سلسلۃ الذھب
مختصر احوال پیران طریقت سلسلۃ الذھب
سلسلۂ نوربخشیہ میر سید محمد نوربخشؒ کے بعد
حوالہ کُتب

کتاب کے تعارفی حصّے میں میر سید محمد نوربخشؒ کے سلسلہ ٔ بیعت یعنی سلسلۃ الذھب الصوفیہ کے متعلق اختصار سے لکھا جا چکا ہے ۔ نوربخش ؒ نے ’ صحیفۃ الاولیاء ‘ میں سلسلۃ الذّھب الصوّفیہ کو یوں نظم فرمایا ہے ۔
بود خواجہ اسحاق شیخم بدان
کہ در دورِ خود بود قطبِ جھان
دگر شیخِ وی بود سیّد علی
کہ جامع چو وی کس نبودہ ولی
دگر شیخ محمود از مزدقان
بود شیخی اصلش حقیقت بدان
علادولہ باشد دگر شیخ وی
کہ در ملک معنی است دارا و کی
دگر نوردین عبدالرحمن طلب
کہ شد زاسفرائین بہ ملکِ عرب
دگر احمدِ جوزقانی بود
کہ در بحرِ اطوار فانی بود
دگر ابنِ لالا علی آرحون
کہ اربابِ ارشاد گشت او علون
دگر نجم کبریٰ کہ از خیوَق است
کہ در عصرِ خود مرشدِ مطلق است
دگر شیخ عمّار یاسر بود
کہ بذلش از بس نہ قاصر بود
دگر بونجیب است از سھرورد
کہ اتباع اویند اقطاب و فرد
دگر گشت غزالی احمد بہ نام
کزو ماندہ اند اولیاء تا قیام
دگر شیخ ابوبکر نساّج بود
کہ گوی ولایت زِ میدان ربود
دگر شیخ ابوالقاسمِ گورگان
کہ قطبیست در وقتِ خود بی گمان
دگر شیخ ابو عثمان مغربی
کہ بود او بہ کشف و عیانِ نبی
دگر بوعلی کاتب از اولیاء
کہ بود او بہ دورانِ خود مقتداء
دگر بو علی رودباری شمر
کہ نبود چو وی مرشدِ معتبر
دگر خود جنید است سلطانِ فقر
کہ بغداد ازو بر جھان کرد فخر
دگر خال ثوری و شیخش سری است
کہ در شھرِ معنی ورا سروری است
دگر شیخ معروف کرخی بود
کہ او لایق صدر شیخی بود
دگر شیخِ وی خود علیّ رضا ست
کہ در شرق و غرب او امامِ ھدیٰ ست
دگر ھست موسیٰ کاظم بہ نام
کہ وی را پدر بود و شیخ و امام
دگر جعفرِ صادقِ بے نظیر
کہ وی را امام و پدر بود و پیر
دگر پیر بود و پدر در نسب
محمد کہ باقر بود در لقب
دگر ھم علی زین عباّد بود
کہ پیر و پدر بود و استاد بود
دگر خود حسین است در کربلا
کہ وی را پدر باشد و مقتدیٰ
دگر شاہِ مردان علی مرتضی ست
کہ پیر و پدر مرشد و رھنما ست
دگر مصطفیؐ پیر و پیغمبر است
کہ خلقِ جھان را ھمہ رھبر است(1)
’’ میرے شیخ خواجہ اسحاق( ختلانی ؒ )تھے جو اپنے زمانے کے قطب ِ جہاںتھے ۔
ان کے شیخ سید علی ہمدانی ؒ تھے کہ ان جیسا جامع ولی نہیں گزرا۔
ان کے شیخ محمود مزدقانی ؒ تھے جو حقیقی معنوں میں شیخِ طریقت تھے ۔
ان کے شیخ علاؤالدولہ سمنانی ؒ تھے جو ملک ِمعنی کے بادشاہ تھے ۔
ان کے شیخ عبدالرحمن ؒ تھے جو اسفراین ( ایران ) سے عرب میں جا بسے ۔
ان کے شیخ احمد ( ذاکر) جوزقانی ( جرجانی) تھے جو بحرِ اطوار کے فانی تھے ۔
ان کے شیخ علی بن لالاؒ تھے جو اربابِ ارشاد میں علو مرتبت تھے ۔
ان کے شیخ نجم الدین کبریٰ خیوقی ؒ تھے جو اپنے زمانے کے مرشدِ مطلق تھے ۔
ان کے شیخ عمار یاسر بدلیسی ؒ تھے جن کی سخاوت بہت زیادہ تھی ۔
ان کے شیخ ابو نجیب سہروردیؒ تھے جن کے پیروکار خود اقطاب و افراد تھے ۔
ان کے شیخ احمد غزالی ؒ تھے جن سے قیامت تک اولیاء باقی ہیں ۔
ان کے شیخ ابوبکر نساج ؒ تھے جو گوئے ولایت میں سبقت لے گئے تھے ۔
ان کے شیخ ابوالقاسم گرگانی ؒ تھے جو اپنے زمانے کے قطب تھے ۔
ان کے شیخ ابوعثمان مغربیؒ تھے جو کشف وعیان میں تھے ۔
ان کے شیخ ابو علی کاتبؒ تھے جو اولیاء میں سے تھے اور اپنے زمانے کے مقتدیٰ اور قائد تھے ۔
ان کے شیخ سلطان فقر جنید بغدادی ؒ تھے جن کی وجہ سے بغداد کا کل عالم میں شہرہ ہے ۔
ان کے شیخ اور ماموںسری سقطیؒ تھے اور شہرِ معنی میں ان کی بادشاہت تھی۔
ان کے شیخ معروف کرخیؒ تھے ۔ وہ شیوخِ طریقت کی صدارت کے لائق تھے ۔
ان کے شیخ حضرت اما م علی رضاؑ ہیں ۔ آپ مشرق و مغرب کے امام ِہدایت ہیں ۔
آپ کے شیخ آپ کے والد حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ ہیں جوآپ کے شیخ بھی ہیں اور امام بھی ۔
آپ کے بعد حضرت امام جعفر صادق ؑ ہیں جو آپ کے والد بھی ہیں اور پیر و امام بھی ۔
آپ کے پیر اور والد حضرت محمدؑ ہیں جن کا لقب باقر ہے ۔
آپ کے والد ، استاد اور پیر حضرت امام زین العابدین ؑ ہیں۔
آپ کے والد اور مقتدیٰ شہید ِکربلا حضرت امام حسین ؑ ہیں ۔
آپ کے پدرِگرامی ، پیر اور مرشد و رہنما شاہ ِمرداں حضرت علی مرتضی ؑ ہیں ۔
آپ کے پیر اور پیغمبر حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ ہیں ۔ آپ ﷺ تمام اہلِ جہاں کے رہبر ہیں ۔ ‘‘

رسالہ ’کشف الحقائق ‘ میں میر سید محمد نوربخشؒ اپنے سلسلۂ طریقت کا ذکر کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں ۔
’’ اے عزیز جان لو کہ اولیائے کرام کا سلسلہ حضرت سلطان ِ اولیاء ، برہان ِ اصفیاء اسد اﷲ الغالب علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ سے اب تک مسلسل و معنعن جاری ہے اور جب تک یہ کائنات قائم رہے گی یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ نہ کبھی اس میں خلل واقع ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا ۔ الان کما کان جیسا تھا ویسا رہے گا ۔
حبل اﷲ المتین اور عروۃ الوثقیٰ دین حقیقت میں مشائخین ِکامل کا سلسلہ ہے ۔ اہل ایمان اور جملہ اہل ِاسلام پر آیت کریمہ
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعاً
’’اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لو ‘ ‘ کے تحت حبل اﷲ سے وابستہ ہونا ضروری ہے ۔
جب تم نے یہ بات معلوم کر لی تو جان لو کہ اس ضعیف و نحیف اور فقیر الی اﷲ محمد بن محمد بن عبداﷲ لحصوی کی نسبت حضرت قطب الانام مخدوم علی الاطلاق ، کامل و مکمل باستحقاق ، مرکز ِدائرہ ٔ انفس و آفاق خواجہ اسحاق ختلانی ؒ ( اﷲ ان کی عمرِ دراز سے تمام مسلمانوں کو نفع پہنچائے ) سے متصل ہے اور آپ کو حضرت سیادت مآبی قطب الاقطابی سلطان ِ محققین ، برہان العارفین علی الثانی امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ سے ، آنحضرت کو قدوۃالمرشدین ، زبدۃ المتاخرین ، کامل و مکمل صمدانی شیخ محمود مزدقانی ؒ سے اور آنحضرت کو استاد المرشدین ، کہف المکلمین ، صادق صدیق حقانی شیخ علاؤ الدین سمنانی ؒ سے ، آنحضرت کو صدر نشین ارشاد مدائنی شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ؒ سے ، آنحضرت کو مرشد ِحقانی شیخ احمد جوزجانی سے ، آنحضرت کو قدوۃ الاولیاء شیخ علی لالاؒ سے ،آنحضرت کو سلطان الاصفیاء شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ سے ، آنحضرت کو کامل ماہر شیخ عمار یاسر سے ، آنحضرت کو عارف ِمحقق صمدانی شیخ ابونجیب سہروردی ؒ سے ، آنحضرت کو مظہر ِ تجلیاّت ِجمالی و جلالی شیخ احمد غزالی ؒ سے ، آنحضرت کو مظہر الفقیر لایحتاج شیخ ابوبکر نساج ؒ سے ، آنحضرت کو عارف ِکامل ِربانی شیخ ابوالقاسم گرگانی ؒ سے ، آنحضرت کو مرشد ِعربی شیخ ابو عثمان مغربی سے ، آنحضرت کو ہادیٔ ہر طالب شیخ ابوعلی کاتبی سے ، آنحضرت کو مظہرِ تجلیاتِ باری شیخ ابوعلی رودباری ؒ سے ، آنحضرت کو سید الطائف ، استاد ِاہل الطریقت کہف اربابِ حقیقت ، قطب الاقطاب ، فرد الافراد شیخ ابوالقاسم جنید بغدادی ؒ سے ، آنحضرت کو کامل ِمعتمد مصیب لایخطی شیخ سری سقطی ؒ سے ، آنحضرت کو کامل ومکمل بہ جمیع ِصفات موصوف شیخ معروف سے ، آنحضرت کو امام الاتقیاء علی بن موسیٰ الرضا سے ، آنحضرت کو عارف و عالم امام موسیٰ کاظم ؑ سے ، آنحضرت کو حجت اﷲ الناطق امام جعفر الصادق ؑ سے ، آنحضرت کو عارف کامل و عالم ماہر امام محمد باقر سے ، آنحضرت کو سلطان الکاملین امام زین العابدین ؑ سے ، آنحضرت کو امام الھدیٰ علی المرتضی ؑ سے ، آنحضر ت کو خاتم الانبیاء خیر الوریٰ محمد المصطفیٰ صلوت اﷲ و السلامہ علیہ و علیھم اجمعین سے نسبت ہے ۔ حبل اﷲ المتین و عروۃ الوثقیٰ دین کی شرح انہی مندرجہ بالا معانی سے عبارت ہے ۔ (2)
اسی سلسلہ ٔ ذھب کو میر شمس الدین عراقی ؒ کی فرمائش پر قاضی محمد قدسی نے بھی ۹۱۳ھ میں نظم کیا ہے جس میں میر سید محمد نوربخشؒ کے بعد شاہ قاسم فیض بخش ؒ اور شاہ شمس الدین عراقی بت شکن ؒ کے اسمائے گرامی بھی شامل ہیں ۔ اس منظوم سلسلۃ الذھب کو میر شمس الدین عراقی ؒ کے حکم پر اس دور کے مشہور خطاط و کندہ کار ملا ربی گنائی اور ملا حاجی گنائی نے خانقاہ ِنوربخشیہ زڈی بل کشمیر کی اندرونی دیواروں پر کندہ کیا ۔ یہ منظوم سلسلہ یوں ہے ۔
اعتصمنا بہ رحمتِ باری
کہ برافراخت قصرِ زنگاری
نہ رواقِ مقرنس گردون
کرد پیدا بہ امرِ کن فیکون
بہ کمالاتِ انبیائِ عظام
داد بر کلّ کائنات نظام
فتح کارِ حق و طریقِ وصول
داشت در اتباّعِ شرعِ رسول
اھلِ دل را نمودہ راہِ یقین
از رہِ خدمتِ اکابرِ دین
ھر کرا او خودآشنایی داد
از غمِ عالمش رھایی داد
خرم آن کو برین مقام رسید
وز رہِ معرفت بہ کام رسید
تا بدین عجز و بیکسی چہ کسیم
ما بدین عجز و بی کسی چہ کسیم؟
ما بدین قدر و منزلت برسیم
لیک حسنِ امل بسی داریم
کہ سراندر رہِ کسی داریم
آنکہ از واصلانِ راہِ خداست
آفتاب آنکہ بھرِ شرعِ ھداست
عارفِ حق ولیِ روی زمین
قطبِ آفاق شیخ شمس الدین
صفتش کز شمار بیرون است
آخر از ھر کہ گویم افزون است
نسبتِ فقرِ او بدان شاھی ست
کہ بر اوجِ کمال چوں ماھی ست
قبلۂ خلق و قدوۂ اقطاب
شاہ قاسم شہِ بلند جناب
نسبتِ او بہ نیّرِ اعظم
مظھرِ رحمت و جھانِ کرم
نوربخش آن محمّدِ ثانی
غوثِ اعظم امامِ ربانی
نسبتِ او بہ آفتابِ ھدا
خواجہ اسحاق زبدۃ الشھدا
نسبتِ او بہ پیرِ رّبانی
قطبِ عالم امیرِ ھمدانی
ذاتِ او منبعِ معانی دان
نامِ او را علیِ ثانی دان
نسبتِ حضرتش بہ عارفِ رب
شیخ محمودِ مزدقان بطلب
نسبتِ او بہ قطبِ یزدانی
شیخِ عالی علاء سمنانی
نسبتِ او بہ مرشدِ دینی
عبدِ رحمن اسفرایینی
نسبتِ او بہ شیخ احمد شد
آنکہ از جوزقان مؤیّد شد
نسبتِ او بہ سالکِ والا
شیخِ عالم علی بن لالا
نسبتِ او کہ عالم آرا شد
باز با نجم الدین کبریٰ شد
نسبتِ او بہ مرشدِ مطلق
شیخ عمّار یاسر است الحق
نسبتِ او بہ بونجیب آمد
آنکہ درکارِ دین لبیب آمد
نسبتِ او بہ عارفِ عالی
شیخِ دین احمد است غزّالی
نسبتِ او بہ شیخ ابوبکر است
کہ ز قیدِ ترّدد و شک است
نسبتِ او بہ پیرِ ربّانی
شیخ ابوالقاسم جرجانی
نسبتِ او بہ معدنِ عرفان
شیخ المغربی ابو عثمان
نسبتِ او بہ اخترِ ثاقب
پیرِ حق شیخ ابوعلی کاتب
نسبتِ او بہ عارفِ رحمان
بوعلی پیر رودباری دان
نسبتِ او بصر و الافرادی
غوثِ اعظم جنید بغدادی
نسبتِ اوست با سری سقطی
عارفِ حق مسیب لایخطی
نسبتِ او بہ شیخ معروفست
کہ بہ اوصافِ صدق موصوفست
نسبتِ او بہ مقتدای انام
شاہ علیِ رضا امام ھمام
نسبتِ او بہ موسیِ کاظم
کہ شد احکامِ شرع را ناظم
نسبتِ او بہ حجتِ ناطق
جعفر بن محمدِ صادق
نسبتِ او بہ کاملِ ماھر
مظھرِ حق محمدِ باقر
نسبتِ او بہ بحرِ دانش و داد
قطبِ عالم علی زینِ عباد
نسبتِ او بہ ابنِ عمِ رسول
وارثِ مصطفیؐ و زوجِ بتول
نسبتِ او بہ خواجۂ دوسرا
خاتمِ انبیاء خیرالورا
سببِ آفرینشِ افلاک
علم افرازِ عالمِ لولاک
خواجہ یی کہ غلام بر در شد
جبرئیلش ملازمِ در شد
بہ طفیلش جھان گرفت وجود
از محمدؐ شریعتش محمود
صلوات خدای و رحمتِ او
بر نبی و بر آلِ عترتِ او(3)
میر سید محمد نوربخشؒ کا سلسلہ ٔ طریقت نوربخشؒ کی اپنی منثور و منظوم کتب و رسائل کے علاوہ متعدد دیگر کتب و رسائل میں من و عن نقل ہوا ہے جن میں سے چند کتب کے نام درج ذیل ہیں ۔
۱) منظوم کتب:
صحیفۃ الاولیاء از میر سید محمد نوربخشؒ
سلسلۃ الاولیاء از علی محبی
تحفۃ الاحباب از قاضی محمد قدسی
سلسلۃ اقطابِ اویسی از احسان اﷲ استخری
۲) منثور کتب:
کشف الحقائق از میر سید محمد نوربخشؒ
سلسلۂ اولیاء از میر سید علی ہمدانی ؒ
الطالقانیہ از میر سید علی ہمدانی ؒ
داؤدیہ از میر سید علی ہمدانی ؒ
مختصراً ان منظوم و منثور تحاریر سے میر سید محمد نوربخشؒ کا سلسلہ ٔطریقت جو سلسلۃ الذّ ھب الصوّفیہ کے نام سے موسوم ہے ، یوں مرتب ہوتا ہے ۔
واپس اوپر جائیں

سلسلۃ الذھب

حضرت محمد ؐ رسول اﷲ
حضرت علی مرتضیؑ
حضرت امام حسین ؑ
حضرت امام زین العابدین ؑ
حضرت امام محمد باقر ؑ
حضرت امام جعفر صادقؑ
حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ
حضرت امام علی رضاؑ

معروفیہ :
شیخ معروف کرخیؒ
شیخ سری سقطیؒ
جنیدیہ :
شیخ جنید بغدادیؒ
شیخ ابو علی رودباریؒ
شیخ ابو علی کاتبؒ
شیخ ابو عثمان مغربیؒ
شیخ ابوالقاسم گرگانی ؒ
شیخ ابوبکر نساج ؒ
شیخ احمد غزالیؒ
سہروردیہ :
شیخ ابو نجیب سہروردیؒ
شیخ عمار یاسر بدیسیؒ
کبرویہ :
شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ
شیخ علی لالاؒ
شیخ احمد جوزجانیؒ
شیخ عبدالرحمن اسفرائنی ؒ
شیخ علاؤ الدولہ سمنانیؒ
شیخ محمود مزدقانیؒ
ہمدانیہ :
سید علی ہمدانی ؒ
خواجہ اسحاق ختلانی ؒ
نوربخشیہ :
سید محمد نوربخش قہستانی ؒ
شاہ قاسم فیض بخشؒ
شمس الدین عراقی ؒ
میر دانیال شہیدؒ
میر شمس الدین رشیدؒ
میر حسن رہنما ؒ
میر دانیال دانا ؒ
میر ابوسعید سعدا ؒ
میر مختار اخیار ؒ
میر جلال الدین مصوم
میر نجم الدین ثاقب ؒ
میر محمد نورانی ؒ ۱۱۸۶
میر محمد شاہ مخدوم الفقراءؒ
میر شاہ جلال ؒ؟ کریس
میر خانعلومؒ
میر سید محمد اکبرؒ
میر محمدشاہؒ
میر عونعلی شاہؒ
میر سید محمد نوربخشؒ نے اپنی تصنیف سلسلۃ الذھب ملقب بہ مشجر الاولیاء میں سلسلۃ الذھب کے جملہ پیران ِ طریقت کے مختصر احوال اور اقوال جمع کئے ہیں ۔ اس کتاب کے استناد پر ہم میرؒ کی تصانیف کے ذیل میں بحث کریں گے ۔ آپ نے اس کتاب میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے شروع کر کے ، آدم الاولیاء حضرت علی مرتضی علیہ السلام ، حضرات حسنین علیہم السلام اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک ائمہ اہلِ بیت کے حالات سلسلۃ الذھب کے پیرانِ طریقت کی ذیل میں تحریر کئے ہیں ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بعد ائمہ اثنا عشر میں سے باقی دو ائمہ یعنی حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی النقی علیہ السلام کا ذکر ِ مبارک افراد کی حیثیت سے اور حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کا ذکر رجال الغیب میں شمار ہونے کی حیثیت سے کیا ہے ۔ جبکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بعد سلسلہ ٔ طریقت شیخ معروف کرخی ؒ کی طرف موڑنے کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت امام علی الرضا علیہ السلام کی وفات کے وقت آپ کے بیٹے حضرت محمد تقی علیہ السلام آٹھ سال کے بچے تھے اور وہ احکامِ شریعت و طریقت کے مکلف نہ ہوئے تھے جبکہ شریعت میں مکلف ہونے کے لئے بالغ ہونے کی شرط ہے اور اور اگر بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہو ں تو پندرہ برس کی عمر شرط ہے اسی طرح جہاد ِاکبر کے لئے بیس سال کی عمر شرط ہے ۔ چنانچہ حضرت امام علی الرضا علیہ السلام نے حقیقت اور معرفت کے سالکین سے بیعت لینے کی اجازت کے ساتھ خرقہ ٔ تصوف اپنے دربان اور خادم اور مرید ابو المحفوظ معروف کرخی ؒ کو عطا فرمایا جن سے یہ سلسلہ شیخ سری سقطیؒ اور پھر شیخ جنید بغدادی ؒ کو منتقل ہوا ۔ شیخ جنید بغدادی ؒ صوفیاء کے ائمہ کبار میں سے ہیں اور تصوف کے اکثر سلاسل آپ تک پہنچتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ سید الطائفہ کہلاتے ہیں ۔ میر سید محمد نوربخشؒ اس حقیقت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ تصوف کی اکثر جماعتوں اور سلاسل کی انتہا سید الطائفہ حضرت شیخ جنید بغدادی پر ہوتی ہے ( جو شیخ معروف کرخی تک پہنچنے کی وجہ سے معروفیہ بھی کہلاتی ہیں ۔ دیگر سلسلے غیر معروفیہ کہلاتے ہیں ) ان کی تفصیل اس طرح ہے :
طائفہ اول : سلسلۃ الذھب الصوفیہ مشرب ہمدانیہ روش نوربخشیہ جو تصوف کے تمام سلسلوں میں سب سے زیادہ طاقتور اور کامل ترین سلسلہ ہے ۔
سلسلۃ الذھب ( سونے کی زنجیر) مذہب صوفیہ ، مشرب ہمدانیہ روش نوربخشیہ اس طرح ہے کہ سید محمد نوربخش خواجہ اسحاق ختلانی کے مرید ہیں اور وہ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی کے مرید ہیں اور وہ شیخ محمود مزدقانی کے مرید ہیں اور وہ شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒکے مرید ہیں اور وہ شیخ احمدجوزفانی کے مرید ہیں اور وہ شیخ علی لالا کے مرید ہیں اور وہ شیخ نجم الدین کبریٰ کے مرید ہیں اور وہ شیخ عمار یاسر کے مرید ہیں اور وہ شیخ ابو نجیب سہروردی کے مرید ہیں اور وہ شیخ احمد غزالی کے مرید ہیں اور وہ شیخ ابوبکر نساجی کے مرید ہیں اور وہ شیخ ابو عثمان مغربی کے مرید ہیں اور وہ شیخ ابو علی کاتبی کے مرید ہیں اور وہ ابو علی رودباری کے مرید ہیںاور وہ سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی کے مرید ہیں اور وہ شیخ سری سقطی کے مرید ہیں اوروہ شیخ معروف کرخی کے مرید ہیں اور وہ انہوں نے علم شریعت و سلوک طریقت و حقیقت و معرفت حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے حاصل کیا اور انہوں نے حضرت امام موسی ٰ کاظم ؑ سے اور انہوں نے امام جعفر صادق ؑ سے اور انہوں نے امام محمد باقر ؑ سے اور انہوں نے امام علی زین العابدین ؑ سے اور انہوں نے امام حسین شہید کربلا ؑ سے اور انہوں نے حضرت علی مرتضی ؑ علیہ السلام سے اور انہوں نے حصرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ واولیاء امۃ اجمعین و سلم تسلیماً کثیراً کیثراً سے ۔
اور امیر سید علی ہمدانی قدس سرہ اور حضرت خواجہ اسحاق ختلانی کے تمام خلفاء مثلاً امیر سید محمد ہمدانی اور میر حسن سمنانی اور مولانا نورالدین بدخشی و سید عبداﷲ برزش آبادی اور ان کے خلفاء اسی سلسلہ ٔہمدانی سے متفرع ہیں ان میں جو مشہور تھے میں نے ان کا ذکر کر دیا ۔ قد س اﷲ اسرارھم ۔
طائفہ دوم : سلسلہ ٔ کبرویہ: جو شیخ نجم الدین کبریٰ کی طرف منسوب ہے ۔ یہ سلسلہ تین طریقوں سے وارد ہے ۔ ان میں سے ایک سلسلہ ٔ ہمدانیہ ( سلسلۃ الذہب ) ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے ۔ دوسرا سلسلہ یوں ہے ۔ شیخ نجم الدین کبریٰ موصوف بہ ولی تراش۔شیخ عمار یاسر ۔ شیخ ابو نجیب سہروردی۔ شیخ عبداﷲ ۔ شیخ عمر بن محمد۔ شیخ محمد بن عمویہ۔ شیخ احمد بن یسار ۔ شیخ ممشاد دینوری ۔ شیخ جنید بغدادی
طائفہ سوم :سلسلہ ٔ سہروردیہ: شیخ شہاب الدین عمر سہروردی مصنف ’عوارف المعارف‘ ۔ یہ دو طریقوں سے وارد ہے ۔
پہلا طریق : شیخ شہاب الدین سہروردی۔ شیخ ابونجیب سہروردی۔ شیخ احمد غزالی تاآخر ( مذکورہ شدہ )
دوسرا طریق :شیخ شہاب الدین عمر سہروردی۔ قاضی وجیہہ الدین ۔ محمد بن عبداﷲسعد۔ شیخ احمد دینوری۔ شیخ ابوالعباس نہاوندی۔ شیخ ابو عبداﷲ محمد شیرازی۔ شیخ ابو محمد رویم ۔ شیخ جنید بغدادی
طائفہ چہارم: سلسلۂ قادریہ :شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب ہے ۔
پہلا طریق: شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ ۔ شیخ ابوسعید مبارک مخرمی بغدادی۔ ابو خرج محمد بن عبداﷲ طرطوسی۔ ابوالفضل عبدالواحد ۔ عبدالعزیز تمیمی۔ ابوبکر محمد بن ولف بن خلف المعروف ابوبکر شبلی ۔ جنید بغدادی۔
دوسرا طریق:دیکھئے سلسلہ ٔ قادری حسنی
طائفہ پنجم : سلسلہ ٔ نقشبندیہ : خواجہ بہاؤ الدین نقشبند سے منسوب ہے ۔ یہ پانچ طریقوں سے وارد ہے ۔
پہلا طریق: خواجہ بہاؤالدین نقشبند ۔شیخ احمد غزالی ۔ ابوبکر نساجی ( تاآخرمذکورہ درسلسلہ ہمدانی)
دوسرا طریق:خواجہ بہاؤالدین نقشبند۔ خواجہ محمد بابا سماسی۔ خواجہ علی رامیتی۔ خواجہ محمد خیر فغنوی ۔ خواجہ عارف ریوگری ۔ خواجہ عبدالخالق غجدوانی ۔ خواجہ یوسف ہمدانی ۔ ابوعلی فارمدی۔ شیخ ابوالقاسم گرگانی ۔ امام ابوالقاسم قشیری۔ تاآخر۔
دوسرا و تیسرا طریق:امام ابو القاسم قشیری ۔ ابو علی دقاق۔ ابوالقاسم نصیر آبادی۔ ابو علی رودباری۔ ابوبکر شبلی ۔ شیخ ابوبکر واسطی۔ ہر سہ مریدان شیخ جنید بغدادی۔
سید علی ہجویری ؒ ( داتا گنج بخش ؒ) بھی اسی سلسلے سے یوں منسلک ہیں ۔ سید علی ہجویری۔ شیخ ابوالقاسم گرگانی ( مذکورشدہ) و شیخ ابوالفضل ابن ختلی ۔ شیخ حضرمی ۔ شیخ ابوبکرشبلی۔ شیخ جنید بغدادی۔
پانچواں طریق: خواجہ بہاؤالدین محمد نقشبند۔ شیخ سلطان الدین ۔ شیخ احمد مولانا ۔ بابا کمال جندی۔ شیخ نجم الدین کبریٰ ( تاآخر مذکورشدہ )
طائفہ ششم: امام محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۔ شیخ جمال الدین ۔ ابو محمد یونس۔ بن یحییٰ قصار الہاشمی نیشاپوری۔ شیخ محمد الدین عبدالقادر جیلانی تاآخر ۔
طائفہ ھفتم :سلسلۂ جزری: شؤ شمس الدین محمد جزری سے منسوب ہے ۔
شیخ شمس الدین جزری ۔ شیخ عمر بن حسن مراغی ۔ شیخ احمد بن ابراہیم فاروقی۔ امام می الدین محمد بن عربی تا آخر۔
طائفہ ھشتم:سلسلۂ مولویہ: مولانا جلال الدین رومی سے منسوب ہے ۔
مولانا جلال الدین رومی ۔ شیخ شمس الدین تبریزی۔ بابا کمال الدین جندی۔ شیخ نجم الدین کبریٰ تا آخر مذکور شدہ در سلسلۂ ہمدانیہ ۔
طائفہ نھم :سلسلۂ انصاری: شیخ ابوعبداﷲ انصاری سے منسوب ہے ۔
شیخ ابوعبداﷲ انصاری ۔ شیخ ابوالحسن خرقانی ۔ ابوالعباس قصاب آملی ۔ شیخ محمد بن عبداﷲ نظری۔ شیخ ابو محمد حبیربرانی۔ شیخ جنید بغدادی۔
طائفہ دھم: سلسلۂ غزالی: امام ابو حامد محمد غزالی مصنف کتاب ’احیاء العلوم ‘سے منسوب ہے ۔ دو طریقوں سے وارد ہے ۔
پہلا طریق: شیخ ابوبکر نساج تاآخر
دوسرا طریق: شیخ عبدالمالک امام الحرمین ۔ شیخ ابوطالب مکی محمد بن علی الحارثی۔ شیخ ابوبکر شبلی۔ شیخ جنید بغدادی
طائفہ یازدھم : سلسلۂ عسقلانی: حافظ شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی سے منسوب ہے ۔ شہاب الدین احمد عسقلانی ۔ شیخ حسن دمشقی۔ شیخ تقی سلیمان المقدسی۔ شیخ شہاب الدین عمر سہروردی تاآخر مذکور درسلسلۂ سہروردی۔
طائفہ دوازدھم :سلسلۂ واسطی: شیخ شمس الدین محمد بن عمر الواسطی سے منسوب ہے ۔
شیخ شمس الدین واسطی۔ ابو العباس احمد زاہد ۔ شیخ شہاب الدین دمشقی ۔ شیخ عبدالرحمن شرقی ۔ شیخ علی لالا و شیخ مجدداالدین بغدادی ۔ شیخ نجم الدین کبریٰ تا آخرمذکور شدہ در سلسلۂ کبروی۔
طائفہ سیزدھم: سلسلۂ رفاعیہ : شیخ سید احمد رفاعی سے منسوب ہے ۔
شیخ سید احمد رفاعی۔ شیخ نورالدین عبدالرحمن قریشی۔ شیخ یوسف کورانی ۔ شیخ جنید بغدادی
طائفہ چھاردہم :سلسلۂ روزبہانی: شیخ روز بہان سے منسوب ہے ۔
شیخ روز بہان باقلی مؤلف تفسیر عرائس البیان۔ شیخ ابو محمد بن ابی نضر البقلی الشہیر بروز بہان ۔ شیخ محمود بن خلیفہ بیضاوی ۔ شیخ ابو بکر محمد خطیب بغدادی ۔ شیخ ابو نصر محمد خطیب ۔ شیخ ابو اسحاق کارزونی۔شیخ حسین شیرازی ۔ شیخ ابو عبداﷲ حفیف و شیخ محمد رویم ۔ شیخ جنید بغدادی
طائفہ پانزدھم : سلسلۂ بسطامی : شیخ ابو یزید بسطامی سے منسوب ہے جو شیخ جنید بغدادی کے مرید ہیں ۔
طائفہ شانزدھم : سلسلۂ عین القضاۃ ہمدانی و شیخ مجدالدین حکیم سنائی و نجیب الدین سہروردی مریدان ِ شیخ احمد غزالی تاآخر مذکور شدہ در سلسلۂ ہمدانی۔
مذکورہ بالا سولہ سلسلے شیخ جنید بغدادی ؒ تک جاتے ہیں جن کی وجہ سے شیخ جنید بغدادی سید الطائفہ کہلاتے ہیں ۔ یہ تما م سلاسل حضرت جنید بغدادیؒ سے شیخ معروف کرخی ؒ تک جاتے ہیں اس لئے سلاسل معروفیہ کہلاتے ہیں ۔ ان کے علاوہ چار غیر معروفیہ سلسلے ہیں جن کا ذکر آگے کیا جائے گا ۔
سترھواں سلسلہ: محاسبی سلسلہ : شیخ حارث محاسبی سے منسوب ہے ۔
شیخ حارث محاسبی۔ شیخ بشر حافی ۔ شیخ سری سقطی ۔ شیخ معروف کرخی تاآخرمذکورہ در سلسلۂ ہمدانیہ ۔
اٹھارہواں سلسلہ : اویسی سلسلہ ۔ شیخ اویس قرنی سے منسوب ہے ۔
شیخ شفیق بلخی۔ شیخ ابراہیم ادھم ۔ ( دو نسبتیں ہیں ۔ پہلی نسبت:) شیخ زید بن موسیٰ راعی۔ شیخ اویس قرنی ۔ امیر المؤمنین علی ؑ ابن ابی طالب ( دوسری نسبت:) شیخ فضیل بن عیاض تا آخر مذکورہ در سلسلۂ چشتیہ
انیسواں سلسلہ: سلسلۂ چشتیہ :خواجہ معین الدین حسن سنجری چشتی سے منسوب ہے ۔
خواجہ معین الدین چشتی ۔ خواجہ عثمان ہارونی ۔ حاجی محمد شریف زندانی ۔ خواجہ قطب الدین مودود چشتی ۔ خواجہ احمد چشتی۔ شیخ ابو اسحاق شامی ۔ شیخ علو دینوری۔ خواجہ ہبیرہ بصری ۔ خواجہ حذیفہ مرعشی ۔ سلطان شیخ ابراہیم ادھم بلخی۔ شیخ فضیل بن عیاض ۔ شیخ عبدالواحد بن زید۔ خواجہ حسن بصری۔ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ۔
بیسواں سلسلہ: سلسلۂ کمیلیہ : شیخ کمیل بن زیادؓ سے منسوب ہے ۔
امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ ۔ شیخ ابوالمیامن محمد بن محمد ازکانی ۔ شیخ محمد بن بال ۔ سالک نورالدین سالار۔ شیخ علی بن لالا۔ شیخ نجم الدین کبریٰ۔ شیخ اسمٰعیل مصری۔ شیخ محمد بن ماکیل ۔ شیخ داؤد خادم الفقرائ۔ شیخ ابوالعباس بن ادریس۔ شیخ ابوالقاسم بن رمضان ۔ شیخ ابو عبداﷲ عمر بن عثمان۔ ابو یعقوب النہر جوریٰ۔ شیخ ابو یعقوب سوسی ۔ شیخ عبدالواحد بن زید ۔ شیخ کمیل بن زیاد۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ ۔ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیؐ ۔
اکیسواں سلسلہ : سلسلۂ حسینی شاذلی : شیخ سید ابو الحسن علی بن عبداﷲ شاذلی سے منسوب ہے ۔
شیخ شاذلی ۔ شیخ عبدالسلام مشیش۔ سید عبدالرحمن مدنی ۔ تاج الدین بن محمد ۔ شمس الدین محمد۔ زین الدین محمد قزوینی ۔ ابو اسحاق ابراہیم بصری۔ ابو القاسم مروانی ۔ مسعود ۔ سعید قروانی ۔ ابو محمد جابر ۔ حضرت امام حسین شہید کربلا علیہ السلام ۔ امیر المؤمنین حضر ت علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ۔
بائیسواں سلسلہ : سلسلۂ قادری حسنی : شیخ عبدالقادر جیلانی سے حضرت امام حسن ؑ تک پہنچتا ہے ۔
شیخ عبدالقادر جیلانی ۔ سید صالح موسیٰ ۔ سید عبداﷲ ۔ سید یحییٰ۔ سید محمد رومی ۔ سیدداؤد۔ سید موسیٰ ثانی ۔ سید موسی جون۔ سید عبداﷲ محض ۔ سید حسن مثنیٰ۔ حضرت امام حسن مجتبیٰ ۔ حضرت امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم ۔ ( یہ سلسلۂ تصوف موروثی ہے )
میر سید محمد نوربخشؒ کے مندرجہ بالا بیان سے سلاسل ِتصوف کا ایک اجمالی نقشہ پیش نظر کھنچ جاتا ہے اور سلاسلِ تصوف میں سلسلۃ الذھب کی حیثیت بھی عیاں ہو جاتی ہے۔
میر سید محمد نوربخشؒ کا اسمِ مبارک مشائخ سلسلۂ قادریہ حسینیہ میں بھی شمار ہوتا ہے ۔ جس کی تفصیل یہ ہے ۔
شیخ محمد غیاث نوربخشؒ۔ سید محمد نوربخشؒ ۔ خواجہ اسحاق ختلانی ۔ سید علی ہمدانی ۔ شیخ محمود مزدقانی۔ شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ۔ شیخ نورالدین المعروف بالکبریٰ۔ شیخ رضی الدین المعروف بہ علی لالا۔ شیخ مجدد الدین بغدادی۔ شیخ نجم الدین کبریٰ۔ شیخ عمار بن یاسر اندلسی۔ شیخ ابوالنجیب سہروردی۔ سید عبدالقادر جیلانی ۔ شیخ ابی سعید علی المبارک المخزومی ۔ شیخ ابی الحسن علی الھنکاری ۔ شیخ ابی الفرح طرطوسی۔ شیخ ابوالفضل عبدالواحد بن عبدالعزیز۔ شیخ ابوبکر شبلی ؒ ۔ شیخ جنید بغدادی تا حضرت امام حسین علیہ السلام بطریق سلسلۂ ہمدانیہ مذکورہ شدہ ۔ (5)
واپس اوپر جائیں

مختصر احوال پیران طریقت سلسلۃ الذھب

مذہب صوفیہ مشرب ہمدانیہ روش نوربخشیہ

زیر ِنظر کتاب کا اہم مقصد مسلک ِنوربخشیہ اور اس کے موسس حضرت میر سید محمد نوربخشؒ کا تفصیلی تعارف ہے ۔ اس سلسلے میں زنجیرہ صوفیہ نوربخشیہ یعنی سلسلۃ الذھب کے اہم بزرگوں کا اجمالی تعارف کئے بغیر مدعا حاصل نہیں ہو سکتا ۔ لہذا ذیل میں حضور سرور کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ ، آدم الاولیاء مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام سے لے کر ائمہ اہل بیت تا حضرت اما م علی رضا ؑ تک کا ذکر مبارک چھوڑ کر ( جن کے احوال و اقوال کا مختصر بیان ’ نوربخش کا اعتقادی و فقہی دبستان ‘ کی ذیل میں ہوگا ) دیگر اہم مشائخ کا مختصر تذکرہ درج کیا جاتا ہے ۔ ان بزرگوں میں سے اکثر صاحبانِ تصانیف کثیر ہ ہیں اور ان کی شہرہ ٔ آفاق تصانیف رہتی دنیا تک علمی دنیا کا گراں قدر ورثہ کہلانے کی قابل ہیں چنانچہ ان تصانیف کا بھی اجمالی ذکر کیا جاتا ہے ۔ تاکہ قارئین کرام بالخصوص پیروکاران ِمسلک ِنوربخشیہ کو اپنے علمی و روحانی ورثے کی اہمیت کا کماحقہ اندازہ ہو سکے ۔
حضرت شیخ معروف کرخیؒ

سلسلۂ نوربخشیہ کے نویں قطب ہیں۔ آپ حضرت امام علی رضا ؑ کے شاگرد ، دربان و خلیفہ اور حضرت سری سقطی ؒ کے استاد و پیر تھے ۔ آپ کا سلسلۂ طریقت دو طریقوں سے حضرت علی ؑ تک پہنچتا ہے ۔ ( ا) حضرت امام علی رضا ؑ کے واسطے سے ( ۲ ) حضرت داؤد طائی کے واسطے سے ۔آپ دوسری صدی ہجری کے مشائخ صوفیاء میں سے تھے ۔ آپ کے حالات ، ارشادات اورروحانی مقام ومنزلت سے متعلق علامہ ابن جوزی نے ’’ معروف الکرخی و اخبارہ‘‘ کے نام سے عربی میں ایک کتاب لکھی ہے جومشہور مصری عالم ڈاکٹر عبداﷲ جیوری نے ۱۹۸۵ء میں قاہرہ سے شائع کی ہے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے ۔ صحبت باصوفیان کن یعنی صوفیوں کے ساتھ صحبت رکھو ۔( 6)
حضرت شیخ سری سقطی ؒ

حضرت شیخ معروف کرخی ؒکے شاگرد اور سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی ؒکے استاد تھے۔ آپ کے اقوال بیسیوں کتابوں میں موجود ہیں جن سے آپ کے علمی مقام اور روحانی رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ آپ تمام اصناف ِعلم میں کامل تھے (7) آپ نے بغداد میں تصوف کے ذریعے توحید کا درس عام کیا ۔
حضرت شیخ جنید بغدادیؒ

آپ صوفیہ نوربخشیہ کے گیارھویں قطب ہیں۔ آپ شیخ سری سقطی ؒکے شاگرد اور شیخ ابو علی رودباری ؒکے استاد تھے ۔ آپ طاؤس العلماء ، سیدالطائفہ اور امام ِتصوف اور امام ِائمہ کے القاب سے ملقب ہیں ۔ (8)
آپ صوفیاء کے ان ائمہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تصوف کو خاص نظریات سے روشناس کرایا ۔ (9 )
تصانیف:آپ کی کتابوں اور رسائل کی تعداد بائیس ( ۲۲) ہے ۔ جن میں معالی الھم ( عربی ) اور رسائل ِجنید( اٹھارہ رسائل متن مع انگریزی و اردو ترجمہ ) شائع ہو چکے ہیں ۔ (10
شیخ ابو علی رودباری ؒ

آپ صوفیہ نوربخشیہ کے بارھویں قطب ہیں ۔ آپ شہزادے تھے لیکن سلطنت ِدنیوی سے منہ موڑ کر راہ ِتصوف کو اختیار کیا ۔ حضرت جنید ؒکے شاگرد اور حضرت ابو علی کاتب کے استاد تھے ۔ شاعری کا شغف رکھتے تھے اور اعمال ِطریقت میں عظیم درجہ رکھتے تھے ۔(11)
ابو عثمان مغربی ؒ

صوفیہ نوربخشیہ کے چودھویں قطب ہیں ۔ آپ کا نام سعید بن سلام ہے ۔ شمالی افریقہ کے رہنے والے تھے اس لئے مغربی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ آپ مشہور صوفی اور ولی کامل تھے ۔ (12)
شیخ ابوالقاسم گرگانی ؒ

آپ سلسلۂ نوربخشیہ کے پندرھویں قطب ہیں ۔ جرجانیہ ایران کے رہنے والے تھے ۔ سید علی ہجویری لاہوری المعروف داتا گنج بخش ؒ آپ کے شاگرد ہیں جو ’کشف المحجوب‘کے مصنف ہیں ۔ داتا صاحب نے آپ کو متاخرین ِصوفیہ کا قطب ِوقت عارف ِبے نظیر اور صوفی ٔبے بدیل قرار دیا ہے ۔ (13)
شیخ ابوبکر نساج ؒ

آپ سلسلۂ نوربخشیہ کے پندرھویں قطب ہیں ۔ جرجانیہ ایران کے رہنے والے تھے ۔ سید علی ہجویری لاہوری المعروف داتا گنج بخش ؒ آپ کے شاگرد ہیں جو ’کشف المحجوب‘کے مصنف ہیں ۔ داتا صاحب نے آپ کو متاخرین ِصوفیہ کا قطب ِوقت عارف ِبے نظیر اور صوفی ٔبے بدیل قرار دیا ہے ۔ (13)
شیخ احمد غزالیؒ

صوفیہ نوربخشیہ کے سترہویں قطب ہیں ۔ آپ مشہور فلسفی اور صوفی امام محمد غزالی ؒکے بھائی ہیں ۔ شیخ ابوبکر نساج کے شاگرد اور شیخ ابو نجیب سہروردی ؒکے استاد تھے ۔ آپ کے رسائل تصوف بہت پاکیزہ اور لطیف ہیں ۔ (14)
آپ چھبیس(۲۶) کتب و رسائل کے مصنف ہیں ۔ جن میں بعض درج ذیل ہیں ۔
۱ ۔ بحر الحقیقہ ( فارسی )
۲ ۔ سوانح العشاق ( فارسی )
۳ ۔ رسالہ عینیہ ( فارسی )
۴ ۔ رسالہ الطیور( فارسی )
۵۔ مکاتیب امام احمد غزالی ( فارسی )
۶ ۔ وصایا غزالی ( فارسی )
۷ ۔ مقالہ الروح( فارسی ) (15)
شیخ ابو نجیب سہروردی

سلسلۃ الذھب کے اٹھارہویں قطب ہیں۔ آپ سہرورد ایران کے رہنے والے تھے ۔ آپ شیخ احمد غزالی ؒکے شاگرد اور شیخ عمار یاسر بدلیسی ؒکے استاد تھے ۔
آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں مشہور ترین ’ آداب المریدین ‘ ہے جس کا اردو ، فارسی اور فرانسیسی ترجمہ شائع ہو چکا ہے ۔ سید محمد گیسودراز نے اس کی شرح بھی لکھی ہے ۔ (16)
شیخ نجم الدین کبریٰ

آپ سلسلۂ نوربخشیہ کے بیسویں قطب ہونے کے علاوہ تقریباً تمام سلاسل تصوف کے قطب اور شیخ ِطریقت تھے ۔ آپ ’ شیخ ولی تراش ‘کے نام سے مشہور تھے کیونکہ بہت سے مشائخ آپ کے تربیت یافتہ ہیں ۔ (17)
آپ کی تصانیف کی تعداد سینتیس ( ۳۷ ) ہے ۔ جن میں
۱ ۔ السایر الحایر( فارسی )
۲ ۔ آداب الصوفیہ ( فارسی )
۳ ۔ اصول العشرہ( عربی )
۴ ۔ اقرب الطرق الی اﷲ ( فارسی )
۵ ۔ فواتح الجمال ( عربی ) شامل ہیں ۔
شیخ علی لالا غزنوی ؒ

سلسلۃ الذہب کے اکیسویں قطب ہیں۔ آپ شیخ عمار بدلیسیؒ کے خلیفہ اور حضرت شیخ احمد ذاکر ؒکے استاد ہیں ۔آپ صوفیہ ٔحقہّ کے اکابر میں سے تھے ۔ (18)
شیخ احمد ذاکر جوزجانی

سلسلۂ صوفیہ کے بائیسویں قطب ہیں ۔ کم بولنے اور ذکر خدا وندی میں مصروف رہنے کی وجہ سے احمد اصم اور ذاکر کے نام سے مشہور تھے آپ نے شیخ علی لالا سے طریق تصوف اخذ کیا ۔
شیخ عبدالرحمن اسفرائنی ؒ

آپ شیخ علاوالدولہ سمنانی ؒ کے مرشد ہیں ۔ آپ کی تصانیف میں اپنی سرگزشت اور دوسرے صوفیانہ اشغال و اعمال اور مقامات و منازل کا بیان ہے ۔
آپ کی بہت سی تصانیف میں سے نو شائع ہو چکی ہیں ۔ جن میں
۱۔ کاشف الاسرار( فارسی ) ( مع سات رسائل ) فرانسیسی ترجمہ کے ساتھ شائع ہو چکا ہے ۔
۲ ۔ آداب الخلوۃ ( فارسی )
۳ ۔ چار رسائل متفرقہ ( فارسی )
ایران اور کینیڈا سے شائع ہو چکے ہیں ۔ (19)
شیخ علاؤالدولہ سمنانی ؒ

سلسلۂ نوربخشیہ کے چوبیسویں قطب ہیں ۔ آپ اپنے زمانے کے حکمرا ن خاندان کے فرد تھے لیکن دنیوی اقتدار کو چھوڑ کر راہ سلوک کو اختیار کیا ۔ آپ نے سمنان میں ایک پورے علاقے کو خرید کر وقف کیا اس میں ’ صوفی آباد ‘ کے نام سے بستی بسائی اور خانقاہ تعمیر کی ۔ (20) آپ عظیم اہل ِعلم اور صوفی شاعر تھے ۔ (21) آپ ایک سو چار ( ۱۰۴) کتابوں کے مصنف ہیں جن میں
۱ ۔ العروۃ لاھل الخلوۃ الجلوۃ ( عربی و فارسی )
۲۔ چہل مجلس ( فارسی )
۳ ۔ آداب السفرہ
۴۔ مالا بدمنہ( فارسی )
۵ ۔ سلوۃ العاشقین ( فارسی )
۶۔ سرّ ِسماع( فارسی )
۷ ۔ شرح ِحدیث ِ ارواح( فارسی)
۸ ۔ شطرنجیہ( فارسی )
۹ ۔ فرحۃ العالمین ( فارسی )
۱۰۔ مناظر المحاظر( فارسی )
۱۱۔ مکتوبات( فارسی )
۱۲۔ سرالبال لاھل الحال( فارسی )
۱۳۔ بیان الاحسان ( فارسی ) اور
۱۴۔ دیوانِ سمنانی ؒ شامل ہیں ۔ (22)
امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ

آپ سلسلۂ نوربخشیہ کے چھبیسویں قطب ہیں ۔آپ شاہ ِہمدان ، امیر ِکبیر اور علی ثانی کے القاب سے بھی مشہور ہیں ۔ آپ کی نسبت سے یہ سلسلہ سلسلۂ ہمدانیہ بھی کہلاتا ہے ۔ آپ نے کشمیر اور بلتستا ن میں اسلام کی تبلیغ کی اور ربع ِمسکوں کا تین بار سفر کیا ۔ اوراد و ادعیہ کا مشہور مجموعہ ’ اوراد ِفتحیہ ‘ آپ نے چودہ سو اولیاء سے حاصل کیا ۔ آپ نے تصوف کے چالیس مقامات کی نشاندہی کی ہے ۔ عہد ِحاضر کے مشہور شاعر علاّمہ محمد اقبال نے ’جاوید نامہ ‘ میں آپ کو شاندار الفاظ میں خراج ِعقیدت پیش کیا ہے ۔ آپ تقریباً ایک سو ستر( ۱۷۰) کتابوں کے مصنف ہیں ۔ جن میں
۱ ۔ ذخیرۃ الملوک( فارسی )
۲ ۔ مشارب الاذواق ( فارسی )
۳ ۔ مرآ ۃ التائبین( فارسی )
۴ ۔ مکتوبات ِامیریہ( فارسی)
۵ ۔ کتاب الفتوۃ ( فارسی )
۶۔ وارداتِ امیریہ ( فارسی )
۷ ۔ مودۃ القربیٰ( عربی )
۸ ۔ مشکل حل و حل مشکل ( فارسی )
۹ ۔ السبعین فی فضائل امیر المؤمنین
۱۰۔ رسالہ منامیہ ( فارسی )
۱۱۔ اورادیہ ( عربی )
۱۲۔ ذکریہ کلان( فارسی )
۱۳۔ ذکریہ ( خرد) ( فارسی )
۱۴۔ درویشیہ ( فارسی )
۱۵۔ ہمدانیہ ( فارسی )
۱۶۔ داؤدیہ ( فارسی)
۱۷۔ تلقینیہ ( فارسی )
۱۸۔ منہاج العارفین ( فارسی )
۱۹۔ دہ قاعدہ ( فارسی )
۲۰۔ اعتقادیہ ( فارسی )
۲۲۔ چہل مقام صوفیہ ( فارسی)
۲۳۔ رسالہ در طب( فارسی)
۲۴۔ رسالۃ التوبہ ( عربی)
۲۵۔ خواطریہ ( عربی )
۲۶۔ عقلیہ ( عربی)
۲۷۔ عقبات( فارسی )
۲۸۔ بھرامشاھیہ ( فارسی)
۲۹۔ مرادات حافظ( فارسی)
۳۰۔ فقریہ ( فارسی)
۳۱۔ اربعین فی فضائل علی ؑ (عربی )
۳۲۔ اربعین فی فضیلت فقر( عربی )
۳۳۔ اربعین ( عربی)
۳۴۔ نوریہ ( فارسی)
۳۵۔ چہل اسرار( فارسی)
۳۶۔ کنزالیقین ( فارسی )
۳۷۔ معرفت النفس( فارسی )
۳۸۔ ذکریہ ( عربی)
۳۹۔ درجاتِ معرفت(فارسی)
۴۰۔اسرارالنقطہ(عربی)
۴۱۔اصطلاحات الصوفیہ(فارسی)
۴۲۔چہل اسرار ( فارسی)
۴۳۔ مصباح العرفان ( فارسی)
۴۴۔ رسالہ مناجات ( فارسی )
۴۵۔ سلسلۃ الاولیائ( فارسی)
۴۶۔ الطالقانیہ ( عربی)
۴۷۔ سیرالطالبین( فارسی)
۴۸۔ حق الیقین ( فارسی)
۴۹۔ اسناد ِاوراد فتحیہ ( فارسی)
۵۰۔ مشیت ( فارسی )اور
۵۱۔ موچلکہ( فارسی ) شامل ہیں ۔ (23)
۱۵۔ میر سید محمد نوربخشؒ:میر سید محمد نوربخشؒ بھی اپنے پیشرو بزرگوں کی طرح صاحب ِ تصانیفِ کثیرہ سمجھے جاتے تھے ۔ آپ نے کتبِ تصوف کے علاوہ اصول و فروعِ دین پر بھی قلم اٹھایا اور ایک مستقل فقہی دبستان کی بنیاد رکھی ۔ آپ کی تصانیف کا تفصیلی تذکرہ آگے آئے گا ۔
واپس اوپر جائیں

سلسلۂ نوربخشیہ میر سید محمد نوربخشؒ کے بعد

جیسا کہ نوربخشؒ کے حالاتِ زندگی کی ذیل میں ذکر ہو چکا ہے کہ جب خواجہ اسحاق ختلانی ؒ نے اپنے مرید میر سید محمد نوربخشؒ کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس وقت سید عبداﷲ برزش آبادی موجود نہ تھے ۔ بعدازاںسید عبداﷲ برزش آبادی نے سید محمد نوربخشؒ کی بیعت نہ کی اور ان سے ’سلسلۂ ذہبیہ ‘ چل نکلا۔ یہ سلسلۂ یوں ہے ۔
سید عبداﷲ برزش آبادی
شیخ رشید الدین
علی بیداوزی
حاجی محمدصدیق جزشانی
شیخ حسین خوارزمی
شیخ یعقوب صرفی
شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی
شیخ آدم بنوری
سید عبداﷲ
شیخ عبدالرحیم والد شاہ ولی اﷲ
شاہ ولی اﷲ دہلویؒ (24)
میر سید محمد نوربخشؒ سے جو سلسلے چلے ان کی تفصیل یوں ہے ۔
۱۔ میر سید محمد نوربخشؒ
محمد بن یحییٰ لاہیجی اسیریؒ
احمد لاھیجیؒ
محمد خبوشانی
ابوالقاسم بصیر
فضل اﷲ مشہدی
نوراﷲ
حسین خوارزمی
قاضی نوراﷲ شوستری ( متوفی۱۰۱۹ھ) (25)
۲۔ سید محمد نوربخشؒ
محمد بن سعد ہمدانی المعروف شیخ محمد الوندی
خواجہ فقیہ زاہد
شیخ قاسم کردگار
پیر حسین کردگار (26)
۳ ۔ سید محمد نوربخشؒ
سید محمد بن علی طالقانی
علی ( محبی ) (27)
۴۔سید محمد نوربخش ؒ
حضری شیرازی
ولی رشکی
علی مشہدی
عبدالقادر عاشق آبادی
عبدالرحیم دماوندی
عبدالحسین کازرونی
محمد اسماعیل (28)
۵۔سید محمد نوربخش ؒ
پیر محمد ہمدانی
رکن الدین ہمدانی
نظام الدین اسد
جمال الدین ساوجی (29)
۶۔ سید محمد نوربخشؒ
شاہ قاسم فیض بخشؒ
میر شمس الدین عراقی بت شکن
شیخ دانیال شہید
میر شمس الدین رشید
میر حسن رہنما ؒ
میر دانیال دانا
نظام الدین عاشق
میر ابو سعید سعدائ
نجم الدین ھراتی
میر مختار اخیار
پیر اکبر
میر جلال الدین معصوم
محمد علی معصوم
میر نجم الدین ثاقب
شہاب الدین کشمیری
میر سید محمد نورانی
مجد الدین دھلوی
میر محمد شاہ
شفا بخش
میر شاہ جلال
بہاؤ الدین لاہوری
میر سید خانۂ علوم
ظہور علی شاہ
میر محمد اکبر
فیض علی شاہ
میر سید محمد شاہ
عشق علی شاہ
میر سید عون علی شاہ
معطر علی شاہ
میر محمد شاہ (30)
مہر علی شاہ(31)
۵۔ میر سید محمد نوربخشؒ
شاہ قاسم فیض بخش ؒ
شیخ حاجی حسین ابرقوہیؒ
شیخ کمال الدین جوینیؒ
محمد سوداخری سبزواری ؒ
شیخ ملک علی جوینیؒ
علی سدیری ؒ
شیخ حسن سدیریؒ
شیخ محمد رضا سدیریؒ
شیخ کمال الدین سدیریؒ
شیخ محمد مشہدیؒ (پیر بالاندوز)
شیخ محمد مؤمن سبزواری سدیری ؒ
شیخ محمد تقی شاہیؒ
میر مظفر علی شاہیؒ
شیخ محمد علی شاہیؒ نوربخشی ؒ
شیخ محمد شمس الدین شاہیؒ نوربخشی ؒ
شیخ عبدالوھاب نایینیؒ
محمد حسن کوزہ کنائی
سلطان العارفین رضا قلیؒ
محمد تقی پشت مشہدی
عبدالقادر جہری
شیخ محمد حسن
غیاث الدین مشہدیؒ حاجی اخوند محلاتی
ابوالفضل عنقا
شیخ محمد حسن قطب الدینؒ
احمد نایینی
محمد عنقا
شیخ محمد علی شیرازیؒ
معطر علی شاہ
صادق عنقا
شیخ محمد حسن شریف الدین مشکوری(32)
مہر علی شاہ (33)
نادر عنقا
لاس اینجلس امریکہ(34)

واپس اوپر جائیں

حوالہ کُتب

صحیفۃ الاولیاء (ص۳۱،۳۲)
کشف الحقائق (ص ۱۹ تا ۲۱)
تحفۃ الاحباب (ص۴۲۵ تا ۴۲۷)
صوفیہ نوربخشیہ ( ص ۱۴۷ تا ۱۴۹) ، آثارِ احمد غزالی ؒ( شجرۂ مشمولہ ) ، آثارِ شاہِ ہمدان ؒ ( ص۹۳، ۹۴)، بوق بوق نامہ قلمی
سلسلۃ الذھب ملقب بہ مشجر الاولیاء متن حصہ دوم (ص ۲۰ تا ۲۶)
سیر ِ عرفان ( ص ۸۱)
رموزِ عشق ( ص۵۶)
ایضاً ( ص ۵۳)
تعلیماتِ غزالی ؒ ( ص۲۱)
’ بزرگانِ نوربخشیہ کی دستیاب تصانیف‘ نوائے صوفیہ (شمارہ ۳۲اگست ۹۷ ص ۱۹)
کشف المحجوب ( ص ۳۱۵)
شاہکار انسائیکلو پیڈیا ( ص ۳۳۰)
کشف المحجوب ( ص۳۳۰)
تذکرۂ روزِ روشن ( ص ۳۷)
’بزرگانِ نوربخشیہ کی دستیاب تصانیف‘ نوائے صوفیہ ( شمارہ ۳۲ اگست ۹۷ ص ۱۹)
ایضاً ( ص۲۲)
ایضاً ( ص ۲۲) ، مفاتیح الاعجاز فی شرح گلشن ِ راز ( ص۷۰۳)
مجالس المؤمنین ( ۲۵۹)
’ بزرگان ِ نوربخشیہ کی دستیاب تصانیف ‘ نوائے صوفیہ (شمارہ ۳۲ اگست ۱۹۹۷ء ص۲۲)
خمخانۂ وحدت (ص ۱۳۵)
مفاتیح الاعجاز (ص۷۰۲)
The Throne Carrier of God (p2) ، نوائے صوفیہ شمارہ ۳۲ ( ص۲۲)
’بزرگانِ نوربخشیہ کی دستیاب تصانیف‘ نوائے صوفیہ ( شمارہ ۳۲اگست ۹۷ ص۱۹ تا ۲۱) ، ’ حضرت شاہ ہمدان ؒ کی تصانیف‘ ( از ڈاکٹر عبدالرشید) نوائے صوفیہ ( شمارہ ۲۵ تا ۲۷ دسمبر ۱۹۹۴ء ص ۲۵ تا ۲۷)
سالارِ عجم (ص ۸۴)
مقالۂ شہزاد بشیر (ص ۱۱۶)
ایضاً (ص۱۱۶)
ایضاً (ص۱۱۶)
شجرۂ مشمولہ آثار فارسی احمد غزالی ؒ
آثار فارسی احمد غزالی ؒ ( شجرۂ مشمولہ )
دعوات الصوفیہ (ص۱۷۳، ۱۷۴)
آثارِ فارسی احمد غزالی ؒ ( شجرہ مشمولہ)
شجرہ ھای تصوف مشمولہ آثار فارسی احمد غزالی ؒ، اقرب الطرق الی اﷲ (ص ۶۲)
شجرہ ھای تصوف مشمولہ آثار فارسی احمد غزالی ؒ، اقرب الطرق الی اﷲ (ص ۶۲)
انٹرنیٹ ویب سائٹ www. Shah Maghsoudi. com.