مذہب ِ صوفیہ کا تعارف
نوربخش ؒ کا اعتقادی دبستان
صوفیہ نوربخشیہ کے اصول ِدین
اصول ِ عقائد کی تشریح
نوربخش ؒکا فقہی دبستان
فقہ اسلامی کی تاریخ اور فقہ الاحوط کا خصوصی امتیاز
الفقہ الاحوط کے چیدہ مسائل
احکامِ اصول وفروع کا تقابلی مطالعہ
حوالہ جات

مذہب ِ صوفیہ کا تعارف


نوربخشیہ اگرچہ دیگر سلاسل ِتصوّف کی طرح ایک سلسلہ ٔ تصوف ہے لیکن اس کی انفرادی اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس سلسلے کے مؤسس غو ث المتاخرین سید العارفین شاہ سیّد محمد نوربخش قہستانی ؒ نے ایک مستقل فقہی دبستان کی بنیاد ڈالی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اہل ِ اسلام کے درمیان موجود اصولی اور فروعی اختلافات کو ختم کرکے شریعت ِ محمدیہﷺ کو بعینہٖ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ خود حضور نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارک میں تھی اور اس دین میں پیدا ہونے والی جملہ بدعتوں کا خاتمہ کیا ہے ۔ چنانچہ نوربخشؒ نے ایک عارف اور صوفی کے علاوہ ایک فقیہ اور مصلح کا کردار بھی ادا کیا۔ نوربخشؒ نے اپنی تصانیف میں اپنا مذہب صوفیہ قرار دیا ہے ۔ دوسری طرف نوربخشؒ کے سلسلہ ٔ تصوف یعنی سلسلۃ الذھب کے تمام بزرگان ِ سلف بھی مذہبِ صوفیہ ہی سے وابستہ تھے چنانچہ تقریباً جملہ تذکرہ نگاروں نے انہیں صوفیاء میں شمار کیا ہے ۔ یوں مذہب ِ صوفیہ ایک ایسے مکتبِ فکر کی حیثیت سے سامنے آتا ہے جس میں دین کے ظاہری پہلوؤں کے ساتھ ساتھ باطنی پہلوؤں پر بھی خصوصی طور پر ز ور دیا گیا ہے اور تعصّب اور تنگ نظری کی بجائے وسیع المشربی اور انسان دوستی کو شعار بنا یا گیا ہے ۔ اسی وسیع المشربی اور وسعت ِ قلبی کا نتیجہ ہے کہ اس گروہ کے اکابرین کو کوئی محقق بھی کسی خاص فرقے کا پابند قرار نہیں دے سکا جبکہ دوسری طرف ہر فرقے کے ماننے والے ان کے کردار کی خوبیوں اور روشن تعلیمات کی وجہ سے انہیں اپنے فرقے اور مکتب ِ فکر کے پیرو قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آتے ہیں ۔
کچھ محققین تصوف کو دوسری صدی ہجری کی ایجاد قرارد یتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اس کی تعلیمات روحِ اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ یہ انسان کو ترکِ دنیا اور رہبانیت سکھاتا ہے ۔ یہ انداز ِ فکر ان نام نہاد محققین کی سطحی سوچ اور تاریخ سے نابلد ہونے کا نتیجہ ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ تصوف زمانہ ٔ قبل از اسلام کے مذاہب میں بھی رائج تھا اور یونانی ، یہودی ، عیسائی اور چینی تصوف میں بھی تحقیقِ ذاتِ حق میں سعی و کاوش کی گئی ہے ۔ بالفاظ ِ دیگر ہر مذہب تصوف ہے یا تصوف پر مبنی ہے ۔

(1) اگر قرآن و سنت کی تعلیمات کو عمیق نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تصوّف کا ماخذ خود قرآنِ حکیم اور سنت ِ نبویﷺ ہیں اور یہ کہ اہلِ تصوّف کے سردار خود سرورِ کائنات حضرت نبی کریم ﷺ ہیں ۔ تصوّف کا لفظ بطور اصطلاح کے بعد کی پیداوار ہونا ممکن ہے لیکن حضور پاک ﷺ کی بعض ایسی احادیث بھی ہم تک پہنچی ہیں جن میں تصوّف کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تصوّف دین کا بنیادی ستون ہے ۔ اور اس دعویٰ کی دلیل وہ مشہور اور متفق علیہ حدیث نبوی ﷺ ہے جو حدیثِ جبریلؑ کے نام سے مشہور ہے اور جسے تمام مشہور کتب ِ احادیث کے علاوہ شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ نے اپنی شہرہ ٔ آفاق کتاب ’ذخیرۃ الملوک‘ میں اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے’غنیۃ الطالبین ‘ میں بھی نقل فرمایا ہے۔

(2) ذیل میں ہم صحیح بخاری سے اس حدیث کو نقل کرتے ہیں:
حدّثنا مسدّد قال حدّثنا اسماعیل بن ابراھیم اخبرنا ابو حیّان التّمیّ عن ابی زرعۃ عن ابی ھریرۃ قال کان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم بارزًا یّومًا للنّاس فاتاہ رجل’‘ فقال مالایمان قال الایمان ان تؤمن باﷲ و ملٰئکتہٖ و بلقآئہ (3) ورسلہٖ و تؤمن بالبعث(4) قال مالاسلام قال الاسلام ان تعبداﷲ ولا تشرک بہٖ و تقیم الصّلوٰۃ و تؤدّی الزّکوٰۃ المفروضۃ و تصوم رمضان قال مالاحسان قال ان تعبداﷲ کانّک تراہ’‘ فان لّم تکن تراہ فانّہ‘ یراک قال متی السّاعۃ قال ما المسئول باعلم من السّائل و ساخبرک عن اشراطھا اذا ولدت الامۃ رتبھا و اذا تطاول رعاۃ الابل البھم فی البنیان فی خمس ٍ لاّ یعلمھنّ الاّ اﷲ ثمّ تلا النّبیّ صلی اﷲ علیہ وسلم ان اﷲ عندہ‘ علم السّاعۃ الاٰیۃ ثمّ ادبر فقال ردّوہ فلم یروا شیئاً فقال ھذا جبریل جآء یعلم النّاس دینھم قال ابو عبداﷲ جعل ذالک کلّہ‘ من الایمان
’’ ہم سے بیان کیا مسدد نے کہا ہم سے بیان کیا اسماعیل بن ابراہیم نے کہا ہم کو خبر دی ابوجبان تیمی نے انہوں نے ابوزرعہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے انہوں نے کہا ( ایسا ہوا ) ایک دن آنحضرت ﷺ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اﷲ اور اس کے فرشتوں کا اور اس سے ملنے کا اور اس کے پیغمبروں کا یقین کرے اور مر کر جی اٹھنے کو مانے ۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ اﷲ کو پوجے ۔ اس کے ساتھ شرک نہ کرے اور نماز کو ٹھیک کرے اور فرض زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ اس نے پوچھا احسان کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے اﷲ کو ایسا دل لگا کر پوجے جیسا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے ۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو خیر اتنا خیال رکھ کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے ۔ اس نے کہا قیامت کب آئے گی ؟ آپﷺ نے فرمایا جس سے پوچھتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا اور میں تجھ کو اس کی نشانیاں بتلائے دیتا ہوں جب لونڈی اپنے میاں کو جنے اور جب کالے اونٹ چرانے والے لمبی لمبی عمارتیں ٹھونکیں ( بڑے امیر بن جائیں ) قیامت( غیب کی ان ) پانچ باتوں میں ہے جن کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ پھر آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی بے شک اﷲ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی اخیر تک پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کو پھر ( میرے سامنے ) لاؤ( لوگ گئے ) تو وہاں کسی کو نہیں دیکھا تب آپﷺ نے فرمایا یہ جبریلؑ تھے لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ امام بخاری نے کہا کہ آنحضرتﷺ ان سب باتوں کو ( دین کہہ دیا ) ایمان میں شریک کر دیا ۔ ‘‘ (5)
احوال و آثار میر سید محمد نوربخشؒ کے زیر ِنظر باب میں ہم حدیث ِ جبریل ؑ کے دو اہم اجزاء یعنی ایمان اور اسلام کا تعلیمات ِ نوربخش ؒ کی روشنی میں تفصیلی جائز ہ لیں گے ۔ لیکن اس باب کے تعارف کے ضمن میں ہم اس حدیث کے تیسرے اہم جزو یعنی ’ احسان ‘ پر پہلے بحث کریں گے جو تصوّف و عرفان کا ہم معنی ہے ۔
دور جدید کے ایک نہایت نامور اور روشن خیال اہلِ علم پروفیسر حمیداﷲ خان جو پیرس میں مقیم ہیں اور اسلام کی ابدی تعلیمات سے اہل ِیورپ کو روشناس کرانے میں مصروف ہیں حدیث ِجبریلؑ کے اس تیسرے جزو یعنی احسان کے متعلق فرماتے ہیں ’’ احسان کے لفظی معنی کسی چیز کو حسن عطا کرنا اور خوبصورت بنا دینا ہے ۔ زندگی کے ہر کام کو سنوارنے اور طریقے سے انجام دینے کو احسان کہتے ہیں ۔ مذہبی اصطلاح میں احکام ِ الہٰی کو سچے دل سے قبول کرنا اور عبادت میں خلوص پیدا کرنا احسان ہے ۔ اسی اخلاص کو ہمارے اسلاف نے ’’ سلوک ‘‘ اور ’’ طریقت ‘‘ کا نام دیا ہے ۔ سلوک اور طریقت دونوں کے معنی ہیں ’ راستہ چلنا ‘ اور راستے سے مراد یہاں اﷲ کی طرف لے جانے والا راستہ ہے ۔ بعد میں اسی مفہوم کے لئے ’’ تصوّف ‘‘ کا لفظ استعمال ہونے لگا ۔ تصوّف کی وجہ تسمیہ بیان کرنے میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں جن کا ذکر باعث ِ طوالت ہے ۔ البتہ رسولِ کریم ﷺ نے احسان کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس کا ذکر ضروری ہے ۔ رسول کریم ﷺ کا جواب اپنے اختصار اور معنی کی گہرائی کے لحاظ سے معجز بیانی ہے ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اﷲ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم سے کم اس طرح عبادت کرو کہ گویا اﷲ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ بالفاظ دیگر حضورِ خداوندی کا تصور انسان اپنے اندر اس طرح لائے کہ اسے اﷲ اپنے سامنے محسوس ہو گویا کہ وہ اس کے ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے ۔ اگر ہم اپنے اندر حضورِ خداوندی کے تصوّر کو اتنا ترقی دے لیں کہ یہ تصوّر ہماری پوری شعوری زندگی پر حاوی ہو جائے تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہ قطعاً ناممکن ہوگا کہ ہم اﷲ کے احکام سے انحراف کریں۔ یہ ہے تصوّف کا خلاصہ باقی سب چیزیں ذیلی ہیں ۔ ‘‘ (6)
اس حدیثِ شریف کی مزید تشریح حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش ہونے والے قبیلہ اشعریہ کے اس وفد کے حال سے بھی ہوتی ہے جس کا ذکر قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اپنی مشہور کتاب ’ رحمۃاللعالمینﷺ‘ میں کیا ہے ۔ روایت ہے کہ یمن کے قبیلہ اشعریہ کا ایک وفد حضور پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کی آمد پر حضورﷺ نے فرمایا کہ اہل ِ یمن آئے جن کے دل نہایت نرم اور ضعیف ہیں ۔ ایمان یمنیوں کا ہے ، حکمت یمنیوں کی ہے اور مسکنت یمنیوں کی ہے اور مسکنت بکریوں والو ں میں اور فخرو غرور اونٹوں والوں میں ہے ۔ جب یہ وفد جو سات اشخاص پر مشتمل تھا حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان کی وضع قطع کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم مؤمن ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے بتاؤ تمہارے قول اور ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟
انہوں نے کہا کہ ہم پندرہ خصلتیں رکھتے ہیں:
پانچ وہ ہیں جن پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔
پانچ وہ ہیں جن پر عمل کرنے کا حکم ہمیں آپ ﷺ کے بھیجے ہوئے لوگو ں نے دیا ہے ۔
پانچ وہ ہیں جن پر ہم پہلے سے پابند ہیں ۔
پانچ وہ باتیں جن پر ہم ایمان رکھتے ہیں وہ یہ ہیں اﷲ پر ایمان ،اﷲ کے فرشتوں پر ایمان ، اﷲ کی کتابوں پر ایمان ، اﷲ کے رسولوں پر ایمان ، اور مرنے کے بعد جی اٹھنے یعنی یوم ِ آخرت پر ایمان ۔
پانچ باتیں جن پر عمل کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہیں ۔
لا الہ الا اﷲ کہنا ، پانچ وقت کی نمازوں کو قائم کرنا ، زکواۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا اور جسے راہ کی استطاعت ہو اس کے لئے بیت اﷲ کا حج کرنا ۔
پانچ باتیں جو ہمیں پہلے سے معلوم ہیں وہ ہیں آسودگی کے وقت شکرکرنا ، مصیبت کے وقت صبر کرنا ، قضائے الٰہی پر رضامند ہونا ، امتحان کے مقامات میں راست بازی پر قائم رہنا اور اعداء کو شماتت نہ دینا ۔
رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جنہوں نے ان باتوں کی تعلیم دی وہ حکیم و عالم تھے اور ان کی دانشمندی سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ انبیاء تھے ۔ اب میں تمہیں پانچ چیزیں اور بتا دیتا ہوں تاکہ پوری بیس خصلتیں ہو جائیں۔
… وہ (چیز) جمع نہ کرو جسے کھانا نہ ہو۔
…وہ مکان نہ بناؤ جس میں بسنا نہ ہو ۔
…ایسی باتوں میں مقابلہ نہ کرو جنہیں کل کو چھوڑ دینا ہو۔
…خدا کا تقویٰ رکھو جس کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور جس کے حضور پیش ہونا ہے ۔
…ان چیزوں کی رغبت رکھو جو آخرت میں تمہارے کام آئیں گی اور جہاں تم ہمیشہ رہو گے۔ (7)
اہل علم و دانش سے یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی کہ حدیث ِ جبریل ؑ کی طرح مندرجہ بالا واقعے میں بھی ایمان ، اسلام اور تصوّف کا مکمل خلاصہ موجود ہے ۔
دین ِ اسلام کے عمیق مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید اوراحادیث نبوی ﷺ تصوّف کی تعلیمات سے معمور ہیں اور خود رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیاں عملی تصوّف کا حسین ترین نمونہ تھیں ۔ ذیل میں پہلے ہم تبرکاً کچھ آیات کریمہ اور احادیث کو نقل کریں گے اور پھر اصحاب النبی ﷺ اور آلِ اطہار ؑکی مبارک زندگیوں سے تصوّف کے عملی نمونے بھی پیش کریں گے تاکہ میر سید محمد نوربخشؒ کے مسلک یعنی صوفیہ نوربخشیہ کا سیرحاصل تعارف ہو سکے ۔
عہدِ حاضر کے معروف ایرانی عالم ِ دین حضرت آیت اﷲ شہید مطہریؒ نے اس موضوع پر نہایت پرمغز گفتگو فرمائی ہے ۔ آپ لکھتے ہیں ’’ اہل ِ عرفان اور غیر عارفوں خصوصاً فقیہوں کے درمیان اختلاف کا ایک بنیادی سبب شریعت ، طریقت اور حقیقت کے بارے میں عارفین کا مخصوص نظریہ ہے ۔ اہل ِعرفان یعنی صوفیاء کا عقیدہ ہے کہ ’’ شریعت ‘‘ کا باطن ’’ طریقت ‘‘ ہے اور اس کی انتہا ء ’’ حقیقت ‘‘ ہے ۔ ان کے نزدیک شریعت طریقت تک پہنچنے کا ذریعہ یا طریقت کا چھلکا ہے جس کے مقابلے میں طریقت کی حیثیت مغز کی ہے ۔ اسی طرح طریقت حقیقت تک رسائی کا ذریعہ یعنی چھلکا ہے اور اس کے مقابلے میں حقیقت کی حیثیت مغز کی ہے ۔ (8)
بایں ہمہ کچھ مستشرقین کا بے جا اصرا رہے کہ عرفان وتصوّف کے لطیف اور دقیق خیالات دنیائے اسلام میں باہر سے در آئے ہیں۔ بعض ان خیالات کا ماخذ عیسائی رہبانیت کو ، بعض اسلام کے خلا ف ایرانی ردّ ِ عمل کو اور بعض نوافلاطونی فلسفہ کو قرار دیتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تصوّف اسلامی قرآن اور حدیث کی تعلیمات سے ماخوذ ہے ۔ چنانچہ اس ضمن میں قرآن کریم کی صرف چند آیات کا حوالہ کافی ہوگا ۔ عقیدہ ٔ توحید کی ذیل میں ارشاد خداوندی ہے۔
۱۔ فَایْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہَ اﷲ ِج( البقرہ ۱۱۵)
’’جدھر تم منہ کرو اُدھر ہی خدا کا چہرہ ہے ۔ ‘‘
۲۔ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لاَّتُبْصِرُوْنَ O( الواقعہ ۸۵)
’’اور ہم تم سے زیادہ تمہارے نزدیک ہیں اور اگرچہ تم دیکھ نہیں سکتے ۔ ‘‘
۳۔ ھُوَالْاَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ الْبَاطِنُ (الحدید ۳)
’’وہ سب سے اول ہے اور سب سے آخر اور وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ۔ ‘‘
یہ بات واضح ہے کہ ان آیات کریمہ میں جس توحید کا تصور دیا گیا ہے وہ عوام الناس کی توحید سے کہیں بہتر اور برتر توحید کا تصور ہے ۔ ‘‘ (9)
اب تصوّف کے دیگر اجزائے ترکیبی کے بارے میں ارشادات ِ خداوندی ملاحظہ کیجئے ۔
۲۔ تزکیہ ٔ نفس:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا O وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَاO (الشمس ۹، ۱۰)
’’جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ یقینا فلاح پا گیا اور جس نے اس کو خاک میں دبا دیا وہ یقینا نامراد ہوا ۔ ‘‘
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلَّیٰ (الاعلیٰ ۱۴، ۱۵)
’’بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے آپ کو پاک کر لیا اور اپنے رب کا ذکر کرتا رہا اور پھر نماز پڑھتا رہا ۔ ‘‘
۳۔ محبت اور عبادت:
وَمَا خَلَقْتَ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(الذّاریات ۵۶)
’’میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں اور میری معرفت حاصل کریں ۔ ‘‘
اِنَّ مِنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ ( الاسراء ۴۴)
’’ کوئی چیز ایسی نہیں جو اﷲ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد نہ کرتی ہو ۔ ‘‘
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اﷲُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاﷲُ غَفُوْر’‘ الرَّحِیْم’‘ ( آل عمران ۳۱)
’’ کہہ دیجئے ( اے رسول ) اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اﷲ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اﷲ مغفرت کرنے والا اور رحم والا ہے ۔ ‘‘
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدَّ حَبّاً ِﷲِ (البقرہ ۱۶۵)
’’ایمان والے اﷲ سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘
۴۔ اخلاص فی النیت و العمل:
فَادْعُوْا اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدّیِْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَO(الغافر ۱۴)
’’پس اﷲ کے لئے اپنا دین خالص کر کے دعا مانگو ، اگرچہ کافروں کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘
قُلِ اﷲَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہ‘ دِیْنِیْ O ( الزمر ۱۴)
’’کہہ دیجئے میں ا ﷲ کی پرخلوص عبادت کرتا ہوں ۔ میرا دین اسی کے لئے ہے ۔ ‘‘
قُلْ اِنّیِْ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاﷲَ مُخْلِصًا لَّہُ الدّ ِیْنَO (الزمر۱۱)
’’کہہ دیجئے مجھے اﷲ کی پرخلوص بندگی پر مامور کیا گیا ہے ۔ ‘‘
۵۔ صبر :
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا الصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا وَ تَّقُوْا اﷲَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ( آل عمران ۲۰۰)
’’اے ایمان والو صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔ ‘‘
وَاﷲُ یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ ( آل عمران ۱۴۶)
’’اور اﷲ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ‘‘
یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوٰۃِ ج اِنَّ اﷲَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ( البقرہ ۱۵۳)
’’اے ایمان والو صبر اور نماز کے ساتھ تعاون کرو بے شک اﷲ صابروں کے ساتھ ہے ۔ ‘‘
وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا (الطور ۴۸)
’’اور اپنے رب کے حکم پر صبر کرو کیونکہ تو ہمارے روبروہے ۔ ‘‘
۶۔ترکِ محبت ِ دنیا :
اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَۃَ الْحَیَوٰۃِ الدُّنْیَا وَ الْبَٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْر’‘ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَاباً وَ خَیْر’‘ اَمَلاَ O ( الکھف ۴۶)
’’مال اور اولاد دنیاوی حیات کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی شے تو نیک اعمال ہیںجن کا تیرے رب کے ہاں بہتر بدلہ اور توقع ہے ۔‘‘
وَ یْل’‘ لِّکُلّ ِھُمَزَۃٍ الُّمَزَۃِ 0 الخ (الھمزۃ )
’’اور ہلاکت ہے ہر طعنے دینے اور عیب جوئی کرنے والے کے لئے جو مال کو جمع رکھتا ہے اور اس کو گنتا رہتا ہے ۔ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا ۔ خبردار اسے حطمہ میں جھونکا جائے گا اور تمہیں کیا معلوم حطمہ کیا ہے ؟ اﷲ کی بھڑکا ئی ہوئی آگ ہے جو دلوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ ‘‘
وَمَاالْحَیَوٰۃِ الدّنِیْاَ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْر( آل عمران ۱۸۲)
’’اور دنیا کی زندگی سوائے فریب کاری کی پونجی کے کچھ نہیں ۔ ‘‘
وَمَا الْحَیَوٰۃِ الدُّنْیَا اِلاَّ لَعِب’‘ وَّ لَھْو’‘ (الانعام ۳۲)
’’ اور دنیا کی زندگی لہو و لعب کے علاوہ کچھ نہیں۔ ‘‘
وَالْآخِرَۃُ خَیْر’‘ وَّ اَبْقَیٰ ( الاعلی۱۷)
’’اور آخرت ہی زیادہ اچھی اور زیادہ باقی رہنے والی چیزہے ۔ ‘‘
مَا عِنْدَ کُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اﷲِ بَاق ٍ(النحل۹۶)
’’ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور جو کچھ اﷲ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ ‘‘
۷۔ ذکر:
وَاذْکُرْ رَبَّکَ کَثِیْراً وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاَبْکَارِO ( آل عمران۴۱)
’’اور اپنے رب کا بہت ذکر کرو اور صبح و شام تسبیح پڑھا کرو۔ ‘‘
فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ وَ اشْکُرُوْلِیْ وَ لَا تَکْفُرُوْنِ ( البقرہ ۱۵۲)
’’پس میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور کفرانِ نعمت نہ کرو۔ ‘‘
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ذْکُرُوْا اﷲَ ذِکْرًا کَثِیْرًا وَّ سَبّحُِوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاًO ( احزاب۴۲)
’’اے ایمان والو تم ذکر کرو اﷲ کا بہت زیادہ اور اس کی تسبیح پڑھو صبح و شام ۔ ‘‘
ُاَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ قِیَاماً وَّ قُعُوْداً وّ َعَلَیٰ جُنُوْبِھِم(آل عمران ۱۹۱)
’’ جو لوگ کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے اﷲ کا ذکر کرتے ہیں ‘‘
۸۔ توکّل:
وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیّ ِالَّذِیْ لاَ یَمُوْتُ(الفرقان ۵۸)
’’اور بھروسہ کراس زندہ ( ذات ) پر جس کو موت نہیں۔ ‘‘
وَعَلَی اﷲِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ( آل عمران ۱۶۰)
’’اور اﷲ ہی پر مؤمنوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ ‘‘
۹۔ تقویٰ :
لَنْ یَّنَالُ اﷲَ لُحُوْمُھَا وَلاَ دِمَآؤُھَاوَ لٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ج ( الحج ۳۷)
’’اﷲ کو اس ( قربانی ) کے گوشت یاخون سے سروکار نہیں بلکہ اسے تو تمہارے تقویٰ سے سروکار ہے ۔ ‘‘
وَلِبَاسُ التَّقْویٰ ذَالِکَ الْخَیْر’‘ ( الاعراف ۲۶)
’’اور تقویٰ کا لباس بہتر لباس ہے ۔ ‘‘
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُوا اتَّقُوااﷲَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَO (آل عمران ۱۰۲)
’’اے ایمان والو اﷲ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہو کر ہی مرنا ۔ ‘‘
وَتَزَوَّدُوْ فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَیٰ ج وَ اتَّقُوْنِ یَآ اُوْلِی ا لْاَلْبَابِ ( البقرہ ۱۹۷)
’’اور زاد راہ لو ۔ بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ٰ ہے اور اﷲ سے ڈرو اے عقل والو۔ ‘‘
۱۰۔ قربِ الہٰی:
نَحْنُ اَقْرَبُ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد (ق ۱۶)
’’ہم شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں ۔ ‘‘
وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ وَاﷲَ بِمَا تَعْلَمُوْنَ بَصِیْر’‘ ( الحدید۴)
’’تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔ ‘‘
وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اﷲِ وَھُوَ مَعَھُمْ ( النساء ۱۰۸)
’’اور خدا سے نہیں چھپاتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ‘‘
قَالَ لاَ تَخَافَا اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَاَرَیٰ ( طہ۴۶)
’’فرمایا تم ڈرو نہیں میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ ‘‘
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ فَاِنّیِْ قَرِیْب’‘( البقرہ ۱۸۶)
’’اور جب ہمارے بندے تم سے ( ہمارے بارے میں ) دریافت کریں تو ( کہہ دو) کہ ہم ان کے پاس ہیں ۔ ‘‘
وَکَانَ اﷲُ بِکُلّ ِشَیْئٍ مُّحِیْطًا( النساء ۱۲۶)
’’اور سب چیزیں اﷲ ہی کے قابو میں ہیں۔ ‘‘
وَمَا تَکُوْنَ فِیْ شَاْن ٍ وَمَا تَتْلُوْا مِنْہُ مِنْ قُرْآن ٍ وَلاَ تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَل ٍاِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُہُوْدًا اِذْ تَفِیْضُوْنَ فِیْہْ ( یونس۶۱)
’’ تم کسی حال میں بھی ہو اور قرآن کی کوئی سی آیت پڑھ کر سناتے ہو اور تم کوئی سا بھی عمل کرتے ہو۔ ہم ہمہ وقت تم کو دیکھتے رہتے ہیں ۔ ‘‘
۱۱۔ نفس ِ مطمئنہ:
یَا اَیُّھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ O اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبّکِ رَاضِیَۃ ً مَّرْضِیَّۃًO فَادْخُلِی فِیْ عِبَادِیْO وَادْخُلِیْ جَنَّتِیO (الفجر ۲۷۔۳۰)
’’اے مطمئن نفس واپس چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو ۔ پس میر ے خاص بندو ں میں شامل ہو جااور میری جنت میں داخل ہو جا۔‘‘
۱۲۔ اوصاف ِ اولیاء اﷲ :
اَلآ اِنَّ اَوْلِیَائَ اﷲِ لَا خَوْف’‘ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَO (یونس ۶۲)
’’آگاہ رہو اولیاء اﷲ پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ۔ ‘‘
سَنُرِیَھُمْ اٰیٰتِنَا فِیْ الاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّیٰ یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقّ (فصلت۵۳)
’’ ہم ان کو اطراف ِ عالم میں اور ان کے نفسوں میں نشانیاں دکھا دیں گے یہاں تک کہ وہ پکار اٹھیں کہ تحقیق ِحق یہی ہے۔ ‘‘
مشتے از خرمنے کی مثال قرآن مجید کے چند صوفیانہ مضامین پیش کر دیئے گئے ۔
اب آئیے دیکھیں سیرت ِنبویؐ میں رنگِ تصوّف کس طرح کارفرما نظر آتا ہے ۔ کیمبرج کے پروفیسر اے جے آربیری لکھتے ہیں ۔
’’ زہد و ریاضت جو صوفیانہ تربیت کے لئے ضروری ہے و ہ نہ صرف حضرت محمد مصطفیﷺ کی سیرت طیبہ کا حصہ تھی بلکہ آپﷺ کے کئی صحابہ بھی ان صفات سے متصف تھے ۔ اسلام کے ابتدائی دور میں بھی جب اسلامی فتوحات اپنے عروج پر تھیں اور روم اور ایران جیسی عظیم سلطنتوں کے زیر نگین آنے کے بعد مسلمانوں کے دنیوی مال و اسباب میں بے حد اضافہ ہوا تھا ، راسخ العقیدہ مسلمان صحرا کی کٹھن اور سادہ زندگی چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور ان کا صوفیانہ مزاج قائم رہا ۔ یہ حال سردارانِ عرب کا تھااور عوام الناس ان کی تقلید کو قابل ِ فخر سمجھتے تھے ۔ لیکن رفتار ِ زمانہ کے ساتھ یہ کیفیت بہت دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ جب فتوحات کا سلسلہ مزید وسیع ہوا اور انتظام و انصرام سلطنت کے امور پیچیدہ تر ہو گئے تو مسلمانوں کے زہدو تقویٰ پر دنیاداری کا رنگ غالب آنا شروع ہوگیا ۔ آٹھویں صدی کے اواخر میں پرہیزگار مسلمانوں نے ، جو تمام تر ابتلا ء اور آلائش دنیوی کے باوجود اسلام کی حقیقی روح سے وابستہ تھے اپنے آپﷺ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں اکٹھا کرنا شروع کیا تاکہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مشترکہ مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کریں ۔ ان لوگوں نے مادی آسائشوں کی دوڑ سے لاتعلقی اختیار کر کے اون پہننا شروع کیا اور یوں صوفی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ یہ تحریک اسلامی سلطنت کے مختلف حصوں میں بیک وقت مقبول ہوئی لیکن صوفیہ تحریک کی ابتداء دراصل خود پیغمبراسلامﷺ کے زمانہ ٔ مبارک میں ہو چکی تھی جنہوں نے اپنے چچازاد اور داماد حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کو اپنا خرقہ عطا فرمایا اور تمام اسرارِ روحانی سے آگاہ فرمایا اور علم اور حکمت عطافرمائی ۔ حضرت علیؑ نے یہ خرقہ اور روحانی ورثہ اپنے چند مریدین کو عطا فرمایا اور یوں وہ روحانی سلسلے شروع ہوئے جن کی وساطت سے حقیقت کا علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ۔ دوسری نمایاں ترین شخصیت حضرت سلمان فارسی ؓ کی ہے جن کا تعلق فارس سے تھا اور غزوہ ٔ خندق میں شریک ہوئے تھے۔ سلمان اسلامی ایران کا پہلا صوفی تھا اور ان کی وساطت سے ایران میں صوفیاء کے بے شمار سلسلے چلے ۔ ‘‘ (10)
یہ حقیقت ہے کہ احادیث ِنبوی ﷺ میں بھی جابجا صوفیانہ تعلیمات ملتی ہیں اور خود آنحضرت ﷺ کی سیرت ِطیبہ ، آپ کا حسن ِاخلاق ، شوق ِ عبادت ، سادگی اور انکساری، فقر اور صدق و صفا صوفیاء کے لئے عملی نمونے ہیں اور مندرجہ ذیل حدیث ِقدسی میں تو پورا علم ِ تصوّف سمٹ آیا ہے ۔
لایزال عبدی یتقرب الّٰی بالنوافل حتّٰی احبّہ فکنت سمعہ الذی یسمع الذی یسمع بہ و بصرہ الذی یبصر بہ و یدہ التی یبطش بھا و رجلہ یمشی بھا و لئن سالنی لا عطّیہ ولئن استعاذ فی لا عبدنہ الّتی
’’ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ۔ پھر میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے ۔ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ۔ اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے و ہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۔ اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر میری پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ عطا کرتا ہوں ۔ ‘‘
ایک اور حدیث قدسی میں ارشاد ہوا ہے ۔
لا یزال العبد یتقرب الّٰی بالنّوافل حتّٰی احبّہ‘ فاذآ احبتہ‘ عشقتہ‘ و اذا عشقتہ‘ قتلتہ‘ واذا قتلتہ‘ فعلیٰ دیتہٖ ومن علٰی دیتہٖ فنا دیتہ‘
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد الفقر فخری ’’ فقر میرا فخر ہے ‘‘ بھی اہل ِ فقر کے لئے مشعل ِرا ہ ہے ۔
آپ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا ۔
من سرہ ان یجلس مع اﷲ فالیجلس مع اھل تصوّف (11)
’’ اگر کوئی خدا کے ساتھ رہنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اہل ِ تصوّف کے ساتھ نشست و برخاست رکھے ‘‘
آپ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا ۔
لا تطعنواعلیٰ اھل التصوّف و الخرقۃ لانّ اخلاقھم اخلاق الانبیاء و لباسھم لباس الانبیاء (12)
’’ تم اہل تصوّف یا صوفیوں کی مذمت نہ کیا کرو کیونکہ ان کا کردار انبیاء کے کردار کی طرح ہے اور ان کا لباس انبیاء کے لباس کی مانند ہے ۔ ‘‘
نیز ارشاد نبوی ﷺ ہے ۔
حبّ الدنیا رأس کل خطیئۃ
’’دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے ۔ ‘‘
رسول کریم ﷺ نے نفس کے خلاف جہاد کو جہاد ِ اکبر قرار دیا ۔
چنانچہ ارشاد ِ نبویﷺ ہے ۔
لی حرفتین من احبھما فقد احبنی و من ابغضھما فقد ابغضنی وھو الجھاد الاکبر و الاصغر
’’ تحقیق میرے دو فن ہیں جو ان دونوں سے محبت رکھے تو گویا اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جس نے ان دونوں سے عداوت کی تو گویا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔ ایک فن جہاد ِاکبر یعنی فقر ِحقیقی ہے اور دوسرا فن جہاد ِاصغر۔ ‘‘
غزوہ ٔخیبر سے واپسی کے موقع پر آپﷺ نے فرمایا ۔
رجعنا من الجھاد الاصغر الا الجھاد الاکبر
’’ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹے ‘‘
صحابہ ؓ نے حیرا ن ہو کر استفسار کیا یا رسول اﷲ ﷺ خیبر سے بڑھ کر اور بڑا جہاد کون سا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا یہ جہاد جھاد النفس اعدا عدوک بین جنبیک یعنی تمہاری پسلیوں کے درمیان موجود دشمن یعنی نفس( امارہ ) سے ہے ۔
اسی طرح یہ احادیث ِ نبوی ﷺ بھی علمِ تصوف کی نمائندہ ہیں۔
رئیت ربی فی احسن صورۃٍ
’’ میں نے اپنے پرودگار کو بہترین صورت میں دیکھا ۔ ‘‘
المؤمن ینظر بنور اﷲ
’’ مؤمن نورِ خدا کی مدد سے دیکھتا ہے ۔ ‘‘
جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ صرف حضور اکرمﷺ کی ذات اقدس ہی نہیں بلکہ اصحاب النبی ﷺ بھی تصوّف و عرفان کی عملی تصویر تھے اور ان میں نمایاں ترین وہ اصحاب تھے جو اصحاب ِصفّہ کہلاتے تھے ۔
اصحاب الصّفہ میں سے ایک بزرگ حضرت سلمان ؓ فارسی تھے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے السلمان من اھل بیتی یعنی سلمان میری اہلِ بیت میں سے ہے۔
اصحاب ِ صفّہ سے دوسرے بزرگ حضرت ابوذر غفاری ؓ تھے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ابو ذر فی امتی کمثل عیسیٰؑ فی الزھدابوذر غفاری ؓ میری امت میں بلحاظ ِزہد و تقویٰ عیسیٰؑ کی مثل ہے ۔
بزرگانِ اہلِ صفّہ میں سے ایک اور بزرگ حضرت بلال حبشیؒ تھے کہ وہ شین کو سین پڑھتے تھے اور فصحائے عرب معترض ہوئے کہ بلال ؓ غلط اذان دیتے ہیں اور شین کو سین پڑھتے ہیں ۔ اور جب بلال ؓ کی طرف سے اذان میں تاخیر ہوئی تو ادھر پروردگار ِعالم کی طرف سے طلوع ِ سحر میں تاخیر ہوئی ۔ جبریلِ امین ؑ تشریف لائے اور عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ خدواند تعالیٰ کی منشاء ہے کہ جب تک بلال ؓ اذان نہ دیں تب تک صبح طلوع نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا السین بلال فواﷲ عنداﷲ شین خدا کی قسم بلال کی سین رب تعالیٰ کے نزدیک شین ہے ۔ تصوّف اسی سینِ بلالی کی روایت ہے ۔
اور اصحاب الصّفہ میں سے ایک بزرگ حضرت اویس قرنی ؓ بھی تھے کہ آپ نے اپنی ظاہری آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تک نہیں تھا مگر دل کی آنکھوں سے دیکھا تھا اور جب غزوۂ احد میں حضور نبی کریم ﷺ کے دو دندان مبارک شہید ہوئے تو اویس ؓ نے غلبہ ٔ محبت اور غلبہ ٔ غم میں اپنے اٹھائیس دانت توڑ ڈالے ۔ اسی لیے حضور نبی کریم ﷺ اویس کے بارے میں فرماتے تھے ۔ انی لاجد نفس الرحمن من قبل الیمن ’’ مجھے یمن کی جانب سے خدا کی خوشبو آتی ہے ‘‘ (13)
چند اصحاب الصّفہ کے مختصر ذکر ِمبارک کے بعد آئیے مولائے متقیان آدم الاولیاء حضرت علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ کی طرف جو تمام سلاسل ِتصوّف کے مرجع ہیں اور جن کے بارے میں ارشاد ِنبوی ﷺ ہے کہ انا مدینۃ العلم و علی’‘ بابھا ’’ میں علم کا شہر ہوں اور علی ا س کا دروازہ ہے ۔ ‘‘
حضر ت آیت اﷲ مطہریؒ تصوّفِ امیر المؤمنین ؑ کی ذیل میں لکھتے ہیں ۔
’’ حضرت امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے ملفوظات روحانیت اور معرفت کے مضامین سے پُر ہیں ۔ تقریباً تمام اہلِ تصوّف و عرفان اپنے سلاسل آپ ہی سے ملاتے ہیں ۔ ہم یہاں تصوّف و عرفان کے حقائق و معارف سے پر نہج البلاغہ کی دو عبارتیں پیش کرتے ہیں۔ (14)
نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۱۹ میں آپ نے فرمایا ’’ بے شک اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی یاد کو دلوں کے لئے صیقل بنایا ہے جس کے ذریعے سے بہرے سننے لگتے ہیں ، اندھوں کو بینائی ملتی ہے اور سرکش مطیع ہو جاتے ہیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور میں اﷲ جل شانہ نے اپنے ایسے بندے پیدا کئے ہیں جن کے اذہان و قلوب میں وہ اپنے راز ڈالتا ہے اور جن کی عقلوں کے ذریعے وہ ان سے بات چیت کرتا ہے ۔ ‘‘ (15)
نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۱۷ میں اہل اﷲ کے بارے میں مولائے متقیان فرماتے ہیں ۔’’ ( اﷲ والا) اپنی عقل کو زندہ کرتا ہے اور اپنے نفس کو مارتا ہے ۔ یہاں تک کہ جو چیز موٹی اور کثیف تھی وہ نرم و نازک بن جاتی ہے ۔ اس کے سامنے برق کی مانند روشنی چمکتی ہے جو اس کی رہنمائی کرتی ہے اور اسے سالکِ راہِ خدا بناتی ہے ۔ بہت سے دروازے اسے آگے کی طرف لئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ سلامتی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے جہاں اسے قیام کرنا ہے ۔ اس کے پاؤں جمے ہیں اور اس کے بند کو اطمینان و قرار ہے کیونکہ وہ اپنے قلب پر تصرف کرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رضا حاصل کرتا ہے ۔ ‘‘ (16)
مطہریؒ سوال کرتے ہیں’’ کہ کیا ان سرچشمو ں کی موجودگی میں بھی یہ ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ ہم کسی اجنبی سرچشمہ کی تلاش میں سرگردان ہوں ؟ جبکہ اس قسم کے سوال تو اس تحریک کے بارے میں بھی اٹھائے گئے تھے جو بزرگ صحابی رسولؐ حضرت ابوذر غفاریؓ نے اپنے زمانے میں جابروں کے خلاف چلائی تھی ۔ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہم قرآن و حدیث ، خطبہ و دعا اور سیرت کے سرچشموں کا اس لئے انکار کریں تاکہ مستشرقین اور ان کے مشرقی چیلوں کا مفروضہ درست ثابت ہو سکے؟ ‘‘(17)
اسی ضمن میں عبدالماجد دریاآبادی لکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں ابتداء ہی سے ایک گروہ موجود ہے جس نے تمام مقاصد ِ دنیوی سے قطع ِ نظر کر کے اپنا نصب العین محض یادِ خدا و ذکرِ الہٰی کو رکھا اور صدق و صفا ، سلوک و احسان کے مختلف طریقوں پر عامل رہا ۔ شروع شروع میں یہ گروہ دوسرے ناموں سے ملقب رہا ۔ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد رفتہ رفتہ اس کے مسلک کا نام ’’ تصوّف ‘‘ پڑگیا اور یہ گروہ ’’ گروہ ِ صوفیہ ‘‘ کہلانے لگا۔ (18)
مولائے متقیان اہلِ تصوّف کے بارے میں مزید فرماتے ہیں ۔
’’ علم نے انہیں صحیح بصیرت عطا کی جس کے سبب سے ایمان کی حرارت ان میں سیرت کر گئی جس بات کو آرام طلب لوگ مشکل سمجھتے ہیں وہ ان کو آسان معلوم ہونے لگی اوروہ اس چیز سے مانوس ہو گئے جس سے جاہل گھبراتے ہیں ۔ ان کے جسم دنیا میں ہیں اور ان کی روحیں ملاء الاعلیٰ میں ہیں ۔ ‘‘
تصوّف کی تعریف کرتے ہوئے مولائے متقیان ؑ فرماتے ہیں ۔
التصوّف اربعۃ احرف تاء و صاد و واؤ و فاء التاء ترک و توبۃ و تقاء و الصاد صبر و صدق و صفاء والواؤ ود و ورد و وفاء و الفاء فرد و فقر و فناء
’’ تصوّف چار حروف پر مشتمل ہے ۔ ت ، ص ، و اور ف۔ سو ت سے مراد ترک دنیا ، توبہ اور تقویٰ ہے ، واؤ سے مراد ود( محبت الٰہی) ورد اور وفا ہے اور ف سے مراد فرد( خلوت گزینی ) ، فقر اور فنا ہے ۔ ‘‘ (19)
مذہب ِ تصو ف کی اسی روایت کا حصہ ہے کہ جب مولائے متقیان کے پائے اقدس میں ایک تیر لگا جس کے نکالنے پر آپ بہت اذیت محسوس کرتے تھے لیکن جب آپ محراب ِ عبادت میں مشغول ہوئے تو اس قدر خشوع و خضوع کی کیفیت طاری ہوگئی کہ آپ کے پائے مبارک سے وہ تیر نکالا گیا اور آپ نے ذرا اذیّت محسوس نہ کی ۔
یہی روایت حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ کے حصے میں بھی آئی تھی کہ جب آپ نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوجاتے تو آپ کے رخسارِ مبارک کا رنگ زرد ہو جاتا اور آپ کا بند بند کانپنے لگتا ۔ کسی شخص نے اس کیفیت کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ ایک عبد ِذلیل ایک رب ِ جلیل کے دربارمیں حاضر ہونے جار ہا ہے ۔
امام ِ اصفیا ء شہید ِ کربلاحضرت امام حسین ؑ کے ہاں تو مذہب ِ صوفیہ کی یہ روایت اور نکھر کر سامنے آتی ہے ۔
شبِ عاشور کا منظر ملاحظہ کیجئے حضرت امام علیہ السلام عمر سعد سے ایک شب کی مہلت طلب کرتے ہیں ۔ لیکن یہ مہلت جنگ کی تیاری کے لئے نہیں بلکہ اس لئے مانگی گئی ہے کہ دل کھول کر خدا کی عبادت بجا لائیں اور اطاعت و عبادت ِ خدا سے رخصت و وداع ہولیں ۔ یہ تمام شب جناب امام علیہ السلام اور آپ کے اعزہ و اصحاب نے عبادت و اطاعت ِخدا میں بسر کی اور رجوع ِقلب سے نمازیں پڑھیں۔ راوی کا بیان ہے کہ تکبیر و تحلیل و تمجید و تقدیس اور تسبیح کی صدائیں خیامِ اہلِ بیت سے نکل کر اس سنسان جنگل اور لق و دق صحرا میں اس طرح گونج رہی تھیں جس طرح شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی آواز ہوتی ہے ۔
صبحِ عاشور کا زمانہ ہے ۔ بلبلِ اہلِ بیت ہم شکل ِپیغمبر حضرت علی اکبرؑ اذان دیتے ہیں اور اہل ِتصوّف امامِ صوفیاء کی اقتداء میں نماز صبح ادا کرتے ہیں ۔
نزول ِآفتا ب ہور ہا ہے ۔ ابو ثمامہ صیدادی ؓ امام ِ عالی مقام ؑ سے عرض کرتے ہیں کہ مولا زوال ِ آفتاب کا وقت ہو گیا ہے اور نمازِ ظہر کا وقت ہے ۔ امام علیہ السلام آسمان کی طرف نگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں بے شک نماز کا اول وقت ہے ۔ ذکر الصلواۃ جعلک اﷲ من المصلین اے ابو ثمامہ اس وقت جو تم نے نماز یا د دلائی ہے تو خدا تمہیں نماز گزاروں میں محفوظ فرمائے ۔ اس کے بعد نماز ِباجماعت شروع ہوتی ہے اور دو صحابہ امام ؑکے آگے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہوتے ہیں اور تیروں کو اپنے سینوں پر لیتے جاتے ہیں ۔ ادھر نماز ختم ہو جاتی ہے اور ادھر ایک صحابی امام اور نماز کی حفاظت کرتا ہوا درجۂ شہادت پر فائز ہو جاتا ہے ۔
آخری منظر وہ ہے کہ میدان ِکربلا میں امام المتقینؑ یکہ و تنہارہ گئے ہیں ۔ تمام جسم تلواروں ، نیزوں اور بھالوں کے زخموں سے شگافتہ ہے اور تمام بدن شق ہو رہا ہے اور ادھر وقتِ نماز ہے ۔ حسین ؑ نے جو آخری سجدہ اس عالم میں ادا کیا تو وہ نہ صر ف دین اسلام اور تصوّف بلکہ تاریخ ِ انسانی کا عظیم ترین سرمایہ ہے ۔ (20)
امام حسین ؑ سے یہ روایت ِ تصوّف حضرت امام علی بن الحسین ؑ تک پہنچتی ہے جو کثرت ِعبادت و ریاضت کے باعث زین العابدین یعنی عابدوں کی زینت کہلاتے تھے ۔ چنانچہ حضرت علی ہجویری ؒ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ ’’آپ اپنے دور میں سب سے زیادہ کریم اور عبادت گزار تھے اور معرفت کے حقائق کو کھولنے اور طریقت کے دقائق کو بیان کرنے میں مشہور تھے ۔ ‘‘ (21)
آپ کثرت ِ سجدہ کی وجہ سے سجاد کے لقب سے بھی مشہور تھے ۔ آپ رات دن میں ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے اور سفر اور حضر میں قیام الّیل کبھی نہ چھوڑتے تھے اور کثرت ِسجد ہ سے آپ کی پیشانی پر نشان پڑ گیا تھا ۔ آپ ؑ رات کو اپنی پیٹھ پر روٹیوں کا تھیلا اٹھا لیتے اور ان کو رات کے اندھیرے میں مسکینوں پر صدقہ کر آتے ۔ جب آپ کو غسل دینے لگے تو پیٹھ پر سیاہ داغ تھا ۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ وہی فقیروں کے لئے روٹیوں کے تھیلے اٹھانے کے باعث ہے ۔ چنانچہ جب آپ فوت ہوئے تو لوگوں کو جب کچھ بیٹھے بٹھا ئے مل جاتا تھا وہ بند ہوگیا ۔ آپ ؑ کا ارشا د ہے کہ’’ کچھ لوگوں نے اﷲ کی عبادت ڈر سے کی تو یہ غلاموں کی عبادت ہے اور کچھ لوگوں نے رغبت سے کی تو یہ لوگ سوداگر ہیں اور کچھ لوگوں نے اﷲ کی عبادت شکرانے کے طور پر کی تو یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے ۔ ‘‘ (22)
حضرت امام زین العابدین ؑ کے بعد خرقہ ٔ تصوّف حضرت امام محمد باقر ؑ کو ملاجن کے بارے میں حضرت علی ہجویری ؒ فرماتے ہیں کہ آپ کتاب ِالہٰی کے لطیف اشارات اور علوم ِ دینیہ کے رموز بیان کرنے میں فاضل مقام کے حامل تھے ۔ آپ کی کرامات مشہور ، دلائل معروف اور براہین روشن ہیں ۔ آپ کا ارشا دہے کل من شغلک عن مطالعۃ الحق فھو طاغوتک ’’ جو چیز بھی تجھے مطالعہ ٔ حق سے باز رکھے وہ تیرا شیطا ن ہے ۔‘‘ (23)
جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا اور آپ اوراد و وظائف سے فارغ ہو جاتے تو اپنی مناجات میں یوں عرض کرتے ۔’’ اے میرے معبود ۔ اے میرے آقا۔ رات آگئی اور بادشاہوں کے تصرف کی حکومت ختم ہوگئی اور آسمان پر ستارے نمودار ہوگئے اور سب لوگ نیند کی حالت میں معدوم ہوگئے اور لوگوں کی زبانیں خاموش ہوگئیں اور ان کی آنکھیں بند ہوگئیں اور لوگ مخلوق کے دروازوں سے بھاگ گئے اور بنو امیہ آرام پاگئے اور اپنی خواہشات کو چھپا لیا اوراپنے دروازے بند کر کے ان پر محافظ مقرر کر دیئے اور جو لوگ ان سے اپنی ضرورتیں وابستہ کئے ہوئے تھے انہوں نے اپنی حاجتیں چھوڑ دیں لیکن بار خدایا تو زندہ ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ اونگھ اور نیند تیری ذات پر طاری نہیں ہو سکتی ۔ جو شخص تجھے ان صفات کے ساتھ نہ پہچانے وہ کسی نعمت کا مستحق نہیں ۔ اے وہ ذات کہ کسی کام کے کرنے سے تجھے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور ہر پکارنے والے پر تیری رحمت کے دروازے کھلے ہیں اور جو شخص تیری حمد و ثنا کرتا ہے اس پر تیرے خزانے فدا ہیں تو ہی وہ داتا ہے کہ کسی سائل کو خالی لوٹا دینا تجھے زیبانہیں ۔ مؤمنوں میں سے جو شخص تیری بارگاہ میں دعا کرتا ہے زمین و آسمان کی مخلوق میں سے کوئی بھی اسے سوال کرنے سے روکنے والا نہیں ۔ بار خدا یا ہم دنیا کی کسی چیز سے آرام کیسے پا سکتے ہیں جبکہ موت قبر اور حساب کو ہم یاد رکھتے ہیں ۔ پس میں تجھے سے ہی مانگتا ہوں کیوں کہ میں تجھے واحد جانتا ہوں اور تجھ ہی سے طلب کرتا ہوں کیونکہ صرف تجھے ہی پکار تا ہوں کہ موت کے وقت وہ راحت عطا کر جس میں عذاب نہ ہوں اور حساب کے وقت وہ خوشی عطا فرما جس میں تکلیف نہ ہو۔ ‘‘ (24)
مذہبِ صوفیہ کی یہ روحانی میراث آپ کے بعد آپ کے نورِ چشم طریقت کی زینت ، معرفت کے ترجمان اور صفوت کے مزین حضرت امام محمد جعفر صادق ؑ کو پہنچتی ہے ۔
آپ اپنے جسم پر موٹا اونی جبہ پہنتے تھے جس کے اوپر قیمتی لباس زیب تن فرماتے تھے ۔ اور فرماتے تھے کہ ہم اون کا جبہ تو اﷲ کے لئے پہنتے ہیں اور قیمتی لباس اہلِ دنیا کے لئے ۔ پھر جو اﷲ کے لئے ہے وہ ہم نے چھپا رکھا ہے اور جو تمہارے لئے ہے اسے ہم نے ظاہر کر دیا ہے ۔
آپ کا ارشاد پاک ہے کہ من عرف اﷲ اعرض عن ماسواہ ’’ جس نے اﷲ تعالیٰ کو پہچان لیا وہ غیر اﷲ سے منہ پھیر لیتا ہے ۔ ‘‘نیز آپ ؑ نے فرمایا لا تصح العبادۃ الا بالتوبۃ لان اﷲ تعالیٰ قدم التوبۃ علی العبادۃ کما قال اﷲ تبارک و تعالیٰ التائبون العابدون ’’ توبہ کے بغیر عبادت صحیح نہیں ہوتی کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ’’ التائبون العابدون ‘‘ میں توبہ کو عبادت پر مقدم فرمایا ہے ‘‘ ۔ (25)
اور جب حضرت داؤد طائی ؒ نے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے ابن رسول اﷲ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے کہ میرا دل سیاہ ہو چکا ہے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ اے ابو سلیمان میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں میرے نانا پاکﷺ قیامت کے دن میرا دامن نہ پکڑ لیں کہ تم نے میری اطاعت کا حق کیوں ادا نہیں کیا ۔ اور آپ ؑ نے فرمایا کہ مجھے اپنے افعال کی وجہ سے قیامت کے دن اپنے جدّاِمجد کا رُخِ انور دیکھنے سے شرم آتی ہے ۔ (26)
حضرت امام جعفر صادق ؑ کے بعد مذہبِ صوفیہ کے امام حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ ہیں جن کے متعلق شیخ حسام بن حاتم شیخ شفیق بلخی ؒ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ۱۴۲ھ میں حج کے ارادہ سے نکلا اور قادسیہ پہنچا لوگوں کی بڑی تعداد خوب زیب و زینت کے ساتھ حج کے لئے نکل رہی تھی کہ ناگہان میری نظر ایک نوجوان پر پڑی ۔ خوبصورت چہرہ ، گندم گون رنگ ، لاغر بدن اور اس نے کپڑوں کے اوپر اون کے موٹے کپڑے پہن رکھے تھے اور اکیلا بیٹھا ہوا تھا میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ نوجوان صوفی معلوم ہوتا ہے اور لوگوں کے ساتھ نکلنا چاہتا ہے اور اب یہ راستے میں لوگوں پر بوجھ بنے گا ۔ پس میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے ڈانٹ دوںگا ۔ چنانچہ میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا یا شفیق اجتنبوا من الظن ان بعض الظن اثم’‘ ’’ اے شفیق بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ ‘‘ ہم وادی ٔ فضہ میں پہنچے تو میں نے اس شخص کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ میں معافی مانگنے کے ارادے سے اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا یا شفیق اتل وانی لغفار لمن تاب و اٰمن و عمل صالحاً ثم اھتدیٰ اے شفیق اس آیت کی تلاوت کرو ’’ اور میں بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور پھر ہدایت پائے ۔‘‘ جب ہم ابوا میں اترے تو اسی نوجوان کو کنویں کے کنارے کھڑے دیکھا ۔ اس کے ہاتھ سے پانی کی چھاگل کنویں میں گر پڑی تو اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی ۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا ۔
انت شربی اذا ظمئت من الماء وقوتی اذا اردتّ طعاماً
’’ (اے اﷲ) تو ہی میرا پانی ہے جب میں پیاسا ہو جاؤں اور توہی میری خوراک ہے جب میں کھا نا چاہوں۔ ‘‘
جب ہم مکہ مکرمہ میں آئے تو میں نے اس کو ایک رات قبۃ الشراب کے پہلو میں آدھی رات کے وقت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا وہ بڑے خشو ع وخصوع کے ساتھ صبح ہونے تک نماز پڑھتا رہا ۔ صبح ہوئی تو مطاف کے کنارے کھڑا ہوا اور دو رکعت فجر کی نماز پڑھی پھر جماعت سے صبح کی نماز پڑھی پھر مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر باہر نکلنے لگا تو میں نے چاہا کہ اسے سلام کروں مگرلوگ خادموں اور تابعداروں کی طرح ان کے گرد جمع ہوگئے میں نے ان میں سے ایک آدمی سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے ؟ تو اس نے کہا کہ یہ موسی ٰ کاظم ؑ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ہیں ۔ ‘‘ (27)
مذہب ِ صوفیہ کا خرقہ ٔ خلافت حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ سے حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلا م کو عطا ہوتا ہے ۔ آپ کا معمول حیات یہ تھا کہ آپ بہت تھوڑا سوتے تھے اور بہت روزے رکھتے تھے اور ہر ماہ آپ کے تین روزے کبھی قضا نہیں ہوئے اور آپ بہت زیادہ سخاوت اور صدقہ کرتے تھے اور خصوصاً اندھیری راتوں میں آپ کی سخاوت بہت زیادہ تھی اور آپ گرمیوں میں چٹائی پر بیٹھتے اور سردیوں میں ٹاٹ پر ۔ (28)
اورآپ ؑ حضرت شیخ معروف کرخی ؒ کے مرشد تھے اور وہ آپ کے مرید اور دربان تھے ۔ یہاں سے لے کر غوث المتاخرین میر سید محمد نوربخش ؒ تک کے ان پیرانِ طریقت کا تذکرہ جو سلسلۃ الذہب اور مذہبِ صوفیہ سے وابستہ ہیں ، نوربخشؒ کے شجرۂ طریقت کے باب میں ہو چکا ہے ۔ ان تمام پیرانِ طریقت اور مرشدانِ حقیقت کے مسلک کا بیان طولِ کلام کا باعث ہوگا ۔ تاہم اس موقع پر شاہ ِ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کے مرشد شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ کی تلاش ِ حقیقت کی کہانی کا مختصر بیان ان کی تصنیف ’العروہ لاھل الخلوۃ و الجلوۃ ‘سے نقل کرتے ہیں جس سے مذہبِ صوفیہ کے وجود ِ استقلالی کی حیثیت کا واضح تعین ہو جاتا ہے۔ آپ لکھتے ہیں :
ایک دن شیطان نے میرے د ل میں وسوسہ ڈالا کہ حدیث ِنبویﷺ میں ہے کہ میری امت کے بہتر فرقے ہوں گے ان میں سے ایک ناجی اور باقی سب ناری ہیں ۔ تم کس کی پیروی کرو گے ؟ میں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں رہنمائی کے لئے فریاد کی ۔ اس وقت میرے دل پر القاء ہوا کہ ’’ تمام تر اختلافات کے باوجود یہ امت صرف سات گروہوں میں منقسم ہے ۔ جبریہ ، قدریہ ، معطلہ ، مشبھہ ، خارجی ، رافضی اور سنی۔ جو گروہ غلو اور تقصیر یعنی افراط و تفریط سے پاک ہو اس کی پیروی کرو۔ ‘‘
میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ جبریہ توحید میں غلو کرتا ہے ، قدریہ قدرت ِالہٰیہ میں کمی کرتا ہے ، مشبہہ شریعت میں بے ادب ہے ، خارجی بددیانت اور دشمن اہلِ بیت ہیں ، رافضی حرم رسول ﷲﷺ کے بارے میں بدگوئی کرتے ہیں اور دشمن ِ صحابہؓ ہیں ۔ مجھے اہل ِ سنت کے چاروں امام اس الہام کے بالکل موافق معلوم ہوئے پس میں ان کی پیروی کرنے لگا ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ ان کے پیروکار بحث و جدال اور تعصب و عصبیت کی طرف بہت مائل ہیں جس کی وجہ سے میں ان سے بھی بیزار ہوا تاہم ان کی پیروی کو غنیمت جانا اور اﷲ تعالیٰ سے یہ امید بھی رکھی کہ وہ مجھے اس مرحلے میں تنہا نہیں چھوڑے گا ۔
ناگاہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے لازوال فضل وکرم کے ذریعے میرے د ل کے پردے اٹھا دیے ۔ میں نے عالم ِ غیب میں ایک واقعہ دیکھا ۔ وہاں اہل ِ صفا کا ایک گروہ پہنچا جن سے بوئے محبت آتی تھی ۔ میں نے انہیں سلام کیا ۔ میر ے پوچھنے پر بتایا کہ وہ ’’ صوفیہ ‘‘ کہلاتے ہیں۔ جب میں نیند سے بیدار ہوا تو ان لوگو ں کا بے حد مشتاق ہوا اور بڑی بے چینی کے ساتھ انہیں ڈھونڈنا شروع کیا ۔ لیکن انہیں کہیں بھی نہ پایا پس مایوس ہو کر میں نے ان کی کتابیں دیکھنا شروع کیں ۔ احوال و اقوال صوفیاء پر مشتمل کتب تصوّف کے مطالعے کے دوران میں ان میں لکھی ہوئی باتوں پر بھی عمل کرتا جاتا تھا ۔ خلوت و عزلت میں اشغال کی وجہ سے شیطان کو مجھ پر غلبہ کا موقع نہیں ملا اور میرا یہ شوق بھی مزید بڑھ گیا کہ کسی صوفی کی خدمت میں پہنچ جاؤں اور اس کی سیرت و بصیرت کی پیروی کروں ۔ میں نے روحانی مراتب کے حصول کے لئے خوب ریاضت و مجاہدہ کیا تو اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل و کرم سے نوازا ۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ جب تک توفیق ِ خداوندی نصیب نہ ہوئی تب تک مجھے دین و مذہب میں سکون نہیں ملا۔ ‘‘ (29) ( ا س بیان کے بعد سمنانی ؒ ذکر خفی یعنی لاالہ الا اﷲ کا ورد کرنے اورا س کے نتائج اور اخی شرف الدین کی وساطت سے سلسلۃ الذھب کے قطب ِ دوران شیخ عبدالرحمن اسفرائنی کی خدمت میں حاضری اور بیعت کا ذکر کرتے ہیں ۔ )
اس مقا م پر پہنچ کر اس مذہب ِ صوفیہ کے اصل خدوخال نکھر کر سامنے آتے ہیں جس کے متعلق نوربخش ؒ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
واعلم انّ مذھب الصوفیۃ ھو المیزان المستقیم و طریق الحق و الیقین لیس فیہ غلوّ ولا مھین ولا نقص ولا مزید لا افراط ولا تفریط کماکان فی قرن الاولیٰ مشھود لھا بخیر ولٰکن اکثر الناس لا یشعرون ………
’’جان لے کہ صوفیاء کا مذہب سیدھے ترازو کی مانند ہے اور حق اور یقین کی راہ ہے جس میں کوئی غلو ہے نہ کمی اور نہ نقصان اور نہ زیادتی اور نہ افراط اور نہ تفریط جیساکہ پہلے زمانے میں تھا اور جس کے متعلق بھلائی کی شہادت دی گئی ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔ و ہ ان بیماریوں اور مصائب کا شکار ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھیں اور ایک دوسرے پر بہتان تراشی کی اور پھر بعض نے نبی ﷺ کی آل اور آپﷺ کے صحابہ اور آپﷺ کی ازواج ِمطہرات اور بعد کے عارفوں کے متعلق محبت اور عداوت میں غلو اختیار کیا اور استقامت اور اعتدال کی راہ چھوڑ دی اور ان میں سے بعض نے مجذوب ابدالوں کے اقوال اور ان کے معذورات افعال کو اپنے ناقص فہم کی وجہ سے نہ سمجھنے کی بنا پر ان کو لعن طعن کا نشانہ بنایا اور ان کو زندیق ، حلولی ، ملحد ، کافر اور بدعتی تک کہا اور بہت سی ایذا پہنچائی لیکن ان اہل اﷲ نے اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر ان مصائب پر بڑا اچھا صبر کیا ۔ ‘‘ (30)
مذہب ِ صوفیہ کے اس تعارف کے بعد ہم بالترتیب میر سید محمد نوربخشؒ کے اعتقادی دبستان یعنی دین ِاسلام ، مذہب ِصوفیہ ، مشرب ِہمدانیہ اور روش ِ نوربخشیہ کے اعتقادی اور فقہی مسلک کا مختصر جائزہ پیش کریں گے ۔ مذہب ِ صوفیہ کی طرح نوربخش ؒ کا اعتقادی دبستان جو کلمہ بنائے ایمان پر استوار ہے اور فقہی مسلک جو کلمہ بنائے اسلام کی تشریح ہے ، اسی حدیث جبریل ؑ ہی کی تشریح ہے جس کا ذکر اس باب کے شروع میں ہو چکا ہے ۔
واپس اوپر جائیں

نوربخش ؒ کا اعتقادی دبستان


اعتقاد و عمل کے عناصر اربعہ

اعتقاد و عمل کے عناصر اربعہ
مذہب ِ صوفیہ کے اعتقاد ات کی روسے ایک مؤمن مسلمان کے لئے اعتقاد و عمل کے درج ذیل چار پہلوؤں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے ۔
۱) اقرار باللسان
۲)تصدیق بہ دل
۳) عمل بہ تن
۴) متابعت ِ سنتِ نبویﷺ
ان چار ارکان کے معانی و مطالب یہ ہیں :
۱) اقرار باللّسان کا مطلب کلمہ ٔ شہادت کا اقرار ہے یعنی یہ کہ کوئی فرد اپنی زبان سے اﷲ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے اور حضرت محمد مصطفیﷺ کے عبد اور رسول ہونے کا غیر مبہم انداز میں اعلان کرے ۔
۲) تصدیق بہ دل کا مطلب یہ ہے کہ اس زبانی اقرار کے بعد دل کی گہرائیوں سے اس قول و قرار کا یقین ، تصدیق اور احترام کرے اور اس پر مداومت اختیار کرے ۔
۳) عمل بہ تن کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کے بعد ان دونوں پہلوؤں کو عمل سے ثابت کرے اور اس عمل کا ظہور اعضاء و جوارح کی مدد سے ہوتا ہے ۔ اقرار و تصدیق کی یہ عملی صورت ارکان ِ دین یعنی نماز ، روزہ ، حج اور زکواۃ کے علاوہ معاملات ، عبادات ، حدود اور اوامر و نواہی کو محیط ہے ۔ پس ان تمام فرائض و واجبات پر عمل کرنا دین پر قائم رہنے کی بنیادی شرط ہے ۔
۴) متابعت ِ سنتﷺ کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات ِ زندگی میں حتی المقدور سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کی جائے کیونکہ تکمیل ِ دین متابعت ِ سنت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔
شریعت ، طریقت اور حقیقت کا مخرج و منبع بھی یہی سنت نبویﷺ ہے ۔ چنانچہ ارشاد نبویﷺ ہے ۔ الشریعۃ اقوالی و الطریقۃ افعالی والحقیقۃ احوالی یعنی شریعت میرے اقوال کا ، طریقت میرے افعال کا اور حقیقت میرے احوال ِ روحانی کا نام ہے ۔
اعتقاد و عمل کے ان چار عناصر پر کلی یا جزوی طور پر عمل پیرا ہونے یا ترک کرنے سے مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
۱۔ ان چاروں کی تکمیل کرنے والا مؤمن مسلمان کہلاتا ہے ۔
۲۔ ان چاروں کو مطلقاً ترک کرنے والا کافر کہلاتا ہے ۔
۳۔ اقرار باللسان سے متصف لیکن تصدیق ِ قلب سے عاری فرد منافق کہلاتا ہے ۔
۴۔ اقرار باللسان اور تصدیق بہ دل کا حامل لیکن عمل بہ تن سے عاری فرد فاسق کہلاتا ہے ۔
۵۔ اقرار باللسان ، تصدیق بہ دل اور عمل بہ تن تینوں کا حامل لیکن سنت نبوی ﷺ سے عاری فرد بدعتی کہلاتا ہے ۔ (31)
یہ اصولی اور ایمانی محکمات دین ِاسلام اور مذہب ِصوفیہ کی اساس ہیں اور ان کا بیان سلسلۃ الذہب کی مستند کتابوں مثلاً شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کی ’عوارف المعارف ‘، شیخ ابونجیب سہروردی ؒ کی ’آداب المریدین ‘ اور امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی ’ذخیرۃ الملوک ‘ وغیرہ میں موجود ہے ۔
واپس اوپر جائیں

صوفیہ نوربخشیہ کے اصول ِدین


صوفیہ نوربخشیہ کے اصولِ دین کا منبع و مصدر خود قرآن مجید فرقان الحمید ہے اور درج ذیل حکم ِ خداوندی کی تعمیل پر مشتمل ہے ۔
یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا آمِنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلَیٰ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْل ْ ج وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاﷲِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلامً بَعِیْدَاً ط (النسآء ۱۳۶)
’’ اے ایمان والو تم اﷲ پر اس کے رسول پر اور اس کی کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے ایمان لاؤ اور جس شخص نے خدا ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور کے رسولوں اور یوم ِ آخرت کا انکار کیا وہ بہت دور کی گمراہی کا شکار ہو گیا ۔ ‘‘
پس ازروئے قرآن بلاکم و کاست ان پانچ چیزوں پر اعتقاد رکھنا ایمان کی بنیادی شرط ہے ۔ جس طرح ’’ اسلموا ‘‘ کا جواب’’ اسلمنا ‘‘ سے ، ’’ واعتصموا‘‘ کا جواب ’’ واعتصمنا ‘‘ سے ’’ صومو‘‘ کا جواب ’’ اصوم ‘‘ سے ’’ صلوا ‘‘ کا جواب ’’ اصلی‘‘ سے اور ’’ اطیعوا ‘‘ کاجواب ’’ اطعنا ‘‘ سے دیا جاتا ہے ، عین اسی طرح ’’ آمنوا‘‘ کا جواب ’’ آمنا ‘‘ سے دیا جاتا ہے ۔ (32) چنانچہ اہل صوفیہ نوربخشیہ اپنے ایمان کا اعلان ان الفاظ میں کرتا ہے ۔
آمنت باﷲ و ملئکتہٖ و کتبہٖ و رسلہٖ و الیوم الآخر
’’ میں ایمان لایا اﷲ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولو ں پر اور اخرت کے دن پر ۔‘‘
اس کلمہ کا نام اہل ِصوفیہ نوربخشیہ کے نزدیک ’ کلمہ بنائے ایمان ‘ ہے اور قابل ِتوجہ بات یہ ہے کہ صرف اہل ِصوفیہ نوربخشیہ کا کلمہ ہی قرآن کی نص ّ ِصریح سے ثابت ہے اور اس میں نہ کمی ہے اور نہ زیادتی ۔ جبکہ اسلام کے دیگر مکاتب ِفکر کا اصول ِ دین یا نعرۂ ایمانی یا تو نصّ ِ قرآنی سے ثابت ہی نہیں یا افراط و تفریط کا شکار ہے ۔ (33) جیسا کہ مولانا شبلی نعمانی ؒ اس حقیقت کا اظہار یوں فرماتے ہیں ۔ ’’ آپ ﷺ نے صریح الفاظ میں عقائد کے صرف پانچ اصول تلقین کیے ۔ خدا پر ایمان ، خدا کے فرشتوں پر ایمان ، خدا کے رسولوں پر ایمان ، خدا کی کتابوں پر ایمان اور اعمال ، جزا اور سزا کے دن پر ایمان ۔ ‘‘ (34)
واپس اوپر جائیں

اصول ِ عقائد کی تشریح


اﷲ پر ایمان

اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ اﷲ واجب الوجود ہے ، زندہ ہے ، جاننے والا ہے ، سننے والا ہے ، دیکھنے والا ہے ، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، صاحب ِارادہ اور صاحب ِ کلام ہے ۔ اس کا علم عرش و کرسی ، ساتوں آسمان و زمین اور ان کی جملہ موجودات سے لے کر ہر چیز پر محیط ہے ۔ بالائے عرش اس کے علمی وجود کے سوا کوئی بھی چیز نہیں ہے ۔ وہ مکان کے اعتبار سے نہیں بلکہ شان کے اعتبار سے بلند و بالا ہے ۔ اس کی کوئی انتہا نہیں ، وہ نور الانوار ہے ۔ اس کا کوئی جسم ہے نہ اس کی کوئی کثافت اور نہ اس کا کوئی رنگ ہے بلکہ وہ ان چیزوں سے پاک ہے ۔ وہ پیغمبروں اور ولیوں( اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے انسانوں ) کا معبود ہے ۔ اس مقام پر انبیاء علیہم السلام اسے حی اور علیم کے نام سے اور حکماء عقلِ کل اور نفس ِکل کے نام سے پکارتے ہیں ۔ ان گروہوں میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی اصطلاحی عبارتوں سے مراد صرف اﷲ ہی ہے ۔ وہ اس مقامِ جبروت میں تمام چیزوں سے پاک اور بے نیاز ہے ۔ اس کا نور آسمانوں کو روشنی کا فیض پہنچاتا ہے ۔ اس مقام پر انبیاء علیہم السلام اسے رب ، خالق اور رازق کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ فیضان ِ نور کے ان مظاہر کو اولیائے کرام صفاتِ افعالیہ اور ملائکہ ِ سماویہ کے نام سے اور حکماء عقول ِ فلکیہ ، نفوس ِ فلکیہ ، قوائے فلکیہ ، ملکات اور روحانیاتِ کواکب کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
یہ روحانیات جب عناصر اور موالید کو فیضیاب کرتی ہیں تو فیضان ِ روحانیات کے اس مقام پر اﷲ کے ان مظاہر کو انبیاء علیہم السلام مخلوقات کے نام سے ، اولیاء کرام صفاتِ آثاریہ اور ارواح ِمنطبعہ کے نام سے اور حکماء قوائے منطبعہ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان اصطلاحی عبارتوں سے اﷲ تعالیٰ کی ذات ، صفات ، افعال اور آثار مراد ہیں ۔ … اﷲ تعالیٰ کی صفات ِذاتیہ اپنی مجموعی حیثیت سے عین ذات ہیں ۔ (35)
تقدیر پر ایمان بھی ایمان باﷲ ہی کا ایک جزو ہے ۔ چنانچہ اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ ازل کی تقدیرات ، کائنات کی جملہ کلیات ، اور جزئیات کے گزشتہ اور آئندہ امور پر محیط ہیں ۔ اﷲ تعالٰی کی تقدیر کے بغیر کسی درخت کا کوئی پتہ تک نہیں گرتا ۔ جو کوئی اس واضح اور ثابت شدہ بات کے بارے میں شک و شبہ کا شکار ہو اسے چاہیے کہ علم ِ نجوم سیکھے تاکہ احکام ِ موالید کے تجربے سے وہ یقینی طو رپر یہ جان جائے کہ یہ چھوٹے بڑے ہر امر کے شمول ِ تقدیر ہونے کا یقینِ کامل پیدا کر دیتا ہے ۔ (36)
نسبت ِخیر و شر کے متعلق نوربخشؒ کا عارفانہ نقطۂ نظر یہ ہے کہ جو شخص برائیوں کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا ہے وہ ادب کے پہلو کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور اس لحاظ سے وہ حق گو ہے بشرطیکہ ایسا شخص اپنی جہالت میں حدود سے تجاوز کرنے والا، متعصب اور متحقق بات کہنے والے کو کفر کی طرف منسوب کرنے والا نہ ہو ۔ چنانچہ کوئی کہتا ہے کہ خیر و شر دونوں بندے کی اپنی طرف سے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ دونوں اﷲ کی طرف سے بھی ہیں اور بندے کی طرف سے بھی ۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب لفظی اختلافات ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ کسی باغ کے پھلوں کی مٹھاس اور کھٹاس اس باغ کو ملنے والے پانی کی وجہ سے بھی ہے اور ان درختوں کے اختلاف ِطبائع سے پیدا ہونے والے اثرات کا بھی نتیجہ ہے ۔
چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ِخدا وندی ہے کہ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِیْ الْاَرْضِ وَ لَا فِیٓ اَنْفُسِکُمْ اِلَّا فِیْ کِتَابٍ مّنِ ْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَأھآ اِنَّ ذَالِکَ عَلَی اﷲِ یَسِیْر’‘ (الحدید۲۲)
’’ زمین میں اور تمہاری جانوں پر جو مصیبت پہنچتی ہے وہ اس مصیبت کے وجود پذیر ہونے سے قبل ہی لوح ِ محفوظ میں مرقوم ہے ۔ بے شک یہ کام اﷲ کے لیے بڑا آسان ہے ۔ ‘‘
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
قُلْ لَّنْ یُصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اﷲُ لَنَا ھُوَ مَوْلٰنَا وَ عَلَی اﷲِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَO ( التوبۃ ۵۱)
’’اے رسول کہہ دیجئے کہ ہم کو سوائے اس کے کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی جو اﷲ نے ہمارے لئے لکھ رکھی ہے ۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مؤمنوں کو صرف اﷲ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
ایک اور مقام پر ارشاد ِخداوندی ہے ۔
وَ اِنَّ لَیْسَ لِلْاِنْسَانَ اِلاّ مَا سَعَیٰ O (النجم ۳۹)
’’ انسان کو صرف وہی چیز میسر آ سکتی ہے جس کے لیے وہ کوشش کرے ۔ ‘‘
نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔
مَن عَمِلَ صَالِحاً فَلِنَفْسِہٖ وَ مَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْھَا O (فصلت ۴۶)
’’جو شخص نیکی کرے اس کا فائدہ اس کی ذات کو پہنچتا ہے اور جو کوئی برائی کرے تو اس کا وبال خود اس کی ذات پر ہے ‘‘۔
ایک اور مقام پراﷲ کا فرمان ہے ۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلاَّ بِاﷲِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِط
’’ میرے لیے کارِخیر کی توفیق تو صرف اﷲ ہی کی مہربانی سے ہے ۔ صرف اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔ ‘‘
اﷲ تعالیٰ قادراور خود مختار ہے ۔ جو امر اﷲ کی طرف سے صادر ہوتا ہے اس پر اس کے علم و ارادہ کو سبقت حاصل ہے ۔ اﷲ تعالیٰ موجب بالذات بھی ہے کیونکہ اس نے آسمانوں ، زمینوں اور ان کے موجودات میں سے ہر چیز کے حق میں اس کے مخصوص فائدے اور نقصانات کو مقرر اور واجب کر رکھا ہے اور یہ ایجاب ازل سے ہے ۔ اہل ِ شریعت اس ایجاب ِ خداوندی کو تقدیر کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا وہ قانونِ فطرت ہے جو اس سے قبل کی امتوں میں بھی رائج تھا اور اﷲ تعالیٰ کے اس قانون ِفطرت میں کوئی ردو بدل نہیں ہو سکتا ۔ اﷲ پاک کو تمام گزشتہ اور آئندہ امور کا علم ہے اور سب اس کے ارادے میں ہیں ۔ سب کی تقدیر اس نے بنائی ہے اور سب کے لوازمات اور مناسبات کو اس نے واجب کر رکھا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کے لیے اپنی تقدیراتِ ازلیہ کی خلاف ورزی روانہیں ہے لہذا اس لحاظ سے وہ موجب بالذات ہے جبکہ اس کی ذات و صفات کا کوئی آغاز نہیں ہے ۔ پس جو چیز تقدیر میں نہ ہو وہ چیز مقدور نہیں ہو سکتی اور جو چیز مقدور ہوتی ہے وہ تقدیر ِ الٰہی میں ہوتی ہے ۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ازل میں جو چاہا کر دیا اور جو چاہا چھوڑ دیا اور اﷲ تعالیٰ کی ازلی مشیت ہی کے مطابق ظہور پذیر ہونے والی چیز کسی بھی زمانے میں ظہور پذیر ہو جاتی ہے جب اس چیز کو ظہور پذیر کرنے کا ازل سے اﷲ کا ارادہ ہو ۔ (37)
اﷲ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی اصل حقیقت عقل کی نگاہ سے پوشیدہ ہے لیکن انبیائے کرام اور اولیاء عظام نے وَجَاھَدُوْا فِیْ اﷲِ حَقَّ جَھَادِہٖ ( الحج ۷۸) ’’ تم اﷲ کی رضاجوئی کے بارے میں اس حد تک مجاہدہ کرو جس حد تک مجاہدہ و جہاد کا حق ہے ۔ ‘‘ کے حسب حکم مجاہدات بجالائے اور انہوں نے وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ط (العنکبوت ۶۹) ’’ جو لوگ ہماری رضا جوئی کی خاطر مجاہدہ کرتے ہیں تو ہم ان کوضرور اپنی راہوں پر لگا دیتے ہیں ۔ ‘‘ کے مطابق راہ خدا کی ہدایت حاصل کی ۔ وہ عالمِ ملک کے مکاشفات ، عالم ِ ملکوت کے مشاہدات، عالم ِ جبروت کے معاینات اور عالم ِ جبروت کی تجلیات کو رسائی پاگئے اور خداوند ِعالم کی یکتائی کے سمند ر میں قطرۂ آب کی طرح گھل مل گئے یہاں وہ اﷲ فنا فی اﷲ اور بقا باﷲ کی منزلوں تک رسائی پا گئے اور حدیث ِ نبویؐ تخلقوا باخلاق اﷲ ’’ تم اﷲ کے پسندیدہ اخلاق کے نمونے بن جاؤ ‘‘ کے مطابق مظاہر ِصفات ِ خداوندی کے حامل ہوگئے ۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ لایزال العبد یتقرب الیّ بالنوافل الخ ’’ بندہ ہمیشہ نوافل کی بجاآوری کر کے میرا قرب پاتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے چاہتا ہوں جب میں اسے چاہتا ہوں تو میں اس کے کان ، اس کی آنکھ ، اس کے ہاتھ ،اس کے پاؤں اور اس کی زبان ہوتا ہوں پس وہ میرے ذریعے ہی سنتا ہے ، میرے ہی ذریعے دیکھتا ہے ، میرے ہی ذریعے تھامتا ہے ، میرے ہی ذریعے چلتا ہے اور میرے ہی ذریعے بولتا ہے ۔ ‘‘
پس جس بندے کے لئے اﷲ پاک بمنزلہ آنکھ ہو تو وہ اﷲ کو دیکھ سکتا ہے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین ابو الحسن علی علیہ السلام خود سراپا اس محبتِ الہٰیہ کے نمونے ہونے ، روحانی کمالات کی بدولت بشری اوصاف و آلائش سے باہر ہونے اور سراپا صفاتِ الہیہ کے حامل ہونے کی بنا پر مقامِ اعلیٰ میں عیاں ہو گئے اور آپ نے خطبۃ البیان میں ارشاد فرمایا کہ’’ میں اﷲ ہوں ، میں رحمن ہوں ، میں رحیم ہوں ، میں علیٰ ہوں ، میں اعلیٰ ہوں ، میں خالق ہوں ، میں رازق ہوں ، میں حنّان ہوں اور میں منّان ہوں۔ ‘‘ اس کی مثال لوہار کی بھٹی میں ایک لوہے کی ہے جب کہ وہ سرخی ، حرارت اور جلنے جلانے کے ناری اوصاف کے ساتھ متصف ہو جائے اور وہ یوں کہے کہ میں آگ ہوں تو وہ اس خاص دعویٰ میں حق بجانب ہے ۔ جب اس لوہے کو بھٹی سے نکالا جائے اور پھر وہ اپنے اصلی اوصاف کی طرف لوٹ آئے تو اگر اس اصلی حالت میں آنے کے بعد وہ لوہاآگ ہونے کا دعوے دار بن جائے تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہوگا ۔
پس انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام جب سراپا صفاتِ خداوندی کے حامل ہوتے ہیں تو وہ اسے دیکھ سکتے ہیں اور اسے خوب پہچانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ سید الاوصیاء و سند الاولیاء حضرت علی ؑ نے خود اپنی حالت کے بارے میں فرمایا ’’ میں نے اﷲ کو دیکھا پھر اسے خوب پہچانا اور اس کی عبادت کی ۔ بخدا میں نے اس رب کی عبادت نہیں کی جس کو میں نے نہیں دیکھا ۔ ‘‘ جو کوئی اس مقام تک رسائی نہ پاجائے اسے رویتِ الہٰی نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ اﷲ تعالیٰ کوئی محسوس چیز نہیں کہ مادی حس اس کو پا سکے ۔ مادی آنکھیں اﷲ کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ ان نگاہوں پر محیط ہے ۔ چنانچہ جو آنکھ اس کا ادراک کرتی ہے وہ نگاہ ِبصیرت ہے ۔ پس اگر کوئی شخص کہے کہ بشر کے لیے جب وہ حالت ِبشر میں ہو رویت ِ خداوندی محال ہے تو یہ سچ ہے اور اگر کوئی کہے کہ رویت خداوندی محال نہیں ہے تو یہ بات بھی سچ ہے کیونکہ اﷲ پاک خود اپنی ذات کو دیکھتا ہے ۔ چنانچہ اﷲ پاک جس کی نگاہ ِ بصیرت کو اپنے نور سے روشن فرما دے تو وہ بھی اسے دیکھ سکتا ہے ۔ لہذا اختلاف صرف لفظی ہے ۔ ( 38)

فرشتوں پر اعتقاد

اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ ملائک ِسماوی و ارضی سب اﷲ کے حکم پر عمل پیرا رہنے والے اس کے بندے ہیں وہ مذکر یا مؤنث نہیں ہوتے ۔ (39)

انبیاء ؑ پر اعتقاد

انبیاء علیھم السلام پر اعتقاد رکھنا واجب ہے ، اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام اﷲ اور اس کے بندوں کے مابین احکام ِخداوندی بیان کرنے کے ذرائع اور واسطے ہیں ۔ وہ حق سبحانہ تعالیٰ سے فیض کے طلب گار ہوتے ہیں اور مخلوقاتِ خدا کو فیض رسانی کرتے ہیں ۔ انبیاء علیہم السلام کی فرمانبرداری حصول جنت کا موجب ہے اور ان کی خلاف ورزی کرنے والا جہنم کا سزاوار بنتا ہے ۔ (40)
یہ اعتقاد بھی واجب ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺخاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ آپ ؐ کی نبوت پر سلسلہ ٔنبوت کو ختم کر دیا گیا ہے اور آپؐ کی شریعت پر تمام سابقہ شریعتوں اور شرعی امور کا خاتمہ کیا گیا ہے ۔
جھوٹا نبی واجب القتل:
میر سید محمد نوربخشؒ کی تعلیمات کی رو سے نبوت کا جھوٹا مدعی واجب القتل ہے ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ’’ جو شخص ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے جبکہ وہ پاگل یا تاویل کا سہارا لینے والا نہ ہو تو اس کا قتل کر دینا واجب ہے ۔ (41)
حضور نبی کریمﷺ نہ صرف منصب ِنبوت و رسالت پر فائز ہیں بلکہ صاحب ِ قرآن اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں ۔ آپ وہ صاحب دور ِ قمر اور صاحبِ قران العلویین ہیں جو رسولوں ، نبیوں ، بادشاہوں اورحکماء میں امتیازی شان کے مالک ہیں اور ان سب پر فوقیت رکھتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبینا و سیدنا و مولانا و مولی الثقلین حضرت محمدﷺکے علاوہ کائنات میں کوئی شخصیت ان سات صفات کی حامل نہیں پائی گئی ۔ (42)
یہ بھی اعتقاد واجب ہے کہ ہمارے نبی ﷺعالم بالا کو عروج فرمانے کے لائق ایک انتہائی خفیف و لطیف اکتسابی جسم کے ساتھ معراج پر تشریف لے گئے اور آسمانوں کو عبور فرمایا اور یہ پھٹن اور ملاپ کے عمل کے بغیر ہوا ۔ (43)

اﷲکی کتابوں پر اعتقاد

قرآن مجید ، تورات ، انجیل ، زبور اور جملہ صحفِ سماوی کے کلام ِ الٰہی ہونے پر اعتقاد رکھنا واجب ہے ۔ قرآن ِ مجید لفظ اور معنی دونوں لحاظ سے تمام آسمانی کتابوں میں ممتاز ہے اور ان پر فوقیت رکھتا ہے ۔ کلامِ الہٰی اس لحاظ سے قدیم ہے کہ وہ صفاتِ خداوندی میں سے ایک صفت ہے اور صفات ِ خداوندی بالاجماع ازلی ہیں اور کلام ِ الہٰی اس لحاظ سے حادث ہیں کہ وہ رسول اﷲ ﷺپر ایسے معین وقت میں نازل کیا گیا جس سے پہلے بہت سے زمانے گزر چکے تھے اور اس حیثیت سے بھی حادث ہے کہ کلام ِالہٰی کی قراء ت کی جاتی ہے اور اسے لکھا جاتا ہے ۔ بایں ہمہ کلامِ الہٰی قدیم بھی ہے اور حادث بھی اور کسی شخص پر کلام ِ الہٰی کے قدیم یا حادث ہونے کا اعتقاد رکھنے کی بنا پر کفر کا فتویٰ صادر کرنا جہالت ہے ۔ کیونکہ قرآن پاک تو روحانی فیوض و برکات کا مجموعہ و مرکب اور اس کی ظاہری صفات بھی ہیں اور باطنی صفات بھی ۔ عوام الناس کو چاہیے کہ ارکان اسلام پر ثابت قدم رہیں اور علم ِ کلام کے اصولی مسائل سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں کیونکہ جناب امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا فرمان ہے رحم اﷲ امرأ ً عرف قدرہ ولم یتعد طورہ یعنی اﷲ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے اپنی قدرومنزلت کو پہچانا اور اپنی حیثیت سے باہر قدم نہ رکھا ۔ (44)
مسئلہ ِ امامت:اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ امامت کی دوقسمیں ہیں :
۱۔ امامت حقیقی
۲۔ امامتِ اضافی
امامت کے جملہ صفات ِ صوریہ ، صفات ِ معنویہ ، اس کی شرائط اور ارکان کا پوری طرح حامل ہونا امامتِ حقیقی ہے ۔
امامت کی شرائط مرد ہونا ، آزاد ہونا ، بالغ ہونا اور عقل مند ہونا ہیں ۔
امامت کی اصل شجاعت اور قریشی ہونا ہیں ۔
امامت کی صفات ِصوریہ منصوصی طور پر سیادت کا حامل ہونا ، فاطمۃ الزہرا علیہا السلام کی طرف نسبت ہونا ، عالم ہونا ، پرہیز گار ہونا ، شجاع ہونا ، اور سخی ہونا ہیں۔
امامت کے ارکان علم ِکامل ( کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ کمزور امام جو دینی امور میں دوسروں کا محتاج ہو ملعون ہے ۔ ) ،اصلاً و فرعاً صحیح سیادت کا حامل ہونا ، وسیع سلطنت رکھنا اور بغیر کسی پوشیدگی کے صریح ولایت کا حامل ہونا ہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام کے سوا یہ جملہ صفات ائمہ کرام میں سے کسی میں بھی آج تک یکجا نہیں ہوئیں ۔ چنانچہ حقیقی معنوں میں امامِ کامل وہ ہے جو امامت کی ان جملہ صفات کا حامل ہو ۔
جو امام ان صفات میں سے سے بعض کا حامل ہو تو جن صفات کا وہ حامل ہے اسی قدر وہ امام ہے ۔ ایسے امام کی امامت اضافی ہے ۔ (45)

اولیاء پر اعتقاد

اولیاء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اس لیے کہ اولیائے کرام عالمین ِ شریعت ، عاملینِ طریقت اور علمائے ربانیین ہوتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺکی امت میں ان اولیاء کرام کی تعداد تین لاکھ سے متجاوز ہے ۔ دنیا ان کے فیوض و برکات سے ایک لمحہ کے لیے بھی خالی نہیں رہ سکتی جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے لولاالابرار لھلک الفجار ’’ اگر نیک لوگ نہ ہوتے تو بدکار ہلاک ہو جاتے ‘‘ آدم الاولیاء حضرت علی علیہ السلام اور خاتم الاولیاء حضرت امام مہدی علیہ السلام آخر الزمان ہیں ۔ جس طرح شریعت میں انبیاء پر اعتقاد واجب ہے اسی طرح طریقت میں اولیاء پر اعتقاد بھی واجب ہے ۔ (46)

قیامت پر اعتقاد

قیامت کی دوقسمیں ہیں :
۱۔ قیامت ِانفسیہ
۲۔ قیامت ِآفاقیہ
دونوں قسموں میں سے ہر ایک کی چار چار صورتیں ہیں :
۱۔ صغریٰ
۲۔ وسطیٰ
۳۔ کبریٰ
۴۔ عظمیٰ
قیامت محل ثواب و عذاب ہے۔
قیامتِ صغریٰ انفسیہ رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادِ گرامی موتوا قبل ان تموتوا ’’ مرنے سے پہلے ہی موتِ اختیاری سے مر جایا کرو ‘‘ کے مطابق دنیا کی حیاسوز لذتوں اور مذموم خواہشات سے توبہ کر کے نفس ِاماّرہ کو مار ڈالنے اور اسے اعمالِ صالحہ اور خصائلِ حمیدہ سے نئی زندگی بخشنے کا نام ہے ۔
قیامت ِوسطیٰ انفسیہ عالم ِملک کے صوری مکاشفات سے عالمِ ملکوت کے معنوی مشاہدات کی طرف منتقل ہو جانا اور ان لوگوں میں شامل ہو جانا ہے جن کے بارے میں رسول اﷲ ﷺنے فرمایا کہ ابدانھم فی الدنیا و قلوبھم فی الاٰخرۃ بالاشباح فرشیون و بالارواح عرشیون ’’ ان کے بدن دنیا میں اور دل آخرت میں ہوتے ہیں وہ اجسام کے لحاظ سے زمین والے ہیں اور پاکیزہ روحوں کے لحاظ سے عرش والے ‘‘ ۔
قیامت ِکبریٰ انفسیہ اﷲ تعالیٰ کے ارشاد وَنُفِخَ فِیْ الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِیْ الْاَرْضِ اِلاَّ مَا شَآئَ اﷲَ ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَاھُمْ قِیَام’‘ یَّنْظُرُوْنَO (الزّمر ۶۸) ’’اور صور پھونکا جائے گا اور آسمانوں والے اور زمین والے سب بے ہوش ہو جائیں گے ماسوائے اس فرد کے کہ جس کو اﷲ چاہے ۔ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا پس ناگہاں لوگ کھڑے کھڑے دیکھ رہے ہوں گے ۔ ‘‘ کے مطابق عالمِ ملکوت اور افلاک سے تعلق رکھنے والے نفوس اور عقول سے عالم ِ جبروت کے اجسام سے پاک عقل ِ اول اور زندگی کے بحرِ بیکرا ں کی طرف کوچ کرجانے کا نام ہے ۔
قیامت عظمیٰ انفسیہ جسموں ، روحوں ، ثابت اعیان اور تشخصات سے پوری طرح فنا ہوجانا ، عالم ِ لاہوت کو رسائی پا جانا ، عالم ِ لاہوت میں مضمحل اور نابود ہوجانا اور حقیقی زندگی کے ساتھ اس میں باقی رہنا ہے ۔
قیامتِ صغریٰ آفاقیہ جزوی حالت میں کلی طور پر ایک تباہ کن سبب کی بناء پر اضطراری طور پر اپنی طبعی موت سے لوگوں میں سے کسی فرد کے مرجانے کا نام ہے ۔ کیونکہ فرمان ِرسول ﷺ ہے کہ من مات فقد قامت قیامتہ ’’جو شخص مر جائے تو گویا اس کی قیامت برپا ہوگئی ۔ ‘‘
قیامت ِ وسطیٰ آفاقیہ طاعون یا دیگر وبائی امراض ، قتل ِ عام ، یا قحط وغیرہ کی بنا پر بہت سے لوگوں کے موت کا شکار ہوجانے کا نام ہے ۔
قیامت ِ کبریٰ آفاقیہ طوفان ِ نوح ؑ کی مانند اطراف ِ عالم میں ایک چھوٹی سی جماعت کے سوا عام لوگوں کی ہلاکت کا نام ہے ۔
قیامت ِعظمیٰ آفاقیہ نظام ِشمسی کے منطقہ ٔ بروج مختل ہونے اور نظام ِایاّم کا اعتدال معطل ہونے کی وجہ سے کرّۂ آب کا کرّۂ خاک کو اپنے اپنے اصلی طبعی میلان کے مطابق پوری طرح گھیر لینے کا نام ہے ۔ ایسے میں روئے زمین پر کوئی بھی ذی روح باقی نہیں رہے گا جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ۔ کُلَّ مَنْ عَلَیْھَا فَانO وَ یَبْقَیٰ وَجْہُ رَبّکَ ذُوْالْجَلاَلِ وَ الاِْکْرَام ِ O ( الرحمٰن ۲۶ ، ۲۷)
’’ زمین پر موجود ہر ذی روح فنا ہو جائے گا اور تیر ے پرورگار کی ذات باقی رہے گی ۔ ‘‘
اس حالت میں رب الارباب جل شانہ مخلوقات سے مخاطب ہو کر فرمائے گا ۔ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ’’ یعنی آج کے دن اقتدارِ اعلیٰ کس کو حاصل ہے ؟‘‘ کوئی بھی ایسا باقی نہ بچے گا جو پرورگار عالم کے اس سوال کا جواب دے سکے چنانچہ خداوند عالم خود جواباً فرمائے گا ۔ ِﷲِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ O (غافر ۱۶) ’’ آ ج کے دن اقتدارِ اعلیٰ قہر والے خدا ئے یکتا کو حاصل ہے ۔ ‘‘ (47)
اس بات پر اعتقاد بھی واجب ہے کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔
اخروی زندگی کی لائق و مناسب صورتوں میں سوال ِ نکیر و منکر ، پل ِ صراط ، میزان، حساب اور جنت و دوزخ پر بھی بغیر کسی تاویل کے اعتقاد رکھنا واجب ہے ۔ یہ بھی اعتقاد رکھنا چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ قیامت ِ عظمیٰ کے روز بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک جسم میں روح ڈالے گا اور لوگو ں کو ایسا ہی پیدا کرے گا جیسا اس نے ان کو پہلی بار دنیا میں پیدا کیا ۔ یہ صورت حال ایک خاص وقت کے بعد ہو گی ۔ یعنی موت کے بعد عالم ِ آخرت کے مثالی اکتسابی جسم کے ساتھ بلا تاخیر اس کو نعمت یا عذاب عطا کیا جاتا ہے ۔
جنت کی ان تمام نعمتوں پر اعتقاد رکھنا واجب ہے جن کا اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے اور رسول اﷲ ﷺ نے ہم کو خبر دی ہے ۔ یہ نعمت دنیوی نعمتوں سے زیادہ عمدہ اور پرلطف ہیں ۔ عوام الناس ان نعمتوں کو سن چکے ہیں اور ایک گروہ خاص ان نعمتو ں کو دیکھ چکا ہے ۔
اسی طرح دوزخ کے دردناک عذاب پر بھی اسی طرح اعتقاد رکھنا واجب ہے جس طرح قرآن پاک میں ان کا ذکر آ یا ہے ۔ جنت آسمانوں میں اور دوزخ زمین کے سب سے نچلے طبقے میں ابھی سے موجود ہیں ۔ عالم ِآخرت کے مثالی اکتسابی جسموں کے ساتھ جنت والے جنت کو اور دوزخ والے دوزخ کو رسائی پا سکتے ہیں جیسا کہ نیند میں ہوتا ہے کیونکہ نیند موت کا بھائی اور اس کی تصویر ہے ۔
جو کوئی بھی اسی قدر اعتقاد رکھے گا اس کا ایمان اﷲ پاک کے نزدیک درست ہوگا کیونکہ لمبی لمبی بحثوں میں پڑنا وقت کا تقاضا نہیں اور اﷲ تعالیٰ دلوں میں راست امور کا القاء فرمانے والا ہے ۔ (48)
واپس اوپر جائیں

نوربخش ؒکا فقہی دبستان


غوث المتاخرین سید العارفین میر سید محمد نوربخشؒ کے فقہی دبستان کا اجمالی تعارف تصانیفِ نوربخشؒ کے ذیلی موضوع ’ الفقہ الاحوط ‘ کے زیرِ عنوان ہو چکا ہے ۔
جیسا کہ لکھا جا چکا ہے فقہ الاحوط ۵۱ ابواب پر مشتمل ضخیم اور جامع فقہی کتاب ہے۔ آغاز ِ کتاب میں نوربخشؒ نے اہلِ اسلام کے درمیان موجود اصولی اور فروعی اختلافات کو ختم کرنے اور شریعتِ محمدیہ ﷺ کو اسی صورت میں رائج کرنے کا اعلان فرمایا ہے جیسی وہ خود حضور نبی کریم ﷺ کے دورِ مبارک میں رائج تھی ۔ نوربخش ؒ نے ہر شرعی مسئلے میں اعتدال اور اوسط کا راستہ اختیار فرمایا ہے جو دین ِاسلام کی اصل روح ہے ۔ آپ ہر باب کی ابتداء قرآن کریم کی کسی آیت سے کرتے ہیں اور پھر اس آیت کریمہ کی تشریح کے طور پر فقہی امور پر تفصیلی بحث کرتے ہیں ۔ آپ کا انداز بیان عرفانی ہے اور آپ کا لہجہ دوٹوک ہے ۔ اختلافی مسائل میں عموماً نوربخش ؒ کا نقطہ ٔ نظر نہایت وسعت ِنظر کا حامل ہے ۔ وہ ایمان اور اسلام کے بنیادی ارکان پر عمل پیرا ہونے والے ہر کلمہ گو کا احترام کرتے ہیں اور کسی کلمہ گو کے حق میں معمولی اصولی اور فروعی اختلافات کی بنیاد پر کفر و شرک کا فتویٰ صادر کرنے کو جاہلوں کا شیوہ سمجھتے ہیں ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اسلام میں ایسی تنگ نظری اور تعصب کا وجود نہیں جیسا کہ نام نہاد فقہا نے اس کو اہلِ عالم کے آگے پیش کیا ہے ۔ نوربخشؒ ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کو بھی روا سمجھتے ہیں اور ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کو بھی ۔مخصوص حالات میں پاؤں دھونے کو بھی جائز سمجھتے ہیں اور مسح کرنے کو بھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر طریقے کو حضور نبی کریمﷺ نے اختیار فرمایا ہے اور بقول ِڈاکٹر حمید اﷲ اﷲ تعالیٰ کو اپنے نبی ﷺ کی ہر ہر سنت سے اس درجہ پیار تھا کہ اس نے ہر ہر طریقے کو تا قیامت زندہ رکھنے کا اہتمام فرمایا اور یوںکسی سنت کو ایک فرقے نے اپنا یا اور کسی سنت کو دوسرے فرقے نے ۔(49) اور شاہ ولی اﷲ ؒ اس باب میں فرماتے ہیں کہ چونکہ ہر مسلمان کے لئے تمام احکام شرعیہ میں ماہر فقیہ ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی ایک امام کے مسلک کو اختیار کرے لیکن ساتھ ہی ساتھ زندگی میں کم سے کم ایک بار دوسرے مسالک کے طریقے کے مطابق بھی احکام ِ شریعت کو بجالائے تاکہ روز ِ قیامت کسی سنت ِ نبویﷺ کے فوت ہوجانے کا افسوس نہ ہو۔(50)

فقہ اسلامی کی تاریخ اور فقہ الاحوط کا خصوصی امتیاز


صحابہ ٔ کرام میں غالباً حضرت عبداﷲ بن مسعود اوّلین فقیہ ہیں جن کی فقہ ہمارے درمیان موجود ہے۔ عبداﷲ بن مسعود کوفہ میں قانون کے استاد کی حیثیت سے درس دیتے تھے ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے ایک شاگردعلقمہ نخعی نے اور ان کے بعد ابراہیم نخعی نے اس سلسلے کو جاری رکھا ۔ ابراہیم نخعی کے جانشین ایک ایرانی حماد بن ابی سلیمان بنا ۔ حماد کی وفات کے بعد ان کا ایک ایرانی شاگرد ان کا جانشین بنا جن کا نام امام ابو حنیفہ تھا ۔ امام ابوحنیفہ نے اپنے شاگردوں میں سے چالیس ماہرین کا ایک ادارہ قائم کیا جہاں فقہی مسائل پر بحث و تمحیص ہوا کر تی ہے اور نتائج کو امام ابو یوسف لکھ لیا کرتے تھے ۔ دوسری طرف امام ابوحنیفہ ہی کے زمانے میں خلیفہ منصور نے امام مالک سے فرمائش کی کہ وہ اپنی فقہی کتاب مکمل کریں تاکہ اسے حکومت کا قانون بنا کر نافذ کیا جائے ۔ امام مالک نے اپنی انفرادی رائے کو قانون بنا کر نافذ کرنے سے انکار کر دیا تاہم ابوحنیفہ کی کوشش سے ایک مربوط قانون بنا لیا گیا ۔ ایک اور فقیہ امام حسین ؑ کے پوتے حضرت زید بن علی زین العابدین ؑ ہیں ۔ زید بن علی بہت بڑے فقیہ تھے ان کی مشہور فقہی کتاب ’ المجموع فی الفقہ ‘ زمانہ ٔحال تک پہنچی ہے ۔ اس کتاب کا آغاز ’ کتاب الطہارۃ ‘ سے ہوتا ہے پھر دیگر عبادات اور معاملات کا بیان ہے ۔ بعد کی تمام فقہی کتابیں اسی کتاب کے انداز پر مرتب ہوئیں ۔ امام ابوحنیفہ زید بن علی ؑ کے بڑے معتقد تھے اور فقہی معاملات میں ان سے استفاد ہ کرتے تھے ۔
صحابہ کرام میں عبداﷲ بن مسعودؓ کے علاوہ عبداﷲ بن ؓعمر اور عبداﷲ بن عباس ؓبھی فقیہ گزرے ہیں ۔ بعد کے فقہا میں امام شافعی بیک وقت امام ابوحنیفہ ، امام محمد اور امام مالک کے شاگرد تھے اور امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے ۔ یوں اسلامی فقہ کے بڑے بڑے امام ایک دوسرے کے استاد شاگرد تھے اور جزوی اختلافات کے علاوہ ان کی تعلیمات بھی ایک دوسرے کے مماثل ہیں ۔(51)
مندرجہ بالا بحث میں ایک اہم نام کا ذکر عمداً مؤخر کیا گیا ہے اور وہ نام مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ کا ہے ۔ حضرت علی ابن ابی طالب کی ذات شریف تمام اوصاف ِشریفہ کی جامع تھی ۔ نوربخش ؒکے عقیدے کے مطابق آپ ہی وہ امام حقیقی ہیں جن میں ظاہر و باطن کی تمام خوبیاں یکجا ہوگئی تھیں ۔ آپ ایک وسیع اسلامی سلطنت کے خلیفہ بھی تھے ، اور سلطنت ِمعنوی کے تاجدار بھی ۔ رسول اﷲ ﷺنے انا مدینۃ العلم وعلی بابھا ’’ یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ اس کا دروازہ ہیں ‘‘ فرما کر اپنی علمی میراث کا جانشین بھی حضرت علی ؑ ہی کو قرار دیا ہے ۔ سلسلہ ٔ نوربخشیہ یعنی سلسلۃ الذھب الصوّفیہ کا مرجع بھی حضرت مولائے متقیان علی علیہ السلام کی ذات ِبابرکات ہی ہے ۔ جملہ علومِ شریعت و طریقت و حقیقت جو میراث ِ نبوت ﷺ کے طور پر مولائے متقیان حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو عطا ہوئے تھے ، آپ ؑ کے بعد حضرات ِحسنین علیھم السلام کو پہنچے کیونکہ آپ کا خرقہ ٔ باطنی بھی انہی حضرات کو عطا ہوا ۔ پھر حضرت امام حسین علیہ السلام سے یہ جملہ علوم یداً بیداٍ منتقل ہوتے ہوئے حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک پہنچے ۔ اور یہاں تک اس سلسلے میں ہمیں تمام ائمہ کرام تاریخ ِ اسلام میں علم و معرفت کے روشن میناروں کی حیثیت میں نظر آتے ہیں ۔ خصوصاً حضرت امام محمد باقرؑ اور حضرت ا مام جعفر صادق ؑ کی علمی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف تھا ۔ حضرت امام علی رضاؑ کے بعد جہاں خرقہ ٔتصوّف شیخ معروف کرخی ؒ کو عطا ہوا وہاں علوم ِشریعت کا وہ مجموعہ بھی جو حضور نبی کریمؐ کے زمانے میں رائج تھا سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہوا اُن تک پہنچا ۔ پھر ان سے یہ مجموعہ شریعت محمدیہ شیخ سری سقطی ؒ کے واسطے سے شیخ جنید بغدادی ؒ تک پہنچا ۔ شیخ جنید بغدادی ؒ اپنے عہد کے بہت بڑے عالم شریعت تھے اور طاؤس العلماء اور امام ِائمہ کے ناموں سے مشہور تھے ۔ جنید بغدادی ؒ کے بعد سلسلتہ الذہب کے بزرگوں میں شیخ احمد غزالی ؒ ( برادرِ امام محمد غزالی ؒ) ، شیخ ابونجیب سہروردی ؒ ، شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ ، شیخ عبدالرحمن اسفرائنی ؒ ، شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ اور امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کا علمی پایہ خصوصیت کے ساتھ نہایت اعلیٰ تھا ۔ یہ جملہ بزرگ تصانیف کثیرہ کے مالک ہیں اور علومِ طریقت اور شریعت دونوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے ۔ ان کی قابل ِذکر خصوصیت یہ تھی کہ یہ سب کے سب علمائے ربانیین ، حامل ِ علم لدنی ّ اور وارث ِعلم ِمحمد مصطفیٰ ﷺ ہونے کے باوصف کسی مخصوص فقہی مسلک کی تقلید کے محتاج نہ تھے ۔ بلکہ یہ تو خود صاحب ِ تحقیق تھے اور علمِ شریعت و طریقت کے بنیادی منبع و مصدر سے براہ راست فیض پاتے تھے ۔ ان بزرگوں کا مسلک وسیع النظری کا مسلک ہے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نوربخشؒ کا فقہی دبستان غیر تحریری صورت میں خاتم النبین حضرت محمد مصطفیﷺ کے زمانہ مبارک سے شروع ہو کر ہر دور میں اپنا وجود ِ استقلالی رکھتا تھا اور یہی شریعت ِ محمدیہ ﷺ کی وہ شکل تھی جو زمانۂ صدرِ اسلام میں رائج تھی ۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا ہے سلسلۃ الذھب کے کئی بزرگو ں نے فقہی موضوعات پر قلم اٹھا یا ہے جن میں حضرت جنید بغدادی ؒ ، امام احمد غزالی ؒ ، شیخ ابونجیب سہروردیؒ اور شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔ لیکن میر سید محمد نوربخشؒ کا زندہ ٔ جاوید کارنامہ ’ الفقہ الاحوط ‘ اس فقہی دبستان کی سب سے جامع اور قابل قدر تحریری صورت ہے ۔ پس ’ الفقہ الاحوط ‘ وہ مجموعہ ٔشریعت ِمحمدیہ ﷺ ہے جو بابِ شہر علم حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے فقہی دبستان کی صورت میں بزرگان سلسلۃ الذہب کے وسیلے سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہوا میر سید محمد نوربخشؒ کے سینہ ٔ انور تک پہنچا اور آپ نے اسے کتابی شکل دے دی ۔ نوربخشؒ نے احیائے شریعت ِ محمدیہ ﷺ اور رفع ِ بدعت کو اپنا مقصدِحیات قرار دیا ہے ۔ فقہ الاحوط کا اسلوب عرفانی ہے ۔ یہ کتاب ایک صوفی فقیہ کا لازوال شاہکار ہے اور اس کے مطالعے کے بغیر فقہ کے طالبعلم کی معلومات مکمل قرار نہیں پاسکتیں ۔

الفقہ الاحوط کی فہرست ِابواب

الفقہ الاحوط کے اکیاون ابواب درج ذیل ہیں :
باب الطھارۃ
باب الصلوٰۃ
باب الزکوٰۃ
باب الصوم
باب الاعتکاف
باب الحج
باب الجھاد
باب الامربالمعروف
باب النکاح
باب الطلاق
باب الظھار
باب الایلاء
باب اللعان
باب العتاق
باب التدبیر
باب المکاتبہ
باب الأیمان
باب الحدود
باب فی حد القذف
باب فی حد السرقہ
باب فی شرب الخمر
باب المرتد
باب القصاص
باب التجارۃ
باب القرض
باب الحجر
باب الضمان والکفالۃ
باب الصلح
باب الودیعۃ
باب العاریۃ
باب اللقطۃ
باب الجعالۃ
باب الغصب
باب ردّ المظالم
باب المفقود
باب الشرکۃ
باب القراض
باب المزارعۃ
باب المساقات
باب الاجارۃ
باب الشفعۃ
باب احیاء الموات
باب الوکالۃ
باب الوقوف والصدقات
باب الصدقۃ
باب السکنیٰ
باب الھبۃ
باب السبق والرمایۃ
باب الفرائض
باب السھام
باب الحجب عن الارث
واپس اوپر جائیں

الفقہ الاحوط کے چیدہ مسائل


زیر ِنظر کتاب الفقہ الاحوط کے مضامین کے مکمل تعارف کی متحمل نہیں ہو سکتی لیکن ذیل میںمشتے از خرمنے کی مثال اس عظیم فقہی کتاب کے چند ایک دلچسپ مسائل کا مختصر تعارف پیش کیا جائے گا ۔ نوربخش کے فقہی دبستان سے مکمل آگاہی حاصل کرنے کے لئے ’الفقہ الاحوط‘ کا عمیق مطالعہ نیز دیگر کتبِ فقہ سے اس کا تقابل لازمی ہے ۔

باب الطھارۃ

۱۔طہارت کی دو قسمیں ہیں ۔
طہارت ظاہری و طہارت باطنی ( توبہ )
طہارت ِ ظاہری کی مزید دوقسمیں:
۱) طہارت ِ صغریٰ ( وضو) اور
۲)طہارت ِکبریٰ (غسل) ہیں۔
وضو کے واجبات:
۱۔ نیت
۲۔ منہ کا دھونا
۳۔ ہاتھوں کا کہنیوں تک دھونا چاہے انگلیوں کے سرے سے شروع کر کے کہنیوں تک دھوئے یا کہنیوں سے شروع کر کے انگلیوں کے سرے تک دھوئے ۔
۴۔ جتنی مقدار پر ہو سر کا ایک بار مسح
۵۔ ٹخنوں سمیت پیر کا مسح کرنا یا استنجا کے چھینٹوں سے بچانے میں دشواری کی بنا پر یا مسلمانوں کی عام ابتلا کی صورت میں دھونا ۔
۶۔ ترتیب اور
۷۔ موالات (52) ہیں۔
فائدہ :نوربخشؒ نے اسلام کے دیگر مکاتبِ فکر کے فقہا ء کے برخلاف وسیع النظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھوں کے دھونے اور پاؤں کے مسح اور دھونے میں اسلام کے ہر مکتب ِ فکر کے طریقے کو درست قرار دیا ہے ۔ نیز دیگر تمام اعمال کی طرح نیت کو مقدم رکھا ہے ۔
۲۔ وضو کے مسنونات میں وضو کی مندرجہ ذیل ادعیہ شامل ہیں :
منہ دھوتے وقت اللھم بیض وجھی بنور معرفتک یوم تبیض وجوہ اولیائک و تسود وجوہ اعداء ک
دائیں بازو دھوتے وقت اللھم اعطنی کتابی بیمینی وحاسبنی حساباً یسیرًا
بائیں بازو دھوتے وقت اللھم لا تعطنی کتابی بشمالی ولا من وراء ظھری
سر کا مسح کرتے وقت اللھم غشنی رأسی برأ فتک و رحمتک وضللنی تحت ضلال عرشک
پاؤں کا مسح کرتے وقت اللھم ثبت قدمی علی الصراط یوم تثبت فیہ الاقدام و تزل فیہ الاقدام پڑھے ۔ (53)
فائدہ:ان دعاؤں کے پڑھتے وقت صوفی گویا میدان ِ قیامت میں کھڑا ہوتا ہے جو ابدانھم فی الدنیا و قلوبھم فی لاٰخرۃ کی ایک مثال ہے ۔
۳۔ موزوں کے اندر پیروں کا مسح کرنا کافی ہے اور ان کو دھونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر موزہ کشادہ ہو تو ان کے اندر ہاتھوں کو داخل کر کے مسح کرے اور اگر موزہ کشادہ نہ ہو تو موزوں پر ہی مسح کرنا روا ہے ۔ ( 54)
۴۔ وضو اور غسل سے پہلے استنجا اور استبرا کرنا واجب ہے ۔ پانی سے پہلے ڈھیلا اور پتھر کا استعمال ناپاکی کو ہلکا کرنے کی غرض سے ہے اس نہ صفائی حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ پاکی۔ (55)
فائدہ: استنجا ء بالماء مذہب ِصوفیہ کا خصوصی امتیاز ہے ۔ کیونکہ استنجاء طہارت کی بنیاد اور طہارت عبادت کی شرط ہے اس لیے استنجاء جب تک قابلِ اعتبار نہ ہو عبادت قابل ِاعتبار نہیں ہو سکتی ۔ جدید سائنسی تحقیق کی رو سے بھی استنجاء بالماء حفظان ِصحت کے اصولوں کے عین مطابق ہے جبکہ دیگر طریقے ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتے ۔
۵۔ وضو واجب کرنے والی چیزیں پیشاب ، پاخانہ ، ہوا ،ودی،زوال ِ عقل اور گہری نیند ہیں ۔ مذی عام ابتلا والی چیزوں کے حکم میں ہے اور معاف ہے ۔ زوال ِعقل سکرِ باطنی جیسے دیدار الہی اور محبت ِالہٰیہ کے شوق کی وجہ سے ہو تو یہ ظاہری پاکی میں اضافہ کر دیتی ہے ۔ اسی طرح اہلِ ریاضت باطن میں حق کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور دلوں پر غیب سے لگنے والی ایک خوشبو کی وجہ سے وہ محسوس چیزوں سے غائب ہوجاتے ہیں اور معدہ کے خالی ہونے کی صورت میں ان کے ظاہری حواس ٹھہر جاتے ہیں تو یہ وضو کی صورت میں باعث ِ قباحت نہیں ۔ (56)
فائدہ:نہ صرف مسائل میں احوط نظریہ اختیار کیا گیا ہے بلکہ اہل ِباطن کے مخصوص احوال کے باعث پیش آمدہ مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو ایک فقیہ عارف کی خصوصیت ہے ۔

باب الصلوٰۃ

۱۔سمت ِقبلہ اور ظہر کی نماز کے لیے وقت کی ابتداء کو پہچاننے کے سلسلے میں دائرہ ٔہندیہ کا ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں دائرہ ٔہندیہ کے بغیر متحقق نہیں ہو سکتیں۔ (اس کی تفصیل فقہ الاحوط میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔ ) (57)
فائدہ:دائرہ ہندیہ کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ نوربخش ؒایک اعلیٰ پایے کے جغرافیہ دان اور ماہرِ فلکیات بھی تھے ۔ دائرہ ٔہندیہ کی باریکیوں کو سمجھنا عام فقہا ء کے بس کی بات نہیں ہے ۔
۲۔ حالتِ قیام میں ہاتھوں کے آداب کے ضمن میں فرمایا ہے کہ ہاتھوں کو رانوں کی سیدھ میں کھول کر رکھنا جائز ہے ۔ ناف کے نیچے یا ناف کے اوپر اور چھاتی کے نیچے دائیں ہاتھ کو بایاں پر رکھنے کی صورت میں ہاتھو ں کا باندھ کر رکھنا بھی روا ہے ۔ (58)
فائدہ:اہل ِ اسلام کے فقہی مسالک اس بظاہر غیر اہم مسئلے پر غیر ضروری اختلاف کا شکار ہیں ۔ چنانچہ اہل تشیع اور مسالک ِاہل ِ سنت میں مالکی ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کو ہی روا سمجھتے ہیں اور دیگر مسالک اہلِ سنت صرف ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کو روا سمجھتے ہیں ۔ جب کہ اﷲ تعالیٰ کو اصل غرض اپنے بندے کی نیت اور خشوع و خضوع سے ہے۔ ان غیر ضروری اختلافات کو ہوا دے کر اسلام کے مختلف فرقوں کے درمیان دوری پیدا کی گئی ہے جبکہ شاہ سیّد جو اتحاد بین المسلمین کے علمبردار ہیں ہر طریقے کو مسنون اور روا قرار دیتے ہیں ۔
۳۔ قرا ء ت کی ذیل میں فرمایا ہے کہ جو شخص بسم اﷲ الرحمن الرحیم کو سورہ فاتحہ اور سورہ برات کے سوا ہر ایک سورہ کا حصہ نہ سمجھتا ہو اگر ایسا شخص بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھتا ہو تو بھی اس کی نماز ناقص ہو گی اور اسے آخرت کا کامل فائدہ نہ دے گی ۔ (59)
فائدہ:اﷲ تبارک و تعالیٰ نے سورہ ٔبرات کے علاوہ ہر سورت کے آغاز میں بسم اﷲ الرحمن الرحیم کا خصوصی التزام رکھا ۔ قرآن کی کوئی صورت بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے بغیر ابتدا نہیں کی جا سکتی ۔ اہل ِصوفیہ کا نظریہ روح ِ قرآن سے مطابقت رکھتا ہے۔
۴۔ سورۃ الفاتحہ کے آخر میں آمین کہنا اس لیے مکروہ ہے کہ اکثر لوگ آمین پر سورہ ٔ فاتحہ کا حصہ ہونے کا گمان کریں گے ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے لہذا اس شک کو دور کرنے کی خاطر آمین کوچھوڑدینا واجب ہے ۔ (60)
۵۔ پانچ فرض نمازوں کی دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں صورتوں میں قنوت پڑھنا جائز ہے ۔(61)
۶۔ نماز کے بعد تعقیبات کا پڑھنا ایسی شریف سنت ہے جو نبی کریم ﷺسے چلی آتی ہے ۔ صرف نیک بندے ہی اس شریف سنت کے وارث ہو سکتے ہیں ۔ کم از کم تعقیب تینتیس مرتبہ سبحان اﷲ پڑھنا ، تینتیس بار الحمد ﷲ پڑھنا اور تینتیس بار اﷲ اکبر پڑھنا ہے ۔ پانچوں فرض نمازوں میں سے ہر ایک نماز کے بعد اس کے زیادہ پڑھنے کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے ۔ صبح اور عصر کی نمازوں کے بعد تعقیب کا پڑھنا زیادہ تاکیدی حکم رکھتا ہے ۔ (62)
فائدہ :مذہب ِ صوفیہ کا ایک بنیادی وصف تعقیبات ، اوراد اور ادعیہ کی کثرت ہے ۔ مندرجہ ٔبالا حکم کم سے کم صورت ہے وگرنہ اہل ِصوفیہ نماز ِصبح سے قبل دعائے صبحیہ ، نماز ِصبح کے بعد اوراد ِففتحیہ اور نماز عصر کے بعد اوراد ِعصریہ کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں ان کے علاوہ تسبیحات ِاوقات ِخمسہ ، تسبیحات ِایام ِہفتہ اور دیگر بہت سی مسنون دعائیں مستزاد ہیں ۔ اوراد ِفتحیہ خصوصی طور پر اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سلسلۃ الذہب کے عظیم بزرگ امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ نے اوراد کے اس مجموعہ کو چودہ سو اولیاء اﷲ کے اوراد جمع کر کے مرتب فرمایا اور خود حضور نبی کریم ﷺ نے بھی واقعہ میں حضرت امیر کو یہ اوراد عطا فرمائے ۔ کشمیر اور بلتستان میں امیر کبیر ؒ کی طرف سے اوراد ِفتحیہ کے پڑھنے کی عوام الناس کو عام اجازت ہے ۔
۷۔ نافلہ ٔ رمضان ( صلوٰ ۃ التراویح ) کی ادائیگی میں جماعت بدعت ہو سکتی ہے ۔ اے کاش ہر بدعت اس جیسی ہوتی ۔ پس اگر چاہے تو اسی نافلہ کو اکیلے طور پر ادا کرے چاہے تو نمازیوں کے ساتھ موافقت کی شکل میں ادا کرے ۔
فائدہ:حکمت سے بھرپور اس حکم میں اہل ِاسلام کے درمیان ایک اور اختلاف کا قلع قمع خوبصورتی سے کر دیا گیا ہے ۔
۸۔ امامِ نماز ِجمعہ کی صفات کی ذیل میں فرماتے ہیں کہ یہ صفات مرد ہونا ، بالغ ہونا، صاحب ِعقل ہونا ، مسلمان ہونا ، عادل ہونا ، عالم ہونا ، پرہیزگار، بہادر ، سخی ، اور ملت ِمحمدیہ میں سب سے اعلیٰ حسب و نسب کا حامل ہونا ہیں ۔ یہ خصلتیں شرطوں اور ارکان کی مانند ہیں ۔ اگر ان اوصاف کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ امام کوئی ایسا ولی ہو جو صاحب ِ ہدایت ہو ، خود کامل ہو دوسروں کو کامل بنانے والا ہو ، علمِ شریعت ، علم ِ طریقت اور علمِ حقیقت تینوں پر کافی عبور رکھنے والا ہو۔ ولایت کے شعبہ جات کا جامع ہو مثلاً اطوارِ سبعہ قلبیہ ، انوار ِمتلونہ، مکاشفات ِملکوتیہ، مشاہداتِ جبروتیہ ، معائنات ِ لاہوتیہ ، فنا فی اﷲ اوربقا باﷲ کا حامل ہو اور آدم الاولیاء حضرت علی علیہ السلام کی طرح جملہ صفاتِ اسمائے الہٰی کا مظہر ہو تو یہ نور علیٰ نورہے ۔ اگر ان اوصاف کا حامل امام نہ مل سکے تو شرطوں اور ارکان کا درجہ رکھنے والی خصلتوں کا حامل امام کا ہونا جمعہ کے لئے ضروری ہے ۔ اگر ایسا بھی نہ مل سکے تو امام کا کم از کم ایسا مسلمان ہونا ضروری ہے جو مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے نہ روکتا ہو۔ یہ حالت تیمم کی سی ہے۔ (63)
فائدہ:اہل ِاسلام کا ایک فرقہ امام ِحقیقی کے غیبت میں ہونے کے باعث نماز ِجمعہ کی فرضیت کا ہی قائل نہیں ہے اور اسے نماز ِظہر کا قائم مقام نہیں سمجھتا ۔ نوربخشؒ کے مسلک میں وسیع گنجائش موجود ہے جو اولیاء اﷲ کی عبادت سے لے کر عوام الناس کی عبادت تک کا احاطہ کرتا ہے ۔ نماز ِ جمعہ شعائرِ اسلام میں سے ہے جس کا قیام فرض ِ عین ہے ۔

باب الجھاد

۱۔ جہاد کی دو قسمیں ہیں :
جہاد اصغر ( جہاد بالسیف ) اور
جہادِ اکبر( جہادبالنفس)
۲۔ جہاد ِ اکبر کی انجام دہی کے لئے چاہیے کہ امام ایسا ہو جو ولایت کے مقامات میں کمال درجے پر فائز ہو جیسے اطوارِ سبعہ قلبیہ ، انوار متنوعہ غیبیہ ، مکاشفات و مشاہدات و معائنات از آثار و افعال و صفات و ذات وغیرہ ۔ جو لاہوت میں فنا ہونے والا اور جبروت میں باقی رہنے والا ہو ، جملہ احوال کا معائنہ کرنے والاہو اور صرف کانوں سے سننے پر قناعت نہ کرنے والا ہو ، ہدایت کرنے والا ہو ، روحانی راہوں پر چلنے والوں کو صحیح خدمت ، صحیح عزلت، صحیح خلوت نشینی ، صحیح صحبت اور ان کے احوال کے مناسب جملہ سیاسی مصلحتوں اور ریاضتوں کے ذریعے سے درجۂ کمال پر پہنچانے والا ہو، سالکین کے اخلاق کو پاکیزہ رکھنے والا اور ان کا حکیم ہو، سالکین کی بود و باش اور خلقت کو درست رکھنے کے لئے ان کا طبیب ہو ، شریعت کا مجتہد ہو ، طریقت کا مجاہد ہو ، علم الیقین ، عین الیقین اور حق الیقین کی صورتوں میں حقیقت تک رسائی پانے والا ہو ۔ ان علوم کے اصول ، فروع ، کلیات اور جزئیات پر یقین رکھنے والاہو ۔ سالکین کے تزکیہ ٔنفوس کے لیے کوشاں رہنے والاہو اور ان کی قلبی صفائی کے معاملے میں ان کا مددگار ہو ۔
اگر ان تمام اوصاف کاجامع امام نہ پایا جاتاہوتو ضروری ہے کہ امام پرہیزگار ہو ، ریاضت کرنے والا ہو ، عالم ِجبروت میں پرواز کرنے والاہو ، خدا کی یکسوئی میں فنا ہونے والا اور خدا ہی کے تصور کے ساتھ باقی رہنے والاہو ، طریقت کے آداب، چلہ کشی کے قوانین ، سالکین کی تربیت اور واقعات کی تعبیروں کا خوب جاننے والاہو اور کسی کامل مرشد کی طرف سے بیعت لینے ، ذکر ِالہٰی کی تلقین کرنے اور طالبانِ راہ ِ حق کو ہدایت کرنے کا اجازت یافتہ ہو ۔ اسی طرح سے واجب ہے کہ اس امام کا سلسلہ کسی قسم کے انقطاع کے بغیر رسول اﷲ ؐ تک پہنچتا ہو ۔ اگر ایسا امام امتی ہو، قریشی ، ہاشمی یا علوی وغیرہ نہ ہو تو اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ رسول اﷲ ؐ سے اس کی نسبت باطنی ہے اور وہ رسول اﷲ ؐ کے صلبی نطفے سے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں قلبی نطفے سے جنا ہوا فرزند ہے ۔ پیغمبر ؐ کے فرمان کل تقی آلی’’ ہر پرہیز گار شخص میری آل میں داخل ہے ‘‘ سے اسی جانب اشار ہ ہے ۔ (64)
فائدہ:اس عبارت میں جہاں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مذہب ِصوفیہ نوربخشیہ میں جہاد اکبر یعنی جہاد بالنفس جو تصوّف و سلوک کا ہم معنی ہے ، کی امامت کے لئے شرائط کس قدر کڑی ہیں، وہاں یہ حقیقت بھی مترشح ہوتی ہے کہ حضور نبی کریم ؐ کی حقیقی اولاد آپ کی قلبی اولاد ہے ۔ صرف ظاہری حسب و نسب کے لحاظ سے اولاد ِ رسول ؐ کہلانے والا ہی آپؐ کی آل نہیں بلکہ ہر متقی آپؐ کی آل میں داخل ہے ۔

باب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر

صاحب ِتمیز مسلمان کے لئے مناسب ہے کہ وہ احتسابی فریضہ انجام دینے میں کوتاہی نہ کرے ۔ اس کام میں تمام نفسانی آلائشوں سے پرہیز کرے یہاں تک کہ اس کا مقصد صرف اور صرف تعظیم لامراﷲ اور شفقت علیٰ خلق اﷲ بن جائے ۔ وہ کسی ایسے مسئلے کے بارے میں رائے زنی کی جسارت نہ کرے جس پر امت ِاسلامیہ کا اتفاق نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی ایسے مسئلے کے بارے میں لب کشائی کی جسارت کرے جس کی حقیقت کو وہ یقینی طور پر نہ پہچان سکتاہو بلکہ وہ ایسے معاملے کی تحقیق کے سلسلے میں کسی ایسی شخصیت کی طرف رجوع کرے جو عالم ِربّانی ہو ، بے لوث عمل کرنے والاہو ، اخلاق ِحمیدہ سے متصف اور اخلاق ِذمیمہ سے مبرّا ہو ، نفسانی رجحا ن اور جہالت کا حامل نہ ہو، کام چور اور غصبانی نہ ہو ، اور احوال ِ ظاہری اور تقلیدِ رسمی میں مقید ہونے کے باعث عصبیت کا شکار نہ ہو ۔ (65)
فائدہ:اس عبار ت کی ابتداء میں عالم ِاسلام کے جملہ مبلغین کے لیے دو ایسے زرّین اصول عطا کر دیئے ہیں کہ ان پر کاربند ہو کر عالمِ انسانیت کو امن و محبت کا گہوارہ بنا یا جا سکتا ہے یہ دو اصول تعظیم لامر اﷲ اور شفقت علٰیٰ خلق اﷲ ہیں ۔ یعنی تبلیغ دین کے سلسلے میں مبلغ صرف اﷲ تعالیٰ کی رضا اور مخلوق پر شفقت کو اپنا مقصد اور نصب العین بنائے ۔ یہ رویہ ہر قسم کی خود غرضی ، تعصب ، تنگ نظری اور بغض و عناد کا یکسر قلع قمع کر دیتا ہے ۔ نیزمبلغین کے لئے کسی ایسے مسئلے میں لب کشائی سے منع کیا گیا ہے جس پر عالم ِ اسلام کے جملہ مسالک کا کلی اتفاق نہ ہو اور نہ ایسے مسئلے کے بارے میں دلیری کی اجازت دی گئی ہے جس کے بارے میں وہ حقیقی علم نہ رکھتا ہو ۔ اگر جملہ مبلغین ِاسلام ان احکامات کو پیش نظر رکھیں تو مسالکِ اسلام کے درمیان تمام اختلافات ، گروہی تعصباب اور فروعی مناقشات کا مکمل طور پر خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ یہاں نوربخشؒ پھر اتحاد بین المسلمین کے حقیقی داعی کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔

نکاحِ متعہ

نکاح ِ متعہ حاضر مہر کے عوض کسی گواہ کے بغیر منعقد ہونے والا دین ِاسلام کا ایک مشہور ، جائز ، درست اور وقتی نکاح ہے ۔
رسول اﷲ ﷺ کے زمانے میں عقدِ متعہ کے متحقق ہونے سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔ اس حالت میں حضور اکرم ﷺ اس دنیا سے رحلت فرما گئے اور آپ ﷺ نے عقد ِ متعہ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا ۔ عقدِ متعہ میں ردوبدل کی صورت حال رسول اﷲﷺ کی رحلت کے بعد رونما ہوئی تھی ۔
جو شخص یہ کہتا ہو کہ عقد ِمتعہ میں ردوبدل کی صورتِ حال اجماع امت سے پیدا ہوئی تھی تو یہ غلط ہے کیونکہ بہت سے بزرگان ِامت ِاسلامیہ نے عقدِ متعہ کا ثبوت فراہم کیا ہے ۔ اجماع ِامت حقیقی معنوں میں وہ معتبر ہے جو کسی کے برخلاف ہونے سے بالکل خالی ہو ۔ جب کوئی صاحب ِ اقتدار کسی معاملے کا حکم دے بیٹھا ہو اور کسی شخص کو اپنے قتل اور عزت کے خوف سے اس کے برخلاف چلنے کی قدرت نہ ہوتی ہو تو اس کا نام اجماع ِ امت نہیں ہے۔ میں شریعت محمدیہﷺ سے بدعتوں کو ختم کرنے اور شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں رائج احکام کے زندہ کرنے پر مامور ہو ں۔ (66)
فائدہ:۱۔ نکاحِ متعہ کے جواز کا تعین ہوا ۔
۲۔ اجماع ِ امت کی حقیقی تعریف متعیّن ہوئی ۔
۳۔ میر سید محمد نوربخشؒ کی زندگی کا حقیقی مشن سامنے آیا جو بدعتوں کا خاتمہ اور اصل شریعت ِ محمدیﷺ کا احیاء تھا ۔

باب القصاص

سراور چہرہ پر لگائے جانے والے زخم کو شجہ کہتے ہیں جس کی دس قسمیں ہیں:
۱۔ حارصہ : یہ وہ زخم ہے جو چمڑے کو چھیدے اور خون نہ نکالے ۔
۲۔ دامیہ : یہ وہ زخم ہے جو خون کو نکالے اور اسے نہ بہائے ۔
۳۔ دامعہ : یہ وہ زخم ہے جو آنسوکی مانند تھوڑا سا خون بہائے ۔
۴۔ باضغہ : یہ وہ زخم ہے جو چمڑے کو قطع کرے ۔
۵۔ متلاحمہ : یہ وہ زخم ہے جو گوشت کو پکڑے اور اس میں اتر جائے ۔
۶۔ سمحاق: یہ وہ زخم ہے جو گوشت کو کاٹ کر سمحاق تک پہنچے ۔سمحاق (periosteum) وہ باریک چمڑہ ہے جو ہڈی پر چڑھا ہوا ہوتا ہے ۔
۷۔ موضحہ: یہ وہ زخم ہے جو ہڈی کو عیاں کرے ۔
۸۔ ھاشمہ: یہ وہ زخم ہے جو ہڈی کو توڑ ڈالے ۔
۹ ۔ منقلہ : یہ وہ زخم ہے جو ہڈی کو اپنی جگہ سے ہٹا دے ۔
۱۰۔ مامومہ: یہ وہ زخم ہے جوام راس (meninges) تک پہنچے ۔ ام راس سر کی اس تھیلی کانام ہے جس میں دماغ ہوتا ہے ۔ (67)
فائدہ: مندرجہ بالا مختصر اور جامع تعریفات سے یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ نوربخش ؒ ایک عظیم فقیہ ِ عارف ہی نہ تھے بلکہ ایک ماہر ِعلمِ تشریح الابدان (anatomist) ماہر ِطبِ شرعی(forensic expert) اور ماہرِ علم ِجراحت (traumatologist) کہلانے کے بھی بجا طور پر حق دار تھے ۔ اس بیان کا منقطی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ تصوّف ام العلوم ہے اور صوفی تمام علوم ِ ظاہر و باطن سے آگاہ ہوتا ہے ۔ اس ذیل میں مزید مثالوں کے لئے حضرت امام غزالی ؒ اور حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی تصانیف کی طرف رجوع کیا جائے ۔

باب الوکالۃ

وکالت اور خلافت کا باہمی فرق:
اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے تجھے اپنے تمام کاموں کے سلسلے میں اور ہر قلیل و کثیر کا وکیل بنایا یا کہے کہ میں نے ہر ہر چیز کو تیرے سپر د کیا تو وکالت کی صورت میں بڑے نقصان کی وجہ سے ایسا کرنا درست نہیں ہو گا لیکن خلافت کی صورت میں تمام کاموں کو خلیفہ کے سپرد کرنا درست ہے ۔ کسی کے لئے بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسی بات کرے مگر کوئی نبی ِمرسلﷺ اپنے خلیفہ سے ایسی بات کر سکتا ہے یاکوئی ولیِ مرشد اپنے خلیفہ سے ایسی بات کہہ سکتا ہے جو اس کے ہاتھوں پر گناہوں سے توبہ کر چکا ہو اور اس کی بیعت کرچکا ہو ۔ لہذا وہ ولی اپنے اس خلیفہ کا مرشد ہوگا جس کے نفس کو اس نے مذموم اخلاق مثلاً دنیا کی محبت جو کہ ہر گناہ کی جڑ ہے ، بزدلی ، کنجوسی، خرابی، ظلم ، لالچ ، جہالت اور تمام قابل ِمذمت احوال سے پاک کر دیا ہو۔ جس کے دل کو اس نے بشری آلائشوں سے چمکدار آئینہ کی طرح صاف کر دیا ہو ، پس اس کے دل میں تجلیات ِ حق کی روشنیاں منعکس ہوتی ہوں۔ وہ اس کو عالم ِملکوت کی طرف ، پھر عالم ِجبروت کی طرف ، پھر عالم ِلاہوت کی طرف کشاں کشاں لے گیاہو اور اس کو عالم ِلاہوت میں فنا کر دیا ہو اور عالم ِلاہوت کی بلند صفات کے مظاہر کا حامل ہو کر اس کو وہاں باقی رکھا ہو پس اس ولی نے اسے اپنا خلیفہ بنا دیا ہو لہذا اس کے لائق حال یہ ہے کہ وہ تمام کاموں کو اپنے خلیفہ کے سپرد کر دے ۔ یہ مقام خلافت کا ہے نہ کہ وکالت کا ۔ (68)
فائدہ:خلافت کی عارفانہ تشریح کی گئی ہے جس سے حقیقی خلافت کی روح کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔
باب الوقوف و الصدقات

فقرِحقیقی:
وہ فقر جس پر نبی کریمﷺ نے ناز کیا ہے اور آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ الفقر فخری’’ فقر میرا فخر ہے ۔‘‘ حقیقی فخر ہے جس کی ظاہری حالت دنیاوی مال و اسباب سے خود کو خالی کرنا اور باطنی حالت غیر اﷲ سے ہٹ کر اﷲ کی یکسوئی کو اپنانا ہوتی ہے ۔ بدعتی گروہ حقیقی فخر سے محروم ہے ۔ لہذا اکثر بدعتیوں کو نہ دنیا میں کوئی حصہ ملتا ہے اور نہ ہی آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ ہے ۔ خسر الدنیا والاٰخرۃ ذٰلک ھو الخسران المبین ’’ دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی ۔ یہی تو کھلا نقصان ہے۔‘‘(69)
فائدہ:فقر حقیقی تصوّف کا ہم معنی ہے ۔ فی زمانہ جو لوگ دین میں پیدا کی جانے والی بدعتوںکو تصوّف کا نام دیتے ہیں وہ روح ِ تصوّف سے کوسوں دور ہیں ۔ یہ لوگ نہ صرف فقرِ حقیقی سے محروم ہیں بلکہ دنیاو آخرت دونوں میں ناکام اور نامراد ہونے والے ہیں ۔
الفقہ الاحوط کے مندرجہ بالا عبارات کے مطالعے سے میر سیدمحمد نوربخشؒ ایک بلندپایہ محقق اور مجتہد کے علاوہ ایک عالمِ ربانی کے طور پر سامنے آتے ہیں ۔ نوربخشؒ سلسلۃ الذھب کے دیگر عظیم بزرگوں کی طرح تقلید کے مخالف اور تحقیق کے حامی ہیں ۔ امام ِضعیف جو دین کے معاملات میں کسی غیر کا محتاج ہو ان کے نزدیک ملعون ہے ۔ صاحبِ علم ِلدنیّ کو رسمی تقلیدکی چنداں ضرورت پیش نہیں آتی ، بلکہ یہ تو علم کے حقیقی سرچشمے سے براہ ِراست مستفید ہوتے ہیں اور بسااوقات حرام و حلال کے معاملات میں انہیں براہ ِراست غیبی رہنمائی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ ’’ نوربخشؒ کا تصورِ علم ‘‘کے ذیل میں بیان ہو چکا ہے ۔ اس صورت حال میں یہ قیاس اور اندازہ کرنا کہ نوربخشؒ نے فلان مکتب ِ فکر یا فلان مکتبِ فکر کے مسائل کو اختیار کیا ، نہایت سطحی بات ہوگی ۔ چنانچہ نوربخشؒ خود اس حقیقت کا اظہار یوں کرتے ہیں ۔
از عادت و رسمِ اھلِ تقلید
چون شکر کنم کہ باز رستم
نوربخشؒ احکامِ شریعت کے نفاذ کے لئے دنیوی حکومت اور سلطنت کے حصول کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں چنانچہ امام ِ حقیقی کے اوصاف میں سے ایک وسیع سلطنت کا مالک ہونا بھی ہے ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ۔
’’ جہلاء یہ سمجھتے ہیں کہ سلطنت و مملکت تقویٰ و طہارت کے منافی ہے۔ یہ تصور باطل ہے اور غایت درجہ کی حماقت ہے کیونکہ اکابر انبیاء مثلاً ادریس ؑ ، یوسف ؑ ، داؤد ، سلیمان ؑ ، موسیٰؑ و مصطفیؐ اور کمل اولیاء جیسے صدیق ؓ ، فاروقؓ ، ذوالنورین ؓ اور مرتضیؓ نے ظاہری سلطنت کو اختیار فرمایا ہے اور احکام ِ سلطنت کے اجراء اور مملکت کے نظم و ضبط اور رعایت و رغبت کے باب میں یدِ بیضا سے کام لیا ہے ۔ اگر سلطنت ِصوری سلطنت ِمعنوی کی منافی بات ہوتی تو یہ اکابر انبیاء اور اکمل اولیاء سلطنت صوری اختیار نہ فرماتے ۔ چونکہ یہ حضرات ظاہری سلطنت و مملکت کو اپنا چکے ہیں اس لیے قابل سلاطین اور امرا ء کو چاہیے کہ وہ بلند ہمتی کے ساتھ سلطنت ِ صوری کو تقویت ِ شریعت ، تربیت ِ طریقت اور معرفتِ حقیقت کے ساتھ سلطنت ِمعنوی کے ساتھ یک جا کریں تاکہ بروز ِمحشر کامرانی اور سرفرازی حاصل ہو ۔ ‘‘(70)
سلسلۃ الذھب کے جملہ پیرانِ طریقت کا بھی یہی مسلک ہے ۔ خاص طور پر حضرت شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ نے طہارت ، عبادت اور سیاست کو اسلامی زندگی کے عنا صرثلاثہ کی حیثیت عطا فرمائی ہے ۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’ذخیرۃ الملوک‘ سلاطین ِ اسلام کو احکام ِ شریعت و طریقت کے مطابق آداب ِجہانبانی سکھانے کے لئے خصوصی پر تحریر فرمائی ۔ یہاں صوفیائے سلسلۃ الذہب کا تصوّف ایک حرکی اور مقصدی تصوّف کے طور پر سامنے آتا ہے اور اس فقرِ خانقاہی سے مبرّا ہے جو فقط اندو ہ و دلگیری کا دوسرا نام ہے ۔ اہل ِتصوّف کو باطنی اقتدار کے علاوہ ظاہری اور دنیوی اقتدار کے حصول کے لئے بھی جہد و کاوش کرنی چاہیے تاکہ احکام ِشریعت ِ محمدیہ ؐ کا عملی نفاذ ممکن ہو ۔ اس مذہب میں اس ترک ِ دنیا اور رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو آدمی کو خلق ِ خدا کے معاملات سے بے نیاز کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے سے غافل بنا دے ۔

احکامِ اصول وفروع کا تقابلی مطالعہ


جیساکہ پہلے مذکور ہو چکا ہے کہ اہلِ صوفیہ نوربخشیہ جملہ احکام اصول و فروع میں احکام ِ کتاب وسنت اور شریعت ِ محمدیہ ﷺ کماکانت فی زمانہ ٖ پر عمل پیرا ہیں۔ فرمان نبوی ؐ خیر الامور اوسطھا کے مصداق اہل ِصوفیہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے جملہ امور ِشرعیہ میں اعتدال ، میانہ روی اور مذہب وسطیٰ پر گامزن رہتے ہیں ۔ الفقہ الاحوط اور دیگر مکاتبِ فکر کی فقہی کتابوں کے مطالعے سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے ۔ یہ ایک طویل موضوع ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے دائرۂ بحث سے خارج ہے ۔ مولوی حمزہ علی کی تصنیف ’ نور المؤمنین ‘ میں الفقہ الاحوط کے مسائل کا مسلک امامیہ اثناعشریہ اور مسلک ِاہل سنت و الجماعت و مسلک اہل ِحدیث کے احکامات کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ میر سید محمد نوربخشؒ کے فقہی دبستان کی مزید تفہیم کے خواہشمند حضرات کے لئے اس کتاب کا مطالعہ مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس کتاب میںفروعی احکامات کے علاوہ اعتقادی اور اصولی امور میں بھی مذہب ِصوفیہ نوربخشیہ کی دیگر مسالک سے ممتاز حیثیت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔
واپس اوپر جائیں

صوفیہ نوربخشیہ کے چہاردہ کلماتِ قدسیہ

بظاہر ان کلمات ِ قدسیہ کو میرسید محمدنوربخشؒ کے فرزند اور خلیفہ حضرت شاہ قاسم فیض بخش ؒنے مرتب کیا اور ان کے مرید اور خلیفہ میر شمس الدین عراقی بت شکن ؒ نے ان کلمات کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا ۔ ان چودہ کلمات میں صوفیہ نوربخشیہ کے جملہ عقائد نہایت جامعیت کے ساتھ سموئے گئے ہیں ۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں نوربخشیت کا اصل چہرہ صاف دیکھا جا سکتا ہے یا ایسا معنوی حصار ہے جس سے عالم ِ نوربخشیت چھ صدیاں گزرنے کے باوجود بیرونی عقائد کی یلغار سے محفوظ ہے۔
صوفیہ نوربخشیہ کے چودہ کلمات ِ قدسیہ مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ بندۂ خدا
۲۔ ذریتِ آدمؑ
۳۔ ملت ابراہیم ؑ
۴۔ امتِ محمدؐ
۵۔ دین ِ اسلام
۶۔ کتاب قرآن
۷ ۔ کعبہ قبلہ
۸۔ متابعتِ سنت( نبویؐ)
۹۔ محبّ ِعلیؑ
۱۰۔ سلسلہ ذھب
۱۱۔ مذہبِ صوفیہ
۱۲۔ مشربِ ہمدانیہ
۱۳۔ روشِ نوربخشیہ
۱۴۔ مریدِ مرشد
معروف نوربخشی عالم مولوی شکور علی انور صاحب نے ان چہاردہ کلمات کی تشریح میں ایک کتاب’ آئینہ اسلامی‘ کے نام سے مرتب کی ہے مزید تفصیل کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے ۔ دورِ حاضر کے معروف ایرانی دانشورڈاکٹر محمد حسین تسبیحی رھا ؔ نے ان کلمات ِ قدسیہ کو ’’ آئینہ نوربخشؒ ‘‘ کے نام سے منظوم بھی فرمایا ہے ۔
واپس اوپر جائیں

حوالہ جات

۱۔ تاریخِ تصوّف قبل از اسلام (ص ۳)
۲۔ ذخیرۃ الملوک چھابی (ص ۴۰۵) و ذخیرۃ الملوک قلمی ، غنیۃ الطالبین (ص ۱۰۵)
۳۔ دیگر مقامات پر اجزائے ایمان میں وکتبہٖ بھی آیا ہے ۔ قرآن حکیم میں بھی و کتبہٖ کے الفاظ موجود ہیں۔
۴۔ بخاری شریف کی اس حدیث میں قرآن حکیم کی نصّ ِ صریح کی طرح خیر و شر کا ذکر موجود نہیں ہے ۔
۵۔ صحیح بخاری (ص ۱۲۷، ۱۲۸)
۶۔ خطبات ِ بہاولپور (ص ۱۸۲)
۷۔ رحمۃ للعالمین جلد اول (ص۱۶۷)
۸۔ سیر وسلوک (ص ۳۸، ۳۹)
۹۔ سیروسلوک (ص ۴۲ تا ۴۶)
۱۰۔Muslim Saints and Mystics (p2,3)
۱۱۔ مناقب الصوفیہ ( ص ۳۶) ، نورالمؤمنین (ص ۴۴) ، ریاض السیاحہ ( ص ۱۲۰)
۱۲۔ نورالمؤمنین (ص ۶۶) ، ریاض السیاحہ (ص ۱۲۰)
۱۳۔ تذکرۃ الاولیاء (ص۲۶)
۱۴۔ سیروسلوک (ص ۴۹، ۵۰)
۱۵۔ نہج البلاغہ (ص ۶۷۶)
۱۶۔ ایضاً (ص ۲۷۰)
۱۷۔ سیروسلوک (ص ۵۱)
۱۸۔ تصوفِ اسلام (ص ۴)
۱۹۔ نور المؤمنین (ص ۶۶) ، مزامیرِ حق (ص ۴)
۲۰۔ حسین اور نماز نوائے صوفیہ ( شمارہ ۳۹ مئی ۱۹۹۸ء ص ۱۶)
۲۱۔ کشف المحجوب (ص ۱۱۲)
۲۲۔ سلسلۃ الذہب (ص ۳۰۶ ، ۳۱۰)
۲۳۔ کشف المحجوب (ص ۱۱۷)
۲۴۔ کشف المحجوب (ص ۱۱۸)
۲۵۔ ایضاً (ص ۱۱۹، ۱۲۰)ش
۲۶۔ تذکرۃ الاولیاء (ص ۴۰)
۲۷۔ سلسلۃ الذہب نصیب ِ اوّل (ص ۳۴۰، ۳۴۲)
۲۸۔ ایضاً (ص ۳۴۶)
۲۹۔ العروۃ لاھل الخلوۃ والجلوۃ (ص ۳۰۰، ۳۰۵)
۳۰۔ سلسلۃ الذہب (ص ۷)
۳۱۔ دعوات ِ صوفیہ (ص ۱۹۸، ۱۹۹)
۳۲۔ مقدمہ کتاب الاعتقادیہ (ص ۱۱ ، ۱۲ )
۳۳۔ ایمان کی بنیاد نوائے صوفیہ جون ۹۸ (ص ۷)
۳۴۔ سیرۃ النبی ؐ جلد چہارم ( ص ۳۷۵)
۳۵۔ رسالۂ اعتقادیہ (ص ۲۴ تا ۲۷)
۳۶۔ رسالۂ اعتقادیہ (ص ۲۷ تا ۲۸)
۳۷۔ رسالۂ اعتقادیہ ( ص ۲۷ تا ۳۵)
۳۸۔ رسالۂ اعتقادیہ (ص ۳۶ تا ۴۱)
۳۹۔ ایضاً ( ص ۴۱)
۴۰۔ ایضاً ( ص ۴۱)
۴۱۔ فقہ الاحوط (ص ۲۹۷)
۴۲۔ رسالۂ اعتقادیہ (ص ۴۱ تا ۴۳)
۴۳۔ ایضاً (ص ۴۴)
۴۴۔ رسالۂ اعتقادیہ (ص ۴۴ تا ۴۸)
۴۵۔ کتاب الاعتقادیہ (ص ۴۹ تا۵۱)
۴۶۔ ایضاً (ص ۵۱ ، ۵۲)
۴۷۔ رسالۂ اعتقادیہ ( ص ۵۲ تا ۶۰)
۴۸۔ رسالۂ اعتقادیہ (ص ۶۰ تا ۶۳)
۴۹۔ خطبات بہاولپور ( ص۳۴)
۵۰۔ صاحبزادہ حسن شاہ کے تاثرات نوائے صوفیہ ( شمارہ ۱۶ فروری ۱۹۹۶ء ص ۲۲)
۵۱۔ خطبات ِ بہاولپور (ص ۸۳ تا ۸۶)
۵۲۔ الفقہ الاحوط (ص ۴)
۵۳۔ الفقہ الاحوط (ص ۵، ۶)
۵۴۔ ایضاً (ص ۹)
۵۵۔ ایضاً (ص۸)
۵۶۔ الفقہ الاحوط (ص ۱۲، ۱۳)
۵۷۔ ایضاً (ص ۲۳ ،۴۲)
۵۸۔ ایضاً (ص ۵۲)
۵۹۔ الفقہ الاحوط (ص ۵۴)
۶۰۔ ایضا ً (ص ۵۵)
۶۱۔ الفقہ الاحوط (ص ۶۰)
۶۲۔ ایضاً (۶۸)
۶۳۔ الفقہ الاحوط (ص ۸۹)
۶۴۔ الفقہ الاحوط (ص ۱۹۷ ، ۱۹۸)
۶۵۔ الفقہ الاحوط (ص ۲۱۱)
۶۶۔ الفقہ الاحوط (ص ۲۳۷ ، ۲۳۸)
۶۷۔ الفقہ الاحوط ( ص ۳۲۹ ، ۳۳۰)
۶۸۔ الفقہ الاحوط (ص ۴۶۶)
۶۹۔ الفقہ الاحوط (ص ۴۷۳)
۷۰۔ انسان نامہ قلمی آکسفورڈ (ص ۴۲)