اتحاد بین المسلمین فرامین ِ نوربخش ؒ کی روشنی میں
علمائے مشرق و مغرب کی آراء
حوالہ جات

احوال وآثار میر سید محمد نوربخشؒ کے آخری باب کے طور پر ہم تاریخ ِ اسلام میں نوربخشؒ کی شخصیت کا ایک اور حیثیت سے مختصر جائزہ لیں گے ۔ نوربخشؒ کی یہ حیثیت ایک داعیٔ رفعِ اختلاف و اتحاد بین المسلمین کی ہے ۔ نوربخشؒ کی ان تعلیمات کے مختلف پہلو کتاب کے گزشتہ ابواب میں منتشر طور پر پہلے ہی ضبط ِ تحریر میں لائے جا چکے ہیں ۔ زیر ِنظر باب کا مقصد ان حقائق کے خلاصے کو یکجا کرناہے ۔
جیسا کہ کہا گیا ہے کہ نوربخشیہ ایک سلسلہ ٔ تصوّف ، اور ایک فقہی دبستان ہونے کے علاوہ ایک تحریک بھی ہے اور اس تحریک کے بنیادی مقاصد رفع اختلاف بین المسلمین اور دعوت ِ اتحاد بین المسلمین ہیں ۔ اتحاد و اتفاق کی یہ تحریک فرمان ِ الہٰی واعتصموا بحبل اﷲ جمیعاً و لا تفرّقوا ’’تم سب مل کر اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ بازی میں نہ پڑو۔ ‘‘ کی تعمیل کے طور پر وجود میں آئی ہے ۔ بزرگانِ سلسلۃ الذہب نے اس حکم کی تعمیل میں واعتصمنا بحبل اﷲ المتین کا نعرہ بلند کیا ہے اور اس سلسلے کے حق میں فیصلہ فرما دیا ہے کہ ھذا طریق الحق والیقین لا ینطق الیٰ یوم الدین یعنی یہی حق اور یقین کا راستہ ہے جو تاقیامت منقطع نہ ہوگا ۔ پس اس حبل اﷲ المتین میں ایسی خصوصیت کا وجود لازمی ہے جس کی بنا پر عالم ِ اسلام کے لئے تفرقہ بازی سے نجات یقینی ہو جائے ۔ سلسلۃ الذہب کی اس خصوصیت کے بارے میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان کے پروفیسر حسن شاہ یوں رقمطراز ہیں :
’’ حضرت امیر کبیر ؒ مسلک ِ تصوّف کے لحاظ سے سلسلہ ٔ کبرویہ سے منسلک تھے ۔ اس سلسلہ کی نسبت حضرت نجم الدین کبریٰ شہیدؒ سے ہے ۔ اس سلسلہ کے اکابر میں ائمہ اہلِ بیت اور مشائخ عظام کے نام ملتے ہیں ۔ اس تحریک کی دو خصوصیتیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ اولاً اتباع کتاب و سنت اور ثانیاً اتحاد بین المسلمین ۔ حضرت سید محمد نوربخشؒ نے اس نظریہ کو واضح شکل دی اور اعمال و اشغال اور طریق ِ سلوک میں شامل کر دیا ۔ سلسلہ ٔہمدانیہ کی اس روش کی وجہ سے شیعہ ، اہلِ سنت حنفی و شافعی سب ایک صف میں نظر آتے ہیں اور سب حضرت امیر کبیر ؒ کو اپنا شیخ تسلیم کرتے ہیں ۔ ‘‘
صاحبزادہ حسن شاہ کے اس دعویٰ کی تصدیق کے لئے ہم اولاً خود میر سید محمد نوربخشؒ کے بعض فرمودات کی طرف رجوع کرتے ہیں جن میں سے بعض اس کتاب کے گزشتہ ابواب میں مذکور ہو چکے ہیں اور ذیل میں ان کا اعادہ کیا جاتا ہے ۔ بعدازاں ہم مشرق و مغرب کے نامور علماء اور مصنفین کی آراء سے بھی اس دعویٰ کی مزید تصدیق کریں گے ۔

واپس اوپر جائیں

اتحاد بین المسلمین فرامین ِ نوربخش ؒ کی روشنی میں


اتحاد بین المسلمین کے باب میں نوربخش ؒ کا مشہور ترین فرمان رفع ِ اختلاف کا وہ دعویٰ ہے جو انہوں نے اپنی مشہور فقہی تصنیف ’ الفقہ الاحوط‘ کی افتتاحی عبار ت میں کیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:
ان اﷲ امرنی ان ارفع الاختلاف من بین ھٰذہ الامۃ اوّلاً فی الفروع و ابیّن شریعۃ المحمدیۃ کماکانت فی زمانہ من غیر زیادۃ و نقصان ٍ وثانیاً فی الاصول من بین الامم و کافۃ اھل العالم فشرعت فیہ بالتسھیل وھو حسبی و نعم الوکیل
’’ اﷲ پاک نے مجھے اس بات پر مامور کیا کہ میں پہلے اس امت کے آپس میں موجود فروعی اختلاف کو دور کروں اور محمدیﷺ شریعت کو کسی قسم کی کمی یا اضافے کے بغیر اس طرح بیان کروں جس طرح سے یہ شریعت خود شارع علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانے میں رائج تھی اور بار دیگر سب امتوں اور تمام دنیا والوں کے آپس میں موجود اصولی اختلاف کو دُور کروں ۔ چنانچہ آسان انداز میں میں اس کام کا آغاز کیا ہے ۔ اﷲ میرے لیے کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے ۔ ‘‘ (1)
مندرجہ بالا ارشادمیں میر سید محمد نوربخشؒ نے جو اپنے وقت کے علمائے دین میں نمایاں ترین مقام رکھنے کے علاوہ قطبِ دوران کے مرتبے پر بھی فائز تھے اپنی تحریک کا اہم ترین مقصد عالم اسلام کے مختلف فرقو ں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کا قلع قمع کر کے دینِ اسلام اور شریعت ِ محمدیہﷺ کو اصلی صورت میں دوبارہ رائج کرنے کے عزم کا اظہار فرمایا ہے ۔ یہ محض ایک ظاہری عالم کا سطحی دعویٰ نہیں بلکہ ایک واصل باﷲ عالم ِ ربانی کا ایک غیبی اشارے کے تحت کیا جانے والا اعلان ہے ۔
اپنے مذہب یعنی مذہب ِ صوفیہ کو میر سید محمد نوربخشؒ اتحاد ِ عالم اسلام کے لیے بہترین پلیٹ فارم سمجھتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں:
واعلم ان مذھب الصوفیہ ھو میزان المستقیم و طریق الحق و الیقین لیس فیہ غلو و لا مھین ولانقص و لا مزید لا افراط فیہ ولا تفریط کما کان فی قرن الاولی مشھود لھا بخبر ولکن اکثر الناس لایشعرون ۔ فوقعوا فی ھذا الامراض البلواء و کتبوا کتباً ضخیمۃ و افتروا بعضھم علی بعض بھتانا عظیماً فاختار بعضھم فی عترۃ النبی ﷺ و اصحابہ و ازواجہ و فی العارفین من بعدھم غلواً فی الحب و البغض و ترکوا سبیل السوی و الاستقامۃ فاختملھم علی الزنادقۃ والحلولیہ و الالحاد من الکفرۃ المبتدعۃ و اوذو ایذاء کثیراًوصبرواصبرًا جمیلاً لمرضات اﷲ تعالیٰ
’’ جان لے کہ مذہب ِ صوفیہ سیدھے ترازو کی طرح ہے اور حق اور یقین کا راستہ ہے جس میں کوئی غلو ، کمی ، نقصان ، زیادتی ، افراط اور تفریط نہیں ہے جیسا کہ قرن اولٰی میں اسلام کی یہی صورت تھی ۔ یہ وہ مذہب ہے جس کے متعلق بھلائی کی شہادت دی جا چکی ہے مگر اکثر لوگ شعور نہیں رکھتے اور وہ نفرت و عداوت کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے موٹی موٹی کتابیں لکھ کر ایک دوسرے پر بہتان تراشیاں کیں۔ ان میں بعض نے نبی آخر الزمان ﷺکی آل ، آپ ﷺکے اصحاب اور آپ ﷺ کی ازواج اور ان کے بعد کے عارفوں کے متعلق محبت اور عداوت میں غلو اختیار کیا اور استقامت اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ ان میں سے بعض نے مجذوب ابدالوں کے اقوال اور ان کے معذورات افعال کو اپنے ناقص فہم کے باعث نہ سمجھنے کی وجہ سے ، انہیں دلیل بنا کر ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا اور ان کو زندیق ، حلولی ، ملحد ، کافر اور بدعتی تک کہا گیا اور انہیں بہت سی تکالیف دیں۔ مگر انہوں نے اﷲ کی رضا کے لیے بڑا اچھا صبر کیا ۔ ‘‘ (2)
اس عبارت میں نوربخش ؒ نے مذہب ِصوفیہ کی نمایاں ترین خصوصیت اس کی وسیع النظری ، اعتدال پسندی اور میانہ روی کو قرار دیا ہے ۔ اہل ِصوفیہ قرآن و سنت و عترت تینوں کو تھا منے والے حبل اﷲ المتین سے وابستہ افراد ہیں ۔ وہ جہاں اہل ِ بیت اطہار ؑ سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں وہاں اصحاب و ازواج ِ نبی ﷺ کا بھی اسی طرح عزت و احترام کرتے ہیں ۔ وہ کسی مجذوب ولی کے ظاہری حال کو مدنظر رکھ کر کفر و شرک کے فتوے صادر کرنے سے احتراز کرتے ہیں ۔ وہ ہر قسم کے افراط و تفریط سے پرہیز کرتے ہیں اور راہ ِ اعتدال پر گامزن رہتے ہیں ۔
موجود دور میں اتحاد بین المسلمین کی بنیادی شرط بھی یہی ہے کہ حضور پاک ﷺ کی آل اطہارؑ ، اصحاب کبارؓ اور ازواج ِ مطہرات ؓ سب کو قابلِ صد احترام سمجھا جائے ۔نیز ان میں سے نہ کسی کی شان اور تعریف میں اتنا مبالغہ کیا جائے کہ اسے نعوذ باﷲ خدا و رسول ﷺ کا ہم مرتبہ قرار دیاجائے اورنہ ان میں سے کسی کی شان میں ایسی گستاخی کی جائے کہ اس سے دیگر اہل ِ ایمان آزردہ خاطر ہوں ۔ پس شاہ سید ؒ کا یہ فرمان اتحاد بین المسالک کا زرین اصول قرار پاتا ہے۔
اتحاد بین المسلمین کے لئے نوربخش ؒ کی اہم ترین خدمت یہ ہے کہ آپ نے تبلیغِ دین یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیاد تعظیم لامر اﷲ اور شفقت علیٰ خلق اﷲ کو قرار دیا ۔ چنانچہ ’’ الفقہ الاحوط ‘‘کے باب امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں ارشاد فرماتے ہیں :
فینبغی للمسلم الممیز ان لا یقصر فیہ …………بتقلید الرسمیۃ
’’ صاحب ِ تمیز مسلمان کے لئے مناسب ہے کہ وہ احتسابی فریضہ انجام دینے میں کوتاہی نہ کرے ۔ اس کام میں تمام نفسی آلائشوں سے پرہیز کرے یہاں تک کہ اس کا مقصد صرف اور صرف تعظیم لامرا ﷲ یعنی حکم ِ خدا کی عظمت برقرار رکھنا اور شفقت علیٰ خلق اﷲ یعنی خدا کی مخلوقات پر شفقت کرنا بن جائے ۔ وہ کسی ایسے مسئلے میں رائے زنی کی جسارت نہ کرے جس پر امت ِاسلامیہ کا اتفاق نہ ہو اور نہ ہی کسی ایسے مسئلے کے بارے میں لب کشائی کی جسارت کرے جس کی حقیقت کو وہ یقینی طور پر نہ پہچان سکتا ہو بلکہ وہ ایسے معاملے کی تحقیق کے سلسلے میں کسی ایسی شخصیت کی طرف رجوع کرے جو عالم ِربانی ہو ، بے لوث عمل کرنے والا ہو ، قابل ِ تعریف اخلاق کا مصداق ہو اور قابل ِ مذمت اخلاق سے بری ہو ۔ وہ نہ تو نفسی رجحان کا شکار جاہل ہو اور نہ کام چور غصبانی ہو ، ظاہری احوال کی قید میں بند ہو اور نہ رسمی معاملات کی تقلید کی وجہ سے عصبیت کا شکار ہو ۔ ‘‘ (3)
یوں نوربخش ؒ کے ہاںدین کے اوامر و نواہی کو جملہ انسانوں کی زندگیوں میں نافذ کرنے کا بنیادی مقصد جہاں اﷲ کے حکم کی تعمیل اور تعظیم قرار پائی وہاں اس کا دوسرا اہم ترین مقصد انسان سے محبت قرار پایا ۔ آج کے دور میں دین کے اوامر و نواہی کے نفاذ کی کوشش کو بین الاقوامی سطح پر بنیادپرستی ، مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی وغیرہ کے ناموںسے پکارا جا رہا ہے ۔ نیز اسی نام نہاد تبلیغ کے نتیجے میں مسالک ِ اسلام کے پیروکار ایک دوسرے کے درپئے آزار ہیں اور ایک دوسرے کی خون ریزی سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ تبلیغ ِدین کے مندرجہ بالا دو اہم مقاصد یعنی تعظیم لامر اﷲ اور شفقت علیٰ خلق اﷲ کو نظروں سے اوجھل ہونے دینا ہے ۔ ان اہم مقاصد کی غیر موجودگی میں اس تبلیغ کے مقاصد ذاتی انا کی تسکین ، ذاتی اور گروہی مفادات کا حصول ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، اور ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے کے جذبے کا فقدان قرار پاتے ہیں ۔ اسلام جمہوری روایات کا علمبردار ہے اور امن و محبت کا دین ہے نہ کہ خوف و ہراس اور دہشت گردی کا ۔ نوربخش ؒ کے مندرجہ بالا بیان کی روشنی میں ان کا مذہب مذہب ِ انسانیت کے طور پر سامنے آتا ہے جس میں خدا کی مخلوق کے درپئے آزار ہونے ، ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور رسمی تقلید کے بل بوتے پر تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرنے کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے ۔ اس ارشاد کا اہم ترین پہلو امت مسلمہ کے مختلف مسالک کے اختلافی مسائل پر خواہ مخواہ کی رائے زنی سے پرہیز کا حکم ہے ۔ اگر مبلغین ِاسلام صرف اسی ارشاد پر عمل کریں تو مذہبی تعصبات اور نفرتوں کا قلع قمع ہونا ممکن ہے ۔
نوربخش ؒ نے کسی کلمہ گو پر کفر وشرک کا فتویٰ صادر کرنے کو جہالت قرار دے کر اس سے سختی سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ’ الفقہ الاحوط‘ کے باب الصلوٰۃ میں فرماتے ہیں :
الذی امن باﷲ و ملائکتہٖ و کتبہٖ و رسلہٖ والیوم الآخر ………فھو کافر’‘ ھٰذہ عقیدۃ الجھال
’’ جو شخص اﷲ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتاہو اور وہ کہتا ہوکہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں ، وہ نماز قائم کرتا ہو، مالدار اور صاحب ِ نصاب ہونے کی صورت میں زکواۃ دیتاہو ،ماہ ِ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور استطاعت رکھنے کی صورت میں بیت اﷲ کا حج کرتا ہو تو کسی بھی مسلمان شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ایسے شخص کو کسی ایسی چیز کی بناء پر کفر سے منسوب کرے جس کا وہ عقیدہ نہ رکھتا ہو جبکہ وہ خود معاملے کی حقیقت کو نہ جانتا ہو اور یہ گمان رکھتا ہو کہ جو شخص اس کا عقیدہ نہ رکھے وہ کافر ہے ، تو یہ جہالت کے شکار حضرات کا عقیدہ ہے ۔ ‘‘ (4)
اسی طرح’’ الفقہ الاحوط ‘‘ کے باب الوقوف والصدقات میں فرماتے ہیں :
ولو وقف علی المسلمین انصرف الی من صلی متوجھا الی القبلہ
’’ اگر کوئی کسی بھی قسم کی جائیداد کو مسلمانوں پر وقف کرے تو یہ موقوف شدہ مال ہر اس شخص کی طرف پلٹے گا جو کہ قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہو ۔ ‘‘ (5)
یہاں ہر قبلہ رُو ہو کر نماز پڑھنے والے کو مسلمان قرار دیا گیا ہے ، جس کے حق میں کفر و شرک کا فتویٰ صادر کرنا ناروا ہے ۔ غوث المتاخرین میرسید محمد نوربخشؒ نے فکری بلوغت کی کس قدر بلند سطح پر تشریف فرما ہو کر مبلغین ِ اسلام کے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف داغے جانے والے کفر و شرک کے فتوؤں کی ہمیشہ کے لیے بیخ کنی کا سامان فرمایا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ چودہ سو برس گزر جانے کے بعد جہاں غیر مسلم دنیا تسخیرِ کائنات کی انتہاؤں تک رسائی پا چکی ہے ، علمائے اسلام اپنی ذہنی سطح کو اتنا بلند نہیں کر سکے کہ وہ میر سید محمد نوربخشؒ کے اس ارشاد کی اہمیت کو ہی سمجھنے کے اہل ہو سکیں۔
عالم ِاسلام میں نفاق و انتشار کی ایک بنیادی وجہ بدعتوں کا ظہور ہے ۔ بدعت کے معنی نئی چیز کے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں الیوم اکملت لکم دینکم و رضیت لکم الاسلام دینا فرما کر تکمیل ِ دین کا واضح اعلان کر دیا ہے ۔ دین میں نئی نئی جدتیں پیدا کرنے کی کوشش سے اس کی اصل ہیئت تباہ ہو جاتی ہے اور لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کی خاطر دین میں طرح طرح کی تبدیلیاں ، پیچیدگیاں اور آسانیاں پیدا کرنے لگتے ہیں ۔ چونکہ ان کی بنیاد ذاتی غرض ، مفادپرستی اور تسکین ِ انا پر ہوتی ہے اس لیے یہ بدعات اہلِ دین کے درمیان مختلف تنازعات ، تعصبات اور نفرتوں کو جنم دیتی ہیں ۔ نوربخش ؒ نے اپنی تحریک کا ایک اہم مقصد رفع ِ بدعت کو قرار دیا ہے چنانچہ’ الفقہ الاحوط‘کے باب النکاح میں فرماتے ہیں :
انا مامور برفع البدع عن الشریعۃ المحمدیہ و احیاء ما فی زمانہ
’’ میں شریعت ِ محمدیہ ﷺ سے بدعتوں کو ختم کرنے اور آنحضور ﷺ کے زمانے میں رائج احکام کو زندہ کرنے پر مامور ہوں۔ ‘‘ (6)
شیخ محسن اشراقی نوربخش ؒ کی تحریک ِ اتحاد کے ایک اور بنیادی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ’’بدقسمتی سے اسلام کے ہر فرقے کے علماء اور دانشوروں نے اپنی فقہی اور اعتقادی کتابوں کی کچھ اس طرح تدوین کی ہے کہ امت ِاسلامی کا ان کتابوں میں موجود مسائل اور تعلیمات کی روشنی میں متحد ہونا بہت مشکل ہے کیونکہ ان کتابوں میں کلمہ ٔمشترک کی بجائے وجہ ِافتراق پر زور دیا گیا ہے ۔ یہی دنیائے کفر کی آرزو تھی جسے ہمارے نادان دوستوں نے پورا کر دیا ۔ ہاں اس مشکل معماّ کا حل سلسلۃ الذہب کے اولیائے کرام نے اپنی فقہی اور اعتقادی ہر دو طرح کی کتابوں میں بیان فرما کر امت ِ اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع فراہم کیا ہے اور امت ِاسلامی انہی اولیائے کرام کے فراخ دل اور وسیع النظر فرامین کی روشنی میں متحد ہو کر تمام فرقہ ورانہ اختلافات سے نجات حاصل کر سکتی ہے اور مہرو محبت اور صدق و صفا کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے اس تنگ و تاریک مادی دو رمیں ایک نورانی اور عظیم الہٰی قوت کی حیثیت سے آگے بڑھ سکتی ہے ۔
مثلاً اعتقادات کے باب میں کلامِ الہٰی کے حادث اور قدیم ہونے کے مسئلے کو لیجئے جو امت اسلامی کے اعتقادی کتابوں میں معرکہ آراء مسئلہ ہے اور سیکڑوں جانیں علماء اور عوام کی نذر ِسیف وآتش ہو چکی ہیں لیکن سلسلۃ الذہب کے عظیم بزرگ میر سید محمد نوربخشؒ نے بڑے آسان طریقے سے اس مسئلے کو یوں حل فرمایا کہ قرآن مجید ذو وجود ہے ۔ ایک خاص زمانے میں اس کتاب کے نزول اور قراء ت کی بنا پر یہ حادث ہے لیکن علمِ الہٰی ہونے کی وجہ سے اسے قدیم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ علمِ خدا خدا کی صفات ِ ذاتی میں سے ہے اور صفاتِ خدا عین ِ ذات ہیں لہذا قدیم ہیں ۔ اس طرح آپ نے دوٹوک الفاظ میں اس مشکل مسئلہ کا حل بیان فرمایا ۔ اسی طرح آپ نے مسئلہ رویت باری تعالیٰ ،مسئلہ ذات و صفات، نسبت ِ خیر وشر ، مسئلہ جبر و قدراور احکامِ شریعت و طریقت و حقیقت کے بیان میں نہایت حکیمانہ انداز میں جملہ متنازعہ امور کی منطقی اور عرفانی انداز میں تشریح فرمائی ہے اور اہلِ اسلام کے جملہ مکاتبِ فکر کے درمیان ان اعتقادی امور کے سلسلے میں موجود اختلافات کا خاتمہ فرمایا ہے ۔ (۱) اس کی تفصیلات ’ نوربخشؒ کا اعتقادی اور فقہی دبستان‘کے ذیل میں بیان ہو چکی ہیں۔
پیچیدہ اعتقادی امور اور علمِ کلام کے دقیق مسائل کے علاوہ علمائے اسلام بدقسمتی سے چھوٹے چھوٹے فروعی اختلافات میں بھی دست و گریبان نظر آتے ہیں۔ حالانکہ ان چھوٹے چھوٹے اختلافات کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ شاہ سید علیہ الرحمہ نے ان فروعی امور میں حتی الامکان ہر فرقے کے طرز ِ عمل کو درست قرار دیا ہے ۔ مثلاً نماز میں ہاتھوں کے آداب کا مسئلہ لیجئے ۔ اہل ِ تشیع ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے پر سختی سے کاربند ہیں اور ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کو کسی صورت روا نہیں رکھتے ۔ اہل ِ سنت والجماعت میں مالکی بھی ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کے قائل ہیں ۔ جبکہ اہل ِ سنت کے دیگر مسالک ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کو خلاف ِ آداب اور نارواسمجھتے ہیں اور صرف ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کے قائل ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ ہاتھوں کو سینے پر باندھنے ، ناف کے اوپر یا نیچے باندھنے میں بھی سخت اختلافات موجود ہیں ۔ نوربخش ؒ نے ’’ الفقہ الاحوط ‘‘ میں ہر دو طریقوں کو درست قرار دیتے ہوئے اہلِ اسلام کے درمیان اس بظاہر معمولی لیکن اہم وجہ ِ نزاع کا قلع قمع فرمایا ہے ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں :
واما ادب الیدین حال القیام فیجوز ارسالھما…… ان یضعھما تحت الصدر لئلاّ الخ
’’ قیام کی حالت میں ہاتھو ں کے آداب کے ضمن میں رانوں کی سیدھ میں ہاتھوں کو کھول کر رکھنا بھی جائز ہے ۔ ناف کے نیچے یا ناف کے اوپر اور چھاتی کے نیچے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کی صورت میں ہاتھوں کا باندھ کر رکھنا بھی روا ہے ۔ گرمیوں میں ہاتھوں کا کھول کر رکھنا اور سردیوں میں ہاتھوں کا باندھ کر رکھنا بہتر صورت ہے ۔ بیٹھنے کی جو حالت قیام کی جگہ لیتی ہے اس حالت میں اگر چار زانو ہو کر نہ بیٹھے ہوں تو ہاتھوں کو چھاتی کے نیچے رکھنا چاہیے تاکہ بیٹھنے کی یہ حالت تشہد کے مشابہ نہ ہو جائے ۔ ‘‘ (7)
اسی طرح وضو کے باب میں پیروں کے دھونے اور مسح کرنے کے مسئلے پر بھی فقہاء اسلام شدید تنازعے کا شکار ہیں جبکہ نوربخشؒ نے یہاں بھی وسیع النظری کا مشاہدہ کرتے ہوئے دونوں طریقوں کو روا ٹھہرا یا ہے چنانچہ فرماتے ہیں :
ومسح الرجلین و غسلھما الی الکعبین لعموم بلوی المسلمین لتعسر صیانۃ الرجل من رشاش الاستنجاء وغیرہ
’’ ( وضو کے واجبی امور میں سے ایک ) پیروں کا مسح کرنا اوراستنجاء کے چھینٹوں وغیرہ سے بچانے کی دشواری کی بناء پر یا مسلمانوں کے عام ابتلاء کی صورت میں ٹخنوں سمیت پیروں کا دھونا ہے ۔ ‘‘ (8)
صلواۃ تراویح یا نافلۂ رمضان کے مسئلے میں فرمایا کہ اسے انفرادی طور بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور باجماعت بھی ۔
اکثر فروعی مسائل میں نوربخشؒ نے مختلف مسالک کی افراط و تفریط کی بجائے راہ اعتدال اور راہ ِ اوسط کو پسند فرمایا ہے جیسا کہ فرمان نبوی ﷺ ہے ۔ خیر الامور اوسطھا جس کی چند ایک مثالیں یہ ہیں :
مقام ِسجدہ کی شرائط میں راہ ِ اعتدال اختیار فرمایا ہے ۔ (9)
قیام کی حالت میں پیروں کے آداب میں فرمایا ہے کہ نہ انہیں بالکل ملا کر رکھے اور نہ ایک بالشت سے زیادہ فاصلہ پر رکھے ۔ ایک بالشت سے کم کم فاصلہ بہتر ہے ۔ (10)
سلام پھیرنے کے آداب میں دائیں اور بائیں کو متوجہ ہونے میں نہ جاہلوں کی مانند سختی کرے اور نہ بیماروں کی طرح سستی یا نرمی بلکہ اس میں حد اعتدال کو ملحوظ رکھے ۔ چنانچہ مناسب ہے کہ نمازی سلام پھیرتے وقت نہ تو طوقِ گردن کے شکار آدمی کی طرح سر کو اوپر کئے رکھے اور نہ گردن کو اس طرح موڑ دے کہ بیمار آدمی کی مانند درد پیدا ہوجائے۔(11)
روزہ قصر کرنے کے معاملے میں آپ کا مسلک یہ ہے کہ نماز کو قصر کے ساتھ پڑھنے کی شرطوں کے حامل مسافر کو روزہ رکھنے اور روزہ افطار کرنے میں اختیار حاصل ہے ۔ اس مسافر کے لئے روزہ رکھنا بہتر ہے جس کا سفر کسی مشقت کے ساتھ نہ ہو ، مثلاً وہ سوار ہو ، تندرست ہو ، جسم کے لحاظ سے طاقتور ہو ، مالدار شخص ہو اور وہ گرمی ، پیاس یا منزلوں کی دوری کی بنا پر ضرر رسیدہ نہ ہو ۔ مذکورہ تمام صورتوں میں یا بعض صورتوں میں اس کے برعکس مسافر کے لئے روزہ افطار کرنا بہتر ہے ۔ ‘‘ (12)
روزے کے مسنونات کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ غروب ِ آفتا ب کا ’’یقین ‘‘ ہو جانے کے بعد افطار کرنے میں جلدی کرنا سنت ہے ۔ (13)
پس اس مسئلے میں بھی مناسب احتیا ط کے ساتھ میانہ روی کا مسلک پسند فرمایا گیا ہے ۔
داعی ٔ اتحاد بین المسلمین میر سید محمد نوربخشؒ کے مندرجہ بالا فرامین سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ آج اہلِ اسلام جن چھوٹے چھوٹے اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، نوربخش ؒنے ساڑھے پانچ سو برس قبل ان اختلافات کا نہایت جمہوری انداز میں خاتمہ فرما کر رواداری اور برداشت کا راستہ اپنانے کی تلقین فرمائی ۔ نوربخشؒ کی جملہ تصانیف اس نوع کی وسیع النظری سے معمور ہے اور یہ تصانیف آج کے جدیددور میں بھی عالم ِ اسلام کے اختلافات اور نزاعات کو دور کرنے کا بہترین لائحہ عمل ہیں ۔

واپس اوپر جائیں

علمائے مشرق و مغرب کی آراء

 

ہر دور کے وسیع النظر علماء اور دانشوروں نے غوث المتاخرین سید العارفین شاہ سید محمد نوربخش رحمۃ اﷲ علیہ کی ان کاوشوں کو نہایت فراخدلی سے سراہا جو انہوں نے احیائے شریعت ِ محمدیہ ﷺ ، رفع ِ بدعات اور اتحاد بین المسلمین کی خاطر کی ہیں ۔ ذیل میں ہم قدیم اور جدید دور کے چند علماء اور مصنفین کی آراء نقل کرتے ہیں :
صاحب المنجد:
نوربخش( محمد ) ( ۱۳۹۲ھ۔ ۱۴۶۲ھ) ولد فی قوھستان و توفی فی الری مؤسس الطریقۃ النوربخشیۃ دعا الناس الی الایمان بہ مھدیا و اماما و خلیفۃ سجن و افرج عنہ ۔ لہ الفقہ الاحوط و ضع فیہ علی ما یقال مذھباً وسطاً بین تعالیم السنیہ والشیعۃ
’’ نوربخش اصل نام محمد ہے ( ولادت ۱۳۹۲ھ وفات ۱۴۶۴ھ) آپ قہستان میں پیدا ہوئے اور رے میں انتقال فرمایا ۔ آپ مسلک نوربخشیہ کے بانی ہیں ۔ آپ نے ایک ہدایت یافتہ امام اور خلیفہ کا سا کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں کو ایمان کی دعوت دی ۔ آپ کو قید کر لیا گیا اور پھر رہائی نصیب ہوئی۔ آپ کا علمی کارنامہ ’ الفقہ الاحوط ‘ ہے جس میں آپ نے مذہب ِوسط کو بیان فرمایا ہے اور سنی اور شیعی تعلیمات کے درمیان معتدل مسلک کو اختیار کیا ہے ۔ ‘‘ (14)
قاضی نوراﷲ شوشتری :
مشہور شیعہ مصنف قاضی نوراﷲ شوشتری اپنی تصنیف ’ مجالس المؤمنین ‘ میں اتحاد بین المسلمین کے اس داعی کو یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
’’ غوث المتاخرین سید العارفین سید محمد نوربخش نوراﷲ مرقدہ ایک درخشندہ ستارہ تھے ۔ اسرار غیبی پر جھانکنے والوں کی آنکھوں کو نوربخشنے والا ، لاریبی واردات کی حد گاہوں سے دیکھنے والوں کی بصیرت میں اضافہ کرنے والا ، سیاہ لباس میں ملبوس جو کہ درگاہ ولایت کے مشائخ عظام کا طریقہ تھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ سیاہی نور میں لپٹی ہوئی ہے جو آب ِ حیات کی جانب رہنمائی کرنے والاہے اورظلمات میں مخفی ہے ۔ کمالِ عرفان کے عنوان انوار ہمت کی جھلک آپ کے حال و مقال سے عالی ہمت کا نمایاں ظہور نور کی شعاعوں کی مانند طور کی چوٹی پر جلوہ افروز ہر قسم کے اعتراضات سے مبرا۔ ‘‘ (15)
ڈاکٹر صابر آفاقی:
’’سید محمد نوربخشؒ نے اہل ِ تسنن اور اہلِ تشیع کے درمیان اعتدال کی راہ پیدا کرکے دونوں فرقوں کو نزدیک تر لانے کی سعی و کوشش کی اور نوربخشیہ فرقہ اسی اعتدال کی راہ پر گامزن ہوا ۔ ‘‘ (16)
ڈاکٹر محمد ریاض:
’’ نوربخشی فرقہ سنیوں اور شیعوں کے عقائد کا آمیزہ ہے ‘‘ (17)
پروفیسر صاحبزادہ حسن شاہ:
’’حضرت سید محمد نوربخش قہستانی جو خود سلسلۂ نوربخشیہ ہمدانیہ کے سرِ سلسلہ تھے خلافت کے بیان میں توضیح فرماتے ہیں کہ خلافت دو قسم کی ہے ایک جلی اور دوسری خفی ۔ خلافت ِجلی کو قوت و اختیار سے پہچانا جاتا ہے اور خلافت ِخفی تعلق باﷲ اور اتباع ِشریعت ِ حقہ پر مبنی ہے ۔ عوام کی عقیدت و نیاز مندی کا مرجع خلیفہ خفی ہی ہوتا ہے ۔ چنانچہ تمام سلاسل ِ صوفیاء میں بیعت شیخ ِ وقت حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے نام پر لیتا ہے اور شیخ ِ وقت کو خلیفہ خفی کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے ۔ چنانچہ حضرت امیر کبیر ؒ کے سلسلۂ بیعت کو امیر تیمور نے اپنی سیاسی سیادت کے لئے خلیج سمجھا اور اور ان کے درپئے آزار ہوا تو انہوں نے ہجرت کی سنت پر عمل کیا اور کئی نے اطاعت پر شہادت کو ترجیح دے کر سنتِ شبیریؑ ادا کی ۔ حضرت امیر کبیر مسلک تصوّف کے لحاظ سے سلسلہ ٔ کبرویہ سے منسلک تھے ۔ اس سلسلہ کی نسبت حضرت نجم الدین کبریٰ شہید ؒ سے ہے ۔ اس سلسلہ کے اکابر میں ائمہ اہل ِ بیت اور مشائخ ِعظام کے نام ملتے ہیں ۔ اس تحریک کی دو خصوصیتیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ اولاً اتباع کتاب و سنت اور ثانیاً اتحاد بین المسلمین ۔ حضرت سید محمد نوربخشؒ نے اس نظریہ کو واضح شکل دی اور اعمال و اشغال اور طریقِ سلوک میں شامل کر دیا ۔ سلسلۂ ہمدانیہ کی اس روش کی وجہ سے شیعہ ، اہل سنت حنفی و شافعی سب ایک صف میں نظر آتے ہیں ۔ ‘‘ (18)
میر عبدالعزیز :
فقہ نوربخشیہ ایک صلح کل اور وسیع المشرب فرقہ ہے ۔ اس فقہ کے بانی سید محمد نوربخش حصرت میر سید علی ہمدانی شاہ ہمدان ؒ کے خاندان سے تھے ۔ سید محمدنوربخشؒ کی کتاب الفقہ الاحوط میں اس مسلک کے عقائد اور مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ‘‘
’’ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی وفات کے بعد ان کے داماد خواجہ اسحاق ختلانی ؒ اور سید محمد نوربخشؒ نے ان کے مشن کو آگے چلایا ۔ وہ مشن دین اسلام کی تبلیغ ، مسلمانوں میں فرقہ بندی کا خاتمہ اور اتحاد بین المسلمین کی کوشش کا تھا ۔ اس کام کو سید محمد نوربخشؒ نے جاری رکھا ۔ ساری دنیا کے مسلمان ایک اﷲ ایک رسول اور ایک قرآن مجید کو ماننے والے ہیں ان کے مابین اصولوں پر اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔نوربخش ؒ کی کتاب فقہ الاحوط میں مسلمانوں کے لئے اتحاد و اتفاق کا پیغام ہے ۔ ‘‘ 19)
ایک مدح میں نوربخشؒ کی یوں تعریف کی ہے :
تفرقہ بازی کی لعنت سے چھڑایا قوم کو
السلام اے قائدِ احرار سید نوربخشؒ(20)
ڈاکٹر آغاحسین ہمدانی:
حضرت شاہ ہمدان ؒ کے داماد اور خلیفہ حضرت خواجہ اسحاق ختلانی ؒ اپنے زمانے کے بلند پایہ عالم تھے ، جن کے مرید میر سید محمد نوربخشؒ نے سلسلہ ٔ نوربخشیہ کی داغ بیل ڈالی جو دراصل احیائے شریعت ِ محمدیہ ؐ اور اتحاد بین المسلمین کی تحریک تھی ۔ سید محمد نوربخشؒ نے دنیائے اسلام میں امن اور یگانگت کے پیغام کو عام کیا ۔ ان کے لاکھوں ماننے والے آج بھی خطہ بلتستان میں آباد ہیں اور نوربخشیہ کے نام سے معروف ہیں ۔ ‘‘ (21)
مولانا غلام حسن حسنو:
’’ آٹھویں نویں صدی ہجری میں اہل ِاسلام کے ہر مکتب ِ فکر کا علم ِفقہ تکمیل پا چکا تھا ۔ مختلف ادوار سے گزر کر تمام مکاتب ِ فکر اپنے اپنے نظریے پر جم چکے تھے اور کوئی بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور ایک دوسرے کے فقہی نقطہ ٔنظر کو اپنے پر تیار نہ تھا ۔ ان بے لچک فقہی موشگافیوں نے ہر طرف کنفیوژن پیدا کر رکھا تھا ۔ ایسی گھمبیر صورت ِحال میں میر سید محمد نوربخشؒ نے الفقہ الاحوط تالیف کی جس میں آپ نے اس وقت کے متداول تمام مسلم فرقوں مثلاً شافعی ، حنفی ، حنبلی ، مالکی ، ظاہری اور جعفری کی فقہی کتابوں کو کتاب و سنت ِنبویﷺ کی کسوٹی پر پرکھا اور اس مسئلے کو اختیار کیا جسے ان کے مطابق پایا۔ جس مسئلے پر کتاب وسنت سے روشنی نہ پڑتی تھی اسے اپنے اجتہاد کے ذریعے ایسے پیرائے میں پیش کیا جس پر زیادہ سے زیادہ اتحاد بین المسلمین کا امکان ہو ۔ آپ نے محض افراط و تفریط کے خاتمے اور شریعتِ محمدیہﷺ کے احیاء کی خاطر الفقہ الاحوط تالیف کی ۔ ‘‘ (22)
ابوالعرفان علامہ محمد بشیر:
’’سید العارفین حضرت میر سید محمد نوربخشؒ نے ’الفقہ الاحوط‘ کے آغاز میں اصولی مسائل میں موجود اختلاف کے رفع کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس رفع اختلاف کا مصداق کتاب الاعتقادیہ ہے ۔ شاہ سید (نوربخشؒ )نے اس کتاب میں اصولی اختلافات کے حقائق کی جس عادلانہ انداز اور عارفانہ کردار سے نقاب کشائی کی ہے وہ اہلِ علم حضرات سے پوشیدہ نہیں ۔ اگر اہل علم حضرات اپنے اپنے مخصوص گروہی رجحانات سے کچھ لمحے کے لئے عدم ایثار کی طرف آ کر کتاب ِمذکور کا بغو ر مطالعہ کریں تو ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ واقعی شاہ سید ؒ (نوربخش ؒ) نے علمِ کلام کے اصولی مسائل کے بحرِ بیکراں کو کوزے میں بند کر دیا ہے ۔ اور کتاب الاعتقادیہ ’’ خیر الکلام ما قل و دل ‘‘ کی واضح مصداق ہے ۔ ‘‘ (23)
مولوی حمزہ علی :
حضرت علی ؑ نے فرمایا ہے کہ دو گروہ گمراہ ہیں ایک حد سے زیادہ تجاوز کرنے وا لا اور ایک زیادہ تقصیر کرنے والا ۔ ان دونوں گروہوں سے بچ ہر اصول و فروع کے اختلافات میں میانہ روی اختیار کرنے والا گروہ اﷲ تک پہنچتا ہے اور حق پر ہے ۔ اور رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ہے کہ خیر الامور اوسطھا الفقہ الاحوط میں جملہ احکام بلا افراط و تفریط موجود ہیں۔‘‘ (24)
مولانا شکور علی انور:
’’ صوفیہ نوربخشیہ کی نظریاتی تعلیمات کا اہم پہلو نوربخشیہ کی رواداری اورتمام کلمہ گو اہلِ ایمان کے ساتھ حسنِ ظن ہے ۔ شاہ سید(نوربخشؒ ) کی تعلیمات کے نتیجے میں جملہ عالم اسلام کو دعوت اتحادو اتفاق ملی ہے ۔ پس کہا جا سکتا ہے کہ صوفیہ نوربخشیہ کی نظریاتی اساس کا حسین ترین گوشہ دعوت اتحاد بین المسلمین ہے ۔‘‘ (25)
ٹی ۔ اے خان:
’’ نوربخشیہ ایک نسبتی نام ہے جو شاہ ِ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کے ایک خلیفہ سید محمد نوربخش ؒ سے منسوب ہے ۔ وہ ایک صوفیانہ انقلاب کے بانی تھے جنہیں تصوف کا پرچار کرنے کی پاداش میں کئی بار ایران سے جلاوطن کیا گیا ۔ سید محمد نوربخش ؒ کی یہ تحریک جغرافیائی حالات کے باعث قراقرم کے دُور افتادہ پہاڑوں میں اپنی اصلی حالت میں محفوظ رہی ۔ ……ایک صوفی بزرگ شاہ شمس الدین عراقی ؒ نے چودھویں صدی میں اس صوفیانہ تحریک کا شیگر ، کریس اور خپلو کے علاقوں میں کامیابی سے پرچار کیا ۔ سترھویں صدی کے اختتام پر پورے بلتستان نے اسلام قبول کر لیا ۔ نوربخشیت نے جس کا تمام تر زور رواداری ، عشقِ حقیقی اور رضا و قربِ الہٰی کے حصول پر تھا ، آسانی سے تبتی بدھ مت کی جگہ لے لی۔‘‘(26)
پروفیسر جمال الیاس( امریکہ ):
’’ میں نوربخشیوں کی مہمان نوازی اور امن پسندی سے نہایت متاثر ہوا ہوں۔‘‘(27)
پروفیسر شہزاد بشیر(امریکہ ) :
’’سید محمد نوربخشؒ کے جتنے بھی رسائل اور خطوط وغیرہ میری نظروں سے گزرے ہیں ان میں یہ بات ( رفع اختلاف بین المسلمین ) بہت واضح ہے ۔ مثلاً جب وہ کسی موضوع پر اظہار خیال کرتے ہیں جیسا کہ رسالۂ معراجیہ میں انہوں نے معراجِ رسالت ﷺ پر لکھا ہے تو وہ یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف لوگوں کی اس مسئلہ پر رائے دراصل وجہۃ نظر کی بات ہے اگر فلسفی ایک بات کہے اور اہل ِسنت اور اہل ِتشیع دوسری تو یہ اختلاف ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے سے ہی آسانی سے رفع کیا جا سکتا ہے ۔ سید نوربخشؒ کی اکثر تصنیفات اسی طرح سب مسلمانوں میں مفاہمت پیدا کرنے پر بہت زور دیتی ہیں ۔ ‘‘ (28)
Gibbs and Krammar:
Among the sufi orders that played a leading role in bridging the gap between Sunnism and Shiism credit must go to Nurbakhshiyya and Niamat Allahia Tariqas.
Dr. Muhammad Riaz (Tehran)
He (Nurbakhsh) was a liberal minded religious leader, and does not lay any importance on sectarian difference. He acted in accordance with the Sunni Law but was inclined to Shi,ism too. He believed only in intuition or love for all. Mawlwi Rumi (d. 672H) remarks:
عشق را ملّت زِ ملّت ھا جُداست
عاشقان را مذھب و ملّت خُداست
And so is Hafiz Shirazi’s (d.792H) ideas.
جنگِ ھفتاد و دو ملّت ھمہ را عذر بنہ
چو ندیدند حقیقت ، رہِ افسانہ زدند
In his opinion, a perfect man or sufi is the sole important phenomenon of universe. He advises his desciples to develop a true man in them. He does not lay any emphasis to attributing to a particular sect. He abhores worldly, irreligious life. However liberal he may be, he is

a sufi. (29)
Banat Gul Afridi:
The Nurbakhshi sect is peculiar to Baltistan where it numbers over 20000 followers most of whom are found in Shigar and Khapolo. It is apparently an attempt to form a via media between Shia and Soonee doctrines.(30)
Dr Andrease Reick:
The remarkable thing about the Nurbakhshis is that they draw their spiritual inspiration freely from both Sunni and Shii books without sectatian consideration, as they refrain from polemics against the belief of other Muslims. This has been of course a common phenomenon among Sufi orders since nearly a thousand years, but has gained a special significance in the climate of sectarian rivalry which now a days permeates the Northern Areas and other parts of Pakistan. I think that moderation and peacefulness of the Nurbakhshis is unmatched even in the peaceful Baltistan.(31)
Delve Murphy:
The Raja’s family, like the vast majority of people of Khapalu are Nurbakh, the most liberal and unorthodox sect of Islam.(32)
The (Nurbakhshis) mosque (in Kiris) is close to Kiris Bazar,_____ by Balti standards it is magnificent._____ Shias and Nurba(kh)shis who interpret the Prophet,s teachings so differently worship here together.
Northern Ireland Christians please note.(33)

واپس اوپر جائیں

حوالہ جات


۱۔ الفقہ الاحوط (ص ۱)
۲۔ سلسلۃ الذہب (ص ۷)
۳۔ الفقہ الاحوط (ص ۲۱۱)
۴۔ الفقہ الاحوط (ص ۱۱۸)
۵۔ ایضاً (ص ۴۷۳)
۶۔ الفقہ الاحوط (ص ۲۳۸)
۷۔ اتحاد عالمِ اسلام اور تحریک ِ نوربخشیہ کا کردار ، نوائے صوفیہ (شمارہ ۱۸ اپریل ۱۹۹۶ء ص ۲۲، ۲۳)
۸۔ الفقہ الاحوط (ص ۵۲)
۹۔ الفقہ الاحوط (ص ۴)
۱۰۔ ایضاً (ص ۴۲،۴۳)
۱۱۔ ایضاً (ص ۵۲)
۱۲۔ الفقہ الاحوط (ص ۱۵۶)
۱۳۔ ایضاً (ص ۱۵۵)
۱۴۔ المنجد (ص۷۱۸)
۱۵۔ مجالس المؤمنین (ص ۳۰۳)
۱۶۔ جلوۂ کشمیر ( ص۱۲۰)
۱۷۔ سید علی ہمدانی (ص۳۳)
۱۸۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی دعوتِ تحریک و ارشاد نوائے صوفیہ (شمارہ ۶ فروری ۱۹۹۵ء ص ۸،۹)
۱۹۔ نوائے صوفیہ (شمارہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۲۶)
۲۰۔ شاہ سیدؒ کانفرنس ۱۹۹۰ء ( مجموعہ ٔمقالات ) (ص ۱۰)
۲۱۔ نوائے صوفیہ (شمارہ ۲۲ اگست ۱۹۹۶ء ص ۲۵)
۲۲۔ ایضاً ( شمارہ ۱۷ مارچ ۱۹۹۶ء ص ۲۴ ،۲۵)
۲۳۔ مقدمہ کتاب الاعتقادیہ (ص ۸)
۲۴۔ نورالمؤمنین (ص ۶ تا ۸)
۲۵۔ نوائے صوفیہ (شمارہ ۴۵ جنوری ۱۹۹۹ء ص ۱۶)
۲۶۔’Sufi revival’ an article in The South Asian Magazine Nepal
۲۷۔ نوائے صوفیہ (شمارہ ۴۲ اگست ۱۹۹۸ء ص ۲۴)
۲۸۔ ایضاً ( شمارہ ۴۲ اگست ۱۹۹۸ء ص ۲۲)
۲۹۔’Mir sayyid Muhammad Nurbakhsh’ an article in the Journal of Pakistan Historical Society (vol2,1963 p 183-184)
۳۰۔ Baltistan in History (p26)
۳۱۔An interview with Dr. Andrease Rieck Nawa-i-Sufia (Issue no.13 Nov. 1995 p 24)
۳۲۔Where Indus is young (p185)
۳۳۔Where Indus is young (p228)