حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ۵۴۰ھ بمطابق ۱۱۴۵ء کو خوارزم شہر کے خیوہ نمی بستی میں پیدا ہوئے۔ جو آج کل سنٹرل ایشیا میں روس سے آزاد ہونے والا ملک ترکمانستان میں واقع ہے۔ آپ کا نام احمد اور والد گرامی کا نام عمر ہے۔ لیکن آپ نجم الدین کبریٰ ، ابولجناب، شیخ ولی تراش اور شیخ کبیر کے نام سے مشہور ہوئے۔

تعلیم و تربیت

آپنے ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی کے مدارس سے حاصل کی۔ آپ کے والد گرامی بھی بہت بڑے عالم تھے۔ابتدائی تعلیم آپ نے انہی سے حاصل کی۔ مزید کتابی علوم درج ذیل اساتذہ سے حاصل کیا ۔

ابولمعالی عبدالمنعم القراوی(نیشا پور میں) ابوالفضل محمد بن سلیمان ہمدانی اور ابو العلاء حسن بن احمد ہمدانی(ہمدان میں ) ابو جعفر ہندہ (تبریز میں)۔
درج ذیل مشائخ و عرفاء سے روحانی تعلیم و تربیت پائی۔

شیخ کبیر روز بہان مصری(مصر قاہرہ میں) ابو طاہر محمد اصفہانی (سکندریہ میں ) شیخ اسماعیل قصری (دیزفل میں )شیخ عمار یاسر بدیسی(بدیس میں)بابا خرج تبریزی (ہمدان میں)شیخ ابراہیم کرد(بغداد عراق میں)

ان تمام مشائخ کی تربیت سے آپ عظیم ولی اللہ بنے۔ آپ ظاہری و باطن میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ عارف باللہ، فنا فی اللہ ، صاحب کشف و کرامات کے مالک تھے۔ آپ متعدد کتابوں کے مصنف تھے جن میں فوتح الجلال و فوائح الجمال، السائرالحائر، الاصول العشرہ اور آداب الصوفیہ ہو گئے ہیں۔

غیب بینی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کی حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ نے تمام مریدوں کو رات آرام و استراحت میں گزرنے کی ہدایت کی اور خود بھی اپنے حجرے میں تشریف لئے گئے۔ شیخ سیف الدین باخذری ایک لوٹا پانی لئے رات بھر حجرے کے دروازے پر کھڑے رات گزاری ۔ صبح جب شیخ باہر نکلے تو سیف الدین کو وہاں کھڑا پایا۔ فرمایا میں نے ہدایت کی تھی کہ آج رات سب آرام سے گزاریں۔ سیف الدین نے عرض کیا ۔ حضور ! میرے دل کو آج اس خدمت سے بہت آرام ملا ہے۔ شیخ نے فرمایا ۔ اے سیف الدین ! ایک خوشخبری سنو! کی تمہاری رکاب میں بادشاہ دوڑیں گے۔

ایک دن بادشاہ وقت شیخ سیف الدین سے ملنے آیا ۔واپس جاتے وقت کہا کہ میں نے اپنا گھوڑا حضور کی نذر کیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اپنے پاتھ سے جناب کو اس پر سوار کروں۔ آپ نے اسے قبول فرمایا۔ اور خانقاہ سے باہر آگئے۔ بادشاہ نے گھوڑے کا لگام تھام لیا اور آپ کو گھوڑے پر سوار کر لیا۔ ابھی آپ پوری طرح سوار نہیں ہوئے تھے کہ گھوڑا بدک گیا اور تیز دوڑنے لگا ۔ ساتھ ہی بادشاہ بھی گھوڑے کے ساتھ دوڑ پڑے۔

پچاس قدم کے فاصلے پر جا کر رک گیا ۔شیخ نے بادشاہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اس واقعے میں حکمت یہ تھی کہ ایک شب میں نے نجم الدین کبریٰ کی خدمت کی تھی۔ جس سے آپ کوس ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ تمہاری رکاب میں بادشاہ دوڑیں گے ۔آج آپ کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی ۔(۱۲)

شیخ نجم الدین کبریٰ سے مندرجہ صیل سلاسل صوفیہ متمسک ہیں جو کم وپیش اپ تک موجود ہیں۔

سلسلہ کبرویہ جندیہ جو شیخ بابا کمال جندی سے منسوب ہے۔

سلسلہ کبرویہ حمویہ جو شیخ شعودالدین حموی سے منسوب ہے۔

سلسلہ کبرویہ خلوتیہ جو شیخ محمد خلوتی کی طرف سے منسوب ہے۔

سلسلہ زاہدیہ سیاہ پوش جو شیخ جمال الدین گیلی سے منسوب ہے۔

سلسلہ کبرویہ باخزریہ جو شیخ سیف الدین باخزری سے منسوب ہے۔

سلسلہ کبرویہ نعمتہ لاھیہ جو شیخ نعمت اللہ ولی کرمانی سے منسوب ہے۔

سلسلہ کبرویہ شعاریہ جو شیخ عبداللہ شعاری سے منسوب ہے۔

سلسلہ کبرویہ ہمدانیہ میر سید علی ہمدانی سے منسوب ہے۔

سلسلہ کبرویہ ذھیہ شیخ عبداللہ بزرش آبادی سے منسوب ہے۔

مذکورہ بالا سلاسل دنیا کے اسلامی ممالک کے ہر حصے میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں ۔اس طرح کبرویہ کے حلقے بہت وسیع ہیں۔

نجم الدین کبریٰ کی شہادت

جب تاتاری فوج نے خوارزم شہر پر حملہ کیا تو چنگیز خان اور اس کی اولاد جو شیخ نجم الدین کبریٰ کے بلند مرتبے سے واقف تھے۔ آپ کی خدمت میں کہلوا بھیجا کی ہم خوارزم کے سلطان محمدشاہ کو قتل کرناچاہتے ہیں آپ یہاں سے نکل جائیں ۔مبادالہ کہ آپ کو کوئی تکیف پہنچ پائے ۔ آپ نے جوابا ً کہلوایا کہ زندگی کا بیشتر حصہ خورازمیوںکیساتھ گزاری ہے۔ مصائب اور تکالیف کے وقت لوگوں کو چھوڑنا مروت کے خلاف ہے۔ اورانہیں ہدایت کی کہ فوراً شہر سے بکل جائیں ۔اپنے تمام مریدون کو شہر سے باہر بھیج دیا ۔ چند مریدوں کو ساتھ لیکر آپ نے تاتاریوں پر حملہ کرنے کا ادارہ کرلیا۔ شیخ نے گوڈی پہنی،کمر باندہ لی اور بغل میں پتھر بھر لئے اور نیزہ پکڑ کر تاتاریوں پر حملہ آور ہوگئے ۔آپ ان پر پتھر برساتے اور نیزہ سے حملہ کرتے تھے ۔آخر ایک تیز سنسناتا ہوا آیا اور آپ کے سینے میں پیوست ہوگیا ۔ جس کے نتیجے میں آپ شہادت کے درجے پر فائز ہوگیا ۔یہ 10جنوری الاول18 6ھ کی تاریخ تھی (۱۴)

آپ کا مزار مبارک روس سے آزاد شدہ جمہوریہ ترکمانستان کے شہر خیوہ میں موجود ہے۔ اس بستی کا نام خوارزمیہ ہے۔

خلفاء ومریدین

آپ کے مریدین کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیونکہ آپ اسلامی ممالگ کے بہت سے ملکوں میں رہے اور ہر جگہ رشدوہدایت کے دریا بہاتے رہے ۔مصر ،شام ،عراق،ایران وسطی ایشیاء کے ملکوں میں آپ کے لاکھوں مرید تھے۔ جو آپ کے دست حق پر بیعت تھے مندرجہ ذیل مشائح آپ کے ممتاز مریدوں اور خلفاء میں شمار ہوتے ہیں حضرت شیخ رضی الدین علی الا،حضرت شیخ مجدالدین بغدادی ،حضرت شیخ سعدالدین جموی،شیخ نجم الدین رازی ،سیف الدین باخزری ،باباکمال جندی ،فرید الاین عطانیشاپوری ،جمال الدین گیلی ،شیخ محمدخلوتی رضوان اللہ ،علیھم اجمعین۔