میر سید محمد نوربخشؒ کے مریدوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچتی ہے ۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کردستان کے بختیاری اور دوسرے قبائل ان کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے اور انہی کے نام پر سکہ اور خطبہ جاری ہوا تھا ۔

ہرات سے تیسری بار روم بھیجے جانے کی غرض سے تبریز روانہ کیا گیا تو وہ لوگوں سے بلا روک ٹوک ملتے رہے اور ہرات سے تبریز تک تقریباً ایک لاکھ آدمی ان سے مشرف ہوئے ۔

یوں ان کے حلقہ ٔ ارادت میں شامل لوگوں کی کوئی حدو حساب نہ تھی ۔ تاہم صاحب ِتحفۃ الاحباب نے ان کے جن خاص شاگردوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے بعض ان کے خلیفہ بھی تھے اور مختلف شہروں میں میرؒ کی طرف سے دعوت و ارشاد پر مامور تھے ۔ ان کے اسمائے گرمی درج ذیل ہیں ۔

  1. حاجی محمد سمرقند فراقیؔ ؒمصرمیں مامور تھے ۔
  2. شیخ محمود بحریؔ ؒبحرآباد میں مقرر تھے ۔
  3. مولانا حسین کوکئی ؒ ماوراء النھرمیں متعین تھے ۔
  4. برہان الدین بغدادیؒ بغداد میں آ پ کے نامزد کردہ تھے ۔
  5. شمس الدین لاہیجی اسیریؔ ؒشیراز میں آپ کے خلیفہ تھے ۔
  6. شاہ قاسم فیض بخشؒ خراسان میں تھے اور آپ کے جانشین اور خلیفہ تھے ۔
  7. شیخ محمد غیبیؒصولغان میں رشدو ہدایت دیتے تھے ۔
  8. شیخ محمد الوندی ؒہمدان میں رشد و ہدایت پر مامور تھے ۔
  9. خلیل اﷲ بغلانی ؒبغلان میں ہدایت ِ حق دیتے تھے۔
  10. مولانا حسن ؒگیلان میں آپ کی طرف سے مقرر تھے ۔
  11. درویش سلیمان مکاریؒکشمیر میں خلیفہ تھے۔
  12. فخرالدین مغربی ؒشام میں ہدایت کا فریضہ سرانجام دیتے تھے ۔
  13. مولانا عماد الدین ؒ ہندوستان میں رشد و ہدایت دیتے تھے ۔
  14. شیخ اسحاق ؒ ملتان/ دکن میں مقرر تھے ۔

رسالۃ الھدیٰ میں میر سید محمد نوربخشؒؒ نے اپنے ۲۱۱ جان نثار ساتھیوں کے نام گنوائے ہیں جو درج ذیل ہیں ۔

خلیل اﷲ بن رکن الدین البغلانی ۔ اسحٰق بن یوسف الطالقانی ۔ محمد بن علی بن بھرام القائنی ۔ محمد بن سعداﷲ القاضی القائنی ۔ محمد بن الحسن الشانشی ۔ علی الحویزوی ۔محمود الخراسانی علاء الدین النونداکی ۔ محمد الامین ۔ جمال الفرخاری البدخشی ۔ غلام البدخشی ۔ علی الکشمی ۔ دولت خواجۃ الپنجھیری ۔ عبداﷲ الکیھتی ۔اسمعیل المشتھر بالرومی ۔ شمس الدین محمد الترمذی ۔ علی الدوستی الکشمی ۔ الحسین البدخشی الکشمی ۔ عبداﷲ البدخشی الحاج ۔ الشریف الحاج الحسین الختلانی ۔ محمد بن علی شاہ القھستانی ۔ علی التونی المقلب بملک ۔ محمد القائنی ۔ علی شرف الدین القائنی ۔ تاج الدین محمدالقائنی ۔ علی البلخی ۔ اختیار الیزدی المجذوب ۔ علی الاسود المجذوب ۔ ناصرالدین القندوزی ۔ محمود بن ناصر الدین القندوزی ۔ نظام الدین القندزی الشاب ۔ محمد بن بھاء الدین البدخشی ۔ فرخزاد الرستابازاری ۔ الحسین الحداد البدخشی ۔ عیسی الارھنجی ۔ اسحٰق الملتانی ۔ خاموش البلخی ۔ شھاب الدین الجشتی ۔ فخرالدین الطبسی ۔ محمد بن علا ء الدین الجنبذی ۔ عبدالعزیز الجنبذی ۔ علی بن الحافظ البحرینی ۔ محمود الاسفرائنی ۔ الصاحب محمد الجاجرمی ۔ بلبل الجوینی ۔ الشیخ الحسن الطارمی ۔ غیبی الھمدانی ۔ علی الخفاف ۔ شمس الدین النائنی ۔ کا کاء الجورانی ۔ علی بن جرادت البغدادی ۔ صالح البروجردی ۔ محمود التستری ۔ شھاب اللرستانی المجذوب ۔ ظھیر الدین الجھرمی السید المشتھر بزاھد ۔ سعید الجیلانی الفومنی ۔ علی الشفتی المشتھر بکاردار ۔ علی الشفتی(جسے شہاب الدین جورانی نے تربیت دی ) ۔ شمس الدین الکوکوی ۔ الصوفی الحسین الکوروی ۔ تا ج الدین الشفتی الجیلانی ۔ الامیر الحسین الکشلی الجیلانی ۔ حاجی ابراھیم الفومنی ۔ الشیخ احمد السلطانوی ۔ احمد الشیرازی ۔ احمد المازندرانی ۔ رفیع الدین الفیرداری الشروانی ۔ جلا ل الرازی ۔ ادریس الرودباری من المدیالمۃ ۔ محمد السمنانی ۔ علی الیزدی المشتھر بالابدال ۔ احمد الکرکاودلی ۔ سعد الحق الکبیر ( پسر ِ میر نوربخشؒ ) ۔ علا ء الدین علی الجیلی المشتھر بکیا ۔ کاملہ(دختر علی کیا )۔ شھاب الدین الجورانی ۔ حاجی البسجردی المشتھر بالبحری ۔ محمود الماشکی الجیلی ۔ احمد بن علی الجشجانی ۔ احمد بن محمد بن عبداﷲ الحسینی اللحصوی ۔ محمد بن سعد الھمدانی ۔ محمد السمرقندی ۔ صالح الحویزوی ۔ محمدالطوسی ۔ محمود السمنانی ۔ شرف الدین التونی ۔ الحاج الوحشی ۔ (شاہ) قاسم ( فیض بخشؒ پسرِ میر نوربخشؒ ) ۔ السلطان علی بن السید الحمد القائنی البارازی ۔ زین العابدین ابن احمد (برادرِ نوربخش) ۔ روح اﷲ ابن احمد (برادرِ نوربخش) ۔ اشرف ۔ افضل ۔ حاجی علی التبریزی ۔ احمد القریشی ۔ الحسین الکوکوی الجیلی ۔ محمد بن غیبی المنجیلی الدیلمی ۔ یحییٰ بن یوسف القاضی التیمجانی ۔ محمد بن یحییٰ الاھیجی ۔ محمد بن الحسین الخرمابادی ۔ محمد الرشتی الجیلی ۔ حسین الماشکی الجیلی المشتھر بدیوانہ ۔ علی الدیلمی البلوینی ۔ غیاث الدیلمی البلوینی ۔ محمد الرعناشی الدزفولی ۔ ابرھیم الکردی ۔ الشیخ الزاھد السلطانوی ۔ حسام الدین البروجردی ۔ محمد شاہ التستری ۔ سلمان اللسنوی ۔ عبداﷲ الشیرازی الکردی۔ علی الدیلمی ۔ ابرھیم الجیلی اللسفجانی ۔ فیلشاہ اللسنوی ۔ الصوفی علی الکوروی ۔ عبدالرحمن الاسفرائنی ۔ بابا جمال البروجردی ۔ الحاج نجم الدین الکرھرودی ۔ حسن الدیلمی ۔ الحسین الخلخالی ۔ عبداﷲ بن علاء الدین الاسفرائنی ۔ احمد الاسفرائنی ۔ فخر الدین البدخشی المشتانی ۔ حسام الدین البدلیسی ۔ نصراﷲ لآملی الرستمداری ۔ حمزۃ الطالشتی ۔ برھان البغدادی ۔ عبدالعزیز النائنی ۔ سراج الدین البدخشی ۔ حسام القھستانی الالغوری ۔ عبدالرحیم الابھری ۔ الحسین الابھری ۔ غیاث الدین محمد بن عبداﷲ السید الحسینی ۔ ابرھیم الکلوروی السید ۔ اخوہ زین العابدین ۔ نجم الدین عمر السبحانی ۔ الحسن الدربندی الکردی ۔ محمد القریشی ۔ الولی الاسفرائنی المشتھر بخواجہ ۔ سابق الجیونی القھستانی ۔ ذوالنون التبریزی ۔ فتح اﷲ الجندی۔ سعد الدین الازقندی ۔ محمد بن ناصر الدین القاضی التونی ۔ السید محمد بن تاج الدین القھستانی ۔ علی الجنبذی ۔ عز الدین الجنبذی من عشائر القریشی ۔ سلیمان شاہ التونی ۔ محمد بن غیاث الدین ا لنا مقی ۔ عبداﷲ الاسفرائنی ۔ علی بن محمد الاسفرائنی الفاشدانی ۔ علی اخو سلمان ۔ الحاج محمدالنعلی اللاھیجی ۔ رجب التبریزی ۔ ظاھر بن بھاء الدین السیسی الشروانی ۔ محمد الکردوانی الشروانی ۔ اخوہ محمود ۔ شرف الدین المنجلی الدیلمی ۔ محمد الجیلی الکیستمی المعروف بسربرھنہ ۔ الحسن الرودباری ۔ علی شاہ الرازی ۔ حاجی فخر الدین البروجردی ۔ دوست الجورانی ۔ چالاک البدخشی الرستابازاری ۔ میرک الخارکش ۔ علی بن الحسین الصوفی بکورہ ۔ احمد بن شرف شاہ الکوروی ۔ نیکبی البدخشی المشتانی ۔ السلطان احمد الختلانی ۔ جمال الرازی ۔ علی اللاھیجی ۔ احمد الفقیہ برادرِ ابرھیم اللسفجانی ۔ التائبشیر التوجوی الجیلی اللشتنشانی ۔ شمس الدین علی الرازی الاندرمانی ۔ علیشاہ بن شر ف الدین الرازی العظیمی السید ۔ محمد بن الحسین الاندرمانی الرازی ۔ الحسن الرازی الاندرمانی ۔ بلال الطارمی ۔ محمد شاہ الکنی الرازی ۔ محمد الحلوی اللرستانی ۔ حاجی جان الابھری ۔ عوضشاہ التبریزی ۔ محمد المھدی النائنی ۔ اخی من سلطانیۃ ۔ الحسین بن محمود البروجردی ۔ تعد رضی الدین الکرخی ۔ کریمدالبدخشی من رستابازار ۔ عبدالعلی البدخشی المشتانی ۔ اسفندیار بن ابی سعید السلقانی ۔ محمود البحری اخو حاجی ۔ علی الأشکوری ۔ احمد بن الفقیہ شمس الدین الماشکی الجیلی ۔ علی البروجردی اخو بابا جمال ۔ دولتشاہ القواس الجورانی ۔ محمد الجیلانکشوی ۔ بابا الھمدانی الدموی ۔ الشبلی الدیلمی الجشجانی ۔ قباد السیسی الشروانی ۔ محمد بن علی الطائقانی السید ۔ محمد الکمرودی ۔ ابو سعید اللرستانی ۔ محمد القزوینی ۔ احمد الدیلمی اللملقب بدردمند ۔ بدر الدیلمی الجشجانی ۔ (1)

سید محمد نوربخش ؒ کی اولاد اور بعض مشائخ ِنوربخشیہ کا حال تحفہ ٔسامی اور نفائس المآثر میں بھی دیا گیا ہے ۔ تحفہ ٔ سامی سام میرزا بن شاہ اسماعیل صفوی کی تصنیف ہے جو ۹۵۷ء میں لکھی گئی ۔ جبکہ نفایس المآثر ۹۷۳ھ سے ۹۷۹ھ کے درمیان مرزا علاؤالدولہ بن یحییٰ سیفی حسینی نے تصنیف کی ۔ ’طبقات ِنوریہ ‘کے نام سے ایک فارسی تذکرہ اردو ترجمہ کے ساتھ مکتبہ ٔ قدوسیہ کشمیری بازار لاہور سے چھپا ہے ۔ مصنف کا نام صوفی محمد بن محمد مرید بالواسطہ میر شمس الدین عراقی بت شکن ؒ درج ہے ۔ کتاب کے مندرجات ’تحفۃ الاحباب ‘سے ماخوذ معلوم ہوتے ہیں ، نیز مذکورہ بالا دو رسالوں سے بھی اس کے مضامین کی ہم آہنگی ہے ۔ البتہ یہ بعد کے دور کی تصنیف لگتی ہے ۔ (2)کتاب میں بہت سے نوربخشی خلفاء کے حالات زندگی مندرج ہیں ۔ مندرجہ بالا حوالوں سے مختصراً ہم ان حالات کو یکجا پیش کریں گے ۔

شیخ شمس الدین اسیری لاہیجیؒ

شیخ شمس الدین اسیری لاہیجیؒ غالباً ۸۷۰ھ کے لگ بھگ پیدا ہوئے ۔(3) اسیری خلفائے نوربخشیہ میں سب سے شاندار علمی وروحانی شخصیت کے مالک تھے ۔ (4) قاضی نوراﷲ شوستری نے انہیں افضل واکمل خلفائے حضرت سید محمد نوربخش ؒ کے الفاظ سے یا دکیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کل سلسلہ ٔنوربخشیہ و سلسلہ ٔہمدانیہ بلکہ تمام سلاسل ِصوفیہ ان کے وجود کو باعث ِافتخار جانیں تو یہ اس کے سزاوار ہیں ۔ (5) ’اسرار الشہود ‘کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نوربخشی مبلغ کی کوشش سے جس کو اسیری ابدال بتاتے ہیں ، سید نوربخش ؒ کی طرف رجوع ہوا اور یکم رجب ۸۴۷ھ کو وہ اصفہان سے گیلان کی طرف روانہ ہوئے جہاں میر نوربخشؒ قیام فرما تھے ۔ راستے میں ان کو اور لوگ بھی ملے جو سید محمد نوربخش ؒ کی خدمت میں حاضری کے لئے گیلان جار ہے تھے ۔ گیلان پہنچ کر یہ میر ؒ کے حلقہ ٔ ارادت میں داخل ہوئے اور سولہ برس تک مختلف طریقوں سے شیخ کی خدمت میں مصروف رہے ۔ (6) مرشد کی وفات کے بعد آپ شیراز آئے اور ایک خانقاہ تعمیر کی جس کا نام خانقاہ ِ نوریہ رکھا اور اس خانقاہ میں مریدوں کی چلہ کشی کے لئے کمرے تیار کئے اور بقیہ زندگی چلہ کشی اور ذکرو فکر میں گزاری ۔ شاہان ِ وقت نے اس خانقاہ کے لئے نفیس اراضی وقف کی اور شیخ لاہیجیؒ اور ان کی اولاد کو اوقاف کی زمینوں کا متولیّ قرار دیا۔ (7) شیخ کو وفات کے بعد اسی خانقاہ کے احاطہ میں سپرد ِ خاک کیا گیا ۔ آ پ کا سن ِوفات ۹۱۲ ھ ہے ۔ جو اس شعر سے نکلتا ہے ۔

حسب حالش گشت تاریخِ وفات

قطبِ عالم سیدِ اربابِ فقر(8)

آپ کی دو تصانیف ’مفاتیح الاعجاز فی شرح گلشن راز ‘ اور مثنوی ’ اسرار الشہود ‘ بہت مشہور ہیں ۔ جبکہ دیگر تصانیف میں دیوان ِ اسیریؔ ، منتخب مثنوی مولوی ، شش رسالہ اور جابلقا و جابلسا شامل ہیں ۔ (9)

کتاب ’’ تحفۃ الاحباب ‘‘ سے شیخ اسیری لاہیجی کے کچھ احوال معلوم ہو جاتے ہیں ۔ شیخ لاہیجیؒ علوم منقولات و معقولات میں تبحر رکھتے تھے ۔ حکیمانہ علوم و فنون میں مجتہد ، محقق اور دقیق مفسّرتھے ۔ احادیث ، روایات ، تفاسیر ، اور کلام وآیات کے سند یافتہ عالم تھے ۔ اصول و فروع کی باریکیوں ، کمال و حال کے فضائل ، اور علم ِتصوّف کے بارے میں اصطلاحات تالیف فرمائیں ۔ بہت سے علماء اکابرین نے اسیری کے ساتھ اپنی ارادت اور نسبت پر فخر کیا ہے ۔ چنانچہ مولانا جلال الدین محمد دوّانی اور قاضی حسین یزدی بھی ان کے مرید تھے ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒؒ کے خلفاء میں حضرت شیخ لاہیجیؒ جیسا کثیر تعداد میں مرید رکھنے والا کوئی نہ تھا ۔ جو مسافر اور سیاح آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے آپ کی نصیحت و مواعظ سے متاثر ہو جاتے اور آپ ان کے تالیف ِقلب کا اس قدر اہتمام کرتے کہ وہ آپ کے معتقد اور گرویدہ بن جاتے ۔ آپ انہیں شرف ِ توبہ و بیعت سے مشرف کر دیتے اور پھر اسے اہل ِزمانہ سے توبہ اور بیعت لینے کا مجاز بھی بنا دیتے ۔ (10) شیخ اس توفیق کو سلسلہ ٔ نوربخشیہ کی خصوصیت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

’’ حصول ِمقصد کے لئے ضروری ہے کہ عروۃ الوثقیٰ کو تھام لو اور سلسلۃ الھدیٰ سے تمسک رکھو ۔ حضرت سید محمد نوربخش ؒ کے طریقوں اور ارشاد کی روشنی میں آئے بغیر یہ ممکن نہیں ہے ۔ اور سلسلہ ٔعالیہ نوربخشیہ میں داخل ہو جانا اس حدیث ِنبوی ؐ کا مصداق ہے ۔

مثل اھل بیتی کمثل سفینۃ نوح من رکب فیھا نجیٰ و من تخلف عنھا غرق

’’ میری اہل بیت کی مثال سفینۂ نوح ؑ کی ہے جو اس میں سوا ر ہوا وہ نجات پا گیا اور جس نے اس سے منہ موڑ لیا وہ غرق ہو گیا ۔ ‘‘الغرض شیخ لاہیجیؒ نے اہل ِدنیا کو اپنی مساعی جمیلہ سے سلسلہ ٔعالیہ نوربخشیہ میں داخل کرنے کا اہتمام کر رکھا تھا ۔ (11)

خود سید محمد نوربخشؒ کے دل میں شیخ لاہیجیؒ کے لئے بڑی محبت اور عزت تھی اور انہیں تمام خلفاء و مشائخ سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے ۔ میر نوربخش ؒ نے اسیری کی بہت تعریف اور توصیف بیان فرمائی ہے اور انہیں اپنا روحانی فرزند قرار دیا ہے ۔ چنانچہ آپ نے اسیری کوسلطان یوسف مرزا کی ارشاد کے لئے ایک خط کے ساتھ شیراز بھیج دیا ۔

قاضی نوراﷲ شوستری کے بیان کے مطابق میر نوربخشؒ نے تین مرتبہ اسیری ؒ کو سندِ ارشاد عطا کی جن میںسے آخری اجازت نامہ کا ترجمہ درج ذیل ہے :

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط

کمل اولیاء فحول علماء و مشاہیر محققان ِ عرفان، اعاظم سلاطین و امراء ،طالبان و قابلان ِخواص و عوام ، جمہور ِامت حضرت سید الانامؐ کو بعد از سلام اطلاع ہو کہ حامل ِتجلی مآب ، قدوۃ المعاشقین ، عمدۃ الواصلین ، زبدۃ المحققین ، خلاصۃ العلماء الراسخین ، نقاوۃ الاولیاء المرشدین ، مفخر الکاملین ، فرزند ِجانی شیخ محمد گیلانی دام اﷲ برکات تجلیاتہ و کمالاتہ جو عین ِعالم ِشباب میں علوم ِظاہری سے فراغت کے بعد جذبہ ٔشوق ِالٰہی سے سرشار ہو کر اس فقیر کی صحبت میں پہنچے اور توبہ و انابت سے شرف یاب ہوئے ۔ ذکر ِخفی اور شرائط ِخدمت و عزلت اور خلوت و صحبت کی تلقین کی جیساکہ اربابِ طریقت کا وظیفہ ہے اور اس فقیر کی صحبت میں سالکوں کی تربیت کی ۔ …… چونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو دولت ِعظمیٰ و سعادت ِکبریٰ سے نوازا ہے اس لئے فرزند ِجانی ( اسیری گیلانی ؔ) کو بندگان ِخدا کو دعوت و دلالت ، قبول ِتوبہ ، ذکر ِقوی و خفی کی تلقین ان شرائط کے ساتھ جو اس فقیر کی صحبت میں دیکھی ہیں ،اور جیساخود انہوںنے اربعیناتِ متعدّدہ کی مواظبت کی ہے ، سالکوں کو اسی طور اربعین نشینی کرانے ، اور علوم ِشرعیہ ، فقہ ، تفسیر ، حدیث اور تصوف وغیرہ جو انہوں نے اس فقیر سے درست کر لیے ہیں دوسروں کو نقل کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ ان کو مذکورہ کمالات میں راسخ اور متدین سمجھ کر ان کی صحبت کو غنیمت جانیں اور ہر معاملہ دینی میں ان کی انفاسِ متبرکہ کو قبول کریں۔ بہر ِتوبہ ان کے ہاتھ کو اس فقیر کا ہاتھ سمجھیں اور ان کی ملازمت و صحبت و خدمت کو کبریت ِاحمر اور اکسیر ِاعظم سمجھیں۔ اﷲ تعالیٰ جمیع امت ِمحمدیہؐ کو کمل ِاولیاء و محققانِ عرفاء و وارثانِ حقیقی حضرت محمد مصطفیؐ و علی مرتضٰیؑ کی متابعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہوائے نفسانی اور وساوس ِشیطانی سے محفوظ رکھے اور ہادیان و مرشدان ِکامل و مکمل کو جادہ ٔ شریعت و سجادہ ٔطریقت پر راسخ و مستقیم رکھے ۔ بحرمۃ کمل اولیائہ من الاقطاب و الافراد (12)

اس ارشاد نامے سے جہاں اسیری ؔ کے اعلیٰ علمی اور روحانی مقام کا اندازہ ہوتا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب نوربخشؒ کے فیضان ِنظر کا اثر اور نتیجہ تھا ۔

میر شمس الدین عراقی ؒ بھی شیخ اسیری ؒؔ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس وقت شیخ شیراز میں مقیم تھے ۔ میر شمس الدین ؒنے شیخ سے ان کی خانقاہ میںملاقات کی اور توبہ و بیعت کے بعد ان کی متابعت میں مختلف عبادات ، ریاضات ، طاعات اور مجاہدات بجا لائے اور خانقاہ کے چلہ نشینوں کی خدمت اور ملازمت پر کمربستہ ہو گئے ۔ تسبیحات و اذکار اور مراقبات و افکار کی خوب پابندی کی اور راہ ِسلوک میں بلند مقام پر فائز ہو گئے ۔ میر عراقی ؒنے چھ سال شیخ محمد لاہیجیؒ کی خدمت میں گزارے ۔ شیخ لاہیجیؒ ہر سال ایک یا دومرتبہ حضرت شاہ قاسم فیض بخشؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور حضرت میر محمد نوربخشؒ کے روضے پر بھی حاضری دیتے تھے ۔ ساتویں برس شیخ میر عراقی ؒ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے اور ایک ماہ تک شاہ قاسم فیض بخشؒؒ کی خدمت گزاری میں مصروف رہے ۔ شاہ قاسم فیض بخشؒؒ نے میر عراقی ؒ کی باطنی قابلیت اور روحانی تزکیہ کا حال دیکھا تو شیخ لاہیجیؒ سے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ عراقی کو ان کی خدمت میں چھوڑ جائیں ۔ میر شمس الدین ؒشاہ قاسم فیض بخشؒ کے نائب اور قائم مقام بن گئے۔ (13) میرعراقی ؒ کا مزید حال ہم آگے چل کر لکھیں گے ۔ یہاں اس بیان سے سلسلہ ٔ نوربخشیہ کی سند ِبیعت و خلافت کے تسلسل کی تحقیق مطلوب تھی ۔

اسیری ؔمیر نوربخشؒ کے حضور میں


عشق نے جب میرے دل میں گھر کیا
میرے سینے میں بپا محشر کیا
اس کی حدّت سے مرا دل جل اٹھا
جسم یکسر میرا خاکستر بنا
نور ایسا میرے اندر بھر دیا
جوں چراغِ لالہ میں روشن ہوا
عشق میرے دل کی جب منزل ہوا
دل گیا ہاتھوں سے ، میں بیدل ہوا
یاں میں خوش تھا عشق کی سوغات سے
واں گیا فکرِ دو عالم ہاتھ سے
تھا کبھی مستِ خمارِ چشمِ یار
اور کبھی مسحورِ زلفِ مشکبار
کوئی دردِ عشق کا درماں نہ تھا
کون سی شب تھی کہ دل سوزاں نہ تھا ؟
دیدہ تر ، لب خشک رہتا تھا سدا
خونِ دل آنکھوں سے بہتا تھا سدا
یار لوگوں نے شیکبائی نہ کی
اور طبیبوں نے مسیحائی نہ کی
پھر اچانک ایک ابدالِ خدا
مل گیا در عالمِ صدق و صفا
مجھ کو پایا جاں بلب از دردِ یار
زرد رُو ، جاں سوختہ اور تن نزار
مجھ سے فرمایا یہ کیا ہے حالِ زار؟
پھر رہا ہے کس لئے دیوانہ وار؟
ہو گیا سودائے حق ، میں نے کہا
دل مرا دونوں جہاں سے اٹھ گیا
ہوں میں بیگانہ ز علمِ قال و قیل
یار کا طالب ہوں کچھ مت دے دلیل
علم سے اس کا پتہ ملتا نہیں
علم کے کوچے میں وہ رہتا نہیں
وہ کہاں ہے ؟ یہ نہیں ہوں جانتا
پر بغیر اس کے نہیں دل مانتا
سُن کے اس ابدال نے مجھ سے کہا
ہے ترے دل میں اگر عشقِ خدا
ذاتِ حق سے گر مؤدت ہے تجھے
پیرِ کامل کی ضرورت ہے تجھے
جو کہ تیرے حال کا رکھے خیال
اور تجھے لے جائے تا کوئے وصال
عشق میں مرشد اگر رہبر نہ ہو
عشق کی مے سے کبھی لب تر نہ ہو
میں نے پوچھا مجھ کو کیسے ہو خبر؟
کون ہے اس راستے کا راہبر؟
مل سکے اس کا اگر مجھ کو نشاں
میں فدا کر دوں گا اس پر اپنی جاں
اس پہ وہ ابدال یوں گویا ہوا
مجھ کو ہے معلوم تیرا پیشوا
قطبِ دوراں غوثِ اعظم ہے وہی
حاملِ میراثِ خاتم ہے وہی
مثلِ مہر و مہ درخشاں نوربخش
نامِ او شاہِ قہستاں نوربخشؒ
سُن کے یہ پہلے تو میں بے خود ہوا
پھر دوبارہ ہوش میں آ کر کہا
کس نگر میں ہے بتا وہ ماہتاب؟
دے ذرا اس کا پتہ مجھ کو شتاب
جاں فزا ہے اس قدر جس کا جمال
وہ نہ رہنے دے گا مجھ کو خستہ حال
ہے تلاش اُس کی اگر ، اس نے کہا
کورۂ شفت اس ولی کا ہے پتا
نور وہ ظاہر قہستاں میں ہوا
جلوہ گر پھر آ کے گیلاں میں ہوا
بس وہی ہے مقتدائے اہلِ دیں
رہنمائے رہ رواں ہے بالیقیں
جو کوئی ان کا گلی کا ہے فقیر
ہو گیا ہے وہ جہاں میں بے نظیر
ہے وہی بس جامعِ جملہ کمال
ختم ہیں ان پر علومِ کشف و حال
آسمانِ فقر کا ہے آفتاب
اصلِ عالم وہ ہے ، عالم ہے حجاب
جاگزیں جس دم ہوئی دل میں یہ بات
جگمگا اٹھی مری کل کائنات
ایک شعلہ سا مرے دل سے اٹھا
شوق نے ایسا سماں پیدا کیا
صبر چھوٹا ، تاب صد پارہ ہوئی
عشق بیٹھا ، عقل آوارہ ہوئی
جاں وفورِ شوق سے تھی بے قرار
ہاتھ سے چھوٹا زمامِ اختیار
اولیں ماہِ رجب شنبہ کا دن
آٹھ سو انچاس ہجری کا تھا سن
ڈھونڈنے وہ کعبۂ صدق و صفا
چھپ کے میں خویش و اقارب سے چلا
لاہجاں کا شہر چھوڑا چل پڑا
پا پیادہ اور تنہا چل پڑا
تاکہ کوئی راہ میں حائل نہ ہو
یہ سعادت بے سبب زائل نہ ہو
بعد دو دن کی مسافت کے مجھے
دو مسافر بادیہ پیما ملے
اہلِ باطن تھے وہ دونوں ہی رفیق
معنیٔ اسرار کے بحرِ عمیق
وہ بھی طالب تھے مرے مطلوب کے
وہ بھی شیدا تھے مرے محبوب کے
بن گئے دونوں ہی رستے کے رفیق
ہمزباں تھے اور نہایت تھے شفیق
ہو گئے تینوں ہی مستِ جامِ شوق
جادہ پیما از کمالِ عشق و ذوق
ہر کوئی جویائے وصلِ یار تھا
جامِ شوقِ دید سے سرشار تھا
ہر کوئی محوِ طرب تھا ، شاد تھا
درد و رنج و فکر سے آزاد تھا
جز محبت کے نہ کچھ بھی یاد تھا
یہ طلسمِ عشق کی ایجاد تھا
جب قریب آتا گیا روزِ وصال
صبر کرنا ہو گیا دل کو محال
کچھ دنوں میں ہو گئی مشکل تمام
آ گئے آخر بدرگاہِ امامؒ
آستانِ کعبۂ عزّ و شرف
سجدہ گاہِ شوق تھی اک ہر طرف
معکتف اس آستاں پر ہم ہوئے
شادماں خاطر بچشمِ نم ہوئے
آ گئے آخر امامِ اولیائؒ
اور روشن ہو گیا دارالصفاء
وہ قیامت تھی کہ تھا روزِ لقا
ایک خادم نے لگائی یہ صدا
بیدلو آتا ہے ہنگامِ وصال
جلوہ گر ہوتے ہیں شاہِ خوش خصال
جملہ انس و جان کا وہ نوربخش
عاشقوںکی جان کا وہ نوربخش
آ گیا یوں وقتِ دیدِ روئے یار
ختم آخر ہو گیا ہر انتظار
لے گیا خادم ہمیں آخر وہاں
جلوہ گر تھے خود جہاں شاہِ جہاں
جس گھڑی آئے نظر قطبِ زماں
ہو گئے بے خود زِ جان و از جہاں
جس گھڑی دیکھا جمالِ روئے شاہ
ہم زمیں پر گر گئے جوں خاکِ راہ
ہٹ نہ پائی تھی نظر رخسار سے
ہو گئے معمور دل انوار سے
بے خودی سے آگئے جب ہوش میں
دل میں آیا رازِ سرمد جوش میں
میں نے چاہا ان کے قدموں میں گروں
جان و دل دونوں فدا ان پر کروں
دفعتاً سلطانِ دیں خود ہی اٹھے
ایک اک کر کے گلے سب سے ملے
کر کے سب کا خیر مقدم شاہ نے
بارِ خاطر کر دیا کم شاہ نے
پھر رموزِ فقر کچھ روشن کئے
دّرِ دریائے معانی کچھ دیئے
روزِ دیگر شاہ نے ہم سے کہا
اب رہو ہشیار در راہِ خدا
عشق کی وادی کا جو رہرو بنے
خواہشِ دنیا و عقبیٰ چھوڑ دے
عرض کی میں نے کہ اب اے رہنما
اور کچھ ارشاد ہو بہرِ خدا
شہ نے فرمایا کہ بس توبہ کرو
اپنے دل کی خواہشوں کو مار دو
تاکہ حق کے ساتھ تم زندہ رہو
آبِ حیواں سے لب اپنے تر کرو
حکم پر تیرے فدا میں نے کہا
خستہ جاں ہوں تُو مسیحا ہے مرا
مجھ کو ہے بس پیار تیرے حکم سے
کفر ہے انکار تیرے حکم سے
پھر کہا سید نے تم توبہ کرو
اور ہر آلائشِ جاں سے بچو
امرِ حق پر گر کوئی عامل نہیں
یار کی درگاہ کا واصل نہیں
نہیٔ مرشد نہیٔ حق ہے ، جان لے
زہر کو بھی قند بے شک مان لے
صیقلِ جاں ہے ترا ترکِ ہوا
صاف ہو گا جس سے دل کا آئینہ
توُ جہاں بھی ہے خدا کو یاد رکھ
اور غمِ دنیا سے دل آزاد رکھ
سالکِ راہِ خدا بس جان لے
ہست ہے وہ نیست ہے تُو ، مان لے
دل ہے تیرا خاص اﷲ کا مقام
غیر سے رکھ پاک توُ اس کو مدام
نقشِ غیر اﷲ لوحِ جاں سے دھو
یادِ حق میں ہی ہمیشہ خوش رہو
جو بھی آئے پیش از دستِ قضا
خوش رہو اس پر بتسلیم و رضا
ہر گھڑی جویائے وصلِ یار رہ
خوابِ غفلت ترک کر بیدار رہ
خوابِ غفلت ترک کر ہشیار بن
کم خور و کم گو و کم آزار بن
ہر گھڑی کبر و ریا سے دور رہ
رنج و غم میں بھی سدا مسرور رہ
ترک کر کبر و عجب ناموس و نام
عشق کے ہاتھوں میں دے اپنی لگام
سونپ مرشد کو زمامِ اختیار
اک قدم مت چل بنامِ اختیار
جان کر تریاق بس کھا لے اسے
زہر بھی گر دستِ کامل سے ملے
عجز و مسکینی شعار اپنا رکھو
تم کہ ہو درویش خواجہ مت بنو
اہلِ دل کی خاکِ پا بن کر رہو
زعمِ ہستی اور انا کو چھوڑ دو
ترکِ خواہش حق کے رستے میں کرو
جو بھی اچھا مشورہ دے وہ سنو
جو نہ ہو تم کو پسند اپنے لئے
وہ نہ چاہو اور لوگوں کے لئے
نفس کی لذت کو یکسر ترک کر
تاکہ وصلِ حق کی مل جائے خبر
جزُ خدا کے کچھ خدا سے توُ نہ مانگ
بحر مل جائے تو آبِ جوُ نہ مانگ
یہ وصیت شاہ نے یوں ختم کی
پھر یہ فرمایا کہ کر ذکرِ خفی
حکم فرمایا رہو اب با نیاز
شب کو مت چھوڑو تہجد کی نماز
پھر کرو ذکرِ خفی تم بے شمار
چار ضربی ذکر کر لو اختیار
دل کدورت سے جو ہو جائے گا پاک
پردۂ مستور ہو جائے گا چاک
ذکر سے روشن جو ہو گا دل ترا
تجھ کو آئے گا نظر عرشِ خدا
الغرض کی یہ نصیحت شاہ نے
آسمانِ حق کے مہر و ماہ نے
سالہا میں ان کی خدمت میں رہا
حلقۂ عجز و ارادت میں رہا
تھا کبھی خادم کبھی میں گلہّ بان
اور کبھی فرّاش تھا در آستان
پا برہنہ گرسنہ میں روز و شب
دوڑتا پھرتا فقط بہرِ ادب
نیند اور آرام سے تھا بے نیاز
نفس کے ہر کام سے تھا بے نیاز
شوقِ روئے یار میں غلطاں رہا
میں کبھی خنداں کبھی گریاں رہا
در مقامِ عشق ، در کوئے طلب
جاں تھی مشغولِ ریاضت روز و شب
شب گزرتی تھی بصد سوز و گداز
در نیاز و گریہ و ذکر و نماز
ہو کے اکثر چلہ کش خلوت نشین
ڈھونڈتا تھا قربِ رب العالمین
تھی سلوک و سیر کل دولت مری
ہے اسی کوچے میں گزری زندگی
تھا کبھی میں لطف کا امیدوار
اور کبھی لرزاں تھا مانندِ چنار
پھر اچانک ایک طلاطم سا ہوا
عشق نے دل میں ٹھکانہ کر لیا
دل میں تابندہ ہوئے انوارِ حق
ہو گئی جاں واقفِ اسرارِ حق
کر گئی پرواز جاں سوئے فلک
ہو گئی آخر کو ہمدوشِ ملک
ظلمتوں سے نور کیا ظاہر ہوا
معنیٔ نورِ خدا ظاہر ہوا
اک جہاں میں مَیں نے دیکھے صد جہاں
ہر جہاں کے اپنے لاکھوں آسماں
اک سے اک سارے جہاں تابندہ تر
برتر و بالا تھے ہر یک از دگر
اژدھام ایسا تجلّی کا ہوا
دفعتاً میں خود فنا فی اﷲ ہوا
اس فنا سے پھر جو آیا ہوش میں
جامِ حق منہ سے لگایا ہوش میں
نوش کرتے ہی یہ جامِ لایزال
مل گیا انجامِ تسکینِ وصال
پھر جہاں پر مڑ کے جب ڈالی نظر
سب تھے ذرّاتِ جہاں زیر و زبر
ذرّہ ذرّہ دہر کا منصور تھا
ہر طرف گونجی اناالحق کی صدا
کر گیا پرواز یوں شہبازِ جاں
تھا پرِ ہمّت کے نیچے آسماں
میں ملائک کا مصاحب سالہا
بے گماں سب آسمانوں میں رہا
ہم وہ مے کش جن کا ساقی ہے خدا
مست اور بے خود ہیں از جامِ لقا
ہو چکا عین الیقیں پر یہ عیاں
مستِ مے ہیں جملہ ذرّاتِ جہاں
ہے ہر اک مستی جُدا باہم دگر
ہے ہر اک شے دوسرے سے بے خبر
ہر زماں از تابِ انوارِ بقا
میں رہا مستغرقِ جامِ فنا
جاں جب اس مستی سے آئی ہوش میں
آگئی اک بار پھر وہ جوش میں
عشق کی تاثیر اس میں بھر گئی
عرش تک پرواز گویا کر گئی
مرغِ جاں کا آشیاں تھا لامکاں
بلکہ وہ ممکن نہیں جس کا بیاں
لامکاں جس میں کہ تھا میرا مکاں
اس میں تھے لاکھوں ہی ادوارِ زماں
ہر کہیں بس ذاتِ حق تھی جلوہ گر
ہر کہیں نورِ تجلّی کا اثر
ذرّہ ذرّہ یاں فنا فی اﷲ تھا
بعد اس کے پھر بقا باﷲ تھا
جان و دل پر جو ہوا ہے انکشاف
فہم و ایماں کو ہے اس کا اعتراف
جملہ عالم جب نظر آیا شراب
پیاس نے دل میں بڑھایا اضطراب
سب کا سب اک گھونٹ ہی میں پی گیا
اس میں شامل اپنی ہستی پی گیا
جاں فنائے کُل کی منزل پاگئی
پھر بقائے جاوداں اس کو ملی
کشف میرے دل پہ ایسا ہو گیا
میں کہ اک قطرہ تھا دریا ہو گیا
جب فنا سے ہو گیا باقی بحق
بے ضرورت ہو گئے درس و سبق
بن گیا میں ایک بحرِ بیکراں
جس کی موجیں جملہ ذرّاتِ جہاں
تھے مرے ہی دم سے قائم دو جہاں
میرے مظہر تھے زمین و آسماں
میری ہستی سے جہاں کو تھا ثبات
تھا مرے دم سے وجودِ کائنات
علم ہر اک شے پہ تھا میرا محیط
ماضی و مستقبلِ کونِ بسیط
مجھ سے قائم گردشِ دورِ زماں
اور بِنا میرے دو عالم بے نشاں
شرح ناممکن ہے ان احوال کی
گو کہ ہو صد معرفت ہر حال کی
ان حقائق کا نہیں ممکن بیان
بے نشاں کا کون دے پائے نشاں؟
حالِ کامل لب پہ آسکتا نہیں
بحر کوزے میں سما سکتا نہیں
لکھ نہیں سکتا کبھی ان کو قلم
کر نہیں سکتا حدث شرحِ قدم
صرف دل پر منکشف ہوتے ہیں یہ
لفظ و مضموں سے پرے رہتے ہیں یہ
جو معانی چشمِ دل پر ہیں عیاں
ان کا ممکن ہی نہیں شرح و بیاں
کیا سمائے سّرِ معنی در کتاب؟
ہے عبارت تو فقط اس کا حجاب
یوں حجابِ ذات ہیں جیسے صفات
صفت سے ممکن کہاں ہے کشفِ ذات؟
ہے بیاں کا میرے بس مقصد یہی
اولیاء کے حال سے ہو آگہی
تاکہ تیرے دل میں پیدا ہو طلب
راستہ مل جائے سوئے قربِ ربّ
رہبر و رہزن کی ہو پہچاں تجھے
راہِ حق کا ہو سفر آساں تجھے
ہے خزانے کی طلب تجھ کو اگر
رنج و محنت سے نہیں ممکن مفر
قربِ حق کی جستجو ہے گر تجھے
لامحالہ چاہیے رہبر تجھے
چل پڑے گا جو بغیرِ رہنما
وہ نہ پائے گا کبھی نورِ لقا
قتل ہو جائے رہِ الفت میں جو
حق ہے اس کا خوں بہا بے گفت و گو
جاں فدا جو بھی کرے در راہِ یار
صد ہزاراں جان و دل اس پر نثار
وہ جو ناواقف ہے کشف و حال سے
کیا غرض ہے اس کو قیل و قال سے؟
کاملوں کا حال جو میں نے لکھا
کشف سے ممکن ہے اس کا تجربہ
اس بیاں میں کچھ نہیں ہے اشتباہ
ذاتِ حق ہے اس حقیقت کی گواہ
ہر طرح اثبات اس کا ہے ہُوا
اس کے شاہد انبیاء و اولیا
ختم بس اس بات پر ہے یہ بیاں
کون کر سکتا ہے انکارِ عیاں؟

مولانا حسین کوکئی ؒ

حضرت مولانا حسین کوکئی ؒحضرت میر سید محمد نوربخشؒؒ کے اولیں خلفاء میں سے تھے ۔ ظاہری علوم کے معقولات و منقولات میں عالم ِمتبحّر تھے ۔ فنون ِعربی میں یگانہ ٔروزگار ، مکاشفات و مشاہدات کے اطوار میں کامل اور تحقیق ِحقائق میں بحرِ بیکراں تھے ۔ میر سید محمدنوربخشؒ نے آپ کو ’ صحیفۃ الاولیاء ‘میں کامل ِمکمل مشائح میں شمار کیا ہے ۔ آپ فرماتے تھے کہ میرے بعد ملا حسین کو کئی ؒولایت کے تمام اطوار پر فائز ہے ۔ میرؒنے شاہ قاسم فیض بخشؒؒ اور آپ کی اولاد اور فرزندوں کی تعلیم و تدریس کا فریضہ آپ کو سونپ رکھا تھا ۔ میر شمس الدین عراقی ؒنے بھی مولانا حسین کوکئی ؒکی خدمت میں حاضری دی اور ریاضات و مجاہدات بجا لائے ۔ آپ نے میر ؒ کی بیٹیوں اور مستورات کی تفہیم کی آسانی کے لئے’ الفقہ الاحوط ‘ کا فارسی میں خلاصہ لکھا ۔

آپ صاحب ِحال ولی تھے اور حالت ِوجد میں ہی وفات پائی ۔ (15)

شیخ محمد بن حاجی محمد سمرقندیؒ

شیخ محمد سمرقندی ؒمیر سید محمد نوربخشؒ ؒ کے طبقہ ٔ اولیٰ کے خلفاء اور اولیں مریدوںمیں سے تھے ۔ شیخ محمد سمرقندی ؒ اور مولانا احمد دو سمرقندی علماء تھے جو سید محمد نوربخشؒ سے بحث کرنے آئے تھے ۔ ان دنوں میر نوربخشؒ نور آباد میں مقیم تھے جو اس سے قبل کورہ ٔ شفت کہلاتا تھا ۔ یہیں میر ؒنے خانقاہ کی بنیاد ڈالی ۔ میر نوربخشؒ ملا برہان الدین شیخ محمد الوندی ؒ کو امام مقرر کرتے تھے ۔ اس دن آپ نے ملا محمد سمرقندی کو امامت تفویض کی ۔ ادھر میر نوربخشؒ ان کے تصرف ِقلب کے لئے کوشاں تھے ۔ نماز کے دوران ہی فتوحاتِ الٰہی کے دروازے کھل گئے اور شیخ سمرقندی ؒکے دل کی دنیا بدل گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد بلا تامل میر ؒ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور آپ کی دہلیز کے مجاور بن گئے اور مختلف طاعات ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات میں مشغول ہوئے چنانچہ فخریہ کہتے ہیں ۔

گرم صد ھزاران زبان در دھان

پدید آید و عمرِ نوح آنچنان

کنم شکر ایزد بہ ھر یک ھزار

نگفتہ بماند بسی شکر آن

کہ در صحبتِ حضرتِ نوربخشؒ

من افتادہ ام از سمرقندیان

’’اگر میرے منہ میں لاکھ زبانیں بھی پیدا ہو جائیں اور میری عمر نوحؑ کی عمر کی مانند طویل ہو جائے اور میں ہر ایک زبان سے ایک ہزار بار باری تعالیٰ کا شکر بجا لاؤں تو بھی ناکافی ہو گا کیونکہ میں سمرقندیوں میں سے حضرت نوربخشؒ کی صحبت کا شرف پانے والا ہو ں ۔ ‘‘ (16)

سمرقند کے دوستوں نے ان کے فقر ِ صوری پر اعتراض کیا تو یوں جواب دیا ۔

تا دست بہ دست ملک نوربخش است مرا

ھر لحظہ زِ گنج نوربخش است مرا

گر از سر ھمت بہ رکاب آرم پای

چون فرسخم از عرش رخش است مرا

شیخ محمد سمرقندی اپنے اشعار میں فراقی تخلص کرتے تھے ۔ سالکین کی تربیت اور ارشاد کی اجازت ملنے کے بعد میر نوربخشؒ نے انہیں عراق ، عرب ، شام اور بیت اﷲ کے سفر پر روانہ کیا ۔ حج بیت اﷲ اور زیارت روضۂ رسول ؐ سے فراغت کے بعد مصر واپس چلے گئے ۔ وہیں ایک خانقاہ تعمیر کی اور لوگوں کی تربیت اور ارشاد میں مشغول رہے اور اسی شغل میں مصروف رہ کر جہان ِفانی سے انتقال کرگئے ۔(17) نوربخش ؒ نے ’صحیفۃ الاولیاء ‘ میں شیخ کی تعریف کی ہے اوران کے مشرب کو بحرِ عمیق سے نسبت دی ہے ۔ (18)

شیخ محمدسمرقندی ؒنے میرؒ کے حالات میں ’ تذکرہ ‘ نامی کتاب تالیف فرمائی جو ناپید ہے ۔

مولانا برہان الدینؒ

مولانا برہان الدین ؒ نوربخش ؒ کے کامل خلفاء میں سے تھے ۔علوم ِظاہری و باطنی کے جامع تھے ۔ آ پ کی تصانیف میں ’ بحر المناقب فی فضائل علی بن ابی طالب ‘ ہے ۔ آپ بلند مرتبہ ، بلند درجات ، اطوارِ سبعہ قلبیہ ، انوار ِمتنوعہ غیبیہ ، مشاہدات ِآثاری و افعالی ، معانیاتِ اسرار ِاسمائی و صفاتی اور مشاہدات ِ تجلیات ِ ذاتی میں کامل و مکمل اور واصل و متواصل تھے ۔ حضرت میر نوربخشؒ کے ہاں آپ پیش امام متعین تھے ۔ نوربخش ؒ نے آپ کو بغداد بھیجا جہاں آپ نے خانقاہ ِ نوربخشیہ قائم کی اورمیر ؒ کی اجازت سے سالکان ِراہ کی تربیت اور رہنمائی کرتے رہے ۔ آپ نے ۹۰۱ھ میں بغداد میںانتقال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے ۔ (19)

شیخ محمود بحریؒ اور پیر حاجی محمد بحر آبادی

حضرت شیخ محمود بحری ؒپیرحاجی محمد بحرآبادی ؒکے بھائی ہیں اور یہ دونوں حضرات میر سید محمد نوربخشؒؒ کے طبقہ ٔ اوسط کے خلفاء میں سے تھے ۔ پیر حاجی محمد بحر آبادی ؒکے روحانی کمال کا یہ حال تھا کہ آپ نے چالیس کے قریب بد قماشوں کو اپنی تربیت کے اثر سے قبول ِدین کے علاوہ درجہ ٔ کاملین تک پہنچایا ۔ (20) اس واقعے کا تفصیلی ذکر ہم آگے چل کر کریں گے ۔ شیخ محمود بحری ؒ اگرچہ مراتب و مقامات کے اعتبار سے اپنے بھائی سے کمتر تھے لیکن حضرت نوربخشؒ کی خدمت و صحبت سے کبھی غیر حاضر نہ ہوئے ۔ میرؒ کے وضو اور غسل کے لئے پانی وہی حاضر کیا کرتے تھے ۔ (21)

شیخ محمود سفلی ؒ

پیر حاجی محمد بحر آبادی ؒکے مرید تھے ۔ سالکین کو ارشاد کرنے اور مریدوں کی تربیت میں کامل و مکمل تھے ۔ موصل شہر سے باہر انہوں نے مکان اور خانقاہ تعمیر کی اور سالکین کی تربیت میں مشغول رہے صاحب ِکرامت بزرگ تھے ۔میر شمس الدین عراقی ؒنے بھی ان کی صحبت اختیار کی تھی ۔ (22)

شاہ جلال شیرازی نوربخشیؒ

شیخ محمد لاہیجی اسیریؔ شارح ِ ’گلشن ِراز ‘ کے مرید تھے شیراز سے مکہّ مکرّمہ گئے اور سلطان سکندر لودھی کے زمانہ میں ہندوستان آئے اور دہلی میں اقامت اختیار کی ۔ وہیں ۹۴۴ھ میں وفات پائی ۔ (23)

مولانا عماد الدین نوربخشیؒ

شیخ محمد لاہیجیؒ کے مرید تھے ۔ ان کی طرف سے بطور ِقاصد سلطان محمودخلجی والیٔ دکن و مالوہ کے دربار میں ۸۷۱ ھ میں آئے اور شیخ کا خرقہ بطور ِتبرک بادشاہ کو پیش کیا ۔ بادشاہ نے اس خرقہ کو نعمت ِ کبریٰ خیال کیا اور مولانا عماد الدین کی بڑی تکریم کی اور انتہائی خوشی سے خرقہ پہنا ۔ (24)

شیخ سلطان علی بن قاسم بلالی نوربخشیؒ

شیخ سلطان علی بن قاسم بلالی ؒ بہت سی کتابوں کے مصنف تھے ۔ انہو ں نے ’ فقہ منظومہ ‘ کے نام سے ’ الفقہ الاحوط ‘ کے دو منظوم فارسی ترجمے کئے ہیں ۔ یہ دونوں ترجمے الگ بحروں میں ہیں ۔ پہلا ترجمہ درج ذیل شعر سے شروع ہوتا ہے ۔

زین نھم خنکِ خرد را فھم چون پالان برخش

می دوانم تا بہ جولان گاہِ عارف نوربخش

دوسرا ترجمہ یوں شروع ہوتا ہے ۔

کنون مرکب عقل را زین نھم

توجہ بہ جولان گرِ این نھم

سلطان علی شاعری میں مہارت ِ تامہ رکھتے تھے ۔ میر سید محمد نوربخشؒؒ کی مدح میں ’فقہ ٔمنظومہ ‘کے دیباچہ میں جو اشعار لکھے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔

بد محمد پیرِ ما و کنیت او نوربخشؒ

در قلوبِ سالکان از نور و عرفان نوربخشؒ

قدوۂ ابرارِ عالم پیشوای اولیاء

زبدۂ اخیارِ آدم مقتدای اصفیاء

بر سرِ تختِ شریعت پادشاہِ تاجد

سقفِ گردونِ طریقت را سراجِ دہ چھار

دّرِ دریای حقیقت نورِ فانوسِ یقین

مھرِ چرخِ معرفت زینت دہِ گلزارِ دین

قطبِ اکرم رھنمای فرقۂ افراد اوست

غوثِ اعظم فخرگاہِ زمرۂ اوتاد اوست(25)

حضرت شیخ سلطان علی کی وفات دشمنوں کے ہاتھوں زہر خورانی سے ہوئی ۔

امیر نوربخشی ؒ

خوش طبع صوفی تھے اور شاعری میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ (26)

شیخ زادہ فدائی ؒ

شیخ محمد لاہیجیؒ کے پسر تھے اور مشہور نوربخشی خلفا ء میں شمار ہوتے تھے ۔ جوانی میں شیراز آ کر آباد ہوئے ۔ بزرگ منش ، خوش طبع اور عالی مشرب تھے ۔ رباعی کے اچھے شاعر تھے اور فدائی تخلص تھا ۔ (27)

قاضی عبداﷲ یقینی ؔ

شیخ زادہ فدائی ؔ کے داماد تھے ۔ شعر و انشاء میں بے مثال تھے ۔ (28)

قاضی یحییٰ

قاضی عبداﷲ یقینی کے برادر زادہ تھے ۔ مشائخ ِنوربخشیہ لاہیجیہ میں سے تھے اور شعر گوئی کا عمدہ ذوق رکھتے تھے ۔ (29)

حافظ عصار

قزوین سے تعلق رکھتے تھے اور نوربخشی مرید تھے ۔ (30)

خواجہ فتح اﷲ

آپ بھی قزوین سے تھے اور نوربخشی مرید تھے تجارت پیشہ تھے ۔ (31)

رضائی نوربخشی

عالی فہم تھے ، شطرنج اور شعرگوئی میں مہارت رکھتے تھے ۔ (32)

خواجہ مشرف یقینی

نام قاضی عبداﷲ تھا اور مشائخ ِنوربخشیہ میں سے تھے ۔ شاہ قاسم نوربخش ؒکے مرید تھے ۔ طبعِ سلیم اور ذہنِ مستقیم کے مالک تھے اور شعر گوئی خوب کرتے تھے۔(33)

حوالہ جات

  1. رسالۃ الھدیٰ قلمی ( متعدد صفحات) ، رسالۃ الھدیٰ ضمیمہ مقالہ شہزاد بشیر صفحہ( ص۳۰۵ تا ۳۲۲)
  2. اس کتاب کے صفحہ نمبر ۴۵ اور ۴۶ پر شیخ ابواسحاق عجمی کے کچھ اشعار درج ہیں ۔ قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ شیخ ابواسحاق عجمی مولوی خلیل الرحمن بلغاری ہیں ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت میں مولوی خلیل الرحمن کا ہاتھ ضرور رہا ہے ۔ مستند قلمی نسخوں کی عدم موجودگی میں یہ کتاب مکمل طور پر قابل ِ بھروسہ نہیں ہے ۔
  3. مقدمہ شرح گلشن راز (ص ۳۹)
  4. مقالات ِ مولوی محمد شفیع ( ص۹) ، سیر وسلوک (ص۸۴)
  5. مجالس المؤمنین (ص۳۰۶)
  6. مثنوی اسرار الشہود (ص ۲۵۲ تا ۲۷۰)
  7. لاہیجی ؒ اپنے سفرِ حج کے موقع پر یمن کے شہر زبید بھی گئے جہاں شیخ حیرتی اور ان کے بیٹے اسماعیل کو خرقۂ تصوف عطا کیا ۔ اس کے علاوہ آپ نے تبریز کا بھی سفر کیا ۔ ( دیکھئے مقدمہ شرح گلشنِ راز ص ۲۰)
  8. طرائق الحقائق (ص ۱۲۹،۱۳۰)
  9. مقدمہ اسرار الشہود ( ص۲۵۲ تا ۲۷۰)
  10. تحفۃ الاحباب (ص ۶۱،۶۲)
  11. تحفۃ الاحباب (ص ۶۴)
  12. شرح گلشنِ راز ( ص ۵۸۶)
  13. تحفۃ الاحباب (ص۶۱)
  14. مثنوی اسرارالشہود (ص۲۵۲ تا ۲۷۰)
  15. تحفۃ الاحباب (ص ۵۱)
  16. تحفۃ الاحباب ( ص ۴۱ تا ۴۳)
  17. تحفۃ الاحباب (ص۴۵)
  18. صحیفۃ الاولیاء ( ص۵)
  19. تحفۃ الاحباب (۵۸)
  20. ایضاً (ص۴۶)
  21. ایضاً (ص۴۹)
  22. ایضاً (ص ۵۵ تا ۵۷)
  23. طبقاتِ نوریہ (ص۱۷۸)
  24. ایضاً (ص۱۷۹)
  25. فقہ ٔ منظومہ قلمی (ص۳)
  26. مقالاتِ مولوی محمد شفیع (ص۳۳) ، تحفۂ سامی (صحیفہ ۲)
  27. ایضاً (ص۳۴) ، ایضاً (صحیفہ ۳)
  28. ایضاً (ص۳۵) ، ایضاً (صحیفہ ۳) ، نفایس المآثر
  29. مقالات ِ مولوی محمد شفیع ( ص۳۵) ، تحفہ سامی ( صحیفہ ۳) ، نفائس المآثر
  30. ایضاً (ص۳۶) ، ایضاً ( صحیفہ ۷) ، ایضاً
  31. ایضاً (ص۳۷) ، ایضاً (صحیفہ ۷) ، ایضاً
  32. ایضاً (ص۳۷) ، نفائس المآثر
  33. ایضاً (ص ۴۰ ) ، ایضاً