تصنیف و تالیف بزرگانِ سلسلۂ نوربخشیہ کا ایک خصوصی وصف ہے ۔ اس سلسلے کے تما م بزرگ اپنے اپنے زمانے کے سربرآوردہ عالم اور علوم و فنون کے اہم ستون شمار ہوتے تھے ۔ چنانچہ وہ جہاں عام مسلمانوں کے لئے شرعی مسائل کی گتھیاں قضاء و افتاء کے ذریعے سلجھاتے تھے وہاں تشنگانِ طریقت و حقیقت کو سرچشمۂ معرفت ِالٰہی تک پہنچا کر ان کی روحانی تشنگی دور فرماتے تھے ۔ ساتھ ہی وہ تصنیف و تالیف کی ضرورت و اہمیت سے بھی خوب واقف تھے ۔ سلسلۃ الذھب کے بیشتر بزرگ تصانیف ِکثیرہ کے مالک ہیں جس کا سرسری بیان سید نوربخشؒ کے سلسلہ ٔ طریقت کی ذیل میں ہو چکا ہے اور بزرگانِ نوربخشیہ کی تصانیف کی ایک جھلک بھی پیش کی گئی ہے ۔ سید محمد نوربخشؒ نے بھی اپنے پیشرو بزرگوں کی طرح بکثرت کتب و رسائل لکھے ۔ آپ نے جہاں ایک کامل و مکمل عارفِ حق کی حیثیت سے مضامین ِ تصوف و عرفان پر قلم اٹھایا ہے وہاں ایک محقق اور مجتہد کی حیثیت سے اصول و فروعِ دین پر بھی مبسوط کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ تاہم بعض تصانیف ایسی ہیں جو اگرچہ نوربخش ؒسے منسوب کی گئی ہیں لیکن درحقیقت وہ میر کی تحریر کردہ نہیں ہیں بلکہ بعد کے زمانے کی پیداوار ہیں ۔ مولانا خادم حسین پندوی نے اپنی کتاب احوال و آثار ونوربخشؒ میں سید محمدنوربخش ؒ کی پچاس ( ۵۰ ) تصانیف کی فہرست دی ہے لیکن ان میں سے اکثر تصانیف کا سید محمد نوربخش سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ (1) ایران کے نوربخشی محقق جعفر صدقیان لو نے اپنی تصنیف ’ احوال وآثار سید محمد نوربخش اویسی قہستانی ؒ‘ میں میر سید نوربخشؒ کی ان تصانیف کی فہرست فراہم کی ہے جو مصنف کی تحویل میں ہیں۔ (2) بلتستان کے مشہور نوربخشی محقق غلام حسن حسنو سہروردی نوربخشی نے اپنی تالیف ’ تاریخ ِ بلتستان ‘ میں بھی سید محمد نوربخشؒ کی متعدد تصانیف کی فہرست دی ہے جو مؤلف کے ذاتی کتابخانے ’برات لائبریری‘ کی ملکیت ہیں ۔ (3) برصغیر کے نامور محقق مولوی محمد شفیع نے اپنے مقالے فرقۂ نوربخشی میں بھی میرؒ کی بعض تصانیف کا جائزہ پیش کیا ہے ۔(4) سید نوربخشؒ کی تصانیف کی ایک کثیر تعداد دنیا کی مختلف لائیبریریوں میں قلمی مسودوں کی صورت میں موجود ہے۔ بعض تصانیف جن میں فقہ الاحوط ، رسالہ اعتقادیہ اور کشف الحقائق وغیرہ شامل ہیں ، بلتستان کی نوربخشی تنظیموں کے زیر اہتمام اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں ۔
میر سید نوربخشؒ کی تصانیف کو چار قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

الف۔ مستقل منثور تصانیف
ب۔ یک موضوعی مختصر رسائل
ج۔ منظوم آثار
د۔ مکتوبات
ہ۔ متنازع فیہ تصانیف

الف۔ مستقل منثور تصانیف

۱۔الفقہ الاحوط( عربی)
۲۔رسالہ ٔاعتقادیہ(عربی) (کتاب الاعتقادیہ یا اصولِ عقائد)
۳۔ سلسلۃ الذھب ( عربی و فارسی)
۴۔ انسان نامہ یا رسالہ فی علم الفراسۃ(فارسی )
۵۔رسالہ کشف الحقائق
۶۔رسالہ معاش السالکین(فارسی)
۷۔رسالہ مکارم الاخلاق( فارسی)
۸۔ سلسلۃ الاولیاء(عربی)
۹۔ رسالہ نوریہ یا کتاب نورالحق( فارسی)
۱۰۔رسالہ ٔمعراجیہ ( فارسی)
۱۱۔ رسالۃ الھدیٰ ( عربی)
۱۲۔ رسالۂ عرفانی (فارسی )

ب۔ یک موضوعی مختصر رسائل

۱۳۔ رسالہ ٔ اقسام ِدل( فارسی)
۱۴۔ رسالہ ٔبیان ِعوالم الحس(عربی)
۱۵۔ رسالہ دربیان آیۂ از کلام اﷲ( آیت فمن کان) (فارسی)
۱۶۔ رسالہ ٔ تلویحِ حدیث ِنبوی ؐیا شرحِ حدیث ِعمہ (فارسی)
۱۷۔ رسالہ فی معرفت ولی( فارسی )
۱۸۔ رسالۂ ارشاد نامہ یا اجازہ نامہ بہ فرزندش قاسم فیض بخشؒ( فارسی)
۱۹۔ رسالہ در سیر و سلوک( فارسی)
۲۰۔رسالۂ تلویحات( فارسی)
۲۱۔ رسالہ ٔ فوائد( فارسی )
۲۲۔ رسالۂ وجودِ مطلق (فارسی )
۲۳۔رسالہ ٔ نفسِ ناطقہ (فارسی )

ج۔ منظوم آثار

۲۴۔ صحیفۃ الاولیاء (فارسی)
۲۵۔ رسالۂ واردات یا واردات ِ نوربخشؒ (فارسی)
۲۶۔ عبرت نامہ ( رسالہ در انتباہ)(فارسی)
۲۷۔ دیوان یا غزلیاتِ نوربخشؒ( فارسی)

د۔ مکتوبات

۱۔جوابِ مکتوبِ علا الدین علی کیائی گیلانی(فارسی)
۳۔ جوابِ مکتوبِ حکیم یا رسالہ نفسِ ناطقہ (فارسی)
۴۔ جواب بہ سوال امیر کیا یا رسالہ قدم و حدوث (فارسی)
۵۔جواب بہ وزیر یا کشف و ریاضت(فارسی)
۶۔ مکتوب بہ علاؤ الدولہ ( فارسی )
۷۔ مکتوب بہ مولانا حسن کرد یا رسالہ ٔ وجود مطلق (فارسی )
۸۔ مکتوب بہ شاہ رخ مرزا
۹۔مکتوب در نصیحتِ مریدان(فارسی)
۱۰۔ مکتوب بنام ِ اسیری لاہیجیؒ( فارسی)

ہ۔ متنازع فیہ تصانیف

۱۔ مثنوی نجم الھدیٰ ( فارسی )
۲۔ مثنوی کشف الحقیقت فی بیان عوالم الکثرۃوالوحدۃ( فارسی)
۳۔ رسالۂ نفس شناسی (فارسی)
۴۔ مصائب عترۃ الطاہرۃ (فارسی)
۵۔ تفسیر مزرعۃ الاولیاء(فارسی)
۶۔ رفعِ اختلاف
۷۔ کتابِ نوربخشیہ

حوالہ جات

واپس اوپر جائیں

الف۔ مستقل منثور تصانیف

 

الفقہ الاحوط( عربی)
یہ ۵۱ ابواب پر مشتمل ضخیم فقہی کتاب ہے ۔بظاہر شاہ سید محمدنوربخشؒ نے یہ کتاب اس زمانے میں تصنیف کی ہے جب آپ مرزاشاہ رخ کی موت کے بعد سولغان میں فراغت کی زندگی بسر کر رہے تھے اور ہمہ وقت درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔’ تحفۃ الاحباب ‘ میں جو میر شمس الدین عراقی بت شکن ؒکے مرید ملا محمد علی کشمیری کی تالیف ہے، مذکور ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ کے نامور مرید مولانا حسین کوکئی نے جو شاہ قاسم فیض بخش ؒ اور میر کے دیگر فرزندوں اور دختران کے لئے بحیثیت ِاستاد مقرر تھے، الفقہ الاحوط سے طہارت ، نماز ، سنن ، فرائض اور واجبات کو فارسی زبان میں ترجمہ کیا ۔تمام بیبیاں ، بیٹیاں ، اور ارباب ِارادت کی عورتیں اسی فارسی فقہ احوط سے درس لیتی تھیں اور اسے یاد کرتی تھیں ۔ میر شمس الدین عراقی ؒجب دوسری بار وارد ِکشمیر ہوئے تو اسی فارسی فقہ احوط کو اپنے بال بچوں اور اولاد کی تعلیم کے لئے ساتھ لے آئے ۔ مولانا حسین کوکئی کے نسخے میں موزے پر مسح کرنے کے مسئلے کی صراحت موجود ہے ۔ میر شمس الدین عراقی ؒجب بار ِدوم عازمِ کشمیر ہوئے تو شاہ قاسم فیض بخش ؒنے الفقہ الاحوط کا ایک نسخہ کابل کے بادشاہ مرزا الخ بیگ کے لئے تحفہ کے طور پر ارسال کیا تھا ۔ میر عراقی اس نسخے کو کابل پہنچانا چاہتے تھے مگر راستے میں انہیں بادشاہ کی وفات کی اطلاع ملی اس لئے آپ نے کابل جانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔(5) صاحبِ ’تحفۃ الاحباب‘ کشمیر میں فقہ ٔ احوط کی مقبولیت کے متعلق یوں رقمطراز ہیں ۔
’’ حضرت خضرِ ہدیٰ ( میر شمس الدین عراقی ؒ ) کی سعادتوں کی برکت سے بہت سے قاضیان ِاسلام ، علماء اور فاضلین جن کے ہم پلہ کوئی نہیں تھے ان میں سے اکثر حنفی المذہب اور بعض شافعی المذہب تھے ، آنحضرت کے ارشاد ونصائح کی برکت اور ہادیٔ راہ ِہدایت کی ہدایت سے اپنے مذہب کو ترک کر کے اور اپنے عقائد کی نفی کر کے صحیح ترین مذہب ِہدیٰ ، واضح ترین شریعت ِمصطفویﷺ و علی مرتضی ؑ کی صحیح راہ پر آگئے۔ چونکہ حضرت قطب ِعالم ، غوث ِاعظم ، مقتدیٰ امم ، امام ِاکرم حضرت امام محمد نوربخشؑ جو مذہب ِائمہ معصومین کا خلاصہ اور زبدۂ ملت ِاولادِ سید المرسلین ہیں ،انہوں نے اپنی فقہ الاحوط میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ تمام شریعت ِمصطفویﷺ، تمام ملت ِبیضاء نبویﷺ جو رسول اﷲﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے زمانے میں مستعمل اور معمول تھی ان کو میں نے ایک شائبہ خلط ملط کئے بغیر ، بدعت اور اختراع لئے بغیر بیان کیا ہے ۔ رسالہ عقائد اور کتاب فقہ الاحوط دونوں آنحضرت ( سید محمد نوربخشؒ ) کی تصنیف ہیں ۔ ان ہر دو میں ملت ِمحمدیﷺ کے اصول و عقائد اور شریعت احمدی ﷺ کے فروعی مسائل جو رسول اﷲ ﷺ کے زمانے میں حق و یقین کے ساتھ رائج تھے ان کو آنحضرت نے دلالت و ہدایت کے ساتھ تحریر فرمایا ۔چنانچہ اپنی زبان مبارک سے خود فرماتے ہیں ۔
ابین شریعۃ المحمدیۃ کما کانت فی زمانہ من غیر زیادۃ و نقصان
’’ میں نے شریعت ِمحمدیہﷺ میں کمی یا اضافہ کیے بغیر اسے اس طرح بیان کیا ہے جیسی یہ آپ ﷺ کے زمانے میں رائج تھی ۔ ‘‘
اس میں شک نہیں کہ اس عبارت میں آنحضرت نے صراحت سے لکھا ہے اور اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ تمام قسم کے معروف مذاہب سنیہ وشیعہ دنیا کے کونے کونے میں ظہور ہو کر پھیل گئے ہیں بلاشبہ ان میں افراط و تفریط وقوع پذیر ہوئے ہیں اور وہ راویوں کی تبدیلیوں اور ناقلوں کے تغیرات سے خالی نہیں ہیں ۔ ان مذاہب میں سے ہر ایک کے دلائل کی اساس او رمسائل کے قواعد متضاد قیاسات اور ضعیف روایات پر رکھے گئے ہیں۔ اختراع شدہ روایات کی خلط ملط ، مصنوعہ اقوال کے ذریعے غلبہ کاحصول اور مستنبط شدہ احادیث موضوعہ محفوظ نہیں ۔ چنانچہ ان کے درمیان راویوں کی بکثرت مخالفت سے معلوم و متحقق ہو جا تا ہے کہ اقوالِ مجتھدین کے مناقشات اور نزاعات کی بھرمار مسائل کے بطلان اور روایات ِمختلف کی بہتات کے باعث ہے ۔ یہ تمام مذاہب مذہب ِحضرت امام محمدنوربخشؒ کے مخالف ہیں ۔ ارباب ِعلم کے فہم و فراست اور صاحبِ شعور کے ذہن سے یہ بات مخفی نہیں کہ کوئی بھی مذہب حضرت امام محمد نوربخشؒ کے مذہب سے بڑھ کر اس قسم کی آمیزش سے پاک اور عیوب سے مبرّا نہیں ہے اور کمال ِنزاہت اور انتہائے پاکیزگی اسی مذہب میں ہے جیسا کہ معلم و استاد بے بدل کشاف حدیث و تفسیر مولانا کمال الدین حافظ بصیر ، واقف ِاسرار قدسی جمال الدین محمد قدسی ، اس بندہ ( مصنف ) کے والد بزرگوار مولانا جمال الدین خلیل اﷲ ، افضل علماء زمان مولانا ضیاء الدین سلمان اوردیگر بہت سے علماء ، فاضلین ، طلباء اور متعلمین نے جنہوں نے اپنی زندگی حنفی اور شافعی مذہب میں گزاری ، اور ایک مدت سے متضاد عقائد و قواعد اور شدید تعصبات میں مبتلا تھے ، یہ سب حضرت امیر شمس الدین محمد قدس سرہ کی خدمت میں پہنچے ۔ آنحضرت کی زبان ِمبارک سے آثار ِمواعظ اور اسرار ِنصائح کو غور سے سنا ۔ انہوں نے آنخصرت کے طریق ِمجاہدات ، ریاضات اور اطوار ِسلوک کو ملاحظہ کیا ۔ آنحضرت کے افعال ، اقوال ، مختلف قسم کی کرامات اور کشف کا مشاہدہ و معائنہ کیا اور حضرت امام سید محمد نوربخشؒ کی تصانیف فقہ الاحوط اور رسالہ عقائد کا مطالعہ کیا اور آنحضرت کے اصول و فروع میں دقیق دلائل اور تحقیقات ِمسائل کو ملاحظہ کیا تو انہوں نے اس مذہب کی حجت کی صحت اور دلائل و براہین کی قوت کا یقین کر لیا ۔ مذکورہ علماء اور فاضلین نے مذاہب ِعوام کے اصول و فروع اور مسائل و متابعت میں ناموافق اور نا تمام باتوں سے دل برداشتہ ہو کر اپنے ملت و مذہب کو تبدیل کر لیا اور حضرت امام المحققین قطب المکملین امام محمد نوربخشؒ کا مذہب مستقیم جو اصل ملت و مذہب ائمہ معصومین کا خلاصہ ہے ،میں رجوع کیا اور بلا انقطاع حبل المتین ، عروۃ الوثقیٰ لن فصام لھا ، سلسلہ ٔعالیہ اولیاء عظام طریقہ ٔمستقیمہ ائمہ ٔکرام سے تمسک استوار کیا ۔ ‘‘ (6)
اس واضح بیان کے باوجود بعض مصّنفین کی تاریخی جہالت کا کیا علاج کیا جائے کہ انہوں نے فقہ الاحوط کو میر سیدمحمد نوربخشؒ کی بجائے کہیں شمس الدین عراقی ؒ کی تصنیف قرار دیا ہے اور کہیں کسی اور کی ۔
بڈلف نے اقوام ہندوکش میں زبانی روایت کی بنا پر ایک مضحکہ خیز کہانی لکھی ہے کہ شمس الدین عراقی ؒنے الفقہ الاحوط کو مرتب کر کے اس کو مخفی طور پر ایک درخت کی چھال کے نیچے چھپا دیا ۔ ایک سال بعد جب درخت اپنی قدرتی حالت پر آگیا تو اس نے لوگوں سے کہا کہ سید نوربخشؒ نے مجھ کو خواب میں بتایا ہے کہ فلاں درخت کو کا ٹ کر دیکھا جائے اس میں سے ایک چیز ملے گی جو تمام شکوک کو رفع کر دے گی ۔ غرض اس معجز نماطریق سے یہ کتاب درخت سے ملی اور وہ لوگ جو پہلے تشیع اختیار کرنے کے لئے تیار نہ تھے اب فوج در فوج نوربخشی مذہب میں داخل ہو گئے ۔(7)
تاریخ ِجموّ ں کے مؤلف مولوی حشمت اﷲ بھی الفقہ الاحوط کو میر عراقی ؒکی تصنیف قرار دیتے ہیں ۔اس سے بھی دلچسپ انکشاف ان کا یہ ہے کہ انہوں نے ’ فقۂ نوربخشی‘ نامی کتاب کو میر عار ف اور میر ابو سعید کی مشترکہ تالیف قرار دیا ہے ۔(8)
حقیقت ِحال یہ ہے کہ عراقی ؒ کی وفات ۹۳۲ ھ میں ہوئی ۔ مرزا حیدر دوغلت کی تاریخ ِرشیدی ۹۴۰ھ میں لکھی گئی ہے ۔اس میں وہ الفقہ الاحوط کو سید محمد نوربخش ؒ کی تالیف بتاتا ہے ۔ مرزا حیدر دوغلت نے علمائے ہند کا جو فتویٰ کتاب الفقہ الاحوط کے متعلق تاریخ رشیدی میں درج کیا ہے اس میں الفقہ الاحوط کی افتتاحی عبارت کتاب مذکور سے بعینہٖ نقل کی ہے ۔ ۹۵۲ھ میں یہ کتاب سید نوربخش ؒ کی تالیف کے طور پر اکبر کے دربار میں پہنچتی ہے اور ہندوستان کے علماء کے محضر میں پیش ہوتی ہے اور چند سال بعد جہانگیر اسے پھر محضر ِعلماء میں پیش کرتا ہے ۔ جبکہ شمس الدین عراقی ؒنے کوئی کتاب تصنیف نہیں کی ۔ تحفۃ الاحباب میں جو عراقی ؒ کی مکمل ترین اور مستند ترین سوانح ِعمری ہے عراقی ؒ کی کسی تصنیف کا ذکر نہیں ہے ۔
جبکہ قاضی نوراﷲ شوستری نے اپنی مشہور تصنیف ’مجالس المؤمنین ‘ میں تین عبارتیں فقہ الاحوط کے صفحہ ۳۰۶، ۳۵۳،اور ۶۱۵ سے نقل کی ہیں ، نیز صفحہ ۱۴۲ پر ’’ در کاتب فقہ الاحوط مجتہد ( ما) یان سید محمد نوربخش علیہ الرحمۃ ذکر فرمود‘‘ میں الفقہ الاحوط کی عربی متن کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ دوسری جگہ مجالس المؤمنین کی عبارت یوں ہے ۔ ’’ و در رسالہ عقیدہ کہ باو منسوب است منصوصیت و عصمت و علم و تقویٰ و شجاعت و سخاوت را از جملہ شرائط و ارکان امامت شمردہ و در مبحث جہاد از الفقہ الاحوط کہ باو منسوب است آوردہ کہ والجہاد یعنی الاکبر و الاصغر الخ ‘(9)
صاحب ’’ المنجد ‘‘ لکھتے ہیں ۔
……لہ الفقہ الاحوط و ضع فیہ علیٰ ما یقال مذھباً وسطاً بین تعالیم السنۃ و الشیعۃ (10)
……’’الفقہ الاحوط آپ ( میر سید محمد نوربخشؒ) کی تصنیف ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں اہل ِسنت اور اہل ِتشیع کے درمیانی مسلک کو بیان کیا گیا ہے ۔ ‘‘(11)
مولوی محمد شفیع لکھتے ہیں ’’ سراج الاسلام کے نام سے فقہ ٔ احوط چھپ کر ہمارے سامنے موجود ہے اور ہر چند میرزا حیدر نے اس کو تلف کرنے کی کوشش کی وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کتاب شمس الدین عراقی ؒ کی تصنیف ہے یا سید محمد نوربخش ؒ کی کیونکہ خود شوستری بھی اس کو منسوب بہ سید محمد نوربخشؒ بتا رہے ہیں ۔(12)
عبدالمجید مٹو لکھتے ہیں ۔ ’’مرزا حیدر دوغلت کا خیال تھا کہ یہ کتاب( فقہ احوط) شمس الدین عراقی ؒ کی تصنیف ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہے)13
ڈاکٹر اکبر حیدری بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ ’’ کشمیری مؤرخین نے کتاب احوط کو غلطی سے میر شمس الدین عراقی ؒ کی تصنیف قرار دیا ہے ۔ اس غلط بیانی سے بہت سے بے گناہوں کا خون بہایا گیا اور اسی کتاب کے بہانے سے بعض نا عاقبت اندیش کشمیری امراء نے بیرونی طاقتوں سے سودا کر کے مرزا حیدر دوغلات ( م ۱۵۵۰ء ) کو کشمیر پر حملہ کرنے کی ترغیب بھی دی اور دس سال تک اس کی غلامی کا جوا اپنے گلے میں ڈال دیا ۔ مرزا حیدر نے اس کتاب کی بنیاد پر کشمیری حریت پسندوں کا قتل ِ عام کیا تھا ۔ (14)
اسی طرح ڈاکٹر صابر آفاقی کی بھی یہی تحقیق ہے ۔ لکھتے ہیں’’ نوربخشیہ فرقہ کے بانی سید محمد نوربخشؒ نے فقہی احکام پر عربی میں ایک کتاب ’’ فقۂ احوط ‘ تالیف کی جو کشمیرمیں بہت مقبول ہوئی۔ ‘‘ (15)
جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں رائج الوقت فروعی مسائل کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے جو راہ ِاعتدال سے نزدیک ترین تھے اور جن پر عمل کر کے دین ِاسلام کے انتہا پسند فقہی مکاتب فکر کو راہ ِاعتدال پر لایا جا سکتا تھا ۔ اگرچہ سلسلۃ الذھب کے بزرگوں میں میر سید محمدنوربخشؒ سے قبل فقہ الاحوط جیسی ضخیم فقہی کتاب تصنیف نہیں ہوئی تاہم یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ فقہ ٔ نوربخشی کی بنیاد میر سید محمد نوربخش ؒ نے رکھی ۔ دراصل میر سید محمد نوربخش ؒکی کتاب الفقہ الاحوط بزرگانِ سلسلۃ الذہب کے مخصوص فقہی دبستان کا تسلسل ہے ۔ میر سید محمد نوربخشؒ سے قبل بھی اس سلسلے کے بہت سے بزرگ اپنے اپنے وقت کے مشہور عالمِ دین اور فقیہ گزرے ہیں ۔ حضرت جنید بغدادیؒ ، امام احمد غزالی ؒ ، ابو نجیب سہروردیؒ اور نجم الدین کبریٰ ؒ کا شمار صوفی فقہاء میں ہوتا ہے ، تاہم تحریری طور پر حضرت شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ کی کتاب ’’ مالا بدمنہ ‘‘ خالص فقہی کتاب ہے ۔ اگرچہ بعض مصنفین نے شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ کو اہلِ سنت کا پیرو قرار دیا ہے مگر یہ بات متفق علیہ ہے کہ شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒنے خرگوش کا گوشت کھانے سے اس لئے منع فرمایا کہ حضرت امام جعفر صادقؑ کے نزدیک یہ حرام ہے ۔(16) میر سید علی ہمدانی ؒ بھی اسی فقہی روش پر تھے لیکن صوفیاء کی روایتی وسعت ِنظری کے باعث جب کشمیر میں آپ نے وہاں کے مسلمانوں کو فقہ ٔحنفی کا پیرو پایا تو ان سے کچھ تعرض نہ فرمایا ۔ میر سید علی ہمدانی ؒ کی کتاب ’’کتاب الاعتقادیہ ‘‘ فقہی موضوع پر ہے ۔ لیکن فقہ الاحوط سے قبل اور اس کے بعد اس جیسی ضخیم کتاب نہیں لکھی جا سکی ۔ بقولِ غلام حسن آٹھویں نویں صدی ہجری میں ہر مکتب ِفکر کا علم ِفقہ تکمیل پا چکاتھا ۔ مختلف ادوار سے گزر کر تمام مکاتب ِفکر اپنے اپنے نظریے پر جم چکے تھے اور کوئی بھی مسلک دوسرے کے فقہی نقطہ ٔ نظر کو اپنانے پر تیار نہیں تھا ۔ ان بے لچک فقہی موشگافیوں نے ہر طرف کنفیوژن پیدا کر رکھا تھا ۔ایسی گھمبیر صورت حال میں سید محمد نوربخشؒ نے الفقہ الاحوط تالیف کی جس میں شریعت ِمحمدیہﷺ کو کما کان فی زمانہ ٖکے مصداق زمانہ ٔصدرِ اسلام میں رائج صورت میں بیان فرمایا ۔ (17) اس تدوین کی دو صورتیں تھیں۔
۱۔ پہلی صورت جو ظاہری صورت ہے ،یہ ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ نے جو ایک عظیم صوفی ہونے کے علاوہ ایک فقیہِ بے بدل بھی تھے ، اس وقت کے متداول تمام مسلم فرقوں مثلاً شافعی، حنفی ، جنبلی، مالکی ، ظاہری اور جعفری کی فقہی کتابوں کو کتاب وسنت کی کسوٹی پر پرکھا اور اس مسئلہ کو اختیار کیا جسے ان کے مطابق پایا ۔ جس مسئلے پر کتاب و سنت سے روشنی نہ پڑتی تھی اسے اپنے اجتہاد کے ذریعے ایسے پیرائے میں پیش کیا جس پر زیادہ سے زیادہ اتحاد بین المسلمین کا امکان ہو ۔ چنانچہ پروفیسر شہزاد بشیر اس ضمن میں یوں خیال آرائی کرتے ہیں ۔ ’’ میرے خیال میں سید محمد نوربخشؒ کو ایک علیٰحدہ فقہی دبستان قائم کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مشرق ِ وسطیٰ میں مغلوں کی یلغار کے بعد ایران اور وسطِ ایشیاء کی اسلامی معاشرت بہت مصیبتوں سے دوچار تھی ، جس کی وجہ سے فرقوں میں اختلاف بڑھتا چلاجا رہا تھا ۔ سید محمد نوربخشؒ کی پیدائش اسی زمانے میں ہوئی اور یہ ان کی ر وشن فکری اور ذہنی قابلیت کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ان مسائل کو ایک نئے فقہی مسلک کی بنیاد ڈالنے سے دور کرنے کی کوشش کی ۔ ‘‘ (18)
آپ نے محض افراط و تفریط کے خاتمے اور شریعت محمدیہﷺ کے احیاء کی خاطر الفقہ الاحوط تالیف کی ۔ الفقہ الاحوط سے قبل کے فقہی دبستانوں میں فقہ ٔشافعی میں اس معتدل اور اوسط کی روش کو پسند کیا گیا ہے جو فقہ الاحوط کا خاصہ ہے ،چنانچہ فقہ الاحوط کے مسائل بھی فقہ ٔ شافعی سے قریب تر دکھائی دیتے ہیں ۔ نیز علاؤالدولہ سمنانی ؒاور میر سید علی ہمدانی ؒ کی فقہی کتب میں بھی فقہی مسائل میں زیادہ ترشافعی مسلک کو ترجیح دی گئی ہے تاہم آزادانہ رائے بھی بکثرت پائی جاتی ہے ۔ (19)
۲۔ دوسری صورت اس تدوین کی یہ ہے کہ سلسلۃ الذہب کے تمام بزرگوں کے ہاں آیات قرانی کی تفسیر ، احادیث ِشریف اور فقہی احکامات سینہ بہ سینہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہوتے آئے ہیں ۔ چنانچہ شریعت ِمحمدیہ ﷺ مولائے متقیان حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے توسط سے جو پیغمبر علیہ السلام کے ظاہری و باطنی خلیفہ تھے اور باب ِشہرِ علم تھے ، حضرت امام علی رضاؑ تک بلا کم و کاست ایک علمی ورثے کی صورت میں منتقل ہوتی آئی اور یہاں سے شیخ معروف کرخی ؒ کے توسط سے یدا ً بیدٍ جب میر سید محمد نوربخشؒ تک پہنچی تو آپ نے ایک غیبی اشارے کے تحت صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیا ۔ (20)
جیسا کہ اوپرذکر ہو چکا ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ نے مختلف مسالک کی افراط وتفریط کے درمیان راہ ِاعتدال کو اختیار کیا ہے ۔ یہی صوفیاء کا مسلک ہے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فقہ الاحوط میں مسالک ِاسلام کے مشہور متنازعہ مسائل مثلاً وضو میں پاؤں کو دھونے اور مسح کرنے کا مسئلہ ، قیام میں ہاتھوں کے آداب ، سلام پھیرنے کا طریقہ ، غرض جملہ متنازعہ امور میں وسعت ِنظری اور رواداری کا مذہب اختیار کیا گیا ہے ۔ مثلاً میر نوربخشؒ فرماتے ہیں کہ نماز میں ہاتھوں کو باندھنا یا کھولنا دونوں جائز ہیں ۔ پاؤں پر مسح کیا جانا چاہئے اور مخصوص حالات میں دھونا بھی جائز ہے ۔ سلام پھیرنے میں حد ّ ِاعتدال کو اختیار کرنے کا حکم ہے اور علیٰ ھذا القیاس۔ لیکن چونکہ نوربخش ؒ اس بات کا ببانگ ِدُہل اعلان فرماتے ہیں کہ میں شریعت ِمحمدیہﷺ سے بدعتوں کے خاتمے پر مامور ہوں اس لئے وہ کسی ایسے نو ایجاد شرعی مسئلہ سے اتفاق نہیں کرتے جو شارع ؐ کے اپنے مبارک زمانے میں رائج نہ ہو اور بعد کی ایجاد و اختراع ہو ۔
الفقہ الاحوط کی ایک نمایاں خوبی یہی وسعت ِنظری اور رواداری ہے جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔ میر سید محمد نوربخشؒ کے نزدیک کسی کلمہ گو کے حق میں، جو ایمان اور اسلام کے بنیادی شرائط پوری کرتا ہو ،کفر کا فتویٰ صادر کرنا ہرگز جائز نہیں ہے ،چنانچہ باب ِصلواۃ میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے ۔
والذی آمن باﷲ و ملائکتہٖ ………عقیدۃ الجھال
’’جو شخص اﷲ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پراور روز ِآخرت پر ایمان رکھتا ہو اور وہ کہتا ہو کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں ۔میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں ۔ وہ نماز قائم کرتا ہو ۔ مالدار ہونے کی صورت میں زکواۃ ادا کرتا ہو ، ماہ ِرمضان کے روزے رکھتاہو اور استطاعت رکھنے کی صورت میں بیت اﷲ شریف کا حج کرتا ہو تو کسی بھی مسلمان شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ ایسے شخص کو کسی ایسی چیز کی بناء پر کفر سے منسوب کرے جس کا وہ عقیدہ رکھتا ہو اور معاملے کی حقیقت کو نہ جانتا ہو اور وہ یہ گمان کرتاہو کہ جو شخص اس کا عقیدہ نہ رکھے وہ کافر ہے ۔ یہ جہالت کے شکار حضرات کا عقیدہ ہے ۔ ‘‘ (21)
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے باب میں فرماتے ہیں کہ نیکی کا حکم دینے ، برائی سے روکنے اور احتساب کی بنیاد نفسانی آلائشوں پر نہیں بلکہ خالصتاً تعظیماً لامراﷲ و شفقۃ ً علٰی خلق اﷲ یعنی حکم ِ خدا کی عظمت کو برقرار رکھنا اور خدا کی مخلوق پر شفقت کے جذبے پر ہونی چاہئے ۔ (22)
جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ الفقہ الاحوط ۵۱ ابواب پر مشتمل ہے ۔ کتاب کا آغاز ان الفاظ میں کیا گیا ہے ۔
الحمدﷲ الذی بعث الانبیاء والمرسلین مبشرین و منذرین للامم و ختمھم نبینا و رسولنا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اما بعد فاعلم ایھا الولد القابل العادل العالم الفاضل المکاشف الواصل المرشد الکامل رزقک اﷲ کمال المعرفۃ فی حقائق الاشیاء شریعۃً و طریقۃً و حقیقۃً ان اﷲ امرنی ان ارفع الاختلاف من بین ھٰذہٖ الامۃ اولاً فی الفروع و ابین الشریعۃ المحمّدیّۃ کما کانت فی زمانہ من غیر زیادۃ و نقصان وثانیاً فی الاصول من بین الامم و کافۃ اھل العالم فشرعت فیہ بالتسھیل و ھو حسبی ونعم الوکیل
’’تمام تعریفیں اس اﷲ کے لئے ہیں جس نے نبیوں اور رسولوں کو جملہ امت کے لئے فرمانبرداری کی صورت میں خوشخبری سنانے والے اور نافرمانی کی صورت میں عذاب ِالٰہی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا اور ہمارے نبی اور رسول محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ ٔ بعثت کو ختم کیا ۔ حمدو صلواۃ کے بعد آگاہ رہے اے میرے قابل ، صاحبِ عدل ، علم والے ، فضیلت والے ، اسرار کے کھولنے والے ، حق کی رسائی والے ، ہدایت کرنے والے ، باکمال بیٹے ( مراد شاہ قاسم فیض بخش ؒ) اﷲ تجھے شریعت ، طریقت ، اور حقیقت تینوں میں جملہ چیزوں کی حقیقتوں کی پوری پہچان عطا کرے کہ اﷲ پاک نے مجھے اس بات پر مامور کیا کہ میں پہلے پہل اس امّت کے آپس میں موجود فروعی اختلاف کو دور کروں اور محمدی شریعت کو کسی قسم کی کمی یااضافے کے بغیر اس طرح بیان کروں جس طرح سے یہ شریعت خود شارع علیہ السلام کے زمانے میں رائج تھی اور بار ِدیگر سب ا متوں اور تمام دنیا والوں کے آپس میں موجود اصولی اختلاف کو دور کروں ۔ چنانچہ آسان انداز کے ساتھ میں نے اس بارے میں آغاز ِکار کیا ہے ۔ اﷲ ہی میرے لئے کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے۔‘‘(23)
’’ تحفۃ الاحباب ‘‘ میں بھی الفقہ الاحوط کے حوالے سے مندرجہ بالا عبارت فاعلم ایھا الولد القابل العالم الفاضل المکاشف الواصل المرشد الکامل المعرفہ فی حقائق الاشیاء شریعۃ و طریقۃ وحقیقۃ من و عن نقل ہوئی ہے ۔
الفقہ الاحوط کے قلمی نسخہ جات بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ بلتستان کے علاقے میں جہاں نوربخشی سلسلہ رائج ہے فقہ احوط کے کم وبیش چودہ نسخے فارسی ترجمہ کے ساتھ موجود ہیں ۔ یہ الگ الگ مترجم حضرات کے تراجم ہیں لیکن ترجمہ کرنے والوں نے اپنا نام درج نہیں کیا ۔ میر مختار اخیارؒ نے اس کا فارسی ترجمہ اور شرح لکھی اور اسے ’سراج الاسلام ‘ کے نام سے موسوم کیا ۔ سراج الاسلام مطبع اعجاز حیدری متھرا میں ۱۳۳۳ھ میں چھپی ۔
الفقہ الاحوط کے دومختلف فارسی تراجم اخوند سلطان علی بلغاری کے قلم سے قلمی مخطوطے کی شکل میں برات لائبریری خپلو میں محفوظ ہیں۔
علمائے نوربخشیہ کی تنظیم ندوۃ الاسلامیہ نوربخشیہ نے اگست ۱۹۷۳ء بمطابق رجب ۱۳۹۳ ھ میں اسے علامہ محمد بشیر براہ والے کے اردو ترجمے کے ساتھ شائع کیا جس میں مترجم نے ضمیمہ کے طور پر ذبح اور شکار کے احکام کا اضافہ کیا ہے ۔
علامہ صاحب موصوف کی ترجمہ کردہ الفقہ الاحوط مولانا محمد عبداﷲ کی نظرثانی کے ساتھ مرکزی انجمن صوفیہ نوربخشیہ پاکستان مرکز خپلو بلتستان کے زیر اہتمام ۱۹۸۹ء میں شائع ہوئی جس میں اردو ترجمے میں اہل ِنوربخشیہ کے ہاں مروج کلمات ِاذان کا اضافہ کیا گیا ہے جو متن کا حصہ نہیں ہے ۔ (24)
اسی کتاب کا تیسرا ایڈیشن بھی مدرسہ ٔشاہ ِہمدان سکردو کی انتظامیہ کے زیر ِاہتمام شائع ہو چکا ہے ۔

رسالہ ٔاعتقادیہ(عربی) (کتاب الاعتقادیہ یا اصولِ عقائد)

نوربخش ؒکی اول الذکر تصنیف کے برعکس اس مختصر رسالے کے میرؒ کی تصنیف ہونے پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے ۔ قاضی نوراﷲ شوستری نے مجالس المؤمنین میں ’رسالہ عقیدہ ‘ کا ذکر کیا ہے اور اسے میر سید محمد نوربخش ؒ سے منسوب قرار دیا ہے ۔ (25) نیز ’تحفۃالاحباب ‘ میں بھی الفقہ الاحوط کے ساتھ ’رسالہ عقائد ‘ اور’ اصول ِاعتقادیہ ‘ کا ذکر آیا ہے اور نوربخش ؒ کا اپنے فرزند فیض بخشؒ سے خطاب اعلم ایھا الولد الاعز من الروح والظفر الفتوح سلطان الاعدل و المقبل والاقبل ذونسب الطاھر النبوۃ والحسب من و عن نقل کیا ہے جو مروجہ نسخوں میں بھی بعینہ موجود ہے ۔ (26)
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ رسالہ معتقدات اور ایمانیات پر مبنی ہے ۔ میر سید محمد نوربخشؒ نے الفقہ الاحوط میں جو ’’ وثانیاً فی الاصول من بین الامم ‘‘ فرمایا ہے اس سے کتاب الاعتقادیہ کی تصنیف مرا د ہے ۔ کتاب الاعتقادیہ دراصل صوفیہ نوربخشیہ کے کلمہ بنائے ایمان یعنی آمنت باﷲ وملائکتہٖ و کتبہٖ ورسلہٖ والیوم الاٰخر کی مختصر تشریح ہے ۔ جس کا ماخذ ارشاد ِخداوندی وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاﷲِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضلٰلاً بَعِیْدً O ( النسائ۱۳۶) ہے ۔ اس مختصر رسالے کے مباحث میں اﷲ تعالیٰ پر اعتقاد کا مسئلہ ، ذات و صفات پر اعتقاد کا مسئلہ ، تقدیر پر اعتقاد کا مسئلہ ، نسبت خیر و شر پر اعتقاد کا مسئلہ ، اﷲ تعالیٰ کے قادر خود مختار اور موجب بالذات ہونے کا مسئلہ، رویت باری تعالیٰ کا مسئلہ ، فرشتوں پر اعتقاد کا مسئلہ ، انبیاء ؑ پر اعتقاد کا مسئلہ ، ختم ِنبوتؐ پر اعتقاد کا مسئلہ ، معراج النبی ؐ پر اعتقاد کا مسئلہ ، کتب ِ سماویہ پر اعتقاد کا مسئلہ ، کلام ِالٰہی کے قدیم اور حادث ہونے کا مسئلہ ،امامت پر اعتقاد کا مسئلہ ،اولیائے کرام پر اعتقاد کامسئلہ،قیامت پر اعتقاد کا مسئلہ ،قبر پر اعتقاد کا مسئلہ ، منکر ونکیر کے سوال ، پل ِصراط ، میزان، حساب ، جنت و دوزخ پر اعتقاد کا مسئلہ ، بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرنے پر اعتقاد کا مسئلہ ، اورجنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذاب پر اعتقاد کا مسئلہ شامل ہیں ۔
رسالہ ٔاعتقادیہ کے بہت سے دستیاب قلمی نسخوں میں سے بعض درج ذیل ہیں ۔

۔ مخطوطہ زیر نمبری۷۴۱۰/۲۴ کتابخانہ آیت اﷲ مرعشی قم( ۱۴۰ ب۔ ۱۴۵ا)
2-MS. 3702, Esad Efendi, Suleymaniye Kutuphanesi,Istanbul.(45b-49b)
نسخۂ غلام حسن برات لائبریری خپلو بلتستان
مخطوطہ زیر نمبری ۵۸۶/۳ کتابخانۂ جامع گوہر شاہ مشہد
قلمی نسخہ پروفیسر شیرانیؔ

چھابی نسخوں کی تفصیل یوں ہے ۔

متن عربی مع فارسی ترجمہ از سید قاسم شاہ کھرکوی مطبوعہ مولوی فیروز الدین ( فیروز سنز) چوہٹہ مفتی باقر لاہور۱۳۴۱ء تعداد صفحات ۹۶
متن عربی مع فرانسیسی ترجمہ (Marijan Mole, ” Professions de foi de deux Kubrawis: Ali-i Hamadani et Muhammad Nurbahs,” Bulletin d’etudes orientales 17(1961-62), 133-203.(Damascus Syria)
عربی متن مع اردو ترجمہ از علامہ محمد بشیر اپریل ۱۹۸۸ ء و جنوری۱۹۷۵ء نشرکردہ الندوۃ الاسلامیہ نوربخشیہ رجسٹرڈ پاکستان
عربی متن مع اردو ترجمہ از مولانا محمد علی شبیری( ابو عمار یاسر) ناشر انجمن صوفیہ نوربخشیہ کراچی

سلسلۃ الذھب ( عربی و فارسی)

میر سید محمد نوربخشؒ کی تیسری اہم ترین لیکن متنازعہ تصنیف ’ سلسلۃ الذھب‘ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب ’ سلسلۃ الذھب الصوفیہ ‘ کے مشائخ کے احوال و اقوال کے بارے میں ہے ۔
مولوی محمد شفیع نے اپنے مقالہ ’ فرقہ ٔ نوربخشی‘ میں نقل کیا ہے کہ اخبار الاولیاء ( طبع مطبع احمدی دہلی ۱۲۷۰ھ ) میں صفحہ ۳۰ پر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے اور ص ۳۲ پر شیخ بہاؤ الدین ذکریا ملتانی کے حالات میں کچھ عبارتیں درج ہوئی ہیں جن کے شروع میں لکھا ہے ’’ شیخ محمد نوربخش در سلسلۃالذھب ذکر او چنیں کردہ است ( یا در ذکر او نوشتہ است ) ان عبارتوں سے گمان گزرتا ہے کہ شیخ نوربخش سے شیخ شمس الدین محمد لاہیجی اسیریؒ مراد ہے کیونکہ اسی کتاب کے ص ۲۵۳ پر شیخ محمد نوربخش ؒ کو شارحِ گلشن راز بتا یا ہے لیکن قاضی نوراﷲ شوستری ( متوفی ۱۰۱۹ھ ) نے مجالس المؤمنین صفحہ نمبر ۳۰۹ پر شیخ علی لالا کے حالات میں ایک عبارت نقل کی ہے جس کے شروع میں ’’ قال غوث المتاخرین السید محمد النوربخش نوراﷲ مرقدہ و مشجرہ عند ذکر ذکر الشیخ الخ‘‘ مرقوم ہے ،جس سے خیال ظاہر ہوتا ہے کہ شاید سلسلۃ الذھب ہی سے یہ عبارت نقل ہوئی ہے ۔ پس تذکرہ ٔ اولیاء میں اس نام کی تصنیف ضرور تھی ۔ گویا یہ کہنا دشوار ہے کہ وہ سید محمد نوربخش کی تصنیف تھی یا شیخ شمس الدین محمد کی۔ (27)
ملاحسین واعظی ( متوفی۹۰۳ھ) کی تصنیف ’’ تفسیرِ حسینی ‘‘ میں بھی اس کتاب سے مندرجۂ ذیل ابیات نقل ہوئے ہیں۔
خواجہ را بین کہ از سحر تا شام
دارد اندیشۂ شراب و طعام
شکم از خوش دلی و خوش حالی
گاہ پر می کند گھی خالی
فارغ از خلد و ایمن از دوزخ
جای ار مزبلہ ست یا مطبخ(28)

نصّ قرآن شنو کہ حق فرمود
در مقامِ خطاب با داؤد
کہ ترا زن خلیفہ گی دادیم
سوی خلقِ جھان فرستادیم
تا دھی ملک را ز عدل اساس
حکم رانی بہ عدل بین الناس
ھر کہ دانی زِ عدل مستور است
از مقامِ خلیفہ گی دُور است
آنگہ گیر دستم زِ دیو سبق
عقل چون خواندش خلیفۂ حق(29)

روزِ آخر کہ مرگ دم خوار
کند از خوابِ غفلتش بیدار
یادش آید کہ در جوارِ خدای
سالھا زد بہ جرم و عصیان رای
ھر چہ در شصت سال یا ھفتاد
یک بہ یک پیشِ چشم او دارند
آشکارا بروی او آرند
بگزراند زِ گنبدِ والا
بانگ یا حسرتا و واویلا
حسرت از جان او بر آرد دود
وان زمان حسرتش ندارد سود(30)
یہ اشعار شاید ملاجامی کے ہیں کیونکہ یہ ملا جامی کی منظوم تصنیف ’ سلسلۃ الذھب ‘ میں موجود ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ نوربخشؒ سے منسوب مطبوعہ ’ سلسلۃ الذھب ملقب بہ مشجر الاولیاء ‘ کے صفحہ ۵ اور ۶ پربھی یہی اشعار مندرج ہیں ۔
غلام حسن حسنو کی تحقیق کے مطابق اس کتاب میں جو مشجرالاولیاء کے نام سے دو جلدوں میں لاہور سے اردو ترجمہ کے ساتھ چھپ چکی ہے کچھ عبارات میر سید محمد نوربخشؒ کی کتابوں مثلاً سلسلۃالاولیاء ، صحیفۃ الاولیاء ، انسان نامہ وغیرہ سے من و عن موجود ہیں تاہم بہت ساری باتیں الحاقی ہیں ۔ اس کا قلمی نسخہ بھی مفقود الخبر ہے ۔ (31)
شہزاد بشیر نے نوربخشؒ کی متنازعہ تصانیف کے ضمن میں ’’ شجرہ الوافیہ فی ذکر المشائخ الصوفیہ ‘‘ نامی کتاب کا ذکر کیا ہے او راس کے ایک نسخے کا پتہ دیا ہے جو زیر نمبری ۸۸۶۶ کتابخانۂ ٔ مجلس شورائے ملی تہران میں محفوظ ہے ۔ اسی مصنف نے خبر دی ہے کہ اس مخطوطہ کا متن محمد تقی دانش پزوہ نے سلسلۃ الاولیاء نوربخش قہستانی کے نام سے شائع کیا ہے ۔ بلتستان کے نوربخشی اس کتاب کو سید نوربخش ؒکی تصنیف نہیں مانتے ۔ (32)
تہران یونیورسٹی کے محقق پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین شاہ حسینی اپنے مقالے احوال و آثار سید محمد نوربخشؒ میں لکھتے ہیں ۔ ’’ و کتابِ شجرہ را در ذکرِ مشایخِ عرفان نوشت … از سید محمد نوربخشؒ یک مثنوی بنامِ صحیفۃ الاولیاء در کتابخانۂ ملک طھران مشھود افتاد۔ ‘‘ (33)
اس بیان سے بھی کتاب مشجر الاولیاء یا سلسلۃ الذھب کی سید نوربخشؒ کی تصنیف ہونے کا عندیہ ملتا ہے ۔
’’تحفۃالاحباب ‘‘ میں جو نوربخشی تاریخ کا قدیم ترین ماخذ ہے میر سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف ’’ سلسلۃالذھب ‘‘ کا ذکر ہے ۔ چنانچہ شیخ بہاؤالدین ؒ اور سلطان کبریٰ ؒ کا تعارف پیش کرتے ہوئے جو خواجہ اسحاق ختلانی ؒکے خلفاء ہیں اور کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں مصنف لکھتا ہے کہ ’’ شیخ بہاؤالدین کشمیر کے ’ پقس‘ اور شیخ سلطان ’ گبرکہ‘سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ دونوں مقام کشمیر کے نواح میں واقع ہیں ۔ اسی لئے حضرت امام ہمام علیہ السلام نے ہر دو کو’ سلسلۃالذھب ‘ میں کشمیری لکھا ہے ۔ ’ سلسلۃ الذھب ‘ کی تصنیف و تحریر کے دوران یہ دونوں بقید حیات تھے ۔ دونوں حضرات قطب آفاق( حضرت خواجہ اسحاق ؒ ) کے مریدوں میں سے تھے ۔ انہو ںنے آنحضرت ( خواجہ اسحاق ) کے سامنے سلوک کے طریقے اور عبادات اختیار کیں ۔ ………… حضرت امام ہمام علیہ السلام نے ’ سلسلۃ الذھب ‘ میں ہر دو کی تعریف لکھی ہے کہ :
’’ صاحب ِاطوارِ سبعہ قلبیہ و انوار ِمتنوعہ غیبیہ و از جملہ ارباب مکاشفات و حالات و اصحاب مراتب و مقامات بودند و مشغولند بارشاد سالکان و تربیت طالبان بہ بلاد ھندو ممالک ِکشمیر ‘‘
جس وقت حضرت امام ہمام علیہ السلام نے صحیفۃ الاولیاء تصنیف فرمائی اس وقت شیخ سلطان کبریٰ غالباً وفات پا گئے ہوں گے ۔ اسی لئے حضرت امام علیہ السلام نے شیخ سلطان کا صحیفۃ الاولیاء میں ذکر نہیں کیا ۔ حضرت شیخ بہاؤالدین بقید ِحیات تھے حضرت امام علیہ السلام نے صحیفۃ الاولیاء میں اس وقت زندہ رہنے والے اولیاء کی تعریف و توصیف تحریر فرمائی ہے ۔ ابتدا شیخ بہاؤالدین سے کی ہے ۔ ‘‘ (34)
اس اقتباس سے درج ذیل نتائج نکلتے ہیں ۔
’ سلسلۃ الذھب ‘ ’صحیفۃالاولیاء ‘سے پہلے لکھی گئی ہے اور جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس میں سلسلۃ الذھب کے بزرگوں کے احوال جمع کئے گئے ہوں گے ۔
صحیفۃ الاولیاء بعد کی تصنیف ہے جس میں میر سید محمد نوربخشؒ نے ان ساتھیوں کا منظوم ذکر خیر کیا جو اس کتاب کی تصنیف کے وقت بقید ِحیات تھے ۔
چونکہ صاحبِ تحفۃ الاحباب نے ’ سلسلۃ الذھب‘ اور ’ کشف الحقائق ٗ کا الگ الگ کتابوں کی حیثیت سے ذکر کیا ہے اس لئے یہ ایک ہی کتاب کے دو نام نہیں ہو سکتے ۔
سلسلۃ الذہب کے چھابی نسخے میں مذکورہ دونوں کشمیری بزرگوں کا ذکر خواجہ اسحاق ختلانی ؒ کے مریدوں کی ذیل میں ہوا ہے اور درج ِ ذیل اشعار بھی موجود ہیں ۔
در آباد برزش ز سید بدان
زِ خواجہ مرخص شدہ ھمچنان
دگر شیخ سلطان بہ کشمیر چنین
مرخص ز خواجہ بہ علمِ یقین
بھادین بہ کشمیر مردِ خداست
خداوند اطوارِ صدق و صفاست
گر اطوارِ دل را نہ دانی تو تام
بیا و بگویم تو بشنو تمام
لسانی و نفسی و قلبی شمر
چو سری و روحی خفی ای پسر
بہ غیب الغیوب است پایان آن
فنای حقیقی است از وی نشان(35)
’تحفۃ الاحباب ‘ سے بھی ملاجامی کی مذکورہ کتاب’سلسلۃ الذھب‘نامی کا سراغ ملتاہے ۔ (36) یہ کتاب ’ نفحات الانس ‘ کے ساتھ لاہور سے شائع ہو چکی ہے ۔
بہرحال ’ کتاب سلسلۃ الذھب ملقب بہ مشجرالاولیاء ‘کے نام سے ہمارے پیش نظر جو کتاب موجود ہے وہ فیاض پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپی ہے ۔ ناشر کا نام ’ شیخ ابوالباقر علی بن الحسین الگریزی‘ درج ہے ۔ اصل ناشر مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور ہے جن کی ایک شاخ گوجرانوالہ میں بھی ہے ۔ گوجرانوالہ میں ایک مسجد مدرسہ اور لائبریری ہے جہاں اس کتاب کے ناشر قیام پذیر رہے ۔ کتاب کا قلمی مسودہ کہاں ہے یہ بات تحقیق سے ثابت ہو سکتی ہے ۔ بلتستان کے بیشتر نوربخشیوں کا خیال یہ ہے کہ اس کتاب کا ترجمہ بلغار کے مولوی خلیل الرحمن نے کیا ہے ۔ مولوی خلیل الرحمن اس نوع کی دیگر کتابوں کی اشاعت کے بھی ذمہ دار ہیں اور خود اہل ِحدیث سے تعلق رکھتے تھے ۔ کتاب ’سالار عجم ‘ میں مولوی خلیل الرحمن نے نوربخشیہ کا سلسلہ ٔطریقت شائع کروایا ہے اور ساتھ سلسلہ ٔ ذہبیہ کا بھی شجرہ دیا ہے ۔ مولانا خلیل الرحمن نے سلسلہ ٔ ذھبیہ کو ایک حوالے سے اپنے استاد مولانا عبدالصمد بلتستانی ( متوفی ۱۳۵۶ھ) تک اور دوسرے حوالے سے اپنے مرشد بابا سلطان علی بلتستانی ( م ۱۳۳۹ھ) تک پہنچایا ہے ۔ اسی طرح سلسلۂ نوربخشیہ کو میر محمد اکبر اخیار ( متوفی ۱۳۲۰ھ) کے بعد اپنے والد اخوند محمد بلتستانی ( متوفی ۱۳۵۰ھ) تک پہنچایا ہے ۔ (37) اس اسلوب کو مدّنظر رکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مولوی خلیل الرحمن اپنے آپ کو سلسلہ ٔ ذہبیہ اور سلسلۂ نوربخشیہ دونوں کی وراثت کا حق دار سمجھتے تھے ۔ مولوی خلیل الرحمن کے تین بیٹوں کے نام باقر ، عبداﷲ اور اسحاق ہیں ۔ اس رعایت سے انہوں نے ’ سلسلۃ الذہب ‘ کے ناشر کے طور پر اپنی کنیت ’ ابوالباقر ‘ استعمال کی ہے جبکہ دیگر تصانیف میں ’ ابو اسحق ‘ بھی کنیت لکھی ہے ۔ (38)
محتاط انداز میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ مولوی خلیل الرحمن پیچیدہ شخصیت کے مالک تھے اور ان کی حیات اور افکار پر مزید ریسرچ کی ضرورت ہے ۔ بہرحال بلتستان کے اہل نوربخشیہ انہیں نوربخشی کتابوں میں ترمیم اور تحریف کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔ اور جب تک ان کی شائع کردہ کتابوں کے متعلق سائنٹفک ریسرچ کے ذریعے کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہو جاتی ان کتابوں کو مستند اور قابل اعتبار ماننا قبل از وقت ہوگا ۔ (39)
اپنے موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر کتاب’ سلسلۃالذھب‘ خصوصی ریسرچ کا مستحق ہے کیونکہ ’ فقہ الاحوط ‘ اور ’ کتاب الاعتقادیہ ‘ کے بعد یہ نوربخشی تعلیمات کا اہم ترین ماخذ ہے ۔
سلسلۃ الذھب کے مذکورہ چھابی نسخے کے مستند ہونے یا نہ ہونے کی بحث سے قطع نظر ہم ذیل میں اسی نسخے کا ہی مختصر تعارف پیش کریں گے ۔
یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ عربی میں ہے جس میں سید المرسلین و خاتم النبین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک سلسلۃ الذھب کے پیران ِطریقت و مرشدان ِحقیقت کے حالات بیان کئے ہیں ۔ حضرت امام علی رضاؑ سے سلسلہ ٔ طریقت کو شیخ معروف کرخیؒ کی طرف پھیر دیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ چونکہ حضرت اما م علی رضاؑ کی وفات کے وقت آپ کے فرزند حضرت ا مام محمد تقیؑ آٹھ سال کے چھوٹے بچے تھے اور وہ شریعت و طریقت کے احکام کے مکلف نہ تھے اس لئے خرقہ ٔخلافت آپ کی بجائے شیخ معروف کرخیؒ کو عطا ہوا ۔ ائمہ اثنا عشر میں سے باقی ماندہ چار ائمہ کرام کا ذکر افراد کی حیثیت سے کیا گیا ہے اور امام مہدی آخرالزمان ؑ کے ظہور کا بیان بھی کسی قدر تفصیل سے ہے ۔ (40) حصہ اول میں حضرت مولائے متقیان آدم الاولیاء علی علیہ السلام کے احوال کی ذیل میں خلافت کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے اس کی تین قسمیں ۱۔ خلافت علٰی منہاج النبوۃ ۲۔ خلافت باطنی اور ۳ ۔ خلافت باطنی بیان کی ہیں اور حضرت علی علیہ السلام کو ان سب کا جامع قرار دیا ہے ۔ (41)
کتاب کا دوسرا حصہ فارسی میں ہے جس میں شیخ معروف کرخی ؒ سے لے کر میر محمد نوربخش ؒ کے پیر خواجہ اسحاق ختلانی ؒ تک کے حالات لکھے ہیں ۔
ترجمہ سمیت دونوں حصوں کی تعداد ِصفحات ۷۸۶ہے ۔
نصیبِ اوّل کی ابتدا یوں ہوتی ہے ۔
الحمد ﷲ الذی ارسل النبی الامیّ محمّداً صلی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلم الیٰ عبادہٖ ھادیاً وّ بشیراً وّ نذیراً والصّلٰوۃ و السّلام علیٰ سیّدنا محمّدٍ وخاتم النّبیّن و المرسلین و رحمۃ لّلعالمین……الخ
نصیبِ ثانی کی ابتدا یوں ہوتی ہے ۔
الحمد ﷲ الذی خلق الانسان و علمہ البیان والصلوٰۃ و السلام علیٰ سیّدنا محمدٍ سید الانس والجان ……الخ
مقدمہ کتاب میں لکھا ہے ۔
ولما فرغت من کتابۃ فروع الشریعہ و اصولھا و ضبط قواعد الطریقۃ والحقیقۃ والمعرفۃ شرعت ان ابین احوال خاتم الانبےآء و المرسلین مختصراً و بعض احوال الائمۃ فی سلسلۃ الذھب و مشائح الطریقۃ الیٰ شیخنا خواجہ اسحاق ختلانی قدس اﷲ ارواحھم محتویاً فی نصیبین(42)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب فقہ الاحوط ، رسالہ اعتقادیہ اور دیگر کتب تصوف کی تصنیف کے بعد لکھی گئی ہے اور غالباً مصنفؒ کے آخری ایام کی یادگار ہے ۔
کتاب کے نصیبِ اوّل کی تمت میں لکھا ہے ۔
من کتاب سلسلۃ الذھب مشجر الاولےآء مع الضمیمۃ من احوال العارفین والحمدللہ رب العلمین لیلۃ السبت لثالث وعشرین من رمضان عام السادس عشر بعد انجانی اﷲ من ابتلاء العظیم ط محمد بن محمد عفا عنہ الاحد الشھیر بنوربخشؒ (43)
مندرجہ بالا بیان میں اگر ابتلائے عظیم سے نجات مرزا شاہ رخ کی موت ہے جو ۸۵۰ھ کا واقعہ ہے تو یہ کتاب اس کے سولہ سال بعد ۸۶۶ھ میں یعنی خود نوربخش ؒ کی وفات سے ڈھائی تین برس قبل مکمل ہوئی ہوگی ۔
مجموعی طور پر کتاب کا اسلوب اس بات کا غماز ہے کہ اتنی ضخیم اور اعلیٰ پائے کی عرفانی کتاب کُلّی طور پر جعلسازی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی البتہ ترمیم و اضافہ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔ بہر طور جب تک اہل ِتحقیق اس بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتے ہم بھی اپنی حتمی رائے محفوظ رکھتے ہیں ۔

انسان نامہ یا رسالہ فی علم الفراسۃ(فارسی )
یہ رسالہ علمِ فراست کے موضوع پر ہے ۔ دو ابواب پر مشتمل اس مختصر رسالے میں انسانی صورت و سیرت کا بہترین بیان ہے ۔ انسان کے اعضاء و جوارح کی مخصوص بناوٹ اس کی سیرت و کردار کے باطنی پہلوؤں کی غماز ہوتی ہے اور صاحب ِفراست کسی بھی انسان کو دیکھ کر رائے قائم کر سکتا ہے کہ وہ کن کن خوبیوں اور خامیوں کا حامل ہے ۔ اسے علم ِقیافہ شناسی بھی کہتے ہیں ۔ نوربخشؒ نے نجوم اور قیافہ شناسی کو حصول ِعلم کے اہم ذرائع میں شمار کیا ہے ۔ رسالے کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔
’’ حمد و سپاس و ثنای بی قیاس حضرت حکیم را کہ بموجب خمرت طینۃ آدم بیدی اربعین صباحاً ……الخ‘‘
آپ سے قبل امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ نے بھی اس علم کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ امیر کبیر ؒ کا بھی ایک رسالہ ’’فراستنامہ ‘‘ کے عنوان سے ہے جس کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔
بدان ………اسعدک اﷲ تعالیٰ فی الدارین کہ ایں رسالہ ایست مفید(44)
اس رسالے کے دستیاب قلمی اور چھابی نسخوں کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

MS. Persan 39, Bibliotheque Nationale, Paris, 82b-88a.
MS. Hyde 4, Bodleian Library, Oxford, 92a-124b.(copied 1044H)
3-MS.3264/4, Beyazit Devlet Kutuphanesi, Istanbul, 30a-31b(incomp
نسخہ ٔفارسی ۱۲ ، مدینہ سعودی عرب
نسخہ نمبر ۴۴۲ کتابخانۂ ملک تہران
نسخہ ٔسید عون علی مرحوم خپلو بلتستان
نسخۂ برات لائبریری خپلو بلتستان مملوکہ غلام حسن حسنو( دو عدد)
نسخۂ چھابی مع اردو ترجمہ از سید حسن شاہ شگری شائع شدہ از کراچی
سید حسن شاہ شیگری نے جو نسخہ ترجمہ کے ساتھ کراچی سے شائع کروایا ہے وہ تحریف کا شکار ہوا ہے ۔ (45)

رسالہ کشف الحقائق

یہ معارفِ طریقت پر مختصر مگر بہت جامع رسالہ ہے جس کے آخر میں میر سید محمدنوربخشؒ نے اپنا شجرہ ٔ طریقت بھی دیا ہے ۔ اس کے نسخے سلسلۃ الذھب اور سلسلۃالاولیاء کے غلط ناموں سے بھی مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ جبکہ بغیر کسی نام کے بھی نسخے پائے جاتے ہیں۔ یہ رسالہ خواجہ اسحاق ختلانیؒ کی زندگی میں لکھا گیا ہے ۔
محمد علی کشمیری نے اپنی کتاب ’ تحفۃ الاحباب ‘میں ’کشف الحقائق ‘ کو میر سید محمد نوربخش ؒسے منسوب کرتے ہوئے اس کتاب سے مندرجہ ذیل حوالہ نقل کیا ہے ۔
’’ این فساد افتاد در عالم کون وفساد کہ شیخی بابا و اجداد گرفتند و خوانق برسوم و عادات بنا کرد ‘‘(46)
یہ جملہ موجودہ شائع شدہ کتاب میں من و عن موجود ہے ، جس سے اس کتاب کا نام ’’ کشف الحقائق ‘‘ ہی ہونے کی حتمی تصدیق ہو جاتی ہے ۔
کشف الحقائق کے بعض نسخوں میں بطور مصنف شیخ محمد عبداﷲ حمووی اور محمد بن عبداﷲ الخواص کا نام بھی درج ہوا ہے چنانچہ ڈاکٹر سیدہ اشرف ظفر نے اپنی کتاب سید علی ہمدانی ؒ میں ملفوظات امیر کبیر ؒ کے ضمن میں رسالہ ’کشف الحقائق ‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ رسالہ محمد بن عبداﷲ الخواصی کی تصنیف ہے جو شاہ ہمدانؒ کے مرید ، خواجہ اسحاقؒ ختلانی کے شاگرد اور امیر سید محمد نوربخشؒ کا ہمدرس ہے ۔ (47) رسالہ کاآغا ز یوں ہوتا ہے ۔
الحمدﷲ الذی نور بانوار تجلیات ذاتہ و صفاتہ قلوب کمل انبیاء و اولیاء ……الخ
( موجودہ شائع شدہ نسخہ کے آغاز میں بھی یہی عبار ت موجود ہے ۔ ) جبکہ تمام مستند نسخوں میں مصنف کا نام محمد بن محمد عبداﷲ اللحصوی مندرج ہے ۔
اس کتاب کے قلمی و چھابی نسخوں کی تفصیل یہ ہے ۔

نسخہ نمبر ۳۴۹۷/۲ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران( نامکمل) ( صفحہ ۳۷ تا ۴۶)
نسخہ نمبر۹۷۰۲/۵ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ( صفحہ ۱۲۵ تا ۱۳۶)
نسخہ نمبر ۳۴۵۵/۳۰۷ کتابخانۂ مجلس شو رای ملی تہران ( صفحہ ۴۴۹ تا ۴۵۰)
نسخہ نمبر ۹۳۵/۹ کتابخانۂ آیت اﷲ مرعشی قم (۱۸۱ ب ۔ ۱۸۵)
نسخہ نمبر ۷۴۱۰/۲۰ کتابخانۂ آیت اﷲ مرعشی قم (۹۱ ب ۔ ۹۵ب )
نسخہ نمبر ۱۶۶۶ سنٹرل لائبریری تہران
نسخہ نمبر ۱۸۳۳ تاشقند یونیورسٹی
مخطوطہ برات لائبریری مملوکہ غلام حسن حسنو خپلو بلتستان
نسخۂ کتب خانہ سید علی چھوربٹ بلتستان
MS (233b-234b)British Museum Library London.
MS Persian 39,Bibliotheque Nationale- Paris.62a, 64b
نسخہ شائع شدہ در مجلہ’ دانش ‘ اسلام آباد شمارہ نمبر۱۳ بتصحیح و توضیح مولانا غلام حسن حسنو
کشف الحقائق اردو ترجمہ مع مقدمہ و تحقیق غلام حسن حسنو نشر کردہ الندوۃ الاسلامیہ صوفیہ نوربخشیہ پاکستان( اکتوبر ۱۹۸۸ئ)( تعداد صفحات ۲۵)

رسالہ معاش السالکین(فارسی)
یہ مختصر رسالہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سالکین کے طریق ِمعاش اور ان کے اکل و شرب کی حلّت و حرمت سے متعلق ہے ۔ اہل ِفقر و سلوک جو اپنی تمام تر توجہ اﷲ تعالیٰ کی طرف مبذول رکھے اور اپنے جملہ امور کو اس کی بارگاہ میں تفویض کرے اور حرام ِشرعی سے پرہیز کرے تو اﷲ تعالیٰ خود اس کے حلق و دہن کو لقمہ ٔحرام سے محفوظ رکھتا ہے ۔ حرام ِخدا کو حلال اور حلال ِخداکو حرام سمجھنا اہل ِریا کا شیوہ ہے ، حرام ِخدا کو حرام اور حلالِ الٰہی کو حلال اور شبہات کو شبہات جاننا علماء اور اولیاء کا طریقہ ہے ، سالکوں پر فرض ہے کہ وہ عوام کی باتوں میں نہ آئیں اور ماسواء اﷲ ہر چیز کو معدوم قرار دیں تاکہ ریا سے نجات حاصل ہو۔
برٹش میوزیم میں موجود مائیکرو فلم میں رسالے کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔
الحمد ﷲ علی نعماتہ و الصلوۃ علی محمد و آلہ و خلفائہ امابعد……
مولوی محمد شفیع نے غلط طور پر اسے اسیری لاہیجیؒ سے منسوب کیا ہے ۔(48)
دستیاب نسخوں کی تفصیل:

مخطوطہ نمبر ۷۴۱۰/۲۵ کتابخانۂ آیت اﷲ مرعشی قم ( ۱۴۵ ا۔۱۵۰ ا)
مخطوطہ نمبر ۴۰۵۷ کتابخانۂ ملک تہران( نامکمل)
MS. 3702, Esad Efendi, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul, 57b-61a.
MF (286a-290a) British Museum Library London.
نسخۂ برات لائبریری غلام حسن حسنو (؟ نسخۂ آستانۂ میر عارف خانقاہ ِنوربخشیہ تھگس فراہم کردہ سید علی کاظمی)
نسخہ چھابی مع اردو ترجمہ از غلام حسن( حسنو ) برقشانی ناشر ندوہ ٔاسلامیہ نوربخشیہ لاہور ۱۹۷۹ء

رسالہ مکارم الاخلاق( فارسی)

یہ اخلاقیات کے موضوع پر ایک مختصر سا رسالہ ہے ۔ اخلاق ِذمیمہ روحانی بیماری ہے ۔ مصنفؒ نے اس روحانی بیماری کا حکیمانہ اور عارفانہ علاج تجویز کیا ہے ۔
Teufel نے اسے غلط طور پر امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کی تصنیف قرار دیا ہے ۔ دیکھئے
(Lebensbeschreibung, 50-51(no.22))
ڈاکٹر سید ہ اشرف ظفر نے بھی امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ سے منسوب ایک رسالہ ’ رسالہ مکارمِ اخلاق ‘ کی نشاندہی کی ہے جو شاہ ہمدانؒ نے اپنے مرید خواجہ اسحاق ؒ کے لئے لکھا ہے ۔ اس رسالے کاآغاز یوں ہوتا ہے ۔
’’شکر و سپاس کہ حکیمی را کہ لطائف ملکوتی را بکشائف ملکی ممتزج گردانیدہ جہت تکمیل مراتب عرفان و توفی علوی را بد نیای سفلی ارسال فرمود ‘‘ یہ نسخہ برٹش میوزیم لائبریری لندن میں زیر نمبر ( ۲۲۸الف۔ ۲۳۰ب) ( ۴۰۳الف۔۴۰۵الف) محفوظ ہے ۔ جبکہ ’ مکارم الاخلاق‘ کے موجودہ چھابی نسخے کی ابتدا بھی انہی الفاظ سے ہوتی ہے جسے فاضل مترجم نے نوربخش ؒ کی تصنیف قرار دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اس میں شیخِ وقت ( خواجہ ) اسحق ( ختلانی ) پر سلام بھیجا گیا ہے جو نوربخشؒ کے شیخ اور ہمدانی ؒ کے مرید ہیں ۔
رسالہ مکارم الاخلاق میر سید محمد نوربخشؒ کے دستیاب نسخوں کی فہرست یہ ہے ۔

نسخہ نمبر۳۶۵۴/۷ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ ایران( ۲۷ا۔ ۲۸ ب
نسخۂ برات لائبریری خپلو بلتستان مملوکہ غلام حسن حسنو
MS. persan 39, Bibliotheque Nationale, Paris, 60b-60a.
MS. 3702 Esad Efendi, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul, 43a-45a
نسخہ صدقیان لو تہران۱۳۳۔۶ ( ؟ شائع شدہ مع تحقیق در احوال و آثار سید محمد نوربخش اویسی قہستانی)
نسخہ چھابی مع اردو ترجمہ از علی محمد ہادی شیگری ناشر تصوف ویلفیر سوسائٹی گلاب پور شیگر اپریل ۱۹۹۴ء صفحات ۳۱)

سلسلۃ الاولیاء(عربی)
یہ منثور عربی رسالہ ہے جس میں ان تمام اولیاء کرام کا مختصر تذکرہ ہے جو اس رسالے کی تصنیف کے وقت فوت ہو چکے تھے ۔ غلام حسن حسنو کے بیان کے مطابق ’روضات الجنان‘ کی تصحیح و تحشیہ کے وقت آقای سلطان القرائی نے اس سے بڑا کام لیا ہے ۔ یہ کتاب تہران سے چھپ چکی ہے ۔ اور اس کا مخطوطہ تہران یونیورسٹی میں محفوظ ہے ۔ (49)
شہزاد بشیر سلسلۃ الاولیاء کو کشف الحقائق کا دوسرا نام قراد دیتا ہے (50)
شہزاد بشیر اس کتاب کو شجرہ الوافیہ فی ذکر المشائخ الصوفیہ کا نام بھی دیتا ہے اور انہیں اس کتاب کے نوربخشؒ کی تصنیف ہونے میں تامّل ہے کیونکہ کتاب کے صفحہ ۵۸ پر سید یحییٰ باکووی متوفی ۸۶۹ ھ کا ذکر ہے جو اس وقت فوت ہو چکے تھے جبکہ ۸۶۹ھ نوربخش ؒ کا سالِ وفات بھی ہے ۔ (51)
اور خود غلام حسن نے بھی اس بات کا تذکرہ کیا ہے ۔ غلام حسن ہی کی تحقیق کے مطابق کتاب سلسلۃ الذھب ملقب بہ مشجرالاولیاء میں کچھ عبارتیں سلسلۃ الاولیاء سے من و عن نقل ہوئی ہیں ۔ (52)
شہزاد بشیر کی دوسری تحقیق کے مطابق یہ کتاب جس کا نام ’’ شجرہ الوافیہ فی ذکر مشائخ الصوفیہ ‘‘ ہے کتابخانۂ مجلس شورای ملی تہران میں زیر نمبر ۸۸۶۶ محفوظ ہے ۔ جبکہ محمد تقی دانش پژوہ نے اس نسخے کا متن ’’ سلسلۃ الاولیاء نوربخش قہستانیؒ ‘‘ میں شائع کیا ہے ۔
مندرجہ بالا بیانات کی روشنی میں یہ بات تشنۂ تحقیق رہ جاتی ہے کہ آیا ’’ سلسلۃ الاولیاء ‘‘ ’’ سلسلۃ الذھب ‘‘ ہی کا خلاصہ ہے یا کوئی مستقل تصنیف ؟ کتاب ’’ سلسلۃ الذھب‘‘ کی طرح اس کتاب کے بارے میں بھی اہل ِتحقیق کو مزید سائنٹفک ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے ۔
رسالہ نوریہ یا کتاب نورالحق( فارسی)

یہ اہم کتاب اخلاق ِحمیدہ ، رویائے صادقہ ، اور کشف و عیان سے متعلق ہے ۔ یہ رسالہ سب سے پہلے سبع المثانی کے حاشیے پر ایران سے شائع ہوا پھر ۱۳۵۱ میں احوا ل و آثار نوربخش کے ساتھ دوسری بارایران سے شائع ہوا ۔ برصغیر میں یہ کتاب اب تک شائع نہیں ہو سکی ہے ۔
سیدہ اشرف ظفر نے بھی ایران سے شائع شدہ اول الذکر نسخے کا ذکر کیا ہے اور اسے شاہ سید نوربخش ؒکی تصنیف بتایا ہے ۔ (53) اس رسالے کے دیگر نسخوں کی تفصیل یہ ہے۔

نسخہ ٔ سید شریف الدین میر واعظ غورسے
نسخۂ برات لائبریری بلتستان مملوکہ غلام حسن حسنو
نسخۂ جعفر صدقیان لو(۸۲ ۔۱۴۷)
نسخہ نمبر ۴۱۹۰ کتابخانۂ ملک تہران (۸۴ب۔۱۰۹الف)( نامکمل)
نسخہ نمبر۱۹۹۷ کتابخانۂ مرکزی دانش گاہ تہران ایران ۹۶ ب۔ ۱۱۸ب
نسخہ نمبر ۳۲۵۸؍۵ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ایران
نسخہ نمبر۳۶۵۴/۱۵ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ایران۳۴ ب۔۴۵ب
نسخہ نمبر ۶۶/۲ کتابخانۂ مجلس شورای ملی تہران ایران
نسخہ نمبر۹۳۵/ ۸ کتابخانۂ آیت اﷲ مرعشی قم ایران۱۵۵ب۔ ۱۸۱ا
نسخہ نمبر ۵/۶ خانقاہ ِاحمدیہ شیراز ایران
MS. 3702, Esad Efendi, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul Turkey 69b-85a
MS. 1368, Sehit Ali Pasa, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul Turkey 61b-74b
MS. 1505 Sehit Ali Pasa, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul Turkey 138b-159b

رسالہ ٔمعراجیہ ( فارسی)
اس رسالے میں معراج النبی ؐ کی صوفیانہ تعبیر کا بیان ہے ۔ ضمنی طور پر اولیاء اﷲ کی سیر ِمعنوی کا بھی ذکر ہے ۔ یہ کتاب بھی ایران سے احوال و آثار سید محمد نوربخشؒ کے ساتھ چھپ چکی ہے ۔ قلمی نسخوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
نسخہ ٔسید علی انور چھوار چھوربٹ بلتستان
نسخۂ صدقیان لو ایران۱۱۳۔ ۳۱
نسخہ نمبر ۳۴۹۷/۳ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ایران صفحہ ۴۷ تا ۶۶
نسخہ نمبر ۳۶۶۰/۱۳ کتابخانۂ مجلس شورای ملی تہران ایران صفحہ ۱۶۶ تا ۱۷۶
نسخہ نمبر ۵۴۷ کتابخانۂ ملک تہران ایران صفحہ ۴۸۲ تا ۴۹۷
نسخہ نمبر ۹۳۵/۱۱ کتابخانۂ آیت اﷲ مرعشی قم ایران ۱۸۷ ب ۔ ۱۹۸ ا
نسخہ نمبر ۱۵۱۵ مکتبۃ امیر المؤمنین نجف عراق
MS. 3702, Esad Efendi, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul,Turkey 61a-68b

رسالۃ الھدیٰ ( عربی)
شہزاد بشیر کے مطابق اس نودریافت رسالے کے دو نسخے ( Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul (Esad Efendi 3702 and Fatih 5367) محفوظ ہیں ۔ ان میں سے ایک نسخے کا سالِ تصنیف ۱۰۰۳ء ہے اور ابراہیم بن محمد بن علی السواسی نے قسطنطنیہ میں کتابت کی ہے اور ۷۶ صفحات پر مشتمل ہے ۔ابتدا یوں ہوتی ہے۔
الحمدﷲ الذی جعل قلوب اولےآء خزانۃ حقایق الاشےآئ……
یہ رسالہ واقعی میر سید محمد نوربخشؒ کی ہے یا کسی اورنے لکھ کر ان سے منسوب کیا ہے ؟ یہ بات تحقیق طلب ہے کیونکہ کسی نسخے کا محض قلمی ہونا یا قدیم ہونا اس کے مستند ہونے کا قطعی ثبوت نہیں ہے ۔ لیکن حامد الگار نے بھی اپنے مضمون ’ نوربخشیہ ‘ میں اس رسالے کا پتہ دیا ہے ۔ (54) نیز مولانا غلام حسن حسنو کے ذاتی کتابخانے برات لائبریری میں بھی ایک قدیم فارسی مخطوطہ ’ کتاب المہدویہ ‘ کے نام سے محفوظ ہے جو بظاہر ’ رسالۃ الہدیٰ ‘ کا فارسی ترجمہ معلوم ہوتاہے ۔
رسالۃ الھدیٰ کو بنیاد بنا کر شہزاد بشیر نے میر سید محمد نوربخش ؒ کے دعویٰ مہدویت پر طویل بحث کی ہے ۔ جب کہ شہزاد بشیر کے اپنے بقول :
۱۔ نوربخش کا مخالف عبدالوسیع نظامی باخرزی( متوفی ۹۰۳ھ) لکھتا ہے کہ میر محمد نوربخشؒ نے سر منبر فرمایا کہ ’’ ہمارے دعویٰ ٔمہدویت کی بنیاد تعبیر ِرویا پر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مراتب ِعالیہ اور مراتب ِسنیہ کی راہ پر ہدایت دینے والے رہبر ہیں ۔ ہدایت اور حمایت تو خدابزرگ و برتر کی طرف سے ہے ۔ ‘‘ (55)
۲۔دورِجدید کا ایرانی محقق جعفر صدقیان لو نے تفصیلی دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ میر سید محمد نوربخش ؒ پر دعویٰ ٔمہدویت کا غلط الزام لگایا گیا ہے ۔ (56)
۳۔ نوربخشؒ کے خاندان سے باہر مصنفین نے کہیں بھی نوربخش کے دعویٰ مہدویت کا ذکر نہیں کیا ۔
۴۔ اسیری لاہیجی ؒ نے اپنی تمام تصانیف میں نوربخش ؒ کا ذکر کیا ہے مگر میرؒ نے جو حالت ِسکر میں باتیں ارشاد فرمائی ہیں ان کو منصور حلاج ؒ اور شبلیؒ جیسے گزشتہ صوفیاء کے ارشادات کے مماثل قرار دیا ہے ۔ (57)
۵۔ بلتستان کے نوربخشی جو میر سید محمد نوربخشؒ کی تعلیمات کے اصل وارث ہیں نوربخشؒ کے دعویٰ مہدویت سے قطعی لاعلم اور لاتعلق ہیں اور انہیں ایک دینی مصلح کے طور پر جانتے ہیں ۔ (58)
اسی طرح ’مجالس المؤمنین ‘میں لکھا ہے کہ اگر سید نوربخش ؒ کا کوئی مرید ان کی مجلس میں اس دعویٰ کا ذکر کرتا تو شاہ قاسم فیض بخشؒ ان کی موجودگی میں توبیخ فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ تم میر کو بدنام کرتے ہو ۔ (59)
محمد رضا اخونزادہ نے ’ تحفۃ الاحباب ‘ کے حاشیے میں اس مسئلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے ۔
’’لفظ مھدی ھدیٰ سے مشتق ہے جس کے معنی ہدایت ، راہ ، اور راستہ کے ہیں ۔ اس کا فاعل ھادی ہے اور مفعول مھدی ہے جس کا معنی ہے ھدایت یافتہ ۔ لفظ موعود دو جداگانہ افعال کا مفعول ہے جو عاد یعود اور وعد یعد دونوں سے وجود میں آتا ہے ۔ ان دونوں افعال کا مفعول موعود دو معنی دیتا ہے یعنی ۱۔ جو لوٹایا جائے ۲۔ وعدہ کردہ ۔ راقم کے نزدیک سید نوربخش کے ضمن میں ثانی الذکر مفہوم بنتا ہے یعنی وعدہ کردہ ہدایت یافتہ جس کا استدلال قرآن مجید کی درج ذیل آیات میں ملتا ہے ۔
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ( عنکبوت ۶۹)
’’جو ہماری راہ میں جہاد ( جہاد اکبر) کرے ان کو ہم ضرور راہ دکھا دیں گے ۔ ‘‘
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْالصّٰلِحٰتِ یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ ( یونس۹)
’’تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں ہدایت دے گا ۔ ‘‘
وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاﷲِ فَقَدْ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ O (آل عمران۱۰۱)
’’جس نے اﷲ کو تھا م لیا اسے سیدھا راستہ مل جائے گا ۔ ‘‘
وَاِنَ اﷲَ لَھَادِ الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمِ O ( الحج ۵۴)
’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اﷲ ان کو سیدھے راستے کی طر ف ہدایت کرنے والا ہے ۔ ‘‘
مندرجہ بالا آیات میں لفظ لنھدیھم ، یھدیھم، ھدیٰ اور ھاد ایسے الفاظ ہیں جو زمانہ ٔحال اور مضارع کے لئے استعمال ہوتے ہیں جو اس بات کی غماّزی کرتا ہے کہ جو شخص صحیح معنو ںمیں ایمان لایا اور نیک عمل کئے اﷲ تعالیٰ ان کو اپنی راہ دکھائے گا اور انہیں ہدایت یافتہ یا مہدی بنائے گا ۔ میر سید محمد نوربخشؒ اپنے زمانے کے ایسے ہی ہدایت یافتہ شخص تھے ۔ ………میر سید محمد نوربخشؒ اپنی شہرہ ٔ آفاق تصنیف ’اصولِ اعتقادیہ ‘ کے باب ِولایت میں لکھتے ہیں ۔
’’ حضرت محمد ؐ کی امت میں ان اولیائے کرام کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے ۔ دنیا ان کے فیوض و برکات سے ایک لمحہ کے لئے بھی خالی نہیں رہ سکتی جیسا کہ حضور ؐ کا ارشاد ہے لو لالابرار لھلک الفجار یعنی اگر نیک لوگ نہ ہوتے تو بدکار لوگ تباہ و برباد ہو جاتے ۔ آدم الاولیاء حضرت علی ؑ ہیں اور خاتم الاولیاء حضرت امام مھدی ؑ ہیں ۔ اگر مھدویت کا دعویٰ کرنا ہوتا تو یہاں ان کے لئے بہترین موقع موجود تھا کہ وہ اپنے آپ کو مہدی ظاہر کرتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔
غزلیات میں آپ فرماتے ہیں ۔
فرزندِ عزیزِ مصطفائیم
ھادی طریقِ مرتضائیم
مائیم چو خاتم الولایۃ
ھم مھدی و ھادی و ھادیۃ(60)
یعنی ہم محمد مصطفیؐ کے پیارے بیٹے ، علی مرتضی ؑ کے طریقہ کی ہدایت کرنے والے ہیں ہم خاتم الولایۃ مھدی کی طرح مھدی ( ہدایت یافتہ ) اور دوسروں کو ہدایت دینے والے ہیں ۔
یہاں یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے خاتم الولایت امام مھدی ؑ کی طرح ہدایت یافتہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ خود امام مھدی ؑ ہونے کا ۔ ط
سید علی ہمدانی ؒ نے اپنی کتاب اوراد ِامیریہ میں مندرج ’ دعائے صبحیہ ‘ میں عام مسلمانوں کو اس طرح دعا کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ط
اللھم اجعلنا ھادین و مھدیین غیر ضالین و لا مضلین
’’اے اﷲ ہمیں ھادی و مھدی بنا دے نہ کہ ضال و مضل ۔ ‘‘
حضرت علی ؑ سے روایت ہے کہ حضور ؐ تشہد اور سلام کے درمیان دعا فرماتے تھے ۔
الھم اغفرلی…… والمھدی من ھدیت
(61)
’’اے اﷲ میرے گناہوں کو بخش دے ……مہدی وہ ہے جسے تو نے ہدایت دی ۔ ‘‘
جہاں تک شیخ اسیری ؔ کی جانب سے سید محمد نوربخشؒ کو مہدی ٔدوران کہنے کا تعلق ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنے وقت کے قطب ِدوران اور مرجع ِخلائق تھے جس کی وجہ سے عقیدت مندوں نے انہیں مہدی ٔدوران یعنی وقت کا ہدایت یافتہ کہہ دیا ۔ اس قسم کے القابات عام لوگوں کے لئے بھی بکثرت استعمال ہوتے ہیں مثلاًحکمرانوں کے لئے ظل ّ ِالٰہی ، ظل ّ ِسبحانی ، امیر المؤمنین وغیرہ اور دینی رہنماؤ ں کے لئے قطب ِعالم ، ، شیخ العالم ، قدوۃ الاولیاء ، حجت الاسلام ، آیت اﷲ وغیرہ ۔
سید نوربخشؒ تو عالمِ عشق و مستی میں اپنے پیشرو صوفیاء شبلی ؒ ، بایزید بسطامی ؒ اور حلاج ؒ کی طرح اپنی کتاب ’واردات ‘ میں اس طرح کے نعرے بھی لگاتے نظر آتے ہیں ۔
مائیم خلیلِؑ وقت و موسیٰؑ
داؤدؑ و محمدؐیم و عیسیٰؑ
خضریمؑ و حیاتِ جاودانی
اسکندر و آبِ زندگانی
ان اشعار پر نظر ڈالنے کے بعد سید محمد نوربخشؒ نے اپنے آپ کو جن ہستیوں سے منسوب کیا ہے اس پر ہم کون سی رائے قائم کریں گے ؟
اسلاف کی کتابوں میں اس قسم کے واقعات بکثرت ملتے ہیں مثلاً تذکرۃالاولیاء ( ص ۱۰۶) میں شیخ فرید الدین عطارؒ نے نقل کیا ہے کہ کسی نے بایزید بسطامیؒ سے عرش کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ عرش تو خود میں ہوں۔ پھر کرسی کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ کرسی بھی میں خود ہوں ۔ پھر قلم کے متعلق بھی یہی فرمایا ۔ اس کے بعد اس ساتھی نے کہا کہ اﷲ کے تو اور بھی مقرب بندے ہیں مثلاً حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمد ؐ ۔ اس پر آپ نے یہی فرمایا کہ وہ بھی میں ہی ہوں پھر وہ خاموش ہواتو آپ نے فرمایا کہ حق میں فنائیت کے بعد تمام چیزوں کو اپنی ہستی میں ضم پاتا ہوں کہ سب چیزیں حق میں موجود ہیں ۔
ابوالعرفان علامہ محمد بشیر میر سید محمد نوربخشؒ پر عائد کیے جانے والے دعویٰ مہدویت کے الزام کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
’’ شاہ سیدؒ نے کبھی مہدیٔ موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ آپ دنیائے تصوف ِ حقیقی اور عالمِ روحانیت کے اس اعلیٰ مقام پر فائز ہو گئے جو مقامِ مہدویت کہلاتا ہے ۔ اس سے مراد امام محمد مہدی صاحب العصر و الزمان ؑ بالکل نہیں ہے ۔ آپ کی تصانیف اس لغو الزام کی کھلے طور پر تردید کرتی ہیں ۔ اس کے برخلاف تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کے ذریعہ مجتہدین ِ شریعت ، مجاہدینِ طریقت اور عارفینِ حقیقت کے مراحل طے کرتے ہوئے مقامِ مہدی تک رسائی پانے کے لئے دعا کرنے کی تعلیم خود سرورِ کائنات نے امّت کو دی ہے ۔ چنانچہ دعائے صبحیہ میں موجود ہے ۔ اللھم اجعلنا ھادین و مھدیین غیر الضالین و لا مضلین (62)
ڈاکٹر صابر آفاقی لکھتے ہیں ۔
’’ سید محمد نوربخشؒ سے بہت سی باتیں منسوب کی جاتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے مہدویت کا دعویٰ کیا تھا ۔ حالانکہ ایسا دعویٰ نہ کسی تاریخ سے ثابت ہے اور نہ ہی نوربخشیہ فرقے کا کوئی ماننے والا ایسا اعتقاد رکھتا ہے ۔ ‘‘ (63)
ڈاکٹر سید اسد اﷲ مصطفوی کا خیال ہے کہ سید محمد نوربخش ؒ کے دشمنوں نے ان کے مکتوبات میں تصرف کیا اور ان پر کفر کا فتویٰ لگوا دیا ۔ (64)
مشتاق علی اس ضمن میں لکھتے ہیں ۔
’’ حاضرین ھر کدام بہ مقتضی شغل خود مطلبی را …… و نامہ ای تحریف شدہ درست کردند و بر سر منابر خواندند ‘‘
اس بیان کے مطابق نوربخش ؒ کے مکتوب بنام ِ مرزا شاہ رخ میں اصل جملہ یوں تھا واﷲ العظیم من کہ محمد نوربخشم نائب ِ امام ِ آخرالزمان مھدی موعودم لیکن بدخواہوں نے اصل خط میں تحریف کی اور لفظ ’’ نائب ‘‘ کو مندرجہ بالا جملے سے حذف کر دیا ۔ ( ۳)
تاہم پروفیسر حامد الگار خیال ظاہر کرتے ہیں کہ نوربخشؒ امام مہدی بن حسن العسکری ؑ کی غیبت کے قائل نہ تھے بلکہ سمجھتے تھے کہ ان کے کمالات خود ان کے اندر بارز ہوئے ہیں چنانچہ وہ خود کو مظہرِ موعود اور مظہرِ جامع سمجھتے تھے ۔ (65)
شرحِ گلشنِ راز میں نوربخش ؒ کے عزیز ترین شاگرد اور خلیفہ شیخ اسیری لاہیجی ؒ نے امام محمد مہدی آخر الزمان ؑ کے بارے میں درج ِ ذیل حدیث ِ نبوی ؐ نقل فرمائی ہے ۔
لو لم یبق من الدنیا الا یوم یطول اﷲ ذالک الیوم حتی یبعث فیہ رجلاً منی او من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی و اسم ابیہ اسم ابی یملأ الارض قسطاً و عدلاً کما ملئت جوراً و ظلماً
جس کی رو سے امام محمد مہدی آخر الزمان کے والد ِ گرامی کا اسم ِ مبارک عبداﷲ ہوگا ۔ واضح رہے کہ امام محمد مہدی علیہ السلام جو مسلمانوں کے ایک مکتبِ فکر کے عقیدے کے مطابق غیبتِ کبریٰ میں ہیں ان کے پدرِ بزرگوار کا نام حضرت امام حسن العسکری ؑ ہے ، جبکہ میر سید محمد نوربخشؒ کے والد کا نام محمد ہے اور لاہیجی ؒ نے ان کے مہدیٔ موعود ہونے کا کہیں ذکر نہیں فرمایا ۔ البتہ ’ اسرار الشہود ‘ میں آپ کو مہدیٔ دوران کے الفاظ سے یاد کیا ہے جو ان کے شایان ِ شان ہے ۔
ازروئے عقیدۂ بروز نوربخش ؒ مظہرِ خاتم الولایہ ہو سکتے ہیں مگر زمانی طور پر خود خاتم الولایت نہیں تھے کیونکہ یہ حیثیت مہدی ٔ آخر الزمان کو حاصل ہے جن کے آخری زمانہ میں آمد کی مکمل تفصیل خود میر سید محمد نوربخشؒ نے اپنی تصنیف ’ سلسلۃ الذہب ‘ میں لکھی ہے جس کے مطابق مہدیٔ آخرالزمان قیامت کے نزدیک مدینہ میں پیدا ہو ں گے ۔ (67)
موضوع ِ مذکور پر علمی بحث آنے والے وقتوں میں جاری رہے گی ۔ میر سید محمد نوربخش قہستانی ؒ کی طرح سید محمد جونپوری ؒ سے بھی دعویٰ مہدویت منسوب کیا گیا ہے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے اس ضمن میں نہایت پرمغز بات لکھی ہے جو نوربخشؒ کے دعویٰ پر بھی یکسان طورپر صادق آتی ہے۔ آپ لکھتے ہیں ۔
’’ ان تمام باتوں کو غلبۂ سکرو احوال یا فریبِ سوانح و مشاہدات کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جو اس راہ کے بڑے بڑے کاملین و واصلین کو پیش آئے ہیں اور بہتوں کا معاملہ دعاوی و شطحیات تک پہنچ گیا ہے ۔ و کلام السکاریٰ و یصرف عن الظاھر کسی نے اس عالم میں کہا لوانی ارفع من لواء محمد ؐ اور سبحانی سبحانی ما اعظم شانی اور کوئی پکار اٹھا لیس فی جبتی الا اﷲ اور کوئی بول اٹھا بطشی اشد من بطش اﷲ یہ بھی کہا گیا جتنا بحر وقف الانبیاء علٰی ساحلہ اور یہ بھی مشہور و معروف ہے کہ قدمی
ھٰذہ علٰی رقبۃ کل ولی اﷲ
نہ من تنہا درین می خانہ مستم
جنید و شبلی و عطار ھم مست
جب ان تمام اقوال کو لوگ سنتے ہیں تو یا ان کو مصروف عن الظاھر قرار دے کر تاویل کرتے ہیں یا ’’ اوھام و خیالات تربی اطفاال الطریقۃ ‘‘ کہہ کر چشم پوشی کر جاتے ہیں اور یا پھر حوالۂ مغلوبیت ِ سکرو حال کر کے خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ صاحبانِ اقوال کے دیگر اقوال و اعمالِ صالحہ اور وصول و حصولِ مراتب ِ عرفان و حقیقت کے شواہد ان کے سامنے ہیں تو پھر حضرت سید محمد جونپوری نے کیا قصور کیا ہے کہ باوجود کمال و زہدو ورع و اتباع ِ شریعت و قیام امر بالمعروف و نہی عن المنکر و ایثار فی اﷲ و للّٰلہ کے جس سے کسی مخالف و موافق کو انکار نہیں ان کو حسنِ ظنِ اسلامی کا مستحق نہ سمجھا جائے اور چند کلماتِ غریبہ کی بنا پر جن کی اصلیت نہیں معلوم کیا ہے لست مؤمنا پر اتر آئیں ؟ (68
آگے چل کر لکھتے ہیں :
’’ مصلحین ِ امت کو ہمیشہ کیسے کیسے علماء ِ مکرو حیل اور قضاتِ خون آشام سے سابقہ پڑا ہے اور حکومت کو مخالف کرنے کے لئے کیسے کیسے بے تیاہ حیلوں اور فریبوں سے ان کے خلاف کام لیا گیا ہے ۔ کسی خاص شخص کے مہدی ہونے یا نہ ہونے کے اعتقاد کو اسلام کے عقائد سے کیا علاقہ ؟ نہ یہ بناء فسق و تقویٰ ہے نہ معیارِ ایمان و کفر ۔ اگر ایک شخص نے کسی داعیٔ شریعت و امر بالمعروف نہی عن المنکر کو مہدی مان لیا تو اس سے اس کے اسلامی عقائد میں کون سا فتور آ گیا ؟ زیادہ سے زیادہ یہ کہ انطباق ِ علائم و آثار میں اس نے اجتہادی غلطی کی ۔ اصل شے جو مطلوب ِ شارع ہے وہ تو صرف ایمان باﷲ و بما جاء من عند اﷲ ہے اور دیکھنا صرف یہ ہے کہ وہ متقین میں سے ہے یا نہیں ؟ متقین کی تعریف قرآن نے اپنی پہلی سورت میں ہی بتلا دی۔
اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلَوٰۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنَٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ O وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَٓا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَ بِالْآخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَO (البقرۃ ۳،۴) پس جو شخص ان چیزوں کا ایمان و عمل رکھتا ہے وہ اُولٰئِک َعَلَیٰ ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ اُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَO (البقرۃ ۵) میں داخل ہے خواہ وہ کسی کو مہدی تسلیم کرے یا دجّال ۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدِاﷲِ اَتْقَاکُمْ (الحجرات ۱۳) البتہ یہ ضرور دیکھا جائے گا کہ وہ جس شخص کو مہدی تسلیم کرتا ہے وہ متقی ہے یا مبتدع ؟ اگر اس کی بدعات و محدثات یا اعمالِ غیر صالحہ ثابت ہوں گے اور یہ بھی ان کا مصدق و پیرو ہو گا تو بلا شبہ اس پر وہ حکم دیا جائے گا جس کا وہ شرعاً مستحق ہو گا لیکن نہ بر بناء اعتقادِ مہدویت بلکہ بسبب عقائد و اعمالِ منکرہ اور اگر ایسا نہیں ہے تو ایک جزئی مسئلہ میں اس کو غلطی پر سمجھ سکتے ہیں تخطیہ کر سکتے ہیں لیکن نہ تو برا کہہ سکتے ہیں اور نہ اس کے اسلا م و ایمان پر شک کر سکتے ہیں۔ (69)
رسالۂ عرفانی (فارسی )
اس کا مندرجہ ذیل نسخہ دستیاب ہے ۔
۱۔ نسخہ نمبر ۱۵۹ کتابخانۂ اصغر مہدوی تہران ایران

واپس اوپر جائیں

ب۔ یک موضوعی مختصر رسائل

 

رسالہ ٔ اقسام ِدل( فارسی)

یہ تین صفحات پر مشتمل مختصر رسالہ ہے جس میں دل اور اس کے حصوں کی نقشہ بنا کر توضیح کی گئی ہے ۔ یہ رسالہ تاحال اشاعت پذیر نہیں ہو سکا ہے ۔ اس کا واحد قلمی نسخہ کتابخانۂ مرعشیہ قم میں زیر نمبر ۹۳۵/۱۰ ( ۱۸۶الف ۔ ۱۸۷الف) محفوظ ہے ۔
رسالہ ٔبیان ِعوالم الحس(عربی)

اس کے مندرجہ ذیل نسخے دستیاب ہیں ۔

نسخہ ٔصدقیان لو ایران ۱۸۸۔۱۸۹
نسخہ زیر نمبری ۴۰۵۷/۱۵۵ کتابخانۂ ملک تہران ایران۲۹۳ ا

رسالہ دربیان آیۂ از کلام اﷲ( آیت فمن کان) (فارسی)

یہ قرآن حکیم کے سورہ الکہف کی آیت ۱۱۰ من کان یرجوا لقاء ربہ الخ کی عارفانہ تشریح و توضیح پر مشتمل ایک مختصر تفسیر ہے جو ایک ورق پر مشتمل ہے ۔ اس کے دو قلمی نسخے دستیاب ہیں :

نسخہ نمبر ۳۶۵۴ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ ایران تہران ۳۰ ا۔ب
نسخہ نمبر ۴۱۹۰ کتابخانۂ ملک تہران ۷۴ ا۔ب

صدقیان لو کا نسخہ’ احوال و آثار نوربخشؒ‘ کے ساتھ ۱۳۵۱ شمسی میں تہران سے چھپ چکا ہے ۔
رسالہ ٔ تلویحِ حدیث ِنبوی ؐیا شرحِ حدیث ِعمہ (فارسی)

یہ ایک صفحہ پر مشتمل ایک حدیث رسول ؐ کی عارفانہ تشریح ہے ۔ اس حدیث میں رسول اﷲ ؐ سے سوال کیا گیا تھا کہ خلق کی تخلیق سے قبل اﷲ کہاں تھا ؟ اس کے جواب میں رسول اﷲ ؐ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تشریح کئی لوگوں نے کی ہے جن میں سے ایک میر نوربخشؒ بھی ہیں ۔ یہ رسالہ بھی ’ احوال و آثار نوربخشؒ ‘ کے ساتھ تہران سے شائع ہو چکا ہے ۔ قلمی نسخے یہ ہیں ۔

نسخہ ٔ صدقیان لو ۱۴۴۔ ۱۴۶
نسخہ نمبر ۴۱۹۰/۸ کتابخانۂ ملک تہران ایران ۷۴ ب۔ ۷۵ا
نسخہ نمبر ۳۶۵۴/۱۱ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ایران ۳۰ ب
نسخہ نمبر ۱۵۱۵ مکتبۃ امیر المؤمنین نجف عراق

رسالہ فی معرفت ولی( فارسی )

دستیاب نسخے یہ ہیں ۔

نسخہ ٔصدقیان لوایران ۱۸۳۔۱۸۴

رسالۂ ارشاد نامہ یا اجازہ نامہ بہ فرزندش قاسم فیض بخشؒ( فارسی)

یہ نوربخشؒ کا وہ خطِ ارشاد ہے جسے سفرِ حجاز کے موقع پر نوربخش ؒنے فیض بخش ؒ کے نام لکھا تاکہ وہ عرب ممالک اور دیگر ملکوں سے مکہ آنے والوں سے توبہ و ارشاد کر سکیں ۔ اس میں نوربخش نے شاہ قاسم فیض بخش ؒ کے روحانی فضل و کمال کی تعریف کی ہے اور اہلِ عالم کو ان سے استفادہ کرنے کی تلقین اور ترغیب دی ہے ۔ اس کے نسخے درج ذیل ہیں۔

نسخہ نمبر ۴۱۳۷/۱۴ کتابخانۂ ملک تہران ایران ۷۶ا
نسخہ نمبر۲۲۲ کتابخانۂ دانشکدہ ادبیات تہران ایران
نسخۂ صدقیان لو۶۰ ،۶۱

رسالہ در سیر و سلوک( فارسی)

اس کے دو نسخے دستیاب ہیں ۔

نسخہ ۴۰۵۷/۸۸ کتابخانۂ ملک تہران ۱۲۴ا
نسخہ ٔ صدقیان لو ایران ۱۸۵ تا ۱۸۷

رسالۂ تلویحات( فارسی)

یہ چار ابواب پر مشتمل ایک اہم کتاب ہے ۔
باب ِاول: معرفت ِ نبوت و ولایت
بابِ دوم: در علامات خاتم الولایت
بابِ سوم: در دلائل ِ اہلِ نجوم و حکمت
بابِ چہارم: دفعِ شبہات اربابِ شک و جہالت
اس رسالے میں مصنف انسان کی فضیلت ، انبیاء و اولیاء کی اہمیت و فرائض اور آخر میں مہدیٔ موعود سے متعلق اخبارِ نبوی ؐ کا ذکر کرتا ہے اور ساتھ ہی اربابِ کشف و کرامات کے مکاشفات کا ذکر کرتا ہے ۔ اس رسالے میں کرامات ِ اولیاء کا ذکر کرتے ہوئے انہیں برحق تسلیم کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی مصنف طبیعی قوانین میں تبدیلی ممکن سمجھنے کو جہالت قرار دیتا ہے مثلاً تلوار اور تیر کا اثر نہ کرنا ۔ اس ضمن میں وہ حضرت زکریا ؑ ، حضرت علی ؑ اور حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کا ذکر کرتا ہے ۔ اسی طرح رسول اﷲ ؐ کی ہجرت اور سفرِ مدینہ کے واقعات کو بھی ذریعۂ استدلال بنایا گیا ہے ۔
یہ کتاب نہ صرف ابھی تک غیر شائع شدہ ہے بلکہ اس کا کامل نسخہ بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اس کے دستیاب نسخے مندرجہ ذیل ہیں۔

نسخہ ۳۸۷۱/۶ کتابخانۂ مجلس شورای ملی تہران ایران صفحہ ۹۴ تا ۱۱۷ ( کتابت شدہ در کشمیر در ۹۲۴ھ)
نسخہ ٔ سید علی انور چھوار بلتستان

رسالہ ٔ فوائد( فارسی )

یہ رسالہ تلویحات سے ملتا جلتا ہے اور اس کا واحد نسخہ تلویحات کے ساتھ کتابخانۂ شورای ملی تہران میں موجود ہے ۔
رسالۂ وجودِ مطلق (فارسی )

یہ مختصر سا رسالہ وجودیہ / وجود مطلق کے نام سے میر سید علی ہمدانیؒ کے رسائل کے ساتھ عام طور پر ملتا ہے ۔ یہ کردستان کے ایک عالم مولانا حسن کے نام لکھا گیا ہے ۔ اس مختصر رسالے میں نوربخشؒ نے نظریہ ٔ ارتقاء پر بحث کی ہے ۔ جمادات ، نباتات ، حیوانات اور انسان کے ارتقائی منازل کے ذکر کے بعد وہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ذات واجب الوجود کے ساتھ اتحاد و حلول ممکن نہیں ہے کیونکہ جنسِ سفلی اور جنس ِ علوی کا آپس میں اتحاد نہیں ہو سکتا تو خالق اور مخلوق کے درمیان اتحاد کیوں کر ممکن ہے ؟ نیز آپ رسول اﷲ ؐ اور ابوجہل کے درمیان امتیاز کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگرچہ عربیت ، انسانیت ، قریشیت اور جسمیت میں ایک ہونے کے باوجود ابوجہل کے قتل ہو جانے سے رسول اﷲ ؐ پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ رسالے کے آخر میں آپ اپنا طریقہ حضرت امام حسن و حسین ؑ سے منسلک اور معاویہ و یزید سے جدا بتاتے ہیں ۔
رسالہ ٔ نفسِ ناطقہ (فارسی )

یہ مختصر سا رسالہ ہے جس میںکسی حکیم کے نام لکھا ہوا ایک خط بھی ہے جس میں روح اور جسم کے موضوع پر بحث کی گئی ہے، ۱۳۳۲ھ میں تین اور رسائل تصوف کے ساتھ دہلی سے چھپ چکا ہے اور بطور مصنف میر سید علی ہمدانیؒ کا نام درج ہے ۔ اس کے قلمی نسخے کتابخانۂ ملک تہران اور تہران یونیورسٹی میں موجود ہیں ۔یہ رسالہ بھی احوال و آثار نوربخشؒ کے ساتھ چھپ چکا ہے اور اس کے قلمی نسخے تہران یونیورسٹی اور کتابخانۂ ملک تہران میں موجود ہیں ۔
منظوم آثار

واپس اوپر جائیں

ج۔ منظوم آثار

 

میر سید محمد نوربخشؒ ایک اچھے عرفانی شاعر بھی تھے ۔ گو قاضی نوراﷲ شوستری کے بیان کے مطابق میر سید محمد نوربخشؒ اپنے اشعار میں لحصوی ؔ تخلص لایا کرتے تھے مگر کوئی ایسا کلام دستیاب نہیں ہے جس میں آپ نے یہ تخلص اختیار کیا ہو ۔ آپ کا جو کلام دستیاب ہے اس میں آپ اپنا تخلص نوربخشؔ لکھتے ہیں ۔ ذیل میں آ پ کے منظوم آثار کا ذکر کیا جاتا ہے۔
صحیفۃ الاولیاء(فارسی)

نوربخش ؒ کی منثور کتب سلسلۃ الاولیاء اور سلسلۃ الذھب کے برعکس صحیفۃالاولیاء کی نوربخشؒ کی تصنیف ہونے پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے ۔ اس میں آپ نے اپنے زمانے میں زندہ اولیاء و عرفاء کی تعریف و توصیف اور روحانی قدرو منزلت کو بیان فرمایا ۔ چنانچہ صاحب ’ تحفۃ الاحباب‘ لکھتے ہیں جس وقت حضرت امام نے صحیفۃ الاولیاء تصنیف فرمائی اس وقت شیخ سلطان کبریٰ( کشمیری) غالباً وفات پاگئے ہوں اس لئے حضرت امام نے شیخ سلطان کا صحیفۃ الاولیاء میں ذکر نہیں کیا ۔ حضرت شیخ بہاؤ الدین بقید ِحیات تھے حضرت امام نے صحیفۃ الاولیاء میں اس وقت کے زندہ اولیاء کی تعریف و توصیف تحریر فرمائی ہے ۔ ان کی تعریف میں لکھا ہے۔
بہاؤالدین بہ کشمیر مرد خدا ست
خداوند اطوار و کشف و صفات
گر اطوارِ دل را ندانی تو نام
بگویم بہ ترتیب بشنو تمام
لسانی و نفسی و قلبی شمر
چو سرّی و روحی خفی ای پسر
بہ غیب الغیوب است پایان آن
فنای حقیقی است از وی نشان(70)
صحیفۃ الاولیاء میں چند اولیاء اﷲ کی تعریف میں لکھے گئے اشعار تبرکاً ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
۱۔ مقام ِشاہ قاسم فیض بخشؒ:
بود قاسم از اولیاء بی گمان
بہ احوال و عرفان و کشف و عیان
ازین پس دو سہ مرد باکشف وحال
ازو می شود دیدہ بی قیل و قال
الھٰی رسانش بہ عمرِ دراز
کہ ھست او بہ معنی یکی شاھباز(71)
۲۔ احوال ِشیخ محمد الوندیؒ:
محمد بہ الوند ھست از رجال
غریقِ تجلی و سکرانِ حال
عجیب و غریب است حالاتِ او
شنو شمہّ یی از کمالاتِ او
گذشت است از عرش سیصد ھزار
سنین وان سنینِ الٰھی شمار
پس آنکہ خدا گشتہ سیصد ھزار
کہ خمسین الفش بود ھر نھار
بقایی کہ وی راست بعد از فنا
بگویم کرا بود از اولیا
مقامش مقامِ خلیل است و بس
ندارد برو دیگری دسترس
بہ دوران بپیشش اگر مثل ھست
بدورِ علادولہ عبداﷲ ست
کہ بر این نمط بود آن مردِ راہ
دگر زین نمدینت کس را کلاہ
ولایت ترقی کند ماہ و سال
شود عاقبست قطب آن کس بحال(72)
۳۔ کمالاتِ پیرہمدانؒ:
من آنم کہ نوشیدم از دستِ یار
ز جامِ می عشق سیصد ھزار
بہ یک مجلسم این قدر داد دست
ھمہ مستی من ازآن بادہ است
فنایی ز ھر جام می یافتم
بقایی بہ فرمان وی یافتم
من از شرم یاران نگفتم بہ کس
کہ دارند چندین برین دسترس(73)
کتاب کے آخر میں نوربخش ؒ نے اپنا سلسلۂ طریقت بھی دیا ہے ۔ (74) یہ کتاب اب تک شائع نہیں ہوئی ۔ قلمی نسخوں کی تفصیل یہ ہے :

نسخہ ھای برات لائبریری (۲ عدد)مملوکہ غلام حسن حسنو خپلو بلتستان
نسخۂ صدقیان لو ۴۹۔۵۷ ( نامکمل)
نسخہ نمبر ۴۱۹۰/۱۹ کتابخانۂ ملک تہران ۱۲۵ب۔ ۱۳۲ب( نامکمل)
نسخہ نمبر ۵۴۹۳ نیشنل ریسرچ انسٹیٹوٹ تاشقند ۱۷۰ ب ۔۱۹۳ب

رسالۂ واردات یا واردات ِ نوربخشؒ (فارسی)

یہ مختصر رسالہ ۶۸ اشعار پر مشتمل ہے ۔ اس میں نوربخش ؒ نے اپنی قلبی واردات کو نظم کے پیرائے میں بیان کیا ہے ۔ یہ چھوٹے اور رواں بحر میں ہے ۔ابتدا یوں ہوتی ہے ۔
ماییم خلاصۂ دو عالم
ماییم بہ جای نوُحؑ و آدمؑ
ماییم خلیلِؑ وقت و موسیٰؑ
داؤدؑ و محمدؐیم و عیسیٰؑ
خضرؑیم و حیاتِ جاودانی
اسکندر و آبِ زندگانی
یہ رسالہ پاکستان میں دو بار شائع ہو چکا ہے جبکہ ایران میں احوال و آثار نوربخشؒ کے ساتھ شائع ہوا ہے ۔ قلمی نسخے درج ذیل ہیں:

MS. Add, 16,779, British Museum Library, London, 166b-181a
نسخۂ سید شریف الدین میر واعظ خانقاہ نوربخشیہ غورسے
نسخہ نمبر ۶۱۷/۶ کتابخانۂ مجلس شورای ملی تہران
نسخہ نمبر ۴۰۵۷ کتابخانۂ ملک تہران
نسخہ ھای برات لائبریری ( ۲عدد) مملوکہ غلام حسن حسنو خپلو بلتستان

عبرت نامہ ( رسالہ در انتباہ)(فارسی)

یہ چالیس اشعار پر مشتمل رسالہ ہے جس میں اس عالم ِناپائیدار کی محبت میں گرفتار ہو کر اپنی عاقبت خراب کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور بہت سے مشاہیر ِعالم کے عبرتناک انجام کا ذکر کیا گیا ہے ۔ آغاز یوں ہو تاہے ۔
ای دل غافل ز خواب آگاہ شو
ترکِ دنیا گیر و مرد راہ شو
عبرتی گیر از ملوک سھمناک
کآن ھمہ رفتند ناگہ زیرِ خاک
یہ رسالہ بھی غزلیات کے ساتھ شائع ہوچکا ہے ۔ مندرجہ ذیل قلمی نسخے دستیاب ہیں ۔

MS. Add, 16,779, British Museum Library, London, 166b-181a
نسخہ سید شریف الدین میر واعظ خانقاہ معلی غورسے بلتستان
نسخہ برات لائبریری مملوکہ غلام حسن خپلو بلتستان
MS. 3702, Esad Efendi, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul (45a)

دیوان یا غزلیاتِ نوربخشؒ( فارسی)

دیوان ِنوربخشؒ غزلیات ، رباعی ، فردیات اور نظموں پر مشتمل ہے ۔ نوربخشؒ کی غزلیں اعلیٰ عرفانی مضامین سے پرُ ہیں ۔ ذیل میں تبرکاً دو غزلیں اردو ترجمہ سمیت درج کی جاتی ہیں۔
غزل :
ز تابِ عکسِ رویت شد خورِ سرگشۃ ھرجایی
زِ سودای سرِ زلفت دماغِ عشق سودایی
محیط از ذوقِ شوریدہ کہ آیی بر درش روزی
برلی(کذا) تو کجا در کوزہ یی آیی
فلک از شوق سرگردان چو ذرّہ پیش خورشیدی
بہ روز و شب نیارامد کہ شاید رویی بنمایی
خلیلؑ و نوحؑ با آدمؑ کلیمؑ و عیسیؑ و مریمؑ
کہ تا یابند مرھم شدند از درد شیدایی
عقولِ عرشیان فاتر ز عرفانت شدہ قاصر
بسانِ باصرہ ناظر کہ تا فرمان چہ فرمایی
زمین و آسمان حیران ھمہ در اتنظارِ آن
کہ چون رخ نوربخشد زان کدامین را بیارایی
ظہورِ کبریایی را کمال بی نیازی را
دلِ تنگِ مرا دادی برای خویش گنجایی
ترجمہ :
ترے ہی عکسِ رخ سے ہو گیا خورشید ہرجائی
تری زلفوں کے سودا سے ہوا خود عشق سودائی
ترے در تک مری موجیں خود آئیں بیکراں ہو کر
مری مستی نہ ہستی کے پیالے میں سما پائی
ہزاروں کائناتیں روز و شب اس دھن میں سرگرداں
کہ پل کو کبھی دیکھیں یہ تیری جلوہ آرائی
خلیل و نوح و آدم اور کلیم و عیسی و مریم
پئے مرہم لئے پھرتے ہیں اپنا زخم شیدائی
عقولِ عرشیاں فاتر ، تری پہچان سے قاصر
مری تسکیں کی خاطر تو کیا تدبیر فرمائی؟
زمین و آسماں گریاں ، نہیں یہ انتظار آساں
اب اپنے نورِ رخ سے آ کے کر سب کی شکیبائی
ظہورِ کبریائی ہے ، کمالِ بے نیازی ہے
کرے گا کب دلِ شوریدہ اس در پر جبیں سائی؟

غزل:
ھر جوانمردی کہ فقر و کشف را جویا بود
ترکِ دنیا گر نماید حالِ او زیبا بود
ھر دلی کز خوابِ غفلت گشت بیدار این زمان
زندۂ جاوید گردد ھمدمِ عیسیٰؑ بود
وانکہ از دنیا ندارد جز عصا چیزی بہ دست
نزدِ اربابِ معانی بی شک او موسیٰؑ بود
چون شعیبؑ است آنکہ پیر و مفلس و بی کس بود
ھمچو قارون آنکہ او را جیفۂ دنیا بود
ھر کہ در ناموسِ دنیا ماند و در کبر و ریا
ھمچو فرعونِ لعینش در جھنم جا بود
در کمالِ معنوی کوشش نما ای نوربخشؔ
کین جھانِ بی وفا ھمچون کفِ دریا بود
زآبِ حیوانِ حقایق ھر کہ نوشد جرعہ یی
تا ابد در باغِ معنی چون خضر خضرا بود
ترجمہ :
ہر جوانمرد رہِ فقر کا جو جویا ہے
ترکِ دنیا کو کرے اس کو یہی زیبا ہے
خوابِ غفلت سے یہاں گر کوئی بیدار ہوا
دہر میں زندۂ جاوید وہ جوں عیسیٰ ہے
ہاتھ میں جس کے علاوہ نہ عصا کے کچھ ہو
نزدِ اربابِ معانی وہی بس موسیٰ ہے
ہے کوئی مفلس و بے یار جو مانندِ شعیب
اس کے ہی ہاتھ میں قارون کا سرمایہ ہے
جس نے دنیا میں رکھا کبر و ریا اپنا شعار
مثلِ فرعونِ لعین اس کی جہنم جا ہے
نوربخشؒ عالمِ معنی تُو کر کسبِ کمال
بے وفا زندگی مانندِ کفِ دریا ہے
یہ مجموعہ لاہور سے دو بار شائع ہو چکا ہے جس میں ایک اشاعت مذکورہ بالا اورینٹل کالج میگزین کے ضمیمہ کے طور پر ہوئی، جسے بعد میں احمد ربانی نے مقالات ِ محمد شفیع جلد دوم میں شامل کر کے شائع کیا ۔(75) قلمی نسخوں کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
1-MS. Add, 16,779, British Museum Library, London,166b-181a(53poems)
۲۔ نسخہ نمبر ۴۱۹۰/۴و۱۵ کتابخانۂ ملک تہران ۴۱۹۰ ،۶۴ب،۶۶ب، ۱۱۹الف۔۱۲۴ب
۳۔ نسخہ سید محمد شریف الدین میر واعظ خانقاہ نوربخشیہ غورسے بلتستان
۴۔ نسخہ برات لائبریری خپلو بلتستان ( ناقص)
کل
کلام ِنوربخش میں صوفیانہ مضامین

برصغیر کے نامور محقق مولوی محمد شفیع نے اپنے مقالے میں نوربخشؒ کی شاعری کا تجزیہ کرنے کے بعد اہم عرفانی مضامین کا خلاصہ پیش کیا ہے جسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے :
میر سید محمد نوربخشؒ کی تعلیمات ابن ِعربی اور دیگر مشہور صوفیاء سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ میر نوربخش ؒ ابن عربی ؒ کے بارے میں لکھتے ہیں :
ابنِ عربی رئیسِ کُمّل
فھرستِ حقایق است مجمل
تفصیلِ حقایق و معانی
ماییم ، یقین اگر بدانی(76)
میر نوربخشؒ کے کلام میں بھی حضرات ِصوفیہ کے عام مسلک کے مطابق ترکِ دنیا،اعتبار از احوال ِ عالم اور عشق ِالٰھی کے مضامین جابجا ملتے ہیں ۔ ان کے علاوہ آپ نے مندرجہ ذیل باتوں پر خاص طور پر زور دیا ہے ۔
۱۔ مقصود ِکائنات محض یہ ہے کہ کامل لوگ وجود میں آئیں ۔
عارف کہ متصف بہ صفاتِ کمال شد
حقّا کہ اوست علتِ غایی ممکنات
چون منشأ عوالمِ کلّی وجودِ ماست
بود جھانیان ھمگی ھم وجودِ ماست
ماییم وجودِ کلِ موجود
ماییم زِ کائنات مقصود
۲۔ پیر کی اطاعت اور خدمت پر زور دیا گیا ہے ۔
گر تو خواھی کہ مردِ راہ شوی
جز بہ فرمانِ پیر پای منہ
تا جان ندھی بہ خادمی پیشِ شعیبؑ
با حضرتِ حق سخن چو موسیٰؑ نکنی
۳۔ مسئلہ بروز یعنی یہ عقیدہ کہ ایک ولی ٔ کامل کے جملہ احوال ِ باطنی دوسرے ولی میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔ ( یاد رہے کہ مسئلۂ تناسخ سے جداگانہ چیز ہے )
گشت تجرید و رفت تا حضرت
تا نیاید دگر درین مدت
در نیابد مگر بہ طورِ بروز
گفتہ شد نکتہ ولی مرموز
۴۔ میر نوربخشؔ نے اپنے لقب اور تخلص کی نسبت سے مسئلہ نور پر دلچسپ گفتگو کی ہے ۔ خدا نور ہے جس طرح سورج اس کرۂ زمین کو منور کرتا ہے اسی طرح عارف کا دل بھی اس نور سے نورانی بن جاتا ہے ۔ ہر دل کے لئے یہ نورِ ازل سے ایک حصہ مقرر ہے اور جو شخص اس سے متمسک ہوتا ہے وہ خود منبعِ نور بن جاتا ہے اور آفتاب کی طرح جملہ جمادات و نباتات و حیوانات پر نور برساتا ہے ۔ نورِ حق سے ایک لحظہ بھی محروم رہے تو دل شبِ تیرہ کی طرح تاریک ہو جاتا ہے اور اگر دل نور سے اپنا حصہ پالے تو شبِ تاریک میں بھی ہر شے اسے نظر آنے لگتی ہے ۔ ایسا د ل عشق کا مقام و مسکن ہوتا ہے ۔
نور ِ ولایت علی ؑسے مظہر ِموعود تک پہنچتا ہے جس کی نہر بحرِ نور سے نکلتی ہے اور صرف عالمِ کثیف میں اس سے جدا معلوم ہوتی ہے ۔
۵۔ میر نے خلوت نشینی اور چلہّ کشی کی اہمیت پر بھی بڑا زور دیا ہے ۔
ای دل بیا بہ کوی وفا خلوتی گزین
در سلکِ سالکانِ رہ بی نشان نشین
از ھر چہ غیر اوست تبرّا نما بہ دل
وانگہ بہ حق نمایی تولاّ چو اھلِ دین
تجرید شو زِ ھر چہ درین رہ نہ درخور است
بر آستانِ دوست بر آور یک اربعین
۵۔ امیوں کے راستے کو وصال حق کا آسان ترین اور قریب ترین راستہ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف و توصیف بھی کی ہے ۔
راہِ نزدیک است راہِ امّیان
نحو و منطق را میاور درمیان
۶۔ آدم الاولیاء حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی سخاوت و فتوت کی تعریف کی ہے اور آ پ کے روشن مثال کی پیروی کرتے ہوئے ترک ِدنیا کرنے کی ہدایت کی ہے اور اسے جوانمردی کی علامت قرار دیا ہے ۔
جنت سرای شاہ ولایت بود کہ وی
بگذشتہ از عقارب و حیّاتِ بخل و آز
خواھی کہ از سخای علیؑ بھرہ ور شوی
جان باز و تن گداز بہ دنیای دون مناز
یا بیا ھم چون علیؑ مردانہ وار
در رہِ اسلام می زن ذوالفقار
تا شود اسلام محکم چون حدید
کفر و فسق و ظلم گردد ناپدید
دولتِ دین ملکِ دنیا باشدت
سلطنت اینجا و آنجا باشدت
طلق الدّنیا ثلاثا یا فقیر
اتباعاً اقتدائً بالامیر(77)

واپس اوپر جائیں

د۔ مکتوبات

 

میر سید محمد نوربخشؒ کے کئی خطوط تا زمانۂ حال محفوظ ہیں ۔ ان میں سے کچھ خطوط تو مختلف کتابوں کے متن کا حصہ ہیں ۔ کچھ خطوط کا مجموعہ بھی دستیاب ہے ۔ دانشگاہ تہران ایران کے مجموعہ میں ۵ خطوط ہیں ۔ اسی طرح کتابخانۂ ٔ ملک میں بھی ۵ خطوط ہیں ۔ مفاتیح الاعجاز فی شرح گلشن راز میں ایک خط ، تحفۃ الاحباب میں ۲ خط اور روضات الجنات جلد دوم میں ایک خط محفوظ ہے ۔ ایک خط ترکی کے ایا صوفیہ میں بھی محفوظ ہے ۔ ان کی مزید تفصیل درج ذیل ہے:
جوابِ مکتوبِ علا الدین علی کیائی گیلانی(فارسی)

یہ خط امیر علاؤالدین کیا گیلانی کے خط کے جواب میں لکھا گیا ہے ۔ اس خط میں اہل اﷲ کی پہچان کے بارے میں سوال کا جواب دیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ محنت اور ریاضت کرنے والے اہل ِہمت ہی بام عروج تک رسائی پاتے ہیں ۔ اہل اﷲ اس بلند پروازی کے شوق میں راتیں یاد الٰہی میں جاگ جاگ کر گزارتے ہیں ۔
خط کا آغاز و انجام یوں ہے :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط امابعد اعلام میر ود کہ خوض مستوفی در معرفت حقیقی اکمل اولیاء جز غواصان جان باز ارباب عین الیقین را میسر نیست…………
بقدر الکدّ تکتسب المعالی
ومن طلب العلی سہر اللیالی
دستیاب نسخے درج ذیل ہیں ۔
۱۔ نسخۂ صادقیان لو ۸۹، ۹۰
۲۔ نسخہ نمبر ۳۶۵۴ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران
جوابِ مکتوبِ فقہائ(فارسی )
یہ خط فقہا ء کے کسی استفسار کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے جس میں شریعت و طریقت کے معانی اور دین ِ محمدیؐ میں طریقت کی اہمیت کا بیان ہے ۔
خط کی ابتدا اور انتہا یوں ہے ۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط بدآنکہ دین محمدؐ شریعت و طریقت است ۔ کمال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم الشریعۃ اقوالی و الطریقۃ افعالی و الحقیقۃ احوالی………
با دوست چو عہد بستہ باشی
حیف است کہ می شکستہ باشی
دستیاب نسخوں کی تفصیل یوں ہے ۔
۱۔ نسخہ نمبر ۴۰۵۷ کتابخانۂ ٔ ملک تہران
۲۔ نسخہ نمبر ۶۷۲۴ کتابخانۂٔ مجلس سنا تہران (نامکمل)
3- MS. 3702, Esad Efendi, Suleymaniye Kutuphanesi, Istanbul, 41b-42b.
جواب ِ مکتوبِ حکیم یا رسالہ نفسِ ناطقہ (فارسی)

اس خط میں علمِ فراست و نجوم کا بیان ہے ۔ حکماء کسی بھی بچے کی ولادت کے وقت اس کے خدوخال سے اس کی صوری اور معنوی اسرار بیان کر سکتے ہیں ۔ امراض کی تشخیص اور ان کا علاج کر سکتے ہیں ۔
خط کا آغاز و انجام یوں ہے ۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط آفتاب عنایت ازفلک ولایت و برج ہدایت…… والسلام علٰی من اتبع الھدیٰ
نسخو ں کی تفصیل یوں ہے ۔
۱۔ نسخۂ صدقیا ن لو ۹۱،۹۵
۲۔ نسخہ نمبر ۴۱۹۰/۱۰ کتابخانۂ ملک تہران ۷۷ ب۔۸۱ ا
۳۔ نسخہ نمبر ۳۶۵۴/۱۳ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ا۳ ب۔ ۳۳ ا
۴۔ نسخہ نمبر ۱۵۱۵ مکتبۃ امیر المؤمنین نجف
جواب بہ سوال امیر کیا یا رسالہ قدم و حدوث (فارسی)

اس خط میں قدم و حدوث کے مسئلہ کا بیان ہے ۔ اور ان کی دو دو قسمیں اضافی اور حقیقی بتائی گئی ہیں ۔ ابتداورانتہا یوںہے ۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نسیمی کہ از حضرت لاھوت بر میادین جبروت و بساتین ملکوت می وزد ……… بحرمت کمل اولیائہ من الاقطاب الی الافراد
دستیاب نسخے یہ ہیں ۔
۱۔ نسخۂ صدقیان لو ۸۶ تا ۸۸
۲۔ نسخہ نمبر ۳۶۵۴/ ۸ کتابخانۂٔ مرکزی دانشگاہ تہران ۲۸ ب۔ ۲۹ ۱
۳۔ نسخہ نمبر ۴۰۵۷ کتابخانۂٔ ملک تہران ۷۰ ب۔ ۷۱ ب
۴۔ نسخہ نمبر ۴۱۹۰ کتابخانۂ ٔملک تہران ۷۰ب۔۷۱ ب
۵۔ نسخہ نمبر ۱۵۱۵ ، مکتبۃ امیر المؤمنین نجف
جواب بہ وزیر یا کشف و ریاضت(فارسی)

اس خط میں کشف القبور اور مردہ کو زندہ کرنے کی حکمت کا بیان ہے ۔
ابتداء بسم اﷲ سے ہوتی ہے اور انتہا بحرمت کمل ا ولیاۂ من الاقطاب والافراد پر ۔
مندرجہ ذیل نسخوں کا سراغ ملتا ہے ۔
۱۔ نسخۂ صدقیان لو ۸۳، ۸۵
۲۔ نسخہ نمبر ۳۶۵۴/۱۴ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ۲۹ا۔ ۳۰ ب
۳۔ نسخہ نمبر ۱۴۹۰/۱۱ کتابخانۂ ملک ترہان ۷۱ ب۔ ۷۳ب
مکتوب بہ علاؤ الدولہ ( فارسی )

اس خط میں اولیاء کے سفر و حضر میں اشارہ ٔ غیبی کی اہمیت کا بیان ہے اور شاہ رخ کی موت کی پیشگوئی ہے ۔ ابتداء بسم اﷲ سے ہوتی ہے اور انتہا بحرمۃ کمل اولیائہ من الاقطاب و لافراد پر ۔
۱۔ نسخہ ٔصدقیان لو ۸
۲۔ نسخہ ۳۶۵۴؍۱۴ کتابخانہ ٔ مرکزی دانشگاہِ تہران ۳۳ا۔۳۴ب
۳۔ نسخہ ۴۱۹۰؍۱۱ کتابخانۂ ملک تہران ۸۱ ب ۔ ۸۳ب
مکتوب بہ مولانا حسن کرد یا رسالہ ٔ وجود مطلق (فارسی )

۱۔ نسخۂ صدقیان لو ۹۶۔۹۸
۲۔ نسخہ نمبر ۴۱۹۰ کتابخانۂ ملک تہران ۷۵ب۔۷۷ب
۳۔ نسخہ نمبر ۳۶۵۴/ ۱۰ کتابخانۂ مرکزی دانشگاہ تہران ۳۰ب۔۳۱ب
۴۔ نسخہ نمبر ۱۵۱۵ مکتبۃ امیر المؤمنین نجف عراق
مکتوب بہ شاہ رخ مرزا

یہ خط شاھرخ مرزا کے نام لکھا گیا ۔ اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے ۔ حضرت اﷲ تعالیٰ سعادت محبت اﷲ عبانصیب بزرگ ترین پادشاھان زمان گرداناد و اورا بہ شرف ………اور اس کا انجام حسب ِمعمول بحرمت کمل اولیاء من الاقطاب و الافراد پر ہوتا ہے ۔ (78)
اس خط میں نوربخشؒ نے اپنے روحانی مقام اور مرتبے کو بیان فرمایا اور دعویٰ کیا ہے کہ شاہ رخ مرزا جس نے انہیں تین مرتبہ قید وبند میں رکھا ہے اب مزید ان کو ایذا نہیں دے سکے گا اور اس کا انجام قریب ہے ۔ نوربخشؒ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور شاہ رخ اس خط کے پہنچنے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں انتقال کر گیا ۔
ڈاکٹر سید اسد اﷲ مصطفوی کے نزدیک یہ خط تحریف شدہ ہے ۔ (79)
اس خط کے مندرجہ ذیل نسخوں کا سرا غ ملتا ہے ۔
۱۔ نسخۂ صدقیان لو ۷۳۔۷۷
۲۔ نسخہ نمبر ۴۷۷۹ کتابخانہ ٔمرکزی دانشگاہ ِتہران
۳۔ نسخہ نمبر ۳۸۴۶/۱۵۲ کتابخانۂ ملک تہران
۴۔ نسخہ نمبر ۶۷۲۴ کتابخانہ ٔمجلس سنا تہران
۵۔ نسخہ نمبر ۲۲۳ کتابخانۂ دانشکدہ ٔ ادبیات دانشگاہ ِتہران
6- MS. Add. 7688, British Library, London.
مکتوب در نصیحتِ مریدان(فارسی)

اس خط میں اپنے مریدوں کو خود ساختہ ولیوں کے مکرو فریب سے ہوشیاررہنے کی تلقین فرمائی ہے ۔
آغاز یوں ہوتا ہے ۔ بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط شکر وسپاس و ثنای بی قیاس……اور انتہا بحرمت کمل اولیائہ من الاقطاب الی الافراد پر ہوتی ہے ۔
دستیاب نسخوں کی تفصیل یہ ہے ۔
۱۔ نسخہ ٔصدقیان لو ۹۹۔ ۱۰۰
۲۔ نسخہ نمبر ۴۷۷۹/۱۱۳ کتابخانہ ٔملک تہران
۳۔ نسخہ نمبر۳۸۴۶/ ۱۵۳ کتابخا نۂ ملک تہران ۱۰۲۔ ۱۰۳ ا
۴۔ نسخہ نمبر ۶۷۲۴ کتابخانہ ٔمجلس سنا تہران
۵۔ نسخہ نمبر ۲۲۲ کتابخانۂ دانشکدہ ٔ ادبیات دانشگاہ ِتہران
۱۰۔ مکتوب بنام ِ اسیری لاہیجیؒ( فارسی)
واپس اوپر جائیں

ہ۔ متنازع فیہ تصانیف

 

میر سید محمد نوربخشؒ کے حالات کے ضمن میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بدقسمتی سے ان کے کسی ہمصر یا مرید نے ان کے احوال و آثار کو کماحقہ تالیف کرنے کی کوشش نہیں کی اور شیخ محمد سمرقندی ؒ کا ’ تذکرہ‘ ہماری دسترس میں نہیں، چنانچہ سوائے اسیری لاہیجی ؒ کے بعض منظوم نذرانہ ہائے عقیدت کے آپ کی حیات اور کارنامو ں کے بارے میں کوئی مستند دستاویز دستیاب نہیں ۔ آج ہم جو کچھ ان کے بارے میں جانتے ہیں اس کے لئے بڑی حد تک ثانوی ماخذپر انحصار کرتے ہیں ۔
تاریخ انسانی کی دیگر عظیم شخصیتوں کی طرح میر سید محمد نوربخشؒ کی شخصیت بھی ہر دور میں لاکھوں انسانوں کی عقیدت کا محور رہی ہے ۔ اس کے باوصف معتقدین نے تحقیق سے گریز کرتے ہوئے محض عقیدت اور نیازمندی کی بنیاد پر بہت سی ایسی باتوں کو شاہ سید ؒ سے منسوب کر دیا جن کا حقیقتاً نوربخش ؒ کی ذاتِ گرامی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس ضمن میں بہت سی ایسی تصانیف بھی آپ سے منسوب کی گئیں جو حقیقتاً آپ کے پیشرو یا آپ کے بعد آنے والے بزرگوں کی ہیں ۔ اس لغزش کی وجوہ لاعلمی ، بے جا عقیدت ، مفاد پرستی ، علمی خیانت اور اس نوع کی دیگر انسانی کمزوریاں ہو سکتی ہیں ۔ مولانا خادم حسین پندوی نے اپنی مختصر تصنیف احوال و آثا ر میر سید محمد نوربخش قہستانی ؒ میں میر ؒ کو سو سے زیادہ کتابوں کا مصنف قرار دیا ہے اور ان کی پچاس کتابوں کا تعارف پیش کیا ہے۔ (80) جبکہ دور ِحاضر کے نامور محقق غلام حسن حسنوؔ نے جن کا مقالہ مولانا پندوی کی تالیف کی اصل بنیاد ہے ،ان میں سے بہت سی کتابوں کی نوربخشؒ سے نسبت کو غلط ثابت کیا ہے ۔ غلام حسن حسنوؔ نے نوربخش ؒ کی ان کتابوں پر عمیق تحقیق کی ہے جو آپ کے ساتھ غلط طور پر منسوب کی گئی ہیں ۔ انہوں نے از راہ ِنوازش اپنی تحقیق اس کتاب میں شامل کرنے کے لئے ہمیں ارسا ل کی ہے۔ چنانچہ ذیل کے صفحات میں بیشتر مقامات پر مولانا غلام حسن حسنو کی تحقیق سے استفادہ کیا جائے گا ۔
مثنوی نجم الھدیٰ ( فارسی )
ایران کے عہد حاضر کے نامور محقق جعفر صدقیان لو کے بقول یہ مثنوی ۱۳۲۹ھ/۱۹۱۱ء میں نوربخشؒ کی تصنیف کے طور پر چھپی لیکن صدقیان لو نے داخلی شواہد کی بنا پر اس مثنوی کو میر سید محمد نوربخشؒ کے کسی مرید کی تصنیف قرار دیا ہے ۔ (81)
جنوری ۱۹۸۸ء میں اس کتاب کا پہلا حصہ میر سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف کے طور پر مولوی علی محمد ہادی شیگری کے اردو ترجمہ کے ساتھ الندوۃ الاسلامیہ نوربخشیہ پاکستان کے زیر اہتمام شائع ہوا ۔ جس کے دو نسخے اخوند محمد ابراہیم عسکری گون خپلو بلتستان اور ( نسخہ ٔایران) مولوی محمد علی کوروی کے فراہم کردہ تھے ۔ نجم الھدی ٰ ایک دلچسپ مثنوی ہے جس کے چار کوکب ہیں جو شریعت ، طریقت ، حقیقت اور معرفت کے موضوع پر ہیں ۔ ہر کوکب کے اندر چار لمعات ہیں ۔
غلام حسن حسنو کے مطابق اس کتاب جس کے کئی قلمی نسخے پائے جاتے ہیں ۔ مذکورہ چھابی ایڈیشن کے علاوہ یہ دو بار چھپ چکی ہے ، پہلے ایڈیشن پر ناشر نے بطورِ مصنف سید محمد والہ موسوی کا نام دیا ہے اور دوسرے ایڈیشن پر ناشر نے والہ کی بجائے نوربخش لکھ دیا ہے ۔
راقم السطور نے اس بارے میں نجم الھدیٰ کے اردو مترجم مفتی علی محمد ہادی صاحب سے استفسار کیا تو انہوں نے بتا یا کہ وہ اپنی ذاتی تحقیق کے نتیجے میں اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ نجم الھدیٰ کا اصل مصنف محمد سید والہ موسوی ہے ۔
عہد ِحاضر کے شیعہ محقق عارف حسین نقوی صاحب نے اس موضوع پر قابل قدر تحقیق کی ہے جسے ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں ۔ (82)
’’ نجم الھدی ٰ فارسی کا مصنف شاہ سید محمد نوربخش الموسوی ؒ کو ظاہر کیا گیا ہے جب کہ یہ کتاب دراصل سید محمد والہ موسوی ( م ۱۱۸۴) کی ہے ۔ اس بات کا تذکرہ قاموس الکتب ( اردو) طبع کراچی کے صفحات ۴۰۴ اور ۱۰۳۳ پر موجود ہے ۔ اس کے کوکب ِچہارم کا نسخہ خطی فہرست مشترک نسخہ ھای خطّی فارسی پاکستان صفحہ ۱۱۰۲ جلد ہشتم مرکز ِتحقیقات فارسی ایران و پاکستان اسلام آباد میں موجود ہے ۔ اس کتا ب کا ایک نسخہ بمبئی میں ۱۲۷۱ھ میں چھپا ہے ۔ اس میں بھی مصنف کا نام سید محمد والہ موسوی لکھا ہوا ہے ۔ اس طبع شدہ کتاب کے آخری صفحہ پر جو شعر درج ہے اس سے ۱۲۷۱ھ تصنیف کا سال معلوم ہوتا ہے ۔
بھرِ تاریخش مرا شُد رھنما
نسخۂ پرُمعنی آن نجم الھدیٰ
پھر کتاب کے داخلی شواہد اس بات کو پایہ ٔ ثبوت تک پہنچاتے ہیں کہ یہ کتاب شاہ سیدمحمد نوربخشؒ کی نہیں بلکہ ان کے وصال کے ایک مدت بعد کی تصنیف ہے ۔
۱۔
جلوہ اش چشم و دلِ مستور نیست
لن ترانی پردہ دارِ طور نیست
( کلیات اسیراز مرزا جلال الدین اسیر ؔ متوفی ۱۰۶۹ھ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱۲۹۷ھ)
۲۔
ایھا القوم الذی فی المدرسہ
کلما حصلتموھم وسوسہ
فکر کم ان کان فی غیر الحبیب
مالکم من نشأۃ الاخری نصیب
( مثنوی نان و حلوہ از بہاؤ الدین عاملی متوفی ۱۰۳۱ھ صفحہ ۵ مطبع مجتبائی دھلی ، ۱۳۲۹ھ)
۳۔
عشق او باشد کہ باطل حق شود
قید را بگذارد و مطلق شود
عشق عاشق را بود حبل المتین
عاشقی بالا تر است از کفر و دین
( مثنوی اسرار الشھود از شیخ محمد اسیریؔ لاہیجیؒ متوفی ۹۱۲ھ شارح گلشن راز بہ تصحیح دکتر برات زنجانی صفحہ ۲۰۸ انتشارات امیر کبیر تہران ۱۳۶۵ھ، زمانہ تالیف ۸۷۷تا ۹۰۰ھ)
محولہ بالا کتابوں کے مصنفین کاسال ولادت اور وفات اور کتابوں کا زمانہ تصنیف معلوم کرنے کے بعد جب ہم دیکھتے ہیں کہ میر سید محمد نوربخشؒ کا انتقال ۸۶۹ھ میں ہوا اور آپ کا سال ولادت ۷۹۵ھ ہے تو عقل ِسلیم اس حقیقت کو ماننے پر مجبور ہوتی ہے کہ نجم الھدیٰ میر ؒ کے وصال کے بعد کی تصنیف ہے ۔
سید محمد والہ موسوی سید محمد باقر خراسانی کے فرزند تھے اور اپنی جوانی میں قم سے نکل کر پہلے لاہور آئے اور پھر دہلی میں مقیم ہوگئے ۔ دہلی میں شاہ عالم بہادر شاہ نے والہ کوشاہی منصبداروں میں شامل کر لیا ۔بعدازاں وہ حیدر آباد دکن اور ارکاٹ چلے گئے اور زندگی کے آخری ایام وہیں گزارے ۔ مثنوی نجم الھدی ٰ کے علاوہ دستور ِنظم ، اساس الایمان، قانونچہ انشاء ، کشف الرموز ، دُرّ ِ مکتوم ، عین ِتماشا یعنی مرغ نامہ ، کبوتر نامہ ، گلستان ِجناں یعنی دیوان ِفارسی، رازق باری، طالب موہنی ا ن کی تصانیف ہیں۔اردو اور فارسی ہر دو زبانوں کے اچھے شاعر تھے ۔
مثنوی نجم الھدی ٰ میں کہیں بھی شاہ ہمدان سید علی ہمدانیؒ یا سلسلۃ الذھب کے دیگر بزرگوں کا ذکر نہیں آیا جبکہ سید محمد گیسودراز کا ذکر باربار آیا ہے ۔ ‘‘
مندرجہ بالا بیانات کی روشنی میں ’ نجم الھدیٰ ‘ کا میر سید محمد نوربخش قہستانی ؒ کی تصنیف نہ ہونا متحقق ہو جاتا ہے ۔
مثنوی کشف الحقیقت فی بیان عوالم الکثرۃوالوحدۃ( فارسی)

بڑی تقطیع کے ۵۱۵ صفحات پر پھیلی ہوئی تیس ہزار کے لگ بھگ اشعار پر مشتمل یہ مثنوی چھ جلدوں میں منقسم ہے ۔ جلد ِ اول کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے ۔
احمدک و سبحانک جل ثنآء ک من ذا یعرف تدرتک……الخ
سال اشاعت ۱۱۱۱ھ اور ناشر کا نام میر منور علی شاہ ولی ؍ میر رحمت علی شاہی ابن مرحوم حاجی سید حسن لکھا ہے ۔راقم کے پاس موجود فوٹو کاپی میں جلد ششم کا صفحہ نمبر۹۹ جس پر تاریخِ تصنیف درج ہے ، غائب ہے ۔
پروفیسرشہزاد بشیر کے مطابق صد قیان لو نے نوربخش ؒ سے منسوب کرتے ہوئے اس مثنوی سے اقتباسات نقل کئے ہیں لیکن حامد الگار اور دیگر محققین کو اس مثنوی کو نوربخشؒ کی تصنیف ماننے میں تامل ہے۔ (83) شہزاد بشیر دوسری جگہ لکھتے ہیں ۔ ’’ نجم الہدیٰ اور کشف الحقیقت تو حتماً سید محمد نوربخشؒ کی نہیں ہیں ۔ ‘‘(84)
نامور نوربخشی محقق غلام حسن حسنوؔ اس ضمن میں لکھتے ہیں ۔
’’ کشف الحقیقت فی عوالم الکثرت والوحدت کے عنوان سے چھ جلدوں میں ایک ضحیم منظوم کتاب چھپ گئی ہے جسے میر سید محمد نوربخشؒ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس کتاب کا اصل نام ’جنات الوصال ‘ ہے اور اسے نعمت الّٰلہی سلسلے کے دو بزرگوں نور علی شاہ اور رونق علی شاہ نے لکھا ہے ۔ اس کی ساتویں جلد ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔‘‘(85)
اس کتاب کی میر سید محمد نوربخش ؒ کی تصنیف نہ ہونے کے ثبوت درج ذیل ہیں ۔
۱۔ مستند کتابوں میں اس کے ذکر کا فقدان:
کسی بھی تذکرے کی کتاب میں اس کا ذکر نہیں ہے اور نہ کسی فہرست نگار نے اسے میر سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف قرار دیا ہے اور نہ ہی اس کتاب کے اندر کہیں سید محمد نوربخشؒ کا نام درج ہے ۔ جہاں کہیں نوربخش کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اس لفظ کے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے مثلاً
…اﷲ تعالیٰ کے لئے :
زآفتاب علمِ خود ای نوربخش
رھروانِ راہ خود را نوربخش
…رسول اﷲ ؐ کے لئے نوربخش کا لفظ :
نوربخشِ دورۂ آخر زمان
شد حقیقت نور احمد درجھان(86)
… حضرت علی ؑ کے لئے :
نوربخشِ ھر دو عالم نورِ تست
جانِ مشتاقان و مستان نورِ تست
…آفتاب کے لئے :
آفتابِ نوربخشِ لا مکانست
بحرھا را ابتداء و انتھاست(87)
ہاں بفرض محال اگر کہیں نوربخش کا لفظ بطور تخلص استعمال بھی ہوتا تو یہ ضروری نہیں کہ اس سے مراد صرف اور صرف سید محمد نوربخش ؔ قہستانی ہیں کیونکہ ان کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی نوربخش کا تخلص رکھتے ہیں مثلاً سید احمد نوربخش( زندہ در ۱۳۳۵ھ) صاحب دیوان گزرے ہیں اور انہوں نے اپنے دیوان برھان الحقیقت میں نوربخش کا تخلص سیکڑوں جگہ استعمال کیا ہے ۔
۲۔ تاریخی لحاظ سے عدم مطابقت:
میر سید محمد نوربخشؒ نے ۸۶۹ھ میں وفات پائی جبکہ کشف الحقیقت کی چھٹی جلد پر یہ شعر موجود ہے ۔
پنج پنجہ بود افزون از ھزار
کاین ششم جنت شد از غیب آشکار(88)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چھٹی جلد ۱۰۵۵ھ میں منصہ شہود پر آئی ہے اور یہ سید محمد نوربخشؒ کی وفات سے ۱۸۶سال بعد کا واقعہ ہے ۔ کوئی بھی عقل ِسلیم رکھنے والا شخص اس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گا کہ کوئی انسان اپنی وفات کے ۱۸۶سال بعد کوئی کتاب تصنیف کر سکتا ہے ۔ یہ تاریخ سید محمد نوربخش ؒ کی طرف اس کی نسبت کے ابطال کا ثبوت ہے ۔
۳۔ محققین کی تردید:
اس کتاب کی سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف ہونے کے بارے میں نامور محققین کسی تأمل کا شکار نہیں ہیں بلکہ سب کھل کر انکار کرتے ہیں ۔
چنانچہ میر سید علی ہمدانی ؒ کے رسالۂ درویشیہ کو سید محمد نوربخشؒ کے رسالہ ٔنفس شناسی کے عنوان سے شائع کرنے والے ایرانی دانشور ڈاکٹر اسد اﷲ مصطفوی’ کشف الحقیقت‘ کی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں ۔
’’نقادانِ سخن آن را از سیاف دانستہ اند‘‘ یعنی نقاد حضرات اسے سیاف کی کتاب کے طور پر جانتے ہیں ۔ (89)
ایک اور نامور ایرانی محقق محمد رضا خالقی مقدمہ مفاتیح الاعجاز فی شرح گلشن راز میں لکھتے ہیں ۔
’’ اما مثنوی کشف الحقیقت کہ بنام نوربخش چاپ شدہ است از او نیست و بہ نور علی شاہ اصفہانی و جنات الوصال او مربوط است‘‘(90)
’’اما مثنوی کشف الحقیقت جو نوربخش کے نام سے چھپ گئی ہے وہ ان کی نہیں بلکہ
نورعلی شاہ اصفھانی اور ان کی جنات الوصال سے مربوط ہے ۔ ‘‘
۴۔ کتاب کا اصل نام:
شائع شدہ کتاب پر ناشر نے مبینہ طور پر کتاب کا نام کشف الحقیقۃ فی عوالم الکثرت و الوحدت لکھا ہے ۔ حالانکہ کتاب کا اصل نام کشف الحقیقت نہیں ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر خالقی کی تحقیق سے ثابت ہے کہ اصل نام ’جنات الوصال ‘ ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کی اس رائے کی تائید اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ کتاب کے اندر متعدد مقامات پر اس کا نام ’جنات الوصال ‘ ہی آیا ہے ۔ نمونہ کے طور پر دو حوالے پیش کئے جاتے ہیں ۔
جلوہ در جلد سیم آغاز کرد
باب سیم جنتش را باز کرد
تا زِ گلریزیِ گلزارِ کمال
بو کشند از بزمِ جنات الوصال(91)
باب چھارم جنتش را باز کرد
بھر یاران جلوہ ھا آغاز کرد
تا شود روشن بہ نورِ لا یزال
چارمین جنت ز جنات الوصال(92)
خوش رم اندر جنت پنجم کند
کسبِ نور از مھر چون انجم کند(93)
در ششم جنت ز ششم فتح ھو
از زبانِ بی زبانی راز گو(94)
پروفیسرڈاکٹر ناصر الدین شاہ حسینی لکھتے ہیں :
’’ این مثنوی را مرحوم آقا رحیم میر حقانی متوفی بسال ۱۳۶۱ھ در اصفھان بنا بر وصیت مرادش مرحوم حاجی سید احمد رحمت علیشاہ بچاب رسانید ولی بنا بر تحقیق استاد ھمایی از استاد علی اصغر شمشیر گر شیرازیست نہ از نوربخش(95)
۵۔ آثار ِ نوربخشؒ سے عدم مطابقت:
نوربخش کے دوسرے آثار کی طرح اس کتاب میں صوفیانہ اصطلاحات بکثرت موجود ہیں لیکن جا بجا تصوف اور صوفیہ کی پرزور مذمت کی گئی ہے چند مثالیں پیش ہیں ۔
صوفیان زین روی از خود تن زدند
صد غرور افزودہ ما و من زدند
از ریاضت چون صفایی یافتند
روی از کانِ صفا برتافتند
صد ھزاران صوفیان از خاص و عام
مات گشتند و ندیدند این مقام
حالانکہ تمام محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ خود وحدت
الوجودی صوفی تھے اور تصوف و عرفان ان کا خاص مسلک ہے ۔ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ کتاب غلط نام کے ساتھ غلط طور پر میر سید محمد نوربخشؒ سے منسوب ہوئی ہے ۔
رسالۂ نفس شناسی (فارسی)

یہ رسالہ امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کا رسالۂ درویشیہ ہے ۔ ایران سے کئی بار چھپ چکا ہے مثلاً مجموعہ رسائل درویش میں خانقاہ ذہبیہ احمدی کے زیر اہتمام ۱۳۳۸ھ میں طہران سے شائع ہو چکا ہے جبکہ ایک مطبوعہ نسخہ طہران کی خانقاہ احمدی میں موجود ہے ۔ اور اس کے بیسیوں قلمی نسخے دستیاب ہیں او راس کا فارسی متن کئی بار چھپ چکا ہے ۔ اس رسالے کے قلمی نسخے برٹش میوزیم لائبریری لندن ( برگ ۲۴۸ب۔۲۵۳ب) ، ایران اور پیرس کے کتابخانوں میں محفوظ ہیں ۔
ڈاکٹر سیدہ اشرف ظفر نے اسے شاہ ہمدانؒ کی تصنیف قرار دیا ہے ۔ (96)
یہی رسالہ ’ رسالہ در ردّ ِ صوفیان ‘ کے عنوان سے نزھت الخواطر میں آیا ہے ۔
یہی رسالہ اپنے اصل نام ’ درویشیہ ‘ کے ساتھ اسلام آباد سے تین مرتبہ چھپ چکا ہے ۔
ڈاکٹر محمد ریاض نے ۱۹۹۵ء میں اس رسالے کو اپنے اصل نام ’ درویشیہ ‘ کے ساتھ اسلام آباد سے شائع کروایا ہے ۔
جبکہ عین اسی سال یعنی جولائی ۱۹۹۵ء میں سید حسن شاہ شیگری نے اس رسالے کو اردو ترجمے کے ساتھ کراچی سے شائع کروایا ہے ۔ مترجم موصوف اس رسالے کی سید علی ہمدانی ؒ یا سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف ہونے کے بارے میں کسی نتیجے تک نہیں پہنچے ہیں ۔ کتاب کا نام نفس شناسی کیوں رکھا گیا اس کے بارے میں مترجم وضاحت کرتے ہیں کہ
رسالے کے مؤلف نے کتاب کا اصل نام معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا نام نفس شناسی رکھا ہے ۔
حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر اسد اﷲ مصطفوی جیسے محقق نے بے خبری کا مظاہرہ کیا۔
رسالے کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔
الحمدﷲ حق سبحانہ والصلوۃ علیٰ خیر خلقہ امام بعد قال اﷲ تعالیٰ …
رسالہ میں آیت کریمہ قد جاء تکم موعظۃ من ربکم و شفاء من ربکم لما فی الصدور کی درویشانہ توضیح ہے ۔ انسان جو جوہر ِلطیف یعنی روح اور جوہر ِکثیف یعنی جسم کا مجموعہ ہے ، جس طرح جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے اسی طرح روحانی عوارض میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے اس کا روحانی علاج مختلف طاعات و عبادات ہیں ۔ شاہ ہمدانؒ نے اس رسالے میں اپنے دور پر بھی تنقید کی ہے ۔
مصائب عترۃ الطاہرۃ (فارسی)

مولانا غلام حسن حسنو اپنے مقالے میں لکھتے ہیں’ ’ مصائب عترۃ الطاہرہ کے نام سے ایک رسالہ کتاب ِنوربخشیہ کے ساتھ سید قاسم شاہ کھرکوی نے ۱۹۲۸ء میں شائع کیا تھا۔ اس پر بطور ِ مؤلف میر سید محمد نوربخشؒ کا نام درج ہے ۔ یہ نسبت درست نہیں ہے ۔ غالباً سید صاحب نے خود لکھ کر اسے نوربخش کی طرف منسوب کر دیا ہے ۔ سید قاسم شاہ کے پڑپوتے سید زاہد حسین مرحوم کے مطابق کتاب نوربخشیہ کے ساتھ شائع شدہ نسخہ اصل مصائب عترۃ الطاہرہ نہیں بلکہ اصل نسخہ تہران میں موجو د ہے اور بڑا ضخیم ہے ۔ یہ ضخیم نسخہ تاحال ہماری نظر سے نہیں گزرا ۔ جو نسخہ ہم نے دیکھا وہ نہایت ژولیدہ ، او رالفاظ و تراکیب کے لحاظ سے ناقص طرز ادا کے ساتھ بلتستان کی مقامی برانڈ کی فارسی میں لکھی ہوئی کتاب ہے ۔ اس رسالے کے اکثر مندرجات علامہ باقر مجلسی کی ’ بحار الانوار‘ ( ۱۰۹۸ھ) سے ماخوذ ہیں۔
تفسیر مزرعۃ الاولیاء(فارسی)

مولانا غلام حسن حسنوؔ اپنے مقالے میں اس کتاب کی تحقیق کے باب میں لکھتے ہیں ’’ تفسیر مزرعۃ الاولیاء کے نام سے مولانا خادم حسین پندوی نے اپنی کتاب ’احوال و آثارمیرسید محمد نوربخش ؒ ‘کے صفحہ ۸۰ پر جو تفصیل دی ہے وہ دراصل سید زاہد حسین کھرکوی کی من گھڑت باتیں ہیں ۔ ماضی قریب میں ’کشف الاصل ‘کے نام سے کراچی سے ایک کتاب کی فوٹو کاپی تقسیم کی گئی ہے اس میں اس کے دو صفحوں کی کاپی شامل ہے ۔ مولانا پندوی کے بیان اور مذکورہ بالا فوٹوکاپی میں کوئی علاقہ نظر نہیں آتا ۔ یہ وہی ’تفسیر سورہ فاتحہ‘ہے جسے سید قاسم شاہ کھرکوی نے ’ کتاب ِنوربخشیہ ‘کے صفحہ نمبر ۱۲۳ سے ۱۲۵ تک ’فصل تفسیر سورہ فاتحہ ‘کے عنوان سے شامل کر کے شائع کیا ہے ۔ اس کا میر سید محمد نوربخشؒ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ‘‘ (97)
رفعِ اختلاف

معروف نوربخشی محقق غلام حسن حسنو صاحب اس تصنیف کا محاکمہ کرتے ہوئے اپنے مقالے میں لکھتے ہیں :98)
’’یہ کتاب رفع اختلاف / ان ارفع الاختلاف /میراث ِجاودانہ کے نام سے اس کتاب کا متن اور اس کا اردو ترجمہ بالترتیب ایران اور پاکستان سے شائع ہوا ہے ۔ جبکہ اس کا مستند قلمی نسخہ مفقود الخبر ہے ۔
اس کتاب کی میر سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف نہ ہونے کے ثبوت درج ذیل ہیں :
۱۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام درج نہ ہونا:
پاکستان میں پہلی بار یہ کتاب اس وقت منظر عام پر آئی جب بلتستان کے ایک مقامی عالمِ دین جو قم میں زیر ِتعلیم رہے تھے اپنے ساتھ ایک قلمی کتاب کی فوٹو کاپی لے آئے ۔ کتاب شروع سے آخر تک خوشخط نستعلیق میں لکھی ہوئی ہے جبکہ کتاب کا اصل سرورق غائب ہے جس کی جگہ رسالے کا نام اور بطور ِمصّنف میر سید محمدنوربخشؒ کانام فاؤنٹین پن سے لکھا گیا ہے ‘ لیکن جلد اور آخری ورق دونوں الگ الگ لکھنے والوں کے ہیں ۔ اگر جلد پر لکھی گئی عبارات کو یا جلد کو الگ کر دیا جائے تو کسی طرح بھی پتہ نہیں چلتا کہ یہ کتاب کس کی لکھی ہوئی ہے ۔ گویا یہ ایک سرسے محروم دھڑ کی مانند ہے اور سر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شناخت نہیں ہو پارہی ہے ۔ اس کتاب کا کیا نام ہے ؟ اور اس کا مصنف کون ہے ؟ کسی نے اس پر کتاب کا نام اور مصنف کا نام لکھ کر اسے میر سید محمد نوربخشؒ کی کتاب بنا دیا لیکن اس اندراج کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے اوریہ اندراج ہی کتاب کو ساقط الاعتبار بنا دیتی ہے ۔
۲۔ اصل نسخہ کا معدوم ہونا :
اس کتاب کا اصل نسخہ کہا ں ہے ؟ یہ ہنوز ایک معمہ ہے ۔
فوٹو کاپی پر کتابخانۂ امیر ِھمدان شمارہ ٔمسلسل ۶۵/۱۰۰۶ کی مہر لگی ہوئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی مستند لائبریری کی مہر ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنے بڑے ذخیرہ ٔ کتب والی لائبریری کا ذکر ایران کی لائبریریوں کی مکمل فہرست کتابخانۂ ھای ایران میں بھی نہیں ملتا ۔ کتاب کی اصل کے بارے میں متضاد بیان دیئے گئے ہیں اور کتابخانۂ ھمدان تہران کے علاوہ کتابخانۂ ایا صوفیہ ترکی میں اس کا نسخہ موجود ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ ثابت نہیں ہو سکا ہے ۔
۳۔ میر نوربخشؒ کے دعویٰ میں کتاب کا عدم گنجائش:
میر محمد نوربخشؒ نے الفقہ الاحوط کے شروع میں فرمایا ہے کہ
ان اﷲ امرنی ان ارفع الاختلاف اولاً فی الفروع و ثانیاً فی الاصول ۔ یہاں فروع سے مراد تو الفقہ الاحوط ہے اور اصول سے مراد کتاب الاعتقادیہ ۔ اس عبار ت میں ثالث کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اصول و فروع کے علاوہ کسی اور موضو ع پر رفع ِاختلاف کاتو انہوں نے دعویٰ ہی نہیں کیا ہے ۔ زیر ِبحث کتاب میں اصول وفروع پر بحث ہے جبکہ الفقہ الاحوط اور کتاب الاعتقادیہ کی موجودگی ہی اس کے وجود کو باطل کردیتی ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ خدانخواستہ الفقہ الاحوط یا کتاب الاعتقادیہ میں سے کسی ایک کا انتساب نوربخشؒ سے درست نہ ہو کیونکہ صرف اسی صورت میں اس کتاب کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے ۔ لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔
۵۔ اسلوب بیان کا بودا پن:
میر سید محمد نوربخشؒ ایک منفرد اسلوب اور ایک خاص طرز ِادا کے مالک ہیں ۔ ان کا مخصوص اسلوب الفقہ الاحوط جیسی ضخیم کتاب سے لے کر آدھ صفحے پر مشتمل خط تک ہر جگہ یکسان طور پر اپنے آپ کو منواتا نظر آتا ہے ۔ بلند پایہ عرفانی جملے ، بھاری بھر کم تراکیب، فلسفہ و کلام پر مبنی اصطلاحات ان کی انشاپردازی کی خصوصیات ہیں ۔ اس طرح ان کی ہر ہر عبارت جوش و خروش ، زور و طنطنہ ، گہرائی اور گیرائی سے لبریز ہے ۔ اس حقیقت ِحال کے بالکل برعکس زیر ِبحث کتاب کا اسلوب ِبیان اور طرز ِادا نہایت کمزور ،سست اور بودا ہے اور اس میں ایک عظیم صوفی کے آفاقی ذہن کی بجائے ایک متعصّب ملاّ کا سطحی پن جھلکتا ہے ۔
۶۔ ابن ِعربی اور منصور حلاّج کی مذمت:
اس کتاب میں محی الدین ابن عربی اور منصور حلاج کے تصوف کو انحراف کا نام دے کر اسے مردود قرار دیا ہے ۔ حالانکہ میر سید محمد نوربخشؒ نے رسالہ وجودیہ اور سلسلۃ الاولیاء میں ابن ِعربی کو شیخ المحققین ، اکمل الاولیاء اور رئیس الموحدین قرار دے کر ان کی تعریف کی ہے اور محققین کا دعویٰ ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ خود وحدت الوجودی صوفی تھے۔ ابن ِعربی کی فصوص الحکم نوربخشؒ اپنے مریدوں کو درسی کتاب کے طور پر پڑھاتے تھے۔ نیز میر سید علی ہمدانی ؒ نے فصوص الحکم کی شرح لکھی ۔ اسی طرح نوربخشؒ نے حسین بن منصور حلاج کی کہیں مذمت نہیں کی بلکہ شیخ اسیری لاہیجیؒ نے تو ’مفاتیح الاعجاز ‘ میں گیارہ مقامات پر حلاج کی تعریف و توصیف کی ہے ۔ ایسے عظیم المرتبت صوفیاء کو برا بھلا کہنے والا یقیناً میر سید محمد نوربخشؒ نہیں ہو سکتا۔
۷ ۔ اثناعشریہ کے سوا باقی سلاسل کا رد:
ا س کتاب میں متعدد جگہ امامیہ اثناعشریہ کے سوا باقی تمام سلاسل کو باطل قرار دیا گیا ہے ۔ نوربخش ؒ نے ’صحیفۃ الاولیاء ‘ اور ’ کشف الحقائق ‘ میں اپنا جداگانہ سلسلہ ٔ طریقت دیا ہے اور ’ کشف الحقائق میں ‘ فرمایا ہے ۔
’’سلسلۂ اولیاء از زمان …… علی بن ابی طالب …… الیٰ یومنا ھذا مسلسل و معنعن است و تا انقراض ِعالم خواھد بود ۔ ‘‘
یعنی سلسلہ ٔ اولیاء… علی بن ابی طالبؑ … کے زمانے سے آج تک مسلسل و معنعن جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا ۔ سلسلۂ نوربخشیہ میں خرقہ ٔ تصوف حضرت امام علی رضا ؑ سے شیخ معروف کرخی ؒ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ یہ تاریخی حقیقت اس کتاب کے دعویٰ سے براہ راست متصادم ہے ۔
۸۔ اسمِ اعظم:
رفع ِاختلاف میں ص ۲۷ پر اسم ِمحمد ؐ کو اور ص ۷۸ پر اسمِ حسین ؑ کو اسمِ اعظم قرار دیا گیا ہے حالانکہ تمام مسلمان متفق ہیں کہ اسم ِاعظم اﷲ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے کوئی ہے ۔ اسمائے حسنیٰ میں نہ اسم ِمحمدؐ شامل ہے اور نہ اسم ِحسین ؑ ۔ اکثر مسلمانوں کا خیال ہے کہ لفظ اﷲ اسم ِاعظم ہے اور سلسلۂ نوربخشیہ کے بزرگوں نے بھی اسی حقیقت پر زور دیا ہے۔(99)
۹ ۔ تصوف کی مذمت اور تضادبیانی:
رفعِ اختلاف میں کئی صوفیانہ اصطلاحات درج ہیں مگر مصنف دل کھول کر تصوف کی مذمت کرتا ہے ۔ مثلاً
صفحہ۲: حقایق زیاد از سبب فلسفہ و تصوف زیر خاک پنہان شدہ است۔
صفحہ۹ : این گروہ سلسلہ داران تصوف جمال ِ مولا را ندیدہ اند۔
صفحہ ۱۰: ھمان گروہ نامبردہ تصوف غیر مکتب عرفان امامی است۔
صفحہ۱۲: ولیکن تسلط صوفیہ مرا زیاد اذیت دادہ و رموز علوم مرا پنہان نمودہ۔
صفحہ۱۳: اھل سلوک تمام خواھند شد و تصوف در قشر ھای مختلف در خواھد آمد۔
صحفہ۳۸: این گروہ صوفیان ھر چہ گویند خلاف قرآن و عترت شما میروند۔
یہ بات طے ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ خود کو صوفی کہتے ہیں بلکہ تمام محققین ان کو عظیم صوفی اور ان کے مسلک کو صوفی سلسلہ قرار دیتے ہیں ۔ پس ان کا خود اپنے مسلک پر لعن طعن کرنا قرین ِ قیاس نہیں ہے ۔ ‘‘
۹۔ کتاب کے مؤلف کا فقۂ جعفریہ کا پیروکار ہونا خود اس کے مندرجہ ذیل بیان سے واضح ہے ۔ 100))
’’ ای کاش وقتی در دست داشتم و دست و زبان من یار بود تا من حجاب ھا را از این عوالم بر می داشتم و حق مذھب ِ جعفری را ادا می کردم ۔‘‘
یہ بات طے ہے کہ میر سید محمد نوربخشؒ خود کو صوفی کہتے ہیں بلکہ تمام محققین ان کو عظیم صوفی اور ان کے مسلک کو صوفی سلسلہ قراردیتے ہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنے مذہب و مسلک پر لعن طعن کرے ۔ ‘‘
پروفیسر شہزاد بشیر اس کتاب کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ’’ ’ کتاب ِ نوربخشیہ ‘ اور ’ رفعِ اختلاف ‘ کے بارے میں مجھے بلتستان آکر ہی پتہ چلا۔ میں نے ترکی ، ایران اور یورپ میں پائے جانے والے سید نوربخشؒ کی تصنیفات کے سارے نسخے جمع کئے ہیں اور ان میں ان دونوں کتابوں کا حوالہ نہیں ملتا۔ اس لحاظ سے میرے خیال میں یہ سید نوربخشؒ سے غلط طور پر منسوب کی جاتی ہیں۔ ‘‘(101)
یہ امر قابل ِذکر ہے کہ انجمن صوفیہ نوربخشیہ سکردو نے ایک قرارداد کے ذریعے جو ۲۳ اپریل ۱۹۹۳ء کو منظور ہوئی اس کتاب کو جو ’’آئین طریقت ترجمہ رسالہ رفع اختلاف منسوب بہ سید محمد نوربخشؒ مترجمہ سجاد حسین حسینی کندوس والا بتعاون محمد علی صاحب پاروی آغا فاؤنڈیشن سکردو کے نام کے ساتھ ماڈرن مارٹ نیا بازار سکردو سے شائع ہوئی جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مرکزِ تحقیقات ِفارسی اسلام آباد میں جناب احمد منزوی سے رابطہ قائم کر کے اطمینان کر لیا ہے کہ یہ کتاب ایران کے اس کتابخانے میں موجود نہیں ہے جہاں سے اس کی نقل حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ (102)
نیز اسی اثنا میں نوربخشیہ یوتھ فیڈریشن نے جو نوربخشی نوجوانوںکی نمائندہ تنظیم ہے اس کتاب کو جعلی قراد دے کر مسترد کر دیا ہے ۔ (103)
یہ بات دلچسپی کا باعث ہے کہ مولوی خادم حسین نے اپنی کتاب میں ’ ارفع الاختلاف ‘ نامی نوربخش ؒ کی ایک تصنیف کا حوالہ دیا ہے جو ۸ جلدوں پر مشتمل فقہی مسائل کی جامع کتاب ہے ۔ یہ قسطنطنیہ سے ایک دفعہ شائع ہوئی اور اب نایاب ہے ۔ (104) بظاہر یہ دعویٰ بھی تخیل کی بلند پروازی کا کرشمہ معلوم ہوتا ہے ۔

کتابِ نوربخشیہ

اس کتاب کے بارے میں بھی ہم نامور نوربخشی محقق غلام حسن حسنو ؔ کے مقالے میں مندرج تبصرہ نقل کرتے ہیں :
’ کتاب ِ نوربخشیہ ‘ کے نام سے ایک فارسی کتاب میر سید محمد نوربخشؒ کی طرف منسوب کر کے شائع کی گئی ہے ۔ یہ کتاب میر سید محمد نوربخشؒ کی نہیں بلکہ غالباً سید قاسم شاہ کھرکوی کی تصنیف ہے ۔ اس کا قلمی مخطوطہ بھی مفقود الخبر ہے ۔
عجیب بات یہ ہے کہ کتاب کے اندر نوربخش ؒ کو مصنف ٹھہرانے کے باوجود سرورق پر بطور ِ مصنف و مؤلف سید قاسم شاہ کھرکوی ہی کا نام درج ہے ۔
اس کتاب کی میر سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف نہ ہونے کے ثبوت درج ذیل ہیں ۔
۱۔ معروف تذکروںمیں عدم ذکر:
تمام تذکرہ نویس اور فہرست نگار حضرات اس کتاب کے بارے میں بالکل خاموش ہیں ۔
۲۔ کتاب کا مصنف کون؟
کتاب کا مصنف ابتدا میں لکھتا ہے ۔
این بندہ دعا گوی سید محمدنوربخشؒ بن عبداﷲ ذریت اسحاق باکوری
یعنی یہ دعا گو بندہ سید محمدنوربخشؒ بن عبداﷲ اسحاق باکوری کی اولاد سے ہے ۔ (105)
جبکہ سید محمد نوربخشؒ کا سلسلۂ نسب یوں ہے ۔ سید محمد نوربخش بن سید محمد بن سید عبداﷲ لحصوی (106)
۳۔ تاریخی تضاد بیانی:
مصنف لکھتا ہے کہ میر سید علی ہمدانی ؒ نے شافعی مسلک چھوڑ کر روش ِنوربخشیہ سیکھی اور ذخیرۃ الملوک کو رد کر کے مؤدۃ القربیٰ جیسی مذہب ِصوفیہ معروف بہ نوربخشیہ کی تائید میں ۸۲۶ھ میں لکھیں ۔ (107)
ہر ذی شعور انسان اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دے گا کہ میر سید علی ہمدانیؒ جنہوں نے ۷۸۶ھ یں وفات پائی ، ۸۲۶ھ میں روش ِنوربخشیہ اختیار کر کے مؤدۃ القربیٰ جیسی کتاب تصنیف کرتے ہیں ۔ میر سید محمد نوربخشؒ میر سید علی ہمدانی ؒکی وفات کے نو برس بعد ۷۹۵ ھ میں پیدا ہوئے اور مصّنف کے بقول میر سید علی ہمدانی ؒ ان کی پیدائش سے برسوں پہلے ہی مسلک شافعی چھوڑ کر ان کی روش اختیار کر چکے تھے ۔
۲۔ میر شمس الدین عراقیؒ کو مصنف’ سلطان المکاشفین و مطلوب العارفین شیخ محمد عراقی بت شکن در بت شکنی چون خلیل است‘(108) کے الفاظ سے یاد کرتا ہے ۔ عراقی کی سال ولادت کے بارے میں اختلاف ہے کچھ ۸۸۶، کچھ ۸۳۳ اور کچھ ۸۲۶ لکھتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک ۸۲۶ درست ہے ۔ جبکہ اس کتاب کا سن تصنیف بھی ۸۲۶ ھ ہی ہے ۔یہ بات کتنی مضحکہ خیز ہے کہ میر عراقی ؒ جن کی عمر ابھی ایک برس بھی نہیں ہوئی سلطان المکاشفین اور مطلوب العارفین بن کر خلیل اﷲ ؑ کی مانند بت شکنی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ عراقی کو بت شکن کا خطاب والی سکردو مقپون بوخا نے دیا ہے اور یہ کتاب کی تصنیف سے ۸۵ سال بعد کا واقعہ ہے ۔
۳۔ کتاب کی تصنیف ۸۲۶ھ میں ہوئی جبکہ اس میں بہت سے ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو اس زمانہ تصنیف کے بہت بعد گزرے ہیں ۔ ‘(109) مثالیں ملاحظہ ہوں ۔
فیض بخشؒ
میر شمس الدین عراقیؒ
میر دانیال شہید ؒ
میرشمس الدین رشیدؒ
میر حسن رہنماؒ
شہاب الدین قسطلانی
محسن فیض کاشانی
ملا علی قاری
نور اﷲ شوشتری
عبدالقادر بیدل
بہاؤالدین عاملی
مظہر جان جانان
شیخ احمد احسائی
سید کاظم رشتی
ابو تراب کاکوری
مؤخر الذکر دس اصحاب کی تصانیف کا اس کتاب میں حوالہ دیا گیا ہے جو اس کتاب کے زمانہ ٔ تصنیف یعنی ۸۲۶ ھ سے ۴۰ سے لے کر ۴۰۰ سال بعد گزرنے والے لوگ ہیں ۔ اور ان کا ذکر ہی کتاب کی میر سید محمد نوربخشؒ کی تصنیف نہ ہونے کی حتمی دلیل ہے ۔
۴۔ اس کتاب میں انگریزی پیمانے اور اوزان کا ذکر ہے حالانکہ یہ پیمانے اور اوزان برّصغیر میں انگریزوں کے تسلّط کے بعد رائج ہوئے جو کتاب کی تصنیف سے ۴۰۰ سال بعد کا واقعہ ہے ۔
۵۔ نوربخش ؒ کی تعلیمات سے تصادم:
کتاب میں ایسے احکام و مسائل موجود ہیں جو میر سید محمد نوربخشؒ کی دوسری کتابوں بالخصوص الفقہ الاحوط سے بالکل متصادم ہیں ۔ مثلاً
الفقہ الاحوط کے مطابق نماز ِتراویح باجماعت یا انفرادی طور پر پڑھی جا سکتی ہے اور یہ ایک نفلی نماز ہے ۔ جبکہ اس کتاب کے مصنف کے مطابق’’جو شخص تراویح بالجماعت ترک کرے اس پر جنت حرام ہے اور وہ دوزخی ہے (110)
و۔ مولاناخادم حسین پندوی کی فہرست( ضمیمہ) :(111)
مولانا خادم حسین پندوی نے اپنی تصنیف احوال و آثار میر سید محمد نوربخش قہستانیؒ میں نوربخش ؒ کی پچاس تصانیف کی فہرست دی ہے ۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔
۱۔ تفسیر مزرعۃ الاولیاء
۲۔ تفسیر آیت فمن کان یرجوالقاء ربہ
۳۔ تفسیرِ منظوم
۴۔ تفسیر ِسورۂ فاتحہ
۵۔ تفسیر حدیث عما
۶۔ رسالہ اربعینیہ
۷۔رسالہ دربیانِ یک حدیث
۸۔ رسالۂ معراجیہ
۹ ۔ الفقہ الاحوط
۱۰۔ کتاب الاعتقادیہ
۱۱۔ کتاب ارفع الاختلاف
۱۲۔ رشحات
۱۳۔ نجم الھدیٰ
۱۴۔ کشف الحقیقت
۱۵۔ مکارم الاخلاق
۱۶۔ صحیفۂ اولیاء
۱۷۔ مشجرالاولیائ
۱۸۔ سلسلۃ الاولیاء
۱۹۔ غزلیات ِسید محمد نوربخشؒ
۲۰۔ معاش السالکین
۲۱۔ کتاب ِنوریہ
۲۲۔ انسان نامہ
۲۳۔ کشف الحقائق
۲۴۔ وارداتِ نوربخشؒ
۲۵۔ نورالیقین
۲۶۔ دیوانِ فنائی
۲۷۔ رسالہ نفسگ شناسی
۲۸۔ بوستانِ اسرار
۲۹۔ اسرارِ نوریہ
۳۰۔ ریاضِ اعظم
۳۱۔ شمس الضحیٰ
۳۲۔ کشف و ریاضت
۳۳۔ رباعیات اوراد فتحیہ
۳۴۔ فراست نامہ
۳۵۔ رسالہ ٔاقسامِ دل
۳۶۔ ارشاد نامہ
۳۷۔ رموزِ نوربخشیہ
۳۸۔ نالہ ھای نوربخشؒ
۳۹۔ رسالۂ نفس ناطقہ
۴۰۔ رسالہ ٔوجود ِمطلق
۴۱۔ رسالہ ٔقدم و حدوث
۴۲۔ ریاض ِنوربخشیہ
۴۳۔ کلیات درمدح عطارؒ
۴۴۔ تلویحات
۴۵۔ رسالہ ٔعرفانی
۴۶۔ سلسلہ ٔ نوربخشیہ
۴۷۔ کتاب ِنوربخشیہ
۴۸۔ مصائب عترت الطاہرۃ
۴۹۔ سرور صوفیہ فی النوربخشیہ
۵۰۔ حدائق السیاحہ
مندرجہ بالا تصانیف میں سے بعض قطعی طور پر میر سید محمد نوربخشؒ کی نہیں ہیں اور بعض ہنوز تحقیق طلب ہیں ۔ (112)

واپس اوپر جائیں

حوالہ جات

 

۱۔ مقالۂ غلام حسن ( ص۲۴)
۲۔ مقالۂ شہزاد بشیر(ص۲۶۰)
۳۔ تاریخ ِ بلتستان ( ص۱۸۷)
۴۔ مقالاتِ مولوی محمد شفیع (ص۲۷ تا ۳۲)
۵۔ تحفۃ الاحباب (ص۵۱)
۶۔ تحفۃ الاحباب (ص ۳۷۴ تا ۳۷۶)
۷۔ مقالات ِ مولوی محمد شفیع (ص ۳۰)
۸۔History of Baltistan(p125) ، تاریخِ جموں ( ص۵۷۰، ۵۹۱)
۹۔ مجالس المؤمنین (ص ۳۰۵)
۱۰۔ ایضاً
۱۱۔ المنجد (ص۷۱۸)
۱۲۔ مقالات مولوی محمدشفیع (ص۳۰)
۱۳۔
The Nurbakhshis of Kashmir- A M Mattoo (Article in Islam in India Vol 2 Edited by Christian W Troll (p 112)
۱۴۔ مقدمہ بہارستانِ شاہی (ص۸۲)
۱۵۔ جلوۂ کشمیر (ص ۷۳)
۱۶۔ مجالس المؤمنین (ص ۱۳۵) ، نفحات الانس (ص ۴۶۹)
۱۷۔ انٹرویو از غلام حسن نوربخش ، نوائے صوفیہ ( شمارہ۱۷ مارچ ۱۹۹۶ء ص ۲۴)
۱۸۔ انٹرویو از شہزاد بشیر نوائے صوفیہ ( شمارہ ۴۲ اگست ۱۹۹۸ء ص ۲۳)
۱۹۔ انٹرویو از غلام حسن نوربخش نوائے صوفیہ ( شمارہ ۱۷مارچ ۱۹۹۶ء ص ۲۵)
۲۰۔ مجموعۂ شریعت محمدیہ ؐ از ابوالعرفان علامہ محمد بشیر نوائے صوفیہ ( قسط ۱ ص ۲۳ تا ۲۸)
۲۱۔ الفقہ الاحوط (ص۱۱۸)
۲۲۔ ایضاً (ص۲۱۱)
۲۳۔ الفقہ الاحوط (ص۱)
۲۴۔ فقہ الاحوط کے تمام معتبر قلمی نسخوں میں کلماتِ اذان کی ذیل میں ’شھادتین ‘ اور ’حیعلتین ‘کے الفاظ مرقوم ہیں ۔ بعض معتبر قلمی نسخوں میں جن میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر میر علی رضا ؒ کا کتابت کردہ نسخہ ہے کلمات ِ اذان کی تفصیل بھی شرح کے طور پر دی ہے جس میں تیسری شہادت کے علاوہ تیسری حیعلہ اور ’محمد’‘ و علی’‘ خیر البشر ‘ کے کلمات موجود نہیں ہیں۔
۲۵۔ مجالس المؤمنین ( ص ۳۰۵ سطر ۲۴)
۲۶۔ تحفتہ الاحباب (ص۱۰۱)
۲۷۔ مقالات ِمولوی محمد شفیع جلددوم (ص۲۹)
۲۸۔ تفسیرِ حسینی اردو ترجمہ جلد دوم (ص۲۸۱)
۲۹۔ تفسیرِ حسینی اردو ترجمہ جلد دوم ( ص۳۲۱،۳۲۲)
۳۰۔ تفسیرِ حسینی اردو ترجمہ (ص۳۳۱، ۳۳۲)
۳۱۔ مقالۂ غلام حسن (ص۳۰)
۳۲۔ مقالۂ شہزاد بشیر (ص۲۷۰)
۳۳۔ حوال و آثار سید محمد نوربخشؒ مقالہ در نوائے صوفیہ ( شمارہ ۲۰ اکتوبر ۱۹۹۵ء ص۲۰)
۳۴۔ تحفۃ الاحباب (ص۲۶۶)
۳۵۔ سلسلۃ الذہب مشجر الاولیاء (ص۱۰۳)
۳۶۔ تحفۃ الاحباب (ص۳۱۱)
۳۷۔ سالارِ عجم (ص۸۴)
۳۸۔ مجموعۂ رسائل قلمی از قلمِ میر خلیل الرحمن مملوکہ غلام حسن حسنو، طبقات ِ نوریہ (ص۴۵)
۳۹۔ شیخ ابوالباقر علی بن الحسین الگریزی یا مولوی محمد خلیل الرحمن سلسلۃ الذہب کے مذکورہ چھابی نسخے کے جلدِ دوم کے شروع میں ’ عرضِ ناشر‘ کی ذیل میں لکھتے ہیں ’ ’ زیرِ نظر کتاب کنزِمخفی و برکاتِ خاندانی کو ہمارے آباؤ اجداد ۹۵۷ھ ؁کے جانکاہ فساد کے دوران حرزِ جان و حفظ ِ ایمان جان کر ساتھ لائے تھے اور مدتِ دراز سے کیڑے مکوڑوں کی غذا بن رہی تھی ۔‘‘ اس بیان میں مرزا حیدر دوغلت کے ہاتھوں نوربخشیوں کے قتل ِ عام اور میر دانیال شہید کی شہادت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے ۔ اگر اس بیان پر اعتبار کیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ قدیم ترین قلمی نسخہ خود میر صاحب کے اہلِ خاندان یا تعلق داروں یا کسی متعلقہ ادارے کی تحویل میں ہوگا ۔
۴۰۔ تاہم مصنف کا دعویٰ ہے کہ یہ حضرت امام محمد مہدی ؑ بن امام حسن عسکریؑ نہیں ہیں بلکہ آخری وقت میں مدینہ میں پیدا ہوں گے۔
۴۱۔ سلسلۃ الذھب ملقب بہ مشجر الاولیاء نصیب ِ اول (ص ۵۸ تا ۶۱)
۴۲۔ سلسلۃ الذہب نصیب ِ اوّل (ص۷)
۴۳۔ ایضاً (ص۱۷۳)
۴۴۔ میر کبیر سید علی ہمدانی ؒ (ص۳۰۱)
۴۵۔ ثبوت کے لئے صفحہ ۴۸ پر سلطنتِ ظاہری کے بیان میں موجود عبارت کا مستند قلمی نسخوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے ، جن کا عکس کتاب کے آخر میں شامل ہے۔
۴۶۔ تحفۃ الاحباب (ص۲)
۴۷۔ امیر ِ کبیر سید علی ہمدانی ؒ (ص۲۹۹)
۴۸۔ مقالاتِ مولوی محمد شفیع جلددوم (ص ۳۱ ، ۳۲)
۴۹۔ مقالۂ غلام حسن (ص۲۵)
۵۰۔ مقالۂ شہزاد بشیر (۲۶۲)
۵۱۔ ایضاً (ص۲۷۰)
۵۲۔ مقالۂ غلام حسن (ص۳۰)
۵۳۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ (ص۲۹۷)
۵۴۔Encyclopedia of Islam (p134)
۵۵۔ مقالۂ شہزاد بشیر (ص۱۰۵)
۵۶۔ ایضاً (ص۱۳۳)
۵۷۔ ایضاً (ص۱۲۰)
۵۸۔ ایضاً (۱۳۵)
۵۹۔ مجالس المؤمنین (ص۳۱۵) ، (طبقاتِ نوریہ ۱۵۵)
۶۰۔ غزلیاتِ نوربخش ؒ
۶۱۔ تفہیم الحدیث از اسرار الرحمن بخاری (ص ۲۲۰)
۶۲۔ مقدمہ الفقہ الاحوط بارِ اوّل (ص۸)
۶۳۔ جلوۂ کشمیر (ص ۱۰۶)
۶۴۔ مقدمہ رسالہ نفس شناسی (ص ۵)
۶۵۔ میراثِ عارفانہ جاودانہ (ص ۴۵)
۶۶۔Encyclopedia of Islam (p135)
۶۷۔ سلسلۃ الذہب نصیب اوّل (ص ۱۶۴ تا ۱۷۴)
۶۸۔ تذکرہ (ص ۳۹)
۶۹۔ تذکرہ (ص ۵۴)
۷۰۔ تحفۃ الاحباب (ص ۲۶۶) ، صحیفۃ الاولیاء قلمی (ص۶)
۷۱۔ ایضاً (ص ۹۸) ، ایضاً (ص۲۲)
۷۲۔ تحفۃ الاحباب (ص ۱۳۳،۱۳۴) ، صحیفۃ الاولیاء قلمی (ص ۱۷، ۱۸)
۷۳۔ تحفۃ الاحباب (ص ۱۳۹) ، صحیفۃ الاولیاء قلمی (ص۵)
۷۴۔ صحیفۃ الاولیاء قلمی (ص ۲۹ تا ۳۲)
۷۵۔ اس دیوان کے علاوہ نوربخشؒ سے منسوب مجموعۂ اشعار کے دو قلمی نسخے میری نظر سے گزرے ہیں۔
۷۶۔ تحفۃ الاحباب (ص۱۱۰) و وارداتِ نوربخشؒ
۷۷۔ مقالات ِ مولوی محمد شفیع (ص۱۷ تا ۲۱)
۷۸۔ تحفۃ الاحباب (ص ۱۲۳، ۱۲۶)
۷۹۔ مقدمہ نفس شناسی (ص۵)
۸۰۔ احوال و آثار ِ شاہ سید محمد نوربخش قہستانی ؒ (ص ۸۰ تا ۹۲)
۸۱۔ مقالۂ شہزاد بشیر (ص۲۷۲)
۸۲۔ تذکرۂ علمای امامیہ پاکستان ( شمالی علاقہ جات ) (ص ۱۹۸ تا ۲۰۵)
۸۳۔ مقالۂ شہزاد بشیر (ص ۲۷۱)
۸۴۔ انٹرویو از شہزاد بشیر نوائے صوفیہ (شمارہ ۴۲ اگست ۹۸ ص۲۳)
۸۵۔ صوفیہ نوربخشیہ (ص ۸۵، ۸۶)
۸۶۔ کشف الحقیقت…جلد اوّل(ص۷۹)
۸۷۔ ایضاً … (ص۴۷)
۸۸۔ ایضاً …جلد ششم (ص۹۹)
۸۹۔ مقدمہ نفس شناسی (ص۱۶)
۹۰۔ مقدمہ مفاتیح الاعجاز شرحِ گلشنِ راز (ص۴۷)
۹۱۔ کشف الحقیقت جلدِ ثانی (ص۸۳)
۹۲۔ ایضاً جلدِ ثالث (ص ۷۵)
۹۳۔ ایضاً جلدِ رابع (ص۸۳)
۹۴۔ کشف الحقیقت جلد سادس (ص۶)
۹۵۔ احوال وآثار سید محمد نوربخشؒ از ناصر الدین شاہ حسینی نوائے صوفیہ ( شمارہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۵ء ص ۲۰)
۹۶۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ (ص۲۳۳)
۹۷۔ مقالۂ غلام حسن (ص ۳۱)
۹۸۔ ایضاً (ص ۳۱ تا ۳۴)
۹۹۔ دیکھئے فی دمۃ العالمین از شیخ علاؤ الدولہ سمنانی ؒ (ص۴۶)
۱۰۰۔ میراثِ عارفانہ ٔ جاودانہ (ص ۱۳۷)
۱۰۱۔ انٹرویو از شہزاد بشیر نوائے صوفیہ ( شمارہ ۴۲ اگست ۱۹۹۸ء ص۲۳)
۱۰۲۔ نوائے صوفیہ (شمارہ ۸ ص ۲۵ ، ۲۶)
۱۰۳۔ نوائے صوفیہ (شمارہ ۸ ص ۲۵ ، ۲۶)
۱۰۴۔ احوال و آثارِ شاہ سید محمد نوربخش ؒ (ص۸۳)
۱۰۵۔ کتابِ نوربخشیہ (ص۲)
۱۰۶۔ کشف الحقائق اردو (ص ۱۹)
۱۰۷۔ ایضاً (۶)
۱۰۸۔ ایضاً (۶)
۱۰۹۔ کتابِ نوربخشیہ (ص ۱۹، ۹۸، ۱۰۵ وغیرہ)
۱۱۰۔ کتابِ نوربخشیہ (ص۵۳)
۱۱۱۔ احوال وآثارِ شاہ سید محمد نوربخش قہستانی ؒ (ص۸۰ تا ۹۲)
۱۱۲۔ حال ہی میں پروفیسر غلام رسول جان ) سری نگر) نے نوربخشؒ کی ’ شرح ِ مثنوی معنوی ‘ کی بھی خبر دی ہے۔