غوث المتاخرین و سید العارفین میر سید محمد نوربخشؒ قہستانی نوراﷲ مرقدہ و اعلیٰ اﷲ مقامہ اسلامی تصوف کے عظیم سلسلے’ سلسلۃ الذّھب الصّوفیہ‘ کے اٹھائیسویں قطب ہیں۔ ’سلسلۃ الذھب ‘ جس کے معنی’ سونے کی زنجیر‘ کے ہیں تصوف کا وہ مستند ترین سلسلہ ہے جس کے تمام پیران ِ طریقت اور مرشدان ِحقیقت کے اسمائے گرامی آسمان ِ علم و عرفان پر درخشندہ ستاروں کی طرح چمکتے ہیں ۔ یہ سلسلہ جو شاہ سید محمد نوربخشؒ کی حیاتِ مبارک کے بعد’ سلسلہ ٔ عالیہ نوربخشیہ‘ کے نام سے مشہور و معروف ہوا ،ماضی میں دیگر نمایاں ترین شیوخ ِ طریقت کے اسمائے گرامی سے موسوم ہوتا رہا ہے ۔ باور کیا جاتا ہے کہ ’ سلسلۃ الذھب‘ کا نام اس زنجیرہ ٔ طریقت کے لئے سید محمد نوربخشؒ ہی کے عظیم شاگرد شیخ اسیری لاہیجی ؒؒصاحب ’شرح ِ گلشن ِ راز‘ نے تجویز فرمایا ۔ (1)تاہم تاریخی اعتبار سے ہم اس سلسلے کی درجہ بندی یوں کر سکتے ہیں کہ خاتم النبین حضرت محمد رسول اﷲﷺ سے لے کر امام ِ ہشتم حضرت امام علی رضا ؑ تک اس سلسلے کو سلسلۃ الذھب ہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ نویں قطب حضرت شیخ معروف کرخیؒ سے ان کے خلیفہ حضرت شیخ سری سقطیؒ تک اس سلسلے کو ’ معروفیہ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔ شیخ جنید بغدادیؒ اس سلسلے کے وہ نمایاں ترین بزرگ ہیں جن کے نام ِنامی کی نسبت سے سترھویں قطب حضرت شیخ احمد غزالیؒ( برادر ِ حضرت امام محمد غزالیؒ ) تک یہ سلسلہ ’جنیدیہ‘ کہلایا ہے ۔ اٹھارویں قطب حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ کی عظیم عرفانی شخصیت کے اثر کے نتیجے میں شیخ عمار بدیسی ؒ تک یہ سلسلہ’ سہروردیہ‘ کے نام سے موسوم رہا ہے ۔ بیسویں قطب حضرت نجم الدین کبریٰ ؒ کے اسلامی تصوف پر مرتب ہونے والے دیرپا اثرات کے باعث شیخ محمود مزدقانیؒ تک یہ سلسلہ’ کبرویہ‘ کہلایا گیا ۔ چھبیسویں قطب حضرت شاہ ہمدان میر سید علی ہمدانی ؒ جنہوں نے کشمیر اور بلتستان کو حلقہ بگوش ِاسلام فرمایا اپنی شاندار علمی اور عرفانی شخصیت کے باعث تاریخِ اسلام کے نمایاں ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں ، اور حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ نے بھی اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’جاوید نامہ‘ میں انہیں خراج ِعقیدت پیش کیا ہے ۔ ان کی مبارک نسبت سے’ سلسلۃ الذھب ‘ کو’ سلسلہ ٔہمدانیہ ‘کے نام سے موسوم کیاگیا تاآنکہ اس سلسلے کے اٹھائیسویں قطب اور انقلاب آفرین شخصیت جناب میر سید محمد نوربخشؒ قہستانی علیہ الرحمہ کی مبارک نسبت سے یہ سلسلہ’ سلسلہ ٔ نوربخشیہ‘ کہلایا جانے لگا جو آج بھی اسی نام سے بلتستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں رائج ہے ۔

مختصر سوانحِ حیات:(2)

غوث الاعظم امام العالم میر سید محمد نوربخش نوراﷲ مرقدہ اعلیٰ اﷲ مقامہ کے سوانح ِ حیات پر کوئی مبسوط کتاب تحریر نہیں ہو سکی ۔ اس لئے ان کی زندگی کے اکثر احوال پردۂ گمنامی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ آپ کے حالات ِزندگی کے بارے میں بالواسطہ معلومات ہمیں عمومی کتب ِتواریخ ، خطوط اور مراسلہ جات ، صوفیانہ تذکرہ جات اور دیگر مذہبی کتب سے حاصل ہوتی ہیں ۔ دستاویزی مواد کے اس بہت بڑے انبارمیں سے بھی میر صاحب کے سوانح حیات کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم ہوتی ہیں جو حسب ِذیل ہیں ۔

نام و نسب و تاریخ ہائے ولادت و وفات

آپ کا نامِ نامی محمدّ تھا ۔ آپ کے والد کا نام بھی محمدّ تھا (3) جبکہ دادا کا نام عبداﷲ تھا ۔ آپ کے دادا عرب کے علاقہ بحرین کے مشہور صوبے قطیف کے رہنے والے تھے اور حضرت امام موسی ٰ کا ظم ؑ کی اولاد میں سے تھے ۔ (4) انہوں نے قطیف کو خیرباد کہہ کر لحصا میں سکونت اختیار کی ۔ اس شہر کا نام لحسا، الحسا یا لحصا استعمال ہوا ہے ۔ قاضی نوراﷲ شوستری کے بقول میر سید محمد نوربخش ؒ اپنے کلام میں لحصویؔ تخلص اختیار فرماتے تھے ۔ ’غزلیات ِنوربخش ؒ‘ میں کوئی ایسا شعر نظر نہیں آتا البتہ میر سید محمد نوربخش ؒ نے اپنی کتاب ’کشف الحقائق ‘میں لحصوی ؔ کا تخلص استعمال کیا ہے ۔(5) صاحبِ طرائق الحقائق کے مطابق میر سید محمد نوربخش ؒکے والد جناب محمد لحصا ہی میں پیدا ہوئے۔ ۳۰۲ ھ( بمطابق ۸۱۸ ء ) میں حضرت امام علی رضا ؑ کے روضہ ٔ مبارک کی زیارت کی غرض سے خراسان کے شہر مشہد آئے اور زیارت کے بعد قائن کے علاقے میں اقامت گزیں ہوئے ۔ (6)محمد ابن عبداﷲ کی وفات ۸۰۲ھ ہجری کے لگ بھگ ہوئی جب میر محمد ابھی کمسن تھے ۔

میر محمد نوربخشؒ ۱۵ شعبان المعظم ۷۹۵ھ میں صوبہ قہستان کے شہر قائن کے ساوجان نامی گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ ایک اور تحقیق کے مطابق آپ کی تاریخ ولادت یوم الجمعہ ۲۷ محرم ۷۹۵ھ ( مطابق ۱۳ دسمبر ۱۳۹۲ ء ) ہے ۔

آپ کی تاریخ وفات ۱۵ ربیع الاول ( یا ۱۴ ربیع الاول) ۸۶۹ھ ( بمطابق ۱۵ نومبر ۱۴۶۴ء ) ہے ۔ جائے وفات علاقہ رے کی صولغان نامی بستی ہے ۔

حیاتِ نوربخشؒ کے تین ادوار

سوانحی اعتبار سے میر سید محمد نوربخشؒؒ کی زندگی کو تین اہم ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

ابتدائی تعلیم و تربیت ، ابتدائے سلوک سلسلہ ٔ کبرویہ میں بیعت اور خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کی مریدی اور پیری کا دور جو ۷۹۵ ھ سے ۸۲۶ ھ تک کی مدت پر محیط ہے ۔
دوسرا دور جو مرزا شاہرخ کے ہاتھوں ابتلا و مصائب اور ایران کے مختلف صوبوں میں سفر کا ہے ۸۲۷ھ سے ۸۴۶ ھ تک کے عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔
تیسرا دور گیلان اور سولغان میں آپ کے آباد ہونے اور رشد و ہدایت اور تصنیف و تالیف کا پرامن زمانہ ہے جو ۸۴۶ ھ سے شروع ہو کر ۸۶۹ ھ میں آپ کی وفات پر ختم ہوتا ہے ۔

پہلا دور

میر ؒ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہو سکا ہے ۔ کہتے ہیں کہ آپ نے سات برس کی قلیل عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور مختصر مدت میں ہی تمام علوم دینیہ و متداولہ میں تبحر پیدا کیا ۔ علوم شریعت اور علوم ظاہری اس وقت کے صوفی بزرگ حضرت شیخ احمد ابن فہد حلّی سے حاصل کئے ۔تقریباً سترہ برس کی عمر میں آپ علوم روحانی کی تحصیل میں مصروف ہو گئے ۔ باور کیا جاتا ہے کہ آپ حصول علم کے سلسلے میں ہرات تشریف لائے جہاں آپ سلسلہ ٔ کبرویہ سے منسلک ہو گئے ۔ اس سلسلے کی طرف آپ کو ابراہیم ختلانی ؒ نے ترغیب دلائی جو خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کے خلیفہ تھے، جنہوں نے آپ کی خداداد قابلیت اور استعداد سے متاثر ہو کر آپ کو ختلان کی خانقاہ کبرویہ میں تشریف لانے کی دعوت دی ۔ سید محمد نوربخش ؒ نے اس دعوت کو قبول کیا اور ختلان پہنچ کر خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کے حلقہ ٔ ارادت میں شامل ہوئے ۔ حضرت میر ؒ نے اپنی فطری صلاحیت کے بل بوتے پر طریقت کی منازل تیزی سے طے کر لیں اور بہت جلد عرفان کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو گئے ۔ خواجہ اسحاق ؒ کے حلقہ ٔ ارادت میں شمولیت کا واقعہ غالباً ذوی القعدہ ۸۱۹ ھ کا ہے جب آپ کی عمر چوبیس سال تھی ۔ ایک غیبی اشارے کے تحت خواجہ ؒ نے آپ کو نوربخش کا لقب عطا فرمایا۔ ۸۲۶ ھ میں آپ کے ایک ساتھی خلیل نامی نے عالم رویا میں دیکھا کہ آسمان سے ایک نور نوربخشؒ پر اترتاہے اور آپ کی وساطت سے وہ نور روئے زمین پر دیگر لوگوں کو عطا ہوتا ہے ۔ جب خواجہ اسحاق ؒ کو اس خواب کی اطلاع ہوئی تو آپ نے سید محمدؒ کو نوربخش کا لقب عطا فرمایا ۔ آگے چل کر آپ اسی نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شمس الدین اسیری لاہیجی ؒ اپنی مثنوی اسرار الشہود میں یوں لکھتے ہیں ۔
آمدہ از غیب نامش نوربخش
بود چون خورشید ذاتش نوربخش
خواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے میر سید علی ہمدانی ؒ کا خرقہ ٔ مبارک آپ کو عطا کیا اور جملہ مریدوںکی تعلیم و تربیت کے امور آپ کے سپرد کر دیئے ۔ سید عبداﷲ برزش آبادی ۱۲ ذوالحج ۸۲۲ کو وارد ختلان ہوئے ۔ جو میر محمد نوربخشؒ کی آمد سے تین برس بعد کا واقعہ ہے ۔ ابن الکربلائی کے بقول خواجہ اسحاق ختلانیؒ نے ۱۹ ربیع الثانی ۸۲۵ ھ کو اجازت نامہ عطا کیا اور انہیں خانقاہ میں مریدوںکی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپی ۔ یہ واقعہ میر سید محمدنوربخشؒ کی آمد کے بعد کا ہے ۔ بظاہر اس کے بعد ہی وہ واقعہ پیش آیا کہ خواجہ اسحاق ؒ ختلانی نے ایک خواب یا غیبی اشارے کی بنا پر میر سید محمد ؒ کو نوربخش کا لقب عطا کیا اور نہ صرف خود آپ نے میر نوربخشؒ کی بیعت کی بلکہ اپنے شاگردوں اور مریدوں کو بھی بیعت کرنے کا حکم دیا اور سید علی ہمدانی ؒ کا آخری خرقہ انہیں خود اپنے ہاتھ سے پہنا کر مسندِ ارشاد پر بٹھایا اور امور ِ خانقاہ و سالکین کو ان کے حوالے کر دیا اور فرمایا کہ جس کو دعوائے سلوک ہو وہ حضرت میر نوربخش ؒ سے رجوع کرے ۔ اگرچہ وہ ظاہراً ہمارے مرید ہیں حقیقتاً وہ ہمارے پیر ہیں ۔ میر کی عمر اس وقت اکتیس برس تھی ۔ حضرت میر سید محمد نوربخشؒ ؒ نے اپنے اس شعر میں اسی جانب اشارہ فرمایا ہے۔

پیریم و مریدِ خواجہ اسحاق آن شیخِ شھید و قطب ِ آفاق

ہم خواجہ اسحاق کے پیر بھی ہیں اور مرید بھی وہ شیخ شہید اور قطب آفاق ہیں ۔

قاضی نوراﷲ شوستری نے سمرقندی کی تذکرہ مزید سے نقل کیا ہے کہ خواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے نوربخش ؒ کو اپنا جانشین نامزد کیا ۔ بارہ مریدوں نے خلوت میں میر سید محمد نوربخشؒؒ کی بیعت کی ۔ پھر خواجہ ختلانی ؒ نے تمام مریدوں کو میرؒ کی اقتدا کا حکم دیا ۔ تمام مریدوں نے اس حکم کی تعمیل کی ۔ صرف عبداﷲ برزش آبادی نے جو اس وقت خانقاہ میں موجود نہ تھے آپ کی بیعت نہیں کی ۔

شوستری کے بیان کے مطابق حاجی محمد سمرقندی حضرت میر نوربخشؒ کے خاص شاگردوں اور مریدوں میں سے ہیں مندرجہ بالا واقعے کے بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ جب حضرت خواجہ ؒ پر از روئے کشف یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ حضرت میر نوربخش ؒ کی سیادت صحیح و بلند مرتبہ اور عالی نسب ہے تو انہوں نے خود بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا اور فرمایا کہ ہم فرزند ِ مصطفی ﷺ سید محمد نوربخش ؒ کی بیعت کر رہے ہیں اور اس آیت کی تلاوت کی ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اﷲَ یَدُ اﷲِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسِہٖ وَ مِنْ اَوفَیٰ بِمَا عٰہَدَ عَلَیْہُ اﷲَ فَسَیُؤتِیْہِ اَجْراً عَظِیْماً o(الفتح: ۱۰)

’’ جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھ پر اﷲ کا ہاتھ ہے ۔ پھر جو شخص عہد توڑے گا اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا۔جو شخص اﷲ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرے عنقریب اﷲ اسے بہت بڑا اجر دے گا ۔ ‘‘
اس اثنا میں شاہ رخ بن تیمور ( زمانۂ حکمرانی ۸۵۰ تا ۸۷۰) ا پنے باپ امیر تیمور کی وسیع وعریض سلطنت کے ایک حصے پرتسلط جما چکا تھا ، چنانچہ شاہ رُخ نے خواجہ اسحاق ختلانی ؒ اور میر نوربخشؒ کی دعوتِ تبلیغ و بیعت کو اپنی حکومت کے خلاف خروج و بغاوت سے تعبیر کیا چانچہ ایک روایت یوں بھی آئی ہے کہ اس موقع پر میر نوربخشؒ نے عذر کیا اور کہا کہ ابھی تیاری مکمل نہیں ہوئی اور شاہ رخ میرزا ایران و توران و ھند و عرب و عجم پر مسلط ہے۔ ایسے بادشاہ کے ساتھ بغیر تیاری کے مقابلہ نہیں ہو سکتا ۔ یہ محقق ہے کہ ہماری حکومت مقدراتِ الٰہی سے ہے پھر بھی جلدی کون سی ہے ؟ جو مناسب ہے ظہور میں آ کر رہے گا مگر خواجہ صاحب مصر تھے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ خروج کا وقت یہی ہے اور رہا تیاری کا مسئلہ تو انبیاء نے خروج کے وقت کون سی ظاہری تیاری کی تھی ؟(7)

القصہ ۱۴ رجب ۸۲۶ ھ کو بروزِ جمعہ شہرِ ختلان میں کوہِ تیری پر جو ختلان کا ایک قلعہ ہے آپ نے طریقت کی رسم کے مطابق مخصوص لباس پہنا ، سیاہ عمامہ باندھا اور دعوتِ حق دی ۔

سید عبداﷲ برزش آبادی نے جب یہ سنا کہ خواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے نوربخش ؒ کی بیعت کر لی ہے تو انہوں نے اپنے مرشد سے ترک ِتعلق کا فیصلہ کر لیا ۔ نتیجتاً حضرت خواجہ ؒ نے بھی برزش آبادی کو اپنے حلقہ ٔ ارادت سے خارج کر دیا اور فرمایا ذھب عبداﷲ یعنی عبداﷲ رخصت ہو گیا ۔ یہی سبب ہے کہ سید عبداﷲ برزش آبادی سے چلنے والا سلسلہ ’ذھبیہ ‘کے نام سے مشہور ہوا ۔(8)

ادھر خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کے کچھ دشمنوں نے مقامی تیموری گورنر سلطان بایزید کو حضرت خواجہ ؒ اور سید محمد نوربخش ؒ کے ارادے کے خلاف اطلاع بہم پہنچائی کہ یہ لوگ ظاہری خلافت کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ اس طرح جیسا کہ آگے بیان ہو چکا ہے ، انہوں نے حضرات خواجہ ؒ و میرؒ کی دعوت و ارشاد کو خروج و بغاوت سمجھتے ہوئے قبل اس کے کہ بایزید خود اُن سے ملاقات کر کے اصل حالات معلوم کر لیتا، اس کو ان کے اوپر مسلط کر دیا، جس نے اپنی فوج انہیں گرفتار کرنے کی غرض سے بھیجی۔خواجہ اسحاق ؒ اور میر نوربخشؒ کے ساتھی بالکل خالی ہاتھ اور نہتے تھے ۔ اس فوج نے بے خبری میں انہیں گھیر لیا ۔ نہتے صوفیوں اور مسلح تیموریوں میں تصادم کے نتیجے میں اسّی (۸۰) صوفی شہید ہو گئے جن میں خواجہ اسحاق کے دو بیٹے بھی شامل تھے ۔ (9) حضرت خواجہ اسحاق ختلانی ؒ ، حضرت سید محمد نوربخشؒ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے دارلخلافہ ہرات کی طرف روانہ کر دیا اور ایک قاصد کو قیدیوں سے آگے مرزا شاہرخ کے پاس واقعات کی اطلاع کے لئے بھیج دیا ۔ مرزا شاہ رخ نے حکم دیا کہ قاصد کی جہاں بھی ملاقات ہو جائے حضرت خواجہؒ ان کے بھائی اور سید محمد نوربخشؒ تینوں کو اسی جگہ قتل کیا جائے ۔ کہتے ہیں کہ معاً میرزا شدید درد ِ شکم میں مبتلا ہوا ۔ مولانا حکیم الدین جو مرزا شاہ رخ کے مقربین میں سے تھے اور علم ِ طب میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اس کے علاج سے عاجز ہو گئے تو انہوں نے مرزا سے عرض کیا کہ

سید محمد نوربخش چنین کہ در عالم مثل خود ندارد و در زھد و تقویٰ و علم و ریاضت کمالات صوری و معنوی دارد حکم بہ کشتن او کردہ اید پس این درد شما را دوا تغیر آن حکم است

’’آپ نے سید محمد نوربخشؒ کے قتل کا حکم دیا ہے حالانکہ اس وقت دنیا میں زہد و تقویٰ ، علم و ریاضت اور کمالات ِ صوری و معنوی میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کے پیٹ میں درد اٹھا ہے ۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ اپنے سابقہ حکم کو واپس لے لیں ۔ ‘‘

مرزا شاہرخ نے اسی وقت قاصد کو بھیجا کہ سید محمد نوربخشؒ کو گرفتار کر کے ہرات لایا جائے جبکہ دیگر قیدیوں کو وہیں ختم کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی مرزا کو دردِ شکم سے نجات ملی ۔ (10) یہ دوسرا قاصد اسیروں کی جماعت سے بلخ میں آن ملا اور حکم کے مطابق خواجہ اسحاق ختلانیؒ اور ان کے بھائی کو شہید کر دیا گیا۔ وقت ِشہادت آپ کی زبان پر یہ اشعار جاری تھے ۔

با چرخ ستیزہ کار مستیز و برو
چون نوبتِ تو رسید برخیز و برو
این جام جہان نما نامش مرگ است
خوش درکش و جرعہ بر زمین ریز و برو(11)

میر سید محمد نوربخش ؒ نے اس واقعہ کی طرف درج ذیل اشعار میں اشارہ کیا ہے ۔

پیریم و مریدِ خواجہ اسحاق
آن شیخِ شھید و قطبِ آفاق
کو بود مریدِ پیرِ فانی
شاہ ہمدان علیِّ ثانی
دادند بہ حالِ ما شھادت
بردند سعادتِ شھادت

میر سید محمد نوربخشؒ کو پابجولان ہرات لایا گیا ۔ میر جب ہرات پہنچے تو ان کا عذر یہ تھا کہ ان کے ہاتھ سے کسی مسلمان کو گزند نہیں پہنچا نہ ان کی طرف سے ایک تیر کسی کی جانب پھینکا گیا لیکن اس عذر کی شنوائی نہ ہوئی اور انہیں حصار اختیار الدین میں بھیج دیا گیا اور اٹھارہ دن تک چاہ ِ سیاہ میں قید رکھنے کے بعد خود اسی شہر میں اسیر رکھا گیا ۔ بعد ازاں خود مرزا کے چند متعلقین کی معیت میں سلطنت ِ شاہ رخ سے ملک بدر کرنے کی غرض سے انہیں شیراز بھیج دیا گیا ۔ یہاں سے میر ؒ کی زندگی کا دوسرا شروع ہوتا ہے ۔

دوسرا دور

اس اسیری سے تقریباً بیس پچیس برس تک میر قید میں رہے یا ان کو مشروط طور پر آزادی ملی اور اس سارے عرصہ میں آپ شاہ رخ کے ہاتھوں گرفتار بلا رہے ۔

شیراز سے میرؒ کوخوزستان کے مضافات میں بہبہان لے جایا گیا جہاں آپ کوشاہ رخ کے فرزند ابراہیم سلطان ( متوفی ۸۲۸ھ؍۱۴۳۵ئ) والی ٔ شیراز کے حکم پر رہاگیا ۔ حضرت میر ؒ کی تیموریوں کے ہاتھوں اس قید و بند کی کل مدت چھ مہینے تھی ۔
قید و بند سے رہائی پا کر میر ؒ شوستر اور بصرہ کی راہ سے حلّہ پہنچے پھر بغدا د سے ہوتے ہوئے کردستان میں داخل ہوئے ۔ شوستری کے بقول حلہ میں میرؒ نے نامور شیعہ عالمِ دین فہد ابن حلی ( متوفی ۸۴۰ھ) سے ملاقات کی ۔ لیکن نوربخش ؒ نے خود اپنی تصنیفات میں حلّی کا کہیں ذکر نہیں کیا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ۔ بظاہر شوستری کا بیان نوربخشؒ کا اہل تشیع کے ساتھ تعلق ظاہر کرنے کی کوشش ہے کیونکہ شوستری خود سلسلہ ٔنوربخشیہ سے عقیدت رکھنے کے باعث شیعہ اثناعشریہ کے ہاں نوربخشؒ کو مقبول بنانا چاہتے تھے ۔ (12)

رہائی کی کچھ مدت بعد شاہ رخ نے میر کو پھر گرفتار کروایا ۔ شاہ رخ اس وقت آذر بائجان میں تھا ۔ یہ غالباً ۸۳۸ ھ اور ۸۴۰ ھ کے درمیانی عرصے کی بات ہے ۔

ان دو گرفتاریوں کا درمیانی عرصہ جو ۸۲۷ھ اور ۸۴۰ کے درمیان کا ہے نوربخشؒ نے عراق ، کردستان ، لورستان ( بختیاری علاقہ ) اور گیلان کے سفر میں گزارا۔ شوستری کے بقول کردستان فاعلی و بختیاری میں قیام کے دوران میر ؒ کو بے حد کامیابی ہوئی ۔ یہ علاقہ مغلوں کے عہد میں لورِ بزرگ اور لورِ کوچک میں منقسم تھا لیکن صفوی دور میں ان کا نام بدل کر کوہ ِ گیلو اور بختیاری اور لورستان فاعلی یا محض لورستان رکھا گیا ۔ یہاں میر نے بختیاری اور دیگر قبائل کے ایک جم ِ غفیر کو مرید کر لیا بلکہ ان لوگوں نے مدت تک خطبہ اور سکہ ان کے نام پر جاری کیا ۔ آج کل اس علاقے کے لوگوں کی اکثریت ’اہل ِ حق ‘ نامی فرقے سے تعلق رکھتی ہے جو میر نوربخشؒ کی بہت قدرومنزلت کرتے ہیں ۔ اہل ِ حق کی مذہبی تاریخ میں میر نوربخش ؒ کے بارے میں تاریخی معلومات محفوظ نہیں رہ سکی ہیں لیکن وہ سولھویں صدی کے اواخر میں ہونے والے ایک بزرگ بابا یادگار کو جو بن زردہ میں مدفون ہیں میر نوربخشؒ کی نشانی سمجھتے ہیں ۔ (13)

شوستری کے بیان کے مطابق شاہ رخ کو جب میر نوربخشؒ کی کردستان میں کامیابیوں کی خبر ملی تو اس نے مقامی حکام کو لکھا کہ میر کو اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے شاہی دربار میں پہنچایا جائے ۔ غرض اس نے نوربخشؒ کو دوبارہ گرفتار کروا کر اردوی اعظم میں منگوایا اور سخت عتاب و تہدید کی حتیٰ کہ ان کے قتل پر آمادہ ہوا ۔ آپ نے ناچار بحکم الفرار مما لا یطاق من سنن المرسلین کے تحت فرار ہونے کا قصد کیا اور تن تنہا جان بچا کر وہاں سے فرار ہوئے اور تین شب تک بغیر کچھ کھائے پئے برفانی پہاڑوں میں سرگردان پھرنے کے بعد خلخال پہنچے ۔ حاکم ِ خلخال نے ان کو گرفتار کر کے دوبارہ میرزا شاہ رخ کے پاس بھیج دیا ۔ (14) مرزا شاہ رخ نے حکم دیا کہ ان کو چاہ ِسیاہ میں ڈال دیا جائے چنانچہ ۵۳ دن تک تنگ و تاریک کنوئیں میں قید رکھنے کے بعد باہر نکالا گیا اور پا بہ زنجیر ہرات روانہ کر دیا اور جمعہ کے دن میرزا نے ان کو مجبور کیا کہ منبر پر چڑھ کر اعلان کریں کہ میں ظاہری خلافت یعنی حکومت کا مدعی نہیں ہوں ۔ میرؒ بے چارے لاچار پابہ زنجیر منبر پر چڑھے اور فرمایا ۔ ’’ میری طرف بعض باتیں منسوب کی گئی ہیں اگر میں نے کہی ہیں تو اور اگر نہیں ہیں تو رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکْوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ O (الاعراف :۲۳) اور سورہ فاتحہ پڑھ کر منبر سے اترے ۔

غرض یکم جمادی الاوّل ۸۴۰ھ کو ا ن کے پاؤں سے بیڑیاں اتاری گئیں اور علوم ِ رسمی کے درس کی اجازت ملی لیکن یہ بھی حکم ملا کہ سیاہ دستار نہ پہنیں اور لوگوں کا اجتماع اپنے پاس نہ ہونے دیں ۔

سیاہ دستار یا سیاہ لباس تاریخی اعتبار سے عباسی انقلاب کے دور سے ہی انقلابی علامت سمجھا جاتا تھا ۔ اگرچہ نوربخشؒ نے اس موضوع سے بحث نہیں کی ہے لیکن سلسلہ کبرویہ میں ان کے پیشرو اور بعد کے بزرگوں نے اس کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ سید علی ہمدانی ؒ سے منسوب ایک رسالے میں بیان آیا ہے کہ ظلمت یا سیاہ رنگ نور کا پیش خیمہ ہونے کے اعتبار سے ناگزیر ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ سفید رنگ عوام الناس کے لئے زیادہ موزون ہے روحانی اعتبار سے اعلیٰ مقامات پر فائز ہونے والے سیاہ رنگ کو الوہیت کا خاصہ سمجھتے ہیں ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے غزوۂ احد کے موقع پر سیاہ لباس زیب تن فرمایا اور عموماً نمازوں میں بھی لباس سیاہ پہنا کرتے تھے اور صوفیاء بھی اسی سنت ِنبوی ﷺ کو محبوب رکھتے ہیں ۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کے بعد ان کے خلیفہ خواجہ اسحاق ختلانیؒ بھی سیاہ دستار پہنتے تھے جو ایک بار تیمور کی ناراضی کا سبب بھی بنا ۔ رسالہ نوریہ میں آیا ہے کہ صوفی کو اپنے روحانی تجربے کے دوران جب کالا رنگ نظر آئے تو سیاہ دستار عطا ہوتا ہے ۔ (15) یوں نوربخشؒ کے ہاں سیاہ لباس صوفیوں کی روایت ہونے کے ساتھ ساتھ اہل ِسادات کی نشانی کے طور پر بھی سامنے آتا ہے ۔ شوستری کہتے ہیں کہ میر ؒاپنے مشائخ کے دستور کے مطابق سیاہ لباس پہنا کرتے تھے اور بظاہر ان کے بعض خلفاء بھی ، چنانچہ ملا بنائی نے شیخ شمس الدین محمد لاہیجیؒ نوربخشی ؒ کی تعریف میں کہا ہے ۔ ؎

تا دیدہ ام مردم چشمت سیاہ پوش
لنوّر فی السّوادِ یقین شد مرا یقین
آن کو محال داشت بہ شب نورِ آفتاب
در خلعتِ سیاہ بیا گو ترا ببین
خصمت چو نافہ ارچہ کند جامہ را سیاہ
کآمد سیاہ دل ز خطا ھمچو مشک چین(16)

خلاصۃ الکلام میر صاحب کو رہائی ملی لیکن تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ میرزا شاہ رخ کو پھر ان سے اندیشہ پیدا ہوا اور تیسری مرتبہ ان کو ۱۵ رمضان المبارک ۸۴۰ ھ ( بمطابق ۲۳ مارچ ۱۴۳۷ء ) کو گرفتار کروا کر پابجولاں روانہ ٔ تبریز کیا اور وہاں کے گورنر کو حکم دیا کہ انہیں اناطولیہ ( روم ) بھیج دیا جائے ۔ میر ؒ کی شخصیت کا ایسا کرشمہ تھا کہ سارے راستے میں جوق در جوق لوگ ان سے ملنے آتے تھے اور کوئی مانع نہیں آتا تھا ۔ ان کی اس حالت سے جو تاثیر عظیم نفوس میں ہوتی ہو گی اور حکومت کے خلاف طبائع میں جس قدر جوش پیدا ہوتا ہوگا وہ آسانی سے قیاس میں آسکتا ہے ۔ تبریز سے میر نے ہرات کو ایک خط میں لکھا ہے ۔

’’ تا بایں جا رسیدیم صد ہزار مرد نیاز مند مشتاق بصحبت رسیدند ۔ یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤُا نُوْرَ اﷲِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاﷲُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ o ( الصف :۸17)

جب آپ تبریز پہنچے تو دو ماہ بعد پھر رہائی دی گئی مگر بجائے روم کے آپ شیروان کو روانہ ہوئے اور وہاں سے گیلان جا کر مقیم ہو گئے ۔ گیلان میں آپ نے تقریباً دس برس تک قیام فرمایا ۔ بظاہر یہیں سے وہ خط میرزا شاہ رخ کو لکھا گیا جو نسخہ ٔ جامعہ مراسلات اولوالالباب تالیف ایواغلی حیدر میں ’ یکے از سادات بمیرزا شاہ رخ ‘ کے عنوان سے درج ہے ۔ عبارت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنے والا خود سید محمد نوربخشؒ ہے ۔ اس میں آپ لکھتے ہیں ۔

’’و مدت بیست سال کہ آن بادشاہ در ایذاء این مظہر سعی بلیغ می نماید و سہ نوبت مقید گردانیدہ است و دو نوبت در چاہ داشتہ و ہزار فرسخ تقریباً باشد اقلیم باقلیم گردانیدہ و الحالۃ ھذہ کہ آخر عمر ویست و نوبت پادشاھی نزدیک است کہ منقضی شود ھنوز در اندیشہ ٔ آنست کہ این مظہر را باز بدست آوردہ مقید گرداند و این حال نزد مکاشفان محال است از بھر آنکہ سہ قید بینایان دیدہ بودند و دانایان دانستہ ……(18)

میرزا شاہ رخ کے نام میرؒ کے اس خط کے ساتھ ہی ان کی حیات کا دوسرا دور ختم ہوتا ہے ۔

تیسرا دور

میرؒ کا اندازہ درست نکلا کیونکہ ۸۵۰ ھ میں شاہ رخ فوت ہوا اور میرؒ کو ایک طویل مدت کے بعد فارغ البالی سے زندگی بسر کرنے کاموقع ملا ۔ آخری عمر میں شاہ رخ نہ صرف تخت کے دعوے دار وں کی بغاوت فرد کرنے میں مصروف تھا بلکہ ایک موذی مرض میں بھی مبتلا تھا ۔ اس کی وفات کے بعد آل ِتیمور داخلی کشمکش کا شکارہوئی اور میر ؒ سے معترض ہونے کی کسی کو فرصت نہ رہی ۔ اور آپ کچھ سال گیلان میں رہنے کے بعد علاقہ رے میں آ کر مقیم ہو گئے ۔ یہاں آپ نے ایک گاؤں بسایا جسے سولغان کہتے ہیں باغ لگایا اور بے کھٹکے اپنا سلسلۂ دعوت و ارشاد جاری رکھا ۔(19)

شاہ رخ کی موت کے بعد میرؒ کی دو تیموری حاکموں سے خط و کتابت کا علم ہوتا ہے ۔ شاہ رخ کے پوتے علاؤالدولہ کے نام خط غالباً اس کے ہرات کے تخت پر ذوالحجہ ۸۵۰ھ میں عارضی قبضے کے دوران لکھا گیا ہے ۔ دوسرا خط ابوالقاسم بابر کو لکھا گیا ہے ۔ ابوالقاسم بابر کے جوابی مراسلے میں سید محمد نوربخشؒ کے سادات کے درمیان اعلیٰ روحانی مقام کی تعریف و توصیف کی گئی ہے اور ان سے ملاقات کی امید کا بھی اظہار کیا گیا ہے ۔

ان کے علاوہ ایک وزیر اور امیر علاؤ الدین علی کیائی گیلانی کو لکھے گئے میرؒ کے دو خطوط کا بھی علم ہوتا ہے ۔ (20)

نوربخشؒ کی زندگی کے آخری دور میں وہ ایک عظیم استاد اور مرشد کے طور پر نظر آتے ہیں ۔’ اسرار الشہود ‘ میں شمس الد ین لاہیجیؒ جو میر سید محمد نوربخشؒ ؒ کے سب سے ذہین مرید ہیں شیخ سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہیں۔ لاہیجیؒ کے بیان کے مطابق جب انہوں نے علاقے میں نوربخش ؒ کی موجودگی کے بارے میں سنا تو ان سے ملاقات کااشتیاق پیدا ہوا۔ وہ ایک صبح اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کو بتائے بغیر لاہیجان سے روانہ ہوئے تاکہ کوئی ان کے ارادے پر معترض نہ ہو ۔ ایک دو دن تک اکیلے سفر کرنے کے بعد انہیں دو اور آدمی ملے جو نوربخشؒ کی خدمت میں حاضر ہونے جا رہے تھے ۔ منزل پر پہنچنے کے ایک دن بعد وہ نوربخشؒ کی خدمت میں آئے ۔ شیخ نے انہیں راہ ( سلوک ) کی مشکلوں سے آگاہ فرمایا ۔ لاہیجیؒ ؒ نے علائق دنیا سے کنارہ کشی کا فیصلہ کر لیا اور اگلے سولہ برس نوربخش ؒ کے مرید کی حیثیت سے شیخ کی خدمت کی ۔ (21)

جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ میر ؒ نے اپنی وفات سے قبل انیس برس کا عرصہ رے کے نزدیک سولغان میں گزارا اور یہاں مریدین کی ہدایت اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ ۸۵۹ ھ میں آپ کے فرزندِ ارجمند شاہ قاسم فیض بخشؒؒ مریدین کی تربیت فرمانے لگے تھے ۔

سانحہ ٔ وفات

آپ نے ۱۵ ربیع الاول ۸۶۹ ھ کو بروز جمعرات بوقت چاشت ( بمطابق ۱۵ نومبر ۱۴۶۴ ء ) کو ۷۳ برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے ہی باغ میں دفن ہوئے ۔

شیخ محمود بحریؒ نے جو میرؒ کے مریدین میں سے تھے تاریخِ وفات اس طرح کہی ہے۔

آفتابِ اوج دانش نورچشمِ اھلِ دین
نوربخشِ جسم و جان آن قھرمانِ ماء و طین
سالِ عمرش بود ھفتاد و سہ سالِ وفات
ھشت صد و شصت و نہ ما ھش ربیع الاولین
چاردہ زان ماہِ رفتہ پنجشنبہ چاشت گہ
در گزشت از عالمِ فانی ھمام العالمین(22)

میر سید محمد نوربخشؒ کے خلفاء میں سے شیخ محمود بحری ؒاور شیخ محمد غیبیؒ وغیرہ نے میر ؒکی وفات پر مرثیے کہے ہیں ۔ شیخ محمودؒ کے رنج و الم میں ڈوبے ہوئے مرثیے میںسے ایک اقتباس ذیل میں پیش کیا جاتا ہے ۔

دلا مباش تو غافل ز قید این دنیا
کہ اعتبار نہ دارد جھان و مافیھا
کجاست جسم عدیم المثال آن ذاتی
کہ نوربخش جھان بودہ و امامِ ھدیٰ
کجاست مفخرِ آفاق و نوربخشِ جھان
کجاست معدن احسان و رھنمای امم
کجاست مونس جانھای اھلِ کشف و صفا
کجاست داروی ھر درد و مرھمِ ھر غم
زِ عرش و فرش برآمد فغان و نالہ و آہ
کہ رفت نورِ دل و دیدۂ رسول اﷲ
زِبس کہ شد زِ زمین دودِ آہ سوی فلک
سیاہ گشت رُخ آفتاب و زھرہ و ماہ
ھنوز از رہِ صورت خبر نیامدہ بود
کہ نوربخشِ زمان زین جھان وداع نمود
شبی بہ واقعہ اندر فضای عالمِ جان
کہ جان خلاص شد از قیدِ جسم و حبسِ وجود
زِ بعدِ مدتِ پنجاہ روز قاصدِ شاہ
خبر رساند کزآن سان خبر کسی فرساد
ربیع الاول پنج شبنہ بود و چھاردھم
کہ نوربخش جھان رفت و جان بہ جانان داد(23)

میر شمس الدین اسیری لاہیجیؒ نے جو میرسید نوربخشؒ کے قریبی مرید اور شاگرد ہیں ،آپ کی وفات پر جو غزل بطور ِ مرثیہ کہی اس کے کچھ اشعار درج ذیل ہیں ۔

آن ھادیِ رھروان کجا شد
وآن سرورِ عارفان کجا شد
آن مطلبِ طالبانِ صادق
وآن ملجأ سالکان کجا شد
آن غوثِ جہان و قطبِ آفاق
وآن نادرۂ جھان کجا شد
او جانِ جھان بد و جان تن
تن ھست بگو کہ جان کجا شد
سرّ دوجھان برش عیان بود
آن عارفِ غیب دان کجا شد
دامن زِ غبارِ ما اسیری
افشاند و چو جان روان کجا شد(24)

روضۂ میر نوربخشؒ

مزار ِ مبارک سولغان ِ پائین میں مشرق کی طرف نہر سولغان سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ ایران میں ۱۹۰۴ء کے آئینی انقلاب سے پہلے آپ کا روضہ عالی شان طریقے سے بنا ہوا تھا ۔ انقلاب کے دوران بعض لالچی شرپسندوں نے محض دفینے کے لالچ میں اسے کھود کر خراب کر دیا اور وہاں پر چڑھائے ہوئے قیمتی چڑھاوے لوٹ لئے ۔ ۱۳۵۱ش میں آپ کے مزار پر کوئی سنگ مزار تک نہ تھا ۔ (25)

تاہم اس وقت شیخ محمد حسن مشکور تہرانی پیرِ سلسلہ ٔ کمیلیہ نوربخشیہ کی نگرا نی میں آپ کے مزار کی تعمیر ِ نو کا کام جاری ہے مزار سے ملحق ایک مسجد ، لائبریری اور مہمان خانے کی بھی تعمیر ہو رہی ہے ۔ (26)

نوربخشؒ کی اولاد

نوربخشؒ کے اہلِ خاندان

میر سید محمدنوربخشؒ کا شجرہ ٔ نسب یوں ترتیب پاتا ہے ۔ (27)
شاہ قاسم فیض بخشؒؒ

تیسرے فرزند شاہ قاسم اپنے پدر ِ نامدار کے بعد ان کے خلیفہ مقرر ہوئے اور سلسلہ ٔ نوربخشیہ کے مرجع بنے ۔ آپ کو شاہ قاسم انوار بھی کہتے ہیں۔میر سید محمد نوربخشؒؒ نے جب زیارت بیت اﷲ کا ارادہ فرمایا تو سالکین کی رہنمائی کے لئے شاہ قاسم کو درج ذیل اجازت نامہ عطا فرمایا ۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط

جملہ اقطاب و افراد و اوتاد و ابدال و ابرار و سائر رجال و سادات و قضات و علماء و خواص و عوام و سائرِ امت حضرت سید الانام ؐ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ قرۃالعین قاسم طول اﷲ العمرہ چونکہ فنون ِادبیہ و شرعیہ و حکمیہ و ریاضیہ و لطائف ِاطوار ِسبعیہ قلبیہ و انوار ِمکاشفات و تجلیات و آداب ِطریقت و معرفت و حقیقت میں مہارت ِتامہ رکھتا ہے ۔ اس کی علو ہمتی کا تقاضا ہے کہ دنیا کے عقلاء اور دیدہ ور لوگوں کو تلاش کرے ۔ اس لئے میں نے بھی عزم ِسفر کیا اور اجازت ِمعنوی کے بعد اس کی درخواست کوبھی قبول کیا ۔ چونکہ یہ بات متحقق ہے کہ چاند سورج سے دُور ہونے کے باوجود اس سے بے نیاز اور نورو ضیا میں اتم واکمل ہوتا ہے ،ہم اجازت دیتے ہیں کہ ایران ، توران ، عرب و عجم اور ہندو سندھ میں وہ جہاں بھی جائے بندگا ن کو خدا تک پہنچائے ، سالکوں کو انتہائی مراتب تک پہنچائے اور عارفین کو درجہ ٔبلند اور علماء کو راہ ِہدایت تک پہنچائے اور ارشاد ِطریقت اور احیائے حقیقت و شریعت کی ترویج میں پوری طرح سعی و کاوش کرے ۔ اہل ِدنیا پر لازم ہے کہ وہ اس کی صحبت کو غنیمت جانیں اور اس سے فیض و فائدہ حاصل کرنے اور اس کی خدمت گزاری میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں کیونکہ ایسے صاحب ِکمال صدیوں بعد ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ دنیا والوں کو اس قرۃ العین کی برکات سے مستفید فرمائے اور اس کی ذات شریفہ کو بہت سال تک صحت وسلامتی سے رکھے ۔

بحرمۃ کمل اولیائہ من الاقطاب الی افراد

منکہ محمد نوربخشؒ(30)

آپ اپنے زمانے کے عالم ِ متبحر اور طبیب ِحاذق تھے ۔ شوستری کے بیان کے مطابق سلطان حسین ( متوفی ۹۱۲ھ ) نے خود انہیں بلوایا تھا اور ان سے ارادت پیدا کی ۔ حضرت شاہ قاسم ؒکے عراق عجم سے خراسان آنے کا سبب یہ ہوا کہ سلطان حسین مرزا والیٔ خراسان کو سید العارفین میر سید محمد نوربخشؒؒ کے بڑے بڑے خلفاء کی صحبت کا شرف حاصل ہوا تھا ۔ ان کی زبانی جب فیض بخشؒؒ کی تعریف سنی تو ملاقات کااشتیاق پیداہوا ۔ اور حضرت قاسم ؒکے دربارمیں خط لکھا کہ ’’ اگر ہمارے مقام پر آپ کا گزر ہو تو سعادت کا ہما ہمارے جال میں آجائے ۔ ‘‘(31)

سلطان حسین مرزا ایک مہلک مرض میں مبتلا تھا ۔ ہر طرح کے علاج و معالجے سے تندرست نہ ہو سکا ۔ جب بادشاہ نے شاہ قاسم فیض بخش ؒ کی طبابت میں مہارت کے بارے میں سنا تو سلطان یعقوب والی ٔ عراق کے پاس ایلچی روانہ کیا اور کہلا بھیجا کہ سید قاسم شاہ ؒؒکو ہرات بھیج دیں تو سمنان کا علاقہ بطور امتنان و تشکّر آپ کو دے دوں گا ۔ اس طرح فیض بخشؒؒ سولغان سے روانہ ہوکر مشہد پہنچے جہاں امام علی بن موسی الرضاؑ کے روضے پر حاضری دی ۔ بعد ازاں سلطان کے بھیجے ہوئے فوجی دستے کی معیت میں ہرات روانہ ہوئے ۔ میر شمس الدین عراقی ؒ بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھے ۔ سلطان نے آپ کی بڑی تکریم کی اور بہر ِاستقبال خود نوکوس تک آیا ۔ کچھ دن ضیافتوں اور تعارفی ملاقاتوں میں بسر ہوئے پھر آپ نے سلطان کا علاج شروع کیا جس کے نتیجے میں وہ صحت یاب ہو گیا ۔ اگرچہ سلطان پہلے ہی آپ کا معتقد تھا اس واقعے سے وہ اور بھی متاثر ہوا۔ سلطان اوران کی اہلیہ آپ کے حلقۂ ارادت میں آگئے اور بادشاہ کا وزیر جس کا نام شاہزادہ محمد المعروف کیجک تھا آپ کا مخلص دوست بنا اور دائرہ ٔ بیعت میں آ گیا ۔ بیابانک( سمنان) کا علاقہ آپ کو بطور ِجاگیر عطا ہوا ۔ (32)

سلسلہ ٔعالیہ نوربخشیہ روز بروز ترقی کرنے لگا اور روش ِہمدانیہ آب و تاب سے رونق پانے لگا ۔ اکثر مشائخ ِاسلام جن میں شیخ الاسلام علامہ تفتازانی ، ملا حسین واعظی اور مولانا علی قوسجی وغیرہ شامل تھے ، شاہ قاسم ؒ کی خدمت سے مشرّف ہوئے ۔ سردیو ںکا موسم آیاتو سلطان حسین مرزا نے شاہ قاسم فیض بخشؒؒ سے التماس کی کہ آپ اسی جگہ چلہ کشی کریں تاکہ ہم لوگ آداب ِطریقہ ٔہمدانیہ اور قواعد ِسلسلہ ٔنوربخشیہ سے مطلع ہو سکیں ۔ آپ نے اس درخواست کو قبول فرمایا اور باغِ زاغاں میں جو شاہی محلاّت کے لئے مخصوص تھا ،چلہ کشی کے لئے ایک عمارت کو منتخب فرمایا اور تمام خادموں کو چلہ کشی کا حکم دیا ۔ بادشاہ خود اس مکان میں حاضر ہو کر درویشوں کے سلوک کا طریقہ مشاہدہ کرتا اور ان کی خدمت بجا لاتا تھا ۔ میر عراقی ؒ اس چلہ میں شریک نہ تھے البتہ رات کو ذکرو اذکار بجا لاتے اور دن کو معتکفین کی خدمت کرتے تھے ۔ انہی دنوں شاہ قاسم فیض بخشؒ ؒکے چھوٹے صاحبزادے شاہ ابوالمعالی کا انتقال ہوا ۔

جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ شاہ قاسم سلطان حسین مرزا کا علاج کر رہے تھے۔ اور اس علاقہ کی جڑی بوٹیاں جمع کر کے علاج کا شغل جاری رکھتے تھے ۔ سلطان حسین کو اتنا فائدہ ہوا کہ وہ نماز ِجمعہ کی جماعت میں حاضر ہونے کے قابل ہو گئے ۔ جو جڑی بوٹیاں اس علاقے سے نہ ملتیں وہ حکیموں کو بھیج کر دوسرے ممالک سے بھی منگوا لی جاتی تھیں چنانچہ ایک دفعہ حضرت شاہ قاسم ؒنے فرمایا کہ وہ دوائیں اور جڑی بوٹیاں جو سب سے زیادہ مفید ہیں سوائے کشمیر اور تبت( بلتستان) کے پہاڑوں کے اور کہیں نہیں ملتیں ۔ سلطان حسین مرزا اس ارشاد کے مطابق بہت مشتاق ہوا کہ کسی آدمی کو کشمیر بھیجا جائے تاکہ وہ دوائیں جو اس مرض میں زیادہ مفید ہوں اس علاقہ کے اطبا ء سے دریافت کر کے اس علاقہ کے بادشاہ سے طلب کرے ۔ غور وخوض کے بعد سلطان کی یہ رائے ہوئی کہ کیوں نہ شاہ قاسم ؒ سے درخواست کریں کہ وہ شیخ شمس الدین عراقی ؒ کو کشمیر بھیجیں ۔ شاہ قاسم ؒنے یہ درخواست منظور فرمائی اور میر شمس الدین عراقی ؒ کو قیمتی تحائف کے ساتھ کشمیر بھیجا گیا اور ایک صوفی میر درویش نامی کو آپ کی خدمت کے لئے ہمراہ کر دیا گیا ۔ (33) میر عراقی آٹھ سال تک کشمیر میں رہے ۔ ادھر سلطان حسین مرزا نے امور ِسلطنت کی باگ ڈور شاہزادہ محمد مرزا کیجک کے ہاتھ میں دے دی ۔ جب تک مرزا کیجک زندہ رہا شاہ قاسم ؒ کو زمانہ کے دشمنوں اور حاسدوں سے کوئی تکلیف نہ پہنچی ۔

تاہم ملا عبدالرحمن جامی سلطان حسین کو فیض بخشؒ ؒسے بدظن کرنے کی کوشش کرتے اور الزام تراشیاں کرتے تھے اور علامہ تفتازانی بھی آپ کے مخالف تھے ۔ ایک دفعہ انہوں نے سازش تیار کی کہ فیض بخشؒ کو جمعہ کے دن جامع مسجد میں بلایا جائے اور علوم ِ رسمیہ سے ہر طرح کے سوالات اٹھا کر انہیں لاجواب اور شرمندہ کیا جائے ۔ اور بادشاہ سے بھی اس امر کی فرمائش کی ۔ آپ نے دعوت قبول فرمائی اور جمعہ کا خطبہ آپ ہی نے دیا اور لا الہ الا اﷲ کے موضوع پر تقریر کی ۔ ملا جامی نے کہا کہ مجھے اس پر اعتراض ہے ۔ شاہ قاسم ؒنے فوراً کہا کہ میں نے عراق میں سنا تھا آپ کو علیؑ کی ولایت پر اعتراض ہے ، اب اگر کلمہ ٔ طیّبہ پر بھی اعتراض کریں گے تو آپ کافر ٹھہریں گے ۔ لوگ یہ جواب سن کر جامی پر ہنسنے لگے ۔ (34)

جیسا کہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ میر نوربخشؒ نے اپنے نامور مرید مولانا حسین کو کئی ؒ کو آپ کا اتالیق مقرر کیا تھا جن کی کوششوں سے آپ علوم و فنون میں متبحّر ہو گئے تھے۔ چنانچہ آپ نے صرف سات سال کی عمر میں علوم ِفلکیات میں تحقیق کرنا شروع کیا اور سات سیّاروں کی تقویم استخراج کی اور ہر سال کے زائچے تیار کر لئے جن میں پیش آنے والے حادثات اور دیگر کوائف درج تھے ۔ علاوہ اس کے علم ِطب میں بھی آپ کو ید ِطولیٰ حاصل تھا ۔ ایک دفعہ آپ کے مخالفین نے یہ دیکھنے کے لئے کہ آ پ کو کتب ِتصوّف میں کچھ دسترس ہے یا نہیں ،آپ کا امتحان لینا چاہا اور سلطان حسین مرزا کے ذریعے فرمائش کی کہ آپ محی الدین عربی کی ’ فصو ص الحکم‘ کا درس دیں جو تصوّف کی دقیق ترین کتاب سمجھی جاتی ہے ۔ شاہ قاسم ؒنے اس درخواست کو قبول کیا اور بادشاہ کی مجلس میں تشریف لے گئے اور علماء کے اکٹھے ہونے کے بعد جب کتاب فصوص الحکم حاضر کی گئی تو آپ نے بلا توقف اور بغیر مطالعہ اس کا درس شروع کیا اورتقریر اور بیان کے ساتھ کئی روز تک درس کا سلسلہ جاری رہا، اور فرمایا کہ تم لوگ علم ِتصوّف میں فصوص کو انتہائی کتاب سمجھتے ہو ، حالانکہ اس عاجز کے والد بزرگوار مبتدی لوگوں کو یہ کتاب پڑھایا کرتے تھے ۔ اس موقع پر شاہ قاسم ؒنے شیخ نجم الدین کبریٰ ؒکی تصنیف ’ مرصادالعباد فی متجلجل الذّات ‘ نکالی اور فرمایا کہ اگر کسی نے اس کتاب کا ایک صفحہ اپنے مطالعہ سے حل کیا تو میں اس کی شاگردی کروں گا اور یہ وہ کتاب ہے جو سلسلہ ٔ نوربخشیہ کے بزرگوں کے ہاں مقبول تھی ۔ مخالفین اس کتاب کو ملا عبدالرحمن جامی کے پاس لے گئے اور باربار کے غور و فکر کے باوجود اس کی ایک بحث بھی حل نہ کرسکے اور آخر اپنے عجز و قصور کا اعتراف کرتے ہوئے کتاب سلطان حسین مرزا کو واپس کی ۔ (35)

ان بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ شاہ قاسم فیض بخشؒؒ متبحر عالم اور عارف یگانہ تھے ۔ چنانچہ میر سید محمد نوربخشؒؒ نے کتاب ’ الفقہ الاحوط ‘ میں آپ کو یوں مخاطب کیا ہے ۔

’’ اے قابل ، عالم ، فاضل ، صاحبِ کشف ، واصل باﷲ ، مرشد ِکامل مکمل فرزند ِعزیز ۔ خدا تجھے شریعت ، طریقت اور حقیقت کے لحاظ سے اشیاء کی حقیقت کی کمال ِ معرفت عطا فرمائے ‘‘ ۔ (36)

اور رسالہ ’ اصول اعتقادیہ ‘ میں فرماتے ہیں ۔

’’ اے روح سے عزیز ، صاحب ِنصرت و ظفر ، اور صاحب ِفتوح بادشاہ ِعادل ، صاحب ِبلند اقبال پاکیزہ نسب نبوّت کے خاندان والے بلند حسب ونسب والے فرزند جو کہ اہل ِکشف و عرفان کے دلوں کی قبولیت کے لئے زمانہ کے بادشاہوں سے ممتاز ہے اور اپنے ہمعصروں پر عقل ، فہم اور پاکیزہ عقیدہ کے لحاظ سے فوقیت رکھتا ہے اور آخری زمانہ میں اسلام کی تقویت کے لئے خاص کیا گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ تجھے کمالِ یقین کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (37)

اسی طرح ’صحیفۃ الاولیاء ‘ میں ارشاد فرماتے ہیں ۔

بود قاسم از اولیاء بی گمان
بہ احوال و عرفان و کشف و عیان
ازاین پس دو سہ مرد باکشف حال
ازو می شود دیدہ بی قیل و قال
الھٰی رسانش بہ عمرِ دراز
کہ ھست او بہ معنی یکی شاھباز(38)

یہی وجہ تھی کہ میر سید محمد نوربخشؒ نے فیض بخشؒ کو خط ِارشاداور اجازت نامہ عطا فرمایا اور آپ لوگوں کی ارشاد و ہدایت میں مصروف ہو گئے ۔ غالباً اس وقت فیض بخشؒ کی عمر بیس سال یا اس سے کچھ متجاوز تھی ۔
میر سید محمد نوربخشؒ نے اپنی وفات کے وقت کسی کو اپنا خلیفہ یا جانشین نامزدنہیں فرمایا تھا ۔ لوگوں نے شاہ قاسم فیض بخشؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ وہ اپنے والد بزرگوار کے جانشین بن جائیں مگر آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شیخ محمد الوندی المعروف پیر ہمدانؒ میر ے والد کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور خلافت کے حقدار وہی ہیں ۔ اگر وہ انکار کریں تو خلیل اﷲ بغلانی ؒ کو خلیفہ بنائیں ۔ پیر ِہمدانؒ سولغان پہنچے تو شاہ قاسم ؒنے سب ارادتمندو ں کی موجود گی میں انہیں میر نوربخشؒ کا خلیفہ نامزد کیا ،مگر انہوں نے اس سے یکسر انکار کرتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں آپ کا جو مقام و مرتبہ ہے ، آپ کی موجودگی میں میری کیا بساط ہے؟ پیشوائی اور سرداری آپ کے لئے ہی زیبا ہے ۔ یہ کہہ کر خود شاہ قاسم ؒکے ہاتھ پر بیعت کی اور تمام عقیدت مندوں نے بھی بیعت کر لی ۔ اس طرح شاہ قاسم فیض بخشؒ میر سید محمد نوربخشؒ کے متفقہ جانشین نامزد ہوئے اور تمام سالکین ، درویشوں ، مریدین اور مخلصین کی ہدایت و ارشاد فرمانے لگے ۔

یہاں ہم دوبارہ خراسان آتے ہیں جہاں شاہ قاسم فیض بخشؒ کا مخلص مرید مرزا محمد کیجک اس دار ِفانی سے کوچ کر چکا ہے اور زمام ِاقتدار امیر شیر علی نوائی نے سنبھالے ہیں ۔ حاسدوں کو حضرت شاہ قاسم ؒ کی ایذا رسانی کا نیا موقع ہاتھ آیا ہے ۔ اُدھر ملا جامی سے ان کے اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ انتہا یہ ہوئی کہ ان حاسدوں نے آپ پر الزام تراشی کی کہ شاہ قاسم ؒ اپنے باپ کو امام محمد مہدی موعود کہتا ہے ۔ چنانچہ ایک روز مریدوں میں سے ایک آدمی نے حضرت شاہ سید ؒ کو انہی مقولات کا تذکرہ کرتے ہوئے ’’ یا حضرت امام آخرالزمان ‘‘ کہہ دیا تو حضرت شاہ قاسم ؒنے اس کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور فرمایا کہ تم لوگ میرے والد بزرگوار کو بدنام کر رہے ہو ۔ ایسی ناروا باتیں نہ کہا کرو ۔ (39)

جب علمائے سوء کی مخالفتوں میں شدّت آگئی تو شاہ قاسم ؒنے خراسان چھوڑنے کا ارادہ کر لیا ۔آ پ نے خراسان کے دوستوں کو الوداع کہنے کے بعد دوسو سواروں کی معیت میں امام علی رضا ؑ کے مزار ِاقدس کا رُخ کیا ۔ چند مخلصین مثلاً مولانا علی ہاتفی اور مولانا حسین واعظی وغیرہ آپ کے ہمراہ مشہد ِمقدّس تک آئے ۔ آپ نے انہیں واپس کیا اور خود عازم ِعراق ہوئے ۔ شاہ فیض بخشؒ نے مقام درشت میں اپنے ذاتی مکان میں قیام اختیار فرمایا اور اس علاقہ کے رہنے والوں کو معرفت کے نور سے فیض رسانی کرنے لگے ۔ آپ نے اسی درشت نامی بستی میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے ۔ تاریخ ِ وفات میں اختلاف ہے جو بعض تذکر ہ نگاروں کے نزدیک ۹۱۹ھ ،بعض کے نزدیک ۹۲۷ھ اور بعض کے نزدیک ۹۸۱ھ ہے ۔

شاہ قاسم فیض بخشؒ ؒ کے عزیز رفقا میں سے مندرجہ ذیل میر سید محمد نوربخشؒؒ کے نامور مرید تھے ۔

مولانا شیخ محمد الوندی ہمدانی المعروف بہ پیر ہمدانؒ
مولانا خلیل اﷲ بغلانی ؒ
برہان الدین بغدادی ؒ
شیخ شمس الدین محمد لاہیجیؒ اسیری ؔؒ

درج ذیل حضرات آپ کے مرید اور شاگر د تھے

میر شمس الدین محمد عراقی ؒ
مولانا حسین کوکئی ؒ( ملخص الفقہ الاحوط در زبان فارسی )
مولانا حسین واعظیؒ ( مصنّفِ تفسیرِحسینی )
امیر سید جعفر نوربخشؒ ( پسر سید محمد نوربخشؒ)
مولانا علی قوسجی ؒ
مرزا کیجکؒ ( پسرِ سلطان حسین مرزا والیٔ خراسان )
الغ بیگ مرزا ( پسرِ سلطان سعید خان والی ٔ ترکستان )
مولانا عبداﷲ ہاتفی ؒ
مولانا سید شمس الدین ؒ ( پسرِ فیض بخشؒ)
شاہ بہاؤالدین حسن ؒ ( پسرِ فیض بخشؒؒ)
مولانا حسین ابرقوہی ؒ
شاہ قوام الدین ؒپسرِ شمس الدین ؒ بن فیض بخشؒؒ

ان میں میر شمس الدین عراقی ؒعلمی و معنوی لحاظ سے سب پرفائق تھے ۔ چنانچہ فیض بخشؒ نے انہیں اپنی زندگی میں خط ِارشاد دے کر مختلف جگہوں پر بھیجا اور آخر میں اپنا خلیفہ بنا کر کشمیر روانہ کیا ۔ کشمیر اور بلتستان کے نوربخشی انہی کے سلسلے سے منسلک ہیں ۔ آپ کے دیگر دو خلفاء شاہ قوام الدین محمد ؒ اور مولاناحسین ابرقوہی ؒ ہیں ۔( آقائے مشکور تہرانی مؤخر الذکر کے سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں )

اگرچہ فیض بخشؒ ؒ سے منسوب تین رسائل ’’ رسالہ امامیہ ‘‘ ، ’’ مصابیح الاسلام ‘‘ اور ’’ افاضات ِفیض بخشیہ ‘‘ کے نام سے رائج ہیں مگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ تصانیف شاہ قاسم فیض بخشؒ کی نہیں ہیں ۔ (40) تفسیر ِحسینی میں ملا حسین واعظی نے میر قاسم انوارؒ کے بعض رسائل کا ذکر کیا ہے مگر ان کی تفصیل نہیں لکھی ہے ۔ (41) لیکن اسی کتاب میں پر شاہ قاسم انوار ؒ کا مندرجہ ٔ ذیل شعر نقل کیا ہے اور آپ کے کلام کا حوالہ دیا ہے ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کا دیوان بھی موجود ہے ۔

زِ بیمِ سوزِ ھجرانت زِ مُو باریک تر گردم
چو روزِ وصل یاد آرم شوم در حالِ زان فربہ(42)

آیاتِ قرآنی کی وہ تمام تفاسیر جو شاہ قاسم انوار ؒ سے منقول ہیں ، وہ سب آپ کے مرید مولانا حسین واعظی کاشفی ؒنے اپنی مشہور تفسیر ’تفسیر ِ حسینی ‘ میں جمع کردی ہیں ۔ (43) اس وجہ سے یہ تفسیر حضرت میر سید محمد نوربخشؒؒ کے تمام مریدوں اور معتقدین میں بہت مقبول ہوئی۔ سلطان حسین مرزا نے اپنے دور ِاقتدار میں حضرت شاہ قاسم فیض بخشؒ ؒ کے مشورہ سے مذہبِ صوفیہ کی اشاعت کے لئے جہاں جہاں نوربخشی مرید اور معتقد تھے ، ان دوردراز مقامات میں تفسیر ِحسینی کے نسخے رائج کئے اور آخر زمانہ کے مقتدیوں کے لئے اس کو مشعل ِراہ بنایا ۔ تفسیرِحسینی تواریخ ، تصوف اور احکام ِشریعت و طریقت کے مضامین سے بھری پڑی ہے ۔ اس میں ائمہ ٔطاہرین مثلاً حضرت امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ ، حضرات حسنینؑ ، حضرت امام زین العابدین ؑ ، حضرت امام محمد باقر ؑ، حضرت امام جعفر صادق ؑاور امام علی رضا ؑ کے علاوہ مشائخ ِواصلین شاہ قاسم ؒ، شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ سمنانی ؒ، شیخ ابو علی رودباری ؒ، شیخ ابوعثمان مغربی ؒ، شیخ جنید بغدادی ؒاور شیخ سری سقطی ؒ اور دوسرے عارفین کی روایات و تفاسیر موجود ہیں ۔ نیز معالم التنزیل ، مدارک ، کشاّف ، بحرالحقائق ، جواہر التفسیر ، عوارف المعارف ، سلسلۃ الذھب ، کشف الاسرار ، فصل الخطاب اور ذخیرۃ الملوک جیسے کتب ِتصوف و تفسیر کے بھی حوالے موجود ہیں ۔ (44)

باور کیا جاتا ہے کہ صوفیہ نوربخشیہ کے چہاردہ کلماتِ قدسیہ بھی فیض بخشؒ نے ایجاد فرمائے جو درج ِ ذیل ہیں:

بندہ ٔ خدا
ذریتِ آدم ؑ
ملتِ ابراہیمؑ
امتِ محمدؐ
دین ِ اسلام
کتاب قرآن
قبلہ کعبہ
متابعتِ سنت
محب ِ علی ؑ
سلسلۃ الذھب
مذہبِ صوفیہ
مشربِ ہمدانیہ
روشِ نوربخشیہ
مریدِ مرشد (45)

شاہ بہاؤ الدین

شاہ قاسم ؒکے بیٹے شاہ بہاؤالدین نے بھی پہلے سلطان حسین کے دربار میں عزت پائی اور پھر شاہ اسماعیل صفوی کے ہاں بھی ان کی عزت و تکریم ہوئی ۔ بعد ازاں حاسدو ں کی چغلخوریوں کے باعث شاہ اسما عیل ان سے بدظن ہوئے اور ان کے قتل کا حکم صادر کیا ۔ (46) حضرت شاہ قاسم ؒ کو اطلاع ہوئی تو نہایت ملول و غمگین ہوئے اور فرمایا کہ میرا مظلوم بیٹا میرے دادا امام حسین مظلوم ؑ سے ملاقات کر رہا ہے اور اس بشارت میں داخل ہو رہا ہے ۔ وَلاَ تَحْسَبَنَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ اَمْوَاتاً بَلْ اَحْیَائ’‘ عِنْدَ رَبّھِمْ یَرْزُقُوْنَ 0 ( آل عمران ۱۶۹) (47)
شا ہ شمس الدین

شاہ قاسم فیض بخشؒؒ کے بڑے صاحبزادے شمس الدین کو ایران کے بادشاہ شاہ اسماعیل صفوی کے دربار میں عزت و وقار حاصل تھا لیکن شاہ شمس الدین کا سیاہ پگڑی باندھنا انہیں قابل ِاعتراض معلوم ہوا کیونکہ اس سے ظاہری خلافت کی ُبو آتی تھی ۔ حضرت شاہ قاسم ؒنے اپنے بیٹے کو آداب ِطریقت سکھانے کے لئے میر شمس الدین عراقی ؒکے حوالے کیا جن کی صحبت کے اثر سے وہ کاملین کے درجے تک پہنچے ۔ پھر شاہ قاسم ؒنے ان کو سند ِارشاد عطا کی ۔ میر عراقی ؒنے ان کی دلجوئی کی خاطر خود بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ فیض بخشؒؒ کو علم ہوا تو میر عراقی ؒسے فرمایا کہ میں نے اسے سند ِارشاد عام لوگوں کے لئے دی تھی ، آپ کو اس کی بیعت کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ میرعراقی ؒنے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لئے کیا کہ دوسرے لوگ بھی ان کے مطیع و فرمان بردار بن جائیں ۔ (48)
شاہ ابو المعالی

شاہ قاسم فیض بخشؒ ؒ کے سب سے چھوٹے فرزند تھے ۔ آپ کی وفات جوانی میں بمقامِ ہرات ہوئی جس کا فیض بخشؒ ؒ کو بہت رنج ہوا ۔ آپ کو سادات کے قبرستان میں سپرد ِخاک کیا گیا ۔
شاہ قوام الدین

شاہ قاسم کے پوتے اور جانشین شاہ قوام الدین محمد کو بے انتہا عروج حاصل ہوا ۔ ان کے مریدوں کی تعداد بے شمار تھی ۔ انہوں نے ایک قلعہ بھی بنوایا تھا ۔ چونکہ علمائے انساب نے نوربخشیو ں کی نسبت مذمت اور توہین آمیز کلمات کہے اور شاہ طہماسپ بن شاہ اسماعیل صفوی ( ۹۳۰ ھ تا ۹۸۴ھ) کے بھی کان بھرے ، شاہ طہماسپ نے ان کو گرفتار کروا کر قزوین کے انجنق نامی قلعہ میں مقید کر دیا اور اسی حالت میں ۹۴۴ھ میں ان کو شہید کر دیا گیا ۔ (49) باور کیا جاتا ہے کہ آ پ کو مولانا امیدی کے خوں بہا میں شہید کیا گیا جو آپ کی تحریک کے دوران قتل ہوئے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی نوربخشی مسلک کا عروج ایران ، خراسان اور عراق سے ختم کر دیا گیا اور ان پر تشدد اور مصائب روا رکھے گئے اور انہیں نوربخشی طریق اور ہمدانی روش چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ۔
شاہ صفی الدین

شاہ قوام الدین نوربخشی کے بھائی تھے ۔ فانی مشرب درویش تھے اور شعروشاعری میں ملکہ رکھتے تھے ۔ حج و زیارت ِ روضہ ٔ رسول سے مشرف ہوئے ۔ شاہ صفی اپنے بھائی کے ساتھ طرشت میں رہتے تھے جو کہ رے کے علاقہ میں ایک قصبہ تھا ۔ روضہ علی رضاؑ کی زیارت کو جاتے ہوئے راستے میں وفات پائی ۔ (50)
شاہ قاسم ثانیؒ

شاہ قوام الدین کے بیٹے تھے اور تہران کے علاقہ طرشت میں قیام پذیر تھے ۔ زہدو تقویٰ اور علم وریاضت میں مشہور تھے ۔ شاہ قوام الدین کے بعد سلسلۂ نوربخشیہ کے خلیفہ بنے۔ شاہ طہماسپ کے دربار میں آپ کو اہم مقام حاصل تھا ۔ (51)
شاہ مشہور الدین فکریؔ نوربخشی

شاہ مشہور الدین فکری شاہ قوام الدین کی اولاد سے تھے ۔ طبعِ سلیم اور ذہن ِ مستقیم رکھتے تھے ابتدا میں اسیریؔ تخلص کرتے تھے بعد میں فکریؔ تخلص رکھ لیا۔ شاہ طاہر کے زمانہ میں ایران کے شہر دماوند سے یہ دکن کے علاقہ میں آئے اور شاہ طاہر نے آپ سے تعلیم و تربیت حاصل کی اور بہت سی مراعات عطا کیں۔ شعرو شاعری میں مشہور ہوئے اور موسیقی میں مہارت حاصل کی ۔ (52)
شاہ بہاؤ الدولہ معروف بہ سید محمد حسن نوربخشی ؒ

شاہ قوام الدین محمد کے بیٹے ہیں ۔ علوم ِ باطنی کے علاوہ طب و حکمت میں بھی دستگاہ رکھتے تھے ۔ ایران میں علم ِطب کا ان سے بڑھ کر ماہر کوئی نہ تھا ۔ پہلے رے میں پھر ہرات میں ہندوستانی استادوں سے علم ِطب پڑھا ۔ ایک مدّت ہرات میں قیا م کے بعد رے چلے گئے اور ۹۸۵ھ میں انتقال کیا ۔ ان کے مجربات پر مشتمل ایک تصنیف ’ خلاصۃ التجارب‘ ا ن سے یادگار ہے ۔ رسالہ ’ہدایۃ الخیر ‘ اور رسالہ ’ نوربخشیہ ‘ بھی ان سے منسوب کئے جاتے ہیں ۔ (53)
امیر شاہ رضا

آپ شاہ بہاؤ الدولہ کے فرزند تھے ۔ خوش طبع ، نیک خصلت اور عالی فطرت تھے ۔ کمال ِ معنوی کے علاوہ عرفانی شاعری میں بھی ملکہ رکھتے تھے ۔ صاحب ِدیوان تھے اور رضا تخلص کرتے تھے ۔ (54)
امیر سید محمد نوربخش ثانی ؒ

شاہ قاسم ثانی کے فرزند تھے اور شاہ قوام الدین کے پوتے تھے ۔ اس سلسلہ کے خوش طبع لوگوں میں سے تھے ۔ شاعری کا شوق رکھتے تھے ۔ عشقِ الٰہی میں ایک پورا دیوان مرتب کیا ۔ اشعار میں امیر تخلص کرتے تھے ۔ (55)
امیر سعد الحق

نوربخشی سادات میں سے تھے ۔ اصل نام سید حسین تھا ۔ جوانی میں رے سے شیراز گئے اور ملا جلال دوامی سے مستفید ہوئے ۔ شاعری میں نصیبی ؔ تخلص کرتے تھے ۔ آپ کے دیوان میں سات آٹھ ہزار بیت موجود ہیں ۔ (56)
شاہ حسام الدین

نوربخشی سادات میں اہم مقام رکھتے تھے اور علم وریاضت اور زہد و تقویٰ میں مشہور تھے ۔ ساری زندگی عبادت اور رشد و ہدایت میں گزاری۔ (57)
مرزا شاہ تقی

شاہ حسام الدین کے بیٹے تھے ۔ آپ مرزا عباس قلی کی دامادی کی وجہ سے مرزا محمد تقی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ گیلان اور مشہد میں قاضی القضاء کے عہدے پر فائز رہے ۔ آپ نے کچھ عرصہ یزد میں قیام کیا پھر اصفہان چلے گئے اور وہیں وفات پائی ۔ (58)
مرزا شاہ حسام الدین

شاہ محمد تقی کے بڑے صاحبزادے تھے ۔ آپ ہرستان کے علاقے میں اقامت پذیر تھے ،جہاں ساری زندگی عبادت و ریاضت میں گزار کر وفات پائی ۔ (59)
مرزا شاہ ناصر

مرزا شاہ محمدتقی کے چھوٹے بیٹے تھے ۔ جوانی میں ہی وفات پائی ۔ (60)
مرزا ہادی

آپ بھی شاہ محمد تقی کے بیٹے تھے اور اصفہان میں اقامت پذیر تھے ۔ آپ عرفانی شاعر تھے اور ہادی تخلص کرتے تھے ۔ (61)
نوربخشؒ کے اہلِ خاندان

میر نوربخش ؒ کی فخر النساء اور خیرالنساء نام کی دوبیٹیاں بھی تھیں ۔ تاہم میر ؒ کی نسل فیض بخشؒؒ کے ذریعے پھیلی ۔

میر سید محمد نوربخشؒ نے اپنی کتاب ’ صحیفۃ الاولیاء ‘میں اپنے اہل ِخاندان کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا ہے ۔
شاہ قاسم فیض بخشؒؒ
بود قاسم از اولیا بی گمان
بہ اخلاق و عرفان و کشف و عیان
از این پس دو سہ مرد باکشف و حال
ازو می شود دیدہ بی قیل و قال
الٰھی رسانش بعمرِ دراز
کہ ھست او بہ معنی یکی شاھباز
پدر نوربخش است و قاسم پسر
دگر جد وی بود ھمچون پدر

زوجۂ نوربخش
بود مادرِ قاسم از اھلِ دین
دلش ذاکر و کشف صوری مبین
چو وی ز اھلِ خوف و غم و محنت است
خدا را ازین روبرو رحمت است
فخرالنساء
دگر طفلکی ھست فخرالنساء
کہ دارد کرامات و کشف و صفا
سہ سالہ تجلیّ صوری بدید
بود کشف صوری وی بر مزید
کنون چار سال است ازین آگھی
خدایا توانی کہ عمرش دھی

سعدالحق
چو سعدالحق از کشف دیدیم نیز
یقین شد کہ او ھست مردِ عزیز
خیر النساء
دگر ھم چنین است خیر النساء
ھمہ اھل کشف اند و صدق و صفاء
چو دیدم من اطفال خود را ولی
شدم واقف از خاندانِ نبی
بہ علم الیقین گرچہ بودم خبر
بہ عین الیقین است چیزی دگر(62)

حوالہ کُتب

مجالس المؤمنین (ص ۳۰۶) مقالات مولوی محمد شفیع ( ص۱۳) لیکن خود میر نوربخشؒ سے منسوب ایک تصنیف ’ سلسلۃ الذہب ‘ کے نام سے موسوم ہے جس میں انہوں نے اپنے سلسلے کا نام سلسلۃ الذہب ہی لکھا ہے ۔
میر سید محمد نوربخشؒ کے مرید محمد بن حاجی محمد سمرقندی ؒ نے نوربخش ؒ کے حالات خود ان کی حیات میں ’ تذکرہ ‘ نامی رسالے میں قلمبند کئے ہیں جس میں ۸۲۶ھ سے ۸۴۰ھ تک کے حالات کا ذکر ہے ۔’ مجالس المؤمنین ‘ میں قاضی نوراﷲ شوستری نے جو میر ؒ کے حالات درج کئے ہیں ان کا ماخذ یہی کتا ب ہے جو فی زمانہ دستیاب نہیں ہے ۔ ( دیکھئے مقالات مولوی محمد شفیع ص۱)
’رسالۃ الھدیٰ ‘ کے ایک قلمی نسخے میں آپ کے والد کا نام عبداﷲ بھی شوستری نے ان کے خاندان کے متعلق یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ ان کے آباؤاجداد میں کوئی نہ کوئی فرد صاحبِ حال ر ہا ہے ، خواہ وہ سالک تھا یا مجذوب ۔
کشف الحقائق قلمی (ص۱۳)
طرائق الحقائق ( جلد اول ص۲۴۳)
مجالس المؤمنین (ص ۳۰۳)
مجالس المؤمنین( ص ۳۰۴)
روضات الجنان جلددوم (ص۲۵۰)
طبقاتِ نوریہ ( ص ۲۰)
مقالات مولوی محمد شفیع ( ص۷۴) ( منقول از نسخہ دیوانِ نوربخش برٹش میوزیم انڈیا آفس فہرست کالم : (Persian mss 1265 951
مقالۂ شہزاد بشیر ( ص ۱۰۱)
مقالۂ شہزاد بشیر ( ص۱۰۲، ۱۰۳)
کارنامۂ بزرگ ایران (ص ۳۱۵)
مقالۂ شہزاد بشیر ( ص ۱۰۴، ۱۰۵)
مقالات ِ مولوی محمد شفیع ( ص ۶ ، حاشیہ ص ۵)
مجالس المؤمنین ( ص۳۰۵)
مقالاتِ مولوی محمد شفیع ( ص ۷) اس خط کا مکمل متن تحفۃ الاحباب میں موجود ہے ۔ دیکھئے تحفۃ الاحباب ( ص۱۲۳ تا ۱۲۶)
مقالات ِ مولوی محمد شفیع ( ص۷)
مقالۂ شہزاد بشیر ( ص ۱۰۸، ۱۰۹)
اسرار الشہود ( ص۲۵۲ تا ۲۷۰)
تحفۃ الاحباب (ص۱۱۲) ، مجالس المؤمنین ( ص۳۰۵)
تحفۃ الاحباب( ص ۱۱۲،۱۱۳)
دیوانِ اسیریؔ ( ص ۱۳۵)
مقدمہ نفس شناسی ( ص ۱۷)
مقالہ غلام حسن ( ص ۱۵) ، تاریخِ بلتستان ( ص ۱۰۸)
ہفت اقلیم بحوالہ مقالات مولوی محمد شفیع ( ص۲) ، طبقاتِ نوریہ ( ص۴۶، ۱۵۹)
جامع مفیدی ( ص ۱۰۴، ۱۰۷)
دیوان ِ نوربخشؒ غزل نمبر ۴۴
تحفۃ الاحباب (ص۱۰۲ تا ۱۰۴)
مجالس المؤمنین ( ص ۳۰۶) ، تحفۃ الاحباب ( ص ۱۵۷)
طرائق الحقائق جلد ۳ ( ص ۵۵)
تحفۃ الاحباب ( ص ۱۷۶۔۱۷۷)
مجالس المؤمنین ( ص ۳۰۶) ، طرائق الحقائق جلد ۳ ( ۵۵)
تحفۃ الاحباب ( ۱۰۶، ۱۰۷)
الفقہ الاحوط (ص۱)
کتاب الاعتقادیہ ( ص۲۳)
صحیفۃ الاولیاء (ص۲۲)
مجالس المؤمنین ( ص۳۱۵)
صوفیہ نوربخشیہ ( ص ۹۰، ۹۳)
تفسیر ِ حسینی جلد دوم ( ص ۲۵۰)
تفسیرِ حسینی جلد دوم (ص۴۹)
چنانچہ تفیسرِ حسینی میں سورۃ الانبیاء کی آیت وھو الذی خلق الیل والنھار…… الخ کی تفسیر اورسورۂ احزاب کی آیت انا عرضنا الامانۃ علی السمٰوٰت ……الخ کی تفسیر شاہ قاسم فیض بخشؒ کے حوالے سے موجود ہے ۔ دیکھئے جلد دوم ( ص ۲۵، ۴۹)
طبقاتِ نوریہ ( ص۳۴ تا ۳۶)
طبقات ِ نوریہ ( ص۴۵)
طرائق الحقائق جلد ۳ ( ص ۱۲۸)
طبقات ِ نوریہ ( ص ۲۷)
تحفۃ الاحباب ( ص۱۵۲) ، طبقاتِ نوریہ ( ص۴۸)
مقالاتِ مولوی محمد شفیع ( ص ۹) ، طبقاتِ نوریہ ( ص ۴۹)
آتشکدۂ آذر ( ص ۲۱۹) ، مقالات ِ شفیع ( ص ۳۳) ، تحفۂ سامی ( صحیفہ۲)
جامع مفیدی ( ص۱۰۶)
آتشکدۂ آذر ( ص۲۲۰) ، مقالاتِ شفیع ( ص۴۱) ، طبقاتِ نوریہ ( ص ۵۱)
طبقاتِ نوریہ (ص ۵۲)
آتشکدۂ آذر (ص ۲۱۷)
طبقاتِ نوریہ (ص ۵۳)
آتشکدۂ آذر ( ص ۲۲۱)
جامع مفیدی (ص۱۰۶)
جامع مفیدی (ص۱۰۶) ، مقالات ِ مولوی محمد شفیع ( ص۳۴) ، تحفۂ سامی ( صحیفہ ۲) ، طبقاتِ نوریہ
جامع مفیدی (ص ۱۰)
جامع مفیدی ( ص ۱۰۷)
آتشکدۂ آذر (ص۲۱۱)
صحیفۃ الاولیاء (ص ۲۲، ۲۳)