بھی کی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓسے مروی ہے کہ۔
انّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم لھدیق الماء یتمسح بالتراب۔ فأقول یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم الماء منک قریب فیقول وماید رینی لعلی لا ابلغہ۔
رسول اللہ ﷺ پانی کے جوار میں تھے۔ اس کے باوجود تیمم فرمایا۔ تو میں نے عرض کی۔ یارسول اللہ ﷺ پانی آپ کے نزدیک ہے۔ (آپ وضو کرلیجئے تیمم کیوں؟) تو آپﷺ نے فرمایا! تم مجھے نہیں پاسکوگے کہ میں شاید وہاں تک پہنچ جاؤں گا؟ (144)
معلوم ہوا کہ حضرت شیخ معروف آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آپ کی ہم مشربی کا ثبوت پیش کررہے تھے اور ان کا یہ عمل طول امل سے گریز تھا۔ گویا اس میں بھی پیروی نفس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملحوظِ نظر رکھا گیا۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ مذکور ہے کہ منصور بن طوسی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ حضرت شیخ معروف کے پاس موجود تھے کہ ایک بھکارن (سائلہ عورت) آگئی۔ اس نے کہا کہ مجھے افطاری کے لئے کوئی چیز دیجیے میں روزہ دار ہوں۔ تو حضرت شیخ معروفؒ نے ان کو بلا کر فرمایا۔ اے میری بہن! تم نے تو اللہ کے بھید کو ظاہر کیا۔ تو تم امید رکھتی ہو کہ تم شام کے وقت تک زندہ رہو گی؟ (145)
دیکھیے کہ حضرت شیخ معروف کس حد تک اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمیشہ موت سے ڈرتے رہتے تھے۔ اور آپ طول امل سے کس طرح گریز کرتے رہتے تھے اور لوگوں کو بھی عبرت کا درس دیتے تھے۔ اگر یہی طریقہ آج کے انسان بھی اپنائیں تو بعید نہیں کہ وہ اللہ کے مقربین میں شامل نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو طول امل سے بچنے اور موت کا ہمیشہ خوف کھانے کی توفیق عطا کرے اور نیک اعمال انجام دینے کا موقع بخشے۔ آمین یاربّ العالمین۔
آپ کا ذکر و فکر
ذکر وفکر سے مراد خدائے لم یزل کی یاد اور آخرت کے بارے میں فکر کرنا ہے حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ ذکر و فکر کرنے کے عادی تھے۔ آپ باری تعالیٰ کی یاد کرنے کو زندگی کی منزل ومقصود سمجھتے تھے۔ اس لئے ساری زندگی ذکر و فکر، ریاضت و مجاہدات میں مشغول رہے اور شب و روز عبادتِ الٰہی، ذکر خداوندی اور قیام اللیل وصیام النھار میں مصروف رہے۔ خوفِ خدا کی کیفیت اور موت کی یاد کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ چنانچہ آپ کو جب بھی موت کی یاد آتی تو عبادت وریاضت اور ذکر ووَظائف اور مخلوق سے کنارہ کشی کا جذبہ موجزن ہوجاتا تھا۔
حلیۃ الاولیاء کے حوالے سے علامہ ابن الجوزی عبید بن محمد بن وراق سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ حضرت شیخ معروف کرخی کی مجلس میں موجود تھے ۔ ہم نے آپ سے بڑھ کر کوئی متفکر شخص نہیں دیکھا۔ اسی طرح دوسری روایت منقول ہے کہ یحییٰ بن ابو طالب کہتے ہیں کہ ہم نے معروف سے بڑھ کر کسی شخص کو مسلمانوں کے لئے نصیحت کرنے والا نہیں پایا۔ اور ان سے زیادہ سخت فکر کرنے والا نہیں دیکھا۔ ان کا تفکر دراصل قلبی گہرائیوں سے مربوط ہوتا تھا۔ (146)
سیرالنبلاء الاعلام کے حوالے سے حضرت عبیداللہ بن محمد بن محمد وراق بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضرت ابو محفوظ کے ساتھ ایک مجلس میں جمع تھے۔ وہ بیٹھے ہوئے سوچ رہے تھے۔ پھر وہ اچانک چیخنے لگے واغوثاہ باللّٰہ ۔ اے اللہ میری مدد فرما۔ (147)
نقل ہے کہ حضرت شیخ معروف الکرخی اپنے نفس کو ہمیشہ ملامت کرتے تھے اور کہتے تھے یانفس کم تبکین؟ اخلصی تخلصی! اے نفس تو کب تک روتا رہے گا۔ تم مجھے خلاصی دو تاکہ تم نجات پاؤ۔ابو نعیم حافظ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے کسی خط میں پڑھا کہ حضرت شیخ معروف اپنے نفس کو ہمیشہ ملامت کرتے تھے اور فرماتے تھے۔ یامسکین کم تبکی وتندب، اخلص تخلص۔ اے غریب نفس تم کب تک روتے رہوگے اور فریاد کرتے رہو گے۔ تو مجھے خلاصی دے تو تجھے نجات حاصل ہوگی۔ (148)
نقل کیا ہے کہ ایک بار عشق ومستی کی حالت میں ایک ستون سے ایسے لپٹ گئے کہ قریب تھا وہ ستون پارہ پارہ ہوجائے۔ (149)
دنیا سے بے رغبتی
حضرت شیخ معروف کرخی فرماتے ہیں کہ عارف دنیا کی طرف مجبوراً رجوع کرتا ہے اور مفتور اختیاری طور پر۔ آپ سے پوچھا گیا کہ اطاعت میں کس طرح کامیاب ہوسکتے ہیں۔ فرمایا کہ اپنے دلوں سے دنیا کی محبت نکال باہر کردو۔ اگر دنیا کی معمولی چیز بھی تمہارے دل میں رہ جائے تو یہ سمجھو کہ جب بھی تم خدا کو سجدہ کرو در حقیقت تم سجدہ اس چیز کو کررہے ہو جس کی تم محبت رکھتے ہو۔ دنیا کی محبت سے دور رہو ورنہ تیرا کوئی سجدہ خالص نہیں ہوسکتا۔ (150)
منقول ہے کہ ایک دن آپ عالمِ محویت میں ایک ستون کے ساتھ لپٹ گئے۔ قریب تھا کہ وہ ستون گر کر برباد ہوجائے۔ آپ نے فرمایا کہ تین چیزوں میں جوانمردی ہے۔ پہلا: ایفائے عہد۔ دوسرا: بے لوث سخاوت۔ تیسرا: عطائے بے سوال۔ آپ نے فرمایا ۔ تصوفِ ظاہری سے عاشق کو فائدہ نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا دنیا کی ملامت ترک کرنے والا اللہ کی محبت کا مزہ پاتا ہے اور محبت اس کے فضل سے ملتی ہے۔ اور فرمایا کہ عارف سراپا نعمت ہے اسے مال ودولت کی ضرورت نہیں۔ (151)
نقل ہے کہ ایک مسافر آپ کے ہاں آیا اور نماز پڑھنے لگا لیکن سمت قبلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے دوسری طرف نماز پڑھی۔ نماز سے فراغت کے بعد اسے قبلہ کی صحیح سمت معلوم ہوگئی۔ اس نے آپ سے کہا کہ جب میں نے دوسری سمت نماز پڑھنے کا قصور کیا تو آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ کعبہ اس طرف ہے۔ آپ نے فرمایا کہ درویشوں کو دوسرے کے کاموں میں دخل دینے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے کہ انہیں اپنے کاموں سے فرصت ہو۔
اظہارِ محبت
حضرت شیخ معروف اظہارِ محبت کو کسی رنگ میں بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک آدمی نے بعض دیوانوں سے ایسی بات دیکھی جو اسے پسند نہ آئی تو اس نے حضرت معروف کرخی کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے تبسم کیا۔ پھر فرمایا کہ میرے بھائی مجھ سے محبت کرنے والے لوگوں میں کچھ چھوٹے ہیں کچھ بڑے ہیں ۔ کچھ عقلمند اور کچھ دیوانے ہیں۔ سو یہ جو تم نے دیکھا ہے یہ دیوانوں کی بات ہے۔ آپ محبت ظاہر کرنے کو بہت برا سمجھتے تھے۔ اس لئے کہ محبت کرنے والا عارف ہو اور ملائکہ کے حالات جانتا ہو۔ جن کی محبت ہمیشہ اور شوق لازمی ہے۔ وہ دن رات تسبیحات بیان کرتے ہیں اور تھک نہیں جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں تو، تو اپنے نفس اور اس کی محبت کے اظہار کو عار جانے اور اسے یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ وہ سب محبت کرنے والوں میں سے زیادہ کمینہ ہے اور اس کی محبت اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں میں سب سے زیادہ ناقص محبت ہے۔ (152)
اس کا مطلب یہ تھا کہ صرف محبت جتاتے ہوئے جاسوسی کرنے کو پسند نہ کرتے تھے۔ کیونکہ محبت کا مرکز دل ہے جب دل ہی اس نعمت سے خالی ہے تو صرف زبانی کلامی اظہارِ محبت کو کون پسند کرتا ہے۔ حکماء کہتے ہیں کہ ہر جگہ لالہ نہیں اُگتا۔ اور ہر درخت پھل دار نہیں ہوتا۔ اس لئے ہر زبان حقیقی محبت کی ترجمانی نہیں کرتی۔ محبت کے بارے میں آپ سے کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ محبت خلق کی تعلیم سے حاصل ہونے والی چیز نہیں ہے۔ یہ تو بس اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی دی ہوتی ہے۔ (153)
اللہ والوں کی باتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ ان کی باتوں کو اہل اللہ ہی پہچان سکتے ہیں کہ حضرت فضیلؒ کا قول ہے کہ جب تجھ سے پوچھے تو اللہ سے محبت کرتا ہے تو چپ ہوجا۔ اگر تو نے نفی میں جواب دیا تو وہ کفر ہوگا۔ اگر ہاں کہا تو تیرے اندر عاشقوں جیسی صفت موجود نہیں۔ لہذا تو جھوٹا سمجھا جائے گا۔ بس خاموشی اختیار کرو اور ناراضگی سے بچ جا۔ (154)
آپ کا جلال
حضرت شیخ معروف اتنے پاکیزہ فطرت تھے کہ فروتنی، صبر، رحمدلی اور شفقت نیز رقیق القلبی کا مالک ہونے کے باوجود بعض دفعہ جلال میں آتے ہوئے بھی دیکھے گئے ہیں۔ مگر اس کی اصل وجہ آپ کی نفسی اور ذاتی جذبات سے نہیں بلکہ حق اور رحمانی جذبات اور جوازشرعی کا جائز عمل دخل تھی۔ ان کے غضبناک ہونے کا موجب روحانی جلال تھا۔
چنانچہ حلیۃ الابرار کے حوالے سے ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ سید بن النصر ابوالحکم بغدادی سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت شیخ معروف کرخی نماز کو جارہے تھے ۔ کہ راستے میں ایک جوان کو دیکھا کہ ایک بچے سے چمٹا ہوا تھا اور اس بچے کی ماں روتی ہوئی فریاد کررہی تھی۔ جب آپ نے اس عورت سے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ جوان میرے بچے کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ آپ یہ سن کر متعجب ہوئے اور فوراً فرمایا اللہ! اللہ! ایسی بات ہے۔ تو آپ نے جوان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔ چھوڑدو اسے۔ جوان نے جواب دیا کہ جاؤ اور اپنا کام کرو۔ آپ نے دوسری دفعہ فرمایا کہ چھوڑدو اسے۔ جوان نے پھر کہا۔ جاؤ اپنا کام کرو۔ آپ نے تیسری دفعہ فرمایا کہ چھوڑدو اسے۔ جوان نے پھر وہی جواب دیا۔ اس وقت آپ کو سخت جلال آگیا اور فرمایا۔ تم مجھے میرے کام کے بارے میں بتاتے ہو۔ اور ایک تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا۔ تو وہ ایسا گر پڑا کہ بے ہوش ہوگیا۔ آپ نے اس عورت سے فرمایا۔ لے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑلے اس جوان کے سرہانے کے ساتھ بیٹھ جا۔ جب اسے ہوش آگیا تو جوان سے آپ نے پوچھا کہ پھر ایسا کرے گا تو نوجوان نے عاجزانہ کہا بس نہیں۔ (155)
صبر و تحمل
حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ معروف کرخی ؒ کے بلند اخلاق، حلم و بردباری کا ذکر کرتے ہوئے بوستان میں ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ کہ ان کے پاس ایک مہمان آیا جو بیماری کی شدت میں مبتلا اور قریب المرگ تھا۔ رات کو دم بھر نہ سوتا تھا۔ اور اس کی فریاد وزاری کی وجہ سے گھر میں کوئی بھی سو نہ سکتا تھا۔ بیماری نے ان کی طبیعت درشت بنادی تھی۔ اس کے کراہنے ، فریاد اور زاری سے شیخ معروف کے گھر والے بے زار ہوگئے اور سب اِدھر اُدھر ہوگئے۔ اور گھر میں صرف وہ بیمار اور شیخ معروف ہی رہ گئے۔ یہ رات بھر اس کی خدمت میں جاگتے اور کمربستہ ہو کر اس کی ہر بات کو پورا کرتے رہے۔ یوں ایک رات آپ کچھ زیادہ تھکے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اس رات آپ کی آنکھ لگ گئی۔ اور بیمار جس پر کوسنے لگا اور سخت سست کہا۔ کہنے لگا کہ یہ دھوکے باز، پارسائی فروش کیا جانیں اس بے چارہ بدحال کا جو لمحہ بھر سو نہیں سکتا۔ شیخ نے یہ باتیں سن کر کوئی پرواہ نہ کی۔ مگر بیمار درویش کی سخت کلامی سے گھر والے سخت تنگ آچکے تھے۔ کسی نے کہا سنا۔ یہ درویش مریض کیا کہہ رہا ہے؟ اسے کہہ دیجئے کہ یہاں سے کہیں اور چلا جائے اور بے شک دور ہو جائے ۔ کہ ایسے لوگوں سے نیک برتاؤ بے معنی ہے۔ حضرت شیخ معروف یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا کہ اس کی بیماری اور بے چارگی سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے اس کی باتیں بری نہیں لگتی ہیں وہ بے چارہ بے قراری سے سو نہیں سکتا۔ اس کا سخت سست کہنا بے اختیاری ہے اسے مجبوری سمجھیں۔
چنانچہ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ اس واقعہ کی روشنی میں لوگوں کو ناصحانہ انداز میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ؎
چو خود را قوی حال بینی و خوش
بشکرانہ بار ضعیفاں بکش
دگر پرورا نی درخت کرم
بر نیک نامی خوری لاجرم
نہ بینی کہ در کرخ تربت بسی سست
بجز گور معروف، معروف نیست
٭- اگر خود کو قوی حال اور خوش پاتے ہو تو شکرانہ کے طور پر ضعیفوں کا بوجھ برداشت کرو۔
٭- اگر مہربانی کے درخت کی پرورش کروگے تو ضرور نیک نامی کا پھل کھاسکوگے۔
٭- دیکھتے نہیں کہ کرخ میں قبریں تو بہت ہیں مگر معروف کرخی کے مقبرے کے سوا کسی کی قبر مشہور نہیں ہے۔
اس سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ انہوں نے لوگوں اور ضعیفوں کے ساتھ جو سلوک اختیار کر رکھا تھا۔ جس کی بدولت ان کی وفات کے بعد اُن کا یہ طرزِ عمل اُن کی شہرت اور نیک نامی کا سبب بنا۔ یہاںحضرت معروف کے گھر والوں کا ذکر ہوا ہے جو گھر سے بھاگ گئے تھے۔ اس سے مراد ان کی بیوی نہ تھی، اس لئے کہ خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ انہوں نے شادی نہ کی تھی۔ (156)
بہر حال صبر وتحمل کے ضمن میں ان کا یہ قصہ ان کی زندگی کا عظیم کارنامہ معلوم ہوتا ہے۔ جو صرف خدمت خلق کی خاطر اخلاص اور نیک جذبہ کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔ اور اہلِ عرفان کا شیوہ ہوتا ہے وہ کبھی کسی انسان کو بے بس دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی انسان جہاں بے یار ومددگار ہو وہ اس کی خدمت اور خاطر مدارات کو فرض عین سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت شیخ معروف نے بے چارے مریض کی حالت زار پر ترس کھاتے ہوئے انسانی ہمدردی کا بے عیب ثبوت فراہم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی روش نصیب کرے۔ آمین۔
منقول ہے کہ ایک بار آپ اپنا قرآن اور مصلیٰ مسجد میں رکھ کر دریا پر طہارت کرنے کے لئے چلے گئے۔ مسجد میں ایک بڑھیا آئی اور قرآن شریف اور مصلیٰ اٹھا کر لے چلی۔ راستے میں اُس کا حضرت معروف سے سامنا ہوا۔ آپ نے گردن جھکا کر فرمایا کہ کیا آپ کا کوئی بچہ قرآن پڑھتا ہے؟ بڑھیا نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو یہ قرآن مجھے دے دیجئے اور مصلیٰ میں نے آپ کو بخش دیا۔ بڑھیا آپ کی اس بردباری سے متاثر ہوئی اور شرمندہ ہو کر دونوں چیزیں آپ کو واپس کردیں۔
ریاکاری سے اجتناب
حضرت شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ نہایت عبادت گزار شخصیت کے مالک تھے۔ اس کے باوجود وہ اپنی عبادت کو چھپاتے تھے۔ آپ شب وروز عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔ لیکن ریا کے خوف سے انہیں قطعاً ظاہر نہ ہونے دیتے تھے۔ حتی الامکان اسے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔
تاریخ بغداد اور طبقات حنابلہ کے حوالہ سے علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ آپ واقعی طور پر صائم النھار اور قائم اللیل تھے۔ ان کے مرض وفات میں ان سے ایک شخص نے پوچھا ۔ کہ آپ اپنے روزوں کی نسبت مجھ سے کچھ بیان فرمایئے۔ تو آپ نے فرمایا۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسا ایسا روزہ رکھتے تھے۔ سائل نے مزید پوچھا کہ میں آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا ۔ کہ حضرت داؤد ؑاس طرح روزے رکھتے تھے۔ اس پر سائل نے پھر اپنے سوال کو دہرایا۔ آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح روزہ رکھتے تھے۔ سائل نے پھر اسی سوال کو دہرایا تو فرمایا کہ میں تو ہمیشہ روزے سے رہتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص میری دعوت کرتا تو میں کھانا کھا لیتا تھااور یہ نہیں کہتا تھا کہ میں روزہ سے ہوں۔ حضرت شیخ معروف نہایت عبادت گزار تھے۔ وہ کسی ساعت کو بھی خدا کے ذکر سے خالی جانے نہیں دیتے تھے اور آپ ہمہ وقت ذکر وفکر کے عادی تھے۔
چنانچہ ایک واقعہ یوں نقل ہوا ہے کہ آپ ایک دفعہ کسی حجام کے پاس جاکر خط بنوارہے تھے۔ حجام جب آپ کی مونچھوں کو چھوٹا کررہا تھا اور قینچی کے استعمال کے دوران بھی آپ تسبیح پڑھ رہے تھے تو اس پر حجام نے کہا کہ آپ اپنے لبوں کو روکے رکھیں تاکہ آپ کی مونچھوں کی کٹائی کردوں آپ نے حجام سے فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تو اپنا کام کرتا رہے اور میں اپنے کام میں کوتاہی کروں۔ (158)
نقل ہے کہ محمد بن منصور نے ایک دن حضرت معروف کرخی کی خدمت میں حاضر ہوکر دیکھا ۔ کہ ان کے چہرے پر زخم کا نشان ہے۔ میں نے چاہا کہ میں ان سے اس کی وجہ دریافت کرلوں۔ لیکن ان کے رعب وجلال کی وجہ سے ہمت نہ ہوئی۔ ان کے پاس ایک اور شخص بیٹھا ہوا تھا۔ جو مجھ سے جری تھا۔ اس سے رہا نہ گیا اور زخم کا سبب پوچھ بیٹھا۔ حضرت شیخ معروف کرخی نے بات کو ٹالنے کیلئے فرمایا کہ بھائی تم اپنا کام کرو۔ اس قسم کے سوالات سے تم کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ اس نے دوبارہ اصرار کیا۔ اس مرتبہ بھی حضرت معروف نے وہی جواب دیا۔ مگر جب تیسری بار اس نے زیادہ اصرار کے ساتھ سوال کیا تو آپ کو فرمانا پڑا ۔ کہ میں گزشتہ رات خانہ کعبہ چلا گیا تھا۔ جب زمزم کے کنویں پر پانی پینے کے لئے حاضر ہوا تو وہاں سے پاؤں پھسل گیا۔ یہ نشان اسی وجہ سے ہے۔ (159)
اُن دِنوں آپ علیہ الرحمہ بغداد میں ہی قیام پذیر تھے اور عزم سفر کرتے ہوئے دیکھا نہ گیا تھا۔
اس واقعہ سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ العزیز صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ وہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ اپنے احوال کا بہت اخفا کرتے تھے۔ اس طرح اپنی ذات کی نمود اور عبادت وریاضت کی نمائش وغیرہ سے سختی سے اجتناب فرماتے تھے۔ لہذا ہم کو بھی چاہئے کہ ہم اپنے نیک اعمال کو ریا وسمع سے پاکیزہ رکھیں اور اپنی عادات اور اخلاق کی خوشبوؤں کو خوب سے خوب تر بنانے کی سعی کریں اور اپنے احوالِ روحانی کو زیادہ سے زیادہ پوشیدہ اور مخفی رکھنے کی کوشش کریں تاکہ دین اور دنیا دونوں میں حقیقی طور پر نامور اور کامران ہوجائیں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری وباطنی تمام امراض سے صحت تامہ عطا فرمائے۔ آمین یا الٰہ العالمین۔
آپ کی سخاوت کا بیان
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ وقت کے ان عظیم صوفیاء میں سے ہیں جو سخاوت وکرم میں بھی شہرت تامہ رکھتے تھے۔ اور دوسرے انسانوں کے ساتھ ایثار اور ہمدردی میں مثالی رویہ کے قائل تھے۔ جہاں وہ اپنے دور کے عظیم فقراء میں شمار ہوتے تھے۔ وہاںبذل وایثار اور کرم کے سلسلے میں نہایت وسعت قلبی اور تمنا کا مظاہرہ بھی کرتے تھے۔
حسن بن علی الوشا سے منقول ہے کہ وہ ایک دفعہ حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے افطار کے لئے ایک روٹی اور گوشت کا ایک ٹکڑا پکا کر تیار کر رکھا تھا۔ ایک سائل آیا تو انہوں نے اس تیار شدہ کھانے سے ایک حصہ سائل کو عطا کیا۔ دوسرا حصہ خود تناول فرمایا اور یہ بھی منقول ہے کہ ایک دفعہ کوئی سائل آکر آپ سے یوں مخاطب ہوا کہ آپ مجھے یوں، یوں دعا دیں اور دعا بھی ان کو سکھائی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کبھی رَد نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی تو ایک انسان نمودار ہوا جس نے اسے مطلوبہ چیز عطا کردی۔
ابو شعیب بغدادی حضرت شیخ معروف کرخی کے دوستوں میں تھے۔ وہ بیان کرتے ہیںکہ ایک دفعہ ایک آدمی حضرت شیخ معروف کے پاس آیا اور آپ سے بصلیۃ کا تقاضا کیا۔ آپ نے اس کو اپنی جگہ بٹھادیا اور خود سبزی والے کے پاس چلے گئے اور تھوڑے پیسے نکال کر فرمایا۔ کہ اس کے بصلیۃ (کھانے کی ایک مشہور قسم) دے دو۔ سبزی فروش نے کہا کہ اے ابو محفوظ! سبزی فروش کے پاس بصلیۃ نہیں ہوتا بلکہ اسے بنانا پڑتا ہے۔ جو دودھ، گوشت، ایک قسم کی سبزی کے ساتھ پیاز کو پکا کر تیار کیا جاتا ہے۔ تو آپ نے ایک پورا درھم دے ڈالا۔ فرمایا جاؤ بصلیۃ تیار کرکے مسجد میں لے آنا۔ وہ اس کھانے کو تیار کرکے مسجد لے آیا اور بصلیۃ کے خواہشمند کو کھلایا۔ پھر حضرت شیخ معروف نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں نے اس سے پہلے کبھی بصلیۃ نہیں کھایا تھا۔ اس طرح آپ کے ایک اور دوست ابو علی الہثیم بیان کرتے ہیں ۔ کہ ایک دفعہ ایک آدمی دس درہم لے کر شیخ معروف کرخیؒ کے پاس آیا اور کہا کہ یہ فلاں شخص نے آپ کو بھیجے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا یہ اسی کو واپس کردو۔ اس نے کہا کہ میں یہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے وہ اسے محسوس کرے گا۔ آپ وصول کرلیجئے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر اپنے پاس رکھ لو۔ اس نے اپنے پاس رکھ لئے۔ اتنے میں ایک سائل سوال کرتا ہوا وہاں آنکلا۔ آپ نے فرمایا کہ درہم اسے دے دو۔ اس نے کہا کیا سارے دے دوں؟ حضرت شیخ معروف نے فرمایا۔ سارے دے دو۔ پھر پوچھا سارے دے دوں؟ آپ نے پھر فرمایا ہاں ہاں۔ سارے دے دو۔ کیا بھیجنے والے نے سارے مجھے نہیں بھیجے؟ اس نے کہا ہاں جی۔ آپ نے فرمایا تو پھر میں یہی کہہ رہا ہوں کہ دس کے دس درھم اسے دے دو۔ پس اسے دے دیئے گئے۔ (160)
حضرت شیخ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ کہ عید کے دن میں نے آپ کو کھجور چنتے ہوئے دیکھا اور اس کا سبب دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ یتیم لڑکا رورہا ہے۔اس وجہ سے کہ اس کے ہم جولیوں نے آج نئے کپڑے پہنے ہیں اور اس کے پاس نہیں ہے۔ میں اس لئے کھجوریں چن رہا ہوں کہ ان کو بیچ کر اس کے لئے نئے کپڑے (جوڑا) بنادوں۔ میں نے عرض کی، اس کام کو میں انجام دوں گا۔ آپ اس قدر تکلیف نہ فرمائیں۔ پھر میں اس لڑکے کو ساتھ گھر لے گیا اور نئے کپڑے پہنائے۔ اس کے صلے میں مجھے وہ نور عطا ہوا جس کی وجہ سے میری حالت ہی اور ہوگئی۔ (161)
ایک دفعہ حضرت معروف کرخی کے پاس ایک سائل آیا۔ اس کو دینے کے لئے اپنی جوتی کے سوا اور کچھ نہیں پایا۔ تو اپنی جوتی ہی دے دی۔ بعد ازاں آپ کو معلوم ہوا کہ اس نے جوتا فروخت کرکے اس کی قیمت کا کوئی پھل خریدا ہے۔ آپ نے فرمایا الحمدللہ۔ شاید اس کا دل میوے کو چاہتا تھا۔ بس ہم نے اس کی قیمت دے کر غم خواری کی۔ (162)
شرم و حیا کا ذکر
حضرت شیخ معروف کرخیؒ کے ماموں حاکم شہر تھے۔ ایک بار انہوں نے صحرا میں آپ کو دیکھا کہ ایک کتا آپ کے پاس بیٹھا ہے اور آپ ایک نوالہ خود کھاتے ہیں اور دوسرا کتے کو کھلاتے ہیں ۔ ا نہوں نے کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم کتے کو کھلارہے ہو؟ آپ نے جواب دیا کہ شرم ہی کے مارے میں کتے کو کھلا رہا ہوں۔ پھر آسمان کی طرف دیکھا تو ایک پرندہ فضا سے اتر کر آپ کے ہاتھ پر آبیٹھ گیا۔ لیکن اس نے اپنی آنکھ اور چہرے کو پروں میں چھپالیا۔ جس پر آپ نے اپنے ماموں سے فرمایا۔ کہ جو شخص اللہ سے شرم کرتا ہے۔ اس سے ہر چیز شرم کرتی ہے۔ (163)
آپ کا طعام
صوفیاء کرام کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ وہ کھانے پینے میں بے حد سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اکثر اوقات روزے سے ہی گزارتے ہیں۔ روکھی سوکھی پر گزر اوقات کرنا ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ اس بے اعتنائی کی بدولت ان کا قیمتی وقت عبادت خداوندی میں گزر جاتا ہے۔ لیکن شیخ معروف کرخی ؒ ایک بار بڑی خوشی کے ساتھ کوئی چیز تناول فرمارہے تھے۔ کسی نے پوچھا ایسی کیا چیز ہے؟ کہ آپ اتنی مسرت کے ساتھ کھارہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میری مسرت کی وجہ یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور وہ جو عطا فرماتا ہے میں اسے خوشی کے ساتھ کھالیتا ہوں۔ (164)
حضرت شیخ معروف کرخی قدس سرہ معارفِ حقیقت کے شہسوار تھے۔ آپ بعض اپنے فرامین، مواعظ اور پند ونصائح میں حکمتوں اور معنی خیز نکتوں اور جملوں سے مزین کلام کرتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ دنیا چار چیزوں پر مرکوز ہوتی ہے۔ مال، کلام، نوم اور طعام۔ ان چیزوں کی حقیقت سے پردہ اُٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں۔ مال: انسان کو بغاوت پر اکساتا ہے۔ کلام: فضولیات کی طرف لے جاتا ہے۔ نوم: (نیند) غفلت کی طرف اور طعام: قساوتِ قلبی کی طرف لے جاتا ہے۔ تاہم طعام کی کثرت کو کسی بزرگ نے پسند نہیں فرمایا ہے۔ بلکہ خالی پیٹ عرفان کی طرف اور پُرشکمی فساد قلب کی طرف لے جانے کا سبب ضرور ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لئے حضرت شیخ معروف نے اس کی عام صورت کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے۔ طعام کی بدولت انسان کا دل سخت بن جاتا ہے۔ وہ رحم ورِقّت سے عاری ہوجاتا ہے۔ اس لئے آپ نے دنیا کے تین خسیس اثرات کا تذکرہ فرما کر ان سے بچنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (165)
تالیف قلوب
عام لوگوں کا قاعدہ یہ ہے کہ خوشی اور شادمانی کے موقعوں پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ مختلف رسومات ادا کرکے برملا اپنی خوشی ومسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر اسراف وتبذیر کی تمام حدیں پار کرلیتے ہیںاور بھول کر بھی کسی غریب، معذور، مجبور ومحتاج کو یاد نہیں کرتے لیکن خدا رسیدہ لوگوں کے ہاں خوشی وغم کے مواقع آتے ہیں تو وہ نہ اس حد تک خوشی مناتے ہیں نہ غم کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر ستم رسیدہ، محروم، محتاج اور نادار طبقے کے لوگ انہیں یاد رہتے ہیں اور اُن کی ضروریات پوری کرکے انہیں سُکھ پہنچانے کی سعی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ معروف کرخی کا کردار ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اگر چہ یہ قصہ گزر چکا ہے لیکن اس کا اعادہ تجدید ایمانی کا باعث ہوگا۔ جب آپ عید کے روز کھجور چن رہے تھے تو آپ سے پوچھا گیا کہ یہ آپ کیا کررہے ہیں کہ عید کے دن کھجور چن رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک بچے کو روتا ہوا دیکھا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ تم کیوں رو رہے ہو تو اس نے کہا کہ میں ایک یتیم ہوں، میرا ماں باپ کوئی نہیں ہے۔ دوسرے بچوں نے نئے نئے کپڑے پہن رکھے ہیں اور میرا کوئی نیا کپڑا نہیں۔ اور دوسرے بچے تو اخروٹ سے کھیل رہے ہیں میرے پاس اخروٹ بھی نہیں۔ میں اس لئے کھجوریں چن رہا ہوں کہ اسے بازار میں بیچ کر اس کی قیمت سے کپڑے اور اخروٹ خرید کر اسے دوں تاکہ وہ دوسرے بچوں کی طرح خوش ہوجائے اور محرومی کا احساس جاتا رہے۔ اور اس کا ٹوٹا ہوا دل جڑ جائے۔ اور یہی عمل میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انجام دیا ہے۔ (166)
کمالاتِ روحانی
حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ اپنے روحانی، علمی اور عرفانی مراتب میں نہایت باکمال تھے۔ بہت سارے کمالات جن کا ذکر دوسرے عنوانات کے ضمن میں مندرج ہوچکے ہیں۔ ان کی تکرار طوالت کا سبب ہوگی۔ مگر حضرت ابو بکر خیاط کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن خواب میں دیکھا ۔ کہ میں ایک قبرستان میں داخل ہورہا ہوں کہ میں دیکھ رہا ہوںکہ اہلِ قبر اپنی اپنی قبر پر سوار بیٹھے ہیں اور اُن کے سامنے گلِ ریحان کھلے ہیں۔ اُن میں جناب شیخ معروف کرخیؒ بھی ہیں مگر وہ اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے ہیں۔ میں نے حضرت شیخ معروف سے پوچھا کہ اے ابو محفوظ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا کیا؟ تو انہوں نے جواب میں یہ شعر کہا ؎
موت التقی حیات لا نفاد لھا
قدمات قوم وھم فی الناس احیآء
٭- پرہیزگاروں کی موت بھی حیاتِ جاودانی ہے اور کچھ لوگ مرچکے ہیں حالانکہ وہ لوگوں میں زندہ ہیں۔
محمد بن حسن فرماتے ہیں۔ میں نے اپنے والد حسن سے سنا ہے وہ کہا کرتے تھے کہ میں نے حضرت شیخ معروف کرخی کو خواب میں دیکھا۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ فرمایا کہ مجھے بخش دیا۔ میں نے پوچھا زہد وتقویٰ کی وجہ سے؟ فرمایا فقراء کی وجہ سے اور فقراء کو دل سے پسند کرنے کی و جہ سے۔ ایک مرتبہ بازار سے گزررہے تھے۔ دیکھا کہ ایک بہشتی یہ کہہ رہا تھا۔ اے اللہ ! جو میرا پانی پی لے اس کی مغفرت فرما۔ چنانچہ نفلی روزے کے باوجود انہوں نے پانی پی لیا۔ جب لوگوں نے کہا کہ آپ کا روزہ تھا تو فرمایا کہ میں نے بہشتی کی دعا پر پانی پی لیا۔ پھر انتقال کے بعد آپ کو کسی بزرگ نے خوا ب میں دیکھا ۔ تو آپ نے ان کے استغفار پر فرمایا کہ میری بہشتی کی دعا سے مغفرت فرمادی گئی۔ (167)
علامہ ذھبی سیرالنبلاء العلام میں لکھتے ہیں کہ:
علم الزھاد برکۃ العصر، ابو محفوظ البغدادی۔ ابو محفوظ بغدادی کا ارشاد ہے کہ زاہدوں کا علم زمانہ کے لئے باعث برکت ہے۔
مرأۃ الجنان میں عبداللہ بن اسعد الیافعی لکھتے ہیں۔
الولی الکبیر، العارف باللّٰہ الشہیر۔ مظہر الکرامات العلیۃ والاحوال السنیۃ۔ آپ بڑے ولی، اللہ کے مشہورعارف تھے۔ بڑی بڑی کرامات کے مظہر اور بلند احوال کے مالک تھے۔
ان تمام محولات کے علاوہ یقینا حضرت شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ کامل ومکمل انسان اور عارف بے بدل تھے اور نامی گرامی محدث ومبلغ حقیقت تھے۔ آپ روحانی طور پر ان تمام منازل کو طے کرتے ہوئے منزل مقیم کو پاچکے تھے۔ جس طرح دیگر تمام عرفاء اسلام کی طرح آپ کو بھی سکون وتمکنت کی بے پایاں وسعتیں حاصل تھیں اور علم وحکمت کے گرانقدر خزانوں سے حصہ وافر کے مالک تھے۔ ریاضت ومجاہدوں کے جملہ کمالات پر رسائی حاصل کرنے والے، کشف وشہود، فقر وفنا اور سیر الیٰ اللہ کی جولانیاں طے کرنے والے تھے۔ آپ لباس فقر کو پہننے والے وہ حقیقی پیشرو تھے جن کے نقش قدم پر چل کر بڑے بڑے مشاہیرِ اسلام نے فقر وسلوک کی رعنائیاں پالیں اور اَطوارِ سبعہ قلبیہ اور اَنوارِ متنوعیہ غیبیہ سے باخبر اور تمام حقائق ومعارف کے منازل عروج سے ہمکنار ہوگئے تھے۔
ابو منصورخزاز فرماتے ہیں۔ کہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ معروف پانی پر چلتے ہیں، تو میں یہ سمجھتا ہوں اگر کوئی یہ کہے کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے تو وہ سچ کہتا ہے۔(169)
بیان سابق آپ کی کسر نفسی اور اخفائے کمال پر دلالت کرتا ہے مگر مظہر کی تردید نہیں ہے۔
آپ کا عقیدہ
مشاہیر صوفیاء کرام وصلحاء عظام اور اولیاء سلف صالحین کی بڑی تعداد نے ایمان اور اسلام کے ارکان وبنیادوں پر بحث کی۔ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی اَرکانِ اسلام اور بنائے ایمان پر تفصیلات ملتی ہیں۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی نے عوارف المعارف اور رشف النصائح الایمانیہ میں اور حضرت ابو نجیب سہروردیؒ نے آداب المریدین میں حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے ذخیرۃ الملوک اور حضرت شاہ ہمدان نے دعواتِ صوفیہ میں اَرکانِ ایمان اور اَرکانِ اسلام پر قرآن وسنت کی روشنی میں بحث کی ہے۔
اولیاء کرام کی معتدبہ تعداد نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایمان زبان سے اقرار کرنے، دل سے تصدیق کرنے اور اعضاء وجوارح سے عمل انجام دینے اور سنت خیرالانام کی پیروی کے لئے جو اصول منضبط کئے گئے ہیں، اُن پر کاربند رہنا ہے۔ جس کا بزرگانِ سلف نے یوں اظہار فرمایا ہے کہ شریعت میں اقوالِ پیغمبر کو اختیار کرنا۔ طریقت میں افعالِ پیغمبر کو اپنانا۔ حقیقت میں احوالِ پیغمبر پر اعتماد کرنا۔ صوفیاء کرام کے عقیدے کی پرکار ہمیشہ انہی کے گرد گھومتی ہے۔ اس لئے بصد اعتبار لکھا جاتا ہے کہ حضرت شیخ معروف کرخی کے عقیدے میں مظہرات بالا کے علاوہ درج ذیل مفاہیم کے پائے جانے میں کوئی تردد وتامل نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت شیخ معروف کرخی ایک دفعہ کوفہ جارہے تھے۔ ایک منزل پر دیکھا کہ ابن سماک علیہ الرحمہ وعظ کررہے تھے۔ آپ فرماتے ہیں میں بھی اس وعظ میں جو کلماتِ پند ونصائح کے انداز میں تھے ،شریک ہوا۔ آپ بتاتے ہیں کہ ابن سماک علیہ الرحمہ نے اپنے وعظ میں کہا کہ اسلام کی بنیادیں یہ ہیں:۔
کلمہ شہادت: یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول اور بندے ہیں۔
صلوٰۃ الخمس: پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کرنا۔ صوم رمضان: رمضان شریف کے روزے رکھنا۔ زکوٰۃ المال: مال کی زکوٰۃ ادا کرنا۔ حج البیت: استطاعت ہونے کی صورت میں حج بیت اللہ کرنا۔
ایمان کے بنیادی اصول یہ ہیں:۔
میں اللہ اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہوں۔
آپ کہتے ہیں کہ ابن سماک کا کلام میرے دل میں بیٹھ گیا اور میں نے اللہ ربّ العزت کی طرف توجہ کی۔ (170)
یہی وہ کلمات ہیں جنہیںشیخ معروف نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ہاتھوں اسلام قبول کرتے ہوئے سیکھا۔ (171)
حضرت علامہ عبدالرحمان ابن علی بن الجوزی نے مختلف روایات کی روشنی میں لکھا ہے کہ جب کسی نے آپ سے قرآن کریم کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔ واغوثاہ باللّٰہ القرآن کلام اللّٰہ غیر مخلوق۔یا اللہ میری مدد فرما ۔ قرآن تو اللہ کا کلام ہے جو مخلوق نہیں ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ الجبوری نے مناقب المعروف کے حاشیہ میں یہ صراحت کی ہے کہ یہ عقیدہ آپ کا نہیں ہے۔ معتزلہ نے ان کی مخالفت کی ہے ۔یہ بہت بڑا معاملہ ہے اس کے باوجود ہماری تاریخ میں حضرت شیخ معروف کی بڑی تعریف ملتی ہے۔
ضرب المثل ہے۔ العالم العامل المجاہد فیہ۔ یعنی بغداد میں ایک عالم باعمل مجاہد موجود ہے۔ وہ حضرت شیخ معروف کرخی کی ذات گرامی ہے۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں۔ حضرت شیخ معروف کرخی زاہدوں کے امام ہیں۔ انہوں نے اس مسئلہ کے بارے میں یہ اظہار کیا ہے کہ یہ آپ کی طرف منسوب بڑا بہتان ہے۔ ان کا ایسا عقیدہ نہیں تھا کہ قرآن قدیم ہے۔(172)
اس زمانے میں قرآن قدیم ہونے یا حادث ہونے کے بارے میں معتزلہ اور دیگر علماء و فقہائے اسلام کے درمیان اختلاف پایاجاتا تھا۔ بعض کہتے تھے کہ قرآن مجید قدیم ہے اور بعض کہتے تھے کہ قرآن مجید حادث ہے۔ یعنی قرآن مجید کے مخلوق اور غیر مخلوق کا مسئلہ درپیش تھا۔ اس لئے آپ سے بھی یہی پوچھا گیا۔ اس مسئلہ کا حل دراصل یہ ہے کہ معانی ومطالبِ قرآن کے قدیم ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن قرآن کی کتابی شکل وصورت اور بین دفتین (جلدوں کے درمیان) موجود اَوراق، تحریر اور روشنائی حادث ہے ، مخلوق ہے۔
حضرت شیخ معروف کے سلسلہ کا مشہور ومعروف فقیہہ ومتکلم حضرت میر سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ اس مسئلہ کی تمام امکانی صورتوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ جو کوئی قرآن کے قدیم ہونے کا قائل ہے تو ایک اعتبار سے وہ حق بجانب ہے اور جو کوئی قرآن پاک کے حادث ہونے کا قائل ہے تو وہ بھی ایک اعتبار سے درست ہے۔ اور اگر ان دونوں قائلین، دونوں اعتبار سے ہر حالت میں قرآن پاک کو قدیم ہونے یا ہر اعتبار سے حادث ہونے کے قائل ہوئے تو اس صورت میں دونوں بطلان کے مصداق ہیں۔ (173)
واضح ہوا کہ قرآن پاک من وجہ قدیم ہے اور من وجہ حادث۔ حضرت شیخ معروف نے یقینا اس موقع پر (سائل کے جواب میں) قرآن کے معانی ومطالب کے پیش نظر اسے قدیم، غیر مخلوق ہونے کا اظہار فرمایا ہو۔ جبکہ قرآن مجید کے بارے میں آپ کے عقیدہ پر شہادت امام احمد بن حنبلؒ دے چکے ہیں، اُن کو آپ کے عقیدہ کا صحیح علم تھا جوکہ دوسرے اعتبار سے درست ہی ثابت ہوتا ہے۔ یعنی قرآن کی مادی صورت سیاہی، کاغذ اور گتہ وغیرہ کا مجموعہ حادث اور مخلوق ہے۔ اہلِ عرفان وحقیقت کی نظر ہمیشہ معنوی کیفیات پر ہوتی ہے۔ اس لئے یقینا کہا جاسکتا ہے کہ حضرت شیخ معروف نے حقیقت بیانی سے کام لیا ہے۔ ظاہر پرستوں کے عقیدے کے اعتبار سے اس کی شدت سے تردید فرمائی ہے۔ کہ قرآن تو اللہ کا کلام ہے جو مخلوق نہیں ہے۔
وضو کا اہتمام
حضرت شیخ معروف ؒجہاں باطنی طہارت وپاکیزگی کو ضروری اور لابدی سمجھتے تھے وہاں ظاہری پاکیزگی اور صفائی کے گرانقدر فوائد واثرات پر بھی نظر رکھتے تھے۔ آپ کی نظر میں طہارتِ ظاہری کی اتنی اہمیت تھی کہ آپ پل بھر بے وضو رہنے کو گوارا نہیں کرتے تھے۔ اُن کی وضو اور ظاہری طہارت کی جتنی پابندی کرنے کی عادت تھی وہ تزکیۂ نفس کے میدان کا بے مثال سنگ میل معلوم ہوتی ہے۔ جہاں زہد وتقویٰ، عبادت وریاضت میں آپ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ طہارت و وضو کی افادیت وفضیلت کے حصول میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے تھے۔ اس لئے آپ وضو کے سخت پابند تھے۔ یہاں تک کہ آپ کا وضو جائے فراغت پر ہی ٹوٹتا تھا۔ یعنی آپ بے وضو ہونے سے پہلے ہی وضو کیا کرتے تھے بلکہ بعض دفعہ وضو بالائے وضو فرمایا کرتے۔ کیونکہ اہلِ عرفان وتصوف اس بات کے قائل ہیں۔ وہ فضیلت وبرکات کے حصول میں قدرے پیش قدمی سے کام لیتے ہیں اور نیکی میں وہ زیادہ حریص پائے گئے ہیں۔ عبادات میں ان کاطرزِ عمل سیرتِ نبویؐ کا نمونہ ہے۔ اس لئے شیخ معروف کی طہارت اور پاکیزگی کا عمل بھی مثالی اور سبق آموز ہے۔
طبقات السلمی کے حوالے سے علامہ جوزی لکھتے ہیں۔ کہ ایک دن آپ بے وضو ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ آپ کا دریائے دجلہ کے کنارے وضو ٹوٹ گیا۔ تو آپ نے وضو کے لیے جانے کی بجائے تیمم کرلیا پھر وضو کرنے کھڑے ہوگئے۔ جبکہ دریائے دجلہ سامنے ہی بہہ رہا تھا تو کسی نے اس بات پر استفسار کیا کہ حضرت! یہاں تیمم کی کونسی ضرورت درپیش آگئی؟ جبکہ دریا قریب سے بہہ رہا ہے آپ وہاں تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہوسکتا ہے کہ میں وہاں پہنچنے سے پہلے ہی زندگی سے ہار جاؤں اور میں بغیر وضو کے رہ جاؤں۔ اس قصہ سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ معروف پل بھر بے وضو ہونے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ ہر وقت اپنی موت اور خالق حقیقی سے جا ملنے کی تیاری میں مستعد رہتے تھے۔ اور یہ گوارا نہیں فرماتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے بے وضو حالت میں چلا جاؤں۔ (174)
آپ کی نماز
یوں تو حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے بہت بڑے زاہد وعابد گزرے ہیں لیکن ان کی نمازوں کی یہ حالت تھی کہ لوگ آپ کو نوافل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھتے۔ آپ اخفائے عبادت پر سختی سے کاربند رہتے تھے۔ اگر کوئی بغرض آگاہی آپ کی عبادت کے بارے میں مطلع ہونا چاہتا تو آپ اسے موزوں انداز میں اظہار کرکے ٹالنے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر زیادہ اصرار کیا جاتا تو آپ مجبوراً بتادیتے تھے۔ کہیں قلبِ سائل محسوس نہ کر بیٹھے۔ چونکہ آپ کی یہ عادت نہیں تھی کہ کسی کو بلا وجہ ناخوش کرے۔ عبادت واعمال میں آپ کی محنت کا کیا اندازہ کیاجاسکتا ہے۔ جبکہ آپ شب زندہ دار زاہد اور عبادت گزار عابد ہستی تھے۔ آپ کی نمازوں اور نوافل کے بارے میں روایت ہے کہ آپ نمازوں کی امامت نہیں کرتے تھے۔ ہمیشہ دوسروں کو نماز پڑھانے کی تلقین کرتے تھے۔ خطیب بغدادی کے حوالے سے مولوی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ حضرت معروف کرخی بچپن سے ہی بچوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے اور اپنے والدین کو بھی اسلام کی ترغیب دیتے تھے مگر والدین ان کو جھڑک دیا کرتے تھے۔ (175)
ایک دفعہ حضرت شیخ معروف کرخی کے سامنے مؤذن نے اقامت کہی۔ ایک صوفی کو نماز پڑھانے کے لئے آگے کرنے لگے۔ اس نے امامت کرنے سے انکار کردیا۔ اور کہنے لگا مجھے خوف ہے کہ میں نماز پڑھاتے ہوئے مرجاؤں اور لوگوں کی نماز متاثر ہو۔ لوگوں نے اصرار کی اس نے کہا میں اس شرط پر نماز پڑھاتا ہوں کہ دوسری نماز نہ پڑھاؤں گا۔ شیخ معروف کرخی نے کہا۔ اے دوست! پیچھے ہٹ جا تو دیوانہ ہے۔ پہلے تو نماز میں مرجانے سے ڈرتا ہے۔ پھر تیرے دل میں خیال آتا ہے کہ تو دوسری نماز تک زندہ رہے گا، پھرآپ نے دوسرے کسی کو امام بنایا۔ اس نے جماعت کی نماز پڑھائی۔ (176)
ابو نعیم کی روایت کے مطابق علامہ جوزی لکھتے ہیں کہ عبید بن محمد الوراق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ معروف کو کبھی نفل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مگر صرف جمعہ کے دن ہلکی سی دو رکعتیں۔ آپ فرماتے ہیں جو شخص نماز مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل پڑھ لے تو اس بندے کی چالیس سال کی خطائیں معاف کی جائیں گی۔(177)
یہ چھ رکعات نماز اوّابین کی نیت سے پڑھی جاتی ہے۔ فرمانِ رسالت کے مطابق اس نماز کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہے۔ آدمی کے گناہ بخشے جائیں گے۔ اگر چہ سمندروں کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ پاک جنت میں دو ایسے محل عطا فرمائے گا کہ اگر پورے پورے دنیا والے جمع ہوں تو ایک محل میں ہی سما سکیں گے۔ اس نماز کی بدولت انسان سے دن کی روشنی میں جو بے اعتدالیاں سرزد ہوتی ہیں وہ نامہ اعمال سے مٹادی جاتی ہیں۔ (178)
روز ے کی پابندی
ایسے ہی کسی نے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو بھی آپ نے بطور احتراز اپنے روزوں کے بارے میں اطلاع دینے سے گریز کرنے کی کوشش کی۔ آپ ہمیشہ روزے سے رہتے تھے اور راتیں نمازیں پڑھ کر گزارتے تھے۔ اس کے باوجود عبادات کے اخفا کے سلسلہ میں کوتاہی نہ کرتے تھے۔ کسی کے اصرار پر آپ فرماتے ہیں۔ میں ہمیشہ سے روزہ رکھنے کا عادی تھا مگر کوئی شخص میری دعوت کرتا تو میں کھانا کھالیتا تھا اور میں یہ نہیں کہتا تھا کہ میں روزے سے ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ بھوک کو پسند کرتے تھے بعض بزرگوں نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ آپ نے روزے کو مخفی رکھنے کے بھی ثواب بتائے اور اس کے تحت عبادات میں اخفا کے عمل سے کام لیتے تھے۔ اور اسی حالت میں روزے توڑ کر کھائے بھی مگر ایسے روزوں کو جو توڑ دیئے گئے ہوں ان کی نیت سے پھر روزہ رکھے تو اس کا بھی اجر وثواب بیان فرمایا ہے۔
علامہ جوزی لکھتے ہیں ۔ کہ بعض شیوخ نے بیان کیا ہے کہ وہ حضرت معروفؒ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کے بھائیوں میںسے کوئی ایک آدمی آیا اور سلام کرنے کے بعد بیٹھ گیا تو اسے شیخ معروفؒ نے کہا کہ اگر تم پسند کرتے ہو تو میں عصیدہ( ایک قسم کا کھانا جو گھی اور آٹا ملا کر پکایا جاتا ہے) تمہیں کھلاؤں۔ اس آدمی نے کہا اے ابا محفوظ! میرا روزہ ہے۔ حضرت معروف ؒ نے فرمایا۔ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ جس نے ایک دن روزہ رکھا پھر کسی مسلمان بھائی سے پردہ پوشی کے لئے روزہ توڑ ڈالا تو اس کو ایک ہزار دنوں کے روزوں کا ثواب مل جاتا ہے، پھر اگر وہ اس کھائے ہوئے روزے کی نیت سے پھر ایک روزہ رکھتا ہے تو اسے دو ہزار دنوں کے روزے کا ثواب مل جاتا ہے۔ (179)
حج بیت اللہ
غوث المتاخرین حضرت میر سید محمد نوربخش قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ چند بار بیت اللہ کی زیارت کے لئے گئے اور ساری زندگی کی مدت میں ریاضت ومجاہدات کا شغل رکھا اور دین کے قواعد جاری کرنے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے اور اہلِ ظواہر کی خشکی کو تابع کرلیتے تھے اور آپ مشہور مستجاب الدعوات تھے۔ (180)
آپ کے حج اور اسفار پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ چونکہ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ بغداد میں ہی گزرا اور وہیں عبادات وریاضت اور بیعت وارشاد کے ذریعے خلق خدا کی رہنمائی فرماتے رہے۔ آپ پر لکھنے والوں نے ابھی تک ان ممالک اور علاقوں کی تفصیل نہیں لکھی۔ جہاں سے آپ نے کبھی گزر فرمایا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کہ حضرت شیخ معروفؒ کو جہانِ معنوی کی گہری سیاحت نے دنیائے دنی کی ظاہری سیاحت سے باز رکھا۔ ذکر و فکر اور خلوت نشینی میں ہی انہوں نے خوب عافیت دیکھی۔ حج کے اسفار میں جن علاقوں سے گزر کر مدینہ منورہ اور حجاز مقدس کو جانا ہوتا تھا۔ ظاہر ہے انہوں نے ان شہروں کو ضرور دیکھا ہے اور نظریہ طریقت کی سیاحت کو بھی بڑی خوبی سے انجام دیا ہے اور حضرت امام رضا ؑ کی خدمت بھی۔ لہذایقین کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے کرخ اور حجاز مقدس کے راستے میں آنے والے مواضع کا ضرور نظارہ کیا ہوگا۔ چونکہ آپ نے چند بار حج کا سفر کیا ہے لہذا انسانی تجسس وتحقیق کا یہی اصول بھی ہے کہ وہ ہر بار نئی چیز کو دیکھنے اور نئے راستے سے گزرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ممکن ہے اس طرح انہوں نے مختلف شہروں کی سیاحت کی ہو۔ لیکن ایک صوفی منش شخصیت سے یہ بھی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ منزل ومرادِ حقیقی کی نسبت ظاہری منازل ومقاصد کی طرف چنداں رغبت نہ رکھے۔ اس لئے ان کے اسفار میں سیر وسیاحت کا ذکر نہیں ملا۔ اسفارِ حج کے علاوہ آپ حضرت امام علی رضاؑ کی خدمت کی خاطر کرخ اور بغداد سے طوس، خراسان، تہران وغیرہ گئے۔