عنوان ِبالا عنوانِ سابقہ یعنی ’ نوربخشیہ نوربخش کے بعد ‘ کا ذیلی موضوع ہے ، لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے ایک مستقل باب کی حیثیث دی گئی ہے ، جس کے اسباب درج ذیل ہیں :

  • کشمیر و بلتستان میں سلسلہ ٔ نوربخشیہ کی تاریخ کے بارے میں کوئی مبسوط تصنیف موجود نہیں ہے ، جس کے باعث یہ طویل عہد تاحال پردۂ اخفا میں ہے ۔صرف ’تحفۃ الاحباب ‘ کے قلمی نسخے سے جو محمد علی کشمیری مرید ِشمس الدین عراقی بت شکن کی تصنیف ہے ، ابتدائی دور کا کچھ حال معلوم ہوتا ہے ۔
  • بلتستان کے مخصوص جغرافیائی حالات کے باعث مسلک ِ نوربخشیہ پانچ سو سال گزر جانے کے باوجود تقریباًاپنی اصلی حالت میں موجود ہے ، جو مذہب ، تاریخ ، عمرانیات اور بشریات کے محققین کے لئے دلچسپی کا باعث ہے ۔
  • علم ِ بشریات کے محققین کے لئے ایک اور دلچسپی کی بات بلتستان کے نوربخشیوں کی وہ مخصوص انسان دوستی اور امن و آشتی کی حامل نفسیات بھی ہے جس میں اسلامی تصوف کے ایک معتدل نظریے کے علاوہ قدیم بدھ مت اور بون مت کے اثرات کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔مؤخر الذکر پہلو ہمارے دائرہ ٔ بحث سے باہر ہے ۔

ہم اس باب کا آغاز کشمیر میں نوربخشیہ تحریک کی سرگرمیوں سے کرتے ہیں جن میں کلیدی کردار شاہ قاسم فیض بخشؒ کے مرید اور خلیفہ میر شمس الدین عراقی بت شکن ؒ کا ہے ۔

میر شمس الدین عراقی بت شکن ؒ

یر شمس الدین عراقی ؒ کا شجرۂ نسب یوں ہے ۔ (1)
میر شمس الدین محمد بن شیخ ابراہیم بن خواجہ علی بن شیخ صدرالدین بن شیخ صفی الدین اردبیلی ۔ یہ شجرۂ نسب اکیس واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ سے جا ملتا ہے ۔ (2)
اردبیل آذربائیجان میں ایک واقع ایک گاؤں کا نام ہے اور خاندان صفوی شیخ صفی الدین اردبیلی سے منسوب ہے۔ شیخ صدرالدین امیر تیمور کے ہمعصر تھے ۔ میر شمس الدین عراقی کی تاریخ ولادت معلوم نہیں لیکن ’ تحفۃ الاحباب ‘ کے مصنف کے مطابق ۹۳۲ھ میں وفات کے وقت آپ کی عمر ننانوے برس تھی ۔ محققین نے آپ کا سالِ ولادت ۸۸۶ھ، ۸۳۳ھ اور ۸۲۶ ھ لکھا ہے ۔ ’ بوق بوق نامہ ‘ میں آپ کی عمر شریف ۱۰۶ برس اور سال ِ وفات ۹۳۲ھ لکھا ہے جس سے سنِ ولادت ۸۲۶ھ ثابت ہوتا ہے ۔
صاحب ِ ’ تحفۃ الاحباب ‘ کے مطابق میر عراقی ؒ بچپن میں اپنے والد کے ہمراہ میر نوربخش ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔ میر عراقی ؒ کے والد نے ضعف ِ پیرانہ سالی کے باعث امور ِ خانہ کی ذمہ داری عراقی ؒ پر عائد کر رکھی تھی۔ عراقی ؒ چاہتے تھے کہ نوربخشؒ کے حلقہ ٔ ارادت سے فیض یاب ہوں مگر میرؒ نے نصیحت کی کہ اپنے والد کی خدمت کرو کیونکہ والدین کی خدمت سے سعادت ِ دارین نصیب ہوتی ہے ۔ ریاضت و مجاہدہ کے لئے ابھی وقت پڑا ہے اگر زندہ رہا تو انشاء اﷲ میں خود تمہاری تربیت کروں گا ورنہ تم میرے خلفاء اور درویشوں سے مستفیض ہو گے ۔
چنانچہ اس فرمان کے مطابق میر نوربخشؒ کی وفات کے بعد عراقی ؒ نے میر ؒ کے مشہورخلفاء کے آگے زانوئے ادب تہہ کیا ۔ اس سلسلے میں آپ پہلے شیخ محمود بحری ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو میرؒ کے مریدوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ دوسال سلسلہ تلمذقائم رہنے کے بعد شیخ محمود بحری ؒ نے وفات پائی اور عراقی مولانا حسین کوکئی ؒ کی خدمت میں پہنچے یہ بھی نوربخش ؒ کے بڑے خلفاء میں سے تھے ۔ مولانا حسین کوکئی ؒ شاہ قاسم فیض بخش ؒ اور دوسرے فرزندوں کی تعلیم وتدریس پر مامور تھے اور آپ نے فقہ ٔاحوط کا فارسی ترجمہ بھی کیا تھا ۔ مولانا کوکئی ؒکے ہاں میر شمس الدین عراقی ؒ تین سال تک ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے جب مولانا کوکئی ؒ بھی وفات پا گئے تو آپ شیخ محمود سفلی ؒکی خدمت میں پہنچے ۔ شیخ محمود سفلی ؒ میر سید محمدنوربخشؒ کے مشہور خلیفہ حضرت پیر حاجی محمد بحرآبادی کے مرید تھے ۔ میر عراقی ؒ ان کی وفات تک اگلے دو برس ان کی خدمت میں مصروف ِ ریاضت رہے ۔ اس کے بعد عراقی ؒ مولانا برہان بغدادی ؒ کی خدمت میں پہنچے ۔ یہ بھی میر نوربخش ؒ کے کامل ترین خلفاء میں سے تھے ۔ مولانا برہان الدین ؒ کی اجازت سے شیخ محمد بن علی لاہیجی اسیری ؒ کی طرف متوجہ ہوئے ۔ شیخ لاہیجیؒ ان دنوں شیراز میں ’’ منزل اسرارِ الہی ‘‘ میں مقیم تھے ۔ میر عراقی نے لاہیجیؒ کی صحبت میں اتنی ریاضت کی کہ اطوار سبعیہ قلبیہ اور انوار متنوعہ غیبیہ نفسی ، قلبی ، روحی ، سری ، خفی اور غیب الغیوب میں سیروسلوک کرنے لگے ۔ چھ سال مسلسل ان کی خدمت میں رہ کر ریاضت کی ۔ ساتویں سال شیخ لاہیجیؒ نے حسب معمول حضرت شاہ قاسم فیض بخشؒ کی خدمت میں حاضرہونے کا ارادہ کیا تو میر عراقی کو بھی ہمراہ کر لیا ۔ شاہ قاسم نے میر عراقی ؒکے ادب و خدمت سے متاثر ہو کر شیخ لاہیجی ؒسے التماس کیا کہ عراقی ؒ کو ان کی خدمت میں رہنے کی اجازت دی جائے ۔ شیخ لاہیجیؒ نے اسے قبول کیا اور میر عراقی کو فیض بخشؒ کی خدمت میں چھوڑ گئے ۔ عراقی ؒ نے شاہ قاسم فیض بخش ؒ کی خدمت میں رہ کر راہ ِ طریقت میں اپنا مطلوب و مقصود پالیا ۔ ان کے دل کو اطمینان حاصل ہوا اور اتنی ترقی کی کہ اولیائے عظام کے مدارج پر پہنچے ۔ شاہ قاسمؒ نے آپ کو شمس الدین کا لقب عطا فرمایا اور توبہ و بیعت کی اجازت دے دی اور اپنے فرزند شاہ شمس الدین کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری بھی میر عراقی ؒ کے سپرد کی ۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا ہے کہ فیض بخش ؒ کے دور میں ہرات میں سلسلۂ نوربخشیہ کو بہت عروج حاصل ہوا ۔ والی ٔ ہرات سلطان حسین مرزا نے فیض بخش ؒ سے ہرات آنے کی درخواست کی اور خود اور خاندان ِشاہی کے دیگر افراد جن میں شاہزادہ مرزاکیجک خصوصیت سے قابل ِ ذکر ہیں ، فیض بخش ؒ کے حلقہ ٔ ارادت میں داخل ہوئے ۔ سلطان حسین ایک مہلک مرض میں مبتلا تھے اور فیض بخش ؒ ان کی طبابت پر مامور تھے ۔ سلطان حسین کو جب بھی کسی نئی دوا یا جڑی بوٹی کے بارے میںمعلوم ہوجاتا تو اس کے حصول کی کوشش میں تاخیر نہ کرتے ۔ چنانچہ انہی دنوں جب انہیں معلوم ہوا کہ کشمیر اور تبت کے پہاڑو ں میں نہایت قیمتی جڑی بوٹیاں ہیں تو ان کو شوق پیدا ہوا کہ کسی سفیر کو کشمیر بھیج کر یہ جڑی بوٹیاں حاصل کی جائیں ۔ سلطان نے معاملہ فیض بخش ؒ کی خدمت میں پیش کیا ۔ انہی دنوں خراسان پر سلطان یعقوب کے حملے کی افواہ ہرات میں پھیل گئی تھی۔ تحقیق ِ احوال کی مہم پر میر شمس الدین عراقی ؒ ہی کو بھیجا گیا جنہوں نے یہ فریضہ بخوبی سرانجام دیا چنانچہ فیض بخش ؒ کو مذکورہ کام کے لئے بھی میر شمس الدین عراقی ؒ سے زیادہ موزون شخص نظر نہ آیا ۔ ادھر مشیّتِ ایزدی بھی یہی تھی کہ میر شمس الدین کے توسط سے کشمیر کے حق جوُ جن میں بابا علی بحاری وغیرہ شامل تھے ، پیرِکامل کی صحبت سے فیضیاب ہوں چنانچہ میر شمس الدین عراقی ؒ اپنے مرشد شاہ قاسم فیض بخشؒ کے حکم پر ۸۸۸ھ ( بمطابق ۱۴۸۳۔ ۱۴۸۴ ئ) میں عازم ِکشمیر ہوئے ۔ اس وقت کشمیر میں سلطان حسن شاہ حکمران تھا ۔ سلطان حسین نے حسن شاہ کے مراسلات کے علاوہ قیمتی تحائف جن میں ایک نہایت بیش قیمت پوستین بھی شامل تھی ، میر عراقی ؒ کے ہمراہ روانہ کئے ۔ میر عراقی ؒ قندھار کے راستے کشمیر روانہ ہوئے ۔ جب ہندوستان کے شہر ملتان پہنچے تو یہاں ایک ماہ قیام کیا ۔ ملتان میں ایک سید نے اپنی بیٹی جن کا نام بیجہ آغا تھا ، میر صاحب کے عقد میں دے دی ۔ اس وقت میر عراقی ؒ کی عمر پچپن برس تھی ۔ میرعراقی ؒ بیجہ آغا کو ہمراہ لے کر ہری پور کے راستے ۸۸۸ھ میں کشمیر پہنچے اور سلطان حسن کے دربار میں پہنچ کر خطوط اور تحائف سلطان کے حوالے کئے ۔ سلطان سیر وشکار کا شوقین تھا ۔ مرغابیوں کے شکار کا موسم آیا تو امرا ء کے ہمراہ کشتیوں پر جھیل ولر کی سیر کا ارادہ کیا اور میر عراقی ؒ کو جو صرف ایک ایلچی کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے اس شکار میں شرکت کی دعوت دی ۔ اکابرین ِ شہر جن میں حاجی شمس اور حاجی حسن بھی شامل تھے میر عراقی ؒ کے ہمراہ تھے اور علم و فضل کے حامل تھے ۔ ان حضرات کو کشتی کے سفر کے دوران اندازہ ہوا کہ میر عراقی ؒ صرف ایک ایلچی نہیں بلکہ پہنچے ہوئے ولی ہیں ۔ ان حضرات کے استفسار پر میر عراقی ؒ نے سلسلہ ٔ نوربخشیہ سے اپنی نسبت کے بارے میں بتایا اور اپنی آمد کی غرض وغایت سے آگاہ کیا ۔ میر عراقی ؒ ابتداء میں خانقاہ ملک احمد رینو میں مقیم ہو گئے تھے ۔ رفتہ رفتہ آپ کی خدمت میں اہل ِشہر کی آمدورفت بڑھنے لگی جن میں حضرت بابا علی بحاری ، ملا محمد امام ، صوفی جمال ، ملا سیف اور ملا اسماعیل وغیرہ بھی شامل تھے ، جبکہ علماء میں سے مولانا جمال الدین خلیل اﷲ اور قاضی محمد قدسی آپ کی خدمت میں حاضری دیتے تھے ۔ تین چار ماہ بعد سلطان حسین شاہ نے وفات پائی اور ان کے بیٹے محمد شاہ کو جس کی عمر صرف دو یا تین برس تھی ، تخت پر بٹھادیا گیا ۔ نتیجتاً امراء اور حکام میں تخت و تاج کے سلسلے میں جھگڑے کی نوبت آئی ،ان جھگڑوں کے باعث کشمیر میں میر عراقی ؒ کا قیام طول پکڑ گیا ۔ خانقاہ کے مجاوروں کے باہمی جھگڑوں کے باعث میر بادشاہوں کے بڑے قبرستان میں لب ِ دریا ایک مکان میں منتقل ہوئے اور وہاں ایک سال مقیم رہے ۔ یہیں آپ کی بڑی صاحبزادی بی بی آغا پیدا ہوئیں ۔ انہی دنوں ایک عالم ِدین جن کا نام شیخ شہاب ہندی تھا کشمیر آیا ہوا تھا اور میر عراقی ؒ سے بحث و مباحثہ کا بازار گرم رکھتا تھا ، جن میں سے بعض قضیوں کی تفصیل یہ ہے ۔
پہلا قضیہ سلطان حسن کی وفات کے بعد امراء و حکام میں جنگ و جدل ختم کرانے اور مصالحت کرانے کی کوشش کے موقع پر پیدا ہوا ۔ ہوا یوں کہ سلطان حسن کی وفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور سید حسن بیہقی کے ہاتھ آئی ۔ سید حسن قتل ہوا اور ان کے بیٹے سید محمد بیہقی نے اس قتل کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور بہت سے آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ بالآخر علماء و فضلا کو اس جھگڑے کو نمٹانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ۔ اس مجلس میں شیخ شہاب اور میر عراقی ؒ دونوں موجود تھے ۔ میر عراقی ؒ نے فرمایا کہ سید محمد بیہقی کو چاہئے کہ اپنے والد کے خون کا معاملہ خدا کے حوالے کرے ۔ اس تجویز پر صلح ہو گئی مگر شیخ شہاب کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی ۔ شیخ شہاب کے ایک بیٹے میہ بدہ نے میر عراقی ؒ کی شان میں گستاخی بھی کی جو میر کے دل پر بہت گراں گزری ۔ میر نے اہل مجلس کو گواہ کر کے فرمایا ۔
شما گواہ باشید این خر فرزند خود را بالایی داد و این پسر نارسیدہ خود را جوان مرگ ساخت و شما نگران باشید کہ عنقریب در چشم آن خر بکدام رنگ جوان مرگ خواھد شد ۔
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک ہفتہ بعد ہی میہ بدہ اور شیخ شہاب کے دوسرے بیٹے میہ بخل میں جھگڑا پیدا ہوا اور میہ بخل نے بدمستی کے عالم میںمیہ بدہ کو قتل کر دیا ۔
دوسرا جھگڑااس موقع پر پیدا ہوا کہ جب ملک سیفدار نے ولایت ِٔکشمیر کی رسم کے مطابق علماء و فضلا کو کھانا دیا ۔شیخ شہاب میرعراقی ؒ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا اس نے لالچ کے باعث خود کھانے کے علاوہ درست کھانے کے تھال دسترخوان میں لپیٹ کر اہل ِ خانہ کو بھجوا دیئے ۔ پھر حضرت میر ؒ پر معترض ہوا کہ آپ اپنے گھروالوں کو کھانا کیوں نہیں بھجواتے؟ میر ؒنے فرمایا کہ ہمارے گھر میں کھانا کافی ہے ۔ شیخ نے فوراً کہا کہ حکم ِقرآن کلو و تمتعواکے مطابق کھانا گھر بھجوا دینا حکم ِخدا وندی ہے ۔ میر ؒ نے کہا شاید اس آیت کا سیاق و سباق کچھ اور ہو چنانچہ تفسیر ِکشاّف منگوائی گئی ۔ مذکورہ آیت نکالی گئی تو یوں پائی گئی ۔ کلو و تمتعوا قلیلاً انکم مجرمون یعنی کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ مگر تھوڑی مقدار میں بے شک تم مجرموں میں سے ہو ۔ شیخ شہاب اور اس کے ساتھیوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ملک سیف دار اور ملک ریگ دار میر عراقی ؒ کے معتقد ہو گئے ۔
تیسری بار جھگڑا یوں پیش آیا کہ جب کشمیر کی حکومت دوسری مرتبہ ملک سیفدار کے ہاتھ آئی ۔ ملک سیفدار نے خانقاہ ِہمدانیہ میں تمام علماء وفضلا اور اکابرین کو بہت بڑی دعوت دی ۔ اس دعوت میں میرعراقی ؒ اور شیخ شہاب دونوں موجود تھے ۔ چنانچہ دعوت کے بعد بحث شروع ہوگئی ۔ میر عراقی ؒ نے آغاز ِبحث سے قبل ہی یہ شرط عائد کر دی تھی کہ شیخ شہاب بحث کے دوران نوربخشی پیروں اور مرشدوں کے بارے میں کوئی نازیبابات نہیں کرے گا ۔ میر عراقی ؒ کی عادت تھی کہ گفتگو میں اکثر شاہ قاسم فیض بخش ؒ کے ارشادات کا حوالہ دیتے تھے ۔ شیخ شہاب نے کہا کہ تو کتنی بار حضرت شاہ حضرت شاہ کہتا جائے گا ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ وہ ایک کیمیاگر تھا جس نے اپنی عمر لاحاصل کاموں میں صرف کردی اور اپنے اوقات کو خاک و خاکستر کے پیچھے ضائع کر دیا ۔اس گستاخانہ گفتگو سے میر عراقی ؒ کا پیمانہ ٔ صبر لبریز ہوگیا اور شیخ شہاب کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ جڑ دیا جس سے شیخ کے دو دانت ٹوٹ گئے اور وہ منہ کے بل الٹا گر گیا ۔ میر درویش صوفی نے جو اس محفل میں موجود تھے ، پانچ چھ لاتیں اس کی پیٹھ اور پہلوؤں میں رسید کر دیں ۔
اس واقعے کے بعد متعصب ملاؤں نے ملک سیفدار سے شکایت کی لیکن ملک نے اس شکایت پر چنداں توجہ نہ دی ۔ تاہم بعدازاں خانقاہ ہمدانیہ کی تولیت شیخ شہاب کو دی گئی جس نے خانقاہ میں اورادِ فتحیہ پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ۔ میر عراقی ؒ اس کے بعد خانقاہ ِ شیخ سلطان کشمیری میں آگئے اور خانقاہ میں چھ سال کی مدّت گزاری ۔ اسی دوران آپ کی دوسری بیٹی ثانیہ بی بی پیدا ہوئی ۔ مذکورہ خانقاہ شیخ سلطان کشمیری اور شیخ بہاؤالدین کشمیری نے تعمیر کی تھی ۔ یہ دونوں کشمیر میںخواجہ اسحاق ختلانی ؒ کے خلفاء تھے ۔ شیخ بہاؤالدین خانقاہ ِ امیریہ کے قریب اپنے مکان میں مشغول ِعبادت و ریاضت رہا کرتے تھے ۔ سلطان زین العابدین نے ان کا مکان نذر ِآتش کر دیا تھا ۔ بیبہ خاتون نامی خدا ترس خاتون نے آڑے وقت میں شیخ بہاؤالدین کے گزراوقات کا خیال رکھا ۔ میر عراقی ؒ نے شیخ بہاؤالدین کے مزار کی تعمیر کی اور خانقاہ سلطان کبریٰ ؒ میں منتقلی کے بعد درویشوں کو اعتکاف میں بٹھایا اور خود بھی خلوت نشینی اختیار کی ۔ میر صاحب خانقاہ میں اوراد ِعصریہ اور اوراد ِفتحیہ کا خا ص اہتمام کرتے تھے ۔ ان دنوں میں درویشوں کو بہت سے واقعات پیش آئے اور میر عراقی ؒ نے ان کی تعبیر فرمائی ۔ میر کو کشمیر میں رہتے مدت ہوگئی تھی ان کا دل شاہ قاسم فیض بخش ؒ کی زیارت کے لئے بے چین ہوگیا اور انہوں نے کشمیر سے واپسی کی تیاریاں شروع کردیں ۔ میر ؒنے واپسی کے وقت ملا اسماعیل کو بطور ِپیشوااور امام ِجماعت مقرر کیا مگر بیعت کی اجازت نہ دی ۔ سلطان فتح شاہ نے جو کشمیر کا حکمران تھا سلطان حسین مرزا کے لئے دوائیاں اور جڑی بوٹیاں فراہم کیں اور تحائف و سوغات وغیرہ اور سلطان حسین اور شاہ قاسم فیض بخش ؒ کے لئے خطوط میر عراقی ؒ کے ہمراہ کر دیئے ۔ میر عراقی ؒ چند مریدوں کے ہمراہ اس سامان کو لے کر کشمیر میں آٹھ سالہ قیام کے بعد ۸۹۶ھ میں اہل و عیال کے ہمراہ پکھلی ( موجودہ ہزارہ ) اور شہمنگ کے راستے خراسان روانہ ہوئے ۔ نیلاب سے گزر کر کابل پہنچے ۔ کابل کا بادشاہ سلطان الغ بیگ مرزا سید جعفر نوربخش ؒ کی صحبت کے زیر ِاثر میر سید محمد نوربخش ؒ کا معتقد تھا اور طریقہ ٔ نوربخشیہ کی جستجو اور شوق رکھتا تھا ۔ سلطان نے شاہ قاسم ؒسے فقہ ٔ احوط کا نسخہ بھیجنے کی بھی فرمائش کی ۔ کابل میں میر عراقی ؒ کو خبر ملی کہ شاہ قاسم فیض بخش ؒ خراسان سے نقل مکانی کر کے عراق تشریف لے جا چکے ہیں ، چنانچہ آپ نے خراسان جانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔ سلطان حسین مرزا کے لئے جو جڑی بوٹیاں اور تحائف سلطان ِکشمیر نے بھیجے تھے وہ ملا حسین شہمنگی کے ہاتھوں سلطان حسین مرزا کو ہرات ارسال کر دیںاور خود کوہ ِہندوکش سے گزر کر پہلے تو ختلان کے راستے کولاب گئے ، جہاں امیر ِکبیر سید علی ہمدانی ؒ کے روضہ ٔ مبارک کی زیارت کی ، پھر خواجہ اسحاق ختلانی ؒکے سر ِمبارک کے روضہ کی زیارت کے لئے بدخشاں پہنچے ۔ پھر وہاں سے روستا جاکر حضرت نورالدین جعفر بدخشی ؒکے آستانہ کی زیارت کی ، پھر خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کے بدن ِمبارک کی زیارت کے لئے بلخ گئے اور بعد ازاں سمرقند تشریف لے گئے ۔ سمر قند میں آپ نے دو ماہ قیام کیا پھر عازم ِعراق ہوئے اور استرآباد ، استمداد ، مازندران ، گیلان ، شفت و کورہ سے ہوتے ہوئے سولغان پہنچے اور میر سید محمد نوربخشؒ کے آستانہ ٔ مبارک کی زیارت کی ۔ شاہ قاسم فیض بخشؒ کو عراقی ؒ کی آمد کی اطلاع ملی تو درشت سے سولغان استقبال کو تشریف لائے ۔ شاہ قاسم ؒنے سولغان میں ایک مکان کی بنیاد رکھی تھی۔ اسی جگہ ایک وسیع قطعہ ٔ اراضی میر عراقی ؒ کو عطا کیا جہاں میر نے ایک مکان تعمیر کیا اور باغ لگایا اور اس کا نام باغ ِکشمیر رکھا ۔ میر نے یہاں آٹھ سال تک قیام کیا ۔ اس دوران میر عراقی ؒ کے ہاں تین لڑکیاں اور پیدا ہوئیں ۔ یکے بعد دیگرے بیٹیوں کی پیدائش کے بعد بی بی آغا کو اولاد ِنرینہ کی تمنا ہوئی ۔ میر عراقی ؒ کے حکم پر آپ کی صاحبزادیوں نے میر نوربخش ؒ کے روضے پر حاضر ہوکر درخواست کی کہ وہ ایک بھائی کے لئے اﷲ تعالی ٰ سے دعا کریں ۔ میر نوربخشؒ کے آستان پر حاضری کی برکت سے اﷲ تعالیٰ نے بی بی آغاکو اولاد نرینہ عطا کی ۔ اس بیٹے کا نام دانیال رکھا گیا ۔
ادھر کشمیر میں خانقاہ ِسلطان کبریٰ کی تولیت کے کچھ دعوے داروں نے درویشوں کو خانقاہ سے باہر نکال دیا اور درویشوں نے ملا اسماعیل اور حضرت بابا کی زیر ِسرپرستی کوہ ِماران پر موجود ایک متروک عمارت کو جو چوروںاور رہزنوں کی پناہ گاہ بن چکی تھی ، بادشاہ کی اجازت سے خانقاہ میں بدل دیا ۔ چند سال بعد ملک سیف دار کے بھائی ملک مسعود دار نے صوفیوں کے لئے ایک خانقاہ تعمیر کروادی اور یہاں سلسلۂ نوربخشیہ اور روش ِہمدانیہ کا پرچار ہونے لگا ۔ ادھر ملا اسماعیل نے میر عراقی ؒ کے حکم کے بغیر خود لوگوں سے بیعت لینا شروع کی ۔ دریں اثنا ایک کشمیری مسلمان شیخ محمد حج بیت اﷲ کے ارادے سے کشمیر سے نکلااور شاہ قاسم فیض بخش ؒ کی زیارت کو درشت آیا اورشاہ قاسم ؒ کو کشمیر میں ملا اسماعیل کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا ۔ شاہ قاسم ؒ اس صورتحال سے پریشان خاطر ہوئے اور میر عراقی ؒ کو اصلاح ِاحوال کے لئے دوبارہ کشمیر بھیجنے کا ارادہ کر لیا ۔ میر عراقی ؒ کا دل بغداد جانے کو مچل رہا تھا جہاں مولانا برہان الدین ؒ نے وفات پائی تھی ۔ عراقی ؒنے جو تردد کا شکار تھے ، استخارہ کیا ۔ واقعہ میں دیکھا کہ ایک مجنون ان کے سامنے آیا اور مولانا رومیؔ کے دو بیت پڑھے ۔
خوی باماکن و با بی خبران خوی مکن
دم ھر مادہ خری ھمچو خران بوی مکن
ھمچو اشتر بمرو جانب ھر خاربُنی
ترکِ این باغ و بھار و چمن جوی مکن
اس اشارے کے بعد شاہ قاسم فیض بخش ؒنے میر عراقی ؒ کو دوبارہ کشمیر جانے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اے شیخ محمد کشمیر میں تیرا دشمن شیخ شہاب فوت ہو چکا ہے ۔ تم کشمیر جانے میں تامّل نہ کرو اور آپ کو دوبارہ سند ِارشاد اور بیعت لینے کا اجازت نامہ عطاکیا ۔ اس اجازت کے بعد محرم الحرام ۹۰۲ھ میں میر عراقی ؒ عراق سے عازم ِکشمیر ہوئے ۔ شیخ دانیا ل کی عمر اس وقت دو سال تھی ۔ میر رے اور عراق کے علاقہ سے خراسان پہنچے ۔ روضہ ٔامام علی رضا ؑ کی زیارت کے بعد قندھار گئے تاکہ کابل کی راہ سے کشمیر آئیں اور شاہ قاسم ؒ کا ارسال کردہ فقہ ٔ احوط کا نسخہ سلطان الغ بیگ مرزا امیر ِکابل کو پہنچا دیں ۔لیکن قندھار میں ہی میر کو سلطان الغ بیگ کی وفات کی خبر ملی تو کابل جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور براستہ ملتا ن کشمیر آئے ۔ ملک چینورینو نے مخلصین کے ہمراہ پنوچ میں آپ کا استقبال کیا ۔ ملا اسماعیل بھی مریدوں سمیت بارہ مولا تک آپ کے استقبال کو آیا اور میر کو باچھ بل سے جہاں وہ عارضی طور پر مقیم ہو گئے تھے اپنے نئے تعمیر کردہ مکان میں لے آیا ۔ اس علاقہ کے امرا ء میں سب سے پہلے ملک موسیٰ رینہ میر عراقی ؒ کا معتقد ہوا ۔ ملک موسی رینہ نے زڈی بل میں ایک وسیع اراضی اور مکانات میر کے زیر ِتصرف کر دیئے ۔ میر نے یہاں ایک عمارت کی بنیاد رکھی اور خربوزے کاشت کروائے اور اس جگہ خانقاہ کی تعمیر کا ارادہ فرمایا ۔ ادھر ملا اسماعیل جس نے بظاہر خوش دلی سے میر عراقی ؒ کا استقبال کیا تھا ، یہ دیکھ کر کہ میر کی دوبارہ آمد سے اس کی حیثیت کم ہوگئی ہے ، آپ کا حاسد بن گیا اور میر عراقی ؒ پر الزامات عائد کرنے لگا ۔ انہی دنوں مشیت ِایزدی سے ملا اسماعیل پر جذام کے مرض کا حملہ ہوا ۔ ملا اسماعیل میر سے باغی ہو گیا اور عداوت بڑھ گئی ۔ ادھر میر عراقی ؒ نے زڈی بل میں پہلی مسجد تعمیر کی اور خانقاہ کی تعمیر کے لئے زمین کی کھدائی اور جنگل سے لکڑیوں کی کٹائی کا کام شروع کروایا اور دومنزلہ نقشہ پر تعمیر شروع ہوئی ۔ دونوں منزلیں طول و عرض میں ۲۷ گز تھیں اور نچلی منزل کی بلندی دس گز اور اوپر کی منزل کی بلندی آٹھ گز تھی ۔ تمام عمارت بغیر ستونوں کے تھی اور دو سال کی مدت میں مکمل ہوئی ۔ خانقاہ کے دروازہ کی پیشانی پر لکھا گیا ۔
بنیت ھذہ البقعۃ المؤمنۃ المتبرکۃ الشریفۃ الشمسیۃ النوربخشیہ فی التاریخ سنۃ تسع و تسع مائۃ من الھجرۃ النبویۃ علیہ الصلواۃ والسلام
جس کی رو سے خانقاہ نوربخشیہ زڈی بل کا سال ِتعمیر ۹۰۹ھ اور سال ِتکمیل ۹۱۰ ھ بنتا ہے ۔
کچھ مدت بعد سلطان محمد شاہ کے وزیر سید محمد بیہقی کے دل میں میر عراقی ؒ کے ساتھ دامادی کا رشتہ پیدا کرنے کا خیا ل آگیا اور بی بی آغا سے نکاح کی درخواست کی ۔ عراقی ؒ جو بادشاہوں اور دنیا داروں سے متنفر تھے اس رشتے سے انکاری ہوئے اور اپنی صاحبزادی کا نکاح روم سے آئے ہوئے ایک مسافر ملا فاضل نامی سے کر دیا۔ جب اس بات کی اطلاع سید محمد بیہقی کو ملی تو وہ آپ کا دشمن بن گیا اور میر کو تنگ کرنے کے حربے اختیار کرنے لگا ۔ میر عراقی ؒ نے سید محمد کی روز افزوں مخالفت سے تنگ آکر فرمایا کہ اگر تم مجھے خلقت کے ارشاد اور اﷲ کے بندوں کی ہدایت اور بدتہذیب لوگوں کی تادیب سے روکنا چاہتے ہوتو مجھے ملک تبت( بلتستان ) جانے کا اجازت نامہ دے دو ۔ سید محمد بیہقی نے غصے کے عالم میں میر عراقی ؒ کو ملک بدر ہونے اور تبت جانے کا حکم نامہ جاری کر دیا ۔ چند روز بعد آپ نے رخت ِسفر باندھا اور خانقاہ کی تعمیر کا کام نامکمل چھوڑ کر تبت( بلتستان ) کا سفر اختیار کیا ۔ اس سفر میں پچاس ساٹھ صوفی آپ کے ہمراہ تھے ۔ آپ نے بابا علی کو خانقاہ میں امام ِ جماعت کے طور پر چھوڑا اور تعمیر کاکام مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ میر شمس الدین ؒ ۹۰۱ھ میںوارد ِبلتستان ہوئے (3) تو اس وقت سکردو میں مقپون خاندان کا راجا بوخا حکمران تھا ۔ وہ ایک جم غفیر کے ہمراہ میر ؒ کے استقبا ل کو آیا ۔ اس وقت اس علاقے میں دین ِاسلام اور شریعت ِسید انام ؐ کی کوئی خبر نہ تھی ۔ یہاں کے باشندے بت پرست تھے اور تمام قلعوں میں بت خانے قائم تھے ۔ میر شمس الدین عراقی ؒ نے اپنی پہلی فرصت میں والی ٔ سکردو کو دعوت ِاسلام پیش کی اور اسلام کی خوبیاں اس کے ذہن نشین کیں ۔ راجہ نے آپ کی تبلیغ کے اثر سے اسلام قبول کرلیا اور اس کے بیٹے نے بھی جو بلوغت کے قریب تھا ، اسلامی تربیت حاصل کرنا شروع کی اور شیر شاہ نام رکھا گیا ۔ میر عراقی ؒ اکثر اوقات مقپون بوخا کے محل میں آتے جاتے تھے ۔ راجہ نے بظاہر تو اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اس کے دل میں بُت پرستی کی محبت بدستور قائم تھی اور پوشیدہ طور پر بُت پرستی کیا کرتا تھا ۔ اس نے قلعہ کے اندر شیر کی شکل کا ایک بُت چھپا رکھا تھا جس پر سونے کا ملمع کیا ہوا تھا اور خلوت میں اس کی پوجا کرتا تھا ۔ میر عراقی ؒ کو جب اس معاملے کی خبر ہوئی تو اس بُت کو ایک بڑے پتھر کی ضرب سے ریزہ ریزہ کر دیا ۔ اس واقعے کے بعد والی ٔ سکردو نے آپ کو بُت شکن کا خطاب دیا اور میر عراقی ؒ بُت شکن کے نام سے مشہور ہو گئے ۔ میرعراقی ؒ نے چھ ماہ تک تبّتِ خورد ( بلتستان ) کے قرب و جوار میں تبلیغ ِاسلام کے لئے دورہ کیا ۔ اس زمانے میں شیگر کے علاقے میں عبداﷲ خان کی حکومت تھی اور خپلو کے علاقہ میں یبگو بہرام برسرِ اقتدار تھا ۔ بلتستان کے تمام حکمران میر عراقی ؒ کی عزت و تکریم کرتے تھے ۔ صوفیوں اور درویشوں نے جہاں کہیں بُت خانہ نظر آیا اسے مسمار کر کے مساجد اور خانقاہوں کی بنیاد رکھی اور ہر حصے میں شعائر ِاسلام کا بول بالا ہوا ۔ ان علاقوں میں میر کی صحبت کے اثر سے درویش زیرک اور درویش کمال جیسے صاحب ِکشف بزرگ وجود میں آئے ۔ بلتستان کے گردو نواح میں دو ماہ کی سیاحت کے دوران حکا م و سلاطین امرا ء اور وزراء نے آپ کو بیش قیمت نذرو نیاز پیش کیے۔
ادھر میر عراقی ؒ بلتستان میں سیر و سیاحت میں مصروف تھے ادھر کشمیر میں سید محمد بیہقی کی چیرہ دستیاں اس حد تک بڑھ گئیں کہ ملک موسیٰ رینہ کو جو میر عراقی ؒ کے معتقد ِخاص تھے بیہقی کے ساتھ جنگ و جدل کی راہ اپنا پڑی ۔ ملک موسیٰ رینہ کی مدد سے سلطان فتح شاہ نے سلطان محمد شاہ کو شکست دی اور علاقے کا بادشاہ بن گیا ۔ اس جنگ و جدل میں سید محمد بیہقی قتل ہو گیا اور ملک موسیٰ سلطان کا وزیر بن گیا ۔ میر دانیال نے جو بارہ سال کے تھے ، ملک موسیٰ کو مبارک باد دی ۔ ملک موسیٰ نے خانقاہ ِہمدانیہ کی تولیت میر دانیا ل کے سپر د کی اور بابا علی بحاری کو واقعے کی اطلاع کی غرض سے بسرعت میر شمس الدین کے پاس تبت روانہ کر دیا ۔ میر ؒ کو سید محمد بیہقی کے قتل اور ملک موسیٰ رینہ کی فتحیابی کی خبر ملی تو کشمیر واپسی کے لئے تیاری شروع کر دی ۔ تبت کے سلاطین نے ہر چند منع کیا کہ یہ برفباری کا موسم ہے اور اس موسم میں کشمیر کا سفر ناممکن ہے لیکن میر عراقی ؒ کوچ کے ارادہ پر قائم رہے ۔ اس وقت خپلو میں راجہ بہرام کی حکومت تھی ۔ جب میر عراقی ؒ ان کو الوداع کہہ رہے تھے تو راجہ نے عرض کیا کہ پائین قلعہ میں حضرت امیر کبیر ؒنے جو بت خانہ منہدم کر کے بلند مسجد ( موجودہ جامع مسجد چقچن ) تعمیر کی ہے ، اس کا کام ابھی ادھورا ہے ۔ اس کے لئے آپ اپنا ایک خلیفہ چھوڑ کر جائیں تاکہ وہ ہمیں کلمہ اور نماز کی تعلیم دے ۔ میر عراقی ؒ نے ایک صوفی سے جس کا نام ملک حیدر تھا اور میر عراقی ؒ حیدری کے نام سے پکارتے تھے ، فرمایا کہ تم بہرام خان کی خدمت میں قیام کرو ۔ ملک حیدر نے عرض کیا کہ فی الحال میں آپ کے ساتھ کشمیر واپس جاؤں گا اور موسم ِبہار میں اجازت عطا فرمائیں تو اپنے فرزند ملا اسماعیل کو لے کر دوبارہ یہاں آؤں گا ۔ میر عراقی ؒ نے بہرام خان سے فرمایا کہ موسم ِسرما گزرنے تک صبر کریں ، ہمارا یہ درویش اہل و عیال کے ہمراہ پہنچ جائے گا اس کے بعد ان کو الوداع کہی اور کشمیر روانہ ہوگئے ۔ میر عراقی ؒ ۹۱۲ھ کے موسم خزاں کے آخر میں کشمیر پہنچے اورکشمیر کے امراء و سلاطین نے آپ کا استقبال کیا ۔ میر زڈی بل پہنچ کرخانقاہ کی تکمیل کے کاموں میں مشغول ہو گئے ۔ خانقاہ کی چھت پر پتھروں کا فرش لگا کر ہموار کر دیا اور اس میں تین دروازے رکھے جنہیں باب الشریعت ، باب الطریقت اور باب الحقیقت کا نام دیا گیا ۔ سردیوں کے موسم میں صوفیوں کو چلہ ّ کشی میں بٹھایا جاتا ۔ دریں اثنا آپ کے حکم سے قاضی محمد قدسی نے ’ سلسلۃ الذھب ‘ کو منظوم کیا اور ملا ربی گنائی ملا حاجی گنائی نے جو اس وقت کے مشہور کاتب اور کندہ کار تھے سلسلۃالذہب کو خانقاہ نوربخشیہ زڈی بل کی دیوار کی اندرونی جانب کندہ کر دیا ۔
ہر سال سردیوں میں چلہ کشی کے علاوہ میر عراقی ؒ مریدین کو امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ ، میر سید محمد نوربخشؒ اور دوسرے صوفیا ء کی تصانیف کی تعلیم بھی فرماتے تھے ۔ احکام شریعت کی تعلیم فقہ ٔ احوط کے فارسی نسخے کے مطابق دیتے تھے اور کمزور مریدوں کی تربیت کے لئے انہیں ’ کلمہ بنائے ایمان ‘ یعنی
آمنت باﷲ و مٰلئکتہ و کتبہ ورسلہ و الیوم الآخر
اور ’ کلمہ بنائے اسلام ‘ یعنی
کلمہ شہادتین و الصلٰوۃ الخمس و صوم الرمضان و زکواۃ المال و حج البیت
کے علاوہ چودہ کلمات ِقدسیہ کی تعلیم دیتے تھے جو یہ ہیں :
۱) بندۂ خدا
۲ ) ذریتِ آدمؑ
۳ ) ملتِ ابراہیمؑ
۴) امتِ محمدؐ
۵) دینِ اسلام
۶) کتابِ قرآن
۷) کعبہ قبلہ
۸) متابعتِ سنت
۹) محب ِعلیؑ
۱۰) سلسلۂ ذہب
۱۱) مذہب ِصوفیہ
۱۲) مشربِ ہمدانیہ
۱۳) روشِ نوربخشیہ
۱۴) مرید ِ مرشد
یہ کلمات شاہ قاسم فیض بخش ؒنے ان مریدوں کی تعلیم کے لئے ایجاد فرمائے تھے جو میر سید محمد نوربخشؒ کی کتاب ’ سلسلۃ الذہب ‘ سے پوری طرح استفادہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے تاکہ ان کا ایمان محفوظ و مامون رہے ۔
میر عراقی ؒ نماز ظہر کے بعد اکثر فریدالدین عطار ؒ کی کتاب ’ منطق الطّیر ‘ کا بھی درس دیتے تھے ۔ صبح کی نماز باجماعت اداکرنے کے بعد اوراد ِفتحیہ میں مشغول رہتے ۔ نماز ظہر اور عصر خانقاہ میں باجماعت ادا فرماتے ۔ نماز ِعصر کے بعد اوراد ِعصریہ میں مشغول رہتے۔ نماز مغرب و عشاء کی باجماعت ادائیگی کے بعد اپنے خلوت خانے میں آتے وظائف و تسبیحات سے فارغ ہونے کے بعد رات کے آخری وقت میں اعتکاف خانوں میں جاتے اور اعتکاف کے قوانین کی نگہداشت فرماتے ۔ اسی نہج پر آپ نے پندرہ سولہ سال گزار دیئے ۔ قاضی محمد قدسی نے میر ؔ کے احوال ایک مثنوی میں قلمبند کئے ہیں ۔
حضرت بابا میر عراقی ؒ کے مریدوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ اور شیخ دانیا ل کے ساتھ خانقاہ میں چلہ کش ہوتے تھے ۔ مولانا حافظ بصیرجو اس وقت کشمیر کے ممتاز عالم دین تھے حضرت بابا کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔ میر عراقی ؒ کی عمر اب سو برس کے لگ بھگ ہو گئی تھی ۔ آپ نے شیخ دانیا ل کو بیعت لینے کی اجازت عطا کر دی ۔ شیخ دانیال اور حضرت بابا میں ان دنوں مختصر مدت کے لئے رنجش اور جدائی بھی پیداہوئی او ربعد ازاں تجدید ِمحبت پر منتج ہوئی ۔ شیخ دانیالؒ کو خلیفہ بنانے کے تین چار سال بعد میر شمس الدین عراقی ؒ نے ننانوے برس کی عمر میں ۹۳۲ھ میں وفات پائی ۔تاریخ وفات ’’ یا ہادی المضلّ ( ۹۳۲ھ) ‘‘ جو موضع زڈی بل میں واقع آپ کے روضے کے سنگ ِ مزار پر کندہ ہے۔
میر شمس الدین عراقی ؒ کے دور میں کشمیر میں دینِ اسلام اور مسلک ِنوربخشیہ کا خوب بول بالا ہوا ۔ آپ نے چھیاسٹھ(۶۶) بت خانے منہدم کرائے اور ان کی جگہ مساجد اور خانقاہیں تعمیر کرائیں ۔ جن بتکدوں کو مسمار کرایا گیا ان میں بت خانہ منکہ رینو ، بت خانہ جنک رینو ، بت خانہ ویۃ لنو، بت خانہ ناشوان ، بت خانہ اوورناتنو ، بت خانہ سدس مولو، بت خانہ مود رینو، بت خانہ کوہ ماران ، بت خانہ چامہ کیندوی، بت خانہ مہاسین ، بت خانہ واربلارو، بت خانہ نندرازا، بت خانہ بومر، بت خانہ پنہ رینو، بت خانہ باخی رینو، بت خانہ اوردان وغیرہ شامل تھے ۔

میر دانیا ل شہیدؒ


شیخ دانیال بن میر شمس الدین محمد عراقی ؒ ۹۰۰ھ میں عراق ِعجم کے علاقہ رے کے موضع درشت میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا نام دانیال شاہ قاسم فیض بخش کا تجویز کردہ ہے ۔ (4) دو سال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ عراق سے کشمیر آئے اور بارہ سال کی عمر میں اپنے والد کی تعلیم و تربیت سے علوم ِظاہری و باطنی میں متبحر ّ ہوگئے ۔ اپنے والد کی زندگی میں ہی چلہّ نشینی اختیار کی اور بیعت لینے کی سند ِاجازت حاصل کی ۔ میر شمس الدین عراقی ؒ کی وفات کے وقت آپ کی عمر بتیس سال تھی ۔ والد کی وفات کے بعد آپ حسب ِمعمول صوفیوں اور درویشوں کی چلہ ّ نشینی کی نگرانی کرتے رہے ۔ آپ تعلقات ِدنیا سے الگ ہو کر اکثر اپنے خلوت خانے میں متوجہ الی اﷲ رہتے تھے ۔ بظاہر اسی سبب سے میر شمس الدین عراقی ؒ کے بعض ناعاقبت اندیش مریدوں اور مریدزادوں نے غلبہ ٔ محبت و عقیدت یا کسی اور وجہ سے افراط وتفریط پیدا کردی اور بعض نامناسب باتیں اور ناجائز رسومات پیدا کردیں اور ان بدعتوں کو میر عراقی ؒ اور متقدمین بزرگان ِ نوربخشیہ سے منسوب کرنے کے علاوہ کتب و رسائل میں بھی درج کر دیا ، جن میں سجدہ ٔ تعظیمی ، خانقاہ کا طواف اور میر محمد نوربخشؒ ، شاہ قاسم فیض بخشؒ اور میر عراقی ؒ کے لئے کچھ القابات وغیرہ کا استعمال شامل تھا ۔
یہ رسومات اور ناجائز امور بزرگان ِ نوربخشیہ کی بدنامی کا باعث بنیں کیونکہ بقول کسے
چو از قومی یکی بی دانشی کرد
نہ کہ را منزلت ماند نہ مہ را
نہ می بینی کہ گاوی در علف زار
بیالاید ھمہ گاوانِ دہ را
یعنی جب کسی قوم میں کوئی ایک آدمی بیوقوفی کرتا ہے تو نہ چھوٹے کی عزت باقی رہ جاتی ہے اور نہ بڑے کی ۔
اگر کسی چراگاہ سے ایک گائے چلی جائے تو تم دیکھتے نہیں کہ تمام گائیں پھاٹک کے اندر بند کر دی جاتی ہیں ۔ (5)
پس جب بھیڑیا صفت مرزا حیدر دوغلت گورگانی ۹۴۸ھ میں کاشغر سے آکر کشمیر پر مسلط ہوا تو وہ عرصہ جو ۹۴۸ھ سے ۹۵۸ھ تک محیط تھا ، نوربخشیوں کے لئے عرصہ ٔ محشر ثابت ہوا ۔ اور نوربخشیوں کا بے دریغ قتل ِعام کیا گیا ۔ صوفیوں کی ایذارسانی میں چہ یمین چہ یسار تمام فرقوں کے لوگ متفق ہو گئے ۔ کچھ ناعاقبت اندیش صوفیوں کی باتوں کو جن کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے ، حاسدین نے مرزا حیدر کے ذہن نشین کرایا اور ثبوت میں انہی صوفیوں کی کتابیں اور رسائل پیش کر دیں ۔ غالباً مرزا نے فقہ ٔ احوط کا ایک نسخہ( فارسی نسخہ؟) سنی علماء کے فتویٰ کے لئے دہلی بھیج دیا ۔ ان علماء نے فتویٰ صادر کیا کہ اس کتاب کی تعلیمات نہ تو سنی قرار دی جا سکتی ہیں اور نہ شیعہ ( یاد رہے کہ فقہ احوط میں شریعت محمدیہ کو کماکان فی زمانہ پیش کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور خاتمہ ٔبدعت اور رفع ِاختلاف کے لئے اوسط اور معتدل راستہ اختیار کیا گیا ہے ۔) مرزا نوربخشیوں کے بارے میں حددرجہ بدگمانی کا شکار تھا ۔چنانچہ ’ تاریخ رشیدی ‘ میں وہ یوں لکھتا ہے ۔
’’ مردم کشمیر تمام حنفی مذھب بودہ اند ……… مذھب نوربخشی نام نھادہ ۔‘‘
دوسری جگہ لکھتا ہے ۔
’’ حالیا در کشمیر ھر کہ صوفی است ……… شریعت مستقیم گرداند۔ ‘‘(6)
میرزا نے لکھا ہے کہ کشمیر کے نوربخشیو ں کے برخلاف اس نے درسک( علاقہ بدخشان ) اور دیگر مقامات پر نوربخشیوں سے ملاقات کی اور ان کو ظاہرا ً سنن ِنبوی ؐ سے آراستہ اور سنی پایا یہ مگر نوربخشیان ِ کشمیر کی تصویر مرزا نے اچھی نہیں کھینچی ہے ۔
الغرض مرزا حیدر گورگان نے نوربخشیوں پر مصائب کے پہاڑ توڑے اور ان کو نکالنے اور جلاوطن کرنے ، قتل عام کرنے ، زڈی بل میں نوربخشی خانقاہ کو جلانے اور نوربخشی کتابیں نذر ِآتش کرنے اور جبر و قہر سے نوربخشی طریقے کو تبدیل کرنے میں مشغول ہو گیا ۔ ان حالات میں شیخ دانیال ؒ جان بچا کر تبت خورد یعنی بلتستان کی طرف روانہ ہوئے جب آپ نصف راستہ طے کر کے گریز کے علاقہ میں پہنچے تو مرزا کے لشکریوں کو اطلاع ہوئی اور گریز سے گرفتار کر کے آپ کو کشمیر واپس لایا گیا جہاں ۹۵۷ھ میں ۵۶(۵۷) برس کی عمر میں آپ کو شہید کیا گیا ۔ تاریخ ِ شہادت ’’ دشت ِ کربلا ‘‘ سے برآمد ہوتی ہے ۔ (7)
اگرچہ شیخ دانیا ل شہید ؒ کا ان فاسد عقیدوں اور ناجائز باتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا جنہیں طریق ِ نوربخشیہ سے منسوب کیا تھا مگر حاسدین نے آپ پر بھی تہمت لگائی اور شہید کروادیا ۔ (8)
آپ کی شہادت کے چھ ماہ بعد مرزا حیدر کی حکومت کا خاتمہ ہوا ۔ کشمیر کا کھچ قبیلہ مرزا سے انتقام لینے کے لئے اٹھا اور ۹۵۸ھ میں اس کو قتل کر دیا ۔ (9)
چک خاندان کے عہد میں سلسلۂ نوربخشیہ کے پیروکار اپنے عقیدہ و خیال کی تبلیغ کرنے لگے ۔ ان کے دور میں فقہ احوط کو کشمیر میں دستور العمل ( پبلک لاء ) بنا کر نافذ کیا گیا تھا۔(10) نیز اسی زمانے میں غالباً نوربخشی اذان میں بھی اضافہ کیا گیا ۔ (11)
چک دور میں ایران فکری انقلاب سے دوچار ہوا ۔ صفوی خاندان کے شاہ اسماعیل (۱۵۰۲ء تا ۱۷۳۶ء ) نے شیعہ فرقہ کے عقائد کو اپنا لیا اور شیعہ ایران میں برسرِ اقتدار آگئے ۔ نتیجتاً سلسلۂ نوربخشیہ اپنی علیٰحدہ حیثیت کھو بیٹھا اور وہ شیعہ تحریک کا ایک حصہ بن کر رہ گیا ۔ چنانچہ چک خاندان کے وہ فرمانروا جو میر شمس الدین عراقی ؒ کی ترغیب پر سلسلۂ نوربخشیہ میں شامل ہوئے تھے ، شیعہ ہو گئے ۔ سلسلۂ نوربخشیہ اپنے وہ اعتقادات کھو بیٹھا جو اسے مسلمانوں کے شیعہ فرقے سے ممیز کرتے تھے ۔ آہستہ آہستہ کشمیر میں سلسلۂ نوربخشیہ کا اثر و رسوخ زائل ہوگیا ۔ (12)

نوربخشیہ بلتستان میں


بلتستان میںجو اشاعت ِاسلام سے قبل بُدھ مت کے زیر ِاثر تھا ،پہلی بار امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ نے اسلام کی شمع روشن کی ۔ اس سے قبل یہ علاقہ ظلم و جہل کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ میر سید علی ہمدانیؒ سلسلۃ الذھب کے اہم بزرگ ہیں اور میر نوربخش ؒ کے شیخ خواجہ اسحاق ختلانی ؒکے مرشد ہیں ۔ مسلک ِنوربخشیہ چونکہ میر نوربخش ؒ کی نسبت سے جانا جاتا ہے ، اس لئے میر سید علی ہمدانی ؒ نے جس دین کی اشاعت کی ،وہ دین ِاسلام ، مذہب ِصوفیہ اور مشرب ِہمدانیہ تھا البتہ میر عراقی ؒ کی بلتستان آمد کے بعد روش ِنوربخشیہ کی بھی تبلیغ ہوئی ۔ میر سید علی ہمدانی ؒ کی بلتستا ن آمد کے بارے میں میر نجم الدین ثاقب ؒاپنی تاریخ ِمنظوم میں لکھتے ہیں ۔
چو دریای آن رحمتِ لایزال
چنان موجزن شد زِ فضلِ عمیم
بہ عھدِ مقیم خان شاہِ سلنگ
ز ھجرت دو میم و بیک ذال و جیم
طلوع شد خورشید اسلام ھمین
علی ثانی آمد ز فضلِ کریم
زِ کشمیر بہ تبّت رسید آن ولی
بہ دستش عصا بود در بر گلیم(13)
دوسری جگہ لکھتے ہیں ۔
بہ عھدِ مقیم خان شجاعت پلنگ
علی ثانی آمد بہ سالِ نھنگ
بہ ھشتاد و سہ بود ھفتم صدی
ز ھجرت ، بہ تبت رسید آن ولی(14)
یبگو مقیم خان والی ٔ سلنگ ( خپلو) کے زمانے میں میر سید علی ہمدانی ؒ تبت یعنی بلتستان تشریف لائے ۔ تبتی تقویم کے لحاظ سے یہ نہنگ کا سال ہے اور ہجری تقویم کے لحاظ سے سات سو تراسی(۷۸۳ھ) (15) ۔ اکثر مؤرخین اور محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے ۔ میر سید علی ہمدانی ؒپہلی بار زوجی لا کے راستے بلتستان وارد ہوئے ۔ آپ کی تبلیغ سے رفتہ رفتہ لوگوں نے اسلام قبول کیا ۔ میر ؒنے کھری ڈونگس نامی جگہ پر ایک مسجد تعمیر کرائی اور گمبہ سکردو ( سکردو پائین ) میں ایک خانقاہ تعمیر کروائی۔ سکردو سے آپ شیگر پہنچے ۔ اہل ِشیگر کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کے علاوہ آپ نے یہاں چھ برونجی اور امبوڑک کے گاؤں میں دو مساجد کی بنیاد رکھی ۔شیگر سے آپ درّہ ٔتھلے کے راستے موضع تھلے پہنچے اور یہاں سے بلغار اور موضع ڈوغونی کے راستے وادی ٔ خپلو میں وارد ہوئے ۔ راجہ مقیم خان والی ٔ خپلو اور اہل ِعلاقہ نے اسلام قبول کیا ۔ خپلو پائین میں آپ نے ایک بُت خانہ کو مسمار کر کے اس کے ملبے پر جامع مسجد چقچن کی بنیاد رکھی جو انگریز سیّاح جیمز ہارلے کے بقول ایشیاء کی خوبصورت ترین مسجد ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میر شمس الدین عراقی ؒ کے دور میں ملا اسماعیل اور ملک حیدر کے ہاتھوں مکمل ہوئی جیسا کہ عراقی ؒ کے حالات میں لکھا جا چکا ہے ۔ خپلو میں تبلیغ کے بعد شاہ ِہمدان ؒچھوربٹ پہنچے اور دین ِاسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے چولونکھا نالہ کے راستے سلتورو میں داخل ہوئے ۔ آپ نے سلتورو اور کوندوس کے موضعات میں اسلام کی تبلیغ فرمائی اورموضع پھڑوا میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی ۔ان علاقوں میں اسلام کی اشاعت کے بعد سیاچن گلیشیر کے راستے یارقند تشریف لے گئے ۔ سیاچن گلیشیر میں علی برانگسہ امیر کبیر کے پڑاؤ کی جگہ مشہور ہے ۔
ترکستان اور ماورأالنہر میں ڈیڑھ برس کا عرصہ گزارنے کے بعد شاہِ ہمدانؒ درّۂ قراقرم کے راستے دوبارہ بلتستان تشریف لے آئے اور ۷۸۵ھ میں شیگر کے موضع برالدو پہنچے جسے میر نجم الدین ثاقب ؒنے یوں نظم کیا ہے ۔
ازان بعد براہِ برالدو شگر
بہ سالی کہ یک ھا و ذال و دو میم
غوری تھم کہ بد نام شاہِ شگر
نصیب شد بہ اسلام زِ فضلِ کریم(16)
اخوند سلطان علی بلغاری ؒ تاریخ ِ شگر کے حوالے سے اس واقعے کا یوں ذکر کرتے ہیں ۔
در اوراقِ تاریخِ اھلِ شگر
نوشتہ بدیدم کہ از کاشغر
علی ثانی آمد بہ تبّت دو بار
بعھدِ گوری تھم شھی نامدار
شگر تا بہ چھوربٹ مریدانِ او
عرض کر ھر یک مرادان باو(17)
اس دورے میں میر سید علی ہمدانی ؒ نے شیگر خاص سے نالہ برالدو باشہ تک اسلام پھیلایا ۔ مسجد امبوڑک اور مسجد چھ برونجی جن کی بنیاد پہلے دورے میں رکھی گئی تھی ،مکمل کیں ۔ اس دوران آ پ نے اپنی مشہور کتابیں ’ذخیرۃ الملوک ‘ اور ’مؤدۃ القربیٰ ‘ بھی مکمل کیں ۔ مسجد چھ برونجی کی دیواروں پر سورہ ٔمزمّل کو اپنے ہاتھ سے تحریر فرمایا ۔ اس بار آپ شیگر سے کریس کے راستے خپلو اور پھر چھوربٹ تشریف لے گئے جہاں سے آپ نے کشمیر کا رخ کیا ۔ سری نگر سے آپ بیت اﷲ کی زیارت کی غرض سے روانہ ہوئے اور پکھلی ( ضلع مانسہرہ ) کے مقام پر ۶ ذوالحج ۷۸۶ھ کو وفات پائی ۔ سال ِوفات ’ بسم اﷲ الرحمن الرحیم ‘ کے الفاظ سے نکلتا ہے ۔ (18)
امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کے بعد جس نمایاں شخصیت نے بلتستان میں مشرب ِہمدانیہ اور روش ِنوربخشیہ کو فروغ دیا وہ میر شمس الدین عراقی ؒ ہیں ۔ اگرچہ قرائن سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ بنفس ِنفیس بلتستان پہنچے ہوں ۔ (19) لیکن ’تاریخ ِ جموں ‘کے مؤلف مولوی حشمت اﷲ میر سید علی ہمدانی ؒ کی بجائے میر سید محمد نوربخشؒ کو بلتستان میں اسلام کا پہلا مبلغ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’سید محمد نوربخش ؒ بطور آنحضرت ( سید علی ہمدانیؒ ) کے خلیفہ اور قائم مقام بلتستان میں وارد ہوئے اور اس ملک میں اشاعت ِاسلام ان کی ذات سے شروع ہوئی ‘‘۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ غوری تھم ( والی ٔشیگر ) نے مسلمان ہو کر اپنا نام غازی میر رکھا اور مسجد امبوڑک اور مسجد چھ برونجی جو امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں غالباً سید محمد نوربخشؒ نے باہتمام ِغازی میر تعمیر کیں۔ ‘‘ (20) مولوی صاحب مزید رقمطراز ہیں ۔ ’’ الغرض آپ ( سید محمد نوربخشؒ) سکردو سے شیگر آئے اور شیگر سے خپلو تشریف لے گئے ۔ خپلو میں آپ نے تھوڑا ہی عرصہ قیام کیا اور تلقین اسلام کرتے رہے ۔ راجہ نے اسلام اختیار کیا اور آپ نے جامع مسجد چقچن کی بنیاد ڈالی ۔ بعد ازاں براہ نالہ سلتورو یارقند چلے گئے مگر اس عرصہ میں بلتستان کے تمام باشندوں کو مسلمان کر گئے ۔ ‘‘ (21) … ’’ جس وقت سکردو میں میں غوطہ چو سنگے شغر میں غازی تھم اور خپلو میں شاہ اعظم حکمران تھے ،سید محمد نوربخشؒ نے اس ملک میں دعوت ِاسلام دی اور حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒکے نام پر بیعت لی۔ ‘‘ (22)
ڈاکٹر صابر آفاقی بھی اسی نظریے کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ’’ اس زمانے میں سکردو میں راجہ غوطے سنگے کی حکومت تھی ۔ ریاست شگر پر غازی تھم اور خپلو پر شاہِ اعظم بن مقیم خان کی حکمرانی تھی ۔ سید محمد نوربخشؒ نے تمام ملک کو دعوتِ اسلام دی اور امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کے نام پر بیعت لینے لگے ۔ چنانچہ اس ملک کے تمام باشندوں نے اسلام قبول کیا۔ ‘‘ (23) ایک اور جگہ لکھتے ہیں ۔ ’’ سید محمد نوربخش ؒ خپلو پہنچے ۔ جلد ہی وہاں کے راجہ نے اسلام قبول کر لیا ۔ آپ نے جامع مسجد چقچن کی بنیاد ڈالی ۔ ‘‘ (24)
اگر یہ بیان صحیح ہے تو میر سید محمد نوربخشؒ میر سید علی ہمدانی ؒ کے دورہ بلتستان کے ۶۵ برس بعد ۸۵۰ھ میں بلتستان تشریف لائے ہوں گے ۔ مولوی حشمت اﷲ کے خیال میں میر نوربخشؒ بلتستان سے پوریگ چلے گئے جو کرگل کے نام سے مشہور ہے اور وہاں چھ ماہ تک اقامت گزیں رہ کر تبلیغ ِدین کی خدمت سرانجام دی ۔ کئی دیگر مؤرخین بھی مولوی حشمت اﷲ کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں اور میر نجم الدین ثاقب ؒ لکھتے ہیں
۔
ازان بعد بہ عھدِ عظیم خان ملک
بہ سال دو تا و بہ یک یا و میم
بہ تبت رسید یک ھمای امین
ظفر یافتہ در جھادِ عظیم
ازان شد کہ مشھور در اجتھاد
ز افراط و تفریط گرید مستقیم
ز انوارِ عرفان نوربخش بدان
بہ تبت رسانید فیضش عمیم(25)
یعنی میر سید محمد نوربخش ؒ خپلو کے حکمران یبگو عظیم ( اعظم خان ) کے زمانے میں وارد ِبلتستان ہوئے یہ تقویم کے لحاظ سے ۸۵۰ھ ( ۱۴۴۶ئ) کا واقعہ ہے ۔
اس بیان کے مطابق بلتستان کے مختلف علاقوں سکردو، شیگر کریس ، خپلو نیز پوریگ ( کرگل ) اور زانسکار سوٹ ،پشکم اور کھرمنگ میں تبلیغ ِاسلام کے بعد میر نوربخشؒ سلتورو کے راستے یارقند تشریف لے گئے اور وہاں سے خراسان پہنچے ،جہاں ۸۶۹ھ میں انتقال فرمایا ۔
میر شمس الدین عراقی ؒ کے دورہ ٔ بلتستان کے واقعات ان کے حالات کی ذیل میں مذکور ہو چکے ہیں۔ جہاں میر سید نوربخشؒ کی بلتستان آمد خوش عقیدگی کا کرشمہ معلوم ہوتی ہے وہاں میر شمس الدین عراقی ؒ کے دورہ ٔ بلتستان سے تمام مؤرخین کو اتفاق ہے اور غالباً بلتستان میں مسلک ِنوربخشیہ کو حقیقی معنوں میں رواج میر عراقی ؒ نے ہی دیا ۔ میر نجم الدین ثاقب ؒ لکھتے ہیں ۔
بہ عھدِ حکومت مقپون بوخا
زِ ھجرت دو تا یک الف عین و میم
بہ تبت رسید میر شمس العراق
ھمی کرد تعلیم و تبلیغ عظیم(26)
اس بیان کے مطابق میر شمس الدین عراقی ؒ ۹۱۱ھ ( ۱۵۰۵ئ) میں سکردو پہنچے ۔ اس دو رمیں سکردو میں بو خا کی ، شیگر میں عبداﷲ خان کی ، خپلو میں بہرام خان کی اور پوریگ میں حبیب چو کی حکومت تھی ۔ یہ سب حکمران میر شمس الدین عراقی ؒ کا نہایت احترام کرتے تھے ۔ ’ تحفۃ الاحباب ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ بلتستان میں میر عراقی ؒ کاقیام چھ ماہ رہا۔ آپ نے اس دوران اس علاقے میں مسلک ِنوربخشیہ کو بے حد استحکام بخشا ۔ (27)
میر عراقی ؒ کی وفات کے بعد میرزا حیدر دوغلت کے دور میں کشمیر کے نوربخشیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا بیان گزر چکا ہے ۔ مرزا حیدر دوغلت کی نوربخشیوں سے دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے میر شمس الدین عراقی ؒ کے مزار ِمبارک کو بھی نہ بخشااور سنگ ِمزار تک اکھڑوا دیا ۔ میر دانیال ؒ کو ۹۵۷ھ ( بمطابق ۱۵۵۰ئ) میں شہید کیا گیا ۔ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ میر دانیال ؒ کو بلتستان ہجرت کے دوران راستے سے پکڑا گیا یا وہ وارد ِبلتستان ہو چکے تھے اور بلتستان سے واپس بلوا کر انہیں شہید کیا گیا ۔ اگر مؤخر الذکر بات صحیح ہے تو وہ گرفتاری کے وقت سکردو میں مقیم ہوں گے ۔ (28) یہ بات یقینی ہے کہ اس انقلاب کے نتیجے میں کشمیر میں نوربخشی اثر رسوخ مستقل طور پر کم ہوگیا ۔ اگرچہ مرزا حیدر دوغلت کے بعد انہیں کچھ حد تک سنبھلنے کا موقع ملا ۔
گیارہویں صدی ہجری ( سترھویں صدی عیسوی ) میں کشمیر مستقل طور پر سلطنت ِمغلیہ کا حصہ بن گیا تو کشمیر میں نوربخشی اثر مستقل طور پر ختم ہو گیا ۔ میر دانیال شہید میر شمس الدین عراقی ؒ کے خلیفہ اور جانشین تھے ۔ ان کے بعد موجودہ دور تک بلتستان میں سلسلۂ نوربخشیہ یوں چلا آتا ہے ۔
میردانیال شہیدؒ
میر شمس الدین رشیدؒ
میر دانیال دانا ؒ
میر حسن رہنما ؒ
میر ابوسعید ؒ ( وارد بلتستان ۱۱۱۵ھ)
میر مختار اخیارؒ
میر جلال الدین معصوم ؒ
میر نجم الدین ثاقب ؒ
میر محمد نورانی ؒ
میر شاہ جلالؒ
میر محمد شاہ مخدوم الفقرائؒ
میر سید محمد اکبرؒ
میر خانعلوم ؒ
میر محمد شاہ ؒ
میر عون علی ؒ
میر محمد شاہ ؒ
(میر مختار اخیار ؒسے میر عون علی ؒ تک مندرجہ ٔبالا سلسلہ کریس اور خپلو میں رائج ہے ۔ جبکہ شیگر کے علاقے میں سلسلہ ٔ طریقت میر یحییٰ ؒسے چلتا ہے اور سرمیک کے علاقے میں میر مختار اخیار ؒکے فرزند میر علی رضا ؒسے سلسلہ ٔ طریقت آگے چلتا ہے جیسا کہ آگے ذکر آئے گا ۔ )
غالباً میر دانیال شہیدؒ کے بعد میر شمس الدین رشید ؒ ، میر دانیا ل دانا ؒ اور میر حسن رہنماؒ جیسے نوربخشی خلفاء کشمیر میں ہی مقیم رہے (29) تاآنکہ میر ابو سعید ؒ ۱۱۱۵ھ میں وارد بلتستان ہوئے ۔
میر شمس الدین عراقی ؒ کے دو باکمال بلتی مریدوںدرویش زیرک تبتی اور درویش کمال تبتی کا علم تحفۃ الاحباب سے ہوتا ہے ۔ (30) نیز میر عراقی ؒ نے امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی بنا کردہ جامع مسجد چقچن کی تکمیل کے لئے اپنے مرید ملک حیدر اور ان کے فرزند ملا اسماعیل کو بلتستان روانہ کیا تھا ۔ (31) اس کے علاوہ سید علی ہمدانی ؒ اور میر عراقی ؒ کے ہمراہ جو عقیدتمند اور مرید بلتستان آئے تھے ان میں سے بہت سے لوگوں کو مقامی آبادی کی تعلیم و تربیت کی خاطر پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا جن کی اولاد آج بھی لوگوں کے دینی معاملات کی رہنمائی کرتے ہیں اور اخوند کہلاتے ہیں۔ (32)

شاہ ناصر طوسیؒ اور سید علی طوسیؒ


جہاں تک علمائے دین کا تعلق ہے ، میر دانیالؒ کے بعد جو قابل ذکر عالم بیرون ِ بلتستان سے یہاں آئے ان میں شاہ ناصر طوسی ؒ اور سید علی طوسی ؒ کے نام قابل ِذکر ہیں ۔ ان دونوں بزرگوں کی بلتستان آمد کے واقعے کو میر نجم الدین ثاقب ؒنے یوں منظوم کیا ہے۔
ازان بعد بزرگی از کاشغر
بہ سال دو ثاء و یک طا و جیم
بیامد زِ راہ سلتور ھمی
برای اشاعت دین کریم
ھمی کرد تأکید بر امرِ دین
بہ تعمیرِ مسجد بہ شوقِ عظیم
کنندہ بنای جامع شیگر
ھمین شاہ ناصر اسمش کریم(33)
ان اشعار میں ۱۰۱۲ھ بمطابق ۱۶۰۳ء میں شاہ ناصر کے ورودِبلتستان کا ذکر ہے ۔ ’تاریخ ِ جموں ‘کے مصنف مولوی حشمت اﷲ لکھتے ہیں کہ یبگوسکم ( یا یبگو پمبرالیاس ابراہیم ) کے عہد میں طوسی برادران یعنی سید شاہ ناصر طوسی ؒ اور سید علی طوسی ؒ یارقند سے براستہ سلتورو خپلو وارد ہوئے اور تھگس میں اقامت اختیار کرکے تبلیغ ِ دین ِ اسلا م کا آغاز کیا ۔ یہ دونوں بزرگ سید محمد نوربخشؒ کے پیروکار تھے اور انہوں نے نوربخشی تعلیمات کا پرچار کیا ۔ (34) تھگس میں نالۂ تھگس کے کنارے انہوں نے ایک چھوٹی لیکن نہایت خوبصورت مسجد بنائی جو آج بھی موجود ہے ۔ مسجد کی محراب پر یہ آیت لکھی ہوئی ہے۔

وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُO
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد کا سنِ تعمیر ۱۰۱۲ ھ ہے ۔ (35 ) جب تک یہ تھگس میں رہے اسی مسجد میں ہی قیام پذیر رہے ۔ اس مسجد کی تعمیر اور علاقہ میں اسلام کی تبلیغ کے بعد طوسی برادران تبلیغِ دین کرتے ہوئے شیگر پہنچ گئے اور شیگر میں جامع مسجد کی بنیاد رکھی اور نوربخشیہ کی تبلیغ کر کے اس مسلک کو مزید استحکام بخشا ۔ اس وقت خپلو میں یبگو ابراہیم حاکم تھے۔ سید ناصرؒ شیگر چھوترون کے علاقے میں مقیم رہے اور داسو نالہ کے پہاڑ کی ایک غار میں محو عبادت رہے اور بظاہر لوگوںکی نظر سے غائب ہو گئے ۔ اس علاقہ کے بزرگوں کا خیال ہے کہ آپ اس مقام پر عبادت میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ بالآخر رجال الغیب میں شامل ہو گئے ۔(36)
سید علی طوسی سکردو آئے اورنوربخشی تعلیمات کی اشاعت میں مصروف رہے ۔ آپ نے کواردو میں اقامت گزیں ہو کر تاہل اختیار کیا لیکن کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ آپ عالم باعمل ، زبردست فقیہ اور صاحب ِکرامت ولی تھے ۔ روایت کے مطابق طوسی برادران جن کا تعلق ایران کے شہر طوس سے تھا ،مشہد ِمقد س سے امام علی رضاؑ کے غیبی اشارے کے تحت بلتستان آئے تھے اور یہ چاروں بھائی امام علی رضا ؑ کی اولاد سے ہیں ۔
سید علی طوسی ؒ کی کرامات میں سے یہ مشہور ہے کہ جب آپ خانقاہ ِمعلی کی تعمیر کے لئے منٹھوکھہ نالہ سے لکڑی کاٹ کر لانے لگے تو سب شہتیر دریا میں بہاد یئے اور کواردو میں جس مقام پر خانقاہ کی تعمیر ہونی تھی تمام شہتیر خود بخود رک گئے ۔ یہ خانقاہ امام باڑہ کی شکل میں موجود ہے ۔ سید علی طوسی ؒ کا مزار خانقاہ کے صحن میں ہے جس پر گنبد بھی بنا ہوا ہے اور یہاں زائرین کا ہجوم رہتا ہے ۔ یہاں ایک خوبانی کا درخت بھی ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ سیّد کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے اور اس کا پھل کھانے والی بے اولا د عورت کو اولاد کی نعمت مل جاتی ہے ۔ آپ کے مزار کے اندر آپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن مجید کا ایک قلمی نسخہ بھی موجود ہے جو خط ِنسخ کا شاہکار ہے ۔ اس میں فارسی ترجمہ اور حاشیہ پر فارسی تفسیر بھی لکھی ہوئی ہے ۔ لوحِ مزار پر تاریخ ِوفات ۱۰۸۱ہجری مرقوم ہے ۔ (37)
بلتستان کی مقامی روایات کے مطابق ان دو بزرگوں کے دو اور بھائی سید محمود اور سید حیدر علی بھی ان کے ساتھ تھے ۔ سید محمود نے ۱۰۸۰ھ میں وفات پائی ان کا مزار کشوباغ سکردو میں واقع ہے ۔ سید حیدر کا سال وفات معلوم نہیں لیکن ان کا مزار قمراہ میں ہے ۔ (38)
ان بزرگوں کے بعد بھی ترکستان سے مبلغ بلتستان آتے رہے جن کے بارے میں معلومات موجود نہیں ہیں یہ سلسلہ سترھویں صدی عیسوی کے بعد سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیوں کے باعث بند ہو گیا ۔ (39)
مولوی حشمت اﷲ کا دعویٰ ہے کہ طوسی بردران کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں پورا ملک ِ بلتستان حلقہ بگوشِ اسلام ہوا اور دیگر ادیان ومذاہب کا مکمل خاتمہ ہوا ۔ (40) جیسا کہ ابتدا میں اسی مصنف کا یہ دعویٰ بھی نقل کیا گیا ہے کہ یہ دونوں بزرگ نوربخشی عقیدہ رکھتے تھے اس لئے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ اس دور میں پورا بلتستان مسلک ِ نوربخشیہ کا پیروکار تھا ۔ یہ راجہ عبداﷲ خان اور حسن خان یا راجہ امام قلی خان کا ابتدائی دورِ حکومت تھا ۔

میر ابو سعید ؒ اور میر عارفؒ


بلتستا ن اور ترکستان کے درمیان آمدورفت کے راستے بند ہوجانے کے بعد کشمیر سے علماء و فضلاء کی بلتستان آمد کا سلسلہ شرو ع ہوا ۔ چنانچہ ۱۱۱۵ھ میں کشمیر سے دو بھائی میر عارف ؒ اور میر ابو سعید ؒ جو کشمیر میں میر شمس الدین عراقی ؒ کے اخلاف میں سے تھے اور سلسلۂ نوربخشیہ کے سرکردہ عالم اور پیشوائے طریقت تھے ، خپلو وارد ہوئے ۔
مولوی حشمت اﷲ خان کے بقول یبگو حاتم کی وفات اور یبگو دبلہ خان کی تخت نشینی کے بعد دو بھائی میر عارف اور میر ابو سعید کشمیر سے آئے ۔ (41) مقامی روایت کے مطابق میر عارف ؒ اور میر ابو سعید سعداء ؒ اپنے شاگرد اور مرید ملاّ زیرک کے ہمراہ کشمیر سے کھرمنگ پہنچے تو مقامی لوگو ں نے آپ کو اپنے ہاں سکونت اختیارکرنے کی دعوت دی مگر انہوںنے اپناسفر جاری رکھا ۔ میرابوسعید ؒنے کریس میں اقامت اختیار فرمائی جہاں اپنی زندگی تبلیغ ِ دین میں گزار کر آپ نے ۱۰۹۵ھ میں وفات پائی ۔ جبکہ میر عارف ؒ کو رحیم خان راجہ خپلو نے بغرضِ تبلیغ خپلو آنے کی دعوت دی اور وعدہ کیا کہ خپلو میں میر جہاں سکونت اختیار کرنا چاہیں وہاں اراضی کے علاوہ تمام ضروریات ِزندگی کا بندوبست کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی خیال ظاہر کیا کہ ان کی سکونت کے لئے پھڑوا مناسب جگہ ہوگی ۔ میر عارف ؒ ایک سو خدمتگاروں کے ساتھ گرمی کے موسم میں سرمو سے غورسے اور پھر ڈنڈالا کے راستے راء چن مانے پہنچے جو موضع تھگس کے سامنے واقع ہے ۔ آپ نے تھگس کے نام کے بارے میں استفسار کیا پھر فرمایا تھگس مانند مگس است اور فرمایا کہ اس جگہ کی یہ خوبی ہے کہ اس کا نقشہ کسی فرشتے کے جسم اور پروں سے مماثلت رکھتا ہے اور اس جگہ کو اپنی جائے سکونت کے طورپر پسند فرماکر واپس خپلو آئے اور راجہ کو اپنی رائے سے آگاہ کیا ۔ راجہ نے ایک وسیع علاقہ آپ کو عطا کیا اور یوں میر عارف تھگس میں سکونت پذیر ہوئے ۔ میر عارف نے نکاح فرمایا جس کے نتیجے میں ایک لڑکی مہر بانو اور ایک لڑکا میر آراء پیدا ہوئے ۔ میر آراء بوجہ نافرمانی عاق ہو کر گاؤں بدر ہوا اور سرمو میں جاکر آباد ہوا جس کی نسل سے سرمو کی میر فوڑوق کی قوم چلی جو دوپشتوں کے بعد ختم ہو گئی ۔ چھوربٹ کومیک کے سادات بھی میر آراء کی نسل سے ہیں جبکہ علاقہ چھوربٹ کے دیگر سادات میر نعیم کی نسل سے ہیں ۔ میر عارف نے اپنی بیٹی مہر بانو کو میر مختار اخیار کے منجھلے صاحبزادے میر اسحاق کے عقد میں دے دیا ۔ میر عارف کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد ۱۰۶۱ھ میں فوت ہوئے تو خطرہ پیدا ہوا کہ کھرمنگ والے آپ کی نعش کو چرا لے جائیں گے ۔ چنانچہ آپ کی نعش مبارک سینو میں رزنق نامی جگہ پر کچھ دن چھپا کر رکھی گئی ۔ بعد ازاں سینو نالہ میں منتقل کیا گیا ۔ یہاں سے نعش کوتھگس کے خرالٹے گاؤں میں لایا گیا اور ایک مکان کے تہ خانے میں چالیس دن تک چھپا کر رکھا گیا یہاں لوگوں نے دیکھا کہ چالیس دن کے بعد آپ کے بال بڑھ کر آنکھوں تک پہنچ چکے ہیں ۔ بعدازاں میر صاحب کی نعش کو خانقاہ ِمعلّٰی تھگس کی جنوبی جانب دفن کیا گیا ۔ ایک انگریز زنکا نامی نے میر عارف کے روضے اور خانقاہ کی تاریخ لکھی ہے جو منظر عام پر نہیں آئی ۔ میر عارف کا روضہ کشمیر کی قدیم طرز ِتعمیر کا منفرد شاہکار ہے جس میں چوب کاری کے خوبصورت اور محیرالعقول نمونے ملتے ہیں ۔ قطعہ تاریخ وفات یوں درج ہے ۔
پیرِ طریقِ اھلِ یقین میر عارف است
اھلِ نجات را بہ یقین پیر عارف است
ھاتف زِ غیب گفت کہ بیھودہ سر مزن
تاریخِ فوت میر ھمیں میر عارف است
( ۱۰۶۱ھ) (42)
میر ابو سعید ؒ اور میر عارف ؒ کے ایک ہمعصر بزرگ حضرت شاہ محسن ؒ ہیں جو ۱۰۲۵ھ کے لگ بھگ طوس سے بلتستان تشریف لائے اور بلتستان کی مختلف وادیوں میں تبلیغ ِ اسلام کے بعد خپلو بالا میں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ یہ صاحبِ کرامت ولی خپلو کے نزدیکی پہاڑوں میں غائب ہو گئے ۔ تاہم محلہ گونمہ ستقجی میں عقیدت مندوں نے آپ کا مزار تعمیر کر رکھاہے ۔ (43)

میر یحییٰ ؒاور میر مختار ؒ


میرابو سعید ؒکے دو بیٹے میر یحییٰ ؒاور میر مختار ؒ غالباً میر مذکور کے ورودِ بلتستان کے وقت ان کے ہمراہ تھے ۔ (44) یبگو خپلو نے میر ابو سعید ؒ اور آپ کے دونوں بیٹوں کے لئے موضع کریس کو قیام گاہ تجویز کیا ۔ یہاں چند سال قیام کے بعد میں عماچہ اعظم خان والیٔ شیگر اور صوفیانِ شیگر کی دعوت پر دونوں بھائی شیگر تشریف لے گئے ۔ میر مختارؒ کی زوجہ بیرو رگیالمو اور دو فرزند سید عبداﷲ اور سید باقر کے علاوہ میر جلال بھی ہمراہ تھے ، جبکہ دوسری بیوی شرف النساء اور پوتوں نجم الدین محمد اور سید محمد رضا کو میر مختار حضرت ابو سعیدؒ کے پاس کریس ہی چھوڑ گئے ۔شیگر میں راجہ اعظم خان کا عہد ِ حکومت تھا ۔ راجہ نے سید برادران کا بڑا احترام کیا اور ہر روز ان بزرگوں کی محفل میں حاضرہوا کرتا تھا ۔میر مختارؒ ایک متبحر عالمِ دین ہونے کے علاوہ نہایت خوش الحان بھی تھے ۔ جلد ہی تمام روسائے شیگر اور عوام کی کثیر تعداد بھی ان کے پاس جمع ہونے لگی ۔ چند دنوں میں ہی ا ن کی محفل کو اس قدر فروغ حاصل ہوا کہ راجہ کا اپنا دربار سرد پڑ گیا ۔ یوں وزرائے شیگر سید برادران سے متعلق راجہ کے دل میں حسد پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اور وہ ان کے قتل پر آمادہ ہو گیا ۔ راجہ کے ایک وزیر نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ’’ شیگر کے تمام لوگ ان بھائیوں کے معتقد بن چکے ہیں جب تک وہ زندہ رہیں گے ان کے معتقدین بھی رہیں گے ۔ انہیں ان کے تبلیغی کام سے روکا بھی نہیں جا سکتااس لئے سب سے کامیاب طریقہ یہ ہوگا کہ کسی بوڑھی عورت کو بھیج کر انہیں زہر دلوا دیا جائے ۔ ‘‘ (45)
ادھر قتل کا منصوبہ تیار ہو گیا ادھرراجہ کا دربان جو سید برادران کا معتقد تھا راتوں رات ان کی خدمت میں پہنچا اور حالات سے آگا ہ کیا ۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر وہ شیگر خاص کو چھوڑ کر چھورکاہ چلے گئے اور محلہ ممو چھنمو میں اقامت اختیار کی اور اس بات کی اطلاع اپنے مریدوں کو دے دی ۔ چند دنوں میں چھورکاہ سے برالدو تک اور نیالی شریف سے باشہ تک اہل شیگر ان سیدوں کے مرید ہوگئے اور محلہ ممو چھنمو میں ایسا محل تعمیر کیا جو وضع قطع میں راجہ کے محل سے کم نہ تھا ۔ یہ محل ایسا مضبوط تھا کہ پرندہ بھی پر نہ مار سکتا تھا ۔ یوں یہ دونوں بھائی قتل ہونے سے بچ گئے لیکن راجہ نے محلہ ممو چھنمو پر چڑھائی کا پکا ارادہ کر لیا ۔ میر مختار خاموش طبع با کرامت ولی تھے ۔ سید برادران شب جمعہ عبادت ِالٰہی اور وظیفہ خوانی میں اس قدر مشغول ہوئے کہ انہیں دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہ تھی ۔ ادھر راجہ کی فوج نے رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھا کر محل پر حملہ کر دیا ۔ میر مختار ؒعقبی دروازے سے نکل کر کریس فرار ہو گئے اور میر یحییٰ ؒروپوش ہو گئے ۔ راجہ کی فوج مال ِغنیمت کی لوٹ مار میں مشغول ہوگئی ۔ میر مختار ؒ کی زوجہ بیرورگیالمو اور دونوں بیٹوں سید عبداﷲ اور سید باقر کو قید کر لیا گیا اور راجہ کے محل لے جاتے ہوئے راستے میں شہید کر دیا گیا ۔ ان کے مقبرے آستانہ معصومین کے نام سے موجود ہیں ۔ بیرورگیالمو کو مال ِغنیمت سمیت محل میں لے جایا گیا ۔ محل میں ناچ گانے کی محفل جمی ہوئی تھی ۔ بیرورگیالمو جو اپنے بیٹوں اور شوہر کی جدائی سے نہایت بے قرار تھیں ، اثنائے شام وضو کر کے نماز کے لئے کھڑی ہوگئیں اور سجدہ میں جا کر خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ (46) میر نجم الدین ثاقب ؒ نے اس جانکاہ واقعے کو یوں منظوم فرمایا ہے ۔
آنچہ با جدّم بکرد شاہ اعظم را شگر
ھند را ناکردہ نادر شاہ اندر قتلِ عام
نیم تن را زیرِ خاک کردہ شھید کرد معصومین
نیم بالا چون ھدف تیر باران اژدھام
والدم با ھر دو عمم شاملِ آن معصومین
زایران را یادگار است تا قیام یوم القیام
یک دمم فانی نمیدارد زِ اندوہ و ستم
روزِ من دارد سیاہ زین گنبدِ زنگار فام
زاتمت داستانِ بی قراری ھای من
زیر ناک آید بجنبش استخوان ھای امام(47)
ادھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ظالم و جابر راجہ اچانک قوت ِگویائی سے یکسر محروم ہو گیا۔ اس زباں بندی کی بیماری سے وہ بہت زچ ہوا اور طبیب اور حکیم بھی عاجز آگئے ۔ مشیروں نے مشورہ دیا کہ میر مختار ؒ تو فرار ہوگئے جبکہ میر یحییٰ ؒ ابھی تک روپوش ہیں ۔ ان کے حق میں امان نامہ جاری کیا جائے اور اپنے گزشتہ سلوک پر اظہار ِندامت کے ساتھ میر یحییٰ ؒسے معافی مانگی جائے اور قوت ِگویائی کی بحالی کے لئے دعا کی التجا کی جائے تو فائدہ ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ تلاش ِبسیار کے بعد میر یحییٰ ؒ کا سراغ لگایا گیا اور آپ سے استدعا کی گئی کہ محل تشریف لے جا کر راجہ کی صحت یابی کے لئے دعا کی جائے ۔ میر ؒ والکاظمین الغیظ و العافین عن الناس کے مصداق راجہ کی محفل میں گئے تو بھائی اور بھتیجو ں کی مفارقت کے غم سے نڈھال تھے ۔ راجہ نے میر ؒسے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ان کی تبلیغی مساعی میں رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا اور میر مختار ؒکے شیگر میں قیام اور تبلیغ پر بھی پابندی نہیں ہوگی ۔ میریحییٰ ؒ نے راجہ کو معاف کر دیا اور اس کے ساتھ اس کی گویائی بھی بحال ہوگئی ۔ میر صاحب نے لب ِدریا خانقاہ ِمعلی شیگر ۱۱۱۷ھ میں تعمیر کی ۔ آپ نے شیگر بھر میں سات خانقاہیں بنوائیں جو شیگر خاص ، سرفہ چھورکاہ ، سوگولدو، حشوپی ، الچوڑی ، وزیر پور اور گلاب پور میں موجود ہیں اور سب کا طرز ِتعمیر یکسان ہے ۔ ان میں معتکفین کے لئے چلہّ خانے موجود ہیں ۔ ان کے علاوہ تستے سے سلدی کے علاقے تک چودہ مساجد بھی تعمیر کرائیں ۔ میر یحییٰ ؒنے شیگر میں ہی وفات پائی اور خانقاہ ِ شیگر خاص کے احاطے میں مدفون ہوئے ۔ (48) شیگر کے اہلِ نوربخشیہ سلسلۂ طریقت کو میر یحییٰ ؒ اور ان کی اولاد کی طرف منتقل کرتے ہیں ۔ موجودہ دور میں سید نواز حسین صاحب اس خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔
میر یحییٰ ؒکے بھائی میر مختار ؒ جب کریس پہنچے تو کریس کے راجہ ، وزراء اور عوام نے والہانہ استقبال کیا ۔ کریس سے چھوربٹ تک کے عوام جمع ہو گئے اور چند دنوں میں ہی آپ کے لئے ایک رہائش گاہ اور ایک بڑی مسجد تعمیر کی گئی ۔اسی اثنا میں راجہ خپلو نے میر مختارؒ کے نام خط لکھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اہلِ شیگر سے آپ کا بدلہ لینے کے لئے تیار ہوں۔ اگر آپ خپلو میں مستقل قیام فرمائیں تو آپ کی مہربانی ہوگی ۔ لیکن سید مختار ؒ نے جواب لکھا کہ مسلمانوں کے آپس کی لڑائی میں مرنے والا اور مارنے والا دونوں جہنمی ہوتے ہیں ۔ جہاں تک خپلو والوں کا تعلق ہے یہ لوگ میرے ساتھ بہت مہربانی سے پیش آئے ہیں اور ان کی بدولت میرا تحفظ مزید یقینی ہو گیا ہے ۔ فی الحال میں اہلِ کریس کو چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن خدانخواستہ اگر ایسے حالات پیدا ہوگئے تو میری منزل خپلو ہی ہوگی ۔ (49)
آپ نے کریس سے چھوربٹ تک بائیس خانقاہیں اور بے شمار مسجدیں تعمیر کرائیں ، جن میں خپلو کی عظیم الشان مرکزی خانقاہِ معلی بھی شامل ہے جس کی بنیاد میرؒ نے ۱۱۲۴ھ میں اپنے ہاتھوں سے رکھی۔ یہ شمالی علاقہ جات کی سب سے بڑی خانقاہ ہے جس کی لمبائی ۲۹ فٹ ۱۶ انچ اور چوڑائی ۸۲ فٹ ۵ انچ ہے ۔
میر مختار ؒکے اٹھارہ بیٹے تھے جنہیں بلتستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغ کے لئے بھیج دیا گیا ۔ سادات بلتستان کی اکثریت میر مختار ؒ کی نسل سے ہے ۔ میر مختار ؒنے ’ فقہ احوط ‘ کی فارسی شرح ’سراج الاسلام ‘ کے نام سے لکھی جو دو بار شائع ہو چکی ہے ۔ آپ کا انتقال ۶۷ سال کی عمر میں ۱۱۳۱ھ میں کریس میں ہوا جہاں آپ کا مزار آج بھی موجود ہے ۔ چوب کاری کا یہ شاہکار شکست و ریخت سے دوچار ہے ۔ (50)

میر نجم الدین ثاقب ؒ


حضرت میر نجم الدین ثاقب ؒمیر جلال الدین کے بیٹے اور میر مختارؒ کے پوتے تھے۔ آپ کا نام نجم الدین ثاقبؒ آپ کے دادا نے رکھا تھا ۔ میر مختارؒ کے پوتوں میں آپ سب سے بڑے تھے اور میر جلال کے اکلوتے فرزند تھے ۔ میر جلال الدین کی شہادت کے بعد میر مختارؒ نے آپ پر خصوصی توجہ دی اور علومِ ضروریہ سے مشرف فرمایا ۔ سانحۂ شیگر کے چند سال بعد اہالیانِ شیگر نے میر مختارؒ سے درخواست کی کہ اپنے پوتوں میں سے ایک یا دو کو یہاںدرس و تبلیغ کے لئے روانہ فرمائیں ۔ میر مختارؒ نے اہلِ شیگر کی سابقہ بے وفائیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سید نجم الدین اور سید ابوالحسن کو شیگر روانہ فرمایا ۔ صاحب ’ تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان ‘ کی روایت کے مطابق میر مختار ؒ نے سید نجم الدین کو دہلی جا کر شاہ ولی اﷲ ؒ کے مدرسہ رحیمیہ میں داخلہ لینے کی ہدایت کی ۔ چنانچہ میر نجم الدین نے دہلی جا کر مدرسہ رحیمیہ میں چند سال قیام فرمایا اور فارغ التحصیل ہو کر واپس بلتستان تشریف لائے اور موضع چھورکاہ میں خانقاہ ِ کریس کے نقشے کے مطابق خانقاہ تعمیر فرمائی جس کی تاریخ ِ بنیاد سید میر عبدالعلی تحسین کشمیری کے دیوان میں یوں مرقوم ہے
۔
صد شکر کہ خانقاہِ عالی بنیاد
مبنی شدہ از بھرِ نماز و اوراد
تاریخِ بنایش زِ خرد می جستم
تحسین بدی گفت کہ حق مرضی یاد(۱۱۴۲ھ)
میر نجم الدین ثاقب نے مسائل ِ ضروریہ سے متعلق چالیس احادیث کا مجموعہ ’ اربعین ِ نجم ثاقب ‘ کے نام سے مرتب فرمایا تھا جس کا ذکر حاشیہ سراج الاسلام صفحہ نمبر ۱۵۶ پر ملتا ہے ۔ آپ نے ایک دیوان بھی تالیف فرمایا تھا جو ضائع ہو چکا ہے مگر کچھ اوراق ِ ماندہ دستیاب ہیں جن میں سے دو اشعار بطورِ نمونہ درج کئے جاتے ہیں ۔
ای برادر جھد کن تا تو نباشی بی نماز
جھد کن ھشیار شو ھرگز نہ باشی بی نماز
ای عاشقِ صادق بیا برخیز وقتِ صبح دم
ای طالبِ لایق بیا برخیز وقتِ صبح دم
۱۵۷ اشعار پر مشتمل ایک فارسی قصیدہ بوق بوق نامہ میں بھی نقل ہوا ہے ۔ میر نجم الدین ثاقبؒ نے اپنے دادا میر مختارؒ کی شرح فقہ احوط ’ سراج الاسلام ‘ پر حاشیہ بھی تحریر فرمایا ۔
آپ شیگر اور کریس دونوں مقامات پر باری باری رہائش اختیار کرتے اور تدریس و تبلیغ میں مصروف رہتے تھے ۔ آپ نے ۱۱۶۳ھ میں کریس میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے ۔ (51) تحسین کشمیری نے آپ کی تاریخ ِ وفات یوں نظم کی ہے ۔
زبدۃ الامثال میرانِ عراق
زحت چون بر بست ازین نیلی رواق
طبع ِتحسین با خرد شد جفت و گفت
میر نجم الدین ثاقب بود طاق (۱۱۶۳ھ)(52)

میر علی رضاؒ

میر علی رضا ؒمیر مختار ؒکے پوتے اور میرمختار کے چچا زاد بھائی تھے ۔ آپ کی تاریخ ولادت ووفات کے بارے میں صحیح معلومات دستیاب نہیں ہیں ۔ آپ کی کچھ کرامات کا ذکر سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہوا دورِ حاضر تک پہنچا ہے ۔ میر مختار ؒ نے اپنے حیات میں آپ کو اہلِ سرمیک کے درس و تبلیغ کے لئے مقرر فرمایا تھا ۔ آپ نے اپنے جد ّ ِ امجد کے علاوہ اپنے تایا زاد میر ثاقب سے تعلیم حاصل کی اور شریعت و طریقت میں حصولِ کمال کے بعد اخذ ِ بیعت اور تربیتِ مریدان کی اجازت بھی حاصل کی ۔ تاہم میر نجم الدین کے زمانہ حیات میں آپ نے سرمیک میں خانقاہ تعمیر نہیں کی اور نماز ِ جمعہ کریس میں ہی ادا کرتے رہے ۔ کریس سے واپسی پر نقپو کتبہ نامی جگہ ایک چٹان پر نماز ادا کرتے تھے ۔ یہ چٹان میر علی رضا ؒکے مصلیٰ کی حیثیت سے آج بھی محورِ عقیدت ہے ۔ میر نجم الدین کی وفات کے بعد آپ سرمیک آئے اور کچھ عرصہ تبلیغ کرتے رہے ۔ آپ نے سرمیک میں خانقاہ کی بنیاد رکھی جو پانچ برس کی مدت میں مکمل ہوئی ۔ اس خانقاہ کی تاریخ ِ تکمیل بھی کلیاتِ تحسین میں مرقوم ہے ۔
سیدم مرشد وا لطف محمد رفیق
نجم درخشانِ دین ھادیم اندر طریق
آیتِ این خانقاہ کردم از ایزد سوال
حاتفم از غیب گفت قل ھی بیت العتیق(۱۱۶۷ھ)(53)
آپ نے بقیہ زندگی سرمک میں گزار کر یہیں وفات پائی ۔ تاریخ ِ وفات تحسین کشمیری نے یوں محفوظ کی ہے ۔
سر اندوہ بر زر و فرمود
بامامِ رضا بود نزدیک(۱۱۸۷ھ)(54)
علاقہ سرمک کے نوربخشی سلسلہ ٔذہب کے شجرہ ٔ طریقت میں میر مختار اخیار ؒکے بعد سید علی رضاؒ اور ان کے خلفاء کے نام گنتے ہیں ۔ میر علی رضاؒ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ’ فقہ الاحوط ‘ کی محشیٰ فارسی شرح کا قلمی نسخہ محفوظ ہے ۔

میر محمد نورانی ؒ

آپ حضرت میر نجم الدین ثاقب ؒ کے فرزند اور خلیفہ تھے ۔ آپ نے علوم ِ ظاہری و باطنی اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کئے ۔ آپ اہلِ بلتستان کے واحد پیر و مرشد تھے ۔ آپ نے اپنے آباؤو اجداد کی ستاون (۵۷) کتابوں پر اپنی مہر ثبت فرما کر انہیں آئندہ زمانوں کے لئے محفوظ کر دیا ہے ۔ حضرت میر محمد نورانی ؒ نے کریس میں ۱۱۸۶ھ میں وفات پائی ۔ تاریخ ِ وفات مزار کے دروازے پر کندہ ہے ۔ (54)

میر محمد شاہ مخدوم الفقراء


آپ میر محمد شاہ نورانی کے فرزند تھے اور اپنے دادا میر نجم الدین ثاقبؒ کی حیات میں تولد ہوئے ۔ میر نجم الدین ثاقب ؒ نے آپ کا نام اور لقب تجویز فرمایا ۔ والد کی وفات کے وقت آپ کی عمر پچیس سال کی تھی ۔ آپ نے تحصیل ِ علم اپنے والد بزرگوار سے کی ۔ اپنے وقت کے واحد مرشد اور فقرا کے مرجع و ماویٰ تھے ۔ آپ نے دو بیٹے میر جلال اور میر قاسم یتیم چھوڑ کر رحلت فرمائی ۔ یبگو عماچہ اور مقپون حکمرانوں کی خانہ جنگی کی پریشانی میں کسی کو آپ کی تاریخ ِ وفات تحریر کرنے کا موقع نہیں ملا۔ آپ کے اجازت یافتہ مریدوں میں سے ایک میر سید ابراہیم بلغاری تھے ۔ (55) باور کیا جاتا ہے کہ حضرت میر محمد شاہ مخدوم الفقراء کے بعد سادات اور نوابان کے درمیان رشتہ داری اور آمدو رفت کے نتیجے میں ’دعواتِ صوفیہ ‘ کے کلماتِ اذان میں اضافے کیے گئے ۔ ’ فقہ ٔ احوط‘ کا فارسی متن محفوظ رہا تا آنکہ ۱۳۳۳ھ میں سید قاسم شاہ چھوربٹی جو سادہ لوح بزرگ تھے ، سراج الاسلام کو چھپوانے کی خاطر متھرا پہنچے تو سید ایثار حسین مینیجر مطبع اعجاز حیدری پریس متھرا نے سید صاحب کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر متن اور حاشیے میں تحریفات کیں ۔ نیز کتاب کے جملہ حقوق اپنے نام ہبہ نامہ لکھوا کر رجسٹری کروا دیئے اور سرورق پر کتاب کا نام ’’ فقہ امامیہ معروف بہ نوربخش ‘‘ لکھوا دیا ۔ (56)

میر خانعلوم


میر محمد شاہ مخدوم الفقراء کی وفات کے بعد نوربخشی دنیا میں علومِ شریعت و طریقت کی لو مدھم پڑنے لگی ۔ میر خانعلوم میر محمد شاہ کے پوتے تھے ۔ مخدوم الفقراء کے بعد پیریت میر محمد اکبر سے ہوتی ہوئی میر خانعلوم کو منتقل ہوئی ۔ میر خانعلوم کا قیام کریس میںتھا ۔ ان کے زمانہ میں اہلِ سنت کے ایک عالمِ دین ملاّ پشاوری جن کا اصل نام محمد عمر تھااور چارسدہ کے رہنے والے تھے ، محمد حسین کا نام اختیار کر کے کشمیر کے راستے بلتستان پہنچے اور میر خانعلوم نے انہیں کریس مدعو کر لیا ۔ تشنگان ِ علم جوق در جوق ملا پشاوری کے پاس پہنچے ۔ ان کے شاگردو ں میں اخوند سلطان علی بلغاری ، یبگو محمد علی خان ثانی ، وزیر محمد رضا شیگر، اخوند محمد شیگر ، اخوند قربان علی طورتک اور بابا خلیل خپلوی وغیرہ شامل تھے ۔ ان میں سے بابا خلیل خپلو ی ( اپوچو خلیل ) یبگو محمد علی خان والی ٔ خپلو کی فرمائش پر اردو سیکھنے کے لئے کشمیر روانہ ہوئے اور کبروی ہمدانی سلسلے کے شیخ بابا احمد سے بیعت ہوئے ۔ بابا خلیل کے حلقہ ٔ ارادت میں بابا نور علی مچلو ، بابا سلطان علی ڈوغونی اور بابا محمد رضا شیگر جیسے بزرگ شامل تھے ۔ (57)
دوسری طرف پیریت موروثی طور پر میر محمد شاہ زین الاخیار کو منتقل ہوئی جو اولاد ِ نرینہ سے محروم تھے ۔ ۱۹۴۸ء میں زین الاخیار کی وفات کے بعد ان کے داماد میر عون علی کی کمسنی کے باعث سید مختار حسین نوربخشیہ کے عبوری پیر اور خانقاہِ معلی خپلو کے میر واعظ بنے ۔ ان کے چھوٹے بھائی سید علی کریسی نے جو پیریت کا عہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے درپردہ مذہب ِ تشیع اختیار کیا اور تقیہ میں رہ کر اہلِ نوربخشیہ کی ایک کثیر آبادی کو تبدیلی ٔ مسلک پر آمادہ کرنے کے علاوہ نوربخشی تعلیمات میں نت نئی تبدیلیاں پیدا کیں ۔ راجہ خپلو ناصر علی خان کے سیاسی دباؤ کے تحت خود سید مختار حسین نے بھی ان جدتوں کی تائید کی ۔ اس صورت حال میں مولوی حمزہ علی خپلو ی ، سید جمال الدین سینو ، سید عباس غورسے ، مولوی محمد علی ڈوغنی اور مولانا محمد ابراہیم چقچن جیسے بزرگوں نے احیائے صوفیہ کے لئے گراں قدر کوششیں کیں۔ سید قاسم شاہ کھرکوی بھی انہی بزرگوں کے ہمعصر تھے ۔ نوربخشیہ میں صوفیہ اور امامیہ کی کشمکش اسی دور میں شروع ہوئی ۔ علامہ سلطان علی بلغاری ، سید قاسم شاہ کھرکوی ، مولوی حمزہ علی اور سید علی کریسی کے حالات ذیل میں قدرے تفصیل سے درج کئے جاتے ہیں ۔ اس زمانے میں کاچو حسن خان رئیس اعظم خپلو نے احیائے دین کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔ کاچو حسن خان نے جو کاچو خانپہ کے نام سے معروف تھے ، نوربخشی انجمن سازی اور مدارس و مساجد کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کوہِ منصوری میں بھی ایک نوربخشی مدرسہ قائم کیا جہاں مروجہ تعلیم کا بھی اہتمام تھا ۔ نوربخشی بچوں کے لئے ’ قاعدہ ٔ بغدادی ‘ بھی انہی نے شائع کروایا ۔

علامہ سلطان علی بلغاریؒ


علامہ سلطان علی بلغاریؒ ۱۲۶۰ھ میں بلتستان کے موضع بلغار میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے اجداد امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کے مریدوں میں سے تھے اور حضرت امیر ؒ نے اہلِ بلغار کے رشد و ہدایت کے لئے انہیں مقرر فرمایا تھا ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ملا قاسم سے حاصل کی ۔ بعدازاں مزید تعلیم کے لئے ملاپشاوری کے ہاں سکسہ چلے گئے ۔ بوا جوہر علی جوہر ،آغا شاہ عباس ، بوا قربان علی اور راجہ حاتم خان ثانی آپ کے ہمدرس تھے ۔ محمود مفکر کے بقول علامہ سلطان نے راجہ حاتم کے دور میں صوفیانہ معاشرے کی تشکیل کے لئے ایک تحریک کا آغاز کیا ۔ اخوند سلطان علی ؒ دین میں جدت کو پسند نہیں کرتے تھے اور بعض بدعتوں کی مخالفت کے نتیجے میں یبگو شیر خان والی ٔ خپلو نے آپ کو کئی سال تک جائیداد سے محروم رکھا تاآنکہ آپ کی ایک منقبت جو امیر المؤمنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی شان میں تھی یبگو کی نظر سے گزری تو اس نے خوش ہو کر نصف جائیداد واپس کر دی ۔ آپ درس و تدریس کے علاوہ ہمہ وقت مطالعے اور کتب نویسی میں مشغول رہتے تھے اور فقہ ، حدیث و تصوف کی بہت سی کتابیں اپنے ہاتھ سے لکھیں ۔ (58) آپ کے حلقۂ درس میں آپ کے بھائی سودے علی ، بابا سلطان علی ڈوغنی ، بابا سید خلیل تھلے ، سید قاسم شاہ کھرکوی ، ساداتِ کریس ، اولادِ میر خانعلوم ، علاقہ کرگل پوریگ کے اخوند اور مولوی عبدالرحیم غواڑی وغیرہ شامل تھے ۔ ایک عرصہ تک آپ یبگو حاتم خان ثانی کے محل میں بھی معلم رہے لیکن ان کے تشیع اختیار کرنے کے بعد آپ نے ان سے علٰیحدگی اختیار کر لی اور بلغار میں اپنے مدرسے میں واپس تشریف لائے ۔
علامہ سلطان کو شعرو سخن میں نمایاں مقام حاصل تھا ۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ۱۲۹۵ھ میں مکمل ہوا جب ان کی عمر تیس سال تھی ۔ ابتدا میں انہوں نے سعدی شیرازی کا تتبع کیا بعد ازاں ان کا انفرادی رنگ نکھر آیا ۔ ان کی تصانیف میں بوق بوق نامہ زاد الجنان، الوافیہ اور منظوم فقہ ٔاحوط کے دو مختلف نسخے شامل ہیں ۔ ان کتابوں کے قیمتی قلمی نسخے ماضی قریب میں دستیاب ہوئے ہیں۔
’ بوق بوق نامہ‘ ایک صوفیانہ تصنیف ہے جو پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اوّل میں بلتستان میں اشاعت ِاسلام ، باب ِدوّم میں مسئلہ ٔممکن الوجود ، باب ِسوّم میں آفاق و انفس ، باب ِچہار م میں عالم ِلطیف و عالم ِکثیف اور باب ِپنجم میں اصطلاح ِاہل ِتصوف کا بیان ہے ۔
’زاد الجنان ‘ ایک معرکۃ الآرا مثنوی ہے جو ۳۸۲ صفحات پر مشتمل ہے ۔اس میں اسلام کے عقائد و عبادات کا بیان اور حضور نبی کریم اور اہل بیت اطہارؑ کی منقبت فارسی اور عربی نظم میں دلنشین انداز میں پیش کی گئی ہے ۔ کچھ لوگوں نے اسے میر نجم الدین ثاقب کی تصنیف قرار دیا ہے مگر محمود احمد مفکر کی تحقیق کے مطابق میر نجم الدین ثاقب ؒنے ۱۱۵۴ھ میں وفات پائی جبکہ ’ زادالجنان ‘ کا زمانۂ تصنیف ۱۲۹۳ھ ہے جو میر خانعلوم کا زمانہ ہے ۔ قلمی نسخے کے آخر میں یہ شعر مرقوم ہے ۔59)
کنم ختم اوراق زادالجنان
ھمیں یک نشانی ز سلطان بدان(60)
فقہ احوط منظوم سلسلہ ٔعالیہ نوربخشیہ کی مشہور عربی کتاب ’ الفقہ الاحوط ‘ کا منظوم فارسی ترجمہ ہے ۔ فقہ جیسے خشک اسلامی مضمون کو منظوم کرنا بلا شبہ ایک نادرِروزگار علمی کارنامہ ہے ۔ اس کے دو الگ الگ نسخے جو مختلف بحروں میں ہیں ، غلام حسن حسنو کی ذاتی لائبریری میں موجود ہیں ۔ ایک نسخے میں آپ سید العارفین میر سید محمد نوربخشؒ کی یوں مدح سرائی کرتے ہیں ۔
شہ عارفان قدوۃ الاولیاست
مہ کاملان زبدۃ الاصفیاست
مسّمی محمد لقب نوربخشؒ
بجوید بہ اھلِ طلب نوربخشؒ
سیادت نسب سیّدِ موسوی
سعادت طلب خسروِ معنوی
حکیمِ دل و جانِ اھلِ قلوب
طبیبِ مریدان بہ کشف العیوب
جبکہ دوسرے نسخے میں آپ سید العارفین کی شان میں یوں رطلب اللسان ہیں ۔
بد محمد نامِ پیرِ ما محمد نوربخشؒ
در قلوبِ سالکان از نورِ عرفان نوربخشؒ
قدوۂ ابرارِ عالم پیشوای اولیاء
زبدۂ اخیارِ آدم مقتدای اصفیاء
مشعلِ شب خانۂ دین موقنِ اھلِ شکوک
مرأت ایزدنما آیینۂ راہِ سلوک
بر سرِ تختِ شریعت بادشاہِ تاجدار
سقفِ گردونِ طریقت را سراجِ دہ چھار
دّرِ دریای حقیقت نورِ فانوسِ یقین
مھرِ چرخِ معرفت زینت دہِ گلزارِ دین
قطبِ اکرم رھنمای فرقۂ اوتاد اوست
غوثِ اعظم فخرگاہِ زمرۂ اوتاد اوست
در طریقت منبعِ اذکار مقبولات اوست
در شریعت مجمعِ معقول و منقولات اوست
مظھرِ اسرارِ عرفان معدنِ دّرِ علوم
مصدرِ انوارِ ایمان مرکزِ علمِ نجوم
موضح شبھاتِ علمِ ظاھری و باطنی
منصحِ ابنای عالم ناصرِ پست و سنی
واقفِ حلالِ عقدِ مشکلِ فق و اصول
مرشدِ مردانِ دین و موصلِ شان در قبول
روضۂ ریحانِ شرع و ملتِ خیرالانام
شمعِ مشکوٰۃ ولای خاندانِ احترام
پس بگو ای صوفیان حمدِ خداوندِ جلیل
زانکہ او گسترد بر ما این چنین ظل ظلیل
رحمت و رضوانِ تو از ما ھزاران بارھا
باد بر روحِ محمد نوربخشِؒ پارسا(61)
الوافیہ مشہور درسی کتاب کافیہ کے جواب میں لکھی گئی ۔
علامہ سلطان علی کو ۱۳۰۵ھ میں شیگر کے علاقہ میں ناشپاتی میں زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ اس وقت آپ کی عمر ۴۵ سال تھی ۔ آپ کا مزار خانقاہ ِمعلی بلغار کے احاطے میں ہے ۔

سید قاسم شاہ کھرکوی


سید قاسم شاہ کھرکوی۱۲۸۰ھ میں علاقہ خپلو کے موضع کھرکو ہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید محمد ابن سید جمال الدین تھا ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور اخوند عبدالصمد بلغاری سے حاصل کرنے کے بعدبواعباس چھورکاہ سے بھی سلسلہ ٔتلمذ اختیار کیے رکھا ۔ بعد ِازاں آپ نے لکھنو ٔ بھارت کا بھی رخ کیا ۔ آ پ عربی اور فارسی کے انشاء پرداز تھے ۔ آپ کی تصنیف ’تحفۂ قاسمی ‘ ۱۳۴۰ ھ میں شائع ہوئی ۔ آپ نے میر سید محمد نوربخشؒ کی کتاب ’ اصول اعتقادیہ ‘ کا بھی فارسی ترجمہ کر کے شائع کیا ۔’ رسالہ نوربخشیہ ‘ اور ’عتر ت الطاہرہ ‘ نامی کتابوںکو سید محمد نوربخشؒ سے منسوب کرکے شائع کیا جو غالباً ان کی اپنی تصنیف ہے ۔ نیز ’ مصابیح الاسلام ‘ نامی کتاب کو سید قاسم فیض بخش ؒ سے منسوب کر کے شائع کیا لیکن یہ نسبت بھی درست نہیں ۔ آپ نے کھرکو میں ایک مدرسہ’ مدرسہ نصرت الاسلام نوربخشیہ ‘ کے نام سے کھولااور ایک لائبریری قائم کی جو قاسمی لائبریری کے نام سے آج بھی موجود ہے ۔ سوغا کے نزدیک کالوچھی تھنگ میں آپ نے ایک مسجد بھی تعمیر کی جو قاسمی مسجد کے نام سے موجود ہے ۔ آپ کے ہم عصر علماء میں پیر طریقت سید محمد شاہ کریس ، مولانا حمزہ علی خپلو ، مولانا ابراہیم خپلو تھو کھور، سید قاسم شاہ چھوربٹ ، علمائے اہل ِحدیث مولانا رضا الحق کریس ، مولانا کریم بخش غواڑی ، اخوند عبدالصمد اور اہل ِتشیع کے عالم سید عباس شاہ خپلواور سید علی کریسی وغیرہ شامل تھے ۔ سید قاسم شاہ نے ۱۴۵۲ھ میں وفات پائی۔ آپ کی اولاد میں سید مختار فخر العلماء چکروٹہ بھارت میں اہل ِنوربخشیہ کے خطیب اور پیش امام تھے ۔ سید عباس شاہ راولپنڈی واہ کینٹ میں امام اور خطیب تھے ۔تیسرے فرزند سید محمد شاہ کھرکو میں ہی رہے اور ۱۹۷۷ء میں وفات پائی ۔ (62)

مولوی حمزہ علی ؒ


مولوی حمزہ علی ؒ کا تعلق علاقہ خپلو کے محلہ سترونپی سے تھا ۔ آپ ۱۸۹۷ء کے لگ بھگ خپلو میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا شجرۂ نسب میر شمس الدین عراقی ؒ کے ایک اہم مرید مولانا حیدر سے ملتا ہے ۔ مولانا کے جدِ امجد میر باقر ؒ نے جو ایک صاحبِ کرامت ولی تھے ، خپلو باقر پی گون میں رہائش اختیار کی ۔ مولوی حمزہ علی ؒ کے والد کا نام خلیل محمد تھا ۔مولانا نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی ، پھر مزید تعلیم کے حصول کے لئے شملہ چلے گئے جہاں جامع مسجد لنڈاہور کے مولانا بنیامین سے درس لیتے رہے جو ۱۹۴۷ء تک جاری رہا ۔ شملہ میں قیام کے دوران آپ روزی علی جو انجمن صوفیہ نوربخشیہ کے جنرل سکریٹری تھے ، کی رہائش گاہ پر قیام کرتے تھے ۔ وہیں آپ نے ایک مدرسہ قائم کیا جس میں نوربخشی مزدوروں کو دین کی تعلیم دیتے تھے ۔ آپ کوئی مشاہرہ نہیں لیتے تھے تاہم نوربخشی برادری جو امداد دیتی تھی اس سے آپ نے گزر اوقات کے علاوہ اپنی تین کتابیں شائع کیں اور حج بیت اﷲ سے بھی مشرف ہوئے ۔ آپ کے شاگردوں میں اخوند عبدالکریم ڈنس ، حسین کریمپہ سترونپی ، اخوند حسن برقچھن ژھر ، موسٰی گونمہ براہ ، عبدالرحمن براہ بروقپہ ، اخوند بغدول کھرکو ، اخوند محمد علی ڈوغنی ، غلام محمد براہ ، علام مہدی سرمک ، مولوی عبدالرحمن سکسہ ، اور مولوی محمد علی فرانو حال مقیم اسلام آباد وغیرہ شامل ہیں ۔ آپ نے منصوری میں مذکورہ انجمن صوفیہ نوربخشیہ کی بنیاد رکھی اور احیائے صوفیہ کے لئے قابل ِقدر خدمات سرانجام دیں۔ ۱۳۶۱ھ میں ایک اشتہار ’ واجب الاظہار الاختلاف بین الصوفیہ نوربخشیہ و شیعہ امامیہ ‘ ( ۷ ستمبر۱۹۴۱ء ) کو شائع کروا کر بلتستان میں تقسیم کروایا ۔ بعد ازاں انہوں نے مذہب ِصوفیہ کے مذہب ِامامیہ اور مذہب ِاہل سنت والجماعت کے بنیادی اعتقادی اور فروعی فرق کو ’ نورالمؤمنین کشف التفاوت‘ سے نام سے شائع کروایا ۔ یہ کتاب ۴۴۸ صفحات پر مشتمل ہے اور ۱۸ رمضان المبارک ۱۳۷۰ھ کو مکمل ہوئی ہے ۔
۵ ستمبر ۱۹۴۶ء کو انجمن صوفیہ نوربخشیہ منصوری کا شائع کردہ اشتہار بیدار بشمول فتویٰ جات مولانا ہی کا تحریرکردہ ہے جو تاحال محفوظ ہے ۔
’عقائد المؤمنین ‘ نامی کتاب ۲۰ اکتوبر۱۳۳۶ء ( ۱۵ شعبان ۱۳۵۵ھ) کو شائع ہوئی ہے ۔
مولوی امیر حمزہ کی تیسری مقبول عام تصنیف ’فلاح المؤمنین ‘ بظاہر دعوات صوفیہ اور رسالہ امامیہ کا اردو ترجمہ ہے جو دہلی سے شائع ہوئی اس میں ارکان ِدین ، اوراد و ادعیہ اور متفرق مضامین شامل ہیں اور۲۲ شوال ۱۳۴۸ھ کو مکمل ہوئی ہے ۔
آپ کی چوتھی تالیف ’ قائم الحق ‘ ہے جس میں کچھ اعتقادی امور کا بیان ہے ۔ قائم الحق کی اشاعت ’ عقائد المؤمنین ‘ سے قبل ہوئی جبکہ ’ نورالمؤمنین ‘ کی اشاعت ۱۹۵۶ء میں راولپنڈی سے ہوئی ۔ مولانا عربی ، فارسی اور اردو میں نثر لکھنے کے علاوہ شاعری کا بھی ملکہ رکھتے تھے ۔ انہوں نے مذکورہ بالا کتب کے علاوہ ’ موج البکا ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جو ابھی تک شائع نہیں ہو سکی ۔ آپ کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں کتابیں موجود تھیں جن میں سے کچھ وہ مختلف موقعوں پر بلتستان منتقل کر پائے لیکن اکثر ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں تلف ہوگئیں۔ مولانا نے تجرد کی زندگی اختیار کی ۔ تقسیم ِ ہند کے بعد آپ راولپنڈی آگئے جہاں آرمی ہیڈکوارٹر میں آپ کو ملازمت ملی ۔ سات سال کی ملازمت کے بعد آپ نے ۱۹۵۶ء میں راولپنڈی میں وفات پائی ۔ (63)

سیدعلی کریسی


اب تک جن نوربخشی علماء کا ذکر ِ خیر کیا جا چکا ہے انہوں نے نوربخشیت کے استحکام کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں مگرسید علی کریسی نوربخشی تاریخ میں ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے ان تمام عظیم بزرگوں کی عظیم مساعی اور ا ن سے پیدا شدہ نتائج کو معکوس کر دیا ۔ سید علی کریسی نے نہ صرف نوربخشی عوام کی ایک کثیر تعداد کو تبدیلی ٔ مذہب پر مجبور کر کے بیشتر علاقوں میں نوربخشی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا بلکہ خود نوربخشیوں میں ایسے اختلافات کے بیج بو دیئے جن کے اثرات زمانہ ٔ حال تک موجود ہیں ۔
سید علی کریسی ۱۳۰۹ھ میں کریس میں پیدا ہوئے ۔ (64) وہ سید عون علی کے فرزند اور پیر خانعلوم کے پوتے تھے ۔ ان کے بڑے بھائی سید مختار حسین پیر محمد شاہ زین الاخیار کی وفات کے بعد ان کے داماد میر عون علی شاہ کی کمسنی کی وجہ سے نوربخشیوں کے پیر بنے ۔ اپنی تصنیف ’ کاشف الحق‘ میں سید علی نے اپنی ابتدائی تعلیم اور تبدیلی ٔ اعتقاد کے بارے میں یوں لکھا ہے ۔
’’ اپنے بھائی میرسید مختارؒ سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعدمیں نے سنی عالم ِدین مولوی رضاء الحق کی شاگردی اختیار کی ۔ چھ سال کی مدّت میں میں نے ان سے عربی قواعد ، حدیث اور تفسیر کی کتابیں پڑھیں ۔ چونکہ ہمارا خاندان نوربخشی مسلک سے تعلق رکھتا تھا ، میں نے چند ایسے مسائل پر جن پر شیعہ اور سنی میں اختلاف تھا ، میر سید محمد نوربخشؒ کا مسلک معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہوئی ۔ تب میں نے سوچا کہ اگر نوربخشیہ ایک آزاد مذہب ہے تو ہمیں کسی اور مسلک کا محتا ج نہیں ہونا چاہیے اور ہر شرعی مسئلہ کا جواب نوربخشی کتابوں سے ہی ملنا چاہئے ۔ اس دن سے مجھے حقیقت کی جستجو شروع ہوئی اور میں نے سیرت اور تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ پہلے میں نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا جن میں میر سید محمد نوربخشؒ کی حیات کے بارے میں معلومات تھیں تاکہ جان سکو ںکہ کیا واقعی میر سید محمد نوربخشؒ نے کسی نئے مذہب کی بنیاد رکھی ہے یا وہ بھی شیعہ یا سنی مذاہب میں سے کسی سے تعلق رکھتے تھے اور لوگوں نے یونہی ایک مذہب کو ان سے منسوب کر لیا ۔ آخرکار میری کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سید محمد نوربخشؒ شیعہ تھے لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے انہوں نے تقیہ اختیار کر لیا تھا جیسا کہ قاضی نوراﷲ شوستری نے اپنی کتاب مجالس المؤمنین میں لکھا ہے ۔‘‘(65)
جرمن محقق ڈاکٹر اینڈریز ریک لکھتے ہیں ’’ سید علی نے دراصل نوربخشیہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور مجالس المؤمنین کے حوالے سے اپنے دعویٰ کو تقویت دی جو بذات خود ایک ایسے مصنف کی کتاب ہے جو ’شیعہ تراش ‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ (66) بہرحال سید علی نے نوربخشیہ چھوڑنے کو ہی نوربخش کو سمجھنے کے مترادف جانا ۔ انہوں نے شیعہ بننے کا اعلان کئے بغیر ہی سادہ لوح نوربخشی عوام کو اپنے ڈھب پر لانا شروع کیا اور شرعی رسومات مثلاً مجالس ِ محرم ، شیعی ائمہ کے ایام ِ وفات و ولادت منانے اور تقلید ِ حی پر زور دینا شروع کیا ۔ آخر ان کے پیروکاروں نے انہیں کھلم کھلا شیعہ ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور کیا ، لیکن ان کے بڑے بھائی سید مختار حسین ( متوفی ۱۹۵۱ئ) جو دو بار نوربخشیہ کے عبوری پیر بنے اور تیس برس تک مسلسل خپلو میں نوربخشیہ کے امام ِ جمعہ رہے ، تقیہ میں ہی رہے اور زندگی کے آخری سانسوں تک اپنے تشیع کو چھپائے رکھا ۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بسترِ مرگ پر خپلو کے شیعی رہنما ( سید شاہ عباس ) سے عوامی اجتماعات میں کی گئی مخالفت کی معافی مانگی جو کہ نوربخشیوں کے دلوں سے شکوک و شبہات دور کرنے کی غرض سے کی گئی تھی۔ (67) کاشف الحق میں سید مختار حسین کی دوراندیشی کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ سید مرتضی کے برعکس جو اپنے عقیدے کے کھلم کھلا اعلان کی وجہ سے ناکام ہوئے سید مختار حسین نے بہت سے مریدوں کو یا تو شیعہ بنا دیا یا شیعہ مائل نوربخشی ۔ (68)
ریک مزید لکھتے ہیں ۔ ’’ سید علی کی جوانی میں ہی ۱۹۰۶ ء میں پیر خاندان کے ایک اور چشم و چراغ سید ابوالحسن نے جو کھلم کھلا مذہب ِ اہل ِ حدیث اختیار کر چکے تھے کریس کی نوربخشی خانقاہ میں محرم کی تقریبات منانے کے خلاف تحریک کا آغاز کیا مگر ابو الحسن مناظرے میں سید مختار حسین کے ہاتھوں شکست کھا گئے ۔ (69) تاہم سید علی کا بیان ہے کہ وہابی نوربخشیوں اور شیعوں کے درمیان اختلاف کا بیج بونے میں کامیاب ہو گئے ۔ سید ابوالحسن کی چال کامیاب ہوئی اور ’ سادہ لوح ‘ شیعوں نے بے گناہ نوربخشیوں پر حملے شروع کر دیئے ۔ نتیجتاً شیعوں اور نوربخشیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا ہوگئی اور شیعوں نے گویا اپنے جسم کا ایک حصہ اپنے ہاتھوں سے کاٹ ڈالا ۔(70) لیکن خود سید علی نے بعد کے چار پانچ دھائیوں میں جو کامیابیاں حاصل کیں ان سے ان کے اس قنوطی نقطۂ نظر کی تردید ہوتی ہے ۔ سید علی نے پہلے پہل نوربخشیوں کے گڑھ کریس میں شیعہ کو رواج دیا اور رفتہ رفتہ انہوں نے نر سے لے کر کرگل تک ہزاروں نوربخشیوں کو شیعہ بنا دیا اور اس سلسلے کو پوریگ اور لداخ تک پہنچایا ۔ سید علی کے فرزند نے ان کے کھلم کھلا مذہب ِ شیعہ اختیار کرنے کے بعد کا ایک واقعہ لکھا ہے ۔ سید علی نجف میں حصولِ تعلیم میں مصروف تھے ۔ انہوں نے مرجع ِ تقلید آیت اﷲ ابوالحسن الاصفہانی کو اپنی تبلیغ اور نوربخشیوں کی تبدیلی ٔ مذہب سے متعلق کامیابیوں کی رپورٹ پیش کی اور اپنے نام بلتستان سے آمدہ خطوط بھی پیش کئے ۔ ایک دن آیت اﷲ اصفہانی پریشانی کے عالم میں سید علی کے پاس آئے ۔ ان کے ہاتھ میں ایک خط تھا جس میں کرگل کے نوربخشیوںکے سیدعلی کی غیر موجودگی میں دوبارہ نوربخشی مذہب اختیار کرنے کی اطلاع تھی ۔ انہوں نے سید علی کو حکم دیا کہ وہ فوراً اپنے ملک جائیں اور اس مشن کو دوبارہ جاری کریں جو آیت اﷲ اصفہانی کے بقول ان کی اپنی خدمات سے بھی زیادہ گراں قدر تھیں ۔ (71) ادھر سید ابوالحسن نے ۱۹۳۱ء میں کریس میں قانونی کارروائی کے ذریعے تاریخی خانقاہ معلی کو گنتی کے اہلِ حدیث کے پیروکارو ں کے لئے جامع مسجد بنانے کی کوشش کی ۔ چودہ سال کی چپقلش کے بعد حکومت کشمیر نے فیصلہ دیا کہ خانقاہ نوربخشیوں کی ملکیت ہے لیکن دوسرے مسالک کے لوگ بھی اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ اس پر ابوالحسن نے یوم ِ جمعہ کو خانقاہ کے ایک کونے میں الگ سے جماعت کا آغاز کر دیا ۔ اس عمل سے بسااوقات خاصی تلخی پیدا ہوجاتی تھی اور خطبہ خوانوں کو پویس کی مدد سے خاموش کرانا پڑتا تھا جو انہیں صرف عربی میں خطبہ دینے کی ہدایت کرتی تھی ۔ ۱۹۷۲ء میں اہلِ حدیث نے اپنی علیٰحدہ جامع مسجد بنائی ۔ جبکہ اسی اثنا میں یعنی ۱۹۴۴ء اور ۱۹۵۰ ء کے درمیان انجمن اسلامیہ بلتستان ( قائم کردہ اہلِ حدیث ) کے خپلو ، بلغار ، کریس، غواری اور کورو میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسوں میں نوربخشی رہنماؤں نے اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کے لئے اہم کردار ادا کیا ۔ (72)

بڈلف کی رپورٹ اور رپورٹ مردم شماری۱۹۱۱ء

مشہور انگریز محقق بڈلف نے اپنی تصنیف اقوام ہندوکش میں جو ۱۸۸۰ء کی تصنیف ہے نوربخشیوں کے بارے میں درج ِذیل تبصرہ کیا ہے ۔
’’ موسم سرما میں نوربخشی سنیوں کی طرح ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں مگر گرمیوں میں شیعوں کی طرح ہاتھ کھلے چھوڑتے ہیں وہ سنیوں کی طرح نماز باجماعت پڑھتے ہیں اور فریضہ جمعہ ادا کرتے ہیں مگر وضو کرتے وقت شیعوں کی طرح پاؤں دھونے کی بجائے مسح پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی ؑ کا مرتبہ سمجھتے ہیں اور محرم میں شہدائے کربلا کے لئے عزاداری کرتے ہیں لیکن رسوم محرم کی وجہ سے ہی ان میں اور شیعہ میں زیادہ تر فساد ہوتا ہے کیونکہ نوربخشی کہتے ہیں کہ عزاداری مساجد میں ہونی چاہئے اور شیعہ اس کو روا نہیں رکھ سکتے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقتاً فوقتاً ان دونوں فرقوں میں فساد ہو جاتا ہے۔ نوربخشی اذان میں علی ولی اﷲ کہتے ہیں اور شیعہ وصی رسول اﷲ ۔ ‘‘(73)
بڈلف کے اندازے کے مطابق ۱۸۸۰ء کے قریب بلتستان میں نوربخشیوں کی تعداد بیس ہزار نفوس سے متجاوز تھی ۔ افسوس ہے کہ رپورٹ مردم شماری کشمیر بابت ۱۹۱۱ء میں نوربخشیوں کو سنیوں میں شامل کیا گیا ۔ وزیر صاحب وزارت کی فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ۲۰ مگھر سمہ۱۹۸۱( بکرمی ) کو علاقہ سکردو میں تخمیناً ۹ ہزار گھر نوربخشیوں کے تھے اور ان کے نفوس کی تعداد ۳۱ ہزار تھی ۔ تحصیل کرگل کی نوربخشی آبادی اس کے علاوہ تھی ۔ اس رپورٹ کے مطابق اس وقت نوربخشیوں کے مسلم پیشوا درج ذیل تھے ۔
۱۔ سید محمد شاہ بمقام کریس تحصیل سکردو
۲ ۔ سید مختار شاہ بمقام خپلو ۔ تحصیل کرگل کے بھی یہی دو عالم ہیں ۔
۳۔ سید یحییٰ علاقہ شیگر تحصیل سکردو
۴۔ سید محمد علی پیشوا موضع کورو
رپورٹ مردم شماری ۱۹۱۱ء میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فرقہ کے لوگوں کی تعدادروز بروز کم ہورہی ہے ۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے مذہب تشیع اختیار کر لیا ہے اور بعض اہل حدیث میں شامل ہو گئے ہیں ۔ ان کی آبادی اب علاقہ چھوربٹ، خپلو ، کرس ، پرکوتہ اور چند دیہات تحصیل کر گل میں محدود رہ گئی ہے ۔74)

نوربخشیہ پر دیگر مسالک کی یلغار


اگرچہ بلتستان میں دوسرے مذاہب کی اشاعت ہمارے موضوع سے خارج ہے مگر یہ موضوع اس لحاظ سے ضرور اہم ہے کہ اس تبلیغ کے نتیجے میں نوربخشی آبادی جہاں بہت سے علاقوں سے معدوم ہوگئی وہاں نوربخشیہ کے عقائد و اعمال پر بہت سے دیرپا اثرات مرتب ہوئے ۔
بلتستان میں اہل ِسنت و الجماعت کی اشاعت۱۸۷۳ء میں ایک حنفی عالم دین محمد حسین المعروف ملاّ پشاوری کے ہاتھوں شروع ہوئی جو براستہ چھوربٹ بلتستان واردہوئے ۔ جرمن محقق ڈاکٹر اینڈریز ریک کی تحقیق کے مطابق ملا پشاوری اس وقت کے پیرِ نوربخشیہ سید جلال شاہ کی دعوت پر کریس گئے اورمیر سعادت جان فرزند پیر نوربخشیہ مقیم کریس کی استادی کا مرتبہ حاصل کیا ۔ بلتستان بھر سے اور بھی شاگرد ان کے حلقہ ٔ درس میں شامل ہوئے۔ وہ جہاں غیر محسوس طریقے سے اہل سنت والجماعت کے عقائد کی تعلیم دیتے تھے وہاں فقہ ٔ احوط کی تدریس بھی کرتے تھے ۔ اگرچہ انہوں نے اپنے شاگردوں سے دوٹوک الفاظ میں اہل ِسنت کا مسلک اختیار کرنے کا مطالبہ نہیں کیا مگر وہ انہیں شمالی ہندوستان کے سنی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے تھے ۔ نتیجے کے طور پر ایسے درجنوں نوربخشی طلباء تبدیلیٔ مسلک کر کے اہل ِسنت کے پیروکار بن کر آئے جن میں سید سعادت جان کے چھوٹے بیٹے سید ابوالحسن نے اہلِ حدیث کا مسلک اختیار کیا اور پیریت کے موروثی منصب سے محروم ہوگئے ۔ جبکہ ان کے بڑے بھائی نے پیر ِنوربخشیہ کا منصب سنبھال لیا ۔ اہلِ حدیث کا مسلک اختیار کرنے والے ایک اور شخص نے ۱۸۹۱ء میں غواڑی میں اہل ِحدیث کے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی جو دارلعلوم غواڑی کے نام سے مشہور ہوا ۔ (75)
دوسری طرف کریس میں پیر سید محمد شاہ زین الاخیار کے چچا زاد بھائی سید علی نے نجف اشرف کے دورے کے بعد خفیہ طور سے شیعہ مسلک اختیار کیا اور نوربخشی کے روپ میں نوربخشی عقائد اور احکام میں ترمیم و تحریف پیدا کرتے رہے ۔ اور درجنوں دیہاتوں میں نوربخشیوں کو شیعہ بنانے کے بعد خود بھی کھلم کھلا شیعہ ہونے کا اعلان کر لیا ۔ سید علی کے حالات اس سے قبل لکھے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے ’ کاشف الحق ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جسے اس کے بیٹے سید عباس نے ایران سے شائع کیا ۔ اس کا ذکر ہم آگے چل کرکریں گے ۔
بلتستان میں اہل ِتشیع کی اشاعت کا آغاز سید محمد عباس چھوترون ( متوفی ۱۹۲۶ء ) کے ہاتھوں ہوا ۔ بقول محمد یوسف حسین آبادی سید محمد عباس نے بلتستان کے اکثر علاقوں کی آبادی کو تقلیدِ حئی پر رجوع کروایا جو اشاعت ِاسلام سے تب تک نویں صدی ہجری کے نامور مفتی حضرت سید محمد نوربخش ؒ کی مقلد اور ان کی کتاب فقہ احوط پر عمل پیرا تھی ۔ (76) اہل ِ تشیع کے دوسرے بڑے مبلغ سکردو کے شیخ جواد ابن علی تھے۔ ان دونوں مبلغین نے انیسویں صدی کے ابتدائی عشرے میں بلتستان میں پورے جوش و خروش سے تبلیغ شروع کی اور بہت سے نوربخشیوں کو تقلیدِ حئی پر مائل کر کے شیعہ مسلک میں داخل کر لیا ۔ خصوصاً وادیِ شیگر میں ان کی تبلیغی مساعی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ۔
اہلِ حدیث کا نوربخشیہ کے ساتھ ابتدائی رویہ غیر دوستانہ تھا چنانچہ اس کی نمایا ں مثال ’ تحفہ تبت ‘ نامی کتابچے کی اشاعت ہے جس میں نوربخشیہ کے بعض عقائد اور مذہبی رسوم کو ہدف ِ تنقید بنایا گیا تھا ۔ یہ ۲۵۔۱۹۲۴ء کی بات ہے ۔ غریب نوربخشیوں کے دلوں میں مرزا حیدر دوغلت کے مظالم کی یاد تازہ ہوگئی اور ایک اور مشکل وقت کے تصور سے وہ کانپ اٹھے ۔ تاہم اس کتاب کی اشاعت کے چوبیس سال بعد اہلِ حدیث کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے خود ’ تحفۂ تبت‘ کو اہلِ تشیع کی چال قرار دے کر مسترد کرنا شروع کیا۔ (77)
تاہم جیسا کہ مولانا ابوالحسن کے حالات میں لکھا جا چکا ہے کہ ۱۹۳۱ء میں ان کی سرپرستی میں اہلِ حدیث نے کریس میں خانقاہ ِ معلی نوربخشیہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کی اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اس خانقاہ میں علیٰحدہ جمعہ جماعت قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ۔
مذکورہ بالا بڈلف کی رپورٹ سے جو ۱۸۸۰ء میں شائع ہوئی ،معلوم ہوتا ہے کہ شیعوں اور نوربخشیوں کے درمیان نظریاتی چپقلش اس وقت بھی موجود تھی ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ رسوم ِ محرم کی وجہ سے نوربخشیوں اور شیعوں میں اکثر فساد ہوتا ہے کیونکہ نوربخشی کہتے ہیں کہ عزاداری مسجد میں ہونی چاہئیے اور شیعہ اس کو روا نہیں رکھتے نتیجتاً دونوں میں فساد ہوتا ہے ۔
مولوی محمد شفیع نے اپنے مقالے ’ فرقہ ٔ نوربخشی ‘ میں جو قیام ِ پاکستان سے قبل کی تحریر ہے ، خپلو سے آمدہ اپنے ایک دوست کا مراسلہ نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ مذہب ِ شیعہ اختیار کردہ ٔ کلانان ہے ا س لئے نوربخشیوں کو ان کی ہر ایک مجلس میں شامل ہونا پڑتا ہے اور شیعہ رواج پر ان کا عمل ہے ……ماتم سرائیں سکردو میں زیادہ ہیں اور وہاں کے لوگ سب کے سب شیعہ ہیں اور خپلو اورشیگر اور کریس میں جامع مسجدیں ہیں ، ماتم سرا خپلو میں پہلے بالکل نہ تھی ، اب پچھلے سال سے راجہ ناصر علی خان جاگیردار نے بنوائی ہے جس کا جھگڑا اب تک جاری ہے ۔ نوربخشیوں کا خیال یہی ہے کہ خپلو میں ماتم سرائے نہ قائم ہو پہلے کی طرح مسجدوں ہی میں ماتم کیا جائے ۔ ابھی تک کچھ فیصلہ سننے میں نہیں آیا ۔ (78)
خپلو کے اہل ِ تشیع اور اہلِ نوربخشیہ کے درمیان یہ چپقلش ماضی قریب میں بھی جاری تھی ۔ جیسا کہ مولوی شفیع کی مندرجہ بالاتحریر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خپلو میں نوربخشیہ کی واضح اکثریت کے باوجود بااثر خاندانوں کے لوگ جو راجہ کے دربار سے قریبی تعلق رکھتے تھے مذہب ِ شیعہ کے پیروکار بن چکے تھے اور نوربخشی عوام بڑی حد تک انہی کے زیرِ نگیں تھے ۔ خپلو میں محرم کا جلوس خانقاہ ِ چقچن سے نکل کر راجہ کے محل سے ہوتا ہوا مرکزی خانقاہ نوربخشیہ خپلو بالا پر اختتام پذیر ہوتا تھا جس میں اہلِ تشیع کے علاوہ کثیر تعداد میں نوربخشی بھی شریک ہوتے تھے ۔ اہلِ تشیع نے نوربخشیوں کو ہمیشہ یہ باور کرایا تھا کہ ہم دونوں ایک ہیں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونو ںہی عید اور ماتم کے قائل ہیں ۔ اس طرح غیر محسوس طریقے سے نوربخشیوں کا مذہبی تشخص تقریباً ختم کر دیا گیا تھا ۔ لیکن نوربخشی نوجوانوں میں جدید تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ اپنی گم گشتہ شناخت کی بازیابی کا جذبہ بیدار ہونے لگا ۔ ۱۹۸۰ء میں حالات نے پلٹا کھایا ۔ اہل ِ تشیع نے جو سیاسی اور معاشرتی اقتدار کے حامل تھے امیر کبیر سیدعلی ہمدانی ؒ کی تعمیر کردہ جامع مسجد چقچن پر دعویٰ ملکیت جتانے کا فیصلہ کیا ۔ نوربخشیوں کو یہ بات قابل ِ قبول نہ تھی ۔ نتیجتاً دونوں مسالک کے درمیان شدید اختلاف اور مناقشہ پیدا ہوا اور سر پھٹول تک کی نوبت آئی ۔ ان حالات میں سید عون علی الموسوی مرحوم نے جو سید مختار حسین کی عبوری پیریت کے بعد نوربخشیہ کے پیر بنے تھے ، متانت ، تدبّر اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا اور مذہبِ صوفیہ کی امتیازی حیثیت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ (79)
اس واقعے کے بعد نوربخشیوں میں اپنے علیٰحدہ مذہبی تشخص کو اجاگر کرنے کی ایک ہمہ گیر کوشش کا آغاز ہوا ۔ چنانچہ کریس کے مقام پر سید عون علی شاہ صاحب کی زیر ِ سرپرستی علمائے نوربخشیہ کے درمیان ایک عہدنامہ تحریر میں آیا جو معاہدۂ کریس کے نام سے مشہور ہوا جس میں مذہب ِ صوفیہ کے عقائد پر کاربند رہنے کا حلفیہ اقرار کیا گیا ۔ خپلو کی ایک معروف شخصیت بدیع الزمان نے جو ان دنوں انجمن نوربخشیہ کے جنرل سکریٹری تھے ،قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوربخشیوں کو منظم کیا اور ان میں احیائے صوفیہ کا شعور اجاگر کیا ۔ بدیع الزمان کے ساتھیوں میں ان کے بھائی محمد حسن ، امیر و ، عبداﷲ اور غلام نبی شاہین وغیرہ بھی پیش پیش تھے ۔
بلتستان میں نووارد تمام مذاہب کی کوششوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ نوربخشی آبادی کو اپنے اندر ضم کیا جائے چنانچہ ڈاکٹر اینڈریز ریک نے اہلِ حدیث کے ایک عالم ِ دین کی ایک دلچسپ بات نقل کی ہے کہ ’ نوربخشیہ کی مثال خالصہ ٔ سرکار کی ہے اور جو اس پر قبضہ کرے یہ اسی کی ملکیت ہے ۔ ‘ (80) لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے دو متضاد قسم کے طریقِ کار اپنائے گئے ۔ ایک طرف نوربخشیوں کو سیاسی اثر رسوخ اور دولت کی نمائش سے مرعو ب کرنے کی کوشش کے علاوہ بعض معاندانہ سرگرمیاں بھی عمل میں لائی گئیں ، دوسری طرف انہیں اپنی شاخ ثابت کرنے کی تقریری اور تحریری صورت میں مسلسل کوششیں کی گئیں ۔ نوربخشیہ کے خلاف اشاعتی کاوشوں کا ذکر ہم آگے چل کریں گے لیکن پہلے ماضی قریب میں کی جانے والی دیگر تبلیغی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر اینڈریز ریک اس بارے میں یوں رقمطراز ہیں :
’’گزشتہ کئی دھائیوں میں سنی اور شیعہ مبلغین نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے زیادہ تر مادی وسائل کا سہارا لیا ہے ۔ اہلِ حدیث نے غواڑی میں اپنے دارالعلوم کی توسیع کر کے اسے بلتستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے میں تبدیل کر دیا ہے ۔ اس مدرسے میں ۳۰ علماء تبلیغ میں مصروف ہیں اور ۵۰۰ کے قریب طلباء اور طالبات زیر ِتعلیم ہیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ۴۰ اور مدارس قائم کئے ہیں جن میں بڑے بڑے مدارس سکردو ، وزیر پور ( شیگر ) اور کریس میں ہیں ۔ حنفی سنی مسلک نے بھی سکردو میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا ہے اور بلتستان کے دیگر علاقوں میں درجن کے قریب چھوٹے مدارس بھی کھولے ہیں ۔ غریب نوربخشیوں کو اپنے بچوں کو ان مدارس میں پڑھانے کے عوض بھاری انعام کا وعدہ کیا جاتا ہے جن میں وظائف کی عطائیگی ، سعودی عرب میں اعلیٰ تعلیم کے لئے نامزدگی اور بعد از تعلیم روزگار کے مواقع شامل ہیں ۔ اہل ِ سنت کے اقلیت میں ہونے کے باوجود باقی ماندہ ۲۵ فیصد بلتیوں کو جو اب بھی نوربخشی عقیدے پر کاربند ہیں ، اہلِ سنت میں ضم کرنے کے لئے پاکستان اور بیرون ِ ملک سے خاطر خواہ مالی معاونت ملتی ہے ۔
اہلِ تشیع نے بھی اہل ِ سنت ہی کی طرح قدیم طرزِ تعمیر کی حامل نوربخشی خانقاہوں کے قرب و جوار میں بڑے بڑے مدارس ، مساجد اور امام بارگاہوں کا جال بچھا دیا ہے۔ دو غیر ملکی تنظیمیں اس ضمن میں نمایاں کردار ادا کرر ہی ہیں ۔ اگرچہ ان کے علماء بھی تبلیغ دین کے بارے میں یکساں جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر اب وہ اس حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں کہ ان کی اصل ترجیح نوربخشیوں کو ’ امامیہ ‘ کے نظریاتی حصار میں رکھ کر وہابیوںکی تبلیغ سے محفوظ رکھنا ہے ۔ (81)

مسلکِ نوربخشیہ کے خلاف اشاعتی کاوشیں


جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ بلتستان میں دیگر مذاہب کی اشاعت کے نتیجے میں جہاں بہت سے نوربخشی اکثریت کے علاقے اقلیت میں تبدیل ہوگئے یہاں تک کہ بعض جگہوں میں نوربخشی بالکل معدوم ہوگئے ۔ وہاں ان مسالک کے علماء نے نوربخشی مسلک کو اپنے اپنے مخصوص مسلک کی شاخ ثابت کرنے کے لئے ایک منظم اشاعتی مشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں نوربخشیہ میں بہت سے بیرونی اثرات بھی نفوذ کر گئے ۔ ۱۹۲۰ء کے بعد چھپنے والی نوربخشی کتابوں میں مذہب کے نام ’ صوفیہ ‘ کے ساتھ ’ امامیہ ‘ کا لاحقہ بھی استعمال کیا جانے لگا اور میر سید محمد نوربخشؒ کو امامیہ کا مجتہد ثابت کرنے کی کوشش شروع ہوئی ۔ دوسری طرف اہل ِسنت کے بعض اشاعتی اداروں نے سید محمد نوربخشؒ سے منسوب ایسی کتابوں کی اشاعت کی جن میں میر سید محمد نوربخش ؒ اور دیگر بزرگان ِنوربخشیہ کا مسلک اہلِ سنت و الجماعت ثابت کیا گیا ۔ (82)
اس صورت ِحال میں بعض نوربخشی علماء نے جن میں مولوی حمزہ علی خپلوی کا نام نمایاں ہے احیائے صوفیہ کی جدوجہد میں قابل قدر کارنامے سرانجام دیئے ۔ جس کا ذکر اس سے قبل ہو چکا ہے ۔
ذیل میں ہم مسلک نوربخشیہ کے خلاف اشاعتی یلغار کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں ۔
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں واضح کیا گیا ہے کہ امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ ، میر سید محمد نوربخشؒ اور میر شمس الدین عراقی ؒ کی تبلیغی مساعی سے کشمیر و بلتستان میں اسلام کی اشاعت ہوئی اور بلتستان میں ، شاہ ناصر طوسی ، سید علی طوسی، میر ابو سعید ، میر عارف ، میر مختار اور میر یحییٰ جیسے بزرگوں نے اسلام کو استحکام بخشا۔ میر مختار اخیارؒ کا زمانہ نوربخشیوں کا دورِ عروج تھا ۔ تاہم انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی عشروں میں ذرائع نقل و حمل میں وسعت کی بناپر دوسرے مسالک کے علماء و مبلغین کی بلتستان آمد شروع ہوئی ان مبلغین نے جو جدید دور کے تقاضوں سے واقف تھے ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ نوربخشی آبادی کو تبدیلی ٔمذہب پر آمادہ کیا اور اس انجذاب کی خاطر ہر جائز و ناجائز حربہ اختیار کیا ۔ ایک طرف یہ نوربخشیہ کو باطل قرار دیتے ہوئے کفر و شرک کے فتوے بھی دیتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف نوربخشی مسلک کو اپنی شاخ ثابت کرنے کے لئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے تھے ۔ اس پس منظر میں نوربخشیوں کے خلاف بھی لٹریچر کا ایک سیلاب امڈ آیا جن میں سے بعض یہ ہیں ۔

تحفّۂ تبت

یہ کتاب ۱۹۴۶ء میں مولوی عبدالحق نے شائع کروا کر بلتستان میں مفت تقسیم کی ۔ اس کتاب کے مؤلف نے نوربخشی اعمال و عقائد کو مبالغہ آمیز رنگ دے کر ایک طویل سوالنامے کی شکل میں علماء ہندوستان کے آگے پیش کیا ہے اور ایسے اعمال وعقائد کو نوربخشیہ سے منسوب کیا ہے جن کا اس مسلک سے کوئی تعلق نہیں ۔

وادی ٔ بلتستان کے مذہبی حالات

یہ کتاب چھوربٹ سکسہ کے مولوی عبدالرشید کی تصنیف ہے مؤلف نے نوربخشی بزرگان کے بارے میں حقائق کو مسخ کرتے ہوئے غلط اور گمراہ کن معلومات پیش کی ہیں اور امیر کبیر سید علی ہمدانی اور سید نوربخش ؒ کو سنی اور میر شمس الدین عراقی ؒ کو شیعہ قرار دیا ہے۔
۳۔ کاشف الحق

کاشف الحق

یہ کتاب سید علی کریسی نے لکھی تھی جو اپنی زندگی میں یہ کتاب شائع نہ کرسکالیکن اس کے بیٹے سید عباس موسوی نے اسے شائع کیا ۔ سید علی کریسی نے حصول تعلیم کے لئے نجف اشرف کا سفر اختیار کیا تو وہاں سے اپنا مسلک بھی تبدیل کر آیا مگر ایک مدت تک تقیہ اختیار کیا اور نوربخشی بھیس میں نوربخشی عوام کو گمراہ کرتا رہا اور انہیں اپنے مسلک سے بدظن کرتا رہا ۔ انجام کار نہ صرف خود اعلانیہ طور پر دوسرے فرقے میں شامل ہوگیا بلکہ ایک کثیر نوربخشی آبادی کو اپنے ساتھ لے گیا ۔ نوربخشی مسلک میں موجودہ نظریاتی کشمکش اور اختلافات کا بنیادی سبب سید علی کریسی کی تبلیغ ہے ۔ کاشف الحق انہی ناپسندیدہ سرگرمیوں کی یادگار ہے ۔ مؤلف نے میر سید محمد نوربخشؒ، میر شمس الدین اور ان کے خلفاء کو شیعہ قرار دینے کے علاوہ اس وقت کے پیرنوربخشیہ سید محمد شاہ کو بھی شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔

دعوتِ اتحاد

یہ کتاب محلہ چقچن خپلو کے مولوی محمد امین چو کی تالیف ہے جو ۱۹۵۶ء اور ۱۹۵۸ء کے درمیان منظر عام پر آئی ۔ مؤلف نے سید علی کریسی کا انداز اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوربخشی اور شیعہ دونوں بارہ ائمہ کو مانتے ہیں اور عید اور ماتم کی مجلس منعقد کرتے ہیں اس لئے ان دونوں میں چنداں فرق نہیں ہے ۔ سادہ لوح نوربخشیوں نے اسے ’تحفۂ تبت ‘ کا جواب اور نوربخشیوں کا دفاع سمجھ لیا اور ناقابل ِتلافی نقصان سے دوچار ہوئے ۔

دعوتِ اصلاح

یہ کتاب اپریل ۱۹۵۸ء میں مولوی عبدالرشید سکساوی نے امین چو کی کتاب مذکورہ کتاب ’ دعوت ِاتحاد ‘ کے جواب میں لکھی اور دعویٰ کیا کہ نوربخشیہ شیعہ کی نسبت اہل ِسنت کے زیادہ قریب ہیں ۔

تنویر ِسراج

سید علی کریسی کے بیٹے سید عباس کریسی مقیم ایران نے اپنے باپ کے مشن کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہ انوکھی کتاب تصنیف کی ہے جو ان کے دعویٰ کے مطابق فقہ احوط کے ابتدائی کلمات کی تشریح ہے ۔ مگر یہ من پسند تشریح خرافات سے پر ہے ۔ مشیت ِایزدی سے سید عباس کو اپنا مشن پورا کرنے کی مہلت نہ ملی اور عالمِ عدم کی طرف رخصت ہونا پڑا ۔

طبقات ِنوریہ

یہ کتاب بظاہر مولوی خلیل الرحمن بلغاری نے شائع کروائی ہے اور انہی بزرگ نے کتاب ’سلسلۃ الذہب ‘ کی بھی اشاعت کروائی ۔ناشر نے اسے صوفی محمد بن ملامحمد مرید بالواسطہ میر شمس الدین عراقی ؒ بت شکن کی تالیف قرار دیا ہے ۔ کتاب کے مقدمے میں نوربخشیہ کو اہل سنت والجماعت کی شاخ قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔ کتاب کے مندرجات ’تحفۃالاحباب ‘، ’ تحفہ سامی‘ اور ’ نفائس المآثر ‘ وغیرہ سے ماخوذ معلوم ہوتے ہیں ۔ کتاب کا متن فارسی میں ہے اور اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہوئی ہے ۔

آئین طریقت ترجمہ رسالہ رفعِ اختلاف

یہ کتاب ماضی قریب میں میر سید محمد نوربخشؒ سے منسوب کر کے ’ میراث جاودانہ‘ اور’ آئین طریقت ‘ کے ناموں سے منظر عام پر لائی گئی ۔ اور ایک منظم گروہ نے شائع کروا کر مفت تقسیم بھی کی ۔ اس کتاب کو پیر نوربخشیہ ، انجمن نوربخشیہ سکردو ، نوربخشیہ یوتھ فیڈریشن اور دیگر علمائے نوربخشیہ نے جعلسازی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے ۔ (83)
علاوہ ازیں کئی اور کتابیں بھی میر سید محمد نوربخشؒ اور شاہ قاسم فیض بخش ؒ سے غلط طور پر منسوب کر کے شائع کرائی گئی ہیں جن کی تفیصل تصانیفِ میر سید محمد نوربخشؒ کی ذیل میں بیان ہوگی ۔

صوفیہ اور امامیہ کی نظریاتی چپقلش


تاریخی طور پر سلسلۂ کبرویہ کے بزرگانِ دین ائمہ اہلِ بیت سے خصوصی تعلق رکھتے ہیں ۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی مؤدت القربیٰ میں اہلِ بیت ِ اطہارؑ کی محبت کی اہمیت کا تفصیلی بیان ہے ۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی شرح وبیان کی محتاج نہیں کہ بزرگانِ سلسلہ ٔ ذہب کی بنیادی شناخت ’ مذہب ِ صوفیہ ‘ ہے ۔ صوفیہ نوربخشیہ کے چودہ کلمات ِ قدسیہ کی ذیل میں بیان ہو چکا ہے کہ ان چودہ روحانی نعروں میں سے آخری چار نعرے جو مذہب ، مشرب اور روش کے ناموں سے متعلق ہیں وہ یوں ہیں۔ ’ مذہبِ صوفیہ ، مشربِ ہمدانیہ ، روشِ نوربخشیہ ، مرید ِ مرشد۔ ‘
لیکن بلتستان کی نوربخشی تاریخ میں ایک موڑ ایسا نظر آتا ہے جب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نوربخشیہ کے علیٰحدہ مذہبی تشخص کو ختم کر کے انہیں امامیہ کی ایک شاخ قرار دینے کی کوشش شروع ہوئی ۔ بظاہر اس تحریک کی ابتدا بھی سید علی کریسی نے کی جن کے کارناموں کی تفصیل آگے گزر چکی ہے ۔ جرمن محقق ڈاکٹر انیڈریز اس تاریخی واقعے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ’’ ۱۳۴۲ھ( ۴۔۱۹۲۳ئ) میں سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف ’ رسالہ اعتقادیہ ‘ کی اشاعت ہوئی تو اس کتاب پر پہلی بار مذہب کے نام یعنی صوفیہ کے ساتھ ’ امامیہ ‘ کا لاحقہ استعمال ہوا ، جس کا استعمال بعد ازاں دیگر نوربخشی کتابوں میں بھی ہونے لگا جو آج تک نوربخشیوں کے درمیان سب سے بڑا نزاع بنا ہوا ہے ۔ ‘ ‘ (84)
علاوہ ازیں میر سید محمد نوربخش ؒ کی شہرہِ آفاق فقہی کتاب جو تمام تذکرہ جات میں ’ الفقہ الاحوط‘ کے نام سے مشہور رہی ہے ۱۳۳۳ھ میں مطبع اعجاز حیدری متھرا سے ’ کتاب لاجواب فقہ امامیہ نوربخش معروف بہ سراج الاسلام ‘ کے نام سے چھپی ۔(85)
معلوم ہوتا ہے کہ یہ نزاع اور اختلاف ۱۹۲۰ء اور ۱۹۵۷ء کے درمیانی عرصے میں شروع ہوا ۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ سید علی کریسی نے جو شیعہ ہو کر تقیہ کرتے رہے ،نوربخشیوں کا پیر بننے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد نوربخشیوں کے درمیان اختلافی مسائل کو ہوا دینا شروع کی ۔ پھر کھلم کھلا شیعہ مذہب اختیار کر کے بلتستان اور پوریگ کی ایک کثیر آبادی کو شیعہ بنا لیا ۔ اس صورت حال میں اخوند حمزہ علی نے علمائے نوربخشیہ سے رابطہ قائم کر کے ان سے فتوے حاصل کئے جنہیں انہوں نے ۱۹۴۶ ء میں ایک اشتہار کی صورت میں شائع کیا اورجو بعدازاں ’ نور المؤمنین ‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئے ۔ اس متفقہ فتوے میں مذہب کا نام صوفیہ نوربخشیہ ہی قرار پایا ۔ اس اشتہار کے علاوہ مولوی حمزہ علی اور انجمن صوفیہ نوربخشیہ منصوری کی جانب سے پیر محمد شاہ کے نام نوٹس جاری کیا گیا کہ اگر فقہ ٔ احوط اور سراج الاسلام پر دست اندازی کی گئی تو لاہور ہائی کورٹ میں مداخلتِ بے جا کا دعویٰ دائر کیا جائے گا ۔ (86)
۱۹۵۷ء (۱۳۷۷ھ) میں مرحوم پیر سید عون علی شاہ کی رہائش گاہ پر علماء و سادات ِ نوربخشیہ کی ایک مجلس منعقد ہوئی جس میں جناب آغا عون علی صاحب ، آغا بشارت علی صاحب ، آغا علی شاہ صاحب اور آغا جمال صاحب اور بہت سے دیگر علمائے نوربخشیہ کے علاوہ مولوی ابراہیم صاحب چقچن ، مولوی محمد علی صاحب ڈوغنی اور مولوی علی صاحب غربوچنگ شامل تھے ۔ اول الذکر دو بزرگوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر مذہبِ امامیہ کے تحفظ اور اشاعت کی قسم کھائی جبکہ مولوی محمد ابراہیم چقچن نے مذہب ِ صوفیہ کی اشاعت اور تقویت کے لئے کام کرنے کی قسم کھائی ۔ (87)
لیکن مولوی حمزہ علی اور مولوی محمد ابراہیم جیسے علماء کے ان اقدامات کے باوجود سید علی کے ہمنوا نوربخشیوں کو امامیہ میں ضم کرنے کی پالیسی پر بدستور کاربند رہے اور نوربخشی علماء کے درمیان سیدعلی کے پیدا کردہ اختلافی مسائل بے چینی کا باعث بنے رہے البتہ یہ اختلافی مسائل وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے ، تاآنکہ ۱۹۷۱ء میں ندوہ ٔاسلامیہ کے زیر ِاہتمام ’الفقہ الاحوط ‘مولوی محمد بشیر صاحب کے اردو ترجمے کے ساتھ شائع کرنے کا ارادہ کیا گیا ، تو ان مسائل میں سے صرف چند ایک موجود تھے ۔ فقہ احوط کے اس اردو ترجمے کی اشاعت کی تیاری کے ساتھ ہی علماء کے اختلافات نے ایک بار پھر شدت اختیار کی، تب ان مسائل کو حل کرنے علمائے نوربخشیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جو ’ گیارہ نکات ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں فقہ احوط کے متن میں چند تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور فقہ ٔاحوط کو مترجم نے از سرِ نو ترجمہ کر کے شائع کروایا ۔
اس دوران چقچن کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد نوربخشیوں میں آپس کے اختلافات خصوصاً صوفیہ اور امامیہ کی چپقلش کو ختم کرنے کی ایک تحریک شروع ہوئی جس کے نتیجے میں ۱۹۸۲ء میں کریس کے مقام پر علماء کا کنونشن ہوا جس میں پیرِ نوربخشیہ سمیت ۶۹ نوربخشی علماء اور زعماء نے حلفیہ اقرار کیا کہ وہ مذہب ِ صوفیہ نوربخشیہ پر کاربند رہیں گے اور نہ دائیں بائیں اپنا قلبی میلان رکھیں گے اور نہ کسی کا خفیہ آلۂ کار بن کر کوئی معاوضہ وصول کریں گے بلکہ صرف فقہ الاحوط ، کتاب الاعتقادیہ اور دعوات ِ صوفیہ کی تعلیمات پر کاربند رہیں گے ۔ (88)
ایک عرصہ تک اس معاہدہ پر عمل ہوتا رہا ۔ ۱۹۹۱ء میں پیرِ نوربخشیہ سیدعون علی الموسوی کی وفات کے بعد ایک دفعہ پھر صوفیہ اور امامیہ کی بحث زور پکڑگئی ۔ اسی دوران کراچی میں ایک دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا اور حالات کشیدہ ہوتے گئے ۔ بالاخر ۳ جون کو نوربخشی نوجوانو ں کی تنظیم نوربخشیہ یوتھ فیڈریشن کی کوششوں سے خپلو کے مقام پر علماء کا ایک اور کنونشن ہوا جس میں بارہ رکنی علماء کمیٹی نے ایک معاہدہ طے کیا کہ آئندہ نوربخشی خطیب یا مقرر صوفیہ یا امامیہ کو موضوع ِ بحث بنانے کی بجائے صرف اسلاف کی کتابوں پر عمل پیرا رہیں گے ۔ (89)
بظاہر اس معاہدے کے بعد اختلاف کی خلیج کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی اور بتدریج نوربخشیہ دو واضح نظریاتی گروہوں میں بٹ گیا ۔ صوفیہ کے حامیوں نے بلتستان کے صدر مقام سکردو میں ایک مدرسہ ’ مدرسہ شاہ ِ ہمدان ‘ کے نام سے قائم کیا ، جبکہ ایک بزرگ فقیر محمد ابراہیم صاحب نے بے شمارلوگوں کو اعتکاف نشینی کی صوفیانہ رسم کی طرف راغب کرنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ امامیہ گروہ کے علماء جن کو پیرِ نوربخشیہ کی سرپرستی حاصل تھی اعتکاف کے اس عمل کو فقہ ٔاحوط کی تعلیمات کے منافی قرار دیتے تھے ۔ ساتھ ہی دونوں گروہوں کے درمیان ایک قلمی جنگ کی کیفیت بھی پیدا ہوگئی ۔ اسلام آباد سے ’ نوائے صوفیہ ‘ اور کراچی سے ’تبیانِ نوربخشیہ ‘ نامی رسالوںکے اجراء کے علاوہ کئی کتابیں بھی منظر عام پر آئیں، جن میں مولانا غلام حسن حسنو کی تالیف ’ صوفیہ نوربخشیہ ‘ اور مولانا حسن نوری کی تصانیف ’ الفرقۃ الناجیہ ‘ اور ’ حجۃ البالغہ ‘ شامل ہیں ۔
مخلص نوربخشی عوام نے جو آپس کے ان مناقشات سے بیزار تھے دونو ں گروہوں کے علماء کو پھر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا چنانچہ اس کوشش کے نتیجے میں ۱۷ جولائی ۱۹۹۹ء کو بلغار کے مقام پر ایک تیسرا معاہدہ طے پایا جس میں ایک بار پھر مذہب کا نام مذہبِ صوفیہ ہونے کی توثیق کے علاوہ دیگر نزاعی امور بھی طے کئے گئے ۔ (90)
ان تمام معاہدوں کے باوجود بظاہر اہل ِ نوربخشیہ مکمل نظریاتی یک جہتی کی منزل سے ہنوز دُور ہیں ۔ ڈاکٹر اینڈریز ریک اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
’’ نوربخشی علماء کے درمیان چپقلش جاری ہے ۔’ ندوہ ٔ اسلامیہ ( نوربخشیہ ) کو علماء کی ایک نئی نسل کی نمائندہ تنظیم سمجھا جاتا ہے جس کے ارکان میں پیر اور سادات کے لئے احترام کا جذبہ کم ہے ، مزید براں یہ تنظیم مذہب کے نام کے ساتھ امامیہ کے لاحقے کو مسترد کرتی ہے ۔’ صوفیہ نوربخشیہ ‘ اور ’ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ‘ کے درمیان جو اختلافات ۱۹۴۰ء سے چلے آ رہے ہیں وہ ماضی قریب میں زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں ۔ اول الذکر نظریاتی گروہ والے صوفیہ امامیہ نوربخشیہ والوں کو شیعہ کا آلۂ کار سمجھتے ہیں جو اس مذہب کو بتدریج مکمل طور پر شیعہ میں ضم کرنا چاہتے ہیں ۔ پیر سید عون علی شاہ ، ان کے فرزند پیر سید محمد شاہ اگرچہ خود کو اس جھگڑے سے لاتعلق ظاہر کرتے ہیں مگر ان کی ہمدردیاں امامیہ کے ساتھ ہیں اور نوربخشیوں کے لئے شیعوں اور خصوصاً ایرانیوں کی آشیرباد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ دعوات الصوفیہ کا ایک نیا ایڈیشن ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا ہے جس میں امامیہ کے حامی شیعوں کو خوش کرنے کی کوشش میں اس حد تک آگے نکل گئے ہیں کہ انہوں نے کتاب کے سرورق پر نوربخشیہ کے ۱۴ اعتقادی نعروں کی تعداد بھی بڑھا کر ۳۸کر دی ہے اور تمام بارہ اماموں کے ناموں کے علاوہ تولا ا ور تبرا کا بھی اضافہ کیا ہے ۔ ‘‘ (91)

ہمدانی فرقہ

ڈاکٹر ریک لکھتے ہیں ’’ ۱۹۶۰ء کی دھائی میںجب سید عون علی الموسوی نوربخشیہ کے پیر تھے ، سید منظور حسین ہمدانی نامی ایک شخص جو جلالپور سیداں ہمدانیاں تحصیل خوشاب ضلع سرگودھا کا رہنے والا تھا ، وارد ِ بلتستان ہوا جو شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس نووارد نے امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ سے اپنی خاندانی نسبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو پیریت کا اصل حق دار قرار دیا ۔ اس شخص نے اعلان کیا کہ وہ مذہبِ نوربخشیہ کو پوری دنیا میں پھیلائے گا ۔ ایک مقامی عالم سید محمد مختار تھلے کو جو متاثر کن شخصیت کے مالک تھے ، منظور حسین ہمدانی نے اپنا خلیفہ بنایا ۔ ہمدانی کے پہلے دورہ ٔ بلتستان میں خود پیر نوربخشیہ اور کئی علماء نے بھی ان کی حمایت کی ۔ ہمدانی کے پیروکاروں نے جو ہمدانی کہلاتے تھے اس کے نام وسیع اراضی وقف کردی ۔ خاص طور پروادیٔ شیگر میں ہمدانی گروہ کو واضح کامیابی حاصل ہوئی۔ منظور حسین نے ایک کتاب ’ مصحفِ محمدؐ مصطفٰیہ ‘ کے نام سے شائع کروائی جبکہ ایک نوربخشی عالم ِ دین مولوی محمد ابراہیم زائر نے اس کا جواب ’چراغِ مصطفوی‘ کے نام سے لکھا ۔
سید منظور حسین کی سرگرمیوں کے نوربخشیوں پر زیادہ دور رس اثرات مرتب نہ ہو سکے لیکن اس سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ ۱۹۶۰ء کی دھائی میں نوربخشی کس کسمپرسی کا شکار تھے ۔ ‘‘ (92)

احیائے صوفیہ کی کاوشیں


غالباً اہلِ صوفیہ میں اپنے مذہب کی احیائے نو کا جذبہ اسی وقت بیدار ہوا جب وہ دیگر مسالک کی طرف سے نظریاتی یلغار کی زد میں آگئے ۔ خصوصاً سیدعلی کریسی کی مساعی کے نتیجے میں جب صوفیہ نوربخشیہ کی ایک کثیر آبادی نے تبدیلیٔ مسلک اختیار کی تو بعض علماء و زعماء نے صورتِ حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے تصنیف و تالیف ، تنظیم سازی اور مدارس کے قیام سے اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی حتی المقدور کوشش کی ۔
اس صورتِ حال کا محاکمہ کرتے ہوئے دورِ حاضر کے ایک جرمن محقق ڈاکٹر اینڈریز ریک نے لکھا ہے ۔
’’ کچھ نوربخشی علماء نے اپنے مسلک کی ترقی اور ترویج کے لئے قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں ۔ ان علماء کے سرخیل مولوی حمزہ علی ہیں جنہوں نے نوربخشی عقائد اوراعمال کا اہل ِتشیع اور اہل ِتسنن کے ساتھ تفاوت واضح کرنے کے لئے ’ نورالمؤمنین کشف التفاوت ‘ تالیف کی ۔ ۱۹۷۰ء میں علمائے نوربخشیہ کی اشاعتی تنظیم ’ ندوۃ الاسلامیہ ‘ کا قیام عمل میں آیا جس کے زیر اہتمام ’ فقہ الاحوط ‘ اور ’ رسالہ اعتقادیہ ‘ کے اردو تراجم شائع ہوئے ۔ ۱۹۸۵ء میں اسلام آباد سے ’ نوائے صوفیہ ‘کے نام سے ایک جریدے کا آغاز ہوا جو نوربخشیوں میں اپنے علمی اور روحانی ورثے کی اہمیت کا احساس بیدار کرنے اور احیائے تصوف کے لئے سرگرم ہے نیز نوربخشی فقہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کر رہا ہے ۔ گزشتہ دو دہائیوں میں نوربخشیوں کی دینی قیادت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ۔ بہت سے نوربخشی علماء دینی مدارس سے سند یافتہ ہونے کے علاوہ مروجہ تعلیم سے بھی بہرہ ور ہیں اور بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں رکھتے ہیں ۔ ماضی قریب میں دیگر مسالک کے مدارس نوربخشی طلباء کو داخلہ دینے میں پس و پیش کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ۱۹۹۰ ء میں کراچی میں ایک نوربخشی دارالعلوم قائم ہوا ہے ۔ نیز مختلف گاؤں میں مقامی انجمنیں اور تنظیمیں قائم ہوئی ہیں جو دینی مدارس کے قیام کے علاوہ قدیم خانقاہوں کی تعمیر و مرّمت کے لئے بھی کوشاں ہیں ۔
یہ رجحانات کسی فرقہ ورانہ رحجان کی آئینہ دار نہیں بلکہ ایک قدیم مسلک کی اپنی تاریخی حیثیت کے تحفظ کی جدو جہد کا نتیجہ ہیں ۔ نوربخشی بلتستان کے پُرامن علاقے میں بھی سب سے زیادہ امن دوست لوگ ہیں ۔ نوربخشی معاشرے میں فرقہ ورانہ کشیدگی نہ ہونے کے برابر ہے اور معاشرتی جرائم سرے سے ہی موجود نہیں ۔ نوربخشیوں کا اہلِ تشیع اور اہل ِتسنّن کے ساتھ رویّہ صوفیانہ معاشرے کی روایتی صلح جوئی اور امن پسندی کا عکاس ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ نوربخشی برادری دوسرے مسالک کی ان مساعی کی وجہ سے دباؤ اور تناؤ کا شکار ہے جو نوربخشیہ کے وجود کو اپنے اندر ضم کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ان مسالک کے لوگوں نے نوربخشی خانقاہوں کے بالمقابل بڑی بڑی جدید مسجدیں اور امام بارگاہیں تعمیر کرائی ہیں ۔ علاوہ ازیں نوربخشیوں کے اپنے اندر ایک انتشار کی کیفیت نظر آتی ہے ۔ ایک گروہ اپنے نام کے ساتھ امامیہ کا اضافہ کرنے اور شیعی رسوم کو اختیار کرنے میں خوش نظر آتا ہے جبکہ دوسرا گروہ اس مسلک کے ساتھ فاصلہ رکھنے کا قائل ہے اور امامیہ کے لاحقے کو مسترد کرتا ہے بظاہر یہ اختلاف سنی اور شیعہ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے نوربخشی علماء کی نظریاتی کشمکش معلوم ہوتی ہے چنانچہ نوربخشیہ کا بطور ایک آزاد مسلک کے اپنا استقلالی وجود برقرار رکھنا اب بھی غیر یقینی امر ہے ۔ لیکن ۱۹۸۰ء کے بعد سے نوربخشیوں کے تبدیلی ٔ مسلک کے رحجان میں کمی آئی ہے ۔93)

موجودہ صورتِ حال اور دورِ حاضر کے علماء و مصنفین


بظاہر معاہدۂ بلغار کے بعداہلِ نوربخشیہ کے درمیان باہمی مناقشے کی شدت میں کمی آئی ہے تاہم مکمل یک جہتی کا مظاہرہ ہنوز دیکھنے میں نہیں آتا۔ دورِ حاضر کے نوربخشی علماء تصنیف و تالیف کے شعبے کی طرف خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ان علماء کا اجمالی تذکرہ درج ذیل ہے :

۱۔ سید محمد شاہ نورانی کریس :
آپ سید عون علی شاہ مرحوم کے فرزند اور اہلِ نوربخشیہ کے پیر ہیں ۔ کریس میں مقیم ہیں ۔
۲۔ علامہ محمد بشیربراہ:
براہ میں پیدا ہوئے ۔ مڈل تک مروجہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارلعلوم المحمدیہ سرگودھا اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی سے تعلیم پائی ۔ ۱۹۶۹ء میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد دارلعلوم صوفیہ نوربخشیہ خپلو میں مدرس اور محکمہ ٔ شرعیہ نوربخشیہ میں قاضی کے فرائض سرانجام دیئے ۔ ۱۹۸۴ء سے جامع مسجد صوفیہ نوربخشیہ اسلام آباد میں خطیب اور امام کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ علمائے نوربخشیہ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ آپ مندرجہ ذیل کتابوں کے مترجم ہیں :
٭ الفقہ الاحوط از میر سید محمد نوربخشؒ
٭ دعوات ِ صوفیہ
٭ کتاب الاعتقادیہ از میر سید محمد نوربخش ؒ
٭ حل العقدین
۳۔ مولانا غلام حسن حسنوخپلو:
بلند پایہ نوربخشی محقق اور عالمِ دین ہیں ۔ جامعہ نعیمیہ لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کرنے کے علاوہ علامہ اقبال یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی سے بی ۔اے اور ایم ۔ اے کے امتحانات بھی پاس کئے ۔ تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں ۔ آپ کی تصانیف میں تاریخ ِ بلتستان ، انوار الحج اور صوفیہ نوربخشیہ جلد اول و دوم شامل ہیں ۔ آپ نے امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ ، میر سید محمد نوربخش ؒ اور دیگر نوربخشی بزرگوں کی متعدد تصانیف کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جو درج ذیل ہیں :
٭کشف الحقائق از میر سید محمد نوربخشؒ
٭ اورادِ امیریہ از میر سید علی ہمدانی ؒ
٭ کتاب ِ ذکریہ از میر سید علی ہمدانی ؒ
٭ مجموعہ ٔ رسائل شاہ ہمدان از میر سید علی ہمدانی ؒ
٭ معاش السالکین از میر سید محمد نوربخش ؒ
٭ دہ قاعدہ از میر سید علی ہمدانی ؒ
٭ اسرار الشہود از شمس الدین اسیری لاہجی ؒ
٭ اشف النصائح از شہاب الدین سہروردی ؒ
٭ کرامات الاولیاء از شفیع قادری
٭ مجموعہ ٔ رسائل نوربخش ؒ از میر سید محمد نوربخش ؒ
آپ علمی اور ادبی جرائد میں مضامین لکھتے ہیں اور ادبی جریدہ ’ کاروان ‘ کے مدیر ہیں۔
۴۔ مولوی محمد رضا خپلو :
مولانا غلام حسن حسنو کے چھوٹے بھائی ہیں ۔ ابتدائی مروجہ تعلیم خپلو سے حاصل کرنے کے بعد کراچی سے دینی تعلیم اور گریجویشن کے مراحل طے کئے ۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ آپ کی مندرجہ ذیل قلمی کاوشیں ہیں:
٭ آثارِ شاہ ہمدان ؒ
٭ تاریخ ِ کشمیر اردو ترجمہ ’ تحفۃ الاحباب ‘ از محمد علی کشمیری
۵۔ مولانا علی محمد ہادی شیگر:
۱۲ دسمبر ۱۹۶۵ء کو شیگر میں پیدا ہوئے ۔ مڈل تک مروجہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ صدیقیہ کراچی اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی اور دارلعلوم امجدیہ کراچی سے دینی تعلیم حاصل کی اور فاضل عربی کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کے بعد ایم اے اسلامیات اور بی ایڈ کے امتحانات بھی پاس کئے ۔ محکمہ ٔ تعلیم میں ملازمت کے ساتھ ساتھ مدرسہ شاہ ہمدان صوفیہ نوربخشیہ سکردو کے پرنسپل بھی ہیں اور مفتی اور قاضی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل کتابوں کے مترجم ہیں :
٭ مثنوی ’ نجم الھدیٰ ‘ منسوب بہ میر سید محمد نوربخش قھستانی ؒ ( اصل تصنیف سید محمد والہ موسوی )
٭ رسالہ ’ مکارم الاخلاق ‘ از میر سید محمد نوربخشؒ
۶۔ مولانا محمد حسن نوری کریس:
۴ ستمبر ۱۹۵۸ء کو کریس میں پیدا ہوئے ۔ دارلعلوم امجدیہ کراچی ، مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی ، اور دارلعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی سے تعلیم حاصل کی ۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور مندرجہ ذیل کتابوں کے مؤلف ہیں :
٭ الفرقۃ الناجیہ
٭ حجۃ البالغہ
۷ ۔ سید خورشید عالم پھڑوا :
سید علی شاہ صاحب پھڑوا کے فرزند ہیں ۔ دعواتِ صوفیہ کا اپنے انداز میں اردو ترجمہ کیا ہے ۔
۸۔ مولانا محمد ابراہیم زائربراہ:
۲۹ دسمبر ۱۹۵۱ء کو براہ خپلو میں پیدا ہوئے ۔ جامعہ امامیہ لاہو ر سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں اور مندرجہ ذیل کتابوں کے مؤلف ہیں :
٭ ارض ِ بلتستان
٭ چراغ ِ مصطفوی ( منظور حسین ہمدانی کی مصحف ِ محمدیہ مصطفٰیہ کا جواب)
٭ قاعدۂ نوربخشی
٭ نفحاتِ طیبہ
٭ مخلصانہ گزارش برائے اہالیان بلتستان و گلگت
٭ تسھیل الدعا ء ( مخصوص دعاؤں کا مجموعہ )
٭ مشارب الجنان ( مخصوص نمازوں کا مجموعہ )
٭ گلستان ِ اعمال برائے اہلِ تصوف
۹ ۔ سید نواز حسین شیگر:
شیگر میں پیدا ہوئے ۔ فاضلِ عربی اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں اور تدریس سے وابستہ ہوئے ۔ آپ میر یحییٰ ؒ کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور خطیب اور مضمون نگارہیں ۔
۱۰۔ مولانا محمد ابراہیم فیضی یوچنگ:
۲ جنوری ۱۹۶۱ء کو یوچنگ خپلو میں پیدا ہوئے ۔ مفتی محمد عبداﷲ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارلعلوم قمر الاسلام کراچی سے سندِ فراغت حاصل کی ۔ مزید براںایم اے اور بی ایڈ کے امتحانات پاس کئے اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے ۔ مدرسہ شاہ ہمدان سکردو سے بھی متعلق ہیں۔
۱۱۔ سید حسن شاہ شیگر:
گورنمنٹ ڈگری کالج سکردو میں لیکچرر ہیں ۔ ’ تبیان ِ نوربخشیہ ‘ کی ادارت سے وابستہ رہے ہیںاور مندرجہ ٔ ذیل کتابوں کا اردو ترجمہ کیا ہے :
٭ نفس شناسی از میر سید محمد نوربخشؒ
٭ انسان نامہ از میر سید محمد نوربخش ؒ
۱۲۔ مولانا عارف حسین :
مدرسہ شاہ ہمدان سکردو کے مدرس ہیں ۔ امیر کبیر سید علی ہمدا نی ؒ کی ’ کتاب الفتوۃ ‘ کا اردو ترجمہ کیا ہے ۔
۱۳۔ اخوند محمد تقی کھرکوی :
’ رسالہ امامیہ ‘ کا جو شاہ قاسم فیض بخشؒ سے منسوب ہے بعض اضافوں کے ساتھ اردو ترجمہ کیا ہے ۔
۱۴۔ مولانا شکور علی انورکورو:
کورو میں پیدا ہوئے ۔ لاہور سے فاضل عربی کی سند پانے کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے ۔ مضمون نگار ہیں اور ’ آئینہ ٔ اسلامی ‘ کے مؤلف ہیں۔ اعتکاف کے موضوع پر ایک کتاب زیر ِ طبع ہے ۔
۱۵۔ اخوند ابراہیم خپلو:
کراچی میں مقیم ہیں اور رسالہ امامیہ کا ترجمہ اور اطمینان القلوب نامی کتاب مرتب کر کے شائع کر چکے ہیں ۔
۱۶۔ فقیر محمد ابراہیم خپلو:
فقرِ حقیقی کے حامل بزرگ ہیں اور بلتستان بھر میں شاگردوں کی تربیت کرنے اور اعتکاف نشینی اور صوفیانہ مشاغل کے فروغ میںمصروف رہتے ہیں ۔
۱۷۔ مولانا ابوعمار یاسر:
آپ کراچی میں مقیم ہیں ۔ آپ نے کتاب الاعتقادیہ کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے نیز مندرجہ ذیل کتابچے شائع کیے ہیں :
٭ اظہار الحق
٭ حریمِ مساجد
٭ مصارف ِ نکاح
۱۸۔ مولانا غلام حسین تھلے :
۱۹۵۵ء میں تھلے میں پیدا ہوئے ۔ دارلعلوم نعیمیہ کراچی اور دارلعلوم حامدیہ رضویہ کراچی سے حصول ِ تعلیم کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل رلیشن میں ایم اے کرنے کے بعد محکمہ ٔ تعلیم میں ملازمت اختیار کی ۔ ندوۂ اسلامیہ نوربخشیہ سے وابستہ رہے ۔ ابصار البصائر نامی رسالہ شائع کر چکے ہیں۔
۱۹۔ مولانا محمد عبداﷲ کواس:
بلند پایہ عالم دین ہیں ۔ تدریس ، خطابت اور قضاوت کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہتے ہیں ۔
دیگر اہلِ علم حضرات میں مولانا عبدالحمید خپلو ایم اے ( خطیب ،مضمون نگار ) ، مولانا محسن سرمو ایم اے ( خطیب ) ، مولانا قاری ابراہیم سرموں ( خطیب ، قاری ) ، مولانا مراد علی نوری کریس ایم اے ( مدرس ، خطیب ) ، شیخ سکندر حسین سلترو ( مدرس ، خطیب ) ، مولانا محسن اشراقی بلغار ، مولانا محمد علی پندامقیم لاہور ( خطیب ) ، مولانا محمد رضا ضیاء سرمیک ( صحافی ، خطیب ) ، مولانا ابراہیم کرخی ( مدرس ، مضمون نگار ) ، سید سعادت جان کورو( خطیب) ، سید علی مقیم راولپنڈی ( خطیب ) ، مولوی شیر علی ڈوغنی ( مدرس ، خطیب ) ، اخوند غلام رسول کھرکو، مولوی غلام علی ڈوغنی ، سید محمد شاہ سرمیک ( امامِ جماعت) ، اخوند محمد ابراہیم کھرکو ، مولوی محمد ابراہیم تھلے ( مدرس) ، اخوند محمد ابراہیم خپلو ڈنس ، مولوی محمد بشیر براہ ( مدرس) ، اخوند محمد حسین خپلو مقیم سکردو ( خطیب ) ، سید محمد شریف غورسے ، مولانا محمد علی تھلے ، مولانا عبدالسلام خپلو وغیرہ یہ تمام علماء اپنے اپنے انداز میں نوربخشی تعلیمات کی ترویج میں مصروف ہیں۔

حوالہ جات

  1. تحفۃ الاحباب ( صفحات ِ متعددہ)
  2. تواریخِ اقوامِ کشمیر (جلد۲ ص ۱۲)
  3. بوق بوق نامہ قلمی
  4. تحفۃ الاحباب (ص ۳۵۲)
  5. طبقاتِ نوریہ (ص۱۱۳)
  6. تاریخ ِ رشیدی (ص۴۳۰)
  7. مقدمہ بہارستانِ شاہی (ص۱۲۲)
  8. ۱۵۴۱ء میں شاہ سیداحمد مجذوب نامی نوربخشی بزرگ میر دانیالؒ کے زمانہ ٔ خلافت میں واردِ کشمیر ہوئے اور پہلے خانقاہِ نوربخشیہ زڈی بل اور پھر خانقاہِ روز لنگر میں مقیم رہے ۔ ریگی چک اور مرزا حیدر دوغلت نے ان کے ہاں حاضری دی اور مرزا دوغلت نے منافقانہ طور پر گھوڑے سے اتر کر میر عراقی ؒ کے لئے فاتحہ بھی پڑھی ۔ دیکھیے ( A.A Matoo The Nurbakhshis of Kashmir p 107-108 (Article in Islam in India, Edited by Christian W. Troll)
    بہارستان ِ شاہی کے مرتب کے بقول یہ سید احمد ، سید احمد مجذوب نہیں کوئی اور تھے ۔ دیکھیے مقدمہ بہارستانِ شاہی (ص۹۴)
  9. بہارستانِ شاہی کے مرتب ڈاکٹر اکبر حیدری کاشمیری لکھتے ہیں ۔ ’’ میر سید دانیال کی شہادت مرزاحیدر کے زوال کا باعث ہوئی اور اس کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے ۔ اس نے میر دانیا ل ؒ کو اپنی مملکت کے لئے سنگ ِ راہ سمجھا تھا اورانہیں اس لئے راستے سے ہٹایا تھا کہ اس سے اس کی حکومت پائیدار اور مستحکم ہو جائے گی لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ جس سلطنت کی اساس وہ مظلوموں کے خونِ ناحق گرانے سے قائم کرنا چاہتا تھا کیا وہ خدا کو بھی منظور تھا؟ جب خدائے بزرگ و برتر کا عتاب نازل ہوتا ہے تو بڑے بڑے شہنشاہوں کو سلطنت سمیت نیست و نابود کرتا ہے ۔ یہی حال مرزا حیدر کا بھی ہوا ۔ دیکھیے مقدمہ بہارستانِ شاہی (ص ۱۲۵)
  10. تاریخ ِ مکمل کشمیر حصہ دوم (ص ۴۱۵)
  11. ایضاً ، دیدہ مری تاریخ ِ اعظمی (ص ۹۹)
  12. کشمیر میں اشاعت ِ اسلام (ص ۱۵۰)
  13. بحوالہ نورالمؤمنین ( ص۴۴۴)
  14. زاد الجنان قلمی (ص ۷۷)
  15. بوق بوق نامہ قلمی
  16. تذکرۂ شاہِ ہمدان ؒ (ص۲۳)
  17. زاد الجنان قلمی (ص۱۴۵)
  18. تاریخِ بلتستان (ص۵۸ تا ۷۱)
  19. کشمیر میں اشاعتِ اسلام (ص۱۵۸)
  20. تاریخِ جمّوں (ص ۵۹۰)
  21. ایضاً (ص ۵۹۰) ، بوق بوق نامہ قلمی
  22. ایضاً (ص۴۵۰، ۵۹۰) ، تاریخِ بلتستان (ص۷۲)
  23. جلوۂ کشمیر ( ۱۰۵)
  24. جلوۂ کشمیر (ص ۱۰۵)
  25. تاریخ ِ منظوم میر نجم الدین ثاقب ؒ در بوق بوق نامہ اخوند سلطان علی از حاشیہ فصل الخطاب از مھرِ محمد ثاقب ۱۱۴۸ھ بحوالہ نور المؤمنین ( ص۴۴۵)
  26. ایضاً بحوالہ نورالمؤمنین (ص ۴۴۵)
  27. تحفۃ الاحباب ( ص۴۰۵ تا ۴۱۰)
  28. ڈاکٹر اکبر حیدری کے مطابق ۹۵۶ھ(۱۵۴۹ء ) میں مرزا حیدر سکردو گیا ۔ وہاں سے میر دانیا ل ؒ کو گرفتار کر کے کشمیر لایا ۔ یہاں ایک سال تک انہیں قید رکھا اور انواع و اقسام کی صعوبتیں اور ایذائیں پہنچائیں ۔ پندرہ سو سونے کی اشرفیاں بھی ان سے لیں اور آخر کار ۴ صفر ۹۸۷ھ کو قضاۃ وقت قاضی حبیب ، قاضی ابراہیم اور قاضی عبدالغفور کے حکم سے شہید کیا ۔ دیکھیے مقدمہ بہارستان شاہی (ص ۱۲۲)
  29. ڈاکٹر اکبر حیدری کے مطابق خانقاہِ زڈی بل میں میر دانیا ل شہید ؒ کے پہلو میں ایک قبر ہے جس کے کتبے پر درج ذیل تاریخ ( ۱۰۴۸ھ) کندہ ہے ۔
    از شعبدہ ھای زمانی صدحیف
    و ز مردنِ خدا یگانی صد حیف
    تاریخِ وفاتش ز خرد جستم و گفت
    صد حیف ز دانیال ِ ثانی صد حیف
    غالب امکان ہے کہ یہ دانیال ِ ثانی میر دانیالِ دانا ؒ ہی ہیں کیونکہ بوق بوق نامہ قلمی میں بھی آخری مصرع یعنی ’ صد حیف ز دانیال ثانی صد حیف ‘ کو ہی میر دانیال دانا ؒ کا مادۂ تاریخ ِ وفات لکھا ہے اور آپ کی عمر ۶۳ برس بتائی ہے۔میر دانیال دانا ؒ نے ایک مجموعۂ فتاویٰ مرتب کیا تھا جو اس وقت معدوم ہے لیکن اس کی نشاندہی کتاب سراج الاسلام مطبوعہ متھرا میں کی گئی ہے ۔ دیکھیے تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص۱۳)
  30. تحفۃ الاحباب (ص۴۰۷)
  31. تحفۃ الاحباب (ص ۴۱۰)
  32. تاریخِ بلتستان (ص ۵۴ تا ۸۰)
  33. نورالمؤمنین (ص۴۵۵)
  34. تاریخِ جموں (ص۵۹۲)
  35. راقم السطور نے ماضی قریب میں اس مسجد کی زیارت کی ہے ۔ مسجد کی تعمیرِ نو ہو چکی ہے ۔ نو ساختہ بیرونی دروازے پر مسجد صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے الفاظ کندہ کرائے گئے ہیں ۔ قدیم مسجد کا صرف منبر موجود ہے جس پر مندرجہ بالا آیت قرآنی واضح طور پر نظر آتی ہے ۔
  36. ’شیگر میں تبلیغ اسلام ‘ از سید نواز حسین نوائے صوفیہ (شمارہ۲۰ ص۱۸) ، تاریخِ جموں (ص۵۹۲)
  37. سید علی طوسی ‘ از خادم حسین پندوی نوائے صوفیہ ( شمارہ ۱۰ فروری ۹۹۴اء ص۲۵)
  38. تاریخ ِ بلتستان (ص ۱۱۶)
  39. بلتستان پر ایک نظر (ص۴۷)
  40. تاریخ ِ جمّوں (ص۵۹۳)
  41. History of Baltistan (p125)
  42. ’ احوال ِ میر عارف ؒ ‘ از سید زاہد حسین نوائے صوفیہ (قسط ۵ ص ۷ و قسط ۶ ص۲۹)
  43. حضرت شاہ محسن ؒ ‘ از ڈاکٹر محمد اسماعیل ذبیح نوائے صوفیہ شمارہ ۲ اکتوبر ۱۹۹۴ء ص ۸)
  44. تذکر ۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص ۱۳)
  45. History of Baltistan (p105 to 108)
  46. History of Baltistan (p105,106)
  47. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص۱۵)
  48. ’وادی شیگرمیں اشاعتِ اسلام ‘ از سید نواز حسین نوائے صوفیہ (شمارہ ۳۰ ص ۱۹)
  49. History of Baltistan (p108)
  50. تاریخ ِ بلتستان (ص۱۲۳)
  51. تذکرۃ العلماء ( ص۲۳)
  52. کلیاتِ تحسین قلمی (ص۲۹۴)
  53. کلیاتِ تحسین ( ص۲۹۵)
  54. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص ۴۷)
  55. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص ۴۸)
  56. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص۳۴)
  57. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان ( ۳۹ ، ۴۱)
  58. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص ۵۰، ۵۱)
  59. علامہ سلطان علی بلغاری ‘ از محمود احمد مفکر نوائے صوفیہ (شمارہ ۲۱ جولائی ۹۶ ص ۱۱ تا ۱۴)
  60. زاد الجنان قلمی (ص ۳۸۲)
  61. ملخص فقہ منظوم (ص ۲ تا۵)
  62. سید قاسم شاہ کھرکوی از سید عباس کھرکوی نوائے صوفیہ (شمارہ ۲۹ مئی ۱۹۹۷ء ص۱۵، ۱۶)
  63. مولوی حمزہ علی ‘ از استاد شکور علی نوائے صوفیہ (شمارہ۶۰ ص۱۹ تا۲۱)، The Nurbakhshis of Baltistan-Crisis and revival of a five centuries old community
  64. کاشف الحق (ص۱۷)
  65. کاشف الحق (ص ۶۹ تا ۷۳)
  66. صاحب ِ ’ طرائق الحقائق ‘ نے شوستری کو شیعہ تراش قرار دیا ہے ۔ دیکھئے طرائق الحقائق (ص ۴۴۸،۴۶۵)
  67. Who are Nurbakhshis? Controversy about the identity of a beleagued community in Baltistan (p8,9)
  68. کاشف الحق (ص ۲۵ تا ۲۷)
  69. کاشف الحق ( ص۳۸)
  70. کاشف الحق (ص ۶۷)
  71. Nurbakhshis of Baltistan- Crisis and revival of a five centuries old community (p5-6)
  72. Nurbakhshis of Baltistan- Crisis and revival of a five centuries old communit (p7)
  73. Tribes of Hindookoosh (p125) ، مقالات مولوی محمد شفیع جلد دوم (ص۲۳)
  74. رپورٹ مردم شماری علاقہ کشمیر بابت ۱۹۱۱ء حصہ اول ص ۱۰۵ نوٹ ، بحوالۂ مقالات مولوی محمد شفیع جلد دوم (ص۱۴)
  75. The Nurbakhshis of Baltistan Crisis and revival of a five centuries old community (p5)
  76. بلتستان پر ایک نظر (ص۴۸)
  77. The Nurbakhshis of Baltistan…(p7)
  78. مقالات ِ مولوی محمد شفیع جلد دوم (ص۲۵ تا ۲۷)
  79. احوال و اقوال ِ سید عون علی الموسوی ‘ نوائے صوفیہ (شمارہ ۹ ص۱۳،۱۴)
  80. قراقرم ہندوکش (ص ۲۱۲)
  81. The Nurbakhshis of Baltistan… (p8)
  82. The Nurbakhshis of Baltistan(p7,8), Who are Nurbakhshis?(p9,10)
  83. نوائے صوفیہ (شمارہ ۱۰ فروری ۱۹۹۴ء ص ۱۶، ۱۷ ، ۱۹)
  84. The Nurbakhshis of Baltistan…(p7)
  85. مقالاتِ مولوی محمد شفیع جلد دوم (ص ۲۹)
  86. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص۷۹)
  87. تذکرۃ العلماء و صوفیاء بلتستان (ص ۷۹ ،۸۰) ، انٹرویو از اخوند علی غربوچنگ آڈیو کیسٹ
  88. صوفیہ نوربخشیہ (ص ۱۲) ، نوائے صوفیہ ( شمارہ۸ ص۲۰)
  89. ایضاً (ص ۱۴، ۱۵) ، ایضاً (شمارہ ۸ ص ۲۱، ۲۲)
  90. نوائے صوفیہ ( شمارہ ۵۱ اگست ۱۹۹۹ء ص۲۷)
  91. The Nurbakhshis of Baltistan …(p11)
  92. The Nurbakhshis of Baltistan…(p10)
  93. The Nurbakhshis of Baltistan- Revival of the oldest Muslim community in the Northern Area of Pakistan Paper read at the International Conference ” Karakorum Himalaya Hindukush – Dynamics of change ” Islamabad National Library, 29.9-2,10,1995 by Dr. Andreas Rieck, Hamburg)