تحریکِ نوربخشیہ کا دائرۂ اثر
نوربخشؒ کے جانشین
خاندانی و روحانی وراثت
نوربخشیہ دورِ مابعد میں
حوالہ جات

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک ِ نوربخشیہ اپنے دورکی مقبول ترین صوفی تحریک تھی ۔ یہاں لفظ ’سلسلہ‘کی بجائے ’تحریک ‘ کا استعمال وضاحت طلب ہے ۔
نوربخشؒ کے سلسلۂ طریقت کی ذیل میں بیان ہو چکا ہے کہ بزرگانِ سلسلۂ ذہب صرف ایک روحانی طریق کے پیرو نہ تھے بلکہ اس سلسلے کے اکثر بزرگ اپنے اپنے دور کے عظیم اہل ِ علم بھی تھے جنہوں نے تحقیق و تدریس اور تصنیف و تالیف کے میدان میں گراں قدر کام کیا اور ان کا علمی ورثہ اسلامی تصوف کا ایک گنج ِگراں مایہ ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ جنید بغدادی ؒ، شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ، شیخ احمد غزالی، ؒشیخ نجم الدین کبریٰ ؒ، شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒاور سید علی ہمدانی ؒنے علوم ِدین میں بیش بہا تحقیقات کیں اور روحِ اسلام کو صوفیانہ انداز میں پیش کیا ۔ یہ مسلک علمائے ظاہر کی افراط و تفریط سے کوسوں دُور تھا اور اتحاد بین المسلمین اور امن و محبت کا داعی تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی خاص فقہی مسلک کے ساتھ ممیز کرنا غیر ضروری سمجھتے تھے اور علوم ِدینیہ میں رسمی تقلید کی بجائے تحقیق کو اپنا شعار سمجھتے تھے ۔ پس سلسلۃ الذھب بذات ِ خود ایک فقہی دبستان کی صورت میں ابتدا سے ہی موجود تھا ۔ خصوصاً سلسلۂ کبرویہ تک پہنچتے پہنچتے یہ اعتدالی راستہ ایک واضح ہیئت ِوجودی کا حامل بن گیا تھا ۔ عالم ِاسلام کے دو اہم ترین مکاتب ِفکر یعنی اہل ِتشیّع و اہل ِسنّن کے درمیان موجود اصولی و فروعی اختلافات سے ہٹ کر سلسلۂ کبرویہ کے بزرگوں نے میانہ روی کا راستہ اختیار کیا اور معیار ِ عمل اسی ’ مجموعہ ٔشریعتِ محمدیہﷺ ‘ کو بنائے رکھا جو بلا کم و کاست سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہا ۔ یہ مذہب ’ مذہبِ صوفیہ ‘ کہلاتا تھا جس کی واضح شناخت کا اندازہ خود سلسلۂ ذہب کے بزرگوں کی تحریروں سے ہوتا ہے ۔ ان صوفیاء کرام کی وسیع المشربی علمائے سوء اور ٹھیٹھ ملاؤں کو چنداں پسند نہ آتی تھی اور یہ ان صوفیاء کے درپئے آزار رہتے تھے ، جیسا کہ ان بزرگوں کے حالات ِ زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے ۔ میر سّید محمد نوربخش ؒ کا مقام اس لحاظ سے منفرد ہے کہ انہوں نے اتحاد بین المسلمین اور رفع اختلاف کو امت ِمسلمہ کے لئے ایک خطرناک مرض قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لئے علمی اور عملی تحریک چلائی ۔ یعنی نہ صرف قلمی جہاد کیا بلکہ سیاسی قوت کے حصول کے ذریعے عالم ِاسلام کو افتراق اور انتشار سے نکال کر باہم متحد کرنے کی بھی کوشش کی ۔ اسی سبب سے آپ ایک طویل مدت تک تیموری بادشاہ مرزا شاہ رخ کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے اور آپ کے مرشد خواجہ اسحق ختلانی ؒ اسی (۸۰) کے قریب ساتھیوں سمیت اسی پاداش میں شہید کر دیئے گئے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نوربخشیت ایک صوفیانہ علمی اور سیاسی تحریک کے طور پر ابھری اور کچھ مدت تک ایران و عراق اور وسط ایشیاء کے علاقوں میں مقبول رہی ۔ بعد ازاں ان علاقوں میں مختلف سیاسی عوامل کے نتیجے میں یہ تحریک زوال پذیر ہوئی جبکہ کشمیر اور پھر بلتستان میں اس تحریک کو مقبولیت حاصل ہوئی ۔ کشمیر میں مرزا حیدر دوغلت کے ظلم و ستم کے نتیجے میں نوربخشیہ تقریباً ناپید ہوگئے مگر بلتستان لداخ اور دراس کے علاقوں میں ان علاقوں کی مخصوص جغرافیائی ہیئت کے باعث یہ تحریک ایک مخصوص فقہی مسلک اور سلسلۂ تصوف کی صورت میں گزشتہ پانچ صدیوں سے موجود اور محفوظ ہے اور اہلِ تحقیق کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔

خلفاءے سید محمد نوربخشؒ کے عنوان کے تحت میر سید محمد نوربخش ؒ کے اکثر مریدین اور خلفاء کے حالات کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے ۔ یہاں ہم تاریخی تناظر میں ان میں سے بعض بیانات کا اعادہ کریں گے تاکہ ایران میں نوربخشیت کی مربوط تاریخ یک جا ہو کر سامنے آئے ۔ دوسرے مرحلے میں ہم کشمیر میں نوربخشی تحریک کی مختصر تاریخ بیان کریں گے اور تیسرے مرحلے میں بلتستان میں نوربخشیت کی پانچ صدیوں پر محیط تاریخ کا اجمالی جائزہ لیں گے ۔

تحریکِ نوربخشیہ کا دائرۂ اثر

 

مسلک ِنوربخشیہ اپنے ابتدائی دور میں جن علاقوں میں مقبول و متداول تھا وہ عراق سے لے کر ماوراء النہر تک علاقے شامل ہیں جہاں آج کل وسطِ ایشیا کی آزاد مسلم ریاستیں قائم ہیں ۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کا مزار ِمبارک موجودہ تاجیکستان کے شہر کولاب ختلان میں ہے ۔ خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کا تعلق ختلان سے تھا اور انہی کی خانقاہ میں میر سید محمد نوربخشؒ کو خواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے اپنا مرشد بنایا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ اس نواح میں بدخشان ، ترمذ، کیس، قندوز اور بلخ جیسے علاقے نوربخشی اثر و نفوذ کے بنیادی علاقے تھے ۔ قہستان سید محمد نوربخش ؒ کی جائے پیدائش ہے اور ایران میں واقع ہے ۔ خراسان کے دیگر شہر جن میں نیشاپور ، غزنی ، ہرات ، رے اور گیلان اہم ہیں بعد ازاں نوربخشی تحریک کا مرکز بنے رہے ۔ لیکن اس تحریک کا اثر نفوذ عراق ِ عجم کے علاقوں لورستان شوستر، کرستان ، کردستان ، آذر بائیجان اور تبریز کے علاقوں میں بھی قائم ہوا ۔ یہی نہیں بلکہ نوربخش ؒ کے خلفاء و مریدین کے توسط سے ترکی ، مصر ، یمن ، ہندوستان اور کشمیر تک نوربخشیت کا پیغام پہنچا ۔
میر سید محمد نوربخشؒ کے خلفاء و مریدین کو مخصوص جغرافیائی علاقوں سے تعلق کی بنیاد پر پانچ گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ (1) ان میں سے اکثر افراد ختلان کی خانقاہ میں نوربخش ؒ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور انہوں نے خواجہ اسحق ختلانی ؒ کی وفات کے بعد میرؒ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی ۔ وسط ِایشیاء کے نواحی علاقوں میں نوربخشیہ کی مقبولیت میر سید محمد نوربحش ؒ کی زندگی کے ابتدائی دورمیں ان علاقوں میں سفر کے دوران پیدا ہوئی کیونکہ ۸۲۶ھ میں گرفتاری کے بعد آپ نے ان علاقوں کی طرف مراجعت اختیار نہ کی ۔
میر سید محمد نوربخشؒ کے مولد قہستان سے تیرہ مریدین کے ناموں کا پتہ چلتا ہے ان میں آپ کے وہ رشتہ دار بھی شامل ہیں جو قائن اور تون کے شہروں میں گئے ۔ جبکہ مریدین کے تیسرے گروہ کے توسط سے لورستان اور کردستان کے علاقوں میں نوربخشی اثر قائم ہوا جن میں جبال اور آذر بائیجان سے تعلق رکھنے والے سترہ مرید بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح گیلان میں آپ کے قیام کے نتیجے میں پینتس اہم ناموں پر مشتمل مریدین کا ایک چوتھا گروہ سامنے آتا ہے ۔ آخری گروہ میں رے سے پانچ ، قزوین سے دو اور سولغان سے ایک مرید کے نام کا پتہ چلتا ہے ۔ ان پانچ گروہوں کے علاوہ آپ کے حلقہ ٔ ارادت میں موجودہ ایران کے شہروںخراسان ، فارس ، خوزستان ،نیز بغداد ، بحرین ، روم ، غزنی ، دہلی اور ملتان سے تعلق رکھنے والے مریدین بھی شامل تھے ۔
آپ کے مرید محمد سمرقندی ؒمصنف اور شاعر تھے جنہوں نے شام ،مصر ، بلاد عربیہ اور روم کا سفر کیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابدال میں سے تھے ۔ سید محمدنوربخشؒ نے ترکی سے تعلق رکھنے والے قلندر بابا حسن کا بھی ذکر کیا ہے جو ترکی مست کے نام سے مشہور تھے۔ (2)
اپنی زندگی میں نوربخشؒ نے جن جن علاقوںمیں سفر اختیار کیا وہاں کثیر تعداد میں لوگ آپ کے عقیدت مند بنے ۔ان میں اکثر کا تعلق دور افتادہ قصبوں اور مضافات سے تھا ان مریدوں میں سے اکثر اہلِ علم اور اہل ِباطن تھے ۔
’رسالۃ الہدیٰ ‘ میں مندرج نوربخشؒ کے ۲۱۲ ساتھیوں کا ذکر قبل ازیں ہو چکا ہے رسالے کی تصنیف کے وقت ان میں سے ۸۲ کا انتقال ہو چکا تھا ۔ ان میں سے اکثر مریدین نے تحریک ِنوربخشیت میں اہم کردار ادا کیا ۔ (3)
’ صحیفۃ الاولیاء ‘ ایک اہم منظوم تذکرہ ہے جس میں نوربخش ؒ نے اپنے اکثر مریدوں اور خلفاء کا مختصر تذکرہ ہے ۔ صحیفۃ الاولیاء سے نوربخش ؒ کے مندرجہ ذیل مریدوں کے نام معلوم ہو تے ہیں :
۱۔خلفاء:
شیخ محمد فراقی سمرقندی ؒ، شیخ شمس الدین اسیری لاہیجی ؒ ، شمس الدین محمد بغلانی ؒ ، بایزید خلخالی ؒ۔
۲۔ مریدین :
شیخ محمد بن سعد الوندی المعر وف بہ پیر ہمدان ؒ ( پیشِ امام ِ نوربخش ؒ)، شیخ بہاؤ الدین کشمیری ( شاگردِ خواجہ اسحاق ختلانی ؒ ) ، شیخ اسحاق ملتانی ، ملک پہلوان غزنوی ، حاجی ولی واخستان ، فصیح الدین حصاری، مظفر الدین حصاری، ابراہیم وخستان، علی قہستانی ، محمد علی شاہ قہستانی ، علی بن بہاؤالدین قائنی، سید احمد قائنی، سید سلطان علی قائنی، سید زین العابدین بن سلطان علی ، سلطان اویس قائنی ، فخر الدین قائنی ، غلام قائنی ، جمال الدین قائنی ، علی اسودقائنی ، خواجہ چالاک قائنی ، محمد ناصر قائنی ، سید زین العابدین ہراتی المعروف بہ سیاہ پوش ، بابا حسن ہراتی ، عمر ساو ی ہراتی ، حاجی علی اسفرائنی ، بایزید اسفرائنی ، خواجہ ولی اسفرائنی ، سید ظہیر چہرم شیراز ، عبدالرحمن شیراز ، خواجہ احمد فرغانہ ، محمد شیرازی فرغانہ ، عزا لدین دہ علی شیرازی ، علی گلہ بان ، شمس الدین نائین ، صالحہ نائین، بابا محمد نائین ، حیدر رے ، جلال الدین رے ، جمال الدین رے ، محمد رے ، میرک خارکش سلطانیہ ، بابا علی سلطانیہ مقیم عراق، بابا حسین سلطانیہ ، رکن الدین ابدال سلطانیہ ،بابا حمزہ سلطانیہ ، حاجی علی تبریزی مقیم سلطانیہ ، شیخ احمد سلطانیہ ، رجب سلطانیہ ، شہاب الدین زرباد مزدقان ، یوسف زرباد ، بہاؤ الدین قروہ، شیخ تاج الدین قروہ ، محمد سوپر مقیم ہمدان، عیسیٰ حویزہ ، احمد حویزہ ، شہاب الدین عمر خوزستان ، شبلی ویلم ، محمود سمنانی ، سید… ابن ہادی ماژندران ، صوفی علی ماژندران ، قاضی حسین ماژندران، قاسم فیض بخش قہستان ( پسرِ نوربخش ؒ) ، مادرِ قاسم ( زوجۂ نوربخش ؒ) ، فخر النساء ( دخترِ نوربخش ؒ) ، خیر النساء ( دخترِ نوربخشؒ) ، علاؤ الدین علی کیا قہستان، دختر علی کیا قہستان، محمد رشت گیلان ، حمزہ گیلان، شیخ صفی سندھ ، عبدالرحیم روم ترکی ، … سہروردی ، شاہ حسینی تبریز ، شعبان شیروان ، محمد مکاشف شیروان ۔(4)
نوربخش ؒ نے خواجہ اسحق ختلانی ؒکے علاوہ خواجہ اسحاق ؒکے ساتھی محمود الکامل کو بھی تصوّف اور حدیث میں اپنا استاد قرار دیا ہے ۔ بعض دوسرے مرید بھی تھے جو اپنے اپنے حلقوں میں پہلے ہی مدرس و مرشد تھے اور انہوں نے میر ؒ کو اپنا رہنما تسلیم کیا تھا ۔ ان میں خلیل اﷲ بن رکن الدین بغلانی ، اسحق بن یوسف طالقانی ، محمد بن علی بن بہرام قائنی ، علاؤالدین نونداکی اور حسین بدخشی شامل تھے ۔ دوسرے اصحاب جو براہ راست نوربخشؒ کے مرید بنے اور ان کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے ان میں علاء الدین کیااور شہاب الدین جورانی نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ نوربخشؒ کے مریدوں خامس بلخی اور احمد شیرازی نے بروجرد اور شیراز میں بھی تعلیم و تدریس کی ۔ نوربخشؒ نے اپنے مریدوں کاذکر نہایت محبت سے کیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اہل ِنوربخشیہ ایک کنبے کے افراد کی طرح باہمی محبت اور بھائی چارے کی فضا میں رہتے تھے ان کا مشترک مقصد دین تھا ۔ جبکہ ان کے کوئی عام سیاسی یا عسکری عزائم نہ تھے ۔ (5)
واپس اوپر جائیں
واپس اوپر جائیں

نوربخشؒ کے جانشین

 

نوربخش ؒ کی وفات کے بعد ان کے اہل ِخاندان اور مریدین دونوں نے ان کے علمی ورثے کو عام کیا ۔ نوربخشؒ کے بعد بنیادی طور پر ان کا سلسلہ شاہ قاسم فیض بخش ؒکے توسط سے چلا ۔ شاہ قاسم فیض بخش ؒ کے حالات کا بیان پہلے ہی گزر چکا ہے ۔اپنے والدِ گرامی کی وفات کے بعدفیض بخشؒ نے سولغان کی خانقاہ میں رشد و ہدایت کا سلسلۂ جاری رکھا جبکہ دیگر مریدوں نے ایران کے مختلف علاقوں کی طرف سفر اختیار کیا ۔ آج بھی ایران بھر سے نوربخشؒ کے تمام مرید ۱۵ ربیع الاول کو ان کے عرس کے موقع پر سولغان میں جمع ہو جاتے ہیں ۔
شاہ قاسم فیض بخش ؒ کے علاوہ سلسلۂ نوربخشیہ کی اشاعت سید محمد نوربخشؒ کے مریدوں سید محمد بن علی طالقانی ؒ، محمد بن سعد ہمدانی المعروف پیرہمدانؒ اور شمس الدین لاہیجی ؒکے توسط سے ہوئی ۔ ان میں سے سید محمد کا ذکر نوربخش ؒ نے اپنے مرید کے طور پر اور علی محبی نے اپنے شیخ کے طور پر کیا ہے ۔ محمد بن سعد ہمدانی ؒکے متعلق بہت کم معلوم ہے اگرچہ میر ؒ نے اپنی تصانیف معراجیہ اور صحیفۃ الاولیاء میں ان کی روحانی استعداد کو خوب سراہا ہے ۔ ابن الکربلائی کے بیان کے مطابق وہ تبریز گئے اور ان کے شاگرد خواجہ فقیہ زاہد نے اسی شہر میں ایک خانقاہ قائم کی تھی ۔ نوربخشی سلسلہ خواجہ فقیہ کے جانشین پیر حسین کردگار کی ۱۱۱۹ میں وفات تک قائم رہا ۔
شمس الدین لاہیجی ؒجو میر نوربخشؒ کے مرید تھے اپنی تصنیف ’ مفاتیح الاعجاز فی شرح گلشن راز ‘ کے حوالے سے جانے جاتے ہیں جو محمود شبستری کی نظم ’گلشن راز ‘ کی عارفانہ تشریح ہے ۔ شوستری کے بیان کے مطابق لاہیجی ؒنوربخشؒ کی وفات کے بعد شیراز گئے اور وہاں خانقاہِ نوریہ قائم کی ۔ فارس کی فتح کے موقع پر شاہ اسماعیل اول نے اس خانقاہ میں لاہیجی ؒ کی زیارت کی ۔ لاہیجی ؒنے سفر ِحج بھی اختیار کیا اور واپسی پر یمن کا سفر بھی کیا اس طرح سلسلۂ نوربخشیہ یمن میں بھی پہنچا جہاں لاہیجی ؒنے ایک مقامی شیخ کو خرقۂ تصوف عطا کیا ۔
لاہیجی ؒنے ۹۱۲ھ میں شیراز میں وفات پائی ۔ ان کے بعد ان کے فرزند احمد جو شیخ زادہ لاہیجی ؒکے نام سے مشہور ہوئے ان کے جانشین بنے۔ شیخ زادہ لاہیجی ؒشاعر بھی تھے اور فدائی تخلص کرتے تھے ۔ شاہ اسماعیل نے انہیں وسط ِایشیا میں محمد خان سائبانی کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا جہاں بہت سے مقامی علماء سے انہوں نے علمی مباحثے کئے ۔ اس مشن سے شیراز واپسی کے بعد انہوں نے ۹۲۷ ھ میں وفات پائی اور خانقاہ ِنوریہ میں مدفون ہوئے ۔ شوستری کے بیان کے مطابق احمد لاہیجی ؒکے فرزند ابوالقاسم بصیر خود شوستری کے دادا کے استاد تھے اور شمس مرزا نے ان کے داماد قاضی عبداﷲ یقینی کے کچھ اشعار بھی نقل کئے ہیں ۔ اسی توسط سے قاضی نوراﷲ شوستری خود بھی شیراز میں نوربخشیہ کے عقیدت مندو ں میں سے تھے ۔ (6)
نوربخش ؒ کے اہل ِ خاندان کے علاوہ دیگر ارادتمندوں کی تحریروں میں ان کا ذکر ِخیر نہایت احترام کے پیرائے میں ہوا ہے ۔ علی محبی ؒکے ’سلسلۂ نامہ ‘ میں میرؒ کا تذکرہ ان کے اپنے استاد کے استاد کے طور پر ہوا ہے ۔ لاہیجی ؒنے بھی اپنی تمام تصانیف میں میرؒ کا ذکر عقیدت کے ساتھ کیا ہے اور مخصوص روحانی کیفیت میں آپ کے بعض ارشادات کو حلاج اور شبلی کا مماثل قرار دیا ہے ۔

خاندانی و روحانی وراثت

 

میر سید محمد نوربخشؒ کے اہل ِخاندان کا مختصر تذکرہ اس سے قبل گزر چکا ہے جس میں خاص طور پر شاہ قاسم فیض بخش ؒ کے حالات کی تفصیل فراہم کر دی گئی ہے ۔ اس بیان کا مختصر خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے تاکہ قارئین کو سیاق و سباق اور واقعات کے تاریخی تسلسل کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو ۔
شاہ سید نوربخشؒ کے تین صاحبزادے سعد الحق الکبیر ، شاہ قاسم فیض بخش ؒ اور جعفر ؒ اور دو صاحبزادیاں فخر النساء اور خیر النساء تھیں۔ نوربخشؒ نے ’ صحیفۃ الاولیاء ‘ میں ان کے روحانی مقام کی تعریف کی ہے ۔ (7) آپ کے بڑے صاحبزادے سعد الحق نے جوکم عمری میں ہی علومِ ظاہری میں متبحر ہونے کے ساتھ ساتھ تجلیات اور کرامات میں بھی کامل ہوئے تھے ،چودہ سال کی عمر میں وفات پائی ۔
فیض بخش ؒ کی تاریخ ِ ولادت معلوم نہیں لیکن نوربخشؒ کے بیان کے مطابق انہوں نے ۸۵۹ھ میں ہی رشد و ہدایت کا آغاز کر دیا تھا ۔ نوربخشؒ نے ان کے روحانی مرتبے کے علاوہ نجوم ، فراست ، قیافہ اور تعبیر ِ رویا کی اعلیٰ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے ۔ نوربخش ؒ کی وفات کے بعد فیض بخش ؒ کے حالات مقامات ِجامی ، مجالس المؤمنین ، نفائس الماثر اور صفوی دور کی ابتدائی کتب ِ تواریخ سے معلوم ہوتے ہیں ،جن سے آپ کے ہرات میں حسین بیقرا اور تبریز میں سلطان یعقوب کے دربار میں رسائی کا علم ہوتا ہے لیکن مدت قیام کا قطعی طور پر اندازہ نہیں ہوتا ۔ شوستری کے بیان کے مطابق سلطان حسین نے آپ کو ہرات میں سلطان یعقوب کے دربار سے خط لکھ کر بلایا تھا ۔ اندازہ ہوتا ہے کہ شاہ رخ کی وفات کے بعد آلِ تیمور کی نوربخشیوں سے دشمنی ختم ہو گئی تھی ۔ سلطان حسین کے دربار میں شاہ قاسم ؒ کی قدرومنزلت ، ملاجامی اور دیگر علماء کے آپ سے اختلافات اور شاہ قاسم ؒکے ہرات چھوڑنے کے واقعات کا بیان آگے گزر چکا ہے ۔ نوربخش ؒ کے چھوٹے بیٹے جعفر کے سلطان حسین بیقرا کے دربار میں آنے اور پھردربار ِ شاہی سے کنارہ کش ہو کر خوزستان روانہ ہونے کا حال بھی مذکور ہو چکا ہے ۔ علی شیر نوائی کے بیان کے مطابق میر جعفر اچھے شاعر تھے ۔ غالب گمان یہ ہے کہ میر جعفر نے ۹۰۹ھ کے لگ بھگ وفات پائی ہوگی ۔
نوربخشؒ کے پوتے بہاؤالدولہ ( یا بہاؤالدین؟) نے بھی اپنے والد کی طرح ہرات کا رخ کیا اور سلطان کے دربار میں رسائی پانے کے بعد خواجہ افضل الدین محمدکرمانی کی خانقاہ میں قیام پذیر رہے ۔ بعد ازاں وہ شاہ اسماعیل کے دربار سے بھی دو یا تین برس منسلک رہے لیکن بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بناپر فیض بخش ؒ کی زندگی میں ہی قتل کر دیئے گئے ۔ بہاؤالدولہ طب میں استعداد رکھتے تھے اور ’ خلاصۃ التجارب ‘ نامی کتاب انہی کی تصنیف ہے ۔ بہاؤالدولہ کے صاحبزادے شاہ رضا نوربخش ؒ ایک قادر الکلام شاعر تھے ۔
فیض بخش ؒ کے بعد ان کی روحانی میراث ان کے صاحبزادے شمس الدین ؒ کو اور ان کے بعد قوام الدین محمد کو منتقل ہوئی ۔ قوام الدین محمد نے فیض بخش ؒ کی زندگی میں ہی سیاسی اثر رسوخ حاصل کیا تھا اور سولغان میں ایک قلعہ بھی تعمیر کیا تھا ۔ شاہ طہماسپ نے ان کے اس اثر و رسوخ سے خائف ہو کر انہیں رجب ۹۴۴ھ ( مطابق دسمبر ۱۵۳۷۔ جنوری ۱۵۳۸ئ) میں مختصر قید کے بعد قتل کروا دیا ۔ قوام الدین کی وفات کے بعد ایران میںنوربخشیہ کا ایک سیاسی طور پر مقتدرصوفی سلسلے کی حیثیت سے عمل دخل عملاً ختم ہو گیا اور بعد کے نوربخشیوں نے اپنے آپ کو صرف روحانی سرگرمیوں تک محدود کر لیا ۔ شاہ قوام الدین کے برادر ِ بزرگ شاہ صفی الدین کا ذکر تذکروں میں ملتا ہے ۔ وہ ایک صوفی شاعر تھے اور حج بیت اﷲ کے علاوہ پیرانہ سالی میں مشہد ِمقدس کی زیارت بھی کی ۔ شاہ قوام الدین کے بعد خاندانی وراثت شاہ قاسم ثانی کو پہنچی جن کو شاہ طہماسپ کے دربار میں عزت و احترام کا مقام حاصل تھا ۔ ان کے بعد یہ یہ روحانی میراث امیر سید محمد کو پہنچی ۔
نوربخش ؒ کے کچھ اور اہل خاندان کا ذکر بھی تذکروں میں آیا ہے مگر ان کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں ہوتیں ۔ ان میں امیر سعدالحق نصیبی( جو یزد میں مقیم تھے ) ، فکری نوربخشی اسیری ( جنہوں نے شاہ طاہر کے ساتھ تعلیم کے لئے دکن کا سفر اختیار کیا ) شاہ حسام الدین نوربخشی اور ان کے فرزند مرزا محمد تقی ( جن کے دو بیٹے مرزا شاہ حسام الدین اور مرزا شاہ ناصر تھے ) شامل ہیں ۔
صفوی دورکے تذکروں میں نوربخش ؒ کے دیگر معتقدین کا ذکر بھی پایا جاتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سولھویں صدی کے صفوی عہد میں نوربخشی ہونا عزت و توقیر کا باعث سمجھا جاتا تھا ۔ (8)
واپس اوپر جائیں

نوربخشیہ دورِ مابعد میں

 

وقت کے گزرنے کے ساتھ تحریک ِنوربخشیہ کی دو جہتیں بن گئیں ۔ ایک طرف ایرانی دنیا تھی جہاں اس تحریک کی منظم سرگرمیاںصفوی عہد کی پہلی صدی میں ہی معدوم ہو گئیں اگرچہ اس تحریک سے منسلک افراد انفرادی حیثیت میں اپنے عقائد پر قائم رہے ۔ جبکہ دوسری طرف کشمیر اور بلتستان میں یہ تحریک ایک مستقل مسلک کی حییثت سے پہچانی جانے لگی جس کا سہرا میرقاسم فیض بخشؒ کے مرید میر شمس الدین عراقی ؒ کے سر ہے ۔ ذیل میں ہم پہلے ایران کے ان نوربخشی افراد کا ذکر کرتے ہیں جو بعد کے ادوار میں بھی اس مسلک کے عقائد سے فکری طور پر وابستہ رہے ۔
پندرھویں صدی میں بھی ایران کے مختلف صوبوں میں نوربخشیوں کا سراغ ملتا ہے ۔ صفوی عہد کے تذکروں میں بہت سے نوربخشی شعرا کے نام آتے ہیں جن میں قاضی عبداﷲ یقینیؔاور قاضی یحییٰ، حافظ آثار ، خواجہ فتح اﷲ قزوینی وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔ علی رضا مرزا بابا نوربخشی شیرازی سے منسوب ایک تصنیف ’ فالنامہ ‘ آج بھی دستیاب ہے ۔
صفوی دور میں بہاؤالدین آملی ( متوفی ۱۰۳۰) اور ملا محسن فیض کاشانی ( متوفی ۱۰۹۱ھ) بھی نوربخشی مسلک کے پیروکار تھے ۔ ان دونوں کے استاد محمد مؤمن سدیری تھے جو شاہ قاسم فیض بخش ؒ کے سلسلے کے خلیفہ ہیں ۔ محمد باقر مجلسی کے علاوہ طاہر قمی ( متوفی ۱۰۹۸ھ) نے جو صوفیوں کے مخالف ہیں اپنے دور کے صوفیوں کو نوربخشی گردانا ہے ۔ (9) طاہر قمی نے نوربخشیہ کو اس عہد کا مقبول ترین صوفی سلسلہ قرار دیا ہے اور سلسلۂ کبرویہ کے بزرگوں علاؤالدولہ سمنانیؒ ، نجم الدین کبریٰ ؒ، احمد غزالیؒ ، معروف کرخیؒ ، سری سقطی ؒ اور جنید بغدادی ؒ وغیرہ کو بھی نوربخشی شمار کیا ہے ۔
سولھویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے عہد میں تصوف پر لکھنے والوں نے نوربخشیہ کو غلطی سے خلوتیہ کی شاخ سمجھ لیا ہے (10) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ عہدِعثمانیہ میں نوربخشیہ قدرے غیر معروف ہو گیا تھا مگر اس کااثر و نفوذ موجود تھا۔ باور کیا جاتا ہے کہ میرمحمد نوربخشؒ کے شاگرد شیخ محمد سمرقندی ؒ روم کے ابدال میں سے تھے اور نوربخشؒ کی زندگی میں ہی اناطولیہ منتقل ہو گئے تھے ۔ ممکن ہے کہ نوربخشی عقائد ابدال میں بھی مقبول رہے ہوں ۔ یہ بات قابل ِتوجہ ہے کہ نوربخشؒ کی تصانیف کے نسخے ترکی کے شہر استنبول میں آج بھی محفوظ ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ نوربخشی عقائد استنبول اور بصرہ میں بھی پھیل گئے تھے کیونکہ سلطنتِ عثمانیہ کے زیر ِنگیں کرد علاقوں اور ایرانی کردستان شیروان او ر آذر بائیجان کے درمیان قریبی روابط تھے یہی امر نوربخشیہ اور خلوتیہ کو غلطی سے خلط ملط کرنے کا بھی باعث بنا ۔
آنے والے دور کے صوفی تذکروں پر نوربخش ؒ کا اثر ان کی کتابوں مثنوی صحیفۃالاولیاء اور شجرہ الوافیہ فی ذکر المشائخ صوفیہ ( مشجر الاولیاء فی ذکر مشائخ سلسلۃ الذہب؟ ) کے توسط سے قائم رہا ۔ ان کتابوں کو قاضی نوراﷲ شوستری ، ابن الکربلائی ، اورمعصوم علی شاہ وغیرہ نے نوربخش ؒ کی تصانیف قراردیتے ہوئے ان کے حوالے نقل کئے ہیں ۔ ابن الکربلائی نے نوربخش ؒ کی تصنیف ’ سلسلۃ الاولیاء ‘ کا بھی حوالہ نقل کیا ہے اور نوربخش کا حوالہ دیئے بغیرعقیدہ ٔ بروز کی بھی تشریح کی ہے ۔ ’ دبستان ِمذاہب ‘ میں جو ۱۰۶۳ھ اور۱۰۶۹ھ کے درمیانی عرصے کی تصنیف ہے بروز کے عقیدہ کو نوربخشیہ سے خصوصی طور پر منسوب کیا گیا ہے ۔ (11)
منشی عزیز الدین فوق نے چترال کے علاقے میں بھی نوربخشیوں کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے ۔(12) تاہم غالب امکان یہ ہے کہ اب نوربخشی تبدیلی ٔ مذہب کر چکے ہیں اگرچہ ان کی خانقاہ کی موجودگی اور تہجد کی اذان کے رواج کی اطلاع ملی ہے ۔
صفوی اور عثمانی دور میں نوربخشیوں کے ان تذکروں کے علاوہ معصوم علی شیرازی نے ’ طرائق الحقائق ‘ میں جو ۱۳۱۳ ھ میں مکمل ہوئی فیض بخش ؒکے مرید حاجی حسین ابرقوہی سے خود مصنف کے دور تک نوربخشیہ کا مکمل سلسلہ درج کیا ہے ۔ اس سلسلے میں نمایاں ترین نام عبدالرحیم بن یوسف دماوندی ( مصنف مفتاح اسرار الحسینی ) ، حاجی عبدالوہاب نائنی ( متوفی ۱۲۱۲ھ) اور ان کے مرید حاجی مرزا عبدالقاسم شیرازی المعروف سکوت وغیرہ ہیں ۔ عہد ِحاضر کے ایرانی صوفی جعفر صدقیانلو نے بھی ’طرائق الحقائق ‘ میں موجود اسی نوربخشی سلسلے کو نقل کیا ہے اور اسے اپنے شیخ شاہ مقصود صادق عنقا تک پہنچایا ہے جو انقلاب ایران سے قبل ایران میں فعال تھے ۔ انقلاب کے بعد شیخ عنقا کی صوفی تنظیم نے اب شیخ کی صاحبزادی ناہید عنقا کی زیر سرپرستی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں اپنا مرکز قائم کر لیا ہے اور شاہ مقصود کی کئی تصانیف کا انگریزی ترجمہ شائع کروایا ہے ۔ (13)
ایران میں نوربخشیہ کے پیروکار میر سید محمد نوربحش ؒ سے منسوب کئے جانے والے دعویٰ ٔمہدویت کے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں ،چنانچہ جدید ایرانی نوربخشی محقق جعفرصدقیانلو نے بھی اس الزام کو بالکل باطل قرار دیا ہے ۔ سولھویں صدی کے بعد کے ایرانی نوربخشی تصوف اور تشیع کے درمیانی عقیدے پر کاربند نظر آتے ہیں ۔ (14)
واپس اوپر جائیں

حوالہ جات


مقالۂ شہزاد بشیر (ص۱۱۲)
صحیفۃ الاولیاء قلمی (ص۱۳)
مقالۂ شہزاد بشیر (ص ۱۱۷)
صحیفۃ الاولیاء قلمی ( ص ۱ تا ۲۶)
مقالہ شہزاد بشیر (ص ۱۱۷)
مقالۂ شہزاد بشیر (ص ۱۱۹)
صحیفۃ الاولیاء ( ص۲۲، ۲۳)
مقالہ ٔ شہزاد بشیر ( ص۱۲۸)
انسائیکلوپیڈیا آف اسلام جلد دوم ( ص ۱۳۶)
انسائیکلو پیڈیا آف اسلام جلد دوم ( ص ۱۳۶)
مقالۂ شہزاد بشیر (ص ۱۳۲)
تاریخِ چترال ( ص ۲۶)
انٹر نیٹ ویب سائٹ www. Shah Maghsoudi. com
مقالۂ شہزاد بشیر (ص۱۳۳)