نوربخشؒ کا علمِ اسرارِ کونیہ
نوربخش ؒ کا تصوّرِ علم
روحانی مشاہدات کی درجہ بندی
روحانی واقعات کی تشریح
علمِ باطن براہِ ظاہر
سبعہ اطوار ِ قلبیہ
حوالہ جات

امریکی محقق پروفیسر شہزاد بشیر کے مطابق میر سید محمد نوربخشؒ کا نظریہ ٔتصوف بنیادی طور پر دو مکاتبِ فکر سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک ماخذ سلسلہ ٔ کبرویہ کے صوفیاء کے افکار ہیں اور دوسرا ابن عربی کی تعلیمات پر مبنی ایرانی صوفیاء کے افکار ۔ ان دونوں مکاتب ِفکر کا ادغام میر سید علی ہمدانی ؒ کی تعلیمات میں ہوتا ہے اور نوربخشی صوفی نظام بھی اسی فکری اتحاد کی مجتھدانہ تعبیرات سے مملو ہے ۔ (1)
نوربخش ؒ کے صوفیانہ افکار کی بنیادیں نظریہ ٔوحدت الوجود ، نظریۂ انسان ِ کامل اور نظریہ ٔ خاتم الولایت پر استوار ہیں ۔ ذیل میں نوربخش ؒکے تصوف پر چار پہلوؤں سے اظہار خیال کیا جائے گا ۔

نوربخشؒ کا علمِ اسرارِ کونیہ
نوربخشؒ کا تصوّرِ علم
راہ ِ سلوک کے عملی تقاضے
صوفیاء کے احوال و مقامات

نوربخشؒ کا علمِ اسرارِ کونیہ

جیسا کہ مذکور ہو چکا ہے کہ نوربخش ؒ کے علمِ اسرارِ کونیہ (cosmology)کی بنیاد محی الدین ابن عربی ؒ کے نظریہ ٔ وحدت الوجود اور کبروی صوفیاء کے تصور ِ کون و مکان پر استوار ہوئی ہے ۔ نوربخشؒ کے نزدیک اﷲ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے اور کُل عالم ِامکان اس ذات ِواحد کی تجلیّ کا مظہر ہے ۔ اگرچہ نوربخشؒ نے اپنی تصانیف میں ابن ِعربی کے نظریے کا کہیں پرچار نہیں کیا مگر وہ یقینا اس سے بخوبی واقف بلکہ متاثر تھے ، جس کا اندازہ ان کی بعض مسلمہ تصانیف میں ابنِ عربی کی غیر معمولی تعریف و توصیف سے ہوتا ہے ۔ نوربخشؒ کے نزدیک وجود صرف ذات ِحق کا ہے اور انسان کی حیثیت اس بحرِو جود کے ایک قطرے کی سی ہے (2)
نوربخش ؒ کے نزدیک اﷲ تعالیٰ واجب الوجود ہے ۔ غیر اﷲ ممکن الوجود ہے اور شریک باری تعالیٰ ممتنع الوجود ہے ۔ اس بٹوارے کی روسے انسان بھی ممکن الوجود ہے۔ (3)۔
اﷲ تعالیٰ پر اعتقاد کے باب میں نوربخش ؒ فرماتے ہیں ۔ ’’ اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ اﷲ تعالیٰ زندہ ہے ، جاننے والا ہے ، سننے والا ہے ، دیکھنے والا ہے ، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، صاحبِ ارادہ ہے اور صاحب ِکلام ہے ۔ اس کا علم عرش و کرسی ساتوں آسمان و زمین ، اور ان میں موجود اشیاء سے لے کر ہر چیز پر محیط ہے ۔ بالائے عرش اس کے علمی وجود کے علاوہ کوئی بھی چیز نہیں ہے ۔ وہ مکان کے اعتبار سے نہیں بلکہ شان کے اعتبار سے بلند و بالا ہے اس کی کوئی انتہا نہیں وہ نو ر الانوار ہے ۔ اس کا نہ کوئی جسم ہے نہ کوئی کثافت ہے اور نہ کوئی رنگ ہے ۔ اور وہ ان چیزوں سے منزہ ہے ۔ وہ پیغمبروں اور اولیاء کا معبود ہے ۔ اس مقام پر انبیاء علیہم السلام اسے حی اور علیم کے نام سے اولیائے کرام حضرت ِعلمیہ کے نام سے اور حکماء عقلِ کلُ اور نفس ِ کُل کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان گروہوں میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی مختلف اصطلاحی عبارتوں سے مراد صرف اﷲ ہی ہے ۔ وہ اس مقامِ جبروت میں تمام چیزوں سے بالکل پاک اور بے نیاز ہے ۔ اس کا نوُر آسمانوں کو روشنی کا فیض پہنچاتا ہے ۔ اس مقام پر انبیاء علیہم السلام اسے رب ، خالق اور رازق کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ فیضانِ نوُر کے ان مظاہر کو اولیائے کرام صفاتِ افعالیہ اور ملائکہ سماویہ کے نام سے اور حکماء عقول ِفلکیہ ، نفوس ِ فلکیہ ، قوائے فلکیہ ، ملکات اور روحانیات ِکواکب کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ یہ روحانیات عناصر اور موالید کو فیضیاب کرتی ہیں ۔ فیضان ِروحانیات کے اس مقام پر اﷲ کے ان مظاہر کو انبیاء علیہم السلام مخلوقات کے نام سے ، اولیائے کرام صفاتِ آثاریہ اور ارواح منطبعہ کے نام سے اور حکماء قوائے منطبعہ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان کی اصطلاحی عبارتوں سے اﷲ پاک کی ذات ، صفات ، افعال اور آثار مراد ہیں۔ ‘‘ (4)
ریاضت و مجاہدے کے ثمرات کا بین کرتے ہوئے نوربخشؒ فرماتے ہیں ۔ ’’ ذات و صفات ِخداوندی کی حقیقت نگاہ ِعقول سے پوشیدہ ہے لیکن بڑے بڑے انبیاء علیھم السلام اور کامل اولیائے کرام و جاھدو فی اﷲ حق جھادہ کے حکم کے مطابق مجاہدات پر عمل پیرا ہوئے اور انہوں نے والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا ط کے مطابق راہ ِخدا کی ہدایت حاصل کی ۔ وہ عالم ِملک کے مکاشفات ، عالم ِملکوت کے مشاہدات ، عالم ِجبروت کے معاینات اور عالم ِلاہوت کی تجلیات کو رسائی پا گئے ۔ وہ خدا وند ِعالم کی یکتائی کے سمندر میں قطرۂ آب کی طرح گھل مل گئے ۔یہاں وہ فنا فی اﷲ اور بقا با ﷲ ہو گئے اور تخلقوا باخلاق اﷲ کے حکم کے مطابق صفات ِخداوندی سے متصف ہوگئے ۔ جیساکہ حدیث قدسی میں ہے کہ لا یزال العبد یتقرب الیٰ بالنوافل الخ یعنی بندہ ہمیشہ نوافل کی بجاآوری کر کے میرا قرب پاتا ہے یہاں تک کہ میں اسے چاہتا ہوں او رجب میں اسے چاہتا ہوں تو میں اس کے کان ، اس کی آنکھ ، اس کے ہاتھ ، اس کے پاؤں اور اس کی زبان ہوتا ہوں۔ پس وہ بندہ میر ے ذریعے ہی سنتا ہے ، میرے ذریعے ہی دیکھتا ہے ، میرے ذریعے ہی تھامتا ہے ، میرے ذریعے ہی چلتا ہے اور میرے ذریعے ہی بولتاہے ۔ پس جب اﷲ پاک جس بندے کے لئے بمنزلہ آنکھ ہو تو وہ اﷲ کو دیکھ سکتا ہے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین ابوالحسن علی علیہ السلام خود سراپا اس محبت ِالہیہ کا نمونہ ہونے ، روحانی کمالات کی بدولت بشری اوصاف و آلائش سے باہر ہونے اور سراپا صفات ِالہیہ کے حامل ہونے کی بنا پر مقام ِاعلیٰ میں عیاں ہو گئے اور آپ نے خطبۃ البیان میں ارشاد فرمایا کہ میں اﷲ ہوں ، میں رحمن ہوں ، میں رحیم ہوں میں علی ہوں ، میں اعلیٰ ہوں، میں خالق ہوں ، میں رازق ہوں ، میں حنان ہوں اور میں منان ہوں ۔ اس کی مثال لوہار کی بھٹی میں ایک لوہے کی ہے جبکہ وہ سرخی ، حرارت اور جلنے جلانے کے ناری اوصاف کے ساتھ متصف ہو جائے اور وہ یوں کہے کہ میں آگ ہوں تو وہ اس خاص دعوے میں حق بجانب ہے ۔ جب اس لوہے کو بھٹی سے نکالا جائے اور وہ پھر اپنے اصلی اوصاف کی طرف لوٹ آئے تو اگر اس اصلی حالت میں آنے کے بعد وہ لوہا آگ ہونے کا دعویٰ کرے تو یہ دعویٰ باطل ہوگا ۔
پس انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام جب سراپا صفات ِخداوندی کے حامل ہو جاتے ہیں تو وہ اسے دیکھ سکتے ہیں اسے خوُب پہچانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ سید الاوصیاء ، سند الاولیاء علی علیہ السلام نے خود اپنی حالت کے بارے میں فرمایا کہ میں نے اﷲ کو دیکھا پھر اسے خوب پہچانا اور اس کی عبادت کی ۔قسم بخدا میں نے اس رب کی عبادت نہیں کی جس کو میں نے نہیں دیکھا ۔ (5)
اس تعارف کے بعد اہلِ باطن کے معنوی ارتقاء کے نقطہ ٔنظر سے ہم نوربخشؒ کے علمِ اسرارِ کونیہ پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔

عوالم ِ خمسہ

عالم ِ امکان اگرچہ لاتعداد اور لا محدود عوالم پر مشتمل ہے تاہم نوربخش ؒ کے نزدیک معنوی ارتقاء کی منازل کے طور پر یہ پانچ عوالم پر مشتمل ہے :
۱۔ عالم لاہوت ۲۔ عالم جبروت ۳۔ عالم ملکوت ۴۔ عالم ملک ۵۔ عالم ناسوت
ان عوالم کا اجمالی بیان نوربخشؒ نے مندرجہ ذیل ابیات میں فرمایا ہے ۔
دانکہ ملکست عالمِ اشباح
ملکوتست عالمِ ارواح
جبروتست صفاتِ حیّ علیم
باز لاھوت ذاتِ بحت قدیم
گرچہ ناسوت عالمیست صغیر
مظھرِ جامعست و ملکِ کبیر
ھست این پنج عالمِ کلّی
از قوانینِ ھر نبی و ولی(6)
اگرچہ ان عوالم کا مفصل ذکر نوربخشؒ کے پیشرو صوفیاء کے ہاں بھی ہوا ہے ، نوربخشؒ کے ہاں ان کی درجہ بندی زیادہ منظم اور ممتاز حیثیت کی حامل ہے ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ناسوت عالمِ انسان ِ کامل ہے ۔ سالک عبادات و ریاضات کے ذریعے بتدریج عروج پاتا ہے اور پہلے عالمِ ملک پھر عالمِ ملکوت ، پھر عالمِ جبروت اور پھر عالمِ لاہوت تک رسائی حاصل کرتا ہے ۔ لاہوت آخری عالم ہے جہاں پہنچ کر وہ انسانِ کامل بن جاتا ہے ۔ اس وقت اگر وہ اسی مقام پر فنا ہو کر رہ جائے تو خود کامل ہے لیکن مکِمّل یعنی کامل ساز نہیں ہے لیکن اگر اس مقام سے نزول کر کے بقاء باﷲ پائے تو وہ کامل ہونے کے ساتھ ساتھ مکِمّل بھی بن جاتا ہے ۔ (7)
۱۔عالم ِ لاہوُت:
جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے اور عالم ِ لاہوت محل ذات باری تعالیٰ ہے ۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل بیت میں اشارہ فرمایا ہے ۔
ای ذات تو در عالمِ لاھوتِ معلّیٰ
از کیف و کم و این تبارک و تعالی (8)
یہ محل ِ وجودِ مطلق ہے اور دیگر تمام موجودات اسی کے فیض کا نتیجہ ہیں ۔ نیز یہ محل ِحقیقت الحقائق ہے ۔ (9) اور ہر لحاظ سے ’’ کیف ‘‘ ، ’’ کم ‘‘اور ’’این ‘‘ سے مبرا ہے (10) اس عالم کوعالم ِغیب ِمجہول بھی کہتے ہیں جو احاطۂ علم میں نہیں آسکتا کیونکہ علم عالم اور معلوم کی دوئی کی متقاضی ہوتا ہے جو اس عالم میں ایک امرِ باطل ہے ۔ عالم ِ لاہوت وہ عما (nebula) ہے جس کاذکر حدیث ِشریف میں آیا ہے جو تخلیق ِکائنات سے قبل محل ِذات ِباری تعالیٰ تھا۔ (11)
۲۔عالمِ جبروت:
یہ عالمِ خلق کا بلند ترین مقام ہے جس میں فیوض الہٰی صفات کا روپ اختیار کر لیتے ہیں جو اظہارِ ذاتِ احدیت کی پہلی منزل ہے ۔ ذات ِباری تعالیٰ کی بنیادی صفات سات ہیں ۔ حیات ، علم ، سمع ، بصر ، قدرت ، کلام اور ارادت ۔ (12) عالم ِجبروت عالم ِوحدّیت یا عالم ِواحدّیت ہے اور یہ مقام ِتعینّ ِاوّل ہے جو منبع ِتخلیق ِعالم ِامکان ہے ۔ عقل ِاوّل اور نفس ِکلیّ اعیان ِثابتہ میں سے ہیں جوزیریں عوالم کا سرچشمہ ٔ تخلیق ہیں ۔ جبروت برز خ البرازخ بھی ہے جو عالم ِلاہوت اور ذات ِخداوندی کو عالم ِ خلق سے جدا کرتا ہے ۔ (13)
۳۔عالم ِ ملکوت:
تیسرا عالم ہے جو لوح ِ محفوظ کا مقام ہے اور افعال خداوندی کا محل ہے ۔ ملکوت ِ کو جو عالم ِارواح بھی ہے (14 ) مزید دو درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ وہ حصہ جو کرۂ قمر سے اوپر ہے وہ ملکوتِ علوی ہے اور جو کرہ ٔقمر سے نیچے ہے وہ ملکوت ِ سفلی ہے ۔ (15) لاہوت ، جبروت اور ملکوت کا حواس طبیعی سے ادراک ممکن نہیں ہوتا جبکہ چوتھا عالم یعنی عالم ملک دائرہ ٔحواس میں آ سکتا ہے ۔
۴۔عالمِ ملک:
یہ عالم عرش اور کرسی کے علاوہ سات سیارگان نیز عالمِ نباتات ، جمادات و حیوانات پر مشتمل ہے ۔ فیوض ِ الٰہی اس عالم میں آثار کی شکل اختیار کرتے ہیں ۔ اس عالم کے اجسام اشباہ کی شکل میں موجود ہوتے ہیں جن کی اصل عوالم ِ بالا میں موجود ہوتی ہے ۔ (16 )
۵۔عالمِ ناسُوت:
یہ آخری عالم ہے جو انسانِ کامل کا محل و مقام ہے ۔ ناسوت ایک اعتبار سے عالمِ ملک ہی کا حصہ ہے لیکن اس کی خصوصیت وجود ِانسانی ہے ۔ اگرچہ یہ عالم ِمحسوس کا حصہ ہے لیکن اس کا مقام اس اعتبار سے بلند ہے کہ یہ علّتِ غائیہ ٔتخلیق اور خاتم الموجودات یعنی حضرت انسان کا مخصوص عالم ہے اور اگرچہ عوالم ِجبروت و ملکوت و ملک میں بھی ذات ِخداوندی کے مختلف مظاہر موجود ہیں مگر انسانِ کامل ذات ِخداوندی کا مظہرِ جامع ہے ۔ ذاتِ باری ، صفات، افعال اور آثار پر مقدم ہے جبکہ انسان ِکامل جو مظہرِ ذات ہے اپنے اندر عوالم ِ جبروت و ملکوت و ملک کو سموئے ہوئے ہے ۔ یہ تینوں عوالم وحدت سے کثرت کی طرف سفر کا نام ہیں لیکن لاہوت و ناسوت ذات اور تجلیّ کا نمائندہ ہونے کے اعتبار سے دیگر تین عوالم سے زیادہ ممتاز حیثیت رکھتے ہیں ۔ جملہ عالم ِ خلق میں صرف انسان ہی ذات ِالٰہی کے ساتھ فناا ور بقا حاصل کرسکتا ہے ۔ البتہ اس مقصد کے حصول کے لئے عرفانِ نفس اور سخت عبادت و ریاضت بنیادی شرائط ہیں اور اس کا طریقِ کار راہ ِ تصوف و سلوک پر گامزن ہونا ہے ۔
عالمِ مثال:
حقائق ِعالم ِ حق و عالمِ خلق کے حصول کے لئے انسان کو راہِ سلوک پر چل کر معنوی کمالات حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ یہ راستہ عالم ِمثال میں موجود ہوتا ہے ۔ ماورائے حس حقائق کا ادراک صرف عالمِ مثال میں ہی ممکن ہے ۔ عالم ِمثال عالمِ ملکوت اور عالم ِ ملک کے درمیان ایک برزخ کانام ہے (17) مگر یہ دیگر عوالم ِخمسہ سے اس طرح مختلف ہے کہ یہ بنفسہ ٖفیوضِ خداوندی مثلاً صفات ، افعال ، آثار وغیرہ کا حامل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک آئینہ کی مانند ہے جس میں عوالم ِبالا کے حقائق عکس پذیر ہوتے ہیں اور وہ اس آئینے میں صورِ متناسبہ و صورِ لطیفہ کی شکل میں نظر آتے ہیں (18) اور انبیاء اور اولیاء جب جسدِ لطیف ِ مثالی کے ساتھ اس عالم میں سفر کرتے ہیں تو ان لطائف کا مشاہدہ ہوتا ہے ۔ اس مشاہدہ کی بنیادی شرائط دو ہیں ۔ ۱) مشہود یعنی حقائق ِ عوالمِ بالا کا آئینہ عالم ِ مثال میں انعکاس اور ۲) شاہد یعنی مردِ سالک کا ریاضتِ باطنی سے اپنے آپ کو اس مشاہدے کا اہل بنانا ۔ نوربخش ؒکے نظامِ تصوف میں اس باطنی ریاضت کی مکمل تشریح بھی ہے اور ان مشاہدات کی تفصیل بھی جو عالم ِ مثال کے سفر میں پیش آتے ہیں ۔
نوربخشؒ نے عالمِ مثال کی حقیقت کو معراجِ مصطفویﷺ کی مثال سے واضح کیا ہے ۔ ’سفرِ معراج ایک روحانی تجربہ تھا جس کے دوران حقائق اور فرائض مثالی صورت میں نظر آئے ۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ سفر ایک لطیف اکتسابی جسم کے ساتھ حالتِ غیبت میں ہوا تھا جو نیند اور بیداری کے درمیان کی ایک حالت ہے ۔ (19) نوربخشؒ کی تشریح کے مطابق سفرِ معراج کے دوران مکہ سے مسجدِ اقصیٰ کا سفر عالمِ ملکوت کے اندر ایک منزل اور دوسری منزل کے درمیان ہوا ۔ پیغمبرﷺ کا تمام انبیاء کی امامت کرنا آپﷺ کی امّت میں علماء اور اولیاء کی کثرت کی مثال ہے ۔ آپﷺ کی سواری براق ذات ِ الٰہی کے آگے مکمل تسلیم و رضا اور نماز کی علامت ہے ۔ براق کی لگام اور زین پاکیزہ خیالات اور اوصافِ حمیدہ کو ظاہر کرتی ہیں ۔ اس سواری پر لگے ہوئے قیمتی زیورات اخلاق ِحمیدہ اور درگاہ ِخداوندی میں خشوع و خضوع کے مظہر ہیں ۔ براق کی پرواز کا مطلب حالتِ احرام میں وساوس انسانی سے چھٹکارا پانا ہے ۔ جبرائیلؑ کی رفاقت پیغمبرﷺ کے علمِ لدنی کو ظاہر کرتی ہے ۔ عالم ِ امکان کے مختلف منازل میں سفر مدارجِ ذکر کی نمائندگی کرتا ہے ۔ معراج کے دیگر واقعات کی بھی نوربخشؒ ایسی ہی عرفانی تشریح کرتے ہیں اور مجموعی طور پر یہ سفر ایک صوفی کا طریق ِ سلوک میں اپنے رب کی طرف سفرکی طرح ہے ۔ رسالۂ نوریہ میں نوربخش ؒ نے اس طرح کے کئی اسفارِ روحانی کا ذکر کیا ہے ۔ نوربخشؒ کے نزدیک تمام انبیاء اور اولیاء اس طرح کے سفر اختیار کرتے ہیں اور خود حضور اکرم ﷺ کو اپنی حیاتِ طیبہ کے اندر کئی بار معراج نصیب ہوئی ۔ انبیاء و اولیاء نہ صرف عالمِ مثال میں سفر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے مشاہدات و واقعات کو عالمِ ناسوت کے معاملات سے منطبق بھی کر سکتے ہیں‘۔
نُور اور اقسامِ نُور

نوربخشؒ کے علمِ اسرارِ کونیہ میں مسئلہ نور کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں خود اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
اﷲ نور السمٰوٰت و الارض ط مثل نورہٖ کمشکٰوۃ فیھا مصباح ط المصباح فی زجاجۃ ط الزجاجۃ کانھا کوکب دری یّوقد من شجرۃٍ زیتونۃٍ لاّ شرقیّۃٍ وّلا غربیّۃٍ یّکاد زیتھا یضیٓء ولو لم تمسسہ نار ط نور علیٰ نور ط یھدی اﷲ لنورہٖ من یّشآء ط و یضرب اﷲ الامثال للنّاس ط واﷲ بکلّ شیئٍ علیمO ( النور آیت ۳۵)
’’ اﷲ آسمانو ں اور زمینوں کا نور ہے ۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو ۔ وہ چراغ ایک فانوس میں ہو اور وہ فانوس ایسا ہو جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا ۔ اور وہ چراغ زیتون کے مبارک تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی ۔ جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہے چاہے اس کو آگ نہ لگے ۔ اس طرح نور پر نور بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں ۔ اﷲ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے راہنمائی فرما دیتا ہے راہنمائی فرمادیتا ہے ۔ وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے اور وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے ۔‘‘ ( النور آیت نمبر ۳۵)
اﷲ نور ہے اور یہ نور ذات ، صفات اور آثار سب سے علاقہ رکھتا ہے ۔ نوربخشؒ نور کی تین قسمیں بیان کرتے ہیں ۔
۱۔ نورِ وجود
۲۔ نورِ علم
۳۔ ضیاء (20)
نور ِ وجود عالم ِلاہوت کا دوسرا نام ہے جو مقامِ ذات ِاحدیت ہے ۔ یہ بے رنگ نور ہے ۔
نورِ علم عالم ِ جبروت کا مماثل ہے ۔ یہ نور سیاہ رنگ کا ہے اور صفاتِ خداوندی کا مظہر ہے ۔ اس نور کا عالمِ ملکوت میں انعکاس تعدّدِ ارواح کا باعث بنتا ہے اور وحدت کثرت سے بدل جاتی ہے ۔
اسی طرح جب یہ نور عالم ِ ملک میں پہنچتا ہے تو یہ اس عالم کے جملہ موجودات کو صورت، حس اور علم عطا کرتا ہے ۔ اسی عالم میں یہ نور سات سیّاروں سے منعکس ہوکر سات رنگ پیدا کرتا ہے ۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اگر سورج کی روشنی کو کسی منشور میں سے گزارا جائے تو سادہ روشنی قوسِ قزح کے سات رنگ پیدا کرتی ہے ۔ اسی طرح جب آفتابِ عالمِ جبروت اجرامِ شفافِ افلاک اور مقیم ستاروں پر چمکتا ہے تو ان میں سے ہر ایک ایک مخصوص رنگ کو منعکس کرتا ہے ۔ ان رنگوںکی درج ذیل قسمیں ہیں۔
۱۔ زحل سیاہ رنگ
۲۔ زہرہ سفید رنگ
۳۔ شمس زرد رنگ
۴۔ مریخ سرخ رنگ
۵۔ مشتری نیلا رنگ
۶۔ عطارد سرمئی رنگ( آمیختہ)
۷۔ قمر سبز رنگ (21)
مذکورہ اجرامِ فلکی عالمِ ملکِ علوی کا حصہ ہیں اور جب عالمِ جبروت کا نورِ سیاہ عالمِ ملکِ سفلی میں موجود عناصر اور کرۂ ارض کی مادی اشیاء پر پڑتا ہے تو اس سے محسوس اجسام وجود پاتے ہیں ،جن میں سے کامل ترین مخلوق انسان ہے ،جو صفاتِ خداوندی یعنی سمع ، بصر، ذائقہ ، شامہ وغیرہ جیسے حواس کے علاوہ علم اور کلام کا بھی حامل ہے ۔(22) ان صفات کے حقیقی معنی تب مترشّح ہوتے ہیں جب انسان روحانی ریاضتوں سے اپنی تکمیل کی منزل کو رسائی پاتا ہے ۔
تیسرا اور آخری نور ضیاء ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں :
۱۔ ضیائے حسّی یا صوری
۲۔ ضیائے مثالی یا معنوی
ضیائے حسی سے مراد عام روشنی ہے جو روزمرہ زندگی میں قوت بصارت سے محسوس کی جا سکتی ہے ۔ جبکہ ضیائے معنوی کا اظہار رنگوں کے ایک طیف کی شکل میں ہوتا ہے جس کا ادراک ایک مخصوص اکتسابی بصارت کے ذریعے ممکن ہے جو سلوک و ریاضت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے ۔ یہ ضیاء ہی وہ ناگزیر ذریعہ ہے جس کی مدد کے بغیر عالمِ مثال کی صورتوں کو نہیں دیکھا جا سکتا اور اس ضیاء کا مخصوص رنگ اس مخصوص عالم سے عبارت ہوتا ہے جس تک سالک اپنے تدریجی ارتقاء میں رسائی پاتا ہے ۔ (23)
نوربخش ؒ کے علمِ اسرارِ کونیہ کا صوفیائے سلف سے تقابل
اگرچہ نوربخشؒ کا علمِ اسرارِ کونیہ ایک ممتاز ترکیب کی حامل ہے لیکن اس کے اجزائے ترکیبی ان کے پیشرو صوفیاء( صوفیائے سلسلۃ الذھب ) کے افکار میں تلاش کئے جا سکتے ہیں ۔ ان صوفیاء کے افکار کے ساتھ تقابلی مطالعے سے نوربخشی فکر کے تدریجی ارتقاء کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
سلسلہ ٔ کبرویہ میں شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے ایک مربوط اور منضبط تکوینی نظام قائم کیا ۔ (24) عالم ِ امکان کو وہ چار عوالم میں تقسیم کرتے ہیں جو عالمِ لاہوت ، عالمِ جبروت ، عالمِ ملکوت اور عالمِ ناسوت ہیں ۔ آخری عالم یعنی عالمِ ناسوت یہ طبعی دنیا ہے جو انسان کا عمومی مسکن ہے ، جبکہ مذکورہ چار عوالم ذات ، صفات ، افعال اور آثار کا محل ہیں ۔ اور اگرچہ تمام موجودات کا سرچشمہ ذات باری تعالیٰ ہے لیکن سمنانیؒ اس آخری سرچشمے اور دیگر عوالم کے درمیان ایک ناقابل ِ عبور برزخ کا قائل ہے ۔ (25) ان کا یہ نظریہ ابن عربی ؒ کے نظریات سے جداگانہ حیثیت کا حامل ہے ۔
عالمِ امکان کی عوالمِ اربعہ میں بنیادی تقسیم کو شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ نے پہلی بار وضاحت سے پیش کیا ۔ سمنانی ؒ اور نوربخش ؒ کے علمِ اسرارِ کونیہ میں قدرے تفاوت پایا جاتا ہے ۔ سمنانی ؒ کے بیان میں عالمِ انسانِ کامل کا خصوصی تذکرہ موجود نہیں ہے ۔ اگرچہ سمنانی ؒ بھی انسان کو حاملِ احسنِ تقویم اور اشرف المخلوقات قرار دیتے ہیں مگر وہ دیگر موجودات کی طرح اس عالمِ ناسوت کا ہی حصہ ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ :
الف۔ سمنانیؒ کے چار عوالم کی تقسیم کے برعکس نوربخشؒ کے علمِ اسرارِ کونیہ میں پانچ عوالم کا تذکرہ ہے ۔
ب۔ اس میں عالمِ ناسوت انسانِ کامل کا مخصوص عالم ہے ۔
ج۔ اس میں عالم ِ مثال کی علٰیحدہ حیثیت ہے لیکن یہ عوالمِ خمسہ کی گنتی میں شامل نہیں ہے ۔
د۔ لاہوت محلّ ِ ذات ہے اور عالمِ احدیّت ہے ۔ عالمِ لاہوت اور ذاتِ خداوندی کے درمیان کوئی ناقابل ِ عبور برزخ موجود نہیں ہے ۔ (26)
بنیادی طور پر پانچ عوالم کی تعداد ابن ِ عربی ؒ کے مکتبِ فکر کا خاصہ ہے ۔ اگرچہ ابنِ عربیؒ نے اس ضمن میں بذاتِ خود کوئی منظم فکر پیش نہیں کیا مگر ان کے بعد ان کے مکتبِ فکر کے صوفیاء نے ان پانچ عوالم یا ’الحضرات الالٰھیۃ الخمسۃ ‘ کی مختلف انداز میں توجیہ کی ہے۔ ان میں سے بعض ذاتِ خداوندی کوعوالم ِ خمسہ میں پہلا عالم قرار دیتے ہیںاور بعض عالمِ انسانِ کامل کو عوالم ِ خمسہ کا پانچواںعالم سمجھتے ہیں لیکن پانچ کی تعداد بہر حال برقرار رکھتے ہیں۔ نوربخشؒ بھی اپنے پیشرو شیخ علاؤالدولہ سمنانی ؒ کی مختلف فکری روایت کے باوجود عوالم ِ خمسہ ہی کے قائل ہیں ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نوربخشؒ کافکر کبروی صوفیاء میں سب سے زیادہ شاہ ہمدان سید علی ہمدانی ؒ کے قریب ہے ۔ شاہ ہمدان ؒ کے نزدیک بھی یہ عالمِ امکان لاتعداد عوالم کا مجموعہ ہونے کے باوجود پانچ بڑے عوالم یا ’ حضراتِ وجودیہ ‘ میں منقسم ہو سکتا ہے ۔ یہ وہی پانچ عوالم ہیں جن کا نقشہ نوربخشؒ نے پیش کیا ہے مگر ان پانچ عوالم کی جزئیات میں کچھ فرق موجود ہے ۔ ہمدانی ؒ عالمِ لاہوت کو غیب ِ مطلق کہتے ہیں اور لاہوت کی اصطلاح ان کے ہاں مستعمل نہیں ہے جبکہ عالم ِجبروت سے عالمِ ملک تک ہمدانی ؒ اور نوربخشؒ کی تعبیرات مماثل ہیں ۔ ناسوت کو عام عالمِ انسانیت بھی کہا گیا ہے اور عالمِ انسانِ کامل بھی (27) ہمدانی ؒ کے نزدیک بھی انسان ذات ِ باری تعالیٰ سے مخصوص جملہ صفات سے متصف ہونے کے باعث دیگرتمام مخلوقات سے ممتاز اور افضل ہے ، لیکن صرف وہی لوگ حقیقی معنوں میں انسان کہلانے کے مستحق ہیں جو روحانی ترقی کے نقطہ ٔعروج پر پہنچ چکے ہوں جبکہ دیگر انسان جو محض طبعی طور پر انسان کہلاتے ہیں و ہ دراصل حیوانات کی ہی ایک قسم ہیں بلکہ بسااوقات وہ بہائم سے بھی اسفل ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ایسے لوگوں کے متعلق ارشادہوا ہے کہ اولئک کالانعام بل ھم اضل ط یعنی یہ لوگ بہائم کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شیطان مردود کے بہکاوے میں آکر اپنے رب کے احکامات سے بغاوت اور سرکشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ (28)
عالمِ مثال کی تعبیر ہمدانی ؒ اور نوربخشؒ کے ہاں یکساں ہے۔ یہ وہ عالم ہے جو اجسام اور ارواح کے درمیان ہے اور جو صوفیاء کے عوالم ِ بالا سے متعلق مشاہدات و تجربات کا محلِ خاص ہے ۔
نوربخشؒ کے مسئلہ نور کی واضح تفصیل ان کے پیشرو صوفیاء کی تصانیف میں مفقود ہے ۔ ہمدانیؒ تین انواع کے انوار کا ذکر کرتے ہیں ۔ پہلی نوع جو ایک مخصوص مقام سے علاقہ رکھتی ہے نورِ حقیقی ٔ مطلق کہلاتی ہے ، جبکہ دوسری دو انواع عدمِ نور یا ظلمت اور آمیزۂ نور و ظلمت یا ضیاء ہیں ۔
ظلمت نور کی ضد ہے اور اس کی مزید تین قسمیں ہیں :
۱۔ ظلمتِ مطلق
۲۔ ظلمتِ جہل
۳۔ ظلمتِ محسوس
ضیاء جو آمیزۂ نور و ظلمت ہے عالمِ مخلوقات پر مشتمل ہے جو نور یعنی وجود خداوندی اور ظلمت یعنی عدم دونوں کی خصوصیات رکھتا ہے ۔ ضیاء کی دو قسمیں ہیں :
۱۔ عام روشنی جس سے طبعی دنیا کی اشیاء نظر آتی ہیں ۔ یہ خود بھی حسِ بصارت کی زد میں ہوتی ہے ۔
۲۔ وہ خاص روشنی جس کی موجودگی سے عالمِ مثال کی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔
ہمدانی ؒ کے نظام میں عوالم ِخمسہ میں سے تین بالائی عوالم نور سے عبارت ہیں اور دو زیرین عوالم ظلمت سے اور یوں عالمِ مثال اس نوروظلمت کے درمیانی برزخ کا نام ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں صوفیانہ تجربے میں ضیاء کا مشاہدہ ہوتا ہے ۔(29)
ہمدانی ؒ نور کو وجودِ خداوندی کے تدریجی اثبات کے لئے استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ وہ بھی نوربخشؒ کی طرح اﷲ کے وجود کو نور سمجھتے ہیں لیکن نوربخشؒ کے نظریے میں نور کی تین قسموں کی خصوصیات الگ الگ ہیں ۔ یوں نوربخشؒ کا نظریہ ٔ نور زیادہ پیچیدہ ہے اور نوربخشؒ کے علمِ اسرارِ کونیہ کی تفہیم میں اس نظریے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
ہمدانی ؒ کے نظریے میں نورِ سیاہ کا بیان نہیں ملتا لیکن یہ تصور نوربخشؒ اور کئی دیگر کبروی صوفیاء کے ہاں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ نوربخشؒ کے پیشرو صوفیاء میں نجم الدین دایہ نور ِسیاہ کو مظہرِ جلالِ خداوندی سمجھتے ہیںجبکہ عالم ِ مثال میں باقی انوار جمال ِ خداوندی کی علامت ہیں ۔ اسی طرح سمنانیؒ کے نزدیک نورِ سیاہ ارتقائے روحانی کے نقطۂ عروج پر نظر آتا ہے اور یہ مقام خفی کو ظاہر کرتا ہے ۔
نوربخشؒ کے خلفاء میں شمس الدین لاہیجی ؒ نے نورِ سیاہ کا سرچشمہ لاہوت یا ذات خداوندی کو قرار دیا ہے ۔ لاہیجی ؒ کا نظریہ نُور سید علی ہمدانی ؒ سے مشابہ ہے لیکن وہ تین اقسامِ نور کے نام ۱) وجود ۲) ظلمت اور۳) ضیاء گنواتے ہیں ۔ نورِ سیاہ آخری اور حتمی نور ہے جس کے بعد دیگر انوارکا مشاہدہ ممکن نہیں رہتا ۔
نوربخشؒ کے ہاں انسانِ کامل کی اعلیٰ ترین شکل حقیقتِ محمدیہﷺ ہے ۔ حقیقتِ محمدیہ ﷺ قطبِ دوران کے وجود میں ظہور کر سکتا ہے مگر اس کا ادراک صرف کامل اولیاء کو ہی ہونا ممکن ہے ۔ عوام الناس کی نظروں سے اولیاء کی شکل میں انسانِ کامل مخفی رہتا ہے اور انبیاء کی شکل میں انسان ِ کامل ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ہدایت ِ دین کی خاطر اپنے احوال و مقامات کے اظہار پر مامور ہوتے ہیں ۔
یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ اسیری لاہیجی ؒ نوربخش ؒ کے حد درجہ معتقد ہونے اور نوربخش ؒ کے عوالمِ خمسہ کو تسلیم کرنے کے باوجود عالمِ ناسوت کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے ۔ وہ انسان ِ کامل کو عالمِ جبروت ، عالمِ ملکوت اور عالم ِ ملک میں فیوضِ خداوندی کا مظہر سمجھتے ہیں۔(30)
جیسا کہ نوربخشؒ کی شاعری کے ضمن میں بیان ہو چکا ہے کہ نوربخشؒ خود اسم بامسمّیٰ ہیں اور وہ جملہ موجودات کو نُور بخشنے والے ہیں اور اس نُور کا سرچشمہ نورِ خداوندی ہے ۔
واپس اوپر جائیں

نوربخش ؒ کا تصوّرِ علم


میر سید محمد نوربخشؒ کے تصوّرِ علم کے مطابق علم کی دو بنیادی قسمیں علم ِ ظاہر اور علمِ باطن ہیں ۔ عالم ِ امکان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ عالمِ محسوسات اور عالمِ بالا ( غیر محسوس) ۔ یہ تقسیم صوفیاء کے تصورِ ظاہر و باطن کے مطابق ہے ۔ انسان اس ظاہری اور باطنی کائنات کے حقائق کا شعور کئی ذریعوں سے حاصل کر سکتا ہے ۔ اس اعتبار سے علومِ انسانی کی تین جہتیں ہیں :
۱۔ علمِ ظاہر: یعنی طبعی علوم Physical Sciences)) بشمول علمِ اسرارِ کونیہ (Cosmology) حکمت و فلسفہ ، علم فقہ (Jurisprudence) وغیرہ ۔
۲۔ علمِ باطن بوسیلۂ علم ِ ظاہر: یعنی علم ِ نجوم(Astrology) علمِ فراست(Physiognomy) وغیرہ ۔
۳۔ علمِ باطن : جو براہِ راست روحانی تجربے سے حاصل ہوتا ہے ۔
علمِ ظاہر
نوربخشؒ کے نزدیک سب سے ادنیٰ علم طبعی دنیا کے علوم ( بشمول فلسفہ و سائنس ) اور دین ومذہب کے ظاہری پہلوؤں سے متعلق علوم ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی علوم پر عبور حاصل ہونے کے باوجود نوربخشؒ اسے درخورِ اعتناخیال نہیں کرتے تھے چنانچہ مکتوب در نصیحتِ مریدان میں وہ سائنسی علوم میں اپنی مہارت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ اگر افلاطون ان کے دور میں زندہ ہوتا تو فلسفہ اور ریاضی کا علم ان سے ہی حاصل کرتا اور یہ کہ کیمیا اور دوسرے علوم میں ابنِ سینا سے وہ زیادہ متبحر ہو چکے ہیں ۔ (31) نوربخشؒ ظاہری حکمت کے علوم کی تقریباً ستر(۷۰) شاخوں کا ذکر کرتے ہیں اور ان میں اپنی مہارت کا بھی دعویٰ کرتے ہیں ۔ (32) انہوں نے فقہا کو بھی چنداں قابل ِذکر نہیں سمجھا بلکہ صوفیا میں مقبول ایک حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ فقہا دین کا صرف ایک تہائی حصہ سمجھ سکتے ہیں ۔ ان کا مرکز ِ توجہ علم ِ شریعت ہے ،جس کی گہرائیوں تک کماحقہ رسائی کے لئے طریقت اور حقیقت کے علوم پر عبور ضروری ہے ۔ (33) بایں ہمہ نوربخشؒ نے علم ِ فقہ پر بھی عبور رکھنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کا بین ثبوت ان کی شہرۂ آفاق فقہی تصنیف ’ الفقہ الاحوط‘ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے جس میں شریعت ِ محمدیہﷺ کو ہوبہو اسی شکل میں پیش کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جیسی یہ شریعت خود شارع علیہ السلام کے زمانے میں رائج تھی۔ الفقہ الاحوط کا دو ٹوک انداز اور عارفانہ انداز ِ بیان صاحب تصنیف کے تبحرِ علمی سے بڑھ کر معنوی مقام و مرتبہ کا ثبوت ہے ۔ لیکن ایک فقیہ ِکامل ہونے کے باوجود نوربخشؒ کے نزدیک محض فقہی موشگافیاں زندگی کے تمام امور میں مکمل رہنمائی فراہم نہیں کر سکتیں ۔ مثلاً اس مسئلے کے جواب میں کہ صوفیاء کو تحفے تحائف قبول کرنے چاہئیں یا نہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جہاں اس معاملہ میں عوام الناس کے لئے فقہاء کی رائے کا احترام کرنا ضروری ہے وہاں اولیاء اﷲ کا معاملہ مختلف ہے ۔ اولیاء اﷲ ایسے معاملات میں عالم ِ بالا سے حاصل ہونے والے کشف کی روشنی میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں ۔ اس کی وضاحت کے لئے آپ نے ابویزید خلخالی کی دو مثالیں پیش کی ہیں ۔
پہلی مثال میں حضرت ابویزیدخلخالی ؒ( مریدِ نوربخشؒ ) کا واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ وہ ایک بار بازار سے گزر رہے تھے اور از راہِ تفنّن ایک بچے کے ہاتھ سے شیرینی اٹھا لی اور پھر جب وہ اس شیرینی کو برتن میں واپس رکھنے لگے تو غیب سے آواز آئی کہ یہ اے ابو یزید یہ شیرینی کھالو ۔ معلوم ہوا کہ وہ بچہ اس شیرینی کو اپنے والد کے حکم کے مطابق صوفیاء میں تقسیم کرنے مسجد لے جا رہا تھا اور یوں ابو یزید کا اس میں سے اپنا حصہ وصول کرنا یقینا حلال اور پسندیدہ تھا ۔ ( جبکہ ظاہری فقہ کے اعتبار سے یہ غصب اور حرام کے زمرے میں آتا ہے۔)
دوسری مثال میں حضرت ابویزید کا ایک ساتھی کوئی کھانے کی چیز لایا اور وہ دونوں کھانے بیٹھ گئے ۔ جونہی وہ لقمہ توڑنے لگے تو غیب سے صدا آئی کہ وہ آدمی خیانت کار ہے اور جو کھانا لایا گیا ہے وہ ایک یتیم سے چور ی کردہ گندم سے تیار کیا گیا ہے ۔ یوں انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا اور رزق ِ حرام سے بچ گئے ۔ ان واقعات سے یہ حقیقت واضح کرنا مقصود ہے کہ اولیاء اﷲ کے لئے حلال و حرام کے ظاہری معیارات کافی نہیں ہوتے ۔ (34) بظاہر یہ اسی کی تصدیق ہے کہ شریعت کی تکمیل طریقت سے ہوتی ہے ۔کیونکہ شریعت دین کا ظاہر ہے اور طریقت دین کا باطن ہے ۔ علمِ لدنّی کیا ہے اس کی وضاحت خود قرآن مجید میں حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے سے ہوتی ہے ۔ قرآن کریم میں یہ واقعہ یوں بیا ن ہوا ہے ۔
فَوَجَدَا عَبْدَاً مِّنْ عِبَادِنَا اٰتَیْنٰہُ رَحْمَۃً ّمِنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً O ………ذَالِکَ تَاوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْہِ صَبْراً O ( الکھف ۶۵ تا ۸۲)
’’پھر موسیٰ ؑ نے ہمارے بندوں میں سے ایک ایسے بندے کو پایا جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت اور علمِ لدنیّ عطا کیا تھا ۔ موسیٰؑ نے اس سے کہا کہ اگر تو اجازت دے تو میں تیرے ساتھ چلوں تاکہ جو ہدایت تم کو ملی ہے وہ تو مجھے بھی سکھا دے ۔ اس نے کہا لیکن تجھ سے صبر نہیں ہو سکے گا ۔ اور جس چیز کا سمجھنا تیرے بس میں نہیں اس کو دیکھ کر صبر کرنا تیرے لئے مشکل ہے ۔ موسیٰ ؑ نے کہا انشاء اﷲ تو مجھے صابر پائے گا اور میں تیرا کوئی حکم نہیں ٹالوں گا ۔ پھر وہ بندہ بولا کہ اگر میرے ساتھ رہنا ہو تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال مت کرو جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو اس بندے نے اس کشتی کو پھاڑ ڈالا ۔ موسیٰ ؑ بولا کیا توُ نے کشتی کو پھاڑ ڈالا تاکہ اس کے سوار ڈوب جائیں ؟ توُ نے تو ایک بھاری کام کیا ۔ وہ بولا میں نہ کہتا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہ کر سکے گا ؟ موسیٰ ؑ نے کہا کہ میری اس بھول پر مجھے نہ پکڑ اور میرے کام کو مشکل نہ بنا ۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ اس بندے نے ایک لڑکے کو مار ڈالا ۔ موسیٰ ؑ بولا کیا تو نے بغیر کسی کی جان کے عوض کے ایک ستھری جان کو ختم کر ڈالا ؟ بے شک تو نے ایک نامعقول کا م کیا ۔ وہ بولا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہ کر سکے گا ؟ موسیٰ ؑ نے کہا اگر اس کے بعد تجھ سے کچھ پوچھوں تو بے شک مجھے اپنے ساتھ مت رکھ تو میری طرف سے الزام اتار چکا ۔ پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور کھانا چاہا مگر وہاں کے لوگوں نے ان کو مہمان رکھنے سے انکار کیا ۔ پھر اس بندے نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی تو اس کو سیدھا کر دیا ۔ موسیٰ ؑ بولا اگر تو چاہتا تو اس پر مزدوری لے سکتا تھا ۔ وہ بولا اب تیرے میرے بیچ جدائی ہے ۔ اب میں ان باتوں کا سبب جتلائے دیتاہوں جن پر تجھ سے صبر نہ ہوسکا ۔ وہ جو کشتی تھی وہ چند محتاجوں کی تھی جو اس دریا میں محنت کرتے تھے سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں کیونکہ وہاں سے دور ایک بادشاہ تھا جس نے ان کی کشتی کو چھین لینا تھا ۔ اور وہ جو لڑکا تھا سو اس کے ماں باپ ایمان والے تھے پھر مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ کفر کر کے ان کو عاجز کر دے گا ۔ پھر میں نے چاہا کہ ان کو ان کا رب پاکیزگی اور قربتِ رحم میں اس سے بہتر بدلہ دے ( اس لئے اسے قتل کر دیا ) اور وہ جو دیوار تھی سو اس شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور ان کا باپ نیک تھا اور اس دیوار کے نیچے مال گڑا تھا ۔ پھر تیرے رب نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں تو اپنے رب کی رحمت سے اپنا گڑا ہوا مال نکالیں اور میں نے یہ اپنے حکم سے نہیں کیا ۔ یہ ہے ان چیزوں کی تاویل جن پر تو صبر نہ کر سکا ۔ ‘‘
مندرجہ بالا آیات کریمہ سے صاف واضح ہے کہ اگرچہ اﷲ کے اس بندے کا جس کو علمِ لدنیّ حاصل تھا ، کسی غریب کی کشتی کو توڑ دینا اور خاص طو ر پر کسی بے گناہ لڑکے کو قتل کر دینا خلافِ شریعت امور تھے چنانچہ موسیٰ ؑ سے صبر نہ ہوسکا ۔ مگر خضر ؑ جو ولایت اور علم لدنیّ اور علمِ اسرارِ کونیہ سے حصہ وافر حصہ رکھتے تھے ، بظاہر خلاف ِشرع چلتے ہوئے بھی دراصل شریعت ہی کے تقاضوں کو نبھا رہے تھے ۔ یہی وہ علم ِ طریقت ہے جو اولیاء اﷲ کا خاصہ ہے ۔ اور اس علم کا اثبات خود اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب ِمبین میں فرما دیا ہے ۔ (35)
نوربخشؒ فرماتے ہیں کہ فقہا کے احکام کی سو فیصد قبولیت اسی صورت میں ممکن ہے کہ یا تو اہل عقل و دانش کو وہ عقلی طور پر مطمئن کریں یا پھر الہامی طریقے سے ان کی توجیہ ہو سکے ۔(36) رسول امی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حیات ِ طیبہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ حقیقی علم من جانب اﷲ ہوتا ہے ، پڑھنے لکھنے اور کتابیں ازبر کرنے سے حاصل نہیں ہوتا ۔ یہی سبب ہے کہ نوربخش ؒ خود علومِ تفسیر و حدیث و فقہ کے اتنے بڑے عالم ہوتے ہوئے راہ ِ امّیاں کو پسند فرماتے ہیں جو سرورِکائنات کا راستہ ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں ۔
راہِ نزدیک است راہِ امّیان
نحو و منطق را میاور در میان(37)
خواجہ حافظ ؔ نے بھی اس حقیقت کو خوب منظوم کیا ہے ۔
نگارِ من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت
بہ غمزہ مسئلہ آموزِ صد مدرّس شُد(38)

واپس اوپر جائیں

علمِ باطن براہِ ظاہر

نوربخشؒ کے نزدیک کامل صوفیاء عام زندگی کے مشاہدات اور معاملات سے بھی باطنی حقائق کا ادراک کر سکتے ہیں اور اس کے دو طریقے ہیں ۔
۱۔ علم ِ تصوف سے متعلقہ علوم کا حصول
۲۔ عالمِ مثال میں اچانک پیش آنے والے مشاہدات
اس باب میں وہ علم ِ نجوم اور علم ِ فراست کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں ۔
علم ِ نجوم کے ضمن میں ان کا خیال ہے کہ اجسامِ ارضی کی حیات اور شعور کا ماخذ کائنات کے بالائی نظام ہیں اور ان کی خصوصیات ستاروں اور سیاروں کی گردش اور مقامات سے متعین ہوتی ہیں ۔ عالمِ دنیا اور عالمِ بالا کے اس تعلق کا نتیجہ ہے کہ علوم ِنجوم کا ماہر اپنے علم کی بناء پر کسی شخص کے بارے میں حکم لگا سکتا ہے کہ اس کی عمر کتنی ہوگی اور اس کی بیماری اور موت کا کون سا وقت متعین ہے ۔ ا س کے لئے وہ اس شخص کی پیدائش کے وقت مواقع ِنجوم کا زائچہ تیار کرتا ہے ۔ (39) اسی طرح ماہرِ نجوم سیارگان کی حرکت سے کسی عظیم انسان کی پیدائش کا زائچہ تیا ر کر کے اس کی پیش گوئی بھی کر سکتا ہے ۔ (40)
علم ِ فراست کو نوربخشؒ اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ انہوں نے اس موضو ع پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے ۔ نوربخشؒ کے نزدیک انسانی وجود کے ظاہر و باطن میں موجود تعلق کی بنیاد پر کسی شخص کے جسمانی اعضاء کی ساخت اور ہیئت کو دیکھ کر اس کی روحانی کیفیت اور سیرت کے حسن و قبح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔(41)
نوربخشؒ کے مطابق جسمانی خدوخال مثلاً چہرے کی خوبصورتی ، قدو قامت ، بالوں کا رنگ وغیرہ کے حسن و قبح کے بارے میں ارشادات ِ نبویﷺ سے یہ بات پایہ ٔ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ علم ِ فراست ایک مستند اسلامی علم ہے ۔ نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے جسمانی خدوخال سے ان کے طبائع کا انداز ہ لگانا ممکن ہے ۔ اگرچہ مرتبے کے لحاظ سے علم ِ فراست وحی ، مکاشفہ ، حکمت( فلسفہ ) ، نجوم اور ہندسہ سے فروتر ہے لیکن اس کے نتائج کا نہایت واضح طور پر مشاہدہ ہوتاہے ۔ (42)
رسالہ ’انسان نامہ‘ میں نوربخشؒ نے تفصیل کے ساتھ انسانی اعضاء کی مختلف ساخت اور ہیئت کے مطابق مختلف افراد کی سیرت و کردار کے حسن و قبح کا بیان کیا ہے۔نوربخش ؒ کے نزدیک اگرچہ شکل وصورت سے حسن و قبح کا حکم لگایا جا سکتا ہے مگر بہتر تعلیم و تربیت سے ان میں تبدیلی ممکن ہے ۔ اس ضمن میں وہ مشہور حکیم افلاطون کی مثال پیش کرتے ہیں ۔ (43)
چنانچہ ارباب ِ شریعت کے نزدیک مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِیْ الْأَ رْضِ وَ لَا فِیٓ اَنْفُسِکُمْ اِلَاّ فِیْ کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبَراَھَا اِنَّ ذَالِکَ عَلَی اﷲِ یَسِیْر’‘O (الحدید ۱۶)
’’کوئی آفت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے قبل کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں ۔ بے شک یہ کام اﷲ کے لئے آسان ہے ۔ ‘‘
نیز ارشاد ہوا ہے ۔ وَ کُلُّ شَیْیٍٔ فَعَلُوْہُ فِیْ الزُّبُرِO وَکُلُّ صَغِیْر ٍ وَ کَبِیْر ٍ مُّسْتَطَر’‘O (القمر ۵۲،۵۳)
’’اور جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں سب الواحِ تقدیر میں مندرج ہیں اور ہر چھوٹی بڑی بات اس میں لکھی ہوئی ہے ۔ ‘‘
نیز یہ اعتقاد کہ وبالقدر خیرہ و شرّہ اور سچے اعتقاد سے یہ ماننا یہ نیکی اور بدی سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ۔
ارباب ِ طریقت مندرجہ ذیل آیات ِقرآنی کی وجہ سے اس حقیقت سے اتفاق کرتے ہیں ۔ وَ مَا مِنَّا اِلاَّ لَہ‘ مَقَام’‘ مَّعْلُوْم’‘O (الصافات ۱۶۴)
’’ہم میں سے ہر ایک کا الگ الگ معین درجہ ہے ۔ ‘‘
نیز یہ ارشاد وَقُلْ کُلّ’‘ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ( الاسراء ۸۴)
’’آپ فرما دیجئے کہ سب لوگ اپنے اپنے طریقے پر کام کر رہے ہیں۔ ‘‘
نیز یہ آیت کریمہ قَدْ عَلِمَ کُلَّ اُنَاس ٍمَّشْرَبَھُمْ( الاعراف۷)
’’تحقیق ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا ۔ ‘‘
پس اہلِ نجوم و حکمت بھی یہی کہنے پر مجبور ہیں ۔
نصیبِ من چنین آمد چہ چارہ
چہ شاید کرد با سیرِ ستارہ(44)
نوربخشؒ کے عقیدے کے مطابق دنیوی علامات سے حقائق کی کنہ تک پہنچنے کے علاوہ ایک ولیٔ کامل زمان و مکان کے پار دیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ سے قبل گزرنے والے انبیاء کرام نے اپنی روحانی قوت سے حضور پاک ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری کی پیش گوئی فرما دی تھی ۔ (45) اس امر کی عقلی دلیل یہ ہے کہ جب بندہ اﷲ تعالیٰ کے جتنا قریب ہو جاتا ہے وہ علمِ الہیٰ میں سے حصہ پالیتاہے ۔ اس علم کی وسعت کا انحصار اس کے معنوی مقام پر ہوتا ہے اور ولیٔ کامل کو مستقبل کے واقعات کا علم ہوتا ہے ۔
مستقبل کے علم کی طرح اولیاء اﷲ فیضِ الہیٰ سے حاصل شدہ علم کے بل بوتے پر ماضی کے واقعات سے بھی آگاہی حاصل کر سکتا ہے ۔ اس علم کی ایک اہم شاخ کشف القبور سے متعلق ہے ۔ ایک ولیٔ کامل کسی بھی قبر کو دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ اس میں مدفون مردہ مرد ہے یا عورت ؟اس کے جسمانی خدو خال کیا ہیں؟ اور آیا بعد از موت وہ جزا پا رہا ہے یا سزاسے دوچار ہے ؟ نوربخشؒ کے نزدیک ان علوم میں مہارت کا معیارصوفی کے روحانی مقام کی نشاندہی کرتا ہے ۔ (46)

راہ ِ سلوک کے عملی تقاضے

اہمیتِ شیخ
راہِ سلوک اور مکارمِ اخلاق
دہ قاعدہ ٔ سلوک
راہِ سلوک کی ریاضات و عملیات
صوفیاء کے احوال و مقامات
سالک کے روحانی مشاہدات

صوفیانہ تجربے کی بنیادی روح ذات ِ باری تعالیٰ سے قربت کا خصوصی احساس ہے ۔ محبوب ِحقیقی سے وصال کا سفر دراصل سالک اپنے وجود کے اندر ہی طے کرتا ہے اور وہ تجلیاّت کی صورت میں فیوض ِخداوندی کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ سالک کے اس سفرِ باطنی کو نوربخش ’سبعہ اطوارِ قلبیہ ‘ کے نام سے یاد کرتا ہے ۔ سالک کے تجربات تجلیات سے گزر کر فنا اور بقا تک محیط ہوتے ہیں ۔

واپس اوپر جائیں

روحانی مشاہدات کی درجہ بندی

نوربخشؒ اولیاء اﷲ کو دو درجات میں تقسیم کرتے ہیں ۔
۱) محّبین
۲) محباّن
محبّین محبت الٰہی کے طالبین کا گروہ ہوتا ہے جنہیں محبوب ِ حقیقی سے وصال کے لئے سخت ریاضتیں بجا لانی پڑتی ہیں ۔ اس کے مقابلے میں محبّان خدا کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں اور ان کے مزید دو درجے ہوتے ہیں ۔
۱) ذوالعقل
۲) مسلوب العقل
محبّان ذوالعقل خدا کے وہ برگزیدہ بندے ہیں جن کی سیرت و کردار نمونۂ عمل ہوتے ہیں ۔ ان کے سردار سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیﷺ ہیں ۔ بعض محبّان کے احوال و مقامات مخفی ہوتے ہیں اور عام زندگی میں غیر معمولی ریاضت کا مشاہدہ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ خود حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی مثال ہے ۔ لیکن درحقیقت یہ محبان بھی محبین ہی کی مانند عبادت و ریاضت میں جانفشانی کرتے ہیں ۔ (71)
محبان مسلوب العقل ظاہر ی طور پر خراب اور باطنی طور پر معمور ہوتے ہیں اور یہ طائفہ ابدال مرشد اور مقتدیٰ بننے کے قابل نہیں ہوتا ۔ ان کی حقیقت سے انکار نہیں کرنا چاہیے لیکن وہ احکامِ شریعت کے مکلف نہیں ہوتے ۔ یاد رہے کہ مسلوب العقل بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کثرتِ سودا، مرگی و دیگر امراضِ دماغی و جسمانی کی وجہ سے عقل و ہوش سے محروم ہو جاتے ہیں ۔
دوسری قسم کے مسلوب العقل افراد وہ ہوتے ہیں جن کا نورِ عقل تجلیاّتِ الہٰی کی ضیاپاشیو ں کی وجہ سے زائل ہو جاتاہے ۔ یہ مجذوب اور بدلا کہلاتے ہیں ۔ تمام علمائے مذاہب کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ دونوں قسم کے لوگ شرعی احکامات سے آزاد ہیں ۔ بزرگوں نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ نہ تو ان کو برا بھلا کہا جائے اور نہ ان کی اقتداء کی جائے کیونکہ یہ لوگ تربیت اور رشد و ہدایت کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں اور عوام الناس ، اہل الحاد اور تارک الصلواۃ لوگوں کو ان سے فائدے کی بجائے نقصان پہنچتا ہے ۔ (72)
نوربخشؒ محبّین کے احوال کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں ۔ صوفیانہ تجربات جو واقعات کہلاتے ہیں اس وقت پیش آتے ہیں جب خیال ضیائے مثالی کی مدد سے عالمِ مثال کے حقائق کا ادراک کرتا ہے ۔ یہ تجربہ شعور کی تین مختلف کیفیات میں پیش آسکتا ہے ۔ جو ۱) نوم یا خواب ۲) غیبت اور ۳) صحو کہلاتے ہیں ۔
نوم یا خواب:
عام نیند کے دوران رویائے صادقہ نظر آتے ہیں جو عوام الناس کے لئے عالم ِ مثال سے رابطے کا واحد ذریعہ ہیں ۔ خواب اس وقت نظر آتے ہیں جب انسانی معدے میں موجود غذا سے اٹھنے والے لطیف بخارات حقائقِ عالمِ بالا کو انسانی دماغ پر اس وقت مرکوز کر دیتے ہیں جب حواس ِ خمسہ خوابیدہ ہوں ۔ جب طالب صادق ابتداء میں شریعتِ محمدیﷺ کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے اور شرعی معاملات کی بھرپور پابندی کرتا ہے تو وہ مختلف باتیں عالمِ رویا میں دیکھ لیتا ہے ۔ اس قسم کی رویا میں بعض اوقات حیات بعد الموت اور جنت و دوزخ کی کیفیات کا بھی مشاہدہ ہو سکتا ہے ۔ ( 73)
غیبت:
غیبت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے سالک کے قلب پر ایک قسم کی آگہی نازل ہوتی ہے اور صاحب ِ وقت یعنی سالک کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ یوں سالک مادی دنیاسے عالم ِ مثال میں پہنچ جاتا ہے ۔ اس دوران اس کے خارجی حواس معطل ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت اسے جو مشاہدات پیش آتے ہیں وہ کشف ، مکاشفہ یا مشاہدہ کہلاتے ہیں ۔
صحو:
صحو وہ مقام ہے جہاں صاحب ِکشف بعض غیبی باتوں اور اشاروں کا مشاہدہ کرتا ہے جبکہ اس کے حواس ِخمسہ بھی مسدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ روحانی تجربے کی اعلیٰ ترین شکل ہے ۔ اور انبیاء عظام اور اولیائے کاملین کا خاصہ ہے اور یہ معنی کشف اور صاحب کشف کے تصرف اور نہایت اہم مقام کی نشاندہی کرتا ہے ۔
صحوکا تجربہ تب پیش آتا ہے جب عوالم ِعلیا سے آمدہ فیوض انبیاء و اولیاء کو عالم ِ معنی میں پہنچا دیتے ہیں ۔ سالک کے جملہ تجربات عالم صحو یعنی بقائمی ہوش و حواس ہوتے ہیں اور انہیں معاینات کہتے ہیں ۔ یہ تجربات غیبت سے زیادہ اعلیٰ نوعیت کے ہوتے ہیں اور بلند ترعوالم سے آمدہ فیوض کا نتیجہ ہوتے ہیں جن کاادراک کرنے والا عالمِ مادی اور عالمِ مثال دونوں میں بیک وقت موجود ہوتا ہے ۔ (74)

واپس اوپر جائیں

روحانی واقعات کی تشریح

روحانی ریاضات کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات کی تشریح کسی مرشد ِ کامل سے کروانا ضروری ہے ۔ صوفی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی پوری تفصیل اپنے شیخ کو بتاتا ہے اور شیخ اپنے اس مرید اور عالم ِ مثال دونوں سے اپنی واقفیت کی بنیاد پر ان واقعات کی تطبیق اور تشریح کرتا ہے ۔ یہ عمل کسی لگے بندھے اصول کا پابند نہیں ہوتا کیونکہ عالمِ مثال میں پیش آنے والے واقعات کی تعبیر مختلف حالات میں مختلف ہو سکتی ہے ۔ اس تجربے کا انحصار صوفی کی معنوی قابلیت پر ہوتا ہے اور صرف بڑے بڑے انبیاء اور اولیاء ہی ان کی مکمل تطبیق پر قادر ہو سکتے ہیں ۔ (75) خود میر سید محمد نوربخشؒ اور ان کے بعض کمل خلفاء کو یہ قدرت حاصل تھی ۔
نوربخشؒ نے عالمِ خواب ، غیبت اور صحو میں پیش آنے والے واقعات کی جو توضیح کی ہے اس کا بیان ان کے پیشرو صوفیاء کے ہاں بھی ملتا ہے ۔
تعبیرِ رویاء کے باب میں ان کی توضیحات کی مثال شیخ محی الدین ابن عربیؒ اور خصوصاً سید علی ہمدانی ؒ کی تصانیف میں بھی ملتی ہے ۔ تاہم ان سے قبل کے صوفیاء کے ہاں غیبت اور صحو کی تفریق مبہم ہے ۔ اگرچہ یہ صوفیانہ اصطلاحات دیگر مخصوص معنوں میں پہلے سے رائج تھے۔ چنانچہ غیبت اس کیفیت کو کہتے تھے جس میں حواس ِ خمسہ معطل ہوجاتے ہیں جبکہ صحو حالت ِ ہوش و حواس کو کہتے ہیں جس کی ضد سکر ہے ۔ لیکن نوربخشؒ نے ان اصطلاحات کو تیکنیکی انداز میں استعمال کرتے ہوئے مخصوص معنی عطا کئے ہیں ۔ حالتِ صحو میں صوفی کا مادی اور روحانی دنیا میں بیک وقت موجود ہونا باطنی تجربے کو ظاہری شکل عطا کرتا ہے ۔ یوں صوفی کا ایک مخصوص روحانی تجربے کے بغیر بھی عالمِ علوی سے رابطہ قائم رہتا ہے ۔

واپس اوپر جائیں

سبعہ اطوار ِ قلبیہ

سالک ِ راہ ِ خدا سبعہ اطوار قلبیہ کے مطابق ذکر بجا لاتا ہے جو قلب انسان کے سات مدارج کا نام ہے ۔ ( 76) بظاہر یہ سبعہ اطوار شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ کے ’ سبعہ لطائف ‘ کے تصور کا تسلسل معلوم ہوتے ہیں ۔ نوربخشؒ کے ہاں یہ سبعہ اطوار مدارجِ ذکر کے ساتھ مربوط ہیں اور سالک خود اپنے وجود کے اندر محوِ سفر رہتا ہے اور بالآخر ذاتِ احدیّت کے وصال کے احساس سے آشنا ہو جاتا ہے ۔
ابتدائے سلوک میں بنیادی ریاضت ذکر لسانی اور ذکر جسمانی ہے جس میں دل زبان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ اس مرحلے میں سالک عالمِ ملک کے زیر ِ قمر عوالم میں سفر کرتا ہے اور عالمِ مثال میں وہ عمارتیں ، باغات ، درخت ، اثمار اور اناج وغیرہ دیکھتا ہے ۔ (77) ان سب مشاہدات کے مخصوص معانی ہوتے ہیں جن سے سالک کو اس کا شیخ آگاہ کرتا ہے ۔ اس مرحلے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ شیطان مختلف شکلوں میں آ کر سالک کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ یا تو اپنے شعلۂ وجود کو روشنی کے لباس میں چھپا کر نمودار ہوتا ہے یا موذی حشرات الارض سے لے کر کریہہ المنظر انسانی شکلوں میں سامنے آتا ہے ۔(78) اس مرحلے پر جو اشیاء نظر آتی ہیں وہ سبز نور سے منوّر ہوتی ہیں جو کرّہ قمر کی خصوصیت ہے۔(79)
اگلا مرحلہ ملکوتِ سفلی کا سفر ہے اور یہ ذکرِ نفسی کا مرحلہ ہے ۔ سالک کا قلب اب ہوائے نفسانی سے بتدریج پاک ہو چکا ہوتا ہے اور زبان کے ساتھ دل بھی ذکر کرنے لگتا ہے۔ نفس جو ابتداء میں مائل بہ فسق و فجور ہوتا ہے اور نفس ِ اماّرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، ابتدائے سلوک میں خیر کا طالب اور شر سے متنفر ہوتا ہے اور یہ نفس ِ ملہمہ ہے ۔ جب نفس شر سے منزّہ ہو کر سراپا خیر بن جائے تو وہ اس سکون و اطمینان سے آشنا ہو جاتا ہے جس کا ذکر خود قرآن پاک نے یوںفرمایا ہے ۔
یَا اَیُّھَا النَّفسَ الْمُطمَئِنَّۃُ O اِرْجِعِیْ اِلیٰ رَبّک ِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً O فَادْخُلِی فِی عِبٰادِیْ O وَادْخُلِیْ جَنَّتِی O (الفجر ۲۷۔۳۰)
’’ اے مطمئن نفس واپس چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو ۔ پس میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ ‘‘
ایسے نفس کو نفس ِ مطمئنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
نفس کے ان مدارج میں سے پہلے مرحلے میں بلند و بالا پہاڑ ، لق و دق صحرا اور وحشی درندے وغیر دکھائی دیتے ہیں ۔
دوسرے مرحلے میں زیادہ خوشگوار مناظر جیسے خوشنما مناظر اور پالتو جانوروغیرہ نظر آتے ہیں ۔
تیسرے مرحلے میں نہایت خوبصورت مناظر ، بڑے بڑے جانور جیسے گھوڑے ، ہاتھی ، اونٹ ، خوردنی نباتات اور معدنیات وغیر دکھائی دیتے ہیں ۔
ملکوت ِ سفلی کے مرحلے پر تمام چیزیں نیلے رنگ کی نظر آتی ہیں اور اس مرحلے کی علامتِ کمال تجلیاتِ الہٰی کا نیلے رنگ میں نظر آناہے ۔ اس مرحلے کا سفر عناصر ِاربعہ یعنی آب و آتش باد و خاک میں سفر کا بھی ہم معنی ہے ۔ یوں سالک عالمِ عناصر سے آگے گزر جاتا ہے ۔ روایتی اسلامی فکر کے لحاظ سے اس مرحلے کی تکمیل حصولِ جنت کا ہم معنی ہے اور کونیاتی اصطلاح میں یہ ملکوت ِ سفلی سے ملکوت ِ علوی کی طرف پیش رفت کا نام ہے ۔ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد سالک عزلت اور خلوت کا متحمل ہو جاتا ہے اور وہ مقامِ قلب کو رسائی پا لیتا ہے ۔
تیسرا مرحلہ ذکرِ قلبی کا ہے جس میں سالک کا قلب پاک و صاف ہو کر سخاوت ، محبت ، علم اور عبادت کا محل بن جاتا ہے ۔ یہ صفات مثالی طور پر نایاب اور قیمتی جواہرات کی شکل میں نظر آتی ہیں ۔ یہ ملکوت ِعلوی کا پہلا یعنی زیریں حصّہ ہے اور یہاں انوار کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ۔ پہلا نور جو نظر آتا ہے وہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور ایک مرئی ذریعے کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ پھر بتدریج وہ ذریعۂ نور غائب ہو جاتا ہے اور صرف بے جہت سرخ رنگ باقی رہ جاتا ہے ۔ اس مرحلے پر سالک نورِ صلٰوۃ ، نورِ صوم ، نورِ زکواۃ و صدقات وغیرہ بھی دیکھتا ہے اور اسے مقام ِشوق وذوق وغیرہ کا بھی تجربہ حاصل ہوتا ہے ۔ اگر کوئی سالک اس مرحلے پر پہنچنے میں ناکام رہے تو یہ اس کی روح کے مردہ ہونے کی نشانی ہے ، کیونکہ اس کا قلب کسی مرشدِ کامل کی رہنمائی میں زندہ ہو کر راہِ سلوک کے مراحل سے گزرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اس مرحلے کے آخری حصے میں تجلیات ِ الہٰی نورِ سرخ کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں اور پھر اس کا رنگ زرد ہو جاتا ہے ۔ (80)
چوتھا اور پانچواں مرحلہ ٔ ذکر بھی ملکوت ِ علوی ہی کا سفر ہے لیکن یہاں نورِ زرد نور ِ سفید سے بدل جاتا ہے ۔
چوتھے مرحلے پر سالک مقامِ سرّ میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ جہالت اور بدعقیدگی سے قطعی طور پر منزہ ہو جاتا ہے اور وہ جملہ ماسواء اﷲ سے بے نیاز ہو کر محض متوجہ الی اﷲ ہو جاتا ہے ۔
یہ کیفیت اسے پانچویں مرحلہ ذکر یعنی مقام ِ روح میں داخل کردیتی ہے ، جہاں اس کی کم ہمتی عالی ہمتی سے بدل جاتی ہے ۔ اس مرحلے کے اختتام پر تجلیات سفید رنگ میں دکھائی دیتی ہیں اور یہ سالک کے عالمِ ملکوت اور عالمِ جبروت کی سرحد تک رسائی پانے کی علامت ہے ، جہاں کثرت ختم ہو کر سلطنت ِ قادرِ مطلق میں جذب ہوجاتی ہے ۔ (81 )
چھٹا مرحلہ ذکر خفی کا ہے ۔ چونکہ تمام موجودات ِ عالم کا ماخذ و منبع عالمِ جبروت ہے ، اس لئے سالک کو بھی نور ِ سیاہ تمام انوار کو اپنے اندر سموئے ہوئے دکھائی دیتا ہے ۔ سالک کا طائر ِ خفی شوق و محبت کے پروں سے پرواز کرتا ہوا اس عالم کی انتہاؤں کو چھو لیتا ہے اوربالآخر اپنی آخری منزل یعنی مقام غیب الغیوب میں پہنچ کر قرار پا تا ہے۔یہ ساتواں مرحلۂ ذکر ہے ، جہاں صوفی ذاتِ خداوندی میں فنا حاصل کر لیتا ہے ۔ اس مقام پر ہر طرح کا تعدد مثلاً ذکر ، ذاکر اور مذکور یعنی خدا کی تفریق بھی ختم ہو جاتی ہے اور سالک خدا کی وحدانیت میں جذب ہو جاتا ہے ۔ اس عالم کا نور بے رنگ ہے ۔ یوں نوربخشؒ کے نظریہ ٔ تصوف کے تحت انسان کے لئے حقیقت ِ مطلقہ کے ساتھ اس انتہائی مرحلے تک اپنی شناخت کروانا ممکن ہے ۔
راہ ِ سلوک کے ان جملہ مراحل میں سالک بتدریج اپنے رب کی طرف سفر کرتا ہے ۔ عوالم ِ خمسہ کے اندر یہ سفر دراصل اس کے اپنے قلب کے عمیق ترین مقام تک سات مراحل میں سفر ہے ۔ یوں عالمِ لاہُوت خود اس کا آخری مرکزِ وجود ہے اور جب قلب کے اس آخری مقام کو ذکر سے بیدار کیا جائے تو معنوی سفر میں وہ لاہوت کو رسائی پالیتا ہے اور یہی وحدت الوجود کا حقیقی مطلب ہے ۔ (82)

تجلّیات، فنا اور بقا

جیسا کہ مذکور ہو چکا ہے کہ نوربخشؒ راہ ِ سلوک میں سالک کے قربِ خداوندی کے سفر کو تین مرحلوں یعنی تجلیات ، فنا اور بقا میں تقسیم کرتا ہے ۔ تجلیات رضائے الٰہی کی پہلی علامت ہیں اور ان کی وساطت سے چشم ِ دل حسن ِ حقیقی کا دیدار کرنے لگتا ہے اور انہی تجلیات کے ذریعے ہی سالک و ہ علمِ لدنّی حاصل کرتا ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے ۔ فنا بھی تجلیات ہی کا اثر ہے جس کے باعث سالک کو اپنا انفرادی وجود بحرِ وحدت الوجود میں گم ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ بقا وہ مرحلہ ہے جب سالک قطعی طور پر اس بحرِ وحدت میں غرقاب ہو جاتاہے اور اس کے لوح ِ دل پر سے اﷲ کے سوا غیراﷲ کا نقش مٹ جاتا ہے ۔ اس مقام پر سالک کو خود اپنے وجود اور وجودِ احدیت کے درمیان کسی تفریق کا احساس باقی نہیں رہتا ۔ (84)
نوربخشؒ کے نزدیک ہر صوفی کا راستہ دوسروں سے منفرد ہوتا ہے اور یوں تجلیات الہٰی لا تعداد طریقوں سے ظہور پذیر ہو سکتی ہیں ۔ (85) البتہ اس کی عمومی تقسیم یوں کی جا سکتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان تجلیات کو بتدریج تجلیاتِ آثاری ، تجلیات ِ افعالی ، تجلیاتِ صفاتی اور تجلیاتِ ذاتی کی صورتوں میں ظاہر کرتا ہے ۔ سب سے ابتدائی تجلیات تجلیاتِ آثاری ہیں جن کا مشاہدہ عالمِ ملک میں ہوتا ہے ۔ سالک اپنے وجود کو اس تجلی میں فنا ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہی خدا ہے ۔ ان تجلیات کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں عرشِ الہٰی سمیت زیرِ قمر عوالم کی موجودات شامل ہوتی ہیں لیکن اعلیٰ ترین تجلی انسانی صورت میں نظر آتی ہے اور خاص کر انسانِ کامل کی شکل میں ۔ (86)
تجلیاتِ آثاری کی بھی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ پہلی صورت میں آثار بذاتِ خود تجلیات کی شکل میں نظر آتے ہیں اور دوسری صورت میں سالک ان آثار کو خو د اپنی شکل میں مجسّم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ دونوں صورتوں میں تجلّی یا تو صرف ایک جسم یا شے کی صورت میں نظر آتی ہے یا عالمِ ملک کی جملہ اشیاء اس تجلّی میں سما جاتی ہیں ۔ ایک آخری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ سالک عالمِ ملک کی جملہ اشیاء کو اپنے اندر شامل ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جو تجلیاتِ آثاری کی اعلیٰ ترین شکل ہے ۔
یہاں سے ترقی پانے کے بعد سالک تجلیاتِ صفاتی کے حدود میں داخل ہو جاتا ہے جس میں تخلیق اور بقا جیسی صفات شامل ہیں ۔ یہاں بھی یا تو وہ اﷲ تعالیٰ کو ان صفات کا حامل دیکھتا ہے یا خود اپنے آپ کو فاعل محسوس کرتا ہے ۔ یہ صورت صر ف ایک صفت کو بھی محیط ہو سکتی ہے اور جملہ صفات ِ خداوندی کو بھی ۔ چنانچہ تجلیات ِ صفاتی کی اعلیٰ ترین شکل میں سالک اپنے آپ کو جملہ صفاتِ الہٰیہ کا حامل پاتا ہے ۔ ان تجلیات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ مخصوص رنگوں میں نظر آتی ہیں اور انہی تجلیات کے ذریعے سالک فرشتوں اور عالمِ ملکوت کی ارواح کا مشاہدہ بھی کر سکتا ہے ۔ (87)
ذات ِ باری تعالی کی سات بنیادی صفات بھی تجلیّات کی شکل میں وارد ہوتی ہیں اور انجام ِ کار صوفی خود کو ان جملہ صفات یعنی حیات ، علم ، سمع ، بصر ، قدرت ، ارادہ اور کلام کا حامل پاتا ہے ۔ یہ تجلیات عالمِ جبروت میں نظر آتی ہیں اور تجلیات ِ صفاتی کا مشاہدہ نور ِ سیاہ میں ہوتا ہے جو عالمِ جبروت کا مخصوص رنگ ہے ۔
اب تک جن تجلیات کا بیان ہو چکا ہے ان میں سے ہر تجلیّ کے ساتھ سالک اپنے وجود کا ایک حصہ اس تجلیّ میں کھو دیتا ہے جو سالک کی فنائے جزوی ہے ۔ انجام ِ کار جب سالک کو تجلیّ ِ ذات حاصل ہوتی ہے تو وہ اس تجلیّ میں مکمل طور پر فنا ہو جاتا ہے جس کا نام فنائے صِرف ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذات خداوندی کا مشاہدہ بیرون ِ ذات ممکن نہیں ہے ۔ ذات سے وصل کا لازمی نتیجہ اس میں گھل مل جانا یا فنا ہو جانا ہے جہاں سالک کے علم اور شعور کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ہر قسم کی کثرت اس کے لئے معدوم ہو جاتی ہے ۔ (88)
فنا کی بھی لاتعداد صورتیں ہیں ۔ اس کی دو بنیادی صورتیں جزوی فنا اور کُلّی فنا ہیں ۔ سالک یا تو خود فنا کے تجربے سے گزرتا ہے یا کل کائنات کو فنا ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ ان دو صورتوں کی مزید دو صورتیں ہیں یعنی یا تو فنا بتدریج ہوتا ہے یا پھر سالک کی ذات یا پوری کائنات چشم زدن میں فنا ہو جاتی ہے (89) فنا کے ہر مرحلے اور اس سے وابستہ تجلیّ کے مشاہدے کے بعد سالک یا تو عالمِ صحو یعنی ہوش میں واپس آ جاتا ہے یا پھر وجودِ باری سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھتا ہے ۔ اس دوسری حالت کو بقا کہتے ہیں اور جزوی بقا کی ایک صورت ہر فنا سے وابستہ ہوتی ہے ۔ بقا باﷲ کے مرحلے پر سالک نہ صرف خود کو ذات ِ خداوندی میں موجود پاتا ہے بلکہ قوائے الہیٰ کا بھی حامل ہو جاتا ہے ۔ بقا کی اعلیٰ ترین صورت یک لخت فنا کے بعد ظہور پذیر ہوتی ہے ا ور اسے بقا باﷲ کا نام دیا جاتا ہے ۔ اس تجربے میں سالک خدا کو خود اپنے پیر ِ طریقت کی شکل میں دیکھتا ہے ۔ (90)
نوربخشؒ اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ سالک کا بقا باﷲ ہونا صرف اس مخصوص روحانی تجربے کے دوران ہی امرِ حقیقت ہے ۔ ( سالک جب اس مخصوص تجربے سے باہر آ جائے اور عام زندگی میں بھی بقا باﷲ ہونے کا دعویٰ کرے تو کفر و شرک متصور ہوگا ۔ ) نوربخشؒ اس کی مثال یوں دیتے ہیں کہ اگر ایک لوہے کے ٹکڑے کو لوہار کی بھٹی میں گرم کیا جائے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب لوہا اپنی حدت ، سرخ رنگت اور جلانے کی خاصیت کے اعتبار سے آگ کا مماثل ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں اگر لوہا دعویٰ کرے کہ میں آگ ہوں تو یہ دعویٰ سچا ہے ۔ لیکن جب اسے بھٹی سے نکال لیا جائے تو وہ آگ کی جملہ خاصیتیں کھو دیتا ہے اور اس حالت میں وہ آگ ہونے کا دعویٰ کرے تو یہ دعویٰ باطل ہے۔(91)
اس حقیقت کے باوجود قربِ خداوندی کا تجربہ حاصل ہونے کے بعد عام عالمِ ہوش میں بھی صوفی کا روحانی مقام عام انسانوں سے بلند رہتا ہے ۔
نوربخشؒ کے بیان کے مطابق سالک تجلیات ِ الہیٰ ، فنا اور بقا تینوں تجربوں سے بیک وقت بھی مستفیض ہو سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں ہر تجلیّ ایک فنا ہے جس کے ساتھ بقا وابستہ ہے ۔
نوربخشؒ کی بعض تصانیف میں میرؒ کے اپنے اعلیٰ روحانی مقام کا بھی بیان ملتا ہے ۔ ان کے وحدت الوجودی نظریات فنا فی اﷲ اور بقا باﷲ کے انہی تجربوں کا نتیجہ ہیں ۔ ان مخصوص کیفیات میں ان کی کچھ ایسی ارشادات بھی ہیں جو بایزید بسطامی ؒ ، جنید بغدادی ؒ ، حسین بن منصور حلاج ؒ ، ابوالحسن خرقانی ؒ اور ابوالحسین نوری ؒ کے ارشادت سے مماثل ہیں جن کے بارے میں علمائے ظاہر نے بعض فتوے بھی صادر کئے ہیں ۔ اسیری لاہیجیؒ بھی میر نوربخشؒ کے بارے میں وضاحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ ان کے مرشد ( نوربخشؒ ) کے عالم ِ عشق و مستی میں ارشاد فرمائے گئے کلمات شبلی ؒ و حلاج کے ارشادات کی طرح ہیں ۔
رنگوں کی اہمیّت

نوربخشؒ کی تعلیمات میں رنگوں کی اہمیت کا جو بیان ہے وہ سلسلہ ٔ کبرویہ کے صوفیاء کی روایت کا حصہ ہے۔ خود حضرت نجم الدین کبریٰ ؒ اور اس سلسلے کے دیگر صوفیاء نے صوفیانہ تجربات کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے اور ان کی تعلیمات اس عہد کے تمام صوفیاء کے لئے لائحہ عمل کی حیثیت اختیار کر گئی تھیں ۔ بایں ہمہ نوربخشؒ کے بیانات سلسلہ ٔ کبرویہ کے پیشرو صوفیاء سے بالکل منفرد معلوم ہوتے ہیں ۔
نوربخشؒ فرماتے ہیں کہ ’ دیدن ‘ یعنی دیکھنا علم کا سب سے مستند ذریعہ ہے اور یہ عین الیقین ہے جیسا کہ مولائے متقیان حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا ہے ’’ میں نے اپنے رب کو پہچانا پھر اس کی عبادت کی ۔ میں نے ایسے خدا کی پرستش نہیں کی جسے میں نے نہیں دیکھا ۔ ‘‘ (۹۲)
انسان کی ظاہری آنکھ سے حاصل کردہ مشاہدات و تجربات طبعی علوم (Physical Sciences) کا ذریعہ اور ماخذ ہیں ، جبکہ اس کی روحانی بصارت عالمِ مثال کی حقیقتوں کا مشاہدہ کرتی ہے ۔ نوربخشؒ نے صوفیانہ تجربے میں رنگوں کی اہمیت دو حیثیتوں سے بیان کی ہے ۔
اپنی ادنیٰ حیثیت میں پردۂ ملکوت سے چھننے والا نورِ سیاہ سات اجرام ِ فلکی پر پڑ کر سات مختلف رنگوں کے انعکاس کا موجب بنتا ہے ۔ یہ سات رنگ سبز ، سرمئی ، سفید ، زرد ، سرخ ، نیلا اور سیاہ ہیں ۔ نوربخشؒ نے سالک کے روحانی ارتقاء کے سفر میں ان رنگوں کی واضح اہمیت بیان نہیں کی ہے ۔
اس کے برعکس نوربخشؒ نے راہ ِ سلوک کے تدریجی سفر میں خمسہ عوالم کے ساتھ بھی مخصوص رنگوں کو وابستہ کیا ہے ۔ یہ مختلف رنگ مادی عالم سے لے کر ذاتِ احدیت تک کے سفر میں سالک کے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہیں ۔ اس بیان کی رو سے سبز رنگ عالمِ ملک کا مخصوص رنگ ہے ۔ نیلا رنگ عالمِ ملکوت ِ زیریں کا رنگ ہے ۔ ملکوت کے بالائی حصوں میں سرخ ، زرد اور سفید رنگوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔ سیاہ رنگ عالمِ جبروت کے ساتھ مخصوص ہے اور ذات ِباری تعالیٰ کا نور بے رنگ ہے ۔ ان جملہ عوالم کے تدریجی سفر میں تجلیات ِالہٰی ہر عالم کے مخصوص رنگ میں ہی نظر آتی ہیں ۔ البتہ سبز رنگ کا جو مادی اجسام سے وابستہ ہے تجلیات کے مخصوص رنگ کے طو رپر بیان نہیں ہوا ہے ۔
تخلاصۂ کلام

غوث المتاخرین سید العارفین میر سید محمد نوربخشؒ ؒ نوراﷲ مرقدہ و اعلیٰ اﷲ مقامہ کا نظریہ ٔ تصوف سلسلہ ٔ کبرویہ کے صوفیاء اور وحدت الوجودی صوفیاء کے افکار ِ عالیہ کا مقامِ اتصال بھی ہے اور نقطۂ عروج بھی ۔ جیسا کہ گزشتہ ابواب میں مذکور ہو چکاہے کہ میر محمد نوربخشؒ ایک جامع کمالات نابغہ ٔ روزگا راور تاریخ ساز شخصیت تھے ۔ جملہ علوم ِ ظاہر و باطن پر جیسا تبحّر انہیں حاصل تھا ان کے پیشرو صوفیاء اور ان کے بعد آنے والوں میں اس کی مثال مشکل سے ملے گی ۔ وہ بیک وقت ایک بہت بڑے فقیہ ، محدث ، ماہر ِ نجوم و قیافہ ، ماہر ریاضیات ، ماہر ِ کیمیا ، ماہر ِ ِارضیات ، اور ایک واصل باﷲ عارف تھے ۔ وہ احکام ِ شرعیہ کے عملی نفاذ کے لئے سیاسی اقتدار اور اثر و رسوخ کو بھی ناگزیر سمجھتے تھے اور معاملات ِدنیا سے الگ تھلگ ہوکر رہبانیت کی زندگی گزارنے کے قائل نہ تھے ۔ وہ اتحاد بین المسلمین (Pan Islamism) کے زبردست داعی تھے اور انہوں نے امت ِ مسلمہ کے درمیان موجود اصولی و فروعی اختلافات کے خاتمے اور بدعتوں کو رفع کرنے کے لئے ایک ہمہ گیر تحریک چلائی ۔ لیکن ان جملہ حیثیتوں سے ممتاز حیثیت ان کی یہ تھی کہ وہ عظمتِ انسانی کے بہت بڑے نقیب کے طو رپر ابھرے ۔ نوربخشؒ کے نظریہ ٔ تصوف کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نوربخشؒ نے روایتی تصوف کی مجہولیت کے برعکس ایک نہایت حیات بخش اور حرکی نظریہ ٔ تصوف پیش کیا ہے جس کی بازگشت دور ِ جدید میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ کے نظریہ ٔ خودی میں تلاش کی جا سکتی ہے ۔
نوربخشؒ نے اپنے علمِ لدنیّ اور باطنی تجربات و مشاہدات کو بروئے کار لاتے ہوئے اسرارِ حیات و کائنات اور اسرارِ صفات و ذات الٰہٰیہ سے جو پردہ اٹھایا ہے وہ علمی دنیا کا ایک بڑا کارنامہ ہے ۔ نوربخشؒ کی جملہ تعلیمات قرآن مجید اور احادیث نبویﷺ کے حوالوں سے مستحکم ہیں۔ علمِ فقہ کی موشگافیاں ہوں یا علمِ تصوّف کی باریکیاں وہ ہر دعویٰ کے لئے دلیل قرآن و حدیث ہی سے فراہم کرتے ہیں ۔ ایک طرف انہوں نے تخلیق ِ حیات و کائنات کے اسرار پر عارفانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے وہاں ایک سالک کے روحانی عروج کے مدارج کو بھی نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیاہے ۔ اس روحانی سفر کی اعلیٰ ترین مثال معراج ِ مصطفویﷺ ہے ۔
نوربخشؒ کی تعلیمات کے لحاظ سے انسان خلاصہ ٔ تخلیق ہے اور عالم ِ ناسوت جو انسان کامل کا عالم ہے وہ عالم ِ لاہوت کا ہمدوش ہے ۔ انسان ِ کامل کے کردار میں جملہ صفات ِ الہٰی کا پرتو موجود ہوتا ہے ۔ جیسا کہ حکیم الامت علامہ اقبالؔ نے فرمایا :
ہاتھ ہے اﷲ کا بندۂ مؤمن کا ہاتھ
غالب و کارآفرین ، کارکُشا ، کارساز(93)
یوں تو تمام انسان اشرف المخلوقات ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ وہ اہل سلوک و ریاضت جو اپنے ہوائے نفسانی سے کنارہ کش ہو کر قربِ الہٰی کے لئے مشغول ِ مجاہدہ و ریاضت ہو جاتے ہیں وہ تمام مادی کثافتوں سے منزہ ہو کر روحانی ارتقاء کے عروج تک رسائی پاتے ہیں اور مقامِ تجلیّات سے گزر کر مقامِ فنا فی اﷲ اور بقاء باﷲ تک رسائی پاتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد ِ خداوندی ہے ۔ وَمَا خَلَقْتَ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ (الذاریات۵۶) ’’ہم نے انس و جن کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ۔‘‘ بزرگانِ نوربخشیہ کے نزدیک یہاں عبادت سے معرفت مراد ہے ۔ عالم ِ ملک سے عالم ِ لاہوت تک کا سفر معرفتِ الہٰی کے مختلف مدارج ہیں جس میں سالک خود اپنے وجود کے اندر سات منزلوں میں سفر کرتا ہے اور اپنے وجود کے مرکزی نقطے پر اپنے رب کو پالیتا ہے چنانچہ حدیث نبوی ﷺ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا بھی یہی مطلب ہے ۔ پس تخلیق ِ کائنات حسن ِحقیقی کے اظہار کا ذریعہ ہے جیسا کہ حدیث ِ قدسی میں آیا کہ ’’ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا پھر میں نے چاہا کہ اپنے آپ کو ظاہر کروں تو اس کائنات کو خلق کیا ‘‘۔ اس اظہار ِ حسن کاعمل ایک دائرے کی شکل میں تکمیل پاتا ہے جس کا نصف حصہ تجلیات ِ الہٰی کے بتدریج اظہار سے عوالم ِ خمسہ کی موجودات کاوجود میں آنا ہے اور بقیہ نصف حصہ انسان ِکامل کا اس عالمِ آب و گل سے مختلف مدارج میں عروج پاکر عالم ِ لاہوت میں اپنے جھنڈے گاڑنا اور فنا فی اﷲ اور بقا باﷲ کی منزلوں تک رسائی پانا ہے ۔ انسان کا یہ کارنامہ تسخیر ِ کائنات سے بھی آگے کی چیز ہے جیسا کہ مولانا روم ؔ نے فرمایا ہے ۔
بہ زیرِ کنگرۂ عرشِ پاک مردانند
فرشتہ صید و پیمبر شکار و یزدان گیر(94)
اور اسی کی بازگشت حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کے ہاں بھی یوں سنائی دیتی ہے ۔
در دشتِ جنونِ من جبریل زبون صیدی
یزدان بہ کمند آور ای ھمّتِ مردانہ(95)
یہاں نوربخشؒ عظمتِ انسانی کے عظیم علمبردار کے کردار میں سامنے آتے ہیں ۔ اسرار ِ حیات و کائنات کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے حضرت ِانسان کو اپنا اصل مقام دلایا ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں ۔
ماییم وجودِ کلِّ موجود
ماییم زِ کائنات مقصود(96)

چون منشأ عوالمِ کلّی وجودِ ماست
بود جھانیان ھمگی ھم زِ بودِ ماست(97)

کائناتست جسم ما جانیم
واصلان را دلیل و برھانیم(98)

ذات بحتیم و مظھرِ اسماء
کیست در کائنات کل چُو ما(99)
اور اثباتِ ذات ، تلاش ِ ذات اور تکمیل ِ ذات کے مراحل سے گزر کر اپنی تخلیق کے اصل مقصد یعنی معرفتِ خداوندی کو پالینے کے لئے جدوجہد کرنے کی نصیحت فرمائی ہے ۔ نوربخشؒ جہد مسلسل کو ارتقائے معنوی کے لئے ناگزیر سمجھتے ہوئے نصیحت کرتے ہیں ۔
غنیمت است جوانی و دولتِ دنیا
ز بھرِ کسبِ موالات و موطنِ عقبیٰ(100)

در کمالِ معنوی کوشش نما ای نوربخشؔ
کین جھانِ بی وفا ھمچون کفِ دریا بُوَد(101)

واپس اوپر جائیں

حوالہ جات


۱۔ مقالۂ شہزاد بشیر (ص۱۹۹)
۲۔ صحیفۃ الاولیاء قلمی (ص ۱)
۳۔ مقدمہ کتاب الاعتقادیہ (ص۱)
۴۔ کتاب الاعتقادیہ (ص ۲۶)
۵۔ کتاب الاعتقادیہ (ص ۳۶ تا ۴۰) ، رسالۂ نوریہ (ص ۱۳)
۶۔ دیوان ِ نوربخش ؒ (۴۹ص ۲۳) در مقالاتِ محمد شفیع جلد دوم (ص ۶۷)
۷۔ کشف الحقائق (ص ۲۰ ) ، رسالۂ نوریہ (ص ۱۵)
۸۔ دیوانِ نوربخش ؒ (ص۶)
۹۔ مکتوب بہ مولانا حسن کرد (ص ۴؍۹)
۱۰۔ دیکھئے حوالہ نمبر(9)
۱۱۔ یہ مشہور حدیث سئل رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم این کان ربنا قبل ان یخلق فقال فی عماء ما فوقہ ھواء و ما تحتہ ھوا ہے ۔ اس حدیث کی تشریح میں متعدد بزرگوں نے کتب و رسائل تصنیف کئے ہیں ۔ سید نوربخشؒ نے بھی ایک صفحہ پر مشتمل رسالہ اس موضوع پر تصنیف کیا ہے ۔
۱۲۔ رسالۂ نوریہ (ص۱۴)
۱۳۔ ایضاً (ص ۱۵)
۱۴۔ دیوانِ نوربخشؒ (۱۷ ص۲۳)
۱۵۔ رسالۂ نوریہ (۱۵)
۱۶۔ دیوانِ نوربخشؒ (۱۷ ص۲۳)
۱۷۔ کشف الحقائق (ص۱۰)
۱۸۔ جواب مکتوب ِحکیم (ص۲)
۱۹۔ رسالۂ معراجیہ ( ص۵،۶) ، رسالۂ اعتقادیہ (ص۴۱ ، ۴۲)
۲۰۔ کشف الحقائق (ص۱۰)
۲۱۔ رسالۂ نوریہ (ص۱۸)
۲۲۔ ایضاً (ص۱۹)
۲۳۔ رسالۂ نوریہ (ص۱۰)
۲۴۔The throne carrier of God (p154)
۲۵۔The Throne Carrier of God (p61-99)
۲۶۔The throne carrier of God (p154)
۲۷۔ رسالۂ اصطلاحات قلمی
۲۸۔ رسالۂ اصطلاحات قلمی
۲۹۔ رسالۂ منامیہ (ص ۱۹؍۲ تا ۲۳؍۹)
۳۰۔ مفاتیح الاعجاز فی شرح گلشنِ راز (ص۱۱۴، ۱۱۶)
۳۱۔ مکتوب ِ نوربخش ؒ مشمولہ جامع مراسلات اولالباب بحوالۂ مقالات مولوی محمدشفیع جلد دوم (ص۱۵)
۳۲۔ مکتوب بہ سلطان ِ وقت مشمولہ روضات الجنان جلد دوم ( ص ۵۸۳۔ ۵۸۴)
۳۳۔ مکتوب بنام فقھا
۳۴۔ معاش السالکین (ص۳۰)
۳۵۔ حاشیہ قرآن مجیداز مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ (ص ۳۹۲)
۳۶۔ رسالۂ معراجیہ (ص۶)
۳۷۔ دیوانِ نوربخش ؒ (ص ۱۷)
۳۸۔ دیوان ِ حافظ ؒ (ص۱۷۴)
۳۹۔ جواب مکتوبِ حکیم ، کتاب الاعتقادیہ(ص ۲۸)
۴۰۔ انسان نامہ قلمی (ص۸)
۴۱۔ ایضاً (ص۱۲)
۴۲۔ انسان نامہ (ص۹)
۴۳۔ ایضاً (ص۲۷)
۴۴۔ رسالۂ مکارم الاخلاق (ص ۲۵)
۴۵۔ انسان نامہ (ص۶)
۴۶۔ مکتوب بہ نام مولانا حسن کرد (ص۲)
۴۷۔ کشف الحقائق (ص ۱۸ ، ۱۹)
۴۸۔ رسالۂ نوریہ (ص ۲)
۴۹۔ معاش السالکین (ص۲۲)
۵۰۔ رسالۃ الھدیٰ قلمی (ص ۱،۲)
۵۱۔ رسالۂ مکارم الاخلاق (ص۲۹، ۳۰)
۵۲۔ معاش السالکین (ص ۳۸ ، ۳۹)
۵۳۔ انسان نامہ ( ص ۴۵) ، تحفۃ الاحباب (ص۶۴)
۵۴۔ معاش السالکین (ص۵۱)
۵۵۔ دیوانِ نوربخش ؒ (ص ۸)
۵۶۔ مکارم الاخلاق (ص ۲۶)
۵۷۔ ایضاً (ص۱۴)
۵۸۔ مکارم الاخلاق (ص ۱۵ تا ۲۶)
۵۹۔ رسالہ دہ قاعدہ ملخص (ص ۱۰ تا ۱۹)
۶۰۔he Throne Carrier of God (p 23, 24)
۶۱۔ الوارد الشاھد
۶۲۔ دعوات الصوفیہ (ص۱۲۰،۱۲۱،۱۲۴)
۶۳۔ رسالٔہ ذکریہ خورد (ص۱ تا ۳)
۶۴۔ سلسلہ نامہ قلمی (ص ۳۱؍۵)
۶۵۔ دعواتِ صوفیہ (ص ۱۲۲، ۱۴۳) ، رسالۂ ذکریہ (ص۴)
۶۶۔The Throne Carrier of God (p29)
۶۷۔ دیوانِ نوربخش ؒ (ص ۱۱، ۱۲)
۶۸۔ اسرار الشہود (ص ۹۸)
۶۹۔ مجالس المؤمنین (ص ۳۱۸) ، مفاتیح الاعجاز (ص ۵۸۶، ۵۸۷)
۷۰۔ مقالۂ شہزاد بشیر (ص ۲۳۳)
۷۱۔ معاش السالکین (ص ۳۶) ، انسان نامہ (ص ۳۶، ۳۷)
۷۲۔ انسان نامہ (ص ۳۷)
۷۳۔ کشف الحقائق (ص ۶ ،۷)
۷۴۔ کشف الحقائق (ص ۷،۸ ) ، رسالۂ معراجیہ (ص۶)
۷۵۔ رسالۂ معراجیہ (ص۶)
۷۶۔ کشف الحقائق (ص ۷،۸ ) ، صحیفۃ الاولیاء (ص ۷)
۷۷۔ رسالۂ نوریہ (ص ۲)
۷۸۔ رسالۂ نوریہ (ص ۲)
۷۹۔ رسالۂ نوریہ (ص ۲)
۸۰۔ رسالۂ نوریہ (ص ۱۰)
۸۱۔ رسالۂ نوریہ (ص ۱۰)
۸۲۔ رسالۂ نوریہ (ص۱۱)
۸۳۔ رسالۂ نوریہ (ص۱۱)
۸۴۔ رسالہ ٔ نوریہ (ص۱۱)
۸۵۔ رسالہ ٔ نوریہ (ص۱۳)
۸۶۔ رسالہ ٔ نوریہ (ص۱۳)
۸۷۔ رسالۂ نوریہ (ص۱۴)
۸۸۔ رسالۂ نوریہ (ص ۱۵)
۸۹۔ رسالۂ نوریہ (ص ۱۵)
۹۰۔ رسالۂ نوریہ (ص ۱۶)
۹۱۔ رسالۂ اعتقادیہ (ص۳۹)
۹۲۔ رسالہ ٔ نوریہ (ص۱۳)
۹۳۔ کلیّات ِ اقبال (ص ۳۸۹؍۹۷)
۹۴۔ مقدمۂ مثنوی معنوی مولوی (ص۱۷)
۹۵۔ مقدمۂ مثنوی معنوی مولوی (ص۱۷)
۹۶۔ دیوانِ نوربخش ؒ (ص ۲۵)
۹۷۔ دیوانِ نوربخشؒ (ص ۱۵)
۹۸۔ ایضاً (ص۱۲)
۹۹۔ ایضاً (ص۱۰)
۱۰۰۔ ایضاً (ص۲۵)
۱۰۱۔ ایضاً (ص۸)